Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
15ستمبر 2010
کشمیر سے ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا : انھوں نے کہا کہ میں نے آپ کا فلاں مضمون پڑھا ہے ۔ آپ نے اس میں ایسا اور ایسا لکھا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ میری بات کی غلط ترجمانی کر رہے ہیں ۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے میرے مضمون کو کتنی بار پڑھا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ایک بار ۔ میں نے کہا کہ ایک بات پڑھ کر آپ سی بات کو سمجھ نہیںسکتے۔ آپ کو ایک سے زیادہ بار پڑھنا چاہیے ۔ پھر میںنے کہا کہ اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے اندر ایک غلط عادت ہے اور وہ ہے ایک بات سن کر یا ایک بار پڑھ کر رائے بنانا ۔ مجھے یقین ہے کہ آپ دوسرے لوگوں کے بارے میںشکایت کی نفسیات میں جیتے ہو ںگے،کیوں کہ آپ اِسی طرح دوسروں کے بارے میں بھی رائے بناتے ہوں گے ۔ آپ اپنی اِس عادت کو ختم کر دیں ، ورنہ آپ شکایتوں میں جئیں گے اور شکایتوں میں مر جائیں گے ۔ مثبت سوچ کی نعمت آپ کو کبھی حاصل نہ ہوگی اور مثبت سوچ کے بغیر کسی آدمی کو خدا کا فیضان حاصل نہیں ہوتا ۔