Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
29مئی 2010
مولانا عبد الباسط عمری گل برگا ، کرناٹک کے رہنے والے ہیں ۔ وہ آج کل دوحہ (قطر ) میں رہ رہے ہیں ۔ ان کے کئی بھائی ہیں ۔ انھوں نے بھائیوں کی محبت میں ہر مہینہ ان کے لیے پیسہ بھیجنا شرو ع کیا۔ یہ پیسہ بھائیوں کے لیے ایزی منی (Easy Money)کی حیثیت رکھتا تھا ۔ چناں چہ بھائیوں نے کوئی کام نہیں کیا ، وہ بے کار ہو کر رہ گئے ۔ اب عبد الباسط صاحب کو اِس کا احساس ہو رہا ہے کہ میرے بھائی بگڑ گئے ہیں ، چناں چہ وہ ٹیلی فون کے ذریعے انھیں سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں ، وہ ایک ایک گھنٹہ تک ان کے ٹیلی فوم پر بات کرتے ہیں ۔
مجھے معلوم ہوا تو میں نے عبد الباسط صاحب سے کہا کہ آپ نے ایزی منی دے کر اپنے بھائیوں کو بگاڑ دیا ۔ اب ٹیلی فون نصیحتوں سے وہ درست ہونے والے نہیں ہیں ، اب صرف ایک ہی صورت ہے ، وہ یہ کہ آپ اُن کو پیسہ دینا بالکل بند کر دیں ۔ جب وہ مصیبت میں پڑیں گے تب وہ دوبارہ جاگیں گے او رکام کرنے کے قابل بنیں گے ۔ میں نے کہا کہ اس طرح بگڑا ہوا آدمی صرف ٹھو کر کھانے سے درست ہو تا ہے ، وہ وعظ نصیحت سے کبھی درست نہیں ہوتا۔