Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
22جون 2010
مولانا فیاض الدین عمری اس وقت کیرالہ میں ہیں ۔ میں نے دہلی سے ان کو ٹیلی فون کیا فوراً ربط قائم ہو گیا۔ میں نے کہا کہ امام ابن تیمیہ سے لے کر شاہ ولی اللہ تک کوئی بھی رسول اللہ کی شان عظمت کو نہیں سمجھا۔ ان کو تعجب ہوا ۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ معراج اور فتوحات جیسی چیزوں میں رسول اللہ کی شان عظمت بیان کر تے ہیں ۔ لیکن یہ آپ لوگ کے اپنے القاب ہیں ۔ جو خود رسول اللہ کی نسبت سے غور کیجئے۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ کی شان عظمت آپ کی اُس دعا میں ہے جو آپ نے طائف کے سفر کے بعد فرمائی : اللھم الیک اشکوا ضعف قوتی وقلت حیلتی وھوانی علی الناس یا ارحم الرحمین ۔ اصل یہ ہے کہ کوئی چیز اپنی ضد سے پہنچانی جاتی ہے ۔
(وبضدھا تتبین الأشیاء)رسول اللہ کے لیے طائف کا تجربہ کمال عجر کا تجربہ تھا۔ یہیں آپ نے خد ا کے کمال قدرت کو دریافت کیا ۔ ہم رسول اللہ کی عظمت کو خود اپنے بنائے ہوئے الفاظ کے ذریعے جانتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ رسول اللہ کی خود اپنی شخصیت کے اعتبار سے آپ کی عظمت کہا ں پائی جاتی ہے ۔ وہ طائف کے ہی تجربہ میں ہے ۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نےآپ کو کمال عجز انسانی کا تجربہ کرایا تاکہ آپ کو کما ل قدرت خدا وندی کی دریافت ہو سکے۔
مسلمان رسول اللہ کو افضل الانبیاء اور شہشاہ کو نین کہتے ہیں ۔ مگر رسول اللہ کی عظمت ہمارے القاب سے متعین نہیں ہوگی ۔ رسول اللہ کی حقیقی عظمت اس سے متعین ہوگی کہ خدا کی نسبت سے آپ کا درجہ معرفت کیا تھا۔ آپ کو پوری زندگی میں طائف کا واقعہ وہ واقعہ تھا جب کہ آپ نے انسان کے عجز نام کا تجربہ کیا۔ اس لیے یہی وہ لمحہ تھا جب کہ آپ نے خدا کی قدرت نام کو دریافت کیا۔ یہی وہ اعلیٰ دریافت ہے جہاں رسول اللہ کی حقیقی عظمت کا راز چھپا ہوا ہے ۔