Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
2ستمبر 2010
مولانا فیاض الدین عمری سےٹیلی فون پر بات ہوئی ۔ میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ :قص الشوارب واعفو االلحیٰ (مونچھ کو تراشو اور داڑھی کو بڑھائو ) حدیث میں اس کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ : خالفو ا الیہود (یہود کی روش کے خلاف کرو) علماء عام طور پر اِس حدیث کو یہود کے حوالے سے لیتے ہیں ، مگر یہ صحیح نہیں ۔ یہاں یہود سے مراد وہ معاصر یہود ہیں جو مذہب کی اسپرٹ کو کھو چکے تھے، البتہ کچھ ظواہر کا اہتمام کر کے وہ اپنے آپ کو مذہبی ظاہر کرتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ مذہبی غلاۃ (Religioius Extremist)تھے ۔ میں نے کہا کہ آج کل یہ صورت ِ حال بدل گئی ہے ۔ آج کل خود مسلمان مذہبی کڑپن کا کیس بن گئے ہیں ۔ ٓاج کل یہ حال ہے کہ جو مسلمان لمبی داڑھی رکھے ، خاص انداز کا کپڑا پہنے ، اس کو کٹر مذہبی آدمی سمجھا جاتا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اِس حدیث کا اصل مدعا یہ ہے کہ -ایسی وضع اختیار نہ کرو جس کی وجہ سے تم لوگوں کی نظر میں مذہبی کٹر یا فنڈا منٹلسٹ سمجھے جائو۔