Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
29اکتوبر 2010
میںاپنی زندگی میںنیک نیتی کے ساتھ دو تجربے کیے ، مگر اب میں سمجھتا ہوں کہ میرا یہ تجربہ شاید درست نہ تھا، اور وہ ہے غیر عالم کو درسِ قرآن کے لیے آمادہ کرنا۔ سب سے پہلے میں نے ناگ پور کے جسٹس ایم ایم قاضی (وفات:2007)کو درسِ قرآن کے لیے آمادہ کیا۔ انھوں نے عالم نہ ہونے کا عذر کیا، مگر میرے اصرار پر وہ راضی ہو گئے ۔ انھوں نے ترجموں کی مدد سے نا گ پور میں درسِ قرآن شروع کیا ، لیکن کچھ عرصہ بعد وہ بند ہو گیا، کیوں کہ بہت کم افراد اس میں شریک ہوئے تھے۔
دوسرا تجربہ حیدر آباد کے حبیب بھائی کا ہے ۔ ان کو میں نے آمادہ کیا کہ وہ قرآن کی بنیاد پر ہفتہ وار تقریر کریں۔ انھوں نے بھی اپنے غیر عالم ہونے کا عذر کیا، لیکن میرے اصرار پر وہ راضی ہو گئے۔ ان کا درس و تقریر کا یہ سلسلہ شروع میں ٹھیک تھا۔ وہ تذکیر القرآن یا میرے کسی مضمون کو بار بار پڑھ کر اس کو اپنی زبان میں بیان کرتے تھے ۔ لیکن پچھلے ایک سال سے اُن میں خطرناک انحراف پیدا ہو گیا ہے ۔ ان کے خطابات میں کچھ مقامی اہل قرآن (منکر حدیث )آنے لگے ۔ انھوں نے حبیب بھائی کو متاثر کیا، یہاں تک کہ یہ معلوم ہوا کہ وہ یہ کہنے لگے ہیں کہ قرآن ہمارے لیے کافی ہے ، ہم کو حدیث کی ضرورت نہیں۔اِن دو تجربوں کے بعد اب میں نے طے کر لیا کہ کسی بھی غیر عالم کو اس قسم کا مشورہ نہ دوں۔