Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
6جولائی 2010
حضرت عائشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرماتی ہیں کہ : حطمہ الناس (لوگوں نے آپ کو روند ڈالا تھا )۔ حضرت عائشہ کی یہ بات مکہ کے کافر اور مشرکین لوگوں کے بارے میں نہیں ہے ، بلکہ وہ مدینہ کے مسلمانوں کے بارے میں ہے ۔ اِس کا تعلق مکی دور سے نہیں ہے ، بلکہ اس کا تعلق مدنی دور سے ہے ۔ مدنی دور میں کئی بار ایسا ہوا کہ خد مسلمانوں میں کے کچھ لوگوں نے آپ کے خلاف ایسی بات کہی جو الزام کی حیثیت رکھتی تھی ۔ مثلاً غزوہ حنین کے غنائم کی تقسیم کے بارے میں ایک انصاری نے کہا: واللہ ماعدلتَ۔ ایک بار مدینہ کی ایک زمین کے بارے میں ایک انصاری اور ایک مہاجرین کے درمیان نزاع تھی ۔ اُس پر آپ کے فیصلے کو لے کر انصاری نے کہا کہ آپ نے اپنے بھائی مہاجر کی طرف داری کی ہے ۔ وغیرہ ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت حساس تھے،اِس لیے اس قسم کے یقینی ریمارک پر آپ کو سخت صدمہ ہوا تھا ۔ اِس معاملے میں میرا مزاج بھی یہی ہے ۔ علمی تنقید سے مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوتی ، مگر جب کوئی شخص کوئی ایسی بات کہے جو میری شخصی تعییب ، میری انٹگرٹی (Integrity)پر شک کر نے کے ہم معنی ایسے شخص سے الرجک ہو جاتا ہوں ۔ مثلاً ناگ پور کے اکبانی صاحب نے اپنے ایک خط میں میرے بارے میں فکری بد دیانتی (Intellectual Dishonesty)کا الزام لگایا تھا، اِسی طرح سری نگر کے غلام نبی کشافی صاحب نے میرے خلاف اپنے خط میں شخصی تعیب کا طریقہ اختیا ر کیا ، اس کے بعد دونوں صاحبان سے مجھے اتنی بے زاری ہوئی کہ ان کے خط پڑھنا یا ٹیلی فون پر اُن سے بات کرنا بھی مجھے گوارہ نہیں ہوتا ۔ اِس میں استثناء صرف اُس شخص کا ہو سکتا ہے جو اس کو حقیقی معنوں میں توبہ نصوح کرے۔