Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
23دسمبر 2010
انگریزی زبان میں قرآن کے تقریباً بچاس ترجمے چھپے ہیں ۔ اِن ترجموں میں مشترک طور پر کئی کمیاں پائی جاتی ہیں -قدیم اسلوب ، وضوح (Clarity)نہیں کنفیوژن ، نیز ترجمے کی غلطیاں ۔ اِن اسباب سے یہ ترجمے انگریزی دانوں میںمقبول نہیں ہوئے۔ ہمارے یہاں سےقرآن کا جو انگریزی ترجمہ چھپا ہے ، وہ اللہ کے فضل سے اِ ن کمیوں سےپاک ہے ۔ چناں چہ وہ انگریزی دانوں میںبہت مقبول ہورہا ہے ۔وہ اِسی ترجمے کو پڑھ کر کہتے ہیں کہ یہ تو خوب سمجھ میں آرہا ہے ۔ پہلے ہمارا خیال تھا کہ قرآن سمجھنے والی کتاب نہیں ۔ اِس مقبولیت کو دیکھ کر ہمارے مخالفین دوسرے انگریزی ترجمے حاصل کر کے اُن کو تقسیم کر رہے ہیں ۔
آج اِسی قسم کا ایک ٹیلی فون بمبئی سے آیا۔ مجھے بن ربعیہ کا واقعہ یاد آیا۔ وہ اسلام سے پہلے ایک مشہور شاعر تھے۔ قرآن کو سننے کے بعد انھوں نے شاعری چھوڑ دی ۔ کسی نے پوچھا کہ آپ نے شاعری کیوں چھوڑ دی ۔ انھوں نے کہا کہ :أ بعد القرآن۔میں نے سوچا کہ اگر یہ مسلمان زندہ مسلمان ہوتے تو وہ ہمارے یہاں کا ترجمہ دیکھنے کے بعد دوسرے ترجموں کو چھوڑ دیئے اور کہتے کہ :أ بعد غزه الترجمۃ اور پھر وہ ہمارے یہاں کے ترجمہ قرآن کو پھیلانا شروع کر دیتے ۔ مگر میرا احساس یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان زندہ مسلمان نہیں۔ ایک عرب شیخ نے عربوں کے بارے میں کہا تھا:إسرائيل لم تقتلنا ، نحن مَوتىٰ من قبل(اسرائیل ہم کو نہیں مارتا، ہم تو پہلے ہی سے مرے ہوئے ہیں )۔ میں سمجھتا ہوں کہ عرب شیخ کا تبصرہ موجود ہ زمانے کے تمام مسلمانوں کے لیے درست ہے ، خواہ وہ عرب ہوں غیر عرب۔