Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
7اگست 2010
علم الدین شہید 6دسمبر 1908کو سر یا نو الابازار (لاہور ) میں پید اہوئے ۔ تعلیم واجبی تھی۔ اپنے والد اور بھائی کے ہمراہ تجارتی کا کام کرتے تھے ۔ اُسی زمانے میں ’’رنگیلا رسول ‘‘ نامی کتاب کے خلا ف ہر طرف جلسے جلوس کی دھوم تھی۔ چناں چہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ دہلی در وارہ کے باغ (لاہور ) میں جلسہ سننے گئے ۔ وہاں عطاء اللہ شاہ بخاری کی تقریر تھی۔ تمامرات تقریر ہوتی رہی ۔ صبح کی اذان کے وقت جلسہ ختم ہوا۔ تقریر کا موضوع کتاب ’’رنگین رسول ‘‘ ہی تھا۔ تقریر کے بعد علم الدین نے اپنے بھائی سے پوچھا کہ جو شخص ناشر کتاب راج پال کودر اصل فی النار کر دے ۔ اسے کیا انعام ملے گا۔ ان کے بھائی محمد دین نے کہا شہادت ۔ چنانچہ 6اپریل 1929کو علم الدین نے دو پہر کے وقت راج پال کی دوکان پر پہنچ کر چھری سے اس کو قتل کر دیا۔ قتل کے بعد ان کو گرفتار کر لیا گیا ۔ اور آخر کار 31اکتوبر 1929کی صبح ان کو پھانسی دے دی گئی ۔ تختہ دار پر کھڑے ہو کر انھوں نے کہا کہ حاضرین، بلاشبہ میں شاتمِ رسول کا قاتل ہوں ۔ میں نے اس کو جذبہ عشق ِ رسول سے سرشار ہو کر قتل کیا ہے ۔ اس کے بعد انھوں نے بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھا ۔ اور اس کے بعد بھانسی کا پھندا اپنے گلے میں ڈال لیا۔