Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
27مارچ 2010
ڈاکٹر سیف الدین کچبلو 1888میں پنجاب کے قصبہ فرید کوٹ میں پیدا ہوئے ۔ 1963میں 75سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کے آباو اجداد کشمیر سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان کی تعلیم پہلے علی گڑھ میں ہوئی۔ اس کے بعد کیمرج یونی ورسٹی سے انھوں نے بیریسٹر ی کی ڈگری لی۔ مزید تعلیم کے لیے وہ جرمنی میں ایک سال کے لیے رہے ۔
ڈاکٹر کچلو نہایت ذہین اور لائق آدمی تھے، لیکن اپنے زمانے کے حالات نے ان کی سیاسی آزادی کی تحریک میں شامل کر دیا ۔ وہ انگریز سے نفرت کرنے لگے ۔ ان کا کہنا تھا کہ : ’’اگر ہمارے اندر اسلام کی روح باقی ہے تو پھر ہمیں اپنے عمل کے ثابت کر دنیا چاہیے کہ ہم برطانیہ کو اپنا ازلی دشمن تصور کرتے ہیں ‘‘(راشٹریہ سہارا، اردو ، نئی دہلی 26مارچ 2010)
انیسویں صدی کی نصف آخر اور بیسوی صدی کے نصف آخر میں بہت سے اعلیٰ ذہن کےک افراد مسلم کمیونٹی میں پیدا ہوئے ۔ انھیں میں سے ایک ڈاکٹر سیف الدین کچلو تھے، مگر یہ تمام اعلیٰ ذہن نفرت مغرب کے قبرستان میں دفن ہو گئے۔ میرے علم کے مطابق ، اِن مسلمانوں میں سے کوئی شخص نہ تھا جو مثبت انداز میں سوچ اور حقیقی معنوں میں کوئی تعمیری کام انجام دے۔