Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
27مئی 2010
آج کل مسلمانوں میں الحمد للہ کہنے کا بہت رواج ہے ۔ مگر میرے علم کے مطابق، یہ الحمد للہ کلچر صحابہ کے یہاں موجود نہ تھا۔ اِس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ آج کل لوگ جس قسم کی باتوں پر الحمد للہ کہتے ہیں ، وہ صحابہ کے مزاج کے مطابق نہیں ۔ مثلاً لوگ اکثر یہ کہتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ الحمد للہ میرے چار بیٹے ہیں ۔ الحمد للہ میرا بنا گھر بن کر تیار ہو گیا ہے ، الحمد للہ میرا کاروبار اچھا چل رہا ہے وغیرہ ۔ اِس قسم کی چیزیں مادّی یافت سے تعلق رکھتی ہیں اور مادی یافت پر الحمد للہ کہنے کا رواج صحابہ کے یہاں نہ تھا ۔
دوسری قسم کا الحمد للہ وہ ہے جو بظاہر دین سے تعلق رکھتا ہے ۔ مثلاً لوگ یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ الحمد للہ میری تکبیر اُولیٰ فو ت نہیں ہوتی ، الحمد للہ میں روزانہ تہجد کی نماز پڑھتا ہوں ، الحمد للہ میرا تسبیح کا وظیفہ صبح کو واک کرنے کے درمیان پورا ہو جاتا ہے ۔ وغیرہ ۔ یہ دوسرے قسم کا الحمد للہ افعال پر الحمد للہ نہ کہا ہے ۔ الحمد للہ کلچر کی یہ دوسری مثال بھی صحابہ کے یہاں نہیں ملتی ۔ صحابہ کے حال تو یہ تھا کہ وہ اپنے دینی اعمال کے بارے میں اندیشہ میں مبتلا رہتے تھے ، نہ کہ اس پر الحمد للہ کہنا۔
صحابہ کے مزاج سے قریب تر بات یہ ہے کہ مختلف مواقع پر دعائیہ کلمات کہے جائیں ۔ مثلاً یہ کہنا کہ کل صبح تک میرا یہ سفر شرو ع ہوگا ۔ انشا ء اللہ یہ کتاب سال کے آخر تک مکمل ہو جائے گی ۔ وغیرہ ۔