Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
24جولائی 2010
ڈاکٹر محمد اقبال نے کہا تھا کہ جو شخص فقہ اسلامی (Islamic Jurisprudence)کو نئے تقاضوں کے مطابق مدون کر گے گا، وہ موجودہ زمانے کا مجدد ہوگا۔
میں اِس رائے کو درست نہیں سمجھتا ۔ پہلی بات یہ کہ حدیث میں مجدد اُس کو بتایا گیا ہے جو دین کی تجدید کرے (من یجد لھا دینھا )جو شخص فقہ کی یا اسلام کے قانونی پہلو کی تجدید کرے ، وہ ایک خادم اسلام تو ہو سکتا ہے ، لیکن وہ مجدد اسلام نہیں ہو سکتا ۔ دوسری بات یہ کہ دور ِ جدید کا مجدد اس کا کہا جائے گا ۔ جو دور جدید کو سمجھے اور اسلام کو اُس اسلوب میں پیش کرے جو جدید ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو ۔ آج کا انسان کسی قانونی نظام کو جاننے کا انتظا ر ہی نہیں کر رہا ہے ۔ وہ جدید افکار کی روشنی میں اپنے لیے ایک قابل قبول آئڈیالوجی کا منتظر ہے ۔ ایسی آئڈیالوجی جس میں زندگی کی قابل فہم تو جیہہ ملتی ہو ۔ جس کے بارے میں اس کا دل گواہی دے کہ :
Everything falls into place.