Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
3اگست2010
مجھے اپنی زندگی میں کئی ایسے لوگوں کا تجربہ ہوا جو پہلے مجھ سے بہت زیادہ اتفاق رکھتے تھے ، مگر بعد کو وہ مجھ سے یا و دور ہو گئے یا تو میرے خلاف ہوگئے۔ اِن سب لوگوں کا کیس تقریباً ایک ہی تھا۔ یہ لوگ مذہب اور سائنس کے موضوع پر میرے مضامین کو پسند کرتے تھے۔ اِس طرح وہ ’’رازِ حیات‘‘ جیسی کتابیں پسند کرتے تھے ۔ اِس طرح وہ آخرت کے موضوع پر میری تحریر یں پسند کرتے تھے۔ لیکن بدد کو خاص طور پر بابری مسجد کے انہدام (6دسمبر 1992)کے بعد جب میں نے زیادہ واضح طور پر یہ کہنا شروع کیا کہ مسلمان کی حیثیت داعی کی ہے اور دوسری قوموں کی حیثیت مدعو کی ۔ اِس بنا پر مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مدعو قوموں سے نفرت کریں ، یا اُن کے خلاف شکایت یا احتججاج اور ٹکرائو کی تحریک چلائیں ، تو یہ لوگ میرے خلاف ہو گئے ۔ ان کا ماننا تھا کہ مسلمان مظلو م ہیں ، پھر وہ خاموش کیسےر ہ سکتے ہیں۔ میرا کہنا تھا کہ مسلمان کو ہر حال میں دعوت الی اللہ کا کام کرنا ہے ۔ باقی مسائل کو اللہ کے حوالے کر دینا ہے ۔ اِس یکطرفہ صبر کے نظریے سے وہ متفق نہ ہو سکے اور مجھ سے دور ہو گئے۔