Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
30جون 2010
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ بار بار استغفار فرماتے تھے ، 70بار 100بار، یا اُس سے بھی زیادہ بار۔ یہ روایت حدیث کی اکثر کتابوں میں آئی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ پیغمبر معصوم عن الخطا ہوتا ہے ، پھر رسول اللہ ایسا کیوں کرتے تھے ۔ شارحین حدیث نے اس سے مختلف جوابات دئے ہیں ۔ امام الغزالی نے لکھا ہے کہ اس کا سبب اِن الفاظ میں لکھا ہے : کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائم الترقی ، فاذا ارتقی الیٰ حال، رأی ما قبلھا دونھا، فاستغفر من الحالۃ السابقۃ (فتح الباری، جلد۱۱،صفحہ ۵-۱، باب استغفار النبیی، کتاب الدعوات)یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر مسلسل طور پر روحانی ترقی ہوتی رہتی تھی۔ جب آپ اگلے درجہ ارتقا ء پر پہنچے تو آپ کو پچھلا درجہ ارتقاء کم نظر آتا ۔ اِس لیے آپ سرا سر استغفار کرتے رہتے تھے۔
یہ ایک غیر نفسیاتی بات ہے ۔ اگرکسی آدمی کا یہ احساس ہو کہ آج میں اعلیٰ درجہ ارتقا پر ہوں، لیکن پچھلے کل میں کم تر درجہ ارتقا پر تھا تو اس کے اندر کبھی وہ گہرے جذبات پیدا نہیں ہو سکتے جو حقیقی استغفار کے لیے مطلوب ہیں ۔ بھر پور استغفار کے لیے بھرپور احساس مطلوب ہوتا ہے ۔ بھر پور احساس کے بغیر جو استغفار کیا جائے، وہ کیفیت کے اعتبار سے کبھی اعلیٰ درجہ استغفار نہیں ہوگا ۔