Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
3مارچ2010
شیخ ناصر الدین الالبانی (وفات:1999)کا ایک مضمون ’’المستقبل للإسلام ـ‘‘کے نام سے انٹرنیٹ پر موجود ہے ۔ میںنے یہ مضمون پڑھ کر مولانا وحید الدین خاں صاحب کو سنایا ۔ انھوں نے کہا کہ اپنے سیاسی شاکلہ کی بنا پر ہمارے علماء ’’المستقبل للإسلام ‘‘جیسے الفاظ بولتے ہیں ۔ وہ لا يبقىٰ علىٰ ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله اللّه كلمة الإسلام جیسی احادیث کے یہ مطلب نکالتے ہیں کہ مستقبل میں اسلام کا غلبہ ہوگا۔ حالاں کہ اِس طرح کی احادیث فتح مواقع دعوت کے ہم معنی ہیں ، نہ کہ سیاسی غلبہ کی پیشن گوئی۔ اِس اعتبار سے موجود ہ زمانہ پوری طرح اس حدیث رسول کا مصداق بن چکا ہے ۔ مگر ہمارے علماء اپنے سیاسی شاکلہ کی وجہ سے اِس سے بے خبر ہیں ۔ میں نے امام مکرم حسین قاسمی کو یہ بات بتائی تو انھوں نے کہا کہ مضمون میں اگر چہ اسلام کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ، لیکن ہمارے علماء اس سے مراد مسلمان لیتے ہیں ۔ یعنی مسلمانوں کا لباس غلبہ اِسی کنفیوزن کی وجہ سے وہ اصل حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔