Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
21دسمبر 2010
آج صبح امریکا سے خواجہ کلیم الدین صاحب کا ٹیلی فون آیا ۔ انھوں نے بتایا کہ آج کچھ دیر پہلے ان کو ایک ٹیلی فون ملا۔ یہ ایک سفید فام امریکن کا ٹیلی فون تھا ۔ ان کی عمر 35سال ہے۔ بہت پہلے انھوں نے اسلام قبول کر لیا تھا ۔ اس کے بعد وہ عرب اور غیر عرب دونوں کی کتابیں (انگریزی زبان میں ) پڑھتے رہے ۔ انھوں نے بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں بھی کیں ، لیکن اِ س مطالعے اور ملاقات نے ان کو صرف کنفیوژن میں مبتلا کر دیا۔ ڈیڑھ سال پہلے وہ سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی ) کے ویب سائٹ پر پہنچے ۔ اُس وقت کےسے اب تک وہ مسلسل ہماری چیزیں پڑھ رہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ سی اپی ایس کے ویب سائٹ پر اسلامی لٹریچر پڑھنے کے بعد مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ اب میں نے وہ اسلام پا لیا جس کو میری فطرت تلاش کر رہی تھی ۔ وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں ۔ انھوں نے امریکا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے ۔
کلیم الدین صاحب نے بتایا کہ وہ اسلامی کام کرنے کے لیے ایک انسٹی ٹیوٹ قائم کرنا چاہتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ ان کو بتائیے کہ انسٹی ٹیوٹ کا ماڈل صرف پرفیشنل ٹریننگ کے لیے ہوتا ہے ، دعوہ ورک کے لیے نہیں ۔ دعوہ ورک کے لیے ان کو ہماراماڈل اختیار کر نا چاہیے ۔ کلیم الدین صاحب نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ وہ اِس پر راضی ہو جائیں گے ۔ انسٹی ٹیوشن کی بات وہ اِس لیے کہہ رہے ہیں ، کیوں کہ ان کو دوسرا کوئی ماڈل معلوم ہی نہیں ۔ کلیم الدین صاحب نے بتایا کہ وہ بہت دن سے یہ دعا کر رہے تھے کہ امریکا میں دعوتی کام کے لیے ان کو کوئی امریکی شخص (American Face)مل جائے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول کر لی۔