Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
5اپریل 2010
پٹنہ کے مسٹر ایم ٹی خان کا میرے بارے میں ایک تبصرہ یہ معلوم ہوا کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ میرے انداز تواضع نہیں ہے ، اس لےی میں ایک نزاعی شخص بن گیا۔ اگر میرے اندا ز تواضع کی صفت ہو تی تو میں تمام لوگوں کے نزدیک مقبولیت حاصل کر سکتا تھا۔ یہ تبصرہ بے خبری پر مبنی ہے ۔
اصل یہ ہے کہ مشن دو قسم کے ہوتے ہیں -ایک مشن وہ ہے جو کسی دنیوی مفاد کے لیے اٹھا یا جاتا ہے ۔ اور دوسرا مشن ہو ہے جس کا نشانہ اظہار حق ہوتا ہے ۔ دنیوی مفا د کا تقاضا ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اُس مشن کا ساتھ دیں۔ اِس لیے جو شخص دنیوی مفاد کو لے کر اٹھے۔ وہ ہر قیمت پر لوگوں سے جذبات کی رعایت کر ے گا۔ دنیوی مشن کا اصول عوام کے جذ بات کی رعایت کرنا ہوتا ہے ۔ اِ سکے بر عکس ، اظہار حق کا مشن صرف حق کے اصولوں کی رعایت کرنے پر کھڑا ہوتا ہے ۔ اس لیے فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جو لوگ دنیوی مفاد کو لے کر اٹھتے ہیں ، ان کے ساتھ لوگوں کی بھیڑ اکھٹا ہو جاتی ہے ، اور جو لوگ اظہار ِ حق کے لیے اٹھیں، ان کے ساتھ خیر اکھٹا نہیں ہوتی ۔ اِ س کی سب سے بڑی مثال پیغمبروں کی مثال ہے ۔ تمام پیغمبر اپنی قوم مین کنٹروورشل شخصیت بن گئے ، کیوں کہ وہ رکون کے لیے تیار نہیں ہوئے ۔