Place
Medina
City of the Prophet, where events took place
Mentioned in 991 book passages
and 114 lecture moments.
Cite / permalink: entity/place/medina
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
تم میں سے ہر ایک یہ کرے کہ یا د کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل اپنائے اور ایسی بیوی اختیار کرے جو اس کے ایمان میں اس کی مدد کرے ۔
خواتین اسلام
حضرت ام سلمہ ایک بارکسی عورت سے اپنے بال گندھوا رہی تھیں ۔ اتنے میں مسجد سے خطبہ کی آواز آئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : ایھا الناس (اے لوگو ) یہ سنتے ہی فرمایا، نہیں جیسے ہیں ویسے ہی باندھ دو، عورت نے کہا اتنی جلدی کیا ہے ۔ ابھی…
…اصحاب کو معلوم ہوئی تو وہ تشویش میں پڑ گئے ۔ انھوں نے آپس میں کہا: فائی مال نتخذ ( اب ہم کون سا مال جمع کریں)۔ حضرت عمر ؓاس وقت وہاں موجود تھے، انھوں نے کہا اگر تم لوگ پسند کرو تو میں اس کی بابت رسول اللؐہ سے سوال کروں ۔ لوگوں نے کہا ہاں ۔
چنانچہ وہ آپ کے پاس گئے اور کہا کہ آپ کے اصحاب کہہ رہے ہیں کہ کاش ہم جانتے کہ کون سا مال بہتر ہے تو ہم اس کو جمع کرتے ۔ آپ نے فرمایا :
لیتخذ احدكم لسانا ذا كرا و قلبا شاکراو زوجة مرمنة تعين احدكم على ايمانه
عمرہ کا سبق
بعد کے زمانے کے لیے حدیث رسول میں بہت سی پیشین گوئیاں ہیں۔ ایک پیشین گوئی کے مطابق، بعد کے زمانے میں امت کے پاس مال کی فراوانی ہوجائے گی۔ وہ تفریح کے لیےحج اور عمرہ کا سفر کرنے لگیں گے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں یَأْتِی عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ یَحُجُّ أَغْنِیَاءُ أُمَّتِی لِلنُّزْہَةِ، وَأَوْسَاطُہُمْ لِلتِّجَارَةِ، وَقُرَّاؤُہُمْ لِلرِّیَاءِ وَالسُّمْعَةِ، وَفُقَرَاؤُہُمْ لِلْمَسْأَلَةِ (تاریخ بغداد للخطیب بغدادی، حدیث نمبر 5433)۔ یعنی ،لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا، جب کہ میری امت کے مالدار تفریح کے لیے حج کریں گے، ان کا مڈل کلاس تجارت کےلیے، اور ان کے علما دکھاوا کے لیے اور ان کے غریب لوگ مانگنے کے لیے۔
آج کل مسلمانوں میں عمرہ کی دھوم ہے۔ عمرہ کے لیے لوگ اتنا زیادہ مکہ جانے لگے ہیں، جو تقریباً حج کے برابر ہوجاتا ہے۔ یہ لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا۔ لیکن یہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ کا عمرہ کے بارے میں…
خدا امید کا خزانہ
موجودہ دور میں مسلمان مختلف قسم کی پریشانیوں کی شکایت کرتے ہیں۔ قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو ان میں خدا سے امید رکھنے کے حوالے سے متعدد واقعات بیان کیے گئے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اگر مشکلات میں خدا پراپنےاعتماد کو مضبوط رکھے تو اس کی پریشانیاں حل ہوسکتی ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ صبر اورتقویٰ کا طریقہ اختیار کرے اور مثبت سوچ کی بنیاد پر اپنی پلاننگ کرے، جیسا کہ ذیل کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے اور 175 سال کی عمر پا کر اُن کی وفات ہوئی۔ان کا واقعہ ہے۔ جب وہ اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو اس مقام پر چھوڑ کر جانے لگے جہاں آج مکہ آباد ہے تو ہاجرہ…
یقین واعتماد
قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام مکہ میں 570 عیسوی میں پیداہوئے۔ 610 عیسوی میں آپ نے مکہ میں توحید کا مشن شروع کیا۔وہاں ان کی سخت مخالفت ہوئی ۔ چنانچہ 622 عیسوی میں وہ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ چلے گئے۔ کیوں کہ مکہ کی قبائلی پارلیمنٹ ، دار الندوہ میں آپ کے قتل کا فیصلہ کیا جاچکا تھا۔یہ ایک بے حد خطرناک سفر تھا۔ دو ہفتہ کے اس سفر کے دوران ایک بار وہ ایک غار (ثور) میں چھپے ہوئے تھے ۔ آپ کے مخالفین جو آپ کی تلاش میں نکلے تھے ، وہ تلوار لیے ہوئے غار کے منھ تک پہنچ گئے۔ اس وقت آپ کے واحد ساتھی ابوبکر صدیق تھے۔انہوں نے یہ منظر دیکھا تو کہا کہ اے خدا کے رسول، وہ تو یہاں بھی پہنچ گئے۔ اس کے جواب میں پیغمبر اسلام نے جو کہا، اس کوقرآن میں ان الفاظ میںبیان کیا گیا ہے لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّہَ مَعَنَا (9:40)۔ یعنی، غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
موجودہ زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی ایسی صورت حال میں مبتلا ہو جاتا ہے جہاں وہ اپنے آپ کو بے یارومدد گار سمجھنے لگتا ہے ۔ اس حالت میں اس کو ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی ایسی ذات ہو جس پر وہ یقین کر سکے۔ جو اس کے عجز کی تلافی بن…
…قَفّانہ (غریب الحدیث للقاسم بن سلاّم، جلد3، صفحہ 239)۔یعنی تم ایسے آدمی سے مدد طلب کرتے ہو، جو فاجر ہے ۔ عمر نے کہا میں اس کو عامل بناتا ہوں تاکہ اس کی قوت سے مدد حاصل کروں، پھر میں اس کی نگرانی کر رہا ہوں(تاکہ وہ کوئی غلطی نہ کریں) ۔
یہی ہے مسائل کو اگنور کرکے مواقع کو اویل کرنا۔ یعنی ایک انسان کے اندر برائی ہے، اس کے ساتھ اس میں انتظامی صلاحیت بھی ہے تو حضرت عمر نے ایسے انسان کی برائی کو نظر انداز کیا، اور اس کی صلاحیت سے فائدہ اٹھایا۔ایسا رسول اللہ کی تربیت کا نتیجہ تھا۔ آپ نے بھی ہجرتِ مدینہ کے موقع پر ایک مشرک عبد اللہ بن اریقط کو اپنا رہنما بنایا تھا(سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ 488)۔
مگرموجودہ زمانےکے مسلمان اَن اویلڈ اپارچنٹی (unavailed opportunity)کا کیس بن گئے ہیں۔موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب نے جو سائنسی ڈسکوری کی ہے، اس سے نہ صرف فیزیکل ( جیسے پرنٹنگ پریس، کمپیوٹر، انٹرنیٹ وغیرہ کی) سطح پر خدا کے دین کو مدد ملی…
…پوجنے والے بن گئے۔ اب بھی وہ سماجی روایت کے طورپر ایک خدا کو مانتے تھے مگر اسی کے ساتھ عملی طور پر وہ بہت سے بتوں کو پوجتے تھے۔ چھٹی صدی عیسوی میں پورا عرب ایک بت پرست ملک بن چکا تھا۔ عرب کے یہی حالات تھے جب کہ پیغمبر اسلام وہاں پیدا ہوئے۔
پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب عرب کے شہر مکّہ میں 570 عیسوی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 610 عیسوی میں مکّے میں اپنی پیغمبری کا اعلان کیا ۔ 622 عیسوی میں وہ عرب کے دوسرے شہر مدینہ چلے گئے۔ 632 عیسوی میں مدینہ میں ان کی وفات ہوئی۔ اس طرح آپ کی کُل عمر 63 سال تھی، اور آپ کی پیغمبرانہ عمر 23 سال ۔
آپ پیدا ہوئے تو آپ کے والد عبد اللہ بن عبد المطلب کا انتقال ہوچکا تھا۔ آپ کی عمر چھ سال تھی تو آپ کی والدہ آمنہ بنت وہب بھی انتقال کر گئیں۔ اس کے بعد آپ اپنے دادا عبد المطلب اور اپنے چچا ابو طالب کی سر پرستی میں رہے۔ قرآن میں خدا نے…
…ہے لیکن مجھے امید ہے کہ طائف کی اگلی نسلیں میری بات کو مانیں گی اور خدا کے راستے پر چلیں گی (بَلْ أَرْجُو أَنْ یُخْرِجَ اللَّہُ مِنْ أَصْلاَبِہِمْ مَنْ یَعْبُدُ اللَّہَ وَحْدَہُ، لاَ یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا) صحیح البخاری، حدیث نمبر 3231۔
پیغمبر اسلام طائف سے واپس ہوکر دوبارہ مکّہ پہنچے تو قریش کا ظلم اور زیادہ بڑھ گیا۔ انہوں نے دار الندوہ میں مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ آپ کو قتل کردیں۔ اس فیصلے میں مکہ کے تمام قبائل شریک ہوگئے۔اُس وقت مکّہ اور اطرافِ مکہ میں تقریباً دو سو آدمی پیغمبر اسلام کے پیغام کو مان کر اُن کے ساتھی بن چکے تھے، مگر یہ تعداد قریش کے مقابلے میں آپ کی حمایت کے لیے ناکافی تھی۔ چنانچہ آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ آپ مکہ چھوڑ کر عرب کے دوسرے شہر مدینہ چلے جائیں، جو مکہ سے تقریباً تین سو میل کے فاصلے پر واقع تھا۔
مدینہ میں اسلام کا داخلہ
…ابتدائی زمانے میں قابلِ قبول نہ ہوسکا۔ مگر اہلِ مدینہ اس قسم کی نفسیات سے خالی تھے۔ بت پرستی کا خاتمہ ان کے نزدیک صرف ایک مذہبی کلچر کا خاتمہ تھا، نہ کہ ان کےمعاشی ذریعے کا خاتمہ۔ چنانچہ مدینے میں پیغمبر اسلام کا پیغام تیزی سے پھیل گیا۔
پیغمبر اسلام کی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کوئی سادہ واقعہ نہ تھا۔یہ دراصل ٹکراؤ کے طریقے کو چھوڑ کر امن کے طریقے کو اختیار کرنا تھا۔ پیغمبر اسلام کےاس اصول کو آپ کی اہلیہ حضرت عائشہ نے اِن الفاظ میں بیان کیا:مَا خُیِّرَ النَّبِیُّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ أَمْرَیْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَیْسَرَہُمَا(صحیح البخاری، حدیث نمبر 6786)۔یعنی پیغمبر اسلام کو جب بھی دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ یہ کرتے کہ مشکل کے مقابلے میں آسان طریقے کا انتخاب فرماتے۔
اس معاملے کی ایک واضح مثال مکّہ کے تیرہ سالہ قیام کے آخری دنوں میں آپ کے لیے دو میں سے ایک کا انتخاب تھا۔ یا تو قریش سے جنگی ٹکراؤ کریں، یاخاموشی کے ساتھ پُر امن طورپر مکّہ سے نکل کر مدینہ چلے جائیں۔ اُس وقت کے حالات میں پہلا انتخاب…
…نے بیٹے کا نام کیا رکھا۔ اُنہوں نے کہا کہ حَرب (جنگ) پیغمبر اسلام نے کہا کہ یہ نام درست نہیں۔ اس کےبعد آپ نے اس کا نام حَسن رکھا (فَسَمَّاہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْحَسَنَ) المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 2777۔
622 عیسوی سے پیغمبر اسلام کی مدنی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ آپ کا ہجرت کرکے مدینہ پہنچنا کوئی سادہ بات نہ تھی۔ اس سے پہلے مکّہ کی تیرہ سالہ پیغمبرانہ زندگی میںآپ کو نہایت تلخ تجربے پیش آئے تھے۔ آپ کو مسلسل ستایا گیا، آپ کے ساتھیوں کو مارا پیٹا گیا، آپ کا اور آپ کے خاندان کا بائیکاٹ کیا گیا، آپ کو اتنی شدید مصیبتوں میں مبتلا کیاگیا کہ آپ اور آپ کے ایک سو سے زیادہ ساتھی اپنے وطن اور اپنی جائداد کو چھوڑ کر مکّہ سے مدینہ آگئے۔ یہاں انہیں اپنے گھر اور اپنے عزیزوں سے محروم ہوکر از سرِ نو اپنی زندگی کی تعمیر کا مشکل کام کرنا تھا۔
ایسی حالت میں یہ ہونا چاہیے تھا کہ پیغمبر اسلام کا دل شکایت اور احتجاج سے بھرا ہوا ہو اور وہ مدینہ پہنچتے ہی مکّہ والوں کے خلاف منفی باتیں کہنا شروع کردیں۔ مگر معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ پیغمبر اسلام نے مدینہ پہنچ کر مدینہ والوں کے سامنے جو…
…ہو اُس کو سب سے پہلے خود اپنے ذہن کومیانہ روی پر قائم رکھنا ہوگا۔ اُس کو یک طرفہ طورپر یہ کرنا ہوگا کہ فریقِ ثانی اس کوغصہ دلائے، مگر وہ ہر گز غصہ نہ ہو۔ اس قیمت کو ادا کیے بغیر کوئی شخص پُر امن طریقِ کار کے اصول کواختیار نہیں کرسکتا۔
پیغمبر اسلام نے معلوم تاریخ میں پہلی بار پُر امن ایکٹوزم کا مکمل نمونہ پیش کیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ آپ نے یک طرفہ اعتدال پسندی کی مذکورہ قیمت ادا کی۔ آپ کے ساتھ فریقِ ثانی کی طرف سے ہر قسم کی زیادتی کی گئی مگر آپ ان زیادتیوں سے اوپر اُٹھ کر سوچتے رہے۔ ان کی زیادتیوں کو نظر انداز کرکے آپ نے مثبت انداز میںاپنے عمل کا نقشہ بنایا۔
پیغمبر اسلام کی یہ تقریر بتاتی ہے کہ آپ مکمل معنوں میں ایک امن پسند انسان تھے۔ کوئی بڑے سے بڑا ناخوش گوار واقعہ آپ کے ذہنی سکون (peace of mind) کو درہم برہم نہیں کرسکتا تھا۔ آپ نے اپنے ذہن کی سطح پر ایک ایسی بلند چیز پالی تھی کہ اس کے…
…اُن کو اللہ اور اس کے رسول کے طریقے کے مطابق طَے کیا جائے گا(وَإِنَّکُمْ مَہْمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیہِ مِنْ شَیْءٍ، فَإِنَّ مَرَدَّہُ إلَى اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) سیرت بن ہشام، جلد1، صفحہ503۔
یہ کثیر مذہبی یا کثیر کلچر والے سماج میںامن قائم کرنے کا واحد عملی اصول ہے۔ اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ اپنے اپنے دائرے میں ہر ایک اپنے طریقے کی پیر وی کرنے میں آزاد ہو۔ جہاں تک اجتماعی معاملات کا تعلق ہے، یعنی وہ معاملات جن میں رائیں ایک دوسرے سے مختلف ہو جاتی ہیں، وہاں مرکزی انتظامیہ کی اتّباع کرنا۔ اس طریقے کو دوسرے الفاظ میں پُر امن ڈفرینس مینجمنٹ (peaceful difference management) کہا جاسکتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر سماج میں ہمیشہ فرق اور اختلاف پایا جاتا ہے۔ خواہ یہ سماج واحد مذہبی سماج ہو یا کثیر مذہبی سماج۔ اس فرق کو تسلیم کیا جاسکتا ہے، مگر اس کو مٹایا نہیں جاسکتا۔ ایسے حالات میں کسی سماج میں امن قائم کرنا صرف بقائے باہم (co-existence) کے اصول پر مبنی ہے۔ اس معاملے میں دوسرا کوئی انتخاب ممکن نہیں۔
مدینہ پہنچ کر آپ نے جو سب سے پہلا کام کیا وہ یہ تھا کہ آپ نے وہاں ایک مسجد بنائی۔ اور اس مسجد میںپانچ وقت کی نماز کا نظام قائم کیا۔ اس نماز کا ایک پہلو یہ تھا کہ وہ خدا کی عبادت کا منظّم طریقہ تھا۔ اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ انسان کے…
…کہ پیغمبر اسلام مدینہ میں اپنے افراد کو اکٹھاکرکے ایک بڑی قوت بنائیں گے اور مکّہ کو واپس لینے کے لیے مکّہ پر حملہ کردیں گے۔ اس لیے مکّہ والوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ مدینہ میں پیغمبر اسلام کی طاقت کو توڑ کر اس کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے۔
اس مقصد کے لیے مکّہ والوں نے عوامی عطیات سے پچاس ہزار دینار اکھٹا کیے ، اور تیاری شروع کردی۔ یہاں تک کہ انہوں نے مدینہ پر باقاعدہ حملے کا منصوبہ بنالیا۔ حتی کہ ایک ہزار کی تعداد میں مسلّح فوج لے کر روانہ ہوئے تاکہ مدینہ کی جدید مسلم ریاست کا خاتمہ کردیں۔
اس طرح مدنی دَور میںغزوات (لڑائیوں) کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ سیرت کی کتابوں میں تقریباً 85 غزوات شمار کیے گئے ہیں۔ مگر یہ غزوات فریقِ ثانی کی طرف سے غزوات تھے اور پیغمبر اسلام کی طرف سے اعراض۔ پیغمبر اسلام کی پالیسی یہ تھی کہ فریقِ ثانی کے…
…میں پوچھا کہ آخر مجھ سے کیا غلطی ہوگئی ہے۔ میزبان نے کہا کہ تم رسوئی گھر میں ایک پاؤں آگے ایک پاؤں پیچھے کرکے داخل ہوگئے۔ تم کو یہ کرنا چاہیے تھا کہ دونوں پاؤں برابر کرکے ملاتے اس کے بعد چوکھٹ کے اوپر سے کود کر کمرے میں داخل ہوتے۔
مشرکانہ مذاہب میں اس قسم کی ظاہری رسموں کی بے حد اہمیت ہوتی ہے۔ بلکہ مشرکانہ مذہب سارا کا سارا رسوم ورواج ہی کے اوپر قائم ہوتاہے۔
24 جون 1985
…زور شور کے ساتھ اعلان کیا کہ یہاںایک پتھر گڑا ہوا ملا ہے۔ ہندو جمع ہوئے۔ انھوںنے دیکھا کہ واقعی زمین سے ایک پتھر برآمد ہوا ہے، اور اس پر مذکورہ عبارت لکھی ہوئی ہے۔ اس کے بعد ہندو خاموش ہوگئے اور مسلمانوں نے وہاں باقاعدہ مسجد تعمیر کرلی۔
ہندو جب کہیں مندر بنانے والے ہوتے ہیں تو وہاں ان کا ایک بھگوان پرکٹ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں نے بھی اپنی مسجد کے حق میں ایک پتھر کو پرکٹ کرلیا۔ مذکورہ حالات میں مَیں اس تدبیر کو درست سمجھتا ہوں۔ مگر مسلمان جس تدبیر کو خود اپنے لیے پسند کرتے ہیں، وہی تدبیر اگر دوسرے لوگ کریں تو انھیں اس پر شور وغل نہیں کرنا چا ہیے۔
1981 میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ہنگامے ہوئے تھے۔اس کے نتیجے میں یونی ورسٹی کے اندر پولس بلائی گئی۔ اس وقت ہندستان کی مسلم قیادت نے زبردست جوش وخروش کا مظاہرہ کیا۔ 29اگست 1981 کو ایک معروف مسلم ادارے کی جانب سے مسلم یونی ورسٹی کنونشن…
…کہ آپ کی شخصیت اپنے ماحول سے سراسر غیر متاثر نظر آتی ہے۔ مثال کے طورپر آپ کے زمانے میں عرب میں شاعری کا بہت زور تھا۔ شعر گوئی کو اس وقت سب سے بڑا کمال سمجھا جاتا تھا۔ وہی شخص قوم میں نمایاں ہوتا تھا جو شعر کی زبان میں اپنی بات کہہ سکے۔
مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں شعر وشاعری کا مطلق کوئی اثر نہیں ملتا۔ اپنے زمانے کے ادبی رواج سے اس قدر غیر متاثر رہنے کی کوئی دوسری مثال غالباً تاریخ میں نہیں ملے گی۔ آپ کی زندگی کا یہ غیر معمولی پہلو یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ آپ ایک غیر معمولی انسان تھے۔ آپ خدا کے پیغمبر تھے۔
ایک مسلمان بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ وہ بہت دنوں سے صابن بنانے کا تجربہ کررہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ صابن کا اصل جزء تیل ہے۔ صابن میں پوسٹک سوڈا بھی استعمال ہوتا ہے۔ مگر اس کا خاص کام یہ ہے کہ وہ تیل کو جمادے ۔ کسی بھی نباتاتی تیل سے صابن تیار…
…معاملہ ہے، نہ کہ قانونی سزا کا معاملہ۔یہ اعلیٰ سوچ کی ایک انوکھی مثال ہے۔چنانچہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ ممکن ہوا کہ آپ مسائل کے درمیان مواقع کو دیکھ سکیں، اور ان کو اویل کریں۔ اس کو کہتے ہیں— حالات سے اوپر اٹھ کر سوچنا۔
وہ مواقع کیا تھے۔ مثلاً یہ کہ قدیم کعبہ جو توحید کا سینٹر ہونے کے باوجود بتوں کا مرکز بن گیا تھا۔ یہ بات توحید کے پیغمبر کے لیے ناقابلِ برداشت تھی کہ وہ ایسا ہوتے ہوئے دیکھے، اور اس کے خلاف احتجاج نہ کرے۔ مگر پیغمبر اسلام کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ آپ نے ان بتوں کو کعبہ سے ہٹانے کی کوئی بات نہیں کی۔ اس کے برعکس، آپ نے حالات سے اوپر اٹھ کر عمل کیا۔ یعنی آپ نے گہرے مطالعے کے بعد سمجھا کہ جس کعبہ میں بت رکھے ہوئے ہیں، اسی بت کی وجہ سے پورے عرب سے روزانہ بڑی تعداد میں زائرین آتے ہیں، جو پوٹنشل آڈینس کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر بتوں کے خلاف آواز اٹھائی جائے، تو بت نہیں ہٹے گا، مگر نقصان یہ ہوگا کہ زائرین ، یعنی پوٹنشل آڈینس کا آنا بھی بند ہوجائے گا۔ اس کے برخلاف، جب بتوں کے خلاف ہنگامہ نہ کیا جائے تو زائرین ، یعنی آڈینس آئیں گے، جن کو آسانی سے اپنا پیغام پہنچایا جاسکتا ہے۔ پیغمبر اسلام نے یہی طریقہ اختیار کیا، اور سارا عرب آپ کے لیے توحید کا آڈینس بن گیا۔اس طرح آپ نے بتوں کے اجتماع کو مینج کرکے اس کو توحید کا آڈینس بنا دیا۔
اسی طرح یہ کہ پیغمبر اسلام نے اپنا مشن قدیم مکہ میں شروع کیا۔ وہاں آپ کی شدید مخالفت ہوئی۔ یہاں تک کہ انھوں نے آپ کو الٹی میٹم دے دیا کہ آپ مکہ کو چھوڑ دیں، ورنہ ہم آپ کو قتل کردیں گے۔ ان حالات میں آپ نے مکہ کو چھوڑدیا، اور خاموشی کے…
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم
محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری پیغمبر تھے۔ وہ 570 عیسوی میں قدیم مکہ میں پیداہوئے۔ 610 عیسوی میں اُن کو خدا کی طرف سے پہلی وحی ملی۔ اِس کے بعد انھوںنے مکہ میں اپنا مشن شروع کردیا۔ وہ 13 سال مکہ میں رہے۔ اس کے بعد 622 عیسوی میں وہ عرب کے دوسرے شہر مدینہ چلے گئے۔ وہاں انھوں نے اپنے مشن کو مزید 10 سال تک جاری رکھا۔ 632 عیسوی میں اُن کی وفات ہو ئی۔ ان کی قبر مدینہ میںاب بھی موجود ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل مشن توحید تھا، یعنی خدا کو ایک ماننا، اورایک ہی خدا کی عبادت کرنا۔ جب پیغمبر ِ اسلام نے لوگوں کو توحید کا یہ پیغام دینا شروع کیا، اُس وقت مکہ کی مسجد کعبہ میں 360 بُت موجود تھے، لیکن آپ نےبتوں کی…
کام کیا ہے
کام کیا ہے۔کام نام ہے ممکن مواقع کو اپنے لیے اویل کرنا۔یعنی حالات کو پڑھ کر اپنے لیے نقشہ بنانا، اور اس کے لحاظ سے کام کرنا۔ رسول اللہ کی زندگی سے یہی معلوم ہوتا ہے۔جب آپ مکہ میں رہے،تو مکہ کے لحاظ سے کام کیا، اور جب مدینہ گئے تو مدینہ کے لحاظ سے کام کیا۔
مثلاً آپ نے مکہ میں تیرہ سال تک مشن کا کام کیا۔ مگر آپ نے مکہ میں بتوں کو نہیں توڑا،اور نہ ہی ان بتوں کے خلاف کوئی بیان بازی کی۔ اس کے برعکس، آپ نے یہ کیا کہ بتوں کی زیارت کے لیے آنے والے آڈینس (audience)کو دعوت دی۔ یعنی آپ کو یہ…
حالات کی رعایت
مسلمانوں میں عام طو رپر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہمیں دو چیزوں کی پیروی کرتے ہوئے اپنا کام کرنا چاہیے، اور وہ ہے قرآن اور سنت۔ مگر عملی اعتبار سےیہ مکمل بات نہیں۔ بلاشبہ مسلمان کے لیے قرآن و سنت واحد ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں،لیکن اسی کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ مسلمان وقت کے تقاضے کو سمجھیں، اور وقت کے تقاضوں کا پورا لحاظ رکھتے ہوئے اپنی دینی پلاننگ انجام دیں۔
مثلاً جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو اس سفر کے لیے آپ نے ایک مشرک کو اپنے سفر کا رہنما بنایا۔سیرت کی کتابوں میں اس کا نام عبد اللہ بن اُرَیقِط یا أَرْقَط (سیرت ابن ہشام،جلد1، صفحہ488) بتایا گیا ہے۔ یہ…
اجتہاد کیا ہے
اجتہاد کیا ہے۔ اجتہاد یہ ہے — کسی حکم شرعی پر عمل کرنے میں جب حالات کی تبدیلی کی بنا پر فرق واقع ہوجائے، تو اس وقت حکم کو ظاہری صورت کے اعتبار سے دیکھنے کے بجائےحکم کو ری ڈیفائن کرنا تاکہ اسپرٹ پوری طرح باقی رہے،لیکن فارم کو اس طرح بدلا جائے کہ وہ مطابقِ حال ہو جائے۔
اس کی ایک رہنما مثال پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور کا ایک واقعہ ہے۔ آپ نےایک بار مدینہ سے صحابہ کی ایک جماعت کو بنو قریظہ کی طرف بھیجا۔ بنو قریظہ ایک یہودی قبیلہ (Jewish tribe)تھا۔یہ قبیلہ مدینہ سے جنوب کی جانب آباد تھا۔…
…کے معاملات کا تعلق ہے، ان میں مسلمان پابند ہیں کہ وہ شریعت کی رہنمائی کو تاویل کے بغیر قبول کریں، مگر جو امورانتظام دنیا سے تعلق رکھنے والے ہیں، ان میں انسان کو اختیار ہے کہ وہ اپنے حالات کے لحاظ سے جس طریقہ کو درست سمجھے اس کو اختیار کرے۔
اس معاملے میں ایک پیغمبرانہ واقعے سے مزید رہنمائی ملتی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یمن میں ایک شخص نے نبوت کا دعوی کیا اس کا نام مسیلمہ تھا۔ اس نے دو آدمیوں پر مشتمل اپنا ایک سفارتی وفد مدینہ بھیجا ۔انھوں نے مدینہ آکر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی، اور مدعی نبوت کا یہ تحریری پیغام پہنچایا کہ میں نبوت میں آپ کے ساتھ شریک کیا گیا ہوں (فَإِنِّی قَدْ أُشْرِکْتُ فِی الْأَمْرِ مَعَکَ)۔ سفارتی امور پر گفتگو کرنے کے بعد آپ نے ان دونوں سفیروںسے پوچھا کہ اس بارے میں تمہاری ذاتی رائے کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری بھی وہی رائے ہے جو ہمارے صاحب کی رائے ہے۔ یہ سن کر آپ نے کہا کہ خدا کی قسم اگر ایسا نہ ہوتا کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کو قتل کردیتا (أَمَا وَاَللَّہِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَکُمَا) سیرة ابن ہشام، جلد2، صفحہ 600۔
پیغمبرِ اسلام کے اس واقعہ سے اسلام کا ایک اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ بین اقوامی معاملات میں شریعت کا طریقہ بھی وہی ہوگا، جو دوسری قوموں کا طر یقہ ہے۔ دوسری قوموں میں اگر سفیر کی جان کو ہر حال میں محترم سمجھا جاتا ہے، تو اسلام میں بھی اس…
…کی۔ مگر اسلام سےپہلے کسی بھی دور میں ایسا نہیں ہوا کہ بڑی تعداد میں لوگ توحید کے نظریہ کو مان لیں اور توحید کی بنیاد پر انسانی معاشرہ میں وسیع انقلاب برپا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام سے پہلے انسان کبھی توحید کے حقیقی ثمرات سےآشنا نہ ہوسکا۔
جیسا کہ عرض کیاگیا، خدا کا ہر پیغمبر توحید کا پیغام لےکر آیا۔ مگر پچھلے پیغمبروں کے ساتھ یہ صورت پیش آئی کہ ان کے پیرو ان کے لائے ہوئے دین کی حفاظت نہ کرسکے۔ انھوں نے توحید میں شرک کی آمیزش کردی۔ مثال کے طورپر حضرت مسیح نے خالص توحید کا پیغام دیا، مگر ان کے بعد ان کے پیروؤں نے خود حضرت مسیح کو خدا سمجھ لیا۔ ان کا یہ مشرکانہ عقیدہ مختلف پہلوؤں سے سائنس کی ترقی کے لیے رکاوٹ بن گیا۔ مثلاً کچھ علمائے فلکیات نے نظامِ شمسی کی تحقیق کی۔ وہ اس حقیقت تک پہنچے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ مگر عیسائی علماء ایسے لوگوں کے سخت مخالف ہوگئے۔ اس کی وجہ ان کا مذکورہ مشرکانہ عقیدہ تھا۔ انھوں نے زمین کو خداوند کی جنم بھومی فرض کررکھا تھا، اس لیے ناقابلِ فہم ہوگیا کہ جس زمین پر خدا پیدا ہوا ہو، وہ زمین نظامِ شمسی کا مرکز نہ ہو، بلکہ اس کی حیثیت محض ایک تابع کی قرار پائے۔ اپنے مشرکانہ عقیدہ کو بچانے کے لیے انھوں نے سائنسی حقیقت کا انکار کردیا۔
دوسری بات یہ کہ پچھلے تمام پیغمبروںکامشن صرف اعلان کی حد تک جاسکا، وہ عملی انقلاب تک نہیں پہنچا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھی انسانی تاریخ کے پہلے گروہ ہیں جنھوں نے توحید کو ایک زندہ عمل بنایا۔ انھوں نے اولاً عرب میں…
…وہ اس انتظار میں تھے کہ میزبان نماز کے بعد چائے لے کر آئے گا۔ مگر میزبان نماز کے بعد ہم سے رخصت ہوکر گیا، تووہ دوبارہ واپس نہیں آیا۔ انتظار کرتے کرتے عشاکا وقت ہوگیا۔ ہم لوگ عشا کی نماز پڑھ کر بیٹھ گئے ،مگر بدستور میزبان کا پتہ نہ تھا۔
میرے ساتھی جو اس سے پہلے چائے کے منتظر تھے، اب بھوک سے بے تاب ہو کر کھانے کا انتظار کرنے لگے۔ غرض کافی انتظار کے بعد میزبان بڑے سے برتن میں کھانا لے کر آیا۔ میرے ساتھی خوش ہوئے کہ آخر کار انتظار ختم ہوا۔ مگر ان کی خوشی دیر تک باقی نہیں رہی۔ میزبان نے برتن سے کپڑا ہٹایا تو معلوم ہوا کہ جو کھانا وہ لے کر آیا ہے، عجیب وغریب کھانا ہے، یعنی ارہر کی دال اور گلگلہ۔
اب میرے ساتھیوں کا صبر ٹوٹ گیا۔ وہ بول پڑے کہ اتنی دیر کے بعد تم کھانا لائے ہو، اور وہ بھی ایسا عجیب وغریب کھانا جو ہم نے کبھی نہ کھایا تھا، اور سنا تھا۔ مگر میرا رد عمل بالکل مختلف تھا۔ میں نے بہت خوشی کے ساتھ کھانا شروع کردیا، اور کہا کہ…
عقیدہ اور بین اقوامی معاملات
ہجرت نبوی کے چھٹے سال حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا۔ اسلام میں حدیبیہ کا واقعہ ایک تاریخ ساز واقعہ ہے۔ حدیبیہ کا واقعہ پورے معنوں میں ایک سنت رسول ہے۔ حدیبیہ کے موقعہ پر جو واقعات پیش آئے۔ ان میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو بین اقوامی معاملات کے لیے ایک بنیادی اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔
حدیبیہ کے موقعہ پر رسول اللہ اور قدیم مکہ کے مشرک لیڈروں کے درمیان صلح کی گفت و شنید (negotiation) شروع ہوئی۔ یہ گفت و شنید تقریباً دوہفتہ تک جاری رہی۔ جب اس کی شرطیں طے ہوگئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کاغذ پر صلح نامے کے…
…کے موقعہ پر مساوات انسانی کا اعلان کیا۔ لیکن جہاں تک مسلم ریاست کا تعلق ہے، اس کے اندر غیرمسلموں کو مساوی درجہ حاصل نہیں۔ ان کے لیے صرف یہ چوائس ہے کہ وہ یاتو مسلم ریاست میں ثانوی درجے کی شہری بن کر رہیں یا ریاست کو چھوڑ کر باہر چلے جائیں۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں اسلام کا اصول وہی ہوگا، جو عالمی قانون کے مطابق، تمام قوموں کا اصول ہے۔ اس کی اصل خود دورِ اول میں موجود ہے۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ پہنچے، تو آپ نے وہاں کے لوگوں سے ایک معاہدہ کیا۔اس کو اسلام کی تاریخ میں صحیفۃ المدینہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں یہود کے تعلق سےیہ الفاظ ہیںوَإِنَّ یَہُودَ ... أُمَّةٌ مَعَ الْمُؤْمِنِینَ، لِلْیَہُودِ دِینُہُمْ، وَلِلْمُسْلِمَیْنِ دِینُہُم(سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ503)۔ یعنی بیشک یہود...،مومنین کے ساتھ، ایک امت ہیں۔ یہود کے لیے ان کا دین ہے، اور مسلمانوں کے لیے ان کا دین۔اس کا مطلب یہ ہے کہ نئےشہری انتظام کے تحت دونوں کادرجہ یکساں ہوگا۔ گویا کہ یہ عین وہی چیز ہےجس کو موجودہ زمانے میں یکساں شہریت (equal citizenship) کہا جاتا ہے۔
مسلم فقہ کا ایک مسلم اصول یہ ہےالأحکامُ تتغیَّرُ بتغیُّرِ الزَّمانِ والمکانِ(تیسیر علم الفقہ للعنزی)۔ یعنی زمان و مکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں۔ اس اصول کے انطباق کی مثالیں ماضی میں بھی ہیں اور حال میں بھی ۔ماضی میں اس کی مثال بنی…
اسلامی تحریک کی ابتدا
ایک تعلیم یافتہ مسلمان کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تیئس سالہ دورِ نبوت کو دو دوروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے —مکّی دور اور مدنی دور۔ یہ دونوں دور تدریجی دور نہیں تھے، بلکہ وہ اضافی (relative) دور تھے۔ دونوں کے درمیان فرق کی اس نوعیت کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
بعض لوگوں نے ان دونوں دوروں کو لے کر اسلام کا ایک انقلابی نظریہ بنایا ہے۔ وہ اس کے حوالے سے کہتے ہیں کہ اسلام کی تحریک دعوت سے شروع ہوتی ہے پھر پُر امن مزاحمت (passive resistance) کا زمانہ آتا ہے۔ اُس کے بعد ہجرت ہوتی ہے اور پھر اہلِ…
اسلامی دعوت
The Need for Re-orientation in Islamic Da‘wah
پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن دعوت الی اللہ (اسلامی دعوت) تھا۔ آپ نے یہ کام 610 ء میں مکہ میںشروع کیا۔ اُس وقت آپ اِس مشن میں تنہا تھے، پھر دھیرے دھیرے لوگ اسلام قبول کرتے رہے۔اور آپ کے ساتھیوں کی تعداد بڑھتی رہی۔ ابتدائی…
…ایسے صدر ریاست ہوئے ہیں جن کو متفقہ طورپر خلیفۂ راشد کہا جاتا ہے۔ مگر ان پانچوں کے لیے تقرر کا طریقہ الگ الگ اختیار کیاگیا۔ اسی طرح شوریٰ کے بارہ میں کوئی متعین نظام یا ڈھانچہ اسلام کے دور اول میں موجود نہیں جو نمونہ کی حیثیت رکھتا ہو۔
موجودہ دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہاں ہمیشہ ہر ایک کے لیے ناموافق حالات موجود رہیں گے، تاکہ امتحان کے تقاضے کو پورا کیا جاسکے۔ خدائی تخلیق کے مطابق، معیاری دنیا موت کے بعد صرف جنت میں بنے گی۔ موجودہ دنیا میں انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ اس کو اگلے دورِ حیات میں بننے والی معیاری دنیا (جنت)میں داخلہ مل سکے۔ موجودہ دنیا میں معیاری سماجی نظام بنانے کی کوشش کرنا گویا جنت کو موجودہ دنیا ہی میں تعمیر کرنا ہے جو خدائی نقشہ کے مطابق، سرے سے ممکن ہی نہیں۔ خود پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ میں اس کے سابقہ نظام کو علیٰ حالہٖ فتح ِمکہ تک باقی رکھا۔
سماجی نظام کے بارے میں اسلام کا تصور یہ ہے کہ اگر ایسا نظام عملاً موجود ہو جو اہلِ ایمان کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہ کرے تو اُس سے ٹکراؤ نہیں کیا جائے گا۔ اُس کو عملاً تسلیم کرتے ہوئے اُس کے تحت افراد اور ادارے کی سطح پر اسلام کی پیروی جاری…
عارف انسان
قرآن میں ایک واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے:وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْیُنَہُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِینَ، وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَنْ یُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِینَ (5:83-84)۔ یعنی اور جب انھوں نے اس کلام کوسنا جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسوبہہ پڑے، اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے۔
یہ واقعہ ایک مسیحی گروپ کا ہے، جو پیغمبر اسلام سے ملنے کے لیے حبش سے مدینہ آئے تھے۔ اس مثال کے ذریعہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ کلام الٰہی کا سننا ،ان کے لیے ایک گہراروحانی تجربہ (spiritual experience) بن گیا۔ اس روحانی تجربے کی کچھ علامتیں یہ…
پیغمبر ِ اسلام — استثنائی شخصیت
پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش 570ء میں مکہ میں ہوئی۔ 610ء میں آپ کو نبوت ملی۔ 632ء میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی۔ آپ پوری تاریخ میں ایک استثنائی شخصیت تھے۔ آپ کا استثنائی شخصیت ہونا اپنے آپ میں اِس بات کا ایک ثبوت ہے کہ آپ اللہ تعالی کے نمائندہ تھے۔ آپ کو اللہ تعالی کی خصوصی نصرت حاصل تھی۔ خداوندِ کائنات کی خصوصی نصرت کے بغیر کوئی شخص ایسا نہیں کرسکتا کہ وہ پوری تاریخ میں ایک استثنائی شخصیت بن جائے۔
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اِس استثنائی شخصیت کے مختلف پہلو ہیں۔ اِس موضوع کی تفصیل کے لیے ایک مکمل کتاب درکار ہے۔ یہاں آپ کی استثنائی شخصیت کے چند پہلو مختصر طورپر درج کیے جاتے ہیں:
…یُہَوِّدَانِہِ أَوْ یُنَصِّرَانِہِ أَوْ یُمَجِّسَانِہِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔ یعنی ہر پیدا ہونے والا فطرتِ صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو یا تو یہودی بنا دیتے ہیں۔ یانصرانی بنا دیتے ہیں، یا مجوسی بنادیتے ہیں۔
اصل یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والا کسی خاندان میں پیداہوتا ہے اور کسی سماج میں اس کی پرورش ہوتی ہے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر آدمی بچپن ہی سے متاثّر ذہن کا حامل بن جاتا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں کنڈیشننگ (conditioning) کہا جاتا ہے۔ چنانچہ ہر آدمی بلا استثنا کنڈیشننگ کا ایک کیس ہوتا ہے۔ آدمی کی کنڈیشننگ جس ماحول میں ہوتی ہے، اُسی ماحول کے اعتبار سے اس کی شخصیت بن کر تیار ہوتی ہے۔ کنڈیشننگ کے اِس عمل کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کو اپنے خاندانی مذہب کے ساتھ متعصبانہ حد تک جذباتی تعلق ہوجاتا ہے، اور دوسرے مذہب کے بارے میں وہ منفی ذہنیت کا حامل بن جاتا ہے۔ یہ کنڈیشننگ کسی غیر مسلم کے لیے اس میں رکاوٹ بن جاتی ہے کہ وہ اسلام کے بارے میں غیر متاثر ذہن کے ساتھ سوچ سکے۔
اِس معاملے میں مسلمان ایک مستثنیٰ حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ مسلمان کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ مخالفانہ احساس سے خالی ہوکر اسلام کا مطالعہ کرسکے۔ اِس طرح ایک مسلمان کو اسلام کے مطالعے کے لیے ایک موافق نقطۂ آغاز مل جاتا ہے۔ وہ اِس پوزیشن…
حکمت کی تعلیم
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کا رسول انسانوں کو اللہ کی کتاب دیتا ہے، جس میں اللہ کے قوانین درج ہیں، اور اسی کے ساتھ وہ انسان کوحکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ حکمت کی تعلیم سے کیا چیز مراد ہے۔اصل یہ ہے کہ قرآن کی تعلیم پر عمل کرنا،کوئی سادہ بات نہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ دنیا ایک میدان ہے، اور اس میں ہر انسان آزاد ہے کہ وہ جو کچھ کرنا چاہے، بلا روک ٹوک اپنی مرضی کے مطابق انجام دے سکے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ دنیا میں دوسرے بہت سے انسان آباد ہیں۔ ہر ایک کے اپنے منصوبے ہیں، ہر ایک کا اپنا الگ الگ ایجنڈا ہے۔ ایسی حالت میں یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ دوسروں کی رعایت کرتے ہوئے اپنا منصوبہ بنائے۔ اگر لوگ ایسا نہ کریں تو سارے لوگ آپس میں لڑیں گے، اور کوئی بھی شخص اپنا کام درست طور پر انجام نہ دے سکے گا۔
ایسی حالت میں انسان کو اپنا کام انجام دینے کے لیے دانش مندانہ منصوبہ بنانا پڑتا ہے۔ اس دانش مندانہ منصوبے کو ایک لفظ میں پریکٹکل وزڈم کہا جاسکتا ہے۔ اس اعتبار سے قرآن کی ان آیات میں حکمت سے مراد عملی دانش مندی (practical wisdom) ہے۔ یعنی…
…طور پر مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے جاتے اورنہ ہی مدینہ میں اپنے مشن کی ری پلاننگ کرتے۔ اسی طرح حدیبیہ کے موقع پر ایسا نہ ہوتا کہ آپ کے اور مشرکین کے درمیان ناجنگ معاہدہ تشکیل پاتا، بلکہ دونوں فریق حدیبیہ کو جنگ کا میدان بنا لیتے، وغیرہ۔
پیغمبر کی نسبت سے حکمت کا لفظ سمجھنے کے لیے ہم کو یہ طریقہ اختیار کرنا پڑے گا کہ پیغمبر نے عملاً اس حکمت کو مکہ اور مدینہ میں کس طرح اختیار کیا۔ اس معاملے میں رسول اللہ کا عملی نمونہ بتائے گا کہ وہ چیز کیا تھی، جس کو قرآن میں آپ کی نسبت سے حکمت کہا گیا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس آیت کی تفسیر یہ بنتی ہے کہ الکتاب، رسول اللہ کی تعلیمات کو جاننے کا نظری ماخذ ہے، اور توحید کے مشن کو عرب میں جاری کرنے کے لیے آپ نے جو طریقہ کار اختیار فرمایا، وہ آپ کا عمل ہے،جس کو قرآن میں حکمت کہا گیا ہے۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ الکتاب سے مراد اسلام کی نظری تعلیم ہے، اور حکمت سے مراد اس کا عملی پہلو ہے۔ دوسرے لفظ میں حکمت سے مراد وہی چیز ہے ، جس کو پریکٹکل وزڈم (practical wisdom)کہا جاتا ہے۔ یعنی نظری تعلیم کو عمل کی صورت میں ڈھالنا۔
…1584؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1333)۔اب ساری دنیا کے حاجی جس کعبہ کا طوا ف کرتے ہیں، وہ پیغمبر ابراہیم اور پیغمبر اسماعیل کا تعمیر کردہ ابتدائی کعبہ نہیں ہے، بلکہ اصل کعبہ کا باقی ماندہ پارٹ ہے، جس کو قریشِ مکہ نے حالتِ شرک میں تعمیر کیا تھا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پورے مشن میں اسی اصول کی پیروی کی۔ پیغمبر اسلام کو جب مکہ سے ہجرت کرنا پڑا ، اور مدینہ کو آپ نے اپنا مرکز بنایا تو یہ گویا ارض مقدس کے باقی ماندہ حصہ (remaining part) کی بنیاد پر اپنے مشن کو جاری رکھنا تھا۔ یہ طریقہ نتیجہ کے اعتبار سے نہایت کامیاب رہا۔پیغمبر اسلام کو جب حالات کے تحت مکہ کو چھوڑ کرمدینہ جانا پڑا، اس وقت آپ نے شکایت کی کوئی بات نہیں کہی، بلکہ آپ نے برعکس طور پر یہ کہا: أُمِرْتُ بِقَرْیَةٍ تَأْکُلُ القُرَى، یَقُولُونَ یَثْرِبُ، وَہِیَ المَدِینَةُ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 1871)۔ یعنی مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا، جو بستیوں کو کھا جائے گی، لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں، اور وہ مدینہ ہے۔
اس حدیث میں مدینہ کا حوالہ شہرِ مدینہ کی فضیلت کے طور پر نہیں ہے، بلکہ وہ باقی ماندہ پر پلاننگ کی اہمیت کے طور پر ہے۔ یعنی مکہ سے ہجرت کے بعد جو کچھ ملے گا، وہی ساری دنیا میں خدائی مشن کے پھیلنے کا ذریعے بنے گا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ…
یہی حج کے دوسرے تمام مراسم کا حال ہے۔ حج کے تمام مراسم مختلف پہلوؤں سے ایک ہی نشانہ پر چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی ربانی مقناطیس ہے جو ’’لوہے‘‘ کے تمام ٹکڑوں کو ایک نقطہ پر کھینچتے چلا جارہا ہے۔
مختلف ملکوں کے یہ لوگ جب مقامِ حج کے قریب پہنچتے ہیں تو سب کے سب اپنا قومی لباس اتار دیتے ہیں اور سب کے سب ایک ہی مشترک لباس پہن لیتے ہیں جس کو احرام کہا جاتا ہے۔ احرام باندھنے کا مطلب یہ ہے کہ بغیر سلی ہوئی ایک سفید چادر نیچے تہمد کی طرح پہن لی جائے اور اسی طرح ایک سفید چادر اوپر سے جسم پر ڈال لی جائے۔ اس طرح لاکھوں انسان ایک ہی وضع اور ایک ہی رنگ کے لباس میں ملبوس ہو جاتے ہیں۔
یہ سارے لوگ مختلف مراسم ادا کرتے ہوئے بالآخر عرفات کے وسیع میدان میں اکھٹا ہوتے ہیں۔ اس وقت ایک عجیب منظر ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے انسانوں کے تمام فرق اچانک مٹ گئے ہوں۔ انسان اپنے تمام اختلافات کو کھو کر خدائی وحدت میں گم ہوگئے…
…میں اس کو اپنا مرکز بنایا۔ اس وقت سے اس کا نام مدینۃ النبی (نبی کا شہر) پڑ گیا۔ مدینہ اسی کااختصار ہے۔ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی مسجد ہے۔ یہاں آپ کی قبر ہے۔ یہاں آپ کی پیغمبرانہ زندگی کے نشانات بکھرے ہوئے ہیں۔
ان حالات میں حاجی جب مدینہ پہنچتے ہیں تو یہ ان کے لیے مزید اتحاد اور اجتماعیت کا عظیم سبق بن جاتا ہے۔ یہاں کی مسجد نبوی میں وہ اس یاد کو تازہ کرتے ہیں کہ ان کا رہنما صرف ایک ہے۔ وہ یہاں سے یہ احساس لے کر لوٹتے ہیں کہ ان کے اندر خواہ کتنے ہی جغرافی اور قومی فرق پائے جاتے ہوں، انہیں ایک ہی پیغمبر کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنا ہے۔ انہیں ایک مقدس ہستی کو اپنی زندگی کا رہنما بنانا ہے۔ وہ خواہ کتنے ہی زیادہ اور کتنے ہی مختلف ہوں، مگر ان کا خدا بھی ایک ہے اور ان کا پیغمبر بھی ایک۔
حج بیت اللہ کے بعد
قرآن کی سورہ البقرۃمیں حج کا حکم آیا ہے، اس سلسلۂ کلام کی ایک آیت یہ ہے: فَإِذَا قَضَیْتُمْ مَنَاسِکَکُمْ فَاذْکُرُوا اللَّہَ کَذِکْرِکُمْ آبَاءَکُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِکْرًا( 2:200)۔ پھر جب تم اپنے حج کے مناسک پورے کرلو تو اﷲ کو یاد کرو جس طرح تم پہلے اپنے باپ دادا کو یاد کرتے تھے، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔حج کے مناسک کی ادائیگی کے بعد زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کلماتِ ذکر کا بکثرت ورد کیا جائے۔ بلکہ اس سے مراد دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی حج کی ابراہیمی سنت کی ادائیگی کے ذریعے جو اسپرٹ تم نے اپنے اندر پیدا کی ہے اس کو لے کر دنیا میں پھیل جاؤ اور اللہ کے پیغام کو دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچادو۔اور ہر سال حج کے بعد یہی دعوتی کام کرتے رہو۔
حج کے بعد کے عمل سے مراد دعوت یعنی تمام انسانوں کو خدا کے کریشن پلان سے آگاہ کرنا ہے۔ اس تفسیر کا ماخذ خود سنتِ رسول ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ حجۃ الوداع کا فریضہ ادا کیا۔ پھرحج سے واپسی…
اخوانِ ابرہیم ، اخوانِ محمد
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم 570 عیسوی میں مکے میں پیدا ہوئے، اور 632 عیسوی میں مدینے میں آپ کی وفات ہوئی۔آپ کا زمانہ پیغمبر ابراہیم علیہ السلام سے تقریباً ڈھائی ہزار سال بعد کا زمانہ ہے۔ آپ پیغمبر ابراہیم کی دعا (سورۃ البقرۃ،2:129)کے نتیجہ میں پیدا ہوئے۔ قرآن میں آپ کے بارے میں ایک آیت آئی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے: پھر ہم نے تمہاری طرف وحی کی کہ ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو جو یکسو تھا اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا(16:123)۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں، یہ در اصل ایک تاریخی حقیقت کا اعلان ہے۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب وہ لوگ تھے، جن پر ایک تاریخ منتہی (culminate) ہوئی تھی۔ پیغمبر ابراہیم نے اپنی غیر معمولی قربانی کے ذریعے مکے میں ایک تاریخی عمل (historical…
اخوانِ ابرہیم ، اخوانِ محمد
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم 570 عیسوی میں مکے میں پیدا ہوئے، اور 632 عیسوی میں مدینے میں آپ کی وفات ہوئی۔آپ کا زمانہ پیغمبر ابراہیم علیہ السلام سے تقریباً ڈھائی ہزار سال بعد کا زمانہ ہے۔ آپ پیغمبر ابراہیم کی دعا (سورۃ البقرۃ،2:129)کے نتیجہ میں پیدا ہوئے۔ قرآن میں آپ کے بارے میں ایک آیت آئی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے: پھر ہم نے تمہاری طرف وحی کی کہ ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو جو یکسو تھا اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا(16:123)۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں، یہ در اصل ایک تاریخی حقیقت کا اعلان ہے۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب وہ لوگ تھے، جن پر ایک تاریخ منتہی (culminate) ہوئی تھی۔ پیغمبر ابراہیم نے اپنی غیر معمولی قربانی کے ذریعے مکے میں ایک تاریخی عمل (historical…
…جو طریقہ مکی اور مدنی دور میں یکساں طور پر اختیار کیا، اس کو دیکھ کر اس کو سمجھا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ رجز سے مراد نزاعی طریقہ ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ نزاعی طریقہ کو چھوڑدو تاکہ دعوت الی اللہ کاکام پر امن اور معتدل انداز میں جاری رہے۔
اس اصول کے تحت پیغمبر اسلام نے مکے میں بھی اور مدینے میں بھی یکساں طور پر عمل کیا۔ آپ کا اصل گول دعوت الی اللہ تھا۔ جو کام آپ کے دعوتی مشن میں رکاوٹ ڈالے، وہ آپ کے لیے رُجز کی حیثیت رکھتا تھا۔ مثلاً اس وقت مکہ کو بت پرستی کا مرکز بنا دیا گیا تھا۔ کعبہ میں تقریباً 360 بت رکھ دیے گئے تھے۔ لیکن آپ نے ان بتوں کے خلاف براہ راست کوئی تحریک نہیں چلائی۔ بلکہ عملاً ان کو نظر انداز کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھا۔ اس اصول کے معاملے میں آپ اس آخری حد تک پہنچے کہ جب آپ ہجرت کرکے مدینہ آئے تو آپ نے تقریباً سولہ مہینے تک یہود کے قبلے کو اپنا قبلہ بنا لیا۔ تاکہ دعوت الی اللہ کے کام کا تسلسل اسمود (smooth) طور پر جاری رہے۔
اہلِ اسلام کے لیے نہ کوئی اقلیتی فقہ ہے، اور نہ کوئی اکثریتی فقہ۔ اہلِ اسلام کو ہر جگہ یہ کرنا ہے کہ وہ سیاسی اور غیر سیاسی نزاع سے پر ہیز کریں۔ وہ امن (peace) کو اصل اجتماعی اصول قرار دے کر معتدل انداز میں زندگی گزاریں۔ وہ عقیدہ اور…
آفاقی طرزِ فکر
قرآن کی آئڈیا لوجی آفاقی آئڈیالوجی ہے۔یہ نقطۂ نظرمختلف انداز سے سارے قرآن میں پھیلا ہوا ہے۔ اس سلسلے کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے ، وہ زمین میں بڑے ٹھکانے اور بڑی وسعت پائے گا، اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرکے نکلے، پھر اس کو موت آجائے تو اس کا اجر اللہ کے یہاں مقرر ہوچکا (4:100)۔ قرآن کی یہ آیت زیادہ معنی خیز انداز میں میری سمجھ میں اس وقت آئی، جب کہ میں نے 1971 میں احمد آباد کا سفر کیا۔ یہاں میری ملاقات ایک مسلم نوجوان سے ہوئی۔ وہ انجینئر تھے۔ حال میں انھوں نے ایک فیکٹری بنائی تھی۔ وہ مجھ کو اپنی فیکٹری میں لے گئے۔ ان کی فیکٹری میں ابھی تک کوئی پروفیشنل مینیجر نہیں تھا۔ انھوں نے اپنی فیکٹری کے مختلف حصوں کو دکھاتے ہوئے پروفیشنل مینیجر کے نہ ہونے کا ذکر کیا، اور کہا : اپنی تو لیمیٹیشنس (limitations) آجاتی ہیں، مینجمنٹ سائڈ پر۔
فیکٹری کے مالک کا یہ جملہ سن کر میرا مائنڈ ٹریگر (trigger)ہوگیا۔ میں نے ایک نئے لائن پر سوچنا شروع کردیا۔ میں نے سوچا کہ ہمارے رہنماؤں نے پوری بیسویں صدی اسی سوچ میں گزار دی۔ ایک لفظی فرق کے ساتھ ان کی مشترک سوچ یہ تھی: اپنی تو لیمیٹیشنس…
…الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُہُ وَتِلْکَ الْأَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ (3:140)۔ یعنی احد کی جنگ میں اگر تم کو زخم پہنچا ہے تو اس سے پہلے بدر کی جنگ میں مشرکین کو زخم پہنچ چکا ہے۔ اور ہم ان ایام کولوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں ۔
اسی طرح 6 ہجری میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان وہ واقعہ پیش آیا جس کو صلح حدیبیہ کہاجاتا ہے۔ یہ صلح بظاہر مسلمانوں کی سیاسی شکست کے ہم معنی تھی۔ مگر قرآن میں جب اس پر تبصرہ کیاگیا تو برعکس طورپر، اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا: إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِینًا (48:1) یعنی ہم نے تم کو تمھارے حریف کے اوپر کھلی فتح دے دی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ بظاہر سیاسی شکست کے باوجود اس معاملے میں تم کو اخلاقی فتح حاصل ہوئی ہے، جو آخر کار مکمل فتح بننے والی ہے،وغیرہ۔اس خدائی تربیت نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسا انسان بنا دیا جو منفی طرز فکر سے مکمل طور پر خالی تھا۔ آپ مثبت فکر میں اتنا زیادہ بڑھے ہوئے تھے کہ بلاشبہ آپ کو دنیا کا سب سے بڑا مثبت مفکر (positive thinker) کہا جاسکتا ہے۔
اللہ پر اعتماد
فہمِ دین
قرآن دین خداوندی کو سمجھنے کا واحد مستند ماخذ ہے۔ قرآن اللہ رب العالمین کی آخری کتاب ہے۔ وہ ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں عرب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا۔ یہ قبل از سائنس دور (pre-scientific age) کا زمانہ تھا۔ اس وقت اگر قرآن میں وہ اسلوب اختیار کیا جاتا جو سائنس کے ظہور کے بعد بیسویں صدی میںرائج ہوا ہے۔ تو یہ اس مشہور مثل کا مصداق بن جاتا:
Putting the cart before the horse
رُجز کو چھوڑو
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔اس وقت آپ کو ایک بنیادی ہدایت یہ دی گئی کہ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ (74:5)۔ یعنی رجز کو چھوڑدے۔رجز کا مطلب گندگی ہے۔
وہ رجز کیا تھا جس کو آپ نے چھوڑ کر اپنا مشن چلایا۔اس کی تفصیل آپ کی سیرت کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے۔اس کا تعلق آپ کے مشن کے طریقہ کار (method) سے تھا۔ اگر رسول اللہ کی عملی روش کو لے کر اس کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔تو اس کا جواب یہ ہوگا…
امن ایک اقدام
اسلام میں جنگ، دفاع کا معاملہ (issue of defence) ہے۔ اور امن، اقدام کا اشو (issue of advancement) ہے۔ اسلام میں اہل ایمان کو اجازت نہیں کہ وہ اپنی طرف سے جنگ چھیڑیں ۔ البتہ جہاں تک امن کا تعلق ہے ، اہل ایمان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اسلام کی اشاعت کے لیے پرامن اقدام کا منصوبہ بنائیں۔ اسلام کا یہ اصول فطرت کے قانون پر مبنی ہے۔
فطرت کے قانون کے مطابق، جنگ کے ذریعہ کسی مثبت نتیجہ کا حصول ممکن نہیں۔ کیوں کہ جنگ سے کسی بات کا فیصلہ نہیں ہوتا، نہ ہارنے کی صورت میںاور نہ جیتنے کی صورت میں۔ جنگ میں اگر فتح حاصل ہو، تب بھی ہارنے والے فریق کے دل میں انتقام کا جذبہ بھڑک…
کامیاب منصوبہ بندی
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے سن 6 ہجری کے آخر میں مکہ کے لیڈروں سے ایک معاہدہ کیا تھا۔ جو حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ عام طور پر حدیبیہ کو غزوۃ الحدیبیہ کہاجاتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں۔ کیوں کہ حدیبیہ کے موقع پر فریقین کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس، جو ہوا وہ یہ تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان باہمی امن کا معاہدہ ہوا۔
الحدیبیہ عرب کے ایک علاقہ کا نام ہے، جو مدینہ اور مکہ کے تقریباً درمیانی مقام پر واقع ہے۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نےایک پروگرام کے تحت یہاں دوہفتہ قیام کیا۔ یہاں آپ نے مکہ کے لیڈروں سے گفت و شنید (negotiation) کی۔ اس کے بعد فریقَین…
مسجد کا مسئلہ
عام طو رپر یہ سمجھا جاتاہے کہ مسجد کی تعمیر ایک ابدی تعمیر ہے۔ جس مقام پر ایک بار مسجد بن جائے ، وہاں وہ مسجد ہمیشہ قائم رہے گی، اُس کا وہا ں سے ہٹانا جائز نہیں ۔ مسجد کے بارے میں یہ مسئلہ اسلام کے بعد کے زمانے میں عباسی دور میں کچھ فقہا نے وضع کیا۔ لیکن قرآن یا حدیث میں مسجد کے بارے میں ایسا کوئی مسئلہ ہرگز موجود نہیں۔موجودہ زمانے کے بعض علما نے اس مسئلہ کو اجتہادی مسئلہ بتایا ہے۔ یعنی ضرورت کے تحت مسجد کو اس کے سابق مقام سے ہٹایا جاسکتا ہے، او ر اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔ حنبلی فقہ واضح طور پر اس مسئلے کی تائید کرتی ہے۔
مشہور حنبلی عالم ابن قدامہ (1147-1223ء) نے اپنی کتاب المغنی میں لکھا ہے : ولو جاز جعل أسفل المسجد سقایة وحوانیت لہذہ الحاجة، لجاز تخریب المسجد وجعلہ سقایة وحوانیت ویجعل بدلہ مسجدا فی موضع آخر(المغنی لابن قدامہ، 6/30)۔ یعنی اگر ضرورت کے…
…ہوتا ہے کہ اس کے بعد آدمی کام کرنے کے قابل نہ رہے۔ یہ دوسری قسم کا دباؤ ہمیشہ ایک مثبت دباؤ ہوتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ مثبت دباؤ کو پہچانے، اور اس سے پیدا ہونے والے مواقع کو استعمال کرے۔ اس طرح وہ زیادہ کام کرنے کے قابل بن جائے گا۔
مذکورہ آیت میں حالات کو اللہ کی طرف منسوب کرنا، محض عقیدہ کی بات نہیں ہے، بلکہ وہ خالق کے تخلیقی منصوبہ کی بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خالق انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس سے بے تعلق نہیں ہوگیا ہے، بلکہ وہ حالات پیداکرکے انسان کو برابر رہنمائی دیتا رہتا ہے۔ یہ انسان کا کام ہے کہ وہ حالات کو پڑھے، اور خالق کی خاموش زبان کو سن کر تخلیق کے منصوبہ کو سمجھے۔
اس سیاق (context) میں صبر کا مطلب ہے ، خالق کے مقرر کردہ نقشے کو پوری رضامندی کے ساتھ قبول کرنا، اور صلوات اور رحمت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خالق کے اس منصوبہ پر راضی ہوں، اور اس کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں، وہی وہ لوگ ہیں ، جو اس…
…البخاری، حدیث نمبر 3533)۔ یعنی کیا تم کو یہ بات عجیب نہیں معلوم ہوتی کہ اللہ مجھ سے قریش کے سب وشتم اور لعنت کو کس طرح دور کررہا ہے ۔ مجھے وہ مذمم کہہ کر شتم کرتے ہیں، مذمم کہہ کر وہ مجھ پر لعنت بھیجتے ہیں۔ حالانکہ میں تو محمد ہوں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ قریش کے لوگ اپنی بڑھی ہوئی مخالفت کی بنا پر اس کو پسند نہیں کرتے کہ وہ میرا اصل نام بولیں ، اور میرے خلاف جو کہنا چاہتے ہیں، وہ میرانام لے کرکہیں۔ انھوں نے مخالفت کے جوش میں بطور خود میرا نام محمدکے بجائے مذمم رکھ دیا، اور وہ مذمم کا نام بول کر میرا سب و شتم کرتے ہیں۔ یعنی وہ سب و شتم تو کرتے ہیں، لیکن جس شخص کی وہ سب و شتم کرتے ہیں، اس کا نام انھوں نے بطور خود مذمم رکھ دیا ہے۔ اس طرح ان کے اپنے کہنے کے مطابق ان کی بات کسی ایسے شخص پر پڑتی ہے جس کا نام مذمم ہو، وہ شخص جس کا نام محمد ہے اس پر ان کی بات پڑتی ہی نہیں۔
یہ اعلیٰ سوچ کی ایک انوکھی مثال ہے۔ پیغمبر اسلام چوں کہ مکمل طور پر مثبت سوچ پر قائم تھے۔ اس لیے انھوں نے ایک لطیف اسلوب میں قریش کے سب و شتم کو بے حقیقت کردیا۔ انھوں نے کہا کہ جب وہ میرا اصل نام لے کر مجھے کچھ نہیں کہتے تو وہ خود ہی اپنے…
ہر حال میں مثبت طرز فکر
پیغمبر اسلام نے قدیم مکہ میں اپنا مشن 610 عیسوی میں شروع کیا۔ اس وقت مکہ میں قبائلی کلچر (tribal culture) شدت کے ساتھ موجود تھا۔ وہاں کے لوگوں نے آپ کے ساتھ ہر قسم کا برا سلوک کیا۔ یہاں تک کہ تیرہ سال بعد آپ نے مجبور ہوکر اپنے وطن کو چھوڑ دیا، اور مکہ سے تقریبا 500 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود مدینہ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مقیم ہوگئے۔
یہ شدید ترین معنوں میں جلاوطنی کا کیس تھا۔ عام رواج یہ ہے کہ ایسے لوگ اپنے نئے وطن میں جاکر صرف ایک کام کرتے ہیں، اور وہ اپنے سابق ہم وطنوں کی برائیاں بیان کرنا۔ لیکن پیغمبر اسلام نے اس سے الگ ایک انتہائی طور پر مختلف طریقہ اختیار کیا۔ وہ…
…وہاں دوسرے قبائل کے ساتھ یہود کے قبائل بھی آباد تھے۔ اس وقت مدینہ کی آبادی میں یہود تقریباً نصف حصہ تھے۔ وہ مدینہ کی معاشیات میں غالب حیثیت رکھتے تھے۔ ایسی حالت میں یہود سے ٹکراؤ کا طریقہ آپ کے مشن کی راہ میں مستقل مسئلہ بن سکتا تھا۔
اس معاملے کے حل کے لیے آپ نے وہ اصول اختیار کیا جس کو قرآن میں تالیف قلب (التوبہ60:) کہا گیا ہے۔ یعنی یہود کے ساتھ فرینڈلی بیہیویر(friendly behaviour) کا طریقہ۔ اس مقصد کے لیے آپ آخری حد تک گئے۔ جیسا کہ معلوم ہے یہود کے لیے عباد ت کا ایک قبلہ تھا، اور وہ قبلہ بیت المقدس تھا۔ پیغمبر اسلام جب مکہ میں تھے تو آپ کا قبلہ کعبہ تھا، مگر مدینہ پہنچے تو آپ نے بیت المقدس کو اپنے اور اپنے اصحاب کی عبادت کا قبلہ بنا لیا۔ ایسا آپ نے یہود کی تالیف قلب کے لیے کیا۔ جیسا کہ قرآن کی سورہ البقرۃ کی آیت 143 کے تحت مختلف مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ یہود کی تالیف قلب کے لیے تھا، مثلا تفسیر الرازی (4/89)، و تفسیر النسفی(1/138)، وغیرہ۔ تالیف قلب کا مطلب ہے دل کو نرم کرنا ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مدینہ کے یہود سےقریبی تعلق جوڑتے ہوئے اپنا کام کرنا۔
یہ صرف یہود کا معاملہ نہیں۔ آپ نے اپنے مشن میں کبھی ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ آپ نے ہمیشہ یہ کیا کہ اپنےپڑوسی سے معتدل تعلقات رکھتے ہوئے اپنے مشن کا کام کرنا۔ آپ کا یہ طریقہ صرف عرب کے مشرکین کے ساتھ نہیں تھا، بلکہ عرب کی سرحد سے…
…آپ کے مشن کا کلی طور پر خاتمہ کردیں ۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے مکہ کے تمام قبائل کی مدد سے ایک بڑامنصوبہ بنایا، تاکہ وہ پیغمبر اسلام کے مشن کوجڑ سے ختم کرسکیں۔ پھر ایک ہزار مسلح افرادکے ساتھ مکہ سے مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔
اس کے بعدراستہ میں بدر کے مقام پر 2ہجری میں دونوں فریقین کے درمیان مڈبھیڑ ہوئی۔ اس وقت اہل ایمان کو کامیابی حاصل ہوئی، اور ان کے ہاتھ تقریباً 70 مشرکین قید ہوگئے۔ ان کی رہائی کایہ فدیہ مقرر کیا گیا کہ وہ مدینہ کے بچوں کو لکھنا سکھادیں (فداءہم أن یعلموا أولاد الأنصار الکتابة) مسند احمد، حدیث نمبر2216 ۔
بدرمیں قیدکیے ہوئے مکہ کے یہ لوگ جنگی اصطلاح میں جنگی قیدی (prisoners of war) تھے۔ اس زمانے کےعام رواج کے مطابق پیغمبر اسلام یہ کرسکتے تھے کہ ان کو قتل کروادیتے۔ لیکن آپ نے انتقام سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ اس طرح آپ کے لیے ممکن ہوا کہ یہاں…
…کیجیے۔ آپ نے کہا: کیاتم نصیحت چاہتے ہو، آپ نے یہ بات غالباًتین بار کہی، آدمی نے کہا: ہاں، آپ نے کہا: بیٹھ جاؤ، جب تم کوئی کام کرناچاہو، تو تم اس کے نتیجہ پر غور کرو، اگر اس میں خیر ہو تو اس کوکرو، اور اگروہ برا ہے تو اس سے رک جاؤ۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تم جو کام کرو،خوب سوچ سمجھ کرکر و۔ پہلے اس کے ہر پہلو پر غور کرو۔ بے لاگ انداز میں غور کرکے یہ سمجھو کہ وہ کام تمھارے لیے باعتبار انجام اچھا ہے یا برا۔ صرف جذبات کے تحت کوئی کام شروع نہ کرو، بلکہ اپنے اقدام کے تمام پہلوؤں پر غور و فکر کرنے کے بعد اس کی طرف آگے بڑھو۔ تمھارا ہر کام گہری سوچ کا نتیجہ ہو، نہ کہ محض جذبات کا نتیجہ۔
کام کرنے کے اس طریقے کو منصوبہ بند کام کہا جاتا ہے۔ منصوبہ بند کام کا اصول یہ ہے کہ پہلے سوچنا، اور پھر کرنا۔ جو آدمی کرنے کے بعد سوچے، وہ ایک غیر دانش مند آدمی ہے۔ اور جو آدمی کرنے سے پہلے سوچے، وہ ایک دانش مند آدمی۔
ایک دانش مندانہ اصول
پیغمبر اسلام کی وفات 632 عیسوی میں ہوئی۔ آپ کے بعد اسلام کی تاریخ میں خلافت کا دور آیا۔ یہ دور تقریباً 33 سال چلا۔ آخر زمانے میں مسلمانوں میں باہمی قتال شروع ہوگیا۔ اس میں لوگ بڑی تعداد میں مارے گئے۔ اس کے بعد امیر معاویہ کا دور شروع ہوا، جو خلافت پر مبنی نہ تھا،بلکہ خاندانی حکومت (dynasty) کے طریقے پر مبنی تھا۔
خلافت کا طریقہ قرآن کی آیت وَأَمْرُہُمْ شُورَى بَیْنَہُمْ (42:38) کے اصول پر قائم تھا۔ یعنی لوگوں کے مشورے پر صاحب امر کا انتخاب۔ یہ عملا وہی طریقہ تھا جس کو موجودہ زمانے میں جمہوریت (democracy) کہا جاتا ہے۔ امیر معاویہ خود بھی ایک…
…البخاری، حدیث نمبر 3533)۔ یعنی کیا تم کو یہ بات عجیب نہیں معلوم ہوتی کہ اللہ مجھ سے قریش کے سب وشتم اور لعنت کو کس طرح دور کررہا ہے ۔ مجھے وہ مذمم کہہ کر شتم کرتے ہیں، مذمم کہہ کر وہ مجھ پر لعنت بھیجتے ہیں۔ حالانکہ میں تو محمد ہوں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ قریش کے لوگ اپنی بڑھی ہوئی مخالفت کی بنا پر اس کو پسند نہیں کرتے کہ وہ میرا اصل نام بولیں ، اور میرے خلاف جو کہنا چاہتے ہیں، وہ میرانام لے کرکہیں۔ انھوں نے مخالفت کے جوش میں بطور خود میرا نام محمدکے بجائے مذمم رکھ دیا، اور وہ مذمم کا نام بول کر میرا سب و شتم کرتے ہیں۔ یعنی وہ سب و شتم تو کرتے ہیں، لیکن جس شخص کی وہ سب و شتم کرتے ہیں، اس کا نام انھوں نے بطور خود مذمم رکھ دیا ہے۔ اس طرح ان کے اپنے کہنے کے مطابق ان کی بات کسی ایسے شخص پر پڑتی ہے جس کا نام مذمم ہو، وہ شخص جس کا نام محمد ہے اس پر ان کی بات پڑتی ہی نہیں۔
یہ اعلیٰ سوچ کی ایک انوکھی مثال ہے۔ پیغمبر اسلام چوں کہ مکمل طور پر مثبت سوچ پر قائم تھے۔ اس لیے انھوں نے ایک لطیف اسلوب میں قریش کے سب و شتم کو بے حقیقت کردیا۔ انھوں نے کہا کہ جب وہ میرا اصل نام لے کر مجھے کچھ نہیں کہتے تو وہ خود ہی اپنے…
ہر حال میں مثبت طرز فکر
پیغمبر اسلام نے قدیم مکہ میں اپنا مشن 610 عیسوی میں شروع کیا۔ اس وقت مکہ میں قبائلی کلچر (tribal culture) شدت کے ساتھ موجود تھا۔ وہاں کے لوگوں نے آپ کے ساتھ ہر قسم کا برا سلوک کیا۔ یہاں تک کہ تیرہ سال بعد آپ نے مجبور ہوکر اپنے وطن کو چھوڑ دیا، اور مکہ سے تقریبا 500 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود مدینہ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مقیم ہوگئے۔
یہ شدید ترین معنوں میں جلاوطنی کا کیس تھا۔ عام رواج یہ ہے کہ ایسے لوگ اپنے نئے وطن میں جاکر صرف ایک کام کرتے ہیں، اور وہ اپنے سابق ہم وطنوں کی برائیاں بیان کرنا۔ لیکن پیغمبر اسلام نے اس سے الگ ایک انتہائی طور پر مختلف طریقہ اختیار کیا۔ وہ…
…وہاں دوسرے قبائل کے ساتھ یہود کے قبائل بھی آباد تھے۔ اس وقت مدینہ کی آبادی میں یہود تقریباً نصف حصہ تھے۔ وہ مدینہ کی معاشیات میں غالب حیثیت رکھتے تھے۔ ایسی حالت میں یہود سے ٹکراؤ کا طریقہ آپ کے مشن کی راہ میں مستقل مسئلہ بن سکتا تھا۔
اس معاملے کے حل کے لیے آپ نے وہ اصول اختیار کیا جس کو قرآن میں تالیف قلب (التوبہ60:) کہا گیا ہے۔ یعنی یہود کے ساتھ فرینڈلی بیہیویر(friendly behaviour) کا طریقہ۔ اس مقصد کے لیے آپ آخری حد تک گئے۔ جیسا کہ معلوم ہے یہود کے لیے عباد ت کا ایک قبلہ تھا، اور وہ قبلہ بیت المقدس تھا۔ پیغمبر اسلام جب مکہ میں تھے تو آپ کا قبلہ کعبہ تھا، مگر مدینہ پہنچے تو آپ نے بیت المقدس کو اپنے اور اپنے اصحاب کی عبادت کا قبلہ بنا لیا۔ ایسا آپ نے یہود کی تالیف قلب کے لیے کیا۔ جیسا کہ قرآن کی سورہ البقرۃ کی آیت 143 کے تحت مختلف مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ یہود کی تالیف قلب کے لیے تھا، مثلا تفسیر الرازی (4/89)، و تفسیر النسفی(1/138)، وغیرہ۔ تالیف قلب کا مطلب ہے دل کو نرم کرنا ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مدینہ کے یہود سےقریبی تعلق جوڑتے ہوئے اپنا کام کرنا۔
یہ صرف یہود کا معاملہ نہیں۔ آپ نے اپنے مشن میں کبھی ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ آپ نے ہمیشہ یہ کیا کہ اپنےپڑوسی سے معتدل تعلقات رکھتے ہوئے اپنے مشن کا کام کرنا۔ آپ کا یہ طریقہ صرف عرب کے مشرکین کے ساتھ نہیں تھا، بلکہ عرب کی سرحد سے…
…آپ کے مشن کا کلی طور پر خاتمہ کردیں ۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے مکہ کے تمام قبائل کی مدد سے ایک بڑامنصوبہ بنایا، تاکہ وہ پیغمبر اسلام کے مشن کوجڑ سے ختم کرسکیں۔ پھر ایک ہزار مسلح افرادکے ساتھ مکہ سے مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔
اس کے بعدراستہ میں بدر کے مقام پر 2ہجری میں دونوں فریقین کے درمیان مڈبھیڑ ہوئی۔ اس وقت اہل ایمان کو کامیابی حاصل ہوئی، اور ان کے ہاتھ تقریباً 70 مشرکین قید ہوگئے۔ ان کی رہائی کایہ فدیہ مقرر کیا گیا کہ وہ مدینہ کے بچوں کو لکھنا سکھادیں (فداءہم أن یعلموا أولاد الأنصار الکتابة) مسند احمد، حدیث نمبر2216 ۔
بدرمیں قیدکیے ہوئے مکہ کے یہ لوگ جنگی اصطلاح میں جنگی قیدی (prisoners of war) تھے۔ اس زمانے کےعام رواج کے مطابق پیغمبر اسلام یہ کرسکتے تھے کہ ان کو قتل کروادیتے۔ لیکن آپ نے انتقام سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ اس طرح آپ کے لیے ممکن ہوا کہ یہاں…
…کیجیے۔ آپ نے کہا: کیاتم نصیحت چاہتے ہو، آپ نے یہ بات غالباًتین بار کہی، آدمی نے کہا: ہاں، آپ نے کہا: بیٹھ جاؤ، جب تم کوئی کام کرناچاہو، تو تم اس کے نتیجہ پر غور کرو، اگر اس میں خیر ہو تو اس کوکرو، اور اگروہ برا ہے تو اس سے رک جاؤ۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تم جو کام کرو،خوب سوچ سمجھ کرکر و۔ پہلے اس کے ہر پہلو پر غور کرو۔ بے لاگ انداز میں غور کرکے یہ سمجھو کہ وہ کام تمھارے لیے باعتبار انجام اچھا ہے یا برا۔ صرف جذبات کے تحت کوئی کام شروع نہ کرو، بلکہ اپنے اقدام کے تمام پہلوؤں پر غور و فکر کرنے کے بعد اس کی طرف آگے بڑھو۔ تمھارا ہر کام گہری سوچ کا نتیجہ ہو، نہ کہ محض جذبات کا نتیجہ۔
کام کرنے کے اس طریقے کو منصوبہ بند کام کہا جاتا ہے۔ منصوبہ بند کام کا اصول یہ ہے کہ پہلے سوچنا، اور پھر کرنا۔ جو آدمی کرنے کے بعد سوچے، وہ ایک غیر دانش مند آدمی ہے۔ اور جو آدمی کرنے سے پہلے سوچے، وہ ایک دانش مند آدمی۔
…بارے میں اس مثبت تجربے کے بعدنبوت کے تیرھویں سال آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے جائیں، اور از سر نو اپنے مشن کا آغاز کریں۔ اسی کا نام ری پلاننگ (replanning) ہے، اور ری پلاننگ پیغمبر اسلام کے طریقۂ کار کا ایک اہم جزء ہے۔
پیغمبر اسلام کا یہ طریقہ نہ تھا کہ اپنے عمل کا کوئی نتیجہ نکلے یا نہ نکلے بدستور اپنے عمل کو جاری رکھیں، اور جو لوگ بے نتیجہ کام میں مارے جائیں، ان کو شہید کا لقب دے کر اس بے نتیجہ کام کو گلوریفائی(glorify) کریں۔ پیغمبر اسلام کی ایک سنت ری پلاننگ ہے۔ پہلا منصوبہ اگر بے نتیجہ ثابت ہو تو اس کے بعد بھی اس منصوبے کو بدستور جاری رکھنا، وہ مکمل طور پر پیغمبر اسلام کی پالیسی کے خلاف تھا۔
تجربہ سے سبق لینا
روشن ہدایت
دینِ اسلام ہر اعتبار سے ایک واضح دین ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قد ترکتکم على البیضاء لیلہا کنہارہا، لا یزیغ عنہا بعدی إلا ہالک (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر43)۔ یعنی میں تمھارے پاس ایک روشن دین چھوڑ رہا ہوں، اس کی راتیں بھی اس کے دن کی طرح ہیں، میرے بعد کوئی اس سےدور نہیں ہوگا سوائے اس آدمی کے جو ہلاک ہونے والا ہے۔
یہاں یہ سوال ہے کہ جب دین اتنا واضح ہے تو اس میں اختلافات کیوں۔ قرآن کی تفسیر میں اختلاف، حدیث کی شرح میں اختلاف ، فقہی مسائل میں اختلاف، وغیرہ۔ رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ تم اس طرح نماز پڑھو، جس طرح مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ لیکن…
یہی حج کے دوسرے تمام مراسم کا حال ہے۔ حج کے تمام مراسم مختلف پہلوؤں سے ایک ہی نشانہ پر چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی ربانی مقناطیس ہے جو ’’لوہے‘‘ کے تمام ٹکڑوں کو ایک نقطہ پر کھینچتے چلا جارہا ہے۔
مختلف ملکوں کے یہ لوگ جب مقامِ حج کے قریب پہنچتے ہیں تو سب کے سب اپنا قومی لباس اتار دیتے ہیں اور سب کے سب ایک ہی مشترک لباس پہن لیتے ہیں جس کو احرام کہا جاتا ہے۔ احرام باندھنے کا مطلب یہ ہے کہ بغیر سلی ہوئی ایک سفید چادر نیچے تہمد کی طرح پہن لی جائے اور اسی طرح ایک سفید چادر اوپر سے جسم پر ڈال لی جائے۔ اس طرح لاکھوں انسان ایک ہی وضع اور ایک ہی رنگ کے لباس میں ملبوس ہو جاتے ہیں۔
یہ سارے لوگ مختلف مراسم ادا کرتے ہوئے بالآخر عرفات کے وسیع میدان میں اکھٹا ہوتے ہیں۔ اس وقت ایک عجیب منظر ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے انسانوں کے تمام فرق اچانک مٹ گیے ہوں۔ انسان اپنے تمام اختلافات کو کھو کر خدائی وحدت میں گم ہوگیے…
…میں اس کو اپنا مرکز بنایا۔ اس وقت سے اس کا نام مدینۃ النبی (نبی کا شہر) پڑ گیا۔ مدینہ اسی کااختصار ہے۔ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی مسجد ہے۔ یہاں آپ کی قبر ہے۔ یہاں آپ کی پیغمبرانہ زندگی کے نشانات بکھرے ہوئے ہیں۔
ان حالات میں حاجی جب مدینہ پہنچتے ہیں تو یہ ان کے لیے مزید اتحاد اور اجتماعیت کا عظیم سبق بن جاتا ہے۔ یہاں کی مسجد نبوی میں وہ اس یاد کو تازہ کرتے ہیں کہ ان کا رہنما صرف ایک ہے۔ وہ یہاں سے یہ احساس لے کر لوٹتے ہیں کہ ان کے اندر خواہ کتنے ہی جغرافی اور قومی فرق پائے جاتے ہوں، انہیں ایک ہی پیغمبر کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنا ہے۔ انہیں ایک مقدس ہستی کو اپنی زندگی کا رہنما بنانا ہے۔ وہ خواہ کتنے ہی زیادہ اور کتنے ہی مختلف ہوں، مگر ان کا خدا بھی ایک ہے اور ان کا پیغمبر بھی ایک۔
…صاحب بھی اپنی گاڑی روک کر اُتر گئے۔ اُس آدمی نے ذاکر صاحب کی طرف غصہ سے دیکھتے ہوئے کہا کہ ایڈیٹ(idiot) ۔ اس انگریزی لفظ کے معنیٰ ہوتے ہیں، احمق۔ ذاکر صاحب نے جوابی غصہ نہیں دکھایا۔ اُنہوں نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے نرمی سے کہا:
Sir, I am not Mr. Idiot, I am Zakir Husain.
جناب، میں مسٹر ایڈیٹ نہیں ہوں۔ میں ذاکر حسین ہوں۔ یہ سُن کر اُس آدمی کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا۔ ساری(sorry) کہہ کر وہ خاموشی کے ساتھ اپنی گاڑی پر بیٹھا اور آگے کے لیے روانہ ہوگیا۔
…لڑنی پڑے۔ دوسری صورت یہ تھی کہ وہ یہ سوچیں کہ مدینہ دعوت ِ اسلامی کا مرکز بن رہا ہے۔ وہاں پہنچ کر مجھے اس دعوتی مہم میں شریک ہونا ہے۔ اسلام کے اس قافلہ کے ساتھ مل کر مجھے چاہیے کہ میںاس تاریخی مہم کو اُس کی تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کروں۔
صہیب رومی نے محسوس کیا کہ یہ کم بہتر اور زیادہ بہتر کے درمیان انتخاب کا معاملہ ہے۔ اگر میں مال کے لیے ٹکراؤ کروں تو یہ کوئی عقلمندی نہ ہوگی۔ یہ مال کی خاطر مقصد کو قربان کرنے کے ہم معنٰی ہوگا۔ چنانچہ اُنہوں نے مقصد کو بچانے کی خاطر مال کو قربان کر دیا اور اُس سے دست بردار ہو کر مدینہ چلے گئے۔
اس طرح کے معاملات میں سوچنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے منطقی انصاف کا طریقہ، اور دوسرا ہے عملی حل کا طریقہ۔ منطقی انصاف کا مطلب یہ ہے کہ خالص فنّی اعتبار سے صحیح اور غلط کو معلوم کیا جائے، جیسا کہ قانونی عدالت میں ہوتا ہے۔ اور دوسرا ہے عملی…
…وہ پہلی بار تسخیر کا موضوع (object of investigation) بن گئی۔ یہ انسانی تاریخ میں ایک انقلابی تبدیلی کا معاملہ تھا۔ اس عمل کا آغاز رسول اور اصحابِ رسول کےذریعہ عرب میں ہوا۔ اور پھر ترقی کرتے ہوئے وہ مغرب (West) میں اپنی تکمیل تک پہنچا۔
فطرت کی پرستش کے بجائے فطرت کو تسخیر کرو— یہ اصول پہلی بار قرآن میں بتایا گیا۔ تسخیر کا مادہ قرآن میں 9 بار استعمال ہوا ہے۔ مگر دوسرے الفاظ میں قرآن میں بار بار یہ بات کہی گئی ہے کہ غور فکر کرکے حقائق فطرت کو دریافت کرو۔ اس طرح اسلام نے انسانی تاریخ میں پہلی بار سائنسی غور و فکر (scientific exploration)کا آغاز کیا۔ یہ عمل پہلے ساتویں صدی عیسوی میں عرب میں شروع ہوا۔ اس کے بعد بتدریج مغربی دنیا تک پہنچا۔
اس سائنسی عمل (scientific process) کا آغاز مسلمانوں نے کیا۔ وہ مکہ سے شروع ہوا۔ پھر وہ مدینہ اور دمشق پہنچا۔ پھر بغداد اور اندلس اس کا سینٹر بنے۔ پندرھویں صدی میں اندلس کی مسلم حکومت ختم ہونے کے بعد مسلم دنیا میں یہ پراسس عملاً موقوف…
…ہے، یہ تمام تر ایک فلکیاتی مظہر ہے۔وہ صرف اس لئے واقع ہوتا ہے کہ گردش کے دوران دو خلائی اجسام (celestial bodies) کے درمیان تیسرا جسم آجاتا ہے۔ اس کی بنا پر وہاں ایک آڑ قائم ہوجاتی ہے۔ اسی آڑ کی بنا پر پیش آنے والے واقعہ کا نام گرہن ہے۔
قدیم زمانے میں گرہن صرف ایک توہماتی (superstitious)واقعہ بنا ہوا تھا۔ انیسویں صدی عیسوی میں سائنسی مشاہدہ کے ذریعہ معلوم ہوا کہ یہ سادہ نوعیت کا ایک خلائی واقعہ ہے۔ اس واقعہ میں کوئی پُراسراریت شامل نہیں۔ گرہن کے موضوع پر موجودہ زمانے میں کثیر تعداد میں کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ چند کتابوں کے نام یہ ہیں:
Eclipses of the Sun and Moon (1937) by Sir F.W. Dyson
حدیبیہ کا منصوبہ
رسول اور اصحاب رسول نے نبوت کے تیرھویں سال مکہ کو چھوڑ دیا، اور مدینہ کو اپنا مرکز عمل بنا لیا۔ لیکن مکہ کےسرداروں کو یہ بات منظور نہ تھی۔ اب انھوں نے یہ کوشش شروع کی کہ مدینہ پر حملہ کرکے نبوت کے مشن کا خاتمہ کردے۔ اس کے نتیجے میں چند غزوات پیش آئے۔ مثلا ً غزوۂ بدر، غزوۂ احد، وغیرہ۔ ان حملوں کی وجہ سے پیغمبر اسلام کو یہ موقع نہیں مل رہا تھا کہ وہ پر امن حالات میں اپنے مشن کو جاری رکھیں۔
اس کے بعد پیغمبر اسلام نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ ہجرت کے چھٹے سال آپ نے یہ اعلان کیا کہ آپ عمر ہ کے لیے مکہ جائیں گے۔ ایک ہزار چار سو صحابی اس سفر میں آپ کے ساتھ شامل ہوگیے۔ یہ قافلہ جب حدیبیہ کے مقام پر پہنچا جو مدینہ اور مکہ کے تقریباً…
دانش مندی کی ضرورت
ایک حدیث مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں:الکلمة الحکمة ضالة المؤمن، فحیث وجدہا فہو أحق بہا (سنن الترمذی، حدیث نمبر2687)۔ یعنی حکمت کی بات مومن کی گم شدہ چیز ہے، وہ جہاں اس کو پائے اس کو لے لے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حکمت کی بات کوئی مذہبی عقیدے کی بات نہیں ۔ ہر انسان اس کو کہیں سے بھی لے سکتا ہے، اور اس کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ یہ تعلیم بہت زیادہ اہم ہے۔ اس سے ری پلاننگ کا دائرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی گروہ کے لیے ری پلاننگ کا وقت آئے تو وہ اپنے اور غیر میں کوئی فرق نہ کرے۔ وہ ہر حکمت کو خود اپنی چیز سمجھے۔ وہ ہر حکمت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے عمل کی ری پلاننگ کرے۔
ری پلاننگ کے اصول کو پیشگی طور پر متعین نہیں کیا جاسکتا۔ ری پلاننگ ہمیشہ بدلے ہوئے حالات میں کی جاتی ہے۔ اور بدلے ہوئے حالات کو سمجھنے کا تعلق عقیدہ سے نہیں ہے، بلکہ فہم و بصیرت سے ہے۔ ہر آدمی کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی بصیرت کو استعمال کرتے…
استعداد بڑھایے
الرسالہ مشن سے جو لوگ وابستہ ہیں، ان کو ایک کام یہ کرنا ہے کہ وہ دعوت کے اعتبار سے اپنی استعداد کو بڑھائیں۔ مشن سے وابستہ ہونے کے وقت ان کی جو استعداد تھی، اسی پر قانع نہ ہو جائیں۔ مثلاً عربی جاننے والے ہیں، عربی بولنے میں اپنی استعداد کو بڑھائیں، اور جو انگریزی جاننے والے ہیں ، وہ انگریزی بولنے میں اپنی استعداد کو بڑھائیں۔
اس کوشش کا فائدہ یہ ہوگا کہ ان کا دائرہ ربط (contact area) بڑھ جائے گا۔ وہ ملاقاتوں میں یا اجتماعات میں اپنی بات کو زیادہ موثر (effective) انداز میں پیش کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔ استعداد بڑھانا ، اپنی قوتِ کارکردگی کو بڑھانا ہے، جو کہ کسی…
…دلوں میں حمیت پیدا کی، جاہلیت کی حمیت، پھر اللہ نے اپنی طرف سے سکینت نازل فرمائی اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر، اور اللہ نے ان کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا اور وہ اس کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے۔ اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
While those who deny the truth made it a prestige issue [ in their hearts ], the bigotry of the days of ignorance, God sent His tranquility down on to His Messenger and believers and firmly established in them the principle of righteousness, for they were indeed better entitled to it and more worthy of it. God has full knowledge of all things.
صلح حدیبیہ کا معاملہ جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور میں پیش آیا، وہ ایک بے حد نازک معاملہ تھا۔ فریق ثانی نے اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر اس کو اپنے لیے عزت کا سوال بنا لیا۔ اس بنا پر وہ اس معاملے میں بے حد جذباتی ہوگیے۔…
اصلاح اور محاسبہ
ابو الدراء ایک انصاری صحابی ہیں۔ مدینہ میں پیدا ہوئے، اور 72 سال کی عمر میں اسکندریہ کے اندر 32 ھ میں ان کی وفات ہوئی۔ ان کا ایک قول اس طرح نقل کیا گیا ہے:لا یفقہ الرجل کل الفقہ حتى یمقت الناس فی جنب اللہ ثم یرجع إلى نفسہ فیکون لہا أشد مقتا (کنزالعمال، حدیث نمبر 29528)۔ یعنی کوئی آدمی اپنی سمجھ میں کامل نہیں ہوسکتا، حتی کہ اس کا یہ حال ہوجائے کہ وہ اللہ کے لیے دوسروں پرسخت ہو، پھر جب اپنی طرف توجہ کرے تو وہ اپنے لیے اس سے بھی زیادہ سخت ہو۔ دوسروں کا محاسبہ کرنا صرف اس کے لیے جائز ہے، جو خود اپنا محاسبہ اس سے بھی زیاد ہ سخت انداز میںکرتا ہو۔ جو شخص مومن ہوتا ہے، وہ مصلح بھی ہوتا ہے۔ یعنی اپنی اصلاح کے ساتھ دوسروں کی اصلاح کا طالب ہونا۔ جب وہ دوسروں کے اندر کوئی کمی کی بات دیکھتا ہے، تو اپنے احساس کے تقاضے کے تحت وہ مجبور ہوتا ہے کہ وہ نہایت واضح انداز میں اس کی نکیر کرے۔
اس طرح کی نکیر بلاشبہ ایک ثواب کا کام ہے۔ لیکن جو آدمی سچے جذبے کے ساتھ دوسروں کے بارے میں حساس ہو، وہ یقینا اپنے بارے میں شدید حساس ہوتا ہے۔ اس کی یہ حساسیت ایک طرف دوسروں کے بارے میں اس کو ناقد بناتی ہے۔ دوسری طرف یہی حساسیت اس کے اندر…
کنڈیشننگ کا مسئلہ
پیغمبر اسلام کی پیدائش 570 ء میں مکہ میں ہوئی۔ آپ نے نبوت کا مشن 610ء میں شروع کیا۔ 632ء میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی۔ وفات سے کچھ ماہ پہلے، آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اس وقت کے اہل اسلام کو عمومی خطاب کیا، جو بالواسطہ طور پر پوری امت مسلمہ سے خطاب کے ہم معنی تھا۔اس خطاب کے بارے میںایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے :أن رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم خطب الناس یوم النحر فقال:یا أیہا الناس أی یوم ہذا؟، قالوا:یوم حرام، قال:فأی بلد ہذا؟، قالوا:بلد حرام، قال:فأی شہر ہذا؟، قالوا:شہر حرام ، قال:فإن دماءکم وأموالکم وأعراضکم علیکم حرام، کحرمة یومکم ہذا، فی بلدکم ہذا، فی شہرکم ہذا، فأعادہا مرارا، ثم رفع رأسہ فقال:اللہم ہل بلغت، اللہم ہل بلغت - قال ابن عباس :فوالذی نفسی بیدہ، إنہا لوصیتہ إلى أمتہ، فلیبلغ الشاہد الغائب، لا ترجعوا بعدی کفارا، یضرب بعضکم رقاب بعض (صحیح البخاری، حدیث نمبر1739)۔
عبد اللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کے دن خطبہ دیا۔ آپ نے پوچھاکہ اے لوگو ، یہ کون سا دن ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا یہ یوم حرام ہے، آپ نے پوچھا کہ یہ کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا یہ شہر حرام ہے،…
…یہاں تک کہ بعد کے زمانے میں مکہ کےسرداروں نے کعبہ میں بتوں کو رکھنا شروع کردیا، جن کی تعداد بڑھتے بڑھتے تقریباً تین سو ساٹھ ہوگئی۔ پیغمبر اسلام کے لیے یہ منظر بے حد تکلیف دہ تھا۔ لیکن آپ نے اس معاملے میں مثبت (positive)طریقہ اختیار کیا۔
آپ نے دیکھا کہ ان بتوں کی وجہ سے وہاں روزانہ ایک مجمع ہوتا ہے۔ سارے عرب سے ان بتوں کے پرستار کعبہ کے پاس اکٹھا ہوتے ہیں۔ آپ نے ان پرستاروں سے ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ آپ نے اس موقعہ پر اس طریقے کو اختیار کیا ، جس کوآج کل کی زبان میں آؤ ٹ سورسنگ کہا جاتا ہے۔ یہ مجمع تمام تر غیر خدا پرستوں کا مجمع ہوتا تھا۔ آپ نے ان لوگوں کو مدعو کا درجہ دیا۔ اور ان کو اپنا آڈینس (audience) بنا لیا۔ آپ روزانہ وہاں جاتے اور ان کو قرآن پڑھ کر سناتے۔ چناں چہ سیرت کی کتابوں میں آتا ہے :وعرض علیہم الإسلام، وتلا علیہم القرآن(سیرۃ ابن ہشام، 1/428)۔
ری پلاننگ (re-planning)
حضرت عائشہ کا نکاح
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا نکاح حضرت خدیجہ سے ہوا۔ خدیجہ مکہ کی ایک بااثر خاتون تھیں۔ اس بنا پر اس نکا ح سے پیغمبر اسلام کو مکہ میں ایک مضبوط سماجی بنیاد (social base) حاصل ہوگئی۔ مکہ میں یہ سماجی بنیاد آپ کو تقریبا 25 سال حاصل رہی۔ آپ ایک صاحب مشن تھے، اوراپنے مشن کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے ضروری ہے کہ صاحب مشن کو مضبوط سماجی بنیاد حاصل ہو۔
حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد پیغمبر اسلام کا دوسرا نکاح حضرت عائشہ سے ہوا۔ یہ نکاح مکی دور کے آخری زمانے میں ہوا، اور ہجرت کے بعد مدینہ میں ان کی رخصتی ہوئی۔ اس وقت عائشہ کی عمر نو سال تھی، اور پیغمبر اسلام کی عمر 53سال۔ عمر کے اس فرق کو لے…
…عربی کے ظہور کے بعد انبیاء کی آمد کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ مگر خالق کے تخلیقی
نقشے کے مطابق، انسان پھر بھی پیدا ہوکر زمین پر آباد ہورہے تھے۔ اب یہ سوال تھا کہ
بعد کو پیدا ہونے والے انسانوں تک خدائی رہنمائی کی نمائندگی کون کرے۔
ساتویں صدی عیسوی میں ختم نبوت سے پہلے خدا کی طرف سے اس رہنمائی کی ذمہ داری پیغمبروں
نے ادا کی۔ اس اعتبار سے تمام پیغمبر امت وسط (middle ummah)کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان
کے ایک طرف اللہ رب العالمین تھا اور ان کے دوسری طرف تمام انسان۔ انھوں نے اس رہنمائی
کو اللہ سے لیا اور پورے معنوں میں ناصح اور امین (الاعراف68:) بن کر اس کو انسانوں
تک پہنچایا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی میں مدینہ میں ہوئی۔ آپ اللہ کے
آخری رسول تھے۔ آپ نے اپنے بعد ہدایت کے دو مستند ذریعے (authentic sources) چھوڑے،
ایک قرآن اور دوسرا سنت رسول۔ اب کوئی پیغمبر دنیا میں آنے…
دورِ تائید
قرآن میں ایک حکم پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ان الفاظ میں دیا گیا ہے: وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہ (8:39)۔ یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہوجائے۔غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں قتال کا لفظ معروف جنگ کے معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ انتہائی جد و جہد (utmost struggle) کے معنی میں ہے۔ چوں کہ آپ کی زندگی میں عملا جو کچھ پیش آیا وہ یہی تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام نے اپنی پوری زندگی میںکبھی کوئی کامل جنگ (full-fledged war) نہیں کی۔ آپ کے مخالف گروپ نے کئی بار آپ پر حملہ کرکے آپ کو جنگ میں الجھانے کی کوشش کی۔ مگر آپ نے ہمیشہ یہ کیا کہ خصوصی تدبیر کے ذریعہ یا تو جنگ کو عملا ًہونے نہیں دیا، یا اس کو جنگ کے بجائے جھڑپ (skirmish) بنا دیا۔ اس معاملے میں آپ کی زندگی مذکورہ قرآنی آیت کی عملی تفسیر ہے۔
آپ کی تاریخ بتاتی ہے کہ مکہ میں آپ کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا، لیکن آپ نے مکہ سے ہجرت کرکےقتل و قتال کو عملا ناممکن بنا دیا۔ غزوۂ احزاب کے موقع پرآپ کے مخالفین نے بارہ ہزار کے لشکر کے ساتھ مدینہ پر حملہ کیا۔ مگر آپ نے اپنے اور فریق…
فیصلہ کی بنیاد
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ربیع الاول 10 ھ کو مدینہ میں ہوئی۔ وفات سے چند مہینہ پہلے 9 ھ میں آپ نے مکہ جاکر حج ادا فرمایا۔ اس موقع پر آپ نے اپنی امت کو آخری ہدایت دیتے ہوئے فرمایا تھا:ترکت فیکم أمرین، لن تضلوا ما تمسکتم بہما: کتاب اللہ , وسنة نبیہ (موطا الامام مالک، حدیث نمبر1874) ۔یعنی میں نے تمھارے درمیان دو امر چھوڑے ہیں، تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے، جب تک تم ان دونوں کو پکڑے رہوگے، اللہ کی کتاب اور اللہ کے نبی کی سنت۔
ملا علی قاری نے مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں امر کا مطلب بتایا ہے حَکَم (بیروت، 2002،1/269 )۔ حکم کا مطلب ہے فیصلہ کرنے والا۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ امر سے مراد معیار (criterion) ہے۔ بعد کے زمانے میں جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود موجود نہ ہوں گے، اس وقت امت کو یہ کرنا ہے کہ جب بھی کوئی مسئلہ پیش آئے تو وہ قرآن اور سنت میں اس مسئلے کا جواب تلاش کرے، اور جو جواب قرآن و سنت میں ملے ، اس کو کسی عذر کے بغیر قبول کرلے۔ مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ جب کوئی گروہ ان کو اپنا دشمن نظر آئے تو فوراً اس کے خلاف لڑنا شروع کردیں۔ بلکہ انھیں اس کا جواب قرآن و سنت میں تلاش کرنا چاہیے۔ اگر وہ ایسا کریں تو انھیں قرآن میں اس کی واضح رہنمائی ملے گی۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک رہنما آیت یہ ہے: وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ (41:34)۔ یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
اس آیت کے مطابق، کوئی گروہ مسلمانوں کا دشمن نہیں ہے۔ اس کے برعکس، پیدائشی طور پر ہر گروہ مسلمانوں کے لیے امکانی دوست کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے اس معاملے میں مسلمانوں کی منصوبہ بندی یہ ہونا چاہیے کہ وہ بالقوۃ (potential) دوست کو بالفعل (actual) دوست بنائے۔
پیغمبر اور اس کی تاریخ
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن توحید کا مشن تھا۔ آپ اپنی پوری عمر اسی مشن کے لیے پُرامن طور پر کام کرتے رہے۔ توحید (oneness of God) کا عقیدہ، اسلام میں کلیدی عقیدے کی حیثیت رکھتا ہے۔توحید گویا اسلام کے درخت کا بیج (seed) ہے۔ جس آدمی کو توحید کی معرفت ہوجائے اس آدمی کی پوری زندگی صبغۃ اللہ (البقرۃ : 138)کی عملی تصویر بن جائے گی۔
پیغمبر ِ اسلام نے 23 سال تک اپنے مشن کے لیے کام کیا، تقریبا نصف حصہ مکہ میں اور بقیہ نصف مدینہ میں۔ اس مدت میں مختلف قسم کے تاریخی واقعات پیش آئے۔ یہ تاریخی واقعات اسلام کی آئڈیالوجی کا حصہ نہ تھے، بلکہ وہ زمانی سبب (age factor) کی بنا…
فیصلہ کی بنیاد
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ربیع الاول 10 ھ کو مدینہ میں ہوئی۔ وفات سے چند مہینہ پہلے 9 ھ میں آپ نے حج ادا فرمایا۔ اس موقع پر آپ نے امت کو ہدایت دیتے ہوئے فرمایا تھا:ترکت فیکم أمرین، لن تضلوا ما تمسکتم بہما:کتاب اللہ وسنة نبیہ (موطا امام مالک، حدیث نمبر1874) ۔یعنی میں نے تمھارے درمیان دو امر چھوڑے ہیں، تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے، جب تک تم ان دونوں کو پکڑے رہوگے، اللہ کی کتاب اور اللہ کے نبی کی سنت۔ملا علی قاری نے امر کا مطلب بتایا ہے حَکَم (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح ، بیروت، 2002،1/269)۔ یعنی فیصلہ کرنے والا۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ امر سے مراد معیار (criterion) ہے۔ بعد کے زمانے میں جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود موجود نہ ہوں گے، اس وقت امت کو یہ کرنا ہے کہ جب بھی کوئی مسئلہ پیش آئے تو وہ قرآن اور سنت میں اس مسئلے کا جواب تلاش کرے، اور جو جواب قرآن و سنت میں ملے ، اس کو کسی عذر کے بغیر قبول کرلے۔
مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ جب کوئی گروہ ان کو اپنا دشمن نظر آئے تو فواً اس کے خلاف لڑنا شروع کردے۔ بلکہ انھیں اس کا جواب قرآن و سنت میں تلاش کرنا چاہیے۔ اگر وہ ایسا کریں تو انھیں قرآن میں اس کی واضح رہنمائی ملے گی۔ اس سلسلے میں…
اتباع رسول
ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے:فوالذی نفسی بیدہ، لا یؤمن أحدکم حتى أکون أحب إلیہ من والدہ وولدہ وزاد فی روایۃ:والناس أجمعین(صحیح البخاری، حدیث نمبر14-15) یعنی اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتایہاں تک کہ میں اس کے لیے سب سے زیادہ محبوب بن جاؤں،اس کے والد سے اور اس کی اولاد سے۔ ایک اور روایت میں اضافہ ہے:اور تمام انسانوں سے ۔
اس حدیث میں محبت رسول سے مراد کیا ہے۔ اس کی وضاحت قرآن کی ایک آیت سے ہوتی ہے۔ وہ آیت یہ ہے:قُلْ إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّہَ فَاتَّبِعُونِی یُحْبِبْکُمُ اللَّہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَاللَّہُ غَفُورٌ رَحِیمٌ (3:31)۔ قرآن…
انسان کی تلاش
قرآن (سورۃ العصر)کے مطابق، تاریخ گواہ ہے کہ انسان گھاٹے میں ہے۔ یعنی انسان ہمیشہ احساسِ محرومی (sense of loss) میں جیتا ہے۔ اس معاملے میں کسی انسان کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔ منکرینِ خدااس واقعے کو منفی معنی میں لیتے ہیں۔ وہ اس کوپرابلم آف ایوِل (problem of evil)کہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی قادرِ مطلق خدا ہے تو موجودہ دنیا میں اس قسم کی برائیاں (evils) کیوں۔
یہ زاویۂ نظر (angle of vision) میں فرق کا معاملہ ہے۔ یہ لوگ انسانی تاریخ کو اپنے خود ساختہ زاویۂ نظر (self-styled angle of vision) سے دیکھتے ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ اس واقعے کو خالق کے اپنے تخلیقی نقشہ (creation plan)کی روشنی میں دیکھا جائے۔…
…وسلم اپنے رفیق خاص ابوبکر صدیق کے ساتھ مدینہ میں داخل ہوئے تو اہل مدینہ نے یہ کہہ کر استقبال کیا: اُدخلا آمنَین مطاعَین (مسند احمد ، حدیث نمبر12234)۔ یعنی آپ دونوں مدینہ میں داخل ہوں امن کے ساتھ ، ہم آپ دونوں کی اطاعت قبول کرتے ہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ عملاً ایسا ہی ہوا۔ پر امن اسلام جس کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں داخل ہوئے تھے، وہ اہل مدینہ کے لیے واقعۃً ایک متبادل (alternative) بن گیا۔ اس کے بعد اہل مدینہ نے وہ عظیم کا م انجام دیا، جس کی بنا پر وہ انصاراللہ (اللہ کے مددگار) کہے گیے۔
پاکستان کی مثال
نئی منصوبہ بندی
نئی منصوبہ بندی (re-planning) ہمیشہ یک طرفہ بنیاد (unilateral base)پر کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے نئی منصوبہ بندی عملاً ایک قربانی (sacrifice) کا عمل بن جاتا ہے۔ نئی منصوبہ بندی کے لیے انسان کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ ردّ عمل (reaction) سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ کسی چیز کو وقار (prestige) کا مسئلہ نہ بنائے۔ وہ پیچھے ہٹنے کو اسی طرح قبول کرے جس طرح وہ اقدام کو قبول کئے ہوئے تھا۔ وہ کامل طورپر غیر جانب دارانہ انداز سے سوچے اور حقیقتِ واقعہ کی بنیاد پر ایک فیصلہ لے۔ وہ ہار اور جیت کی نفسیات سے اوپر اٹھ کر اپنی راہِ عمل متعین کرے۔ یہی نئی منصوبہ بندی ہے اور اس قسم کی منصوبہ بندی قربانی کے بغیر نہیں کی جاسکتی۔پیغمبر اسلام کے زمانے میں حدیبیہ پالیسی اسی قسم کی ایک نئی منصوبہ بندی تھی۔ مگر مسلمان بعد کے زمانے میں اپنے رسول کے اس اسوہ کو بھول گئے۔حدیبیہ پالیسی کا مقصد یہ تھا کہ نئے حالات کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنانا۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں اہل ایمان کو نئے حالات سے سابقہ پیش آیا۔ اب ضرورت تھی کہ اپنی جدو جہد کو زیادہ موثر اور نتیجہ خیز بنانے کےلیے نیا نقشہ کار بنایا جائے۔
نیا نقشہ کار بنانے کے سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ صورت حال کو خالص غیر جذباتی انداز میں دیکھا جائے۔’’دشمن‘‘ اور’’سازش‘‘ جیسی اصطلاحات کو ترک کرکے از سر نو غور کیا جائے۔ اور تمام لوگوں کو انسان سمجھ کر ان سے معاملہ کیا جائے۔ اس قسم کا غیر…
مشن اور تاریخ
پیغمبرِ اسلام کا ایک مشن تھا۔ اس مشن کو ایک لفظ میں توحید کی آئڈیالوجی کہہ سکتے ہیں۔ یعنی انسان کو اس کے خدا سے متعارف کرنا۔ خالق اور مخلوق کے درمیان وہ تعلق قائم کرنا جو حقیقتِ واقعہ کی نسبت سے مطلوب ہے۔یہی توحید ہے، اور کسی انسان کی ابدی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اس توحید پر قائم کرے، وہ ایک سچا موحد بن جائے۔
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنے مشن کا آغاز کیا۔ 632 عیسوی میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوگئی۔ 23 سا ل کی اس پوری مدت میں آپ مسلسل طور پر اپنے مشن کی اشاعت میں مشغول رہے۔ 23 سال کی اس مدت میں جو واقعات پیش…
شیطان سے بچیے
شیطان کس طرح انسان کو بہکاتا ہے۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ کسی معمولی بات کو زیادہ بڑھا چڑھا کر انسان کو دکھانا۔ نظر انداز کرنے والی بات کو اس طرح سنگین صورت میں پیش کرنا کہ انسان کو غصہ آجائے، اور وہ ایسا کام کرنے لگے جو اس کو نہیں کرنا چاہیے۔ اس کی ایک مثال خلیفۂ دوم عمر بن خطاب کا واقعہ ہے۔ عمر بن خطاب بلاشبہ ایک عادل خلیفہ تھے۔ لیکن مدینہ کے ایک شخص ابولولوفیروز کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک معمولی واقعہ تھا، مگر شیطان نے ابولولو کو اتنا زیادہ بھڑکایا کہ اس نے سازش کرکے عمر بن خطاب کو قتل کردیا۔
انسان کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں بے حد چوکنا رہے۔ جب بھی کوئی منفی بات اس کے ذہن میں آئے تو وہ اس کو شیطان کی بات سمجھے ۔وہ ایسی بات کو فوراً اپنے ذہن سے نکال دے۔ وہ اس بات کا تجزیہ کرکے اس کو اپنے ذہن میں غیر موثر بنادے۔
مواقع کا استعمال
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے بعد تیرہ سال تک مکہ میں رہے۔ اس کے بعد آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ مدینہ کے لوگوں نے بہت جلد آپ کو اپنا قائد تسلیم کرلیا۔ اس کا راز یہ تھا کہ آپ کی ہجرت سے تقریبا پانچ سال پہلے مدینہ (یثرب) کے دو قبائل ، اوس اور خزرج کے درمیان جنگ ہوئی۔ جو جنگ بعاث کے نام سے مشہور ہے۔ اس جنگ میں دونوں قبیلوں کے بڑے بڑےسردار مارے گئے۔ اس سلسلے میں حضرت عائشہ کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: کان یوم بعاث، یوما قَدمہ اللہ لرسولہ(صحیح البخاری، حدیث نمبر3777) ۔ یعنی آپ کی ہجرت سے پہلے جنگ بعاث کا ہونا، یہ اللہ کی طرف سے آپ کی ایک مدد تھی۔
اس جملہ کی شرح کرتے ہوئےشارحین نے لکھا ہے : لو کان صنادیدہم أحیاء لما انقادوا لرسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم حبا للریاسة (عمدۃ القاری للعینی، بیروت، 17/64۔ الکواکب الدراری فی شرح صحیح البخاری للکرمانی، بیروت ، 1981، 15/139)۔یعنی اگر ان…
بیمار ی سے تطہیر
حدیث میں آیا ہے کہ مدینہ میں ایک شخص بیمار ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی عیادت کے لیے اُس کے گھر گئے۔ وہاں پہنچ کر آپ نے کہا کہ: لا بأس، طہور إن شاء اللہ (صحیح البخاری، کتاب المرضٰی، باب ما یقال للمریض) یعنی کوئی حرج نہیں، انشاء اللہ یہ پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ جب کوئی شخص بیمار ہوتا ہے تو پُر اسرار طورپر اس کے گناہ دھل جاتے ہیں، وہ خود بخود ایک پاکیزہ انسان بن جاتا ہے۔ یہ در اصل ایک معلوم شعوری واقعہ ہے جو ایک سچے مومن کے ساتھ پیش آتا ہے۔کوئی آدمی اگر بیمار نہ ہو، اُس کا…
…ہوسکا۔ چنانچہ اب یہ صورتِ حال ہے کہ حضرت عائشہ کی یہ قیمتی روایت، حدیث کی کتابوں میں موجود ہے، لیکن امت اُس کے عملی انطباق سے بالکل بے خبر ہے۔ خاص طورپر جدید دور میں امت کی زبوں حالی کا سب سے بڑا سبب سنتِ رسول سے لوگوں کی یہی بے خبری ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم، ابدی طورپر خدا کے دین کا عملی نمونہ ہیں۔ دوسری تمام چیزوں کی طرح، جہاد بھی وہی جہاد ہے جس کا نمونہ پیغمبر اسلام کی زندگی میں ملے۔ جہاد کاجو نمونہ پیغمبر اسلام کی زندگی میں موجود نہ ہو، وہ یقینی طورپر جہاد نہیںہے بلکہ وہ کوئی اور چیز ہے، خواہ اُس کو اسلامی جہاد کا نام دے دیا جائے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تتمنّوا لقاء العدوّ، واسئلوا اللہ العافیۃ (صحیح البخاری، کتاب الجہاد) یعنی تم دشمن سے مڈ بھیڑ کی تمنّا نہ کرو، بلکہ خدا سے عافیت مانگو:
…کیا۔ آپ نے مسلح ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ دیا اور پُرامن ہجرت کا طریقہ اختیار کرکے آپ مدینہ چلے گیے۔ اگر چہ ظاہر پسندوں کی نظر میں یہ کوئی باعزت طریقہ نہ تھا۔ چنانچہ سیکولر مؤرخین نے اِس واقعے کو ہجرت کے بجائے فرار (flight) کا نام دیا ہے۔
اِسی طرح کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلحِ حدیبیہ کہاجاتا ہے۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ چھوڑ کر مدینہ آگیے تو آپ کو یہ موقع ملا کہ آپ دعوتِ توحید کا کام زیادہ بڑے پیمانے پر انجام دے سکیں۔ یہ بات مکہ کے سرداروں کو پسند نہیں آئی۔ انھوںنے آپ کے خلاف باقاعدہ حملہ شروع کردیا۔ اُس وقت آپ نے مکہ کے سرداروں سے گفت و شنید (negotiation) کا سلسلہ شروع کیا۔ اِس گفت و شنید کا مقصد یہ تھا کہ آپ اور مکہ والوں کے درمیان امن کا سمجھوتہ ہوجائے۔ یہ گفتگو، حدیبیہ کے مقام پر دو ہفتے تک جاری رہی۔
اِس گفت وشنید کے دوران یہ واضح ہوا کہ فریقِ ثانی اپنی یک طرفہ شرطوں پر اصرار کررہا ہے۔ وہ لوگ اِس معاملے میں کسی بھی طرح جھکنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ آخر کار، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے سردارانِ قریش کی یک طرفہ شرطوں کو مان لیا،…
آسان فارمولا
مولانا سید سلیمان ندوی (وفات1953) ایک مشہور عالم تھے۔ ان کو کئی قسم کی مصیبتیں پیش آئیں۔ اسی پریشانی کی حالت میں پاکستان میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اپنے آخری زمانے میں انھوں نے کسی سے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
ہم ایسے رہے یا کہ ویسے رہے وہاں دیکھنا ہے کہ کیسے رہے
نیت، بصیرت
اسلام میں نیت کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ لیکن صرف نیت کافی نہیں۔ ایک آدمی کے اندر اچھی نیت (good intention) موجود ہو تو وہ بلاشبہ انفرادی زندگی کے اعتبار سےایک کامیاب انسان بن سکتا ہے۔ لیکن جہاں تک اجتماعی زندگی کا سوال ہے۔ اس کی کامیابی کے لیے ایک اور چیز لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہ بصیرت (wisdom) ہے۔بصیرت کے بغیر کوئی شخص اجتماعی زندگی کے امتحان میں پورا نہیں اترسکتا۔ خواہ وہ نیت کے اعتبار سے کتنا ہی اچھا انسان ہو۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ بحران کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اجتماعی زندگی میں وہی شخص کامیاب ہوسکتا ہے جس کے اندر بحران کو مینیج کرنے کی صلاحیت (art of crisis management) پائی جاتی ہو۔ اور یہ صفت صرف اسی شخص کے اند رپائی جاتی ہے جو ایک صاحبِ بصیرت انسان ہو۔
اسلام کے ابتدائی دور میں دونوں قسم کی مثالیں موجود ہیں۔ ایک مثال خالد بن ولید کی ہے۔ وہ اسلامی فوج کے سردار تھے۔ خلیفۂ دوم عمر کے زمانے میں ان کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو عام انسان کو بہت زیادہ برہم کرسکتا ہے۔ لیکن حضرت خالد بن…
دین کا ضروری ڈھانچہ
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: إن الدین لیأرِزُ إلى الحجاز کما تأرِز الحیة إلى جحرہا (سنن الترمذی، حدیث نمبر2630)۔ یعنی دین حجاز میں سمٹ آئے گا، جس طرح سانپ اپنے بل میں سمٹ آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فتنہ کے دور میں بھی دین حجاز میں زندہ رہےگا۔
حجاز وہ جغرافی علاقہ ہے جہاں پیغمبرِ اسلام صلى اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، جہاں حر م مکہ اور حرمِ مدینہ واقع ہیں، جہاں اسلام کی تاریخ بنی، جہاں ابراہیم اور اسماعیل اور اس کے بعد رسول اور اصحابِ رسول کی روایات قائم ہوئیں، جو اسلام کی عالمی…
امن ایک اقدام
اسلام میں جنگ، دفاع کا اشو (issue of defence) ہے۔ اور امن، اقدام کا اشو (issue of advancement) ہے۔ اسلام میں اہل ایمان کو اجازت نہیں کہ وہ اپنی طرف سے جنگ چھیڑیں ۔ البتہ جہاں تک امن کا تعلق ہے ، اہل ایمان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اسلام کی اشاعت کے لیے پرامن اقدام کا منصوبہ بنائیں۔ اسلام کا یہ اصول فطرت کے قانون پر مبنی ہے۔
فطرت کے قانون کے مطابق، جنگ کے ذریعہ کسی مثبت نتیجہ کا حصول ممکن نہیں۔ کیوں کہ جنگ سے کسی بات کا فیصلہ نہیں ہوتا، نہ ہارنے کی صورت میںاور نہ جیتنے کی صورت میں۔ جنگ میں اگر فتح حاصل ہو، تب بھی ہارنے والے فریق کے دل میں انتقام کا جذبہ بھڑک…
منفی سوچ اسلام میں نہیں
ایک قوم کے اندر دوسری قوم کے خلاف منفی جذبات اُس وقت پیدا ہوتے ہیں، جب کہ پہلی قوم اپنی کسی مصیبت کا ذمّے دار دوسری قوم کو سمجھ لے۔ مگر اسلام میں اس قسم کی منفی سوچ کی قطعاً گنجایش نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خدا نے قرآن میں حتمی طور پر اعلان کیا ہے کہ جو بھی مصیبت تمہارے اوپر آتی ہے وہ صرف تمہارے اپنے ہی کیے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ (الشوری30:) اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی تعلیم کے مطابق ، کوئی مصیبت پیش آنے پر صرف یہ کرنا ہے کہ ذاتی احتساب (self-introspection) کر کے اپنی جانب کی کوتاہی کو معلوم کیا جائے جو کہ اصل وجہ ہے۔ اور پھر اس کو درست کیا جائے۔ اِس کے برعکس، اپنی مصیبت کا ذمے دار کسی دوسرے کو قرار دے کر اس کے خلاف نفرت اور انتقام میں مبتلا ہونا، اسلام میں سرے سے جائز ہی نہیں۔
پیغمبرِاسلام کی حدیثوں میں بھی یہ حقیقت مختلف انداز سے بیاں ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں ایک حدیث یہ ہے: لازلتم منصورین علیٰ أعدائکم مادمتم متمسّکین بسنّتی،فان خرجتم عن سنتی سلّط ﷲ علیکم من لایخافکم ولایرحکم، حتیّ تعودوا الیٰ سنّتی (صحیح مسلم)…
…ہم کیوں خاموش رہیں۔ ہم اعلان کے ساتھ کھُلے طور پر اپنا کام کریں گے۔ یہ سُن کر پیغمبرِاسلام نے فرمایا: یا عمر إ نا قلیل، قد رأیت ما لقینا (سیرت ابنِ کثیر، جلد1، صفحہ 439)۔ یعنی اے عمر،ہم تھوڑے ہیں، ہمارے ساتھ جو پیش آیا وہ تم نے دیکھ لیا۔
دھیرے دھیرے پیغمبرِاسلام کا مشن پھیلنے لگا۔ آپ کے ساتھیوں کی تعداد بڑھتی رہی۔ پھر وہ وقت آیا جب کہ مدینہ سے 73آدمی آکر آپ سے ملے، اور بتایا کہ ہم آپ کے مشن میں آپ کے ساتھی ہو چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب آپ مکّہ والوں کی زیادتی کو اور زیادہ برداشت نہ کیجیے۔ ہم کو اجازت دیجیے کہ ہم مکّہ والوں کے خلاف جہاد کریں۔ پیغمبر ِاسلام نے فرمایا: اصبروا، فإنی لم اُومر بالقتال(المواہب اللدنیة، 1/199)یعنی تم صبر کرو،کیوں کہ مجھے لڑائی کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔
پیغمبرِاسلام کی یہ روش بتاتی ہے کہ وہ ہمیشہ عملی نتیجے کو سامنے رکھتے تھے۔ اُن کا یہ ماننا تھا کہ اقدام کو مثبت نتیجے کا حامل ہونا چاہیے، ایسا اقدام جو کائونٹر پروڈکٹیو ـ(counterproductive) ثابت ہو، وہ کوئی اقدام نہیں۔ آپ نتیجہ خیز…
…کو ہر تدبیر اختیار کرنا جائز ہے۔ شرط اگر ہے تو صرف یہ کہ مومن کی نیت کسی ذاتی مفاد کو حاصل کرنا نہ ہو بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہو کہ مدعو کے دل میں اسلام کے لیے نرم گوشہ (soft corner) پیدا ہو، اور وہ کھلے ذہن کے ساتھ اسلام کا مطالعہ کرے۔
پیغمبر اسلام کی سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ہر ممکن طریقے سے مدعو کی تالیف قلب کرنے کی کوشش کی۔ مثلا مکی دور میں کعبہ کے اندر بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کرکے لوگوں کو اسلام کا پیغام پہنچانا، کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا بغیر احتجاج کیے ہوئےجب کہ کعبہ کے اندر 360 بت رکھے ہوئے تھے، غزوہ حنین میں آپ کو بڑی تعداد میں مالِ غنیمت حاصل ہوا تھا، آپ نے اس کی بڑی مقدار ان لوگوں کو دے دی جنھوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ ایسا آپ نے ان لوگوں کی تالیف قلب کے لیے کیا تھا۔
تالیف قلب کا ایک واقعہ وہ ہے جو حدیبیہ معاہدہ کی بات چیت کے دورا ن پیش آیا۔ حدیبیہ معاہدہ کی بات چیت تقریبا دو ہفتہ تک جاری رہی تھی۔ اس مدت میں تالیف کے مختلف واقعات پیش آئے۔ ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ آپ کو یہ معلوم ہوا کہ قبیلہ بنی…
شیطان اور فرشتہ کے درمیان
قرآن کے مطابق، ہر انسان ہر وقت دو طاقتوں کے درمیان ہوتاہے— فرشتہ اور شیطان۔ ہر موقعے پر فرشتہ اور شیطان دونوں متحرک ہوجاتے ہیں۔فرشتہ کے لیے انسان کے اندر داخلے کا راستہ (entry point) اس کا ضمیر (conscience) ہے۔ شیطان کے لیے انسان کے اندر داخلے کا دروازہ اس کا ایگو (ego) ہے۔ فرشتہ ہر موقع پر آدمی کو صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اس کے برعکس، شیطان ہر موقعے پر انسان کو غلط راستہ دکھاتا ہے۔ انسان جس کی رہنمائی سے متاثر ہوجائے ، اسی کی طرف وہ چل پڑے گا۔
اس معاملے کی ایک تاریخی مثال وہ ہے، جس کا تعلق خلیفۂ ثانی عمر بن خطاب سے ہے۔ ان کے زمانے میں مدینہ میں ایک نصرانی ابو لو ٔلو ٔ فیروز رہتا تھا۔ اس نے خلیفہ ثانی سے شکایت کی کہ میرا خراج زیادہ ہے۔خلیفہ ثانی نے اس سے خراج کی مقدار پوچھی۔…
سازش کیا ہے
سازش (conspiracy)منفی کارروائی کی ایک قسم ہے۔ اس کا مطلب ہے کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے اس کے خلاف خاموش تدبیر کرنا:
Secret planning for some harmful purpose.
دوہرا انعام
پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر جو معاصر لوگ ایمان لائے ان میں سے ایک وہ تھے جو دین شرک پر قائم تھے۔ رسول اللہ سے پیغامِ حق سننے کے بعد انھوں نے دین شرک کو چھوڑا، اور دینِ توحید کو انھوں نے اختیار کیا۔ دوسرا گروہ وہ تھا جس کا تعلق مدینہ سے تھا۔ یہ اہل کتاب (یہود)تھے۔ یعنی پچھلے پیغمبر حضرت موسیٰ کو ماننے والے۔ ان کا ایمان گویا دین خداوندی پر دوبارہ ایمان لانا تھا۔
پہلا ایمان ان کو اپنے ماحول میں وراثت کے طور پر ملا تھا۔ گویا کہ وہ پیدائشی مسلم (Muslim by birth)تھے۔ اس کے بعد جب پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی،اور انھوں نے آپ کو بحیثیت پیغمبر کے پہچانا اور آپ پر ایمان لائے تو گویا کہ…
…گے۔ لوگوں نے کہا کہ ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے پہونچا دیا اور ادا کر دیا اور خیر خواہی کی۔ آپ نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر اس کو لوگوں کی طرف کرتے ہوئے کہا کہ اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ۔
اے لوگو تم کیا جانتے ہو کہ تم کس مہینہ میں ہو اور تم کس دن میں ہو اور تم کس شہر میں ہو۔ لوگوں نے کہا کہ حرام دن اور حرام شہر اور حرام مہینہ میں۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تمہارے اوپر اسی طرح قیامت تک کے لیے حرام ہیں جس طرح تمہارا یہ دن، تمہارا یہ مہینہ اور تمہارا یہ شہر حرام ہے۔پھر فرمایا۔ میری بات سنو اور اس کے مطابق زندگی گزارو۔ خبردار، ظلم نہ کرنا۔ بے شک کسی مسلمان آدمی کا مال لینا جائز نہیں، الاّ یہ کہ وہ راضی ہو۔ سنو، جاہلیت کا ہر خون اور مال اور شرف قیامت تک کے لیے میرے دونوں قدموں کے نیچے ہیں اور پہلا خون جو باطل کیا جاتا ہے وہ ربیعہ ابن حارث ابن عبد المطلب کا خون ہے۔اس نے بنو سعد سے دودھ پلانے والی کو طلب کیا تھا۔ پھر ہذیل نے اس کو قتل کر دیا۔ جاہلیت کے تمام سود باطل کئے گئے اور اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ پہلا سود جو باطل کیا جائے وہ عباس بن عبد المطلب کا سود ہے۔ تمہارے لیے تمہارا راس المال ہے نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تمہارے اوپر کوئی ظلم کیا جائے۔ سنو، زمانہ گھوم گیا (پس وہ آج) اسی نقط پر ہے جس دن کہ خدا نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : خدا کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں، خدا کی کتاب میں، جس دن کہ اس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ ان میں سے چار مہینے محترم ہیں۔یہی سیدھا دین ہے، پس تم ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔ سنو، میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ سنو، شیطان اس سے مایوس ہو چکا ہے کہ نماز پڑھنے والے اس کی عبادت کریں، لیکن آپس میں تم کو بر انگیختہ کرکے وہ اپنا مقصد حاصل کرے گا۔ اور عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ کیونکہ وہ تمہاری دست نگر ہیں۔ وہ اپنے لیے کچھ نہیں کر سکتیں اور تمہارے اوپر ان کا حق ہے اور ان کے اوپر تمہارا حق ہے، یہ کہ تمہارے بستر پر وہ تمہارے سوا کسی اور کو نہ آنے دیں اور نہ ایسے شخص کو تمہارے گھر میں آنے دیں جس کو تم نا پسند کرتے ہو۔ پھر اگر تم ان سے نافرمانی کا اندیشہ محسوس کرو تو ان کو نصیحت کرو۔ اور ان کو خواب گاہوں میں چھوڑ دو۔ اور ان کو ہلکی مار مارو۔ اور انہیں معروف طریقے پر کھانے اور کپڑے کا حق ہے۔ تم نے ان کو خدا کی امانت کے طور پر لیا ہے۔ اور ان کی شرمگا ہوں کو اللہ کے کلمہ سے حلال کیا ہے۔ سنو، جس کے پاس کوئی امانت ہو تو وہ اس کو صاحب امانت کو واپس کر دے۔ اس کے بعد آپ نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور فرمایا۔ کیا میں نے پہونچا دیا، کیا میں نے پہونچا دیا۔ پھر آپ نے کہا جو حاضر ہے وہ غیر حاضر کو پہونچا دے کیونکہ بہت سے وہ لوگ جنہیں پہونچایا جائے وہ سننے والوں سے زیادہ خوش بخت ہوتے ہیں۔ (مسند احمد)
اس پورے خطبہ کا خلاصہ اس کے اس لفظ میں ہے : الا لاتظلموا۔ الا لا تظلموا۔ (خبردارظلم نہ کرنا۔ خبر دار ظلم نہ کرنا) اس خطبہ کا مقصد ظلم کے ہر دروازہ کو بند کرنا ہے خواہ وہ جھوٹے توہمات کی وجہ سے پیدا ہوا ہو یا غلط قوانین کی وجہ سے یا غرور…
حج بیت اللہ کے بعد
قرآن کی سورہ نمبر 2میں حج کا حکم آیا ہے، اس سلسلۂ کلام کی ایک آیت یہ ہے: فَإِذَا قَضَیْتُمْ مَنَاسِکَکُمْ فَاذْکُرُوا اللَّہَ کَذِکْرِکُمْ آبَاءَکُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِکْرًا(البقرۃ: 200)۔ پھر جب تم اپنے حج کے مناسک پورے کرلو تو اﷲ کو یاد کرو جس طرح تم پہلے اپنے باپ دادا کو یاد کرتے تھے، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔
حج کے مناسک کی ادائیگی کے بعد زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کلماتِ ذکر کا بکثرت ورد کیا جائے۔ بلکہ اس سے مراد دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی حج کی ابراہیمی سنت کی ادائیگی کے ذریعے جو اسپرٹ تم نے اپنے اندر پیدا کی ہے اس کو…
…کے خلاف۔کچھ لوگ سیکولر حکومتوں کو زیر کرنے میں مشغول ہیں، اور کچھ لوگ مفروضہ ظالموں کے خلاف سرگرم ہیں، وغیرہ۔ یہ تمام لوگ مسلمانوں کے درمیان مفکرکا درجہ پائے ہوئے ہیں۔ مگر یہ نہ تفکیر ہےاور نہ ایسا کرنےوالوں کو مفکرکا درجہ دیا جاسکتا ہے۔
قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: الحمد للہ رب العالمین۔ اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی تفکیر کو مبنی بر حمد تفکیر ہونا چاہیے۔ اسلام کی تفکیر وہ ہے جو رب العالمین کی تلاش سے شروع ہو، پھر وہ معرفت تک پہنچے۔ یہ تفکیر اپنے آغاز سے لے کر اپنے انجام تک مکمل طور پر ایک مثبت تفکیر(positive thinking) ہے۔ وہ منفی سوچ (negative thinking) سے مکمل طور پر پاک تفکیر ہے۔ جو لوگ اس تفکیری شرط پر پورا اتریں، وہی حقیقی معنوں میں وہ لوگ ہیں جن کو مفکرکا درجہ دیا جائے۔
اس کے برعکس، دوسرے لوگ وہ ہیں جن کی تفکیر مبنی بر عداوت تفکیر ہو۔ عداوت شیطان کا کلچر ہے۔شیطان چاہتا ہے کہ انسانوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف عداوت کے جذبات (5:91) پیداکرے۔ جولوگ شیطان کی تزئین سے متاثر ہوں،وہ مختلف عذر (excuse) کو لے کر…
Pakistanis in Diaspora
پاکستان 1947 میں بنا۔ اس کے بانیوں کا خواب تھا— پاکستان کو ایک علاحدہ مسلم اسٹیٹ (separate Muslim state) بنانا۔ مگر اللہ کو کچھ اور منظور تھا۔ پاکستان بننے کے بعد وہاں ایسے حالات پیدا ہوئے کہ پاکستانی مسلمان بڑی تعداد میں پاکستان کو چھوڑ کر باہر کے ملکوں میں جانے لگے۔یہاں تک کہ پاکستانی مسلمانوں کی پاکستان سے باہر ایک بڑی کمیونٹی وجود میں آگئی۔ اس کمیونٹی کو پاکستانیز ان ڈائسپورا (Pakistanis in Diaspora) کہا جاسکتا ہے۔ان کی مجموعی تعداد تقریبا 8 ملین ہے:
There are around eight million Pakistani people living abroad.
ہجرت ایک تدبیر
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مکہ میں ہوئی- تیرہ سال کے بعد آپ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی- ہجرت کا لفظی مطلب ہے، ایک مقام کو چھوڑ کر دوسرے مقام پر جانا- اسلام کے دورِ اول کی تاریخ میںہجرت کوئی پراسرار واقعہ نہ تھا- یہ حالات کے پیش نظر ایک تدبیر کا معاملہ تھا، جو نتیجہ کے پہلو سے نہایت کامیاب ہوا-
ہجرت اپنی حقیقت کے اعتبار سے مقام عمل کو بدلنے کا نام ہے- اسلام کا اصل مشن دعوت الی اللہ ہے- اصولی اعتبار سے اسلام کا مشن ہمیشہ ایک رہے گا- لیکن تدبیر کا تعلق حالات سے ہوتا ہے- اس لئے داعی کو یہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ حالات کا…
راستہ بدلنا
سیرتِ رسول کی کتابوں میںایک واقعہ آتا ہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سفر میں مدینہ سے نکلے، درمیان میں معلوم ہوا کہ فریق مخالف کے ایک سردار ایک فوجی دستہ کے ساتھ مقابل سمت سے آرہے ہیں- آپ نے چاہا کہ دونوں گروہوں میں ٹکراؤ نہ ہو- چنانچہ آپ نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: من رجل یخرج بنا على طریق غیرطریقہم التی ہم بہا (ابن ہشام: 4/276) تم میں سے کون شخص ہے جو ہم کو ایک ایسے راستے سے لے جائے جو ان لوگوں کے راستے سے مختلف ہو- حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا کہ میں ایسا کرسکتاہوں- چنانچہ رسول اللہ اور آپ کے اصحاب اس بدلے ہوئے راستے سے آگے چلے گئے اور دونوں گروہوں کے درمیان ٹکراؤ پیش نہیں آیا-
اس سے معلوم ہوا کہ ٹکراؤ سے بچنے کے لئے راستہ بدلنا بھی ایک سنت ہے- مثلاً دو جلوس ایک ہی راستے پر آمنے سامنے سے آرہے ہوں تو رسول اللہ کی سنت پر چلنے والا وہ ہے، جو ٹکراؤ سے بچنے کے لئے اپنا راستہ (route) بدل دے-
پیغمبر ِ اسلام کی سنت
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن توحید کا مشن تھا۔ آپ نے اپنے مشن کا آغاز 610 عیسوی میں مکہ میں کیا۔ 632 عیسوی میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی۔ سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ پیغمبر ِاسلام کو اس دوران باربار مسائل (problems) پیش آئے۔ آپ نے ہمیشہ اس اصول پر عمل کیا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا تھا— رجز کو چھوڑو، اور انذار (دعوت) کا پیس فل مشن جاری رکھو(المدثر: 5-2)۔ رسول اللہ کی اس پالیسی کو حضرت عائشہ نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے: ما خیر النبی صلى اللہ علیہ وسلم بین أمرین إلا اختار أیسرہما (صحیح البخاری، حدیث : 6786) یعنی رسول اللہ کو جب بھی دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب کرتے۔ دوسرے الفاظ میں آپ کا مستقل اصول یہ تھا کہ مسائل کو نظر انداز کرو، اور مواقع کو استعمال کرو۔
Ignore the problems, avail the opportunities
اصلاح امت
قال مالک: کان وہب بن کَیسان یقعد إلینا- ثم لا یقوم أبدا حتى یقول لنا إنہ لا یُصلح آخر ہذہ الأمة إلا ما أصلح اوَّلَہَا، قلت لہ یرید ماذا؟ قال یرید التُّقَى (مسند المؤطا للجوہری: 783) یعنی مالک ابن انس (وفات: 179ھ) نے کہا کہ وہب ابن کیسان تابعی (وفات: 127ھ) جب بھی ہمارے پاس آتے تو ہم سے وہ ہمیشہ یہ کہتے اس امت کے آخری حصہ کو وہی چیز درست کرے گی جس نے ا س کے پہلے حصہ کو درست کیا- میں (راوی) نے پوچھا کہ اس سے ان کی مراد کیا ہوتی تھی-انھوں نے کہا کہ ان کی مراد ہوتی تھی :تقوی-
تقوی کا لفظ اسپرٹ (spirit) کو بتاتا ہے- اس روایت میں اگر چہ بظاہر اصلاح امت کا حوالہ ہے، لیکن اس سے مراد مصلح (پیغمبر) کے طریقہ کو بتانا ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ مصلح اول کے جس طریقہ سے امت اصلاح یافتہ ہوئی تھی، بعد کے مصلحین کو بھی یہی…
زیادہ بڑی فتح
قرآن میں فتح (victory) کا لفظ اس معنی میں دو سورتوں میں آیا ہے، سورہ النصر اور سورہ الفتح- سورہ النصر میں فتح کا لفظ سیاسی فتح کے معنی میں ہے، یعنی مکہ کی فتح-لیکن سورہ الفتح میں یہ لفظ سیاسی فتح کے معنی میں نہیں ہے- کیونکہ یہ سورہ معاہدۂ حدیبیہ کے وقت اتری تھی، اور معاہدہ حدیبیہ میں رسول اور اصحابِ رسول کو کوئی سیاسی فتح حاصل نہیں ہوئی تھی- حدیبیہ کا سفر رسول اور اصحابِ رسول نے اس لئے کیا تھا کہ مکہ جاکر عمرہ ادا کریں، لیکن اس وقت مکہ پر قریش کا غلبہ تھا- انھوں نے آپ کو اجازت نہ دی اور آپ کو اور آپ کے اصحاب کو عمرہ کی ادائیگی کے بغیر درمیان سے مدینہ کی طرف واپس ہونا پڑا تھا-
سورہ النصر میں صرف فتح کا لفظ آیا ہے، جب کہ سورہ الفتح میں فتح مبین (open victory) کا لفظ استعمال ہوا ہے- گویا سورہ الفتح میں جس فتح کا ذکر ہے، وہ اللہ کی نظر میں رسول اور اصحاب کے لئے زیادہ بڑی فتح تھی- یہ زیادہ بڑی فتح کیا تھی، یقیناً…
…بھیج دیں، تاکہ ہم یہاں بڑے پیمانے پر لوگوں تک اس کو پہنچا سکیں- میں نے کہا ضرور،آپ اس کا ترجمہ کریں، یہی ہمارا اصل مقصد ہے- انھوں نے کہا کہ ان شاء اللہ ہم ’’اسٹریٹ دعوہ‘‘ کے تحت اٹلی کے ہر شہر میں اِس لٹریچر کو پھیلانے کی کوشش کریں گے-
اٹلی سے روانہ ہوکر 3 نومبر 2014کو مجھے اسپین جانا تھا- اسپین کا سفر بھی دراصل قرآن کے اسپینی ترجمے کی اشاعت کے لیے تھا- اِس کا اصل محرک یہ تھا کہ خواجہ کلیم الدین صاحب (امریکا) کافی عرصے سے مجھ سے یہ کہتے رہے ہیں کہ امریکا میں، خاص طورپر ساؤتھ امریکا کے ملکوں میں قرآن کے اسپینش ترجمے کی بہت ضرورت ہے، کیوں کہ اسپین کے علاوہ ساؤتھ امریکا کے ملکوں میں بھی اسپینش زبان بولی جاتی ہے-مثلاً میکسکو، ارجنٹائنا، کولمبیا، پناما، کیوبا، چلی، پیرو، وینزولا ، وغیرہ میں عام طور پر اسپینش (Spanish) زبان بولی جاتی ہے- کلیم الدین صاحب کا کہنا تھا کہ اگر اسپینش زبان میں قرآن کا ترجمہ اور دعوتی لٹریچر تیار ہوجائے تو ساؤتھ امریکا میں بڑے پیمانے پر اس کے ذریعے دعوہ ورک کیا جاسکتا ہے-
جب میں نے اِس سلسلے میں جاننا چاہا تو معلوم ہوا کہ اسپینش زبان میں قرآن کے چارترجمے موجود ہیں- ان میں سب سے معروف ترجمہ وہ ہے جس کو غرناطہ(Granada)کے مسٹر عبدالغنی (Abdul Ghani Melara Navio) نے تیار کیا ہے- یہ ترجمہ شاہ فہد قرآن کامپلیکس…
زوالِ امت، اصلاحِ امت
روایت میں آیا ہے کہ مکی دور میں اہل مکہ اور یہود کے درمیان ایک مکالمہ ہوا- اس کے بعد سورہ التوبہ کی آیت نمبر 19 نازل ہوئی- وہ مکالمہ یہ تھا : قیل إن المشرکین قالوا للیہود، نحن سقاةالحجاج وعمار المسجد الحرام- فنحن أفضل أم محمد وأصحابہ؟ فقالت الیہود لہم أنتم أفضل (التفسیر الکبیر، الرازی) یعنی کہا جاتا ہے کہ مکہ کے مشرکین نے یہود مدینہ سے کہا کہ ہم حاجیوں کو پانی پلانے والے اور مسجد حرام کا انتظام کرنے والے ہیں- پس ہم زیادہ افضل ہیں یا محمد اور ان کے اصحاب- یہود نے ان سے کہا کہ تم لوگ افضل ہو-
اس واقعہ کے بعد قرآن کی یہ آیت اتری: اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَاۗجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰہَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہ ِ ۭ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰہِ ۭوَاللّٰہُ لَا…
الرسالہ مشن کا دوسرا دور
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مشن کا آغاز مکہ میں کیا- تیرہ سال کے بعد آپ نے مکہ سے ہجرت کیا اور مدینہ میں قیام فرمایا- جب آپ مدینہ کی سرحد پر پہنچے، اس وقت اہلِ مدینہ کے ایک گروہ نے آگے بڑھ کر آپ کا استقبال کیا- اس وقت آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر بھی تھے- دونوں کو خطاب کرتے ہوئے اہلِ مدینہ نے کہا: أدخلا آمنَین مطاعَین(مسند احمد، رقم الحدیث: 12234) یعنی آپ دونوں مدینہ میں داخل ہوجائیں ، آپ دونوں کے لیے یہاں امن ہے، اور آپ دونوں ہمارے لیے قابلِ اتباع ہیں-
مدینہ میں اس حیثیت سے آپ کا استقبال کیوں کر ممکن ہوا- وہ قبل از ہجرت عمل کی بنا پر ممکن ہوا تھا- ہجرت سے پہلے کچھ اصحاب مدینہ گئے، وہاں وہ لوگوں کے سامنے قرآن کی دعوت پیش کرتےرہے- اس وقت مطبوعہ قرآن موجود نہ تھا، اس لئے وہ اپنے حافظہ…
امت ِ مسلمہ کا کیس
ڈاکٹر محمود احمد غازی (وفات : 2010 ) نے 2 جنوری 2005 کو ایک تقریر کی - اِس تقریر کا اہتمام الشریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ (پاکستان) نے کیا تھا- اِس تقریر کا عنوان یہ تھا: مغرب کا فکری وتہذیبی چیلنج اور علماء کی ذمہ داریاں‘‘- یہ تقریر 22 صفحات پر مشتمل ہے- تقریر کا آخری پیراگراف یہ ہے:
’’اپنی اِس تلخ نوائی کو میں ایک فارسی شعر پر ختم کرتا ہوں، فارسی کا شعر ہے:
ترتیبِ قرآن
قرآن 23 سال کی مدت میں نجماً نجماً (قسط وار) اترا- قرآن میں پہلے وہ سورتیں نازل ہوئیں جن کو مکی سورتیں کہاجاتا ہے- اس کے بعد قرآن کی وہ سورتیں نازل ہوئیں جن کو مدنی سورتیں کہاجاتا ہے- لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانے میں قرآن کو جس انداز میں مرتب کرکے امت کے حوالے کیا، وہ نزولی ترتیب سے مختلف تھا- یہاں یہ سوال ہے کہ کیوں ایسا ہے کہ قرآن میں تلاوت کی ترتیب اُس سے مختلف ہے جو نزول کے اعتبار سے اُس کی ترتیب تھی-
اِس کا سبب یہ ہے کہ قرآن کوئی تاریخ کی کتاب نہیں ہے- قرآن اصلاحِ انسانیت کی کتاب ہے- اِسی اصلاح کی حکمت کی بنا پر، ابتدائی دور میں قرآن اپنے معاصر حالات (contemporary situation)کے اعتبار سے اترا- لیکن بعد کو اُس کی ترتیب،ابدی حالات کے…
غلبہ، اہلِ حق کے لیے
حضرت موسی کے زمانے میں، جب بنی اسرائیل سے کہاگیا کہ تم فلسطین میں داخل ہوجاؤ تو اِس پر بنی اسرائیل کے درمیان تذبذب ہوا- اس وقت بنی اسرائیل کے ایک صاحبِ ایمان نے اپنی قوم سے کہا کہ: ادْخُلُوْا عَلَیْہِمُ الْبَابَ ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْہُ فَاِنَّکُمْ غٰلِبُوْنَ ۚ وَعَلَی اللّٰہِ فَتَوَکَّلُوْٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (المائدة: 23) انھوں نے کہا کہ تم شہر میں داخل ہوجاؤ، جب تم اس میں داخل ہوجاؤگے تو تم ہی غالب ہوگے، اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو-
اِس آیت میں ’’دخول پر غلبہ‘‘ کے جس معاملہ کا ذکر ہے، وہ صر ف بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک عمومی اصول ہے- عمومی اعتبار سے اِس کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ حق کی برتر آئیڈیالوجی اِس بات کی ضامن ہوتی ہےکہ وہ ہرجگہ…
…(seeker)ہوتا ہے- ان میں سے ہر شخص خاموش زبان میںکہہ رہا ہوتا ہے کہ اے کشمیریو، ہم تمھارے یہاں آئے ہیں تاکہ تم ہم کو وہ سچائی دو جو اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت کی صورت میں تمھارے پاس موجود ہے- اس طرح کشمیر عملاً ایک مدعو لینڈ بن گیا ہے-
مذکورہ پہلوؤں نے کشمیر کو مسلم دنیا میں ایک امتیازی خطے کی حیثیت دے دی ہے- کشمیر میں خدا کے خاص منصوبے کے تحت بے شمار دعوتی اسباب جمع ہوگئے ہیں- دنیا کشمیر کو جنت نظیر (Paradise on Earth) کہتی ہے، انڈیا اس کو اپنا تاج (Crown) بتاتا ہے- مگر حقیقت یہ ہے کہ کشمیر خدا کی جنت کے تعارف کا ایک خصوصی مقام ہے-
عظیم دعوتی مواقع کے پس منظر میں یہ کہنا یقیناً درست ہوگا کہ اس دور میں کشمیر کو اللہ کی طرف سے بلا تمثیل وہ رول ملا ہے، جو دور اول میں مدینہ کو ملا تھا- اس دعوتی امکان (Dawah opportunity) کو استعمال نہ کرنا بلا شبہہ ایک مجرمانہ فعل ہوگا-
عمر بن عبد العزیز
عمر بن عبدالعزیز (وفات: 720ء) کی پیدائش مدینہ میں ہوئی۔ مگر خلیفہ کی حیثیت سے وہ شام کے شہر دمشق میں رہے جواس وقت اسلام کادار الخلافہ تھا۔ آپ کی وفات شام کے ایک اورشہر حلب میں ہوئی۔ شام کا ملک جن اسلامی شخصیتوں کی یاد دلاتا ہے ان میں سے ایک ممتاز نام عمر بن عبد العزیز کا ہے۔ جو پانچویں خلیفۂ راشد کہے جاتے ہیں۔
صحابۂ کرام کے بعد پوری اسلامی تاریخ میں عمر بن عبد العزیز واحد شخص ہیں جو صحابہ کے مزاج سے کامل مناسبت رکھتے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز کا مشہور واقعہ ہے کہ جراح بن عبد اللہ (عامل خراسان) نے ان سے کہا کہ لوگ کثرت سے مسلمان ہورہے ہیں اس پر ہمیں…
فقہی معاملے میں توسع
حج کی روایتوں میں سے ایک روایت یہ ہے کہ اہلِ مدینہ نے عبد اللہ بن عباس سے ایک عورت کے بارے میں پوچھا کہ اس نے (زمانۂ حج میں) طواف کیا، پھر وہ حائضہ ہوگئی- انھوںنے کہا کہ وہ مدینہ واپس چلی جائے- اہلِ مدینہ نے کہا ہم ایسا نہیں کریں گے کہ ہم آپ کے قول کو لیں اور زید بن ثابت الانصاری کے قول کو چھوڑ دیں: لانأخذ بقولک وندع قول زید (صحیح البخاری، کتاب الحج، رقم الحدیث: 1758-1759 )
عبد اللہ بن عباس اور زید بن ثابت دونوں صحابی تھے، لیکن مذکورہ مسئلے میں دونوں کے درمیان اختلاف تھا- عبد اللہ بن عباس کا کہنا یہ تھا کہ مذکورہ کیس میں عورت کے لیے رخصت ہے کہ وہ طواف وداع کیے بغیر اپنے گھر واپس چلی جائے- لیکن زید بن ثابت…
منصوبۂ خداوندی
خلیفہ ثانی عمر بن الخطاب نے 15 ہجری (636ء) میں مدینہ سے فلسطین کا سفر کیا تھا- اِس سفر کے بارے میں ایک روایت ہے جس کو مؤرخ الطبری نے اِن الفاظ میں نقل کیا ہے: لما استمد أہل الشام عمر على أہل فلسطین، استخلف علیا، وخرج ممدا لہم، فقال علی: أین تخرج بنفسک! إنک ترید عدوا کلبا، فقال: إنی أبادر بجہاد العدو موت العباس، إنکم لو قد فقدتم العباس لانتقض بکم الشر کما ینتقض أول الحبل(تاریخ الأمم والملوک للطبری: 248/2 ) یعنی عدی بن سہل سے روایت ہے- وہ کہتے ہیں کہ جب اہلِ شام نے فلسطین والوں کے خلاف عمر سے مدد طلب کی تو آپ نے (مدینہ میں) علی کو اپنا جانشین بنایا اور ان کی مدد کے لیے روانہ ہوئے- علی نے کہا: آپ خود کہاں جارہے ہیں، آپ ایک سخت دشمن کا قصد کررہے ہیں- عمر نے کہا کہ میں عباس کی موت سے پہلے جلد دشمن سے جہاد کرنا چاہتا ہوں، کیوں کہ اگر تم نے عباس کو کھو دیا تو شر تمھارے درمیان اُسی طرح پھیل جائے گا جس طرح رسی کی پہلی گرہ کھل جاتی ہے-
اِس روایت کے بارے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہےکہ حضرت عمر نے اِس معاملے میں حضرت عباس بن عبد المطلب کا حوالہ کیوں دیا- غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ یہ حضرت عمر فاروق کی ایک اجتہادی رائے تھی- ان کی زندگی کے مختلف واقعات سے معلوم ہوتاہے کہ وہ…
قرآنی سورتوں کی ترتیب
قرآن کی سورتوں کی موجودہ ترتیب کا نہایت گہرا تعلق امت کی اصلاح کے مسئلے سے ہے- جیساکہ معلوم ہے، قرآن کی سورتوں کی موجودہ ترتیب اُن کے نزول کی ترتیب کے مطابق نہیں ہے، بلکہ وہ اس سے مختلف ہے- عمومی طورپر یہ کہاجاسکتاہے کہ مکہ میں قرآن کی جو سورتیں نازل ہوئیں، اُن کو ترتیب میں مصحف کے آخر میں رکھ دیا گیا، اور جو سورتیں بعد کو مدینہ میں اتریں، ان کو ترتیب میں مصحف کے ابتدائی حصے میں رکھ دیاگیا- ترتیب میں یہ تبدیلی اتفاقی نہیں ہے، بلکہ اس کو بالقصد طورپر اختیار کیا گیا ہے-
اصل یہ ہے کہ مکی دور میں جب قرآن اترنا شروع ہوااُس وقت امتِ مسلمہ بحیثیت ’’امت‘‘ موجود نہ تھی- اُس وقت مکہ میں اور اطرافِ مکہ میں دعوت کا کام کیاگیا- اِس کے نتیجے میں لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے، یہاں تک کہ وہ گروہ تیار ہوا جس کو امتِ…
…مشرک قبیلے آباد تھے، لیکن جب آپ نبوت کے 13 سال کے بعد ہجرت کرکے مدینہ گئے تو یہاں کی صورتِ حال مختلف تھی- مدینہ کی آبادی کا تناسب اِس طرح تھا کہ دو عرب قبیلےتھے: اوس اور خزرج، اور تین یہودی قبیلے تھے: بنو نضیر، بنو قضاعہ، بنو قینُقاع-
اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کےمخاطبین میں ایک نیا مخاطب گروہ (یہود) وجود میں آگیا- اب ایسا ہواکہ مسلسل طورپر یہود سے انٹرایکشن ہونے لگا- یہود کے سامنے آپ دینِ اسلام پیش کرنے لگے- یہود کے سوالات کا جواب دیا جانے لگا- یہود، جن کی حیثیت امتِ موسی کی تھی، اُن کے احوال برابر قرآن میں زیر بحث آنے لگے- اِسی کا نتیجہ ہے کہ مدنی سورتوں کا بڑا حصہ یہود ونصاری کے تذکرے پر مشتمل ہے-
یہ یہود ونصاری کون تھے- وہ دراصل دورِ قدیم کی زوال یافتہ امت تھے- یہود ونصاری کے حال میں امتِ مسلمہ کا مستقبل دکھائی دیتا تھا- اِسی لیے قرآن کی مصحفی ترتیب میں مدنی سورتوں کو پہلے کردیا گیا، کیو ں کہ انھیں زوال یافتہ حالات کی روشنی میں وہ…
عبادات کی اصولی حیثیت
جو لوگ ایساکرتے ہیں کہ وہ قرآن میں مذکور نماز اور دوسری عبادات کی ایسی تفسیر کرتے ہیں جو علمی اجماع اور عملی تواتر کے ذریعے ثابت شدہ تعبیر کے خلاف ہے، ان کے شعور یا لاشعور میں غالباً ایک تحفظ (reservation) موجود ہوتاہے- وہ دیکھتے ہیں کہ بے شمار مسلمان مسجدوں میں جمع ہو کر نمازیں ادا کررہے ہیں، لیکن اِن مسلمانوں کی زندگیوں میں اِس کا کوئی صالح نتیجہ دکھائی نہیں دیتا- اس لیے وہ عبادت کی دوسری دوسری تعبیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں- مثلاً یہ کہ اقامتِ صلوة کا مطلب معروف نماز نہیں، بلکہ سوشل ورک ہے، وغیرہ-
یہ سوچ درست نہیں-اصل یہ ہے کہ اِس معاملے کو باعتبار حقیقت، صرف نظری اصول (theoretical criterion)کی بنیاد پر دیکھا جائے گا، نہ کہ عملی نتیجہ (practical result) کی بنیاد پر- اِس کا سبب انسان کی آزادی ہے- خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan)…
انجامِ آخرت
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن الرجل لیعمل عمل أہل الجنة فیما یبدو للناس، وہو من أہل النار- وإن الرجل لیعمل عمل أہل النار فیما یبدوا للناس، وہو من أہل الجنة (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 4202) یعنی ایک آدمی لوگوں کے خیال کے مطابق، اہلِ جنت کا عمل کرتا ہے، حالاں کہ وہ جہنم والوں میں سے ہوتا ہے- اور ایک آدمی لوگوں کے خیال کے مطابق، اہلِ جہنم کا عمل کرتا ہے، حالاں کہ وہ جنت والوں میں سے ہوتا ہے-
اِس حدیث میں فیما یبدو للناس کا لفظ بہت اہم ہے- اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص بظاہر (face vlue)پر کچھ اور ہوتا ہے، مگر حقیقت کے اعتبار سے، وہ کچھ اور ہوتا ہے- یہاں ’فیما یبدو للناس‘ کے مقابلے میں، ’فیما یبدو للہ‘ کا لفظ محذوف ہے- دنیا کی…
انتخابِ اول، انتخابِ ثانی
ذاتی زندگی کا معاملہ ہو تو ایک شخص معیار (ideal)کا انتخاب کرسکتا ہے، لیکن اجتماعی زندگی کے معاملے میں کبھی معیار کا انتخاب ممکن نہیں ہوتا-اِس لیے اجتماعی زندگی کے بارے میں صحیح اصول یہ ہےکہ جب انتخابِ اول (first choice) ممکن نہ ہو تو انتخابِ ثانی (second choice) کو اختیار کرلیا جائے-
اِس اصول کی حکمت یہ ہے کہ انتخابِ اول کو اختیار کرنے کی صورت میں اگر معیار حاصل ہوتا تھا، تو انتخابِ ثانی کی صورت میں امن اور استحکام (stability) حاصل ہوجاتا ہے- اجتماعی زندگی کے لیے یہی واحد عملی طریقہ ہے، اِس کے سوا کوئی اور طریقہ عملاً…
نتیجے کا فقدان
گوٹن برگ کو پرنٹنگ ٹکنالوجی کا موجد سمجھا جاتا ہے- وہ 1398 میں جرمنی میں پیدا ہوا، اور1468 میں اس کا انتقال ہوا- اس کی ایجاد نے تاریخ میں پہلی بار طباعتی انقلاب پیدا کیا:
Johannes Gutenberg was a German gloldsmith who invented the mechanical movable type printing machine that sparked the printing Revolution.
…کے گھر رکھوادیا گیا۔ اِس رَبعہ کی تیاری کے لیے قرآن کے جو متفرق اجزا اکھٹا کیے گئے تھے، اُن کا ایک ڈھیر مسجد ِ نبوی میں موجود تھا۔ صحابہ کے مشورے سے اس پورے ڈھیر کو اُس کے مالکان کو واپس نہیں کیا گیا، بلکہ اُن سب کو جلاکر ختم کردیا گیا۔
اِس کے بعد صفحہ 8 پر حضرت عثمان کے زمانے میں اختلافِ قرأت کا حوالہ آیا ہے۔ اِس میں بتایا گیا ہے کہ بہت سے صحابہ نے بطورِ خود لکھ کر قرآن کے اپنے اپنے مجموعے تیار کررکھے تھے جن میں بہت سے فرق موجود تھے۔ ان نسخوں کی وجہ سے حضرت عثمان ؓ کے زمانے میں قرأت قرآن کے بارے میں لوگوں میں اختلاف پیدا ہوا۔ کوئی شخص ایک انداز سے قرآن پڑھتا، اور کوئی شخص دوسرے انداز سے۔ اس لیے حضرت عثمان نے ابو بکر صدیق کے زمانے کا تیار کردہ مستند نسخہ حضرت حفصہ کے گھر سے منگوایا۔ اُس کی بہت سی نقلیں تیار کرائیں۔ مسلم ممالک کے مرکزی شہروں میں قرآن کی یہ مستند نقلیں اور معیاری نسخے بھجوائے اور پھر صحابہ کے جمع کردہ نسخوں میں قرأت ِ قرآن میں فرق کا جو مسئلہ موجود تھا، اُس کا حل یہ نکالا کہ اِن تمام غیر سرکاری نسخوں کو اکھٹا کروایا اور پھر صحابہ کی موجودگی میں اُن کو جلاکر ختم کردیا۔
میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کی رائے میں اختلافِ قرأت کا مسئلہ ہے کیا؟ ہمارے ہاں اس حوالے سے جو روایات پائی جاتی ہیں اور پھر ہمارے مدارس میں سبعہ یا عشرہ قرأت جو پڑھائی جاتی ہیں، کیا اُن کو تسلیم کرلینے میں کوئی حرج نہیں ہے؟ اور کیا اِس…
استثنائی شخصیت
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش 570ء میں مکہ میں ہوئی- 610ء میں آپ کو نبوت ملی- 632ء میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی- آپ پوری تاریخ میں ایک استثنائی شخصیت تھے- آپ کا استثنائی شخصیت ہونا اپنے آپ میں اِس بات کا ایک ثبوت ہے کہ آپ اللہ تعالی کے نمائندہ تھے- آپ کو اللہ تعالی کی خصوصی نصرت حاصل تھی- خداوندِ کائنات کی خصوصی نصرت کے بغیر کوئی شخص ایسا نہیں کرسکتا کہ وہ پوری تاریخ میں ایک استثنائی شخصیت بن جائے-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اِس استثنائی شخصیت کے مختلف پہلو ہیں- اِس موضوع کی تفصیل کے لیے ایک مکمل کتاب درکار ہے- یہاں آپ کی استثنائی شخصیت کے چند پہلو مختصر طورپر درج کیے جاتے ہیں-
حدیبیہ انقلاب
قدیم ترین زمانے سے انسان کا یہ ذہن رہا ہے کہ کسی مقصد کو حاصل کرنے کا سب سے زیادہ طاقت ور ذریعہ جنگ ہے- عربی زبان کی ایک قدیم مثل ہے: الحرب أنفى للحرب- انگریزی زبان میں کہا جاتا ہے — وار فار پیس (war for peace)، یعنی پُرامن مقصد حاصل کرنا ہے تو جنگ کرو- فارسی کے ایک قدیم شاعر نے کہا تھا کہ جو شخص تلوار چلاتا ہے، اُسی کے نام کا سکہ چلتا ہے:
ہر کہ شمشیر زند، سکّہ بہ نامش خوانند
…على وضع الحرب عن الناس عشر سنین، یأمن فیہن الناس ویکف بعضہم عن بعض (سیرة ابن کثیر: 3/321) یعنی یہ وہ معاہدہ ہےجو محمد بن عبد اللہ اور سہیل بن عمرو کے درمیان طے ہوا- دونوں اِس پر رضامند ہوئے کہ دونوں کے درمیان دس سال تک جنگ نہیں ہوگی-
معاہدہ حدیبیہ دراصل دس سال کے لیے ایک ناجنگ معاہدہ (no-war pact) تھا- مگر دونوں فریقوں کے درمیان اُس وقت دشمنی کا جو ماحول تھا، اُس کے اعتبار سے اِس قسم کا معاہدہ ایک ایسا معاہدہ تھا جو عملاً ناممکن نظر آتا تھا- چناں چہ بظاہر یہ ناممکن چیز صرف اُس وقت ممکن ہوئی، جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فریقِ ثانی کی کڑی شرطوں کو یک طرفہ طورپر منظور کرلیا-مثلاً ایک شرط یہ تھی کہ مکہ کا کوئی شخص اگر اسلام قبول کرکے مدینہ آئے تو اس کو دوبارہ مکہ والوں کی طرف لوٹانا ہوگا- اِس کے برعکس، مدینے کا کوئی شخص اگر مکہ چلا جائے تو اہلِ مکہ کو حق ہوگا کہ وہ اس کو مکہ میں روک لیں اور دوبارہ اس کو مدینہ واپس نہ کریں- اِسی طرح اِس معاہدے کی ایک شرط یہ تھی کہ تمام اہلِ ایمان اِس سال حدیبیہ سے مدینہ واپس چلے جائیں، وہ عمرہ کے لیے مکہ میں داخل نہ ہوں-
معاہدہ حدیبیہ ایک کاغذ پر لکھا گیا تھا-حضرت علی بن ابی طالب اس کی کتابت کررہے تھے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق، انھوں نے پہلا جملہ یہ لکھا: ہذا ما صالح علیہ محمد رسول اللہ- فریقِ ثانی کے نمائندہ سہیل بن عمرو نے اِس پر…
War and Peace, by LeoTolstoy—1865
مگر جیساکہ معلوم ہے، ٹالسٹائے کی کتاب صرف ایک ناول ہے، یعنی وہ فکشن کے پیرایے میں لکھی گئی ہے، اور کوئی فکشن حقیقی زندگی (real life) کے لیے گائڈ بک نہیں بن سکتا-
قرآن کا بیان
حدیث کی تدوین
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو اُس وقت حدیثیں زیادہ تر صحابہ کے حافظے میں تھیں- وہ مختلف مقامات پر اُن کا چرچا کرتے رہے-اموی خلیفہ عمر بن عبد العزیز (وفات: 720ء) کو یہ خیال ہوا کہ جس طرح قرآن کی تدوین ہوئی ہے، اسی طرح حدیث کی بھی تدوین کردی جائے- اِس سلسلے میں صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: انظر ماکان من حدیث رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم فاکتبہ، فإنی خفت دروسَ العلم وذہاب العلماء (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 97) یعنی خلیفہ عمر بن عبد العزیز نے ایک تابعی عالم ابوبکر بن حزم کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھیلی ہوئی احادیث کو جمع کرو اور ان کو قید ِ تحریر میں لاؤ- کیوں کہ مجھے ڈر ہے کہ علم مٹ جائے اور علماباقی نہ رہیں- اِسی طرح خلیفہ عمر بن عبد العزیز نے اُس زمانے کے ایک مشہور تابعی عالم محمد بن شہاب الزہری (وفات: 124ہجری) کو حدیث جمع کرنے کا حکم دیا- اسی طرح انھوں نے اسلامی ملکوںکے دوسرے حکام کو بھی ذخائر حدیث کے جمع وتدوین کا تاکیدی حکم بطور فرمان بھیجا-
اِس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ عمر بن عبد العزیز، اسلامی ریاست کے تحت، احادیث کو مدوّن کرنا چاہتے تھے، لیکن جلد ہی خلیفہ کی وفات ہوگئی اور یہ کام اُس وقت انجام نہ پاسکا- اِس کے بعد عباسی خلافت کا زمانہ آیا- اُس وقت علماءِ اسلام کی…
…رجل مسلم، وہو ظالم، فذلک الذی حرج وہلک (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 329 ) یعنی کرلو، کوئی حرج نہیں- کرلو، کوئی حرج نہیں- حرج کی بات تو یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے بھائی کو بے عزت کرے- ایسا ہی شخص ظالم ہے- اُسی نے حرج والا کام کیا اور ہلاک ہوا-
اِس حدیث رسول سے ایک اہم بات معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ عبادت میں اصل اہمیت عبادت کی اسپرٹ کی ہے- جہاں تک عبادت کے فارم کا تعلق ہے، وہ عملاً ضروری ہے، لیکن اگر عبادت کے فارم میں بظاہر کوئی فرق واقع ہوجائے تو وہ اللہ کے نزدیک قابلِ قبول ہے، بشرطیکہ عبادت کی اسپرٹ میں فرق نہ ہوا ہو- گویا کہ عبادت میں عابد کا فوکس سب سے زیادہ عبادت کی اسپرٹ پر ہونا چاہئے، نہ کہ عبادت کے فارم پر-
حدیث اسوۂ رسول
…طرح یہ اصول حاصل ہوتا ہے کہ ہر نزاعی موقع پر قرآن اور حدیث کے حوالے سے لوگوں کو صحیح طریقے کی رہنمائی دی جاسکے- اگر قرآن اور حدیث کا معیار موجود نہ ہو تو کوئی ایسی چیز نہ ہوگی جس کے حوالے سے لوگوں کو مستند طور پر کوئی رہنمائی دی جاسکے-
اِس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی غیر موافق بات نظر آتی ہے تو لوگ فوراً اس کے خلاف ٹکراؤ کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں- وہ کہتے ہیں کہ اِس طرح کے معاملے میں کارروائی نہ کرنا بزدلی ہے- یہ ذہن لوگوں کے اندر بہت زیادہ عام ہے- اب سوال یہ ہے کہ اِس معاملے میں فیصلہ کن رہنمائی کہاں سے حاصل کی جائے- اِس کا جواب ہمیں ایک حدیث میں ملتا ہے- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا ینبغی للمؤمن أن یُذلّ نفسہ قالوا: وکیف یذل نفسہ؟ قال: یتعرض من البلاء لما لا یُطیق (الترمذی، رقم الحدیث:2254) یعنی مومن کے لیے سزاوار نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے- لوگوں نے پوچھا کہ کوئی شخص اپنے آپ کو کس طرح ذلیل کرے گا- آپ نے فرمایا کہ وہ ایسی آزمائش کا سامنا کرے جس سے نپٹنے کی اس کے اندر طاقت نہ ہو-
اِس حدیث رسول سے اجتماعی زندگی کے لیے ایک اہم اصول ملتا ہے- وہ یہ کہ اجتماعی زندگی میں کوئی اقدام کرنا صرف اُس وقت جائز ہے جب کہ اقدام سے کوئی مثبت نتیجہ (positive result) نکلنے والا ہو- جس اقدام کا نتیجہ منفی صورت میں نکلنے والا ہو، ایسا…
تاریخ کا ربانی سفر
قرآن کی ایک آیت، معمولی لفظی فرق کے ساتھ، دو سورتوںمیں آئی ہے- اس کے الفاظ یہ ہیں: یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاہِہِمْ ۭ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ (61:8) یعنی وہ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کی روشنی کواپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ اپنی روشنی کو پورا کرکے رہے گا،خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو-
قرآن کی اِس آیت کا خطاب محدود طورپر صرف قدیم مکہ یا قدیم مدینہ کے مخالفین سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق پوری انسانی تاریخ کے ربانی سفرسے ہے- آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے پچھلے ہزاروں سا ل کے دوران مختلف مقامات پر اپنے پیغمبر بھیجے، لیکن…
…کی توجیہہ کرنے سے قاصر ہیں- اِس کا سبب یہ ہے کہ مورخین مادی اسباب کی روشنی میں واقعات کی توجیہ کرتے ہیں، جب کہ یہ واقعہ خدا کی برتر مداخلت کا نتیجہ تھا اور خدا کی برتر مداخلت ایک ایسا عامل (factor) ہے جس سے مورخین شعوری طور پر واقف نہیں-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ کو جو انقلاب لانا مطلوب تھا، اس کو قرآن میں اتمامِ نور (61:8) کہاگیاہے- ضروری تھاکہ یہ واقعہ پہلی نسل (first generation) کے اندر مکمل ہوجائے- کیوں کہ فطرت کے قانون کے تحت ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ بعد کی نسلوںمیں زوال شروع ہوجاتاہے اور زوال یافتہ افراد اتمامِ نور کا کارنامہ انجام نہیں دے سکتے- اِس لیے اللہ تعالی نے خصوصی منصوبے کے تحت ایک محدود مدت میں بہت سے انتظامات کیے، تاکہ پہلی نسل میں انقلاب کی تکمیل کو یقینی بنایا جاسکے-
اِس مقصد کے لیے مختلف تدبیریں کی گئیں- مثلاً کعبہ کو تمام عرب قبائل کے بتوں کا مرکز بنا دیاگیا، تاکہ تمام قبائل کے افراد مکہ میں حاصل ہوجائیں- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے سال (570ء) میں یمن کے حاکم ابرہہ نے ہاتھیوں کی فوج…
…خدائی منصوبے کے تحت وجود میں آیا- مکہ میں مقدس کعبہ کی تعمیر اِسی منصوبے کا ایک حصہ تھی- بعد کو سارے عرب میں شرک پھیل گیا- یہ قبائلی دور تھا- ہر قبیلے کا ایک الگ بت تھا- چناں چہ یہاں ایسے اسباب پیش آئے کہ کعبہ 360 بتوں کا مرکز بن گیا-
یہ قدیم تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ تھا- اِس سبب سے یہ ممکن ہوگیا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مشن کی اشاعت کے لیے سارے عرب میں سفر نہ کرنا پڑے، بلکہ مکہ ہی میںآپ کو تمام قبائل کے نمائندے حاصل ہوجائیں- کیوں کہ کعبہ میں تمام قبائل کے بتوں کی موجودگی کی بنا پر ایسا ہوتا تھا کہ مکہ میں مسلسل طور پر وہ چیز ہوتی رہتی تھی جس کو آج کل کی زبان میں کُل عرب اجتماع (all Arab assembly) کہا جاسکتا ہے-
اِس کے بعد بار بار ایسے واقعات پیش آئے جن کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ وہ تیزرفتاری کے ساتھ اپنے مشن کی تکمیل کرسکیں- اِس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت پر غور کیجئے- غزوۂ بدر کی نسبت سے، قرآن میں یہ…
…اِس طرح کے ماحول میں دعوتِ توحید کا کام پوری طرح نہیں ہوسکتا تھا- توحید کی آئڈیالوجی پیغمبر اسلام کے مشن کی سب سے بڑی طاقت تھی، مگر طرفین کے درمیان تشدد کے ماحول کی بنا پر یہ موقع نہ تھا کہ یہ طاقت پوری طرح ظاہر ہو اور لوگوں کو مسخر کرے-
اُس وقت اللہ کی خصوصی توفیق سے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی تدبیر کی جس کی کوئی نظیر تاریخ میں موجود نہ تھی- وہ تدبیر یہ تھی کہ فریقِ ثانی کے تمام مطالبات کو یک طرفہ طورپر مان لیا جائے، تاکہ فریقین کے درمیان معتدل ماحول قائم ہوجائے اور کسی رکاوٹ کے بغیر دعوتِ توحید کا کام انجام پاسکے- یہ تدبیر بلاشبہہ ایک عظیم تدبیر تھی، اِسی لیے اُس کو قرآن میں فتحِ مبین (48:1) کہاگیاہے-
صلح حدیبیہ کی اِس تدبیر سے دو بڑے فائدے حاصل ہوئے- ایک، یہ کہ صلح حدیبیہ سے پہلے فریقین کا مقابلہ میدانِ جنگ میں ہوتا تھا، اور جنگ کا طریقہ صرف مسئلے کو بڑھاتا ہے، وہ مسئلے کو کم نہیں کرتا- صلح حدیبیہ کا یہ فائدہ ہوا کہ طرفین کا مقابلہ عقل…
دین اور شریعت
دین اور شریعت بظاہر یکساں طورپر اسلام کا حصہ ہیں، مگر دونوں کو یکساں طورپر برابر کا حصہ سمجھنا درست نہیں- قرآن میں واضح طورپر دونوںکےدرمیان فرق کیاگیاہے- یہ فرق ایک حقیقت پر مبنی ہے- اِس فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سےاسلام کے بارے میں غیر ضروری قسم کی غلط فہمیاں ہوتی ہیں-
قرآن میں بتایا گیاہے کہ ’’الدّین‘‘ تمام نبیوں کے درمیان ہمیشہ ایک رہا ہے- الدین کے معاملے میں تمام انبیا کی تعلیمات کے درمیان کوئی فرق نہیں (42:13)- دوسری طرف، قرآن میں بتایا گیاہےکہ شریعت کا معاملہ اِس سے مختلف ہے- قرآن کے مطابق ،…
…سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے : تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْراً (25:1)یعنی بہت بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل کیا، تاکہ وہ تمام عالم کے لیے آگاہ کرنے والا ہو-
یہی بات حدیث میں پیشین گوئی کی زبان میں اِس طرح آئی ہے: لایبقى على ظہر الأرض بیت مدر ولا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمة الإسلام (مسند أحمد، رقم الحدیث: 24215) یعنی زمین کی سطح پر کوئی گھر یا خیمہ نہیں بچے گا، مگر اللہ اس میں اسلام کا کلمہ داخل کردے گا-
اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ اُس نے پیغمبروں کے ذریعے جو ہدایت نامہ بھیجا ہے، وہ دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچے- مگر قدیم زمانے میں یہ عالمی پیغام رسانی ممکن نہ تھی- قدیم زمانے میں دعوت الى اللہ کا کام عملاً…
اہلِ جنت کی رفاقت
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی کو مدینہ میں ہوئی- آخر وقت میں آپ کی اہلیہ عائشہ آپ کے ساتھ تھیں- حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ آخر وقت میں آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: اللہم الرفیق الأعلى (البخاری، رقم الحدیث : 6348) یعنی اے اللہ، تیری رفاقت چاہیے-
ایک اور روایت میں حضرت عائشہ کے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں: جعلتُ أسمعہ یقول: فی الرفیق الأعلى،ثم قرأ:’مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِیْنَ ۚ وَحَسُنَ…
فطرت کا ایک اصول
علمِ نباتات کی ایک اصطلاح ہے جس کو ٹرانسپلانٹیشن (transplantation) کہا جاتا ہے، یعنی پودے کو ایک جگہ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ لگانا، تاکہ وہ بہتر نشو ونما پائے:
The act of removing a plant from one location and introducing it in another location.
بادشاہت کے نظام کا خاتمہ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت 610 عیسوی میں ہوئی- اُس وقت یہ حال تھا کہ ساری دنیا میں کچھ انسانوں نے بادشاہت کا نظام قائم کردیاتھا- یہ شاہی نظام عملاً جبریت (despotism) کے ہم معنی تھا- اِس نظام نے انسانوں سے اُس آزادی کو چھین لیا تھا جو اللہ نے ان کو عطا کی تھی- یہ صورتِ حال اللہ کو مطلوب نہیں تھی، کیوں کہ وہ اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) کی منسوخی کے ہم معنی تھا- اللہ تعالی نے پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ اِس جابرانہ نظام سے ٹکرا کر اس کو ختم کردیں، تاکہ دنیا میں دوبارہ اللہ کی مطلوب حالتِ فطری قائم ہوجائے-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اُس زمانے میں ایک طرف عرب میں ملکی سطح پر قبائلی نظام تھا- اِس قبائلی نظام نے بھی عملاً انسانی آزادی کو ختم کررکھا تھا- اِس صورتِ حال کا اشارہ قرآن کی مختلف آیتوں میں کیاگیا ہے- مثلاً:…
جمہوریت کا دور
اہلِ علم کے درمیان عام طورپر یہ سمجھا جاتا ہے کہ موجودہ زمانے میں سماجی اور سیاسی نظام (socio-political system) کے اعتبار سے جو ترقیاں ہوئی ہیں، اُن سب کی بنیاد جمہوریت ہے- سمجھا جاتاہے کہ یہ دراصل انقلاب فرانس (1789) تھا جس کے بعد دنیا میں جمہوریت کادور آیا، مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ انقلا ب فرانس (French Revolution) ایک تاریخی عمل کا نقطہ انتہا تھا- یہ تاریخی عمل انقلاب فرانس سے بہت پہلے عرب میں اسلامی انقلاب کے بعد شروع ہوا-
قرآن میں اِس معاملے میں یہ اصولی حکم اِن الفاظ میں دیاگیا تھا: أَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ (42:38)یعنی وہ اپنا کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں:
…کی نصرت کے تحت ہوگا- اللہ کی نصرت کے تحت اہلِ ایمان کے لیے مزید مواقع کھلتے چلے جائیں گے- اہلِ ایمان کا کام یہ ہے کہ وہ اِن مواقع کو پہچانیں اور دانش مندانہ طورپر ان کو استعمال کریں، یہاں تک کہ ان کا سفرِ دعوت اپنی آخری منزل تک پہنچ جائے-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو نمونہ قائم ہوا، اس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس معاملے میں نصرتِ الہی کے ظہور کے تین مرحلے ہیں- وہ مرحلے حسب ذیل ہیں:
1- نصرت باعتبارِ حفاظت (Nusrat in terms of security)
…سے مجبور ہوکر اصحابِ رسول کا ایک قافلہ مکہ سے ہجرت کرکے حبش جارہا ہے، کبھی آپ اپنے مشن کے تحت طائف اوردوسرے مقامات پر جاتے ہیں، کبھی دار الندوہ میں پیغمبر اسلام کے خلاف مشورہ ہورہا ہے اور آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے، وغیرہ-
پھر جب مکہ میں 13 سال قیام کے بعد آپ مکہ سے 300 میل کی دوری پر واقع شہر مدینہ چلے جاتے ہیں تواِس تذکرے میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتاہے- اب غزوات اور سرایا اور جھڑپوں (skirmishes) جیسے واقعات کے نتیجے میں آپ کا اور آپ کے مشن کا چرچا تمام عرب میں، حتی کہ اطرافِ عرب میں پھیل جاتاہے- آپ کے مخالفین کی مخالفانہ کارروائیوں کے نتیجے میں بظاہر بہت سے واقعات ہورہے تھے جو مسلسل لوگوں کے علم میں آرہے تھے- اسی کے ساتھ ایک بلا اعلان عمل جاری تھا- یہ عمل اِن واقعات کے درمیان ایک انڈر کرنٹ یا زیر سطح عمل (under the surface process) کی حیثیت رکھتا تھا- وہ لوگوں کے اندر نہایت تیزی سے تجسس کی نفسیات پیدا کررہا تھا- لوگ فطری طور پر جاننا چاہتے تھے کہ یہ مشن کیا ہے اور اِس مشن سے وابستہ افراد کا معاملہ کیا ہے- تجسس کی یہ زیریں رو اللہ کے منصوبے کے مطابق، عین مطلوب تھی، کیوں کہ اُس سے پیغمبر اسلام کے مشن کے دعوتی مواقع مسلسل طورپر بڑھ رہے تھے- یہی وہ عمل ہے جس کو ہم نے نصرت باعتبار پراسس کا نام دیا ہے-
نصرت باعتبارِ فتح
…کہ آپ اہلِ مکہ سے یہ کہیں کہ ہمارے اور تمھارے درمیان ٹکراؤ اور جنگ کی جو صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے، وہ ایک غیر مطلوب چیز ہے- اور ضروری ہے کہ اس کو ختم کردیا جائے- آخر کار یہ طے ہوا کہ فریقین کے درمیان صلح کا معاہدہ (peace treaty)ہوجائے-
صلح کا یہ معاہدہ جب کاغذ پر لکھا جانے لگا تو اہلِ مکہ کے نمائندہ سردار نے شدید انداز میں حمیتِ جاہلیہ(48:26) کا مظاہرہ کیا- انھوں نے ضد اور سرکشی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کی یک طرفہ شرطوں کی بنیاد پر معاہدہ کیا جائے، حتی کہ انھوںنے اصرار کیا کہ ’’رسول اللہ‘‘ کے لفظ کو معاہدے کی تحریر سے مٹا دیا جائے- پیغمبر اسلام نے اہلِ مکہ کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لیا، صرف اِس لیے کہ اِس معاہدے کے ذریعے دونوں فریق کے درمیان امن کا ماحول قائم ہورہا تھا-
حدیبیہ کا معاہدۂ صلح اہلِ مکہ کی یک طرفہ شرطوں کی بنیاد پر ہوا تھا- چناں چہ صحابہ کے اندر اس کے خلاف شدید رد عمل پیداہوا- عمر فاروق نے کہا: لما نعطی الدنیة من دیننا (صحیح البخاری،رقم الحدیث:2731) یعنی ہم اپنے دین کے معاملے میں اِس ذلت…
اسلام فطرت کی آواز
اسلام انسان کی فطرت کی آواز ہے- اسلام اگر کسی ملاوٹ کے بغیر انسان کے سامنے آئے تو وہ اُس کے ذہن کو ایڈریس کرے گا، وہ خو د اپنے داخلی شعور کے تحت اسلام کی اہمیت کو ماننے پر مجبور ہوجائے گا- تاریخ میں کثرت سے اِس کی مثالیں موجود ہیں- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی زمانے میں مکہ کے لوگ شرک میں مبتلا تھے- مگر جب قرآن کے ذریعے ان کے سامنے اسلام کا پیغامِ توحید بے آمیز طورپر آیا تو ان کی اکثریت نے اسلام کو اپنے دل کی آواز سمجھ کر اس کو جلد یا بدیر قبول کرلیا-
موجودہ زمانے میں بھی اِس کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں- ایک بنگالی ہندو جن کا نام ڈاکٹرنشی کانت چٹوپادھیا (وفات: 1910) تھا، انھوںنے اعلیٰ تعلیم پائی- وہ کئی زبانیں جانتے تھے- انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا- ان کی فطرت نے اسلام کی سچائی کی…
…پیش آیا، وہ یہ تھا کہ اس کے اوپربرف کی بہت موٹی تہ جم گئی- پھر گلوبل وارمنگ کے زمانے میں برف پگھلنا شروع ہوئی تو دھیرے دھیرے کشتی کھل کر سامنے آگئی- ’’رینگنے والی چیز‘‘کا زمین سے نکلنا بالکل لفظی طورپر اِس واقعہ کی تصویر کشی کررہا ہے-
قرآن میں دابہ کا ذکر جہاں آیا ہے، وہاں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ دابہ لوگوں سے ’’کلام‘‘ کرے گا اور یہ خبردے گا کہ لوگوں نے اللہ کی آیتوں (signs) پر یقین نہیں کیا- قرآن میں دابہ کے بارے میں اتنا ہی بتایا گیا ہے- قرآن میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ لوگ دابہ کی بات سنیں گے تو اس کے بعد تمام لوگ اس کو ماننے والے بن جائیں گے- قرآن سے یہ تو ثابت ہے کہ دابہ لوگوں سے ’’کلام‘‘ کرے گا، لیکن یہ بات قرآن میں نہیں ہے کہ لوگ دابہ کے کلام کو سن کر اُس کے مومن بن جائیں گے-
اِس سے مستنبط ہوتا ہے کہ دابہ (کشتی نوح) کا ظہور دوبارہ اُسی نوعیت کا ہوگا جیسے کہ نوح کے زمانے میں ہوا تھا- حضرت نوح کی دعوت وتبلیغ سے ان کے زمانے کے بہت کم لوگ اُن پر ایمان لائے- اِسی طرح یہی معاملہ بعد کے زمانے میں بھی پیش آئے گا،…
Turkey Rediscovered
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مشن 610 عیسوی میں مکہ میں شروع کیا۔ تقریباً 13 سال کے بعد 622 عیسوی میں آپ مکہ سے مدینہ چلے گئے۔ اِس واقعے کو اسلامی تاریخ میں ہجرت کہاجاتاہے۔ ہجرت سے پہلے آپ نے پیشین گوئی کے انداز میں ایک بات کہی تھی جو حدیث کی کتابوں میں اِن الفاظ میں آئی ہے: أمرتُ بقریۃ تأکل القری۔ یقولون: یثرب، وہی المدینۃ (صحیح البخاری، رقم الحدیث:1748) یعنی مجھے ایک بستی کا حکم دیاگیا ہے، وہ تمام بستیوں کو کھا جائے گی۔ لوگ اُس کو یثرب کہتے ہیں، لیکن وہ مدینہ ہے۔
یہ حدیث سادہ طورپر مدینہ کی پراسرار فضیلت کے بارے میں نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ اِس حدیث میں تاریخ کا ایک قانون بیان کیاگیا ہے۔ یہ قانون تاریخ میں بار بار واقعہ بنا ہے، پھر یہی قانون، مدینہ (یثرب) کے حق میں واقعہ بنا۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش…
…کے خلاف نظر آئے۔ اِس کی ایک مثال اٹلی کا سائنس داں گلیلیو (وفات: 1642 ) ہے- گلیلیو کو آفتاب مرکزی نظریہ (helio-centric theory) پیش کرنے پر سخت سزا دی گئی، صرف اِس لیے کہ آفتاب مرکزی نظریے کو چرچ نے اپنے مذہبی عقیدے کے خلاف سمجھ لیا تھا۔
مگر یہ صرف فکری زوال کا مسئلہ تھا، وہ خدائی مذہب کا مسئلہ نہ تھا۔ اِس معاملے میں اسلام کا موقف اُس حدیث سے معلوم ہوتاہے جو صحیح مسلم میںآئی ہے۔ مدینہ میں ’تابیر نخل‘ کا مسئلہ پیدا ہوا۔ اُس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اصولی بات اِن الفاظ میں فرمائی: أنتم أعلم بأمر دنیاکم ( صحیح مسلم، رقم الحدیث:2363) یعنی تم اپنی دنیا کے معاملے میں زیادہ جانتے ہو۔
تابیر نخل یا پالی نیشن (pollination) کا معاملہ ایک سیکولر شعبے سے تعلق رکھتا ہے۔اِسی طرح ٹکنالوجی یا سائنس کی دریافتیں سیکولر شعبے سے تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں۔ اِس طرح کے معاملات میں سائنٹفک رسرچ کا لحاظ کیا جائے گا، اُن کو عقیدے سے جوڑ…
…جالی کے ایک طرف ترکی زبان میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے: Duâ Kapisi ۔ ہمارے ساتھی مسٹر علی نے بتایا کہ اِس کا مطلب ہے: دعا کا در وازہ۔ میں نے دیکھا کہ ترکی لوگ اور دوسرے زائرین یہاں آتے تھے اور خاموشی سے ہاتھ اٹھا کر دعا کرکے چلے جاتے تھے۔
مقبرے کے سامنے ایک چھوٹا سا احاطہ ہے۔ اس میں ایک قدیم درخت لگا ہوا ہے۔ یہ درخت 5 سوسال پرانا ہے۔ اس کو سلطان محمد فاتح نے اپنے ہاتھ سے لگایا تھا۔ اِس احاطے کے سامنے قدیم طرز کی ایک بڑی مسجد ہے۔ اِس کو سلطان محمد فاتح نے 1458عیسوی میں بنوایا تھا۔ میں نے اور میرے ساتھیوں نے اِس مسجد میں دورکعت نماز اداکی۔ میں نے نماز کے بعد دعا کے لیے ہاتھ اٹھایا۔ اُس وقت خیال آیا کہ اب سے 14 سوسال پہلے عرب کی ایک جماعت کس طرح یہاں آئی اور کس طرح انھوں نے یہاں دین ِ اسلام کی اشاعت کی۔ یہ سوچتے ہوئے میرا دل بھر آیا۔ اُس وقت آنسوؤں کے ساتھ میری زبان سے یہ دعا نکلی— خدایا، تو مجھ کو اور میرے مشن میں ساتھ دینے والے تمام مردوں اور عورتوں کو صحابہ کے اُس دعوتی قافلے میں شامل فرما۔ وما ذلک على اللہ بعزیز۔
مسجد کے اندر کچھ عورتیں اور مرد بھی ذکر ودعا میں مشغول نظر آئے۔ مسجد کے عقبی حصے میں ایک قبرستان ہے۔ یہاں بہت سے ترک علما اور کچھ مشہور عثمانی خاندان کے حکمرانوں کی قبریں ہیں۔
شبِ قدر
رمضان کا مہینہ ہجری کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے۔ اِس مہینے میں اہلِ ایمان کے لیے روزہ رکھنے کا حکم ہے(2: 183)۔ رمضان کے مہینے کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کسی رات میں شبِ قدر واقع ہوتی ہے۔ شبِ قدر کو قرآن میں ’لیلۃ القدر‘ کہاگیا ہے۔ یہ ’لیلۃ القدر‘ دوسری ہزار راتوں سے زیادہ بہتر ہے۔ شبِ قدر کا ذِکر قرآن کی سورہ القدر(97) میں آیا ہے۔ اِس سورہ کا ترجمہ یہ ہے: ’’بے شک ہم نے قرآن کو اتارا ہے شبِ قدر میں۔ اور تم کوکیا جانو کہ شبِ قدر کیا ہے۔ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ فرشتے اور روح اس میں اپنے رب کی اجازت سے اترتے ہیں، ہر حکم لے کر۔ وہ رات سرتا سر سلامتی ہے، صبح نکلنے تک‘‘۔
یہ 610 ء کی ایک رات تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے قریب غارِ حرا میں موجود تھے۔ اُس وقت جبریل، قرآن کی پہلی وحی لے کر آپ کے پاس آئے۔ یہ پہلی وحی سورہ العلق(96) کی ابتدائی پانچ آیتیں تھیں۔ قرآن کا نزول خدا کی عظیم رحمت کا…
صبح ِکشمیر
1917 میں روس میں کمیونسٹ پارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔ اس کے بعد اِس کمیونسٹ حکومت نے مسلسل یہ کوشش شروع کی کہ وہ اطراف کے علاقوں میں کمیون ازم کو برآمد (export) کرے۔ اِنھیں میں سے ایک نشانہ تاشقند کا ملک تھا جس کا دار السلطنت سمر قند تھا۔ اُس زمانے میں ایک کمیونسٹ رائٹر نے اِس موضوع پر ایک کتاب لکھی تھی، جو ’’صبح سمر قند‘‘ کے نام سے شائع ہوئی:
Joshua Kunitz, Dawn Over Samarkand, 1935, 350 pages, The Van Rees Press, New York
مدینہ (یثرب) میں دو بڑے قبیلے تھے — اَوس اور خزرج۔ قبائلی مزاج کے مطابق، اِن دونوں کے درمیان اکثر ٹکراؤ ہوتا رہتا تھا۔ ہجرت کے پانچ سال پہلے دونوں قبیلوں کے درمیان ایک خوں ریز جنگ ہوئی۔ اِس جنگ کو ’’جنگِ بُعاث‘‘ کہا جاتا ہے۔
اِس جنگ میں دونوں قبیلوں کے افراد بڑی تعداد میں مارے گئے۔ اِس کے بعد اہلِ یثرب کے اندر سکنڈ تھاٹ (second thought) پیدا ہوا۔ شعوری یا غیر شعوری طورپر وہ سمجھنے لگے کہ اُنھیں با عزت زندگی حاصل کرنے کے لیے تشدد پرمبنی آئڈیالوجی کے بجائے، امن پر مبنی آئڈیالوجی درکار ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب کہ اسلام کی دعوت مدینہ پہنچی اور وہ تیزی سے لوگوں کے دلوں میں داخل ہوگئی۔
تقریباً یہی صورتِ حال ریاست جموں وکشمیر میں پیش آئی ہے۔ 1947 میں تقسیم ہند کے بعد اِس ریاست میں جلسوں اور مظاہروں کی صورت میں ’’جہادِ کشمیر‘‘ شروع ہوا۔ ایک عرصے کے بعد اِس تحریک نے تشدد کی صورت اختیار کرلی۔ ایک طرف، کشمیری مجاہدین تھے اور…
… کا عہدہ قبول کرلیں۔ قرآن میں اِس کے لیے دینِ ملِک (12:76) کے الفاظ آئے ہیں، اور بائبل میں اس کی بابت یہ الفاظ ہیں: سو تو میرے گھر کا مختار ہوگا، اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی۔ فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے، میں بزرگ تر ہوںگا:
You shall be over my house, and all my people shall be ruled according to your word; only in regard to the throne, will I be greater than you. (Genesis, 41: 40)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مکہ میں 610 عیسوی میںہوئی۔ اُس زمانے میں قریش کو عرب میں قیادت کا مقام حاصل تھا۔ پیغمبر اسلام نے قریش سے امن کا معاہدہ کیا، جو اسلام کی تاریخ میں، معاہدۂ حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ اِس معاہدے کے تحت،…
…image) کو بدلا جائے۔ عالمی میڈیا کو امیج بلڈنگ (image building) کا ذریعہ بنایا جائے، یعنی اسلام کو اِس حیثیت سے نمایاں کیا جائے کہ وہ لوگوں کو مذہبِ تشدد (religion of violence) کے بجائے، مذہبِ امن (religion of peace) نظر آنے لگے۔
اب آخری وقت آگیا ہے کہ مسلمانو ں میں کم از کم کوئی ایک گروہ ایسا اٹھے جو اسلام کی متشددانہ تصویر کو بدلے، جو اِس بات کا ذریعہ بنے کہ خدا کا دین لوگوں کو امن اور رحمت کا دین دکھائی دینے لگے، جو اب تک لوگوں کو صرف نفرت اور تشدد کا دین نظر آرہا ہے۔ یہ موجودہ زمانے کی ایک عظیم ترین سعادت ہے۔ جو مسلم گروہ اِس سعادت کا حق دار بنے گا، وہ بلاشبہہ دنیا اور آخرت میں اللہ کے عظیم انعامات کا مستحق قرار پائے گا۔اِس مقصد کو کوئی ایسا مسلم علاقہ انجام دے سکتا ہے جو بر وقت عالمی میڈیا میں آچکا ہو۔ موجودہ زمانے میں کئی ایسے مسلم علاقے ہیں جو عملاً عالمی میڈیا میں آچکے ہیں۔ لیکن حالات بتاتے ہیں کہغالباً صرف ایک مسلم علاقہ ہے جو اِس واقعے کو ظہورمیں لاسکتاہے۔
راقم الحروف کے اندازے کے مطابق، یہ علاقہ ریاست جموں وکشمیر ہے۔ مختلف اسباب سے یہ علاقہ بالفعل عالمی میڈیا میں آچکا ہے۔ مگر ابھی وہ متشددانہ اسلام (violent Islam) کے اعتبار سے، عالمی میڈیا میں ہے۔ اب جو کچھ کرنا ہے، وہ صرف یہ کہ اہلِ…
…کی۔ ہجرت سے پہلے آپ نے فرمایا تھا کہ: أمرت بقریۃ تأکل القری، یقولون یثرب، وہی المدینۃ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1748)یعنی مجھ کو ایک ایسی بستی کا حکم دیا گیاہے جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں، اور وہ مدینہ ہے۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہ مدینہ کے لیے اللہ نے مقدر کیا تھا کہ وہ دعوتِ توحید کے لیے فلیش پوائنٹ (flash-point) بنے۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا، مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد توحید کا دین (اسلام) بہت جلد ایک عالمی دین بن گیا۔
موجودہ زمانے میں اسلام کی تصویر(image) ایک متشددانہ مذہب کی بن گئی ہے۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں، اسلام کی یہی منفی تصویر ساری دنیا میں پھیل گئی۔ اب اکیسویں صدی میںآخری طورپر وہ وقت آگیا ہے جب کہ اسلام کی پرامن تصویر دنیا کے سامنے…
…اگر خدا کے قائم کردہ نظامِ فطرت کے خانے میں ڈالا جائے تو اُس سے لوگوں کے اندر مثبت ذہن بنے گا۔ ایسا کرنے سے لوگ کھوئے ہوئے کے غم کو لے کر مایوسی کا شکار ہونے سے بچ جائیں گے اور اُس سے سبق لے کر از سرِ نو اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کریں گے۔
جس طرح ہر پیدا ہونے والے پر موت آتی ہے، اور زندہ رہنے والوں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اِس موت کو بھلا دیں، اُسی طرح، ہر پائی ہوئی چیز کو کبھی نہ کبھی کھونا پڑتاہے۔ اِس معاملے میں آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ کھوئی ہوئی چیز کو اُسی طرح بھلادے، جس طرح وہ مرنے والے کو بھلا دیتاہے۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ایک چیز کھوئی جاتی ہے تو فطرت کے نظام کے تحت، دوسری ہزاروں چیزیں موجود رہتی ہیں جو اب بھی انسان کو حاصل ہیں۔ ایسی حالت میں، کھوئے ہوئے کونہ بھلانے کی یہ بھاری قیمت دینی پڑتی ہے کہ آدمی کے اندرسے…
عاشورا کا روزہ
محرم کی دسویں تاریخ کے روزہ کو عاشورا کا روزہ کہا جاتا ہے۔ کچھ مسلمان اِس روزے کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں اور اِس دن اہتمام کے ساتھ روزہ رکھتے ہیں۔ روایات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ عاشورا کے روزے کی وہ اہمیت نہیں ہے جو عام طورپر مسلمانوں کے درمیان رواجی طورپر پائی جاتی ہے۔ وہ صرف ایک مستحب روزہ ہے، جیسا کہ دوسرے بہت سے مستحبّات۔
روایات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے تو وہاں اہلِ مکہ کے درمیان دورِ جاہلیت سے ایک رواج چلا آرہا تھا، اور وہ عاشورا کا روزہ تھا۔ وہ اِس کو حضرت ابراہیم سے منسوب کئے ہوئے تھے۔ مکی دور میں رسول…
…یہ اندیشہ تھا کہ بعد کے زمانے کے مسلمان مکی ماڈل کی اہمیت سے غافل ہوجائیں گے، اِس لیے اِس دعوتی ماڈل کو قرآن میں مسیحی ماڈل کے حوالے سے بیان کیاگیا۔ کیوں کہ حضرت مسیح کی زندگی میں صرف مکی ماڈل ہے، اُن کے یہاں مدنی ماڈل سرے سے موجود نہیں۔
مسیحی ماڈل یا مکی ماڈل سے مراد کوئی پراسرار چیز نہیں ہے۔ اُس سے مراد عین وہی چیز ہے جس کو دوسرے الفاظ میں دعوت کا پرامن طریقہ (peaceful method of dawah) کہا جاسکتا ہے۔ مسیح کے حوالے سے اِس ماڈل کو بیان کرنا صرف تقریبِ فہم کے لیے ہے، نہ کہ حصر کے لیے۔
اصل یہ ہے کہ قدیم زمانہ مذہبی جبر کا زمانہ تھا۔ اُس زمانے میں مدعو کی طرف سے شدید رد عمل کا اظہار ہوتا تھا، حتی کہ بشرطِ استطاعت، تشدد اور قتال کی نوبت آجاتی تھی۔ ’’مدنی دور‘‘ دراصل اِسی دورِ تشدد کی ایک علامت ہے۔ مدنی دور میں رسول اور…
محرومی کے بعد بھی
632 ء میں مدینہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی۔ یہ ایک بے حد نازک لمحہ تھا۔ وہ صحابہ کے لیے ایک سخت صدمہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اُس وقت صحابی رسول ابو بکر صدیق نے ایک نمونہ قائم کیا۔ وہ رسول اللہ کے حجرہ میں آئے۔ انھوںنے آپ کے چہرے سے چادر اٹھا کر آپ کو دیکھا اور پھر کہا: من کان یعبدُ محمداً فإن محمداً قد مات۔ ومن کان یعبد اللہ فان اللہ حی لا یموت( صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3667 ) یعنی جو شخص محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد پر موت آچکی۔ اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے، اس پر کبھی موت آنے والی نہیں۔
یہ ایک صحابی ٔ رسول کی مثال ہے جو اس قسم کے ہر واقعہ کے لیے ایک نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ مثلاً ایک شخص کو اپنے بیٹے سے بہت قلبی تعلق ہے۔ نوجوانی کی عمر میں بیٹے کی وفات ہوجاتی ہے۔ اس کا دل اس حادثہ سے بے قابو ہوجاتا ہے۔ ایسے شخص کو چاہئے…
ذہنی ارتقا کا ذریعہ
ابو الدرداء عُویمر بن مالک الانصاری ایک معروف صحابی ہیں۔ وہ مدینہ میں پیدا ہوئے اور 32 ہجری مطابق 652عیسوی میں شام میں ان کی وفات ہوئی۔ اُن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عُویمر حکیم أمّتی (ابو الدرداء میری امت کے ایک دانش مند شخص ہیں)۔ اِسی طرح ابن الجزری نے ان کے بارے میں کہا: کان من العلماء الحکماء (الأعلام للزرکلی 5/98 ) یعنی ابو الدرداء علم اور حکمت والے لوگوں میں سے تھے۔
ابو الدرداء انصاری کا ایک قول ان الفاظ میں نقل ہوا ہے: لا تفقہ کلَّ الفقہ حتی تمقت الناسَ فی جنب اللہ، ثم ترجع إلیٰ نفسک فتکون أشد لہا مقتاً (مصنّف ابن أبی شیبۃ، رقم الحدیث: 35726 ) یعنی تم پورے معنوں میں دانش مند نہیں ہوسکتے، یہاں تک…
…رسول کی سزا قتل ہے۔ اِسی طرح یہ سمجھا جاتاہے کہ اسلام میں ارتداد (apostasy) کی سزا قتل ہے۔ شتم اور ارتداد کی اِس سزا کو حد (legal punishment) کادرجہ دیا جاتاہے اور سمجھا جاتا ہے کہ شاتم یا مرتَد کو بطور حد قتل کیا جائے گا (یُقتل حدًّا)۔
یہ قانون اسلام کے بعد کی تاریخ میں عباسی دور (750-1258ء) کے فقہاء نے بنایا، مگر اصل اسلامی ماخذ میں اِس قسم کا کوئی حکم موجود نہیں ۔ اِس لیے عین جائز ہے کہ اس حکم کو کالعدم سمجھا جائے اور اس کو غیر اسلامی قرار دے کر رد کردیا جائے۔
اسلامی تاریخ کے مکی دور میں جو اہلِ ایمان ہجرت کرکے حبش (Abyssinia) گئے تھے، اُن میں سے ایک شخص کا نام عبید اللہ بن جحش تھا۔ حبش ایک عیسائی ملک تھا۔ وہاں جاکر عبید اللہ بن جحش عیسائی مذہب سے متاثر ہوئے اور اعلان کے ساتھ اسلام کو چھوڑ دیا۔…
مُقری کا رول
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر 610 عیسوی میں قرآن کا پہلا حصہ اترا۔ اس کا پہلا لفظ یہ تھا: اقرأ،یعنی اے پیغمبر، تم مُقری بن جاؤ، مقری کے لفظی معنی ہیں پڑھ کر سنانے والا (reciter) اس آیت کے نزول کے فوراً بعد یہ ہوا کہ پیغمبر اسلام مقری بن گئے۔ اُس وقت آپ مکہ میں تھے۔ آپ جہاں بھی دیکھتے کہ کچھ لوگ اکھٹا ہیں، آپ وہاں جاتے اور قرآن کے نازل شدہ حصہ کو انھیں پڑھ کر سناتے، چناں چہ روایتوں میں آتا ہے کہ: عرض علیہم الإسلام، وتلا علیہم القرآن۔
پیغمبر اسلام کے اصحاب نے بھی اِسی طریقہ کو اختیار کرلیا، ہر صحابی عملاً مقری بن گیا۔ انٹریکشن (interaction) کے دوران جب بھی کوئی صحابی کچھ لوگوں کو پاتا، وہ مقری بن کر ان کو قرآن کے حصے پڑھ کر سناتا۔ مقری کا لفظ اگر چہ مکی دور میں استعمال…
صلاحیت کے بغیر اقدام
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں5 ہجری میں وہ واقعہ پیش آیا جس کو غزوۂ خندق کہا جاتا ہے۔اُس وقت حفاظت کی غرض سے عورتوں اور بچوں کو ایک حصن (قلعہ) میں رکھا گیا تھا۔ اس کی نگرانی پر حسان بن ثابت انصاری مقرر کیے گیے تھے۔ صفیہ بنت عبد المطلب کہتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ قلعہ کے پاس ایک یہودی آگیا ہے اور مشتبہ انداز میں وہاں گھوم رہا ہے۔ میں نے حسان سے کہا کہ اِس یہودی سے ہمیں خطرہ محسوس ہورہا ہے، اِس کو مار کر یہاں سے بھگاؤ۔ حسان نے جواب دیا: یغفر اللہ لک یا ابنۃ عبد المطلب، واللّٰہ لقد عرفتِ ما أنا بصاحب ہذا (سیرت ابن ہشام، جلد 3، صفحہ 246) یعنی اے عبد المطلب کی بیٹی، اللہ تم کو معاف کرے، بخدا تم کو یہ معلوم ہے کہ میں اِس کام کا آدمی نہیں۔ حسان بن ثابت انصاری (وفات: 54ھ) ایک صحابیٔ رسول تھے۔ اِس اعتبار سے، ان کا مذکورہ واقعہ ایک اسلامی نمونے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس طرح صحابہ کے دوسرے واقعات ہمارے لیے نمونہ ہیں، اُسی طرح حسان بن ثابت کا مذکورہ واقعہ بھی ایک قابل تقلید نمونہ ہے۔ وہ نمونہ یہ ہے کہ آدمی کوئی ایسی ذمے داری ہر گز قبول نہ کرے جس کے لیے وہ اپنے آپ کو اہل نہ پاتا ہو۔ اِس لیے کہ نا اہلی کے باوجود اگر وہ کسی اجتماعی ذمے داری کو قبول کرتا ہے تو وہ صرف بگاڑ میں اضافے کا باعث بنے گا۔مثال کے طورپر ایک شخص مخلص ہے، مگر وہ سیاست کا تجربہ نہیں رکھتا، تو اس کو ہر گز سیاست کے میدان میں داخل نہیں ہونا چاہیے۔ ایک شخص روایتی عالم ہے، لیکن اس نے جدیدیات کا براہِ راست مطالعہ نہیں کیا ہے تو اس کو جدید طبقے کی رہنمائی کا کام نہیں سنبھالنا چاہیے۔ ایک شخص کی تربیت درس وتدریس کے ماحول میں ہوئی ہے تو اس کو تحریکِ جہاد کا رہنما نہیں بننا چاہیے۔ ایک شخص صرف مسجد اور مدرسے کے ماحول کو جانتا ہے تو اس کو عالمی قیادت کے اسٹیج پر نہیں آنا چاہیے۔ ایسے ہر موقع پر اخلاص کا تقاضا ہے کہ آدمی یہ کہہ دے کہ: ما أنا بصاحب ہذا (میں اِس کام کا اہل نہیں)۔ نااہلی کے باوجود رہنمائی کے میدان میں داخل ہونا، بلاشبہہ ایک مجرمانہ فعل ہے۔ کسی آدمی کا مخلص ہونا، ایسے احمقانہ اقدام کے لیے ہرگز کوئی عذر نہیں بن سکتا۔
…معاملہ ہے، نہ کہ قانونی سزا کا معاملہ۔یہ اعلیٰ سوچ کی ایک انوکھی مثال ہے۔چنانچہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ ممکن ہوا کہ آپ مسائل کے درمیان مواقع کو دیکھ سکیں، اور ان کو اویل کریں۔ اس کو کہتے ہیں— حالات سے اوپر اٹھ کر سوچنا۔
وہ مواقع کیا تھے۔ مثلاً یہ کہ قدیم کعبہ جو توحید کا سینٹر ہونے کے باوجود بتوں کا مرکز بن گیا تھا۔ یہ بات توحید کے پیغمبر کے لیے ناقابلِ برداشت تھی کہ وہ ایسا ہوتے ہوئے دیکھے، اور اس کے خلاف احتجاج نہ کرے۔ مگر پیغمبر اسلام کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ آپ نے ان بتوں کو کعبہ سے ہٹانے کی کوئی بات نہیں کی۔ اس کے برعکس، آپ نے حالات سے اوپر اٹھ کر عمل کیا۔ یعنی آپ نے گہرے مطالعے کے بعد سمجھا کہ جس کعبہ میں بت رکھے ہوئے ہیں، اسی بت کی وجہ سے پورے عرب سے روزانہ بڑی تعداد میں زائرین آتے ہیں، جو پوٹنشل آڈینس کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر بتوں کے خلاف آواز اٹھائی جائے، تو بت نہیں ہٹے گا، مگر نقصان یہ ہوگا کہ زائرین ، یعنی پوٹنشل آڈینس کا آنا بھی بند ہوجائے گا۔ اس کے برخلاف، جب بتوں کے خلاف ہنگامہ نہ کیا جائے تو زائرین ، یعنی آڈینس آئیں گے، جن کو آسانی سے اپنا پیغام پہنچایا جاسکتا ہے۔ پیغمبر اسلام نے یہی طریقہ اختیار کیا، اور سارا عرب آپ کے لیے توحید کا آڈینس بن گیا۔اس طرح آپ نے بتوں کے اجتماع کو مینج کرکے اس کو توحید کا آڈینس بنا دیا۔
اسی طرح یہ کہ پیغمبر اسلام نے اپنا مشن قدیم مکہ میں شروع کیا۔ وہاں آپ کی شدید مخالفت ہوئی۔ یہاں تک کہ انھوں نے آپ کو الٹی میٹم دے دیا کہ آپ مکہ کو چھوڑ دیں، ورنہ ہم آپ کو قتل کردیں گے۔ ان حالات میں آپ نے مکہ کو چھوڑدیا، اور خاموشی کے…
سوال وجواب
دو سوالات کے جواب مطلوب ہیں۔ ایک یہ کہ ماہ نامہ الرسالہ، جون 2007 میں آپ نے اپنے ایک مضمون میں ’’مسیحی ماڈل کی واپسی‘‘ کا ذکر کیا تھا۔ اِس سے آپ کی مراد کیا ہے۔ دوسرے یہ کہ آپ نے اپنی تحریروں میں کئی مقامات پر اعلیٰ بصیرت اور پریکٹل وزڈم (practical wisdom) کی باتیں لکھی ہیں۔ برائے کرم مثال کے ذریعے اس کو واضح فرمائیں (عبد الباسط عمری، دوحہ، قطر)
1 - قیامت سے پہلے مسیح کی آمد ثانی کے بارے میں جو روایتیں آئی ہیں، اُس سے مراد غالباً مسیحی ماڈل کی آمد ثانی ہے، نہ کہ جسمانی معنوں میں پیغمبر مسیح کی آمد ثانی۔ یہ مسیحی ماڈل قرآن میں بھی مذکور ہے اور انجیل میں بھی اس کا ذکر آیا ہے۔…
…کوئی فضیلت نہیں) اِن الفاظ میں بظاہر مطلق مساوات کا اعلان تھا، لیکن آپ کی وفا ت کے بعد جب خلافت کا مسئلہ پیدا ہوا تو اس کو الائمۃ من قریش (مسند احمد، رقم الحدیث: 12657)کی بنیاد پر حل کیاگیا۔ یہ فعل واضح طورپر آئیڈیل مساوات کے خلاف تھا۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے: أمرہم شوریٰ بینہم (اہلِ ایمان کے معاملات اجتماعی مشورے سے طے ہوتے ہیں) الفاظ کے اعتبار سے بظاہر یہ ایک مطلق اصول ہے، لیکن خلیفۂ اوّل حضرت ابو بکر نے خلیفۂ ثانی حضرت عمر کے تقرر میں اِس تعلیم کے خلاف عمل کیا۔ انھوں نے اپنے بعد خلیفہ ثانی کے لئے نام زدگی (nomination) کا طریقہ اختیار کیا۔ آپ نے رائے عامہ کے بغیر بطورخود حضرت عمر کی خلافت کا اعلان کردیا۔ یہ واقعہ واضح طورپر مذکورہ قرآنی اصول کے خلاف تھا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ میں خلافت کے سوال پر مہاجرین اور انصار کے درمیان اختلاف ہوا۔ انصار کا یہ کہنا تھاکہ: منا أمیر ومنکم أمیر (ایک امیر مہاجر ین میںسے اور ایک امیر انصار میںسے)۔بحث کے بعد آخر کار یہ طے…
…کے نام پر بڑی بڑی کانفرنسیں منعقد کی جارہی ہیں۔ مثال کے طورپر میڈرڈ (اسپین) میں جولائی 2008 کو سعودی حکومت کے تحت ’’بین اقوامی امن کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی، اور دسمبر 2008میں مکہ میں ’’بین اقوامی دعوت کانفرنس‘‘ کا انعقاد عمل میں آیا، وغیرہ۔
یہ ایک واقعہ ہے کہ آج ساری دنیا کے مسلمانوں میں دعوت اور امن کی باتیں ہورہی ہیں۔ سیکولر مسلمان اور مذہبی مسلمان دونوں اپنے اپنے انداز میں اِسی قسم کی بات کہہ رہے ہیں۔ اکیسویں صدی عیسوی میں یہ نئی صورتِ حال اللہ کی توفیق سے ہمارے مشن کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔ یہ ایک ایسی واضح حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
کسی بھی بڑے واقعے کے ظہور میں کچھ معاون اسباب کام کرتے ہیں۔ یہی ہمارے مشن کے ساتھ پیش آیا۔ حضرت عائشہ کی روایت کے مطابق، ہجرت کے پانچ سال پہلے اوس ا ور خزرج کے درمیان پیش آنے والی جنگِ بُعاث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے لیے ایک…
سوال وجواب
ماہ نامہ الرسالہ (جون 2007 ) کے شمارے میں ’’مسیحی ماڈل کی آمدِ ثانی‘‘ کے عنوان سے آپ کا ایک مضمون نگاہ سے گزرا۔ اِس سلسلے میں دو سوال پیش خدمت ہیں۔ ایک یہ کہ اِس تعبیر کے استعمال کرنے کی کیا حکمت پیش آئی۔ دوسرے یہ کہ قرآن (الأحزاب: 21 ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ’’اسوۂ حسنہ‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ اِس کی تشریح میںآپ نے لکھا ہے کہ اِس کا مطلب لازمی طور پر ہر صورتِ حال کے لیے عملی ماڈل کی موجودگی نہیں ہے، بلکہ اِس سے مراد صرف اصولی رہنمائی ہے۔ براہِ کرم، اِس معاملے کی وضاحت فرمائیں (ڈاکٹر عبد الرحمن، نئی دہلی)
1 - آپ نے غالباً اصل مضمون کو زیادہ غور کے ساتھ نہیں پڑھا، ورنہ آپ کو اِس قسم کا اشکال پیش نہ آتا۔ اگر آپ مضمون کو غور سے پڑھیں تو آپ پر کھل جائے گا کہ مسیحی ماڈل کی آمدِ ثانی کا مطلب دوسرے لفظوں میں مکی ماڈل کی آمدِ ثانی ہے۔…
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم
محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری پیغمبر تھے۔ وہ 570 عیسوی میں قدیم مکہ میں پیداہوئے۔ 610 عیسوی میں اُن کو خدا کی طرف سے پہلی وحی ملی۔ اِس کے بعد انھوںنے مکہ میں اپنا مشن شروع کردیا۔ وہ 13 سال مکہ میں رہے۔ اس کے بعد 622 عیسوی میں وہ عرب کے دوسرے شہر مدینہ چلے گئے۔ وہاں انھوں نے اپنے مشن کو مزید 10 سال تک جاری رکھا۔ 632 عیسوی میں اُن کی وفات ہو ئی۔ ان کی قبر مدینہ میںاب بھی موجود ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل مشن توحید تھا، یعنی خدا کو ایک ماننا، اورایک ہی خدا کی عبادت کرنا۔ جب پیغمبر ِ اسلام نے لوگوں کو توحید کا یہ پیغام دینا شروع کیا، اُس وقت مکہ کی مسجد کعبہ میں 360 بُت موجود تھے، لیکن آپ نےبتوں کی…
…ہے، یہ تمام تر ایک فلکیاتی مظہر ہے۔وہ صرف اس لئے واقع ہوتا ہے کہ گردش کے دوران دو خلائی اجسام (celestial bodies) کے درمیان تیسرا جسم آجاتا ہے۔ اس کی بنا پر وہاں ایک آڑ قائم ہوجاتی ہے۔ اسی آڑ کی بنا پر پیش آنے والے واقعہ کا نام گرہن ہے۔
قدیم زمانے میں گرہن صرف ایک توہماتی (superstitious)واقعہ بنا ہوا تھا۔ انیسویں صدی عیسوی میں سائنسی مشاہدہ کے ذریعہ معلوم ہوا کہ یہ سادہ نوعیت کا ایک خلائی واقعہ ہے۔ اس واقعہ میں کوئی پُراسراریت شامل نہیں۔ گرہن کے موضوع پر موجودہ زمانے میں کثیر تعداد میں کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ چند کتابوں کے نام یہ ہیں:
Eclipses of the Sun and Moon (1937) by Sir F.W. Dyson
حالات کی رعایت
مسلمانوں میں عام طو رپر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہمیں دو چیزوں کی پیروی کرتے ہوئے اپنا کام کرنا چاہیے، اور وہ ہے قرآن اور سنت۔ مگر عملی اعتبار سےیہ مکمل بات نہیں۔ بلاشبہ مسلمان کے لیے قرآن و سنت واحد ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں،لیکن اسی کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ مسلمان وقت کے تقاضے کو سمجھیں، اور وقت کے تقاضوں کا پورا لحاظ رکھتے ہوئے اپنی دینی پلاننگ انجام دیں۔
مثلاً جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو اس سفر کے لیے آپ نے ایک مشرک کو اپنے سفر کا رہنما بنایا۔سیرت کی کتابوں میں اس کا نام عبد اللہ بن اُرَیقِط یا أَرْقَط (سیرت ابن ہشام،جلد1، صفحہ488) بتایا گیا ہے۔ یہ…
…کے معاملات کا تعلق ہے، ان میں مسلمان پابند ہیں کہ وہ شریعت کی رہنمائی کو تاویل کے بغیر قبول کریں، مگر جو امورانتظام دنیا سے تعلق رکھنے والے ہیں، ان میں انسان کو اختیار ہے کہ وہ اپنے حالات کے لحاظ سے جس طریقہ کو درست سمجھے اس کو اختیار کرے۔
اس معاملے میں ایک پیغمبرانہ واقعے سے مزید رہنمائی ملتی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یمن میں ایک شخص نے نبوت کا دعوی کیا اس کا نام مسیلمہ تھا۔ اس نے دو آدمیوں پر مشتمل اپنا ایک سفارتی وفد مدینہ بھیجا ۔انھوں نے مدینہ آکر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی، اور مدعی نبوت کا یہ تحریری پیغام پہنچایا کہ میں نبوت میں آپ کے ساتھ شریک کیا گیا ہوں (فَإِنِّی قَدْ أُشْرِکْتُ فِی الْأَمْرِ مَعَکَ)۔ سفارتی امور پر گفتگو کرنے کے بعد آپ نے ان دونوں سفیروںسے پوچھا کہ اس بارے میں تمہاری ذاتی رائے کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری بھی وہی رائے ہے جو ہمارے صاحب کی رائے ہے۔ یہ سن کر آپ نے کہا کہ خدا کی قسم اگر ایسا نہ ہوتا کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کو قتل کردیتا (أَمَا وَاَللَّہِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَکُمَا) سیرة ابن ہشام، جلد2، صفحہ 600۔
پیغمبرِ اسلام کے اس واقعہ سے اسلام کا ایک اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ بین اقوامی معاملات میں شریعت کا طریقہ بھی وہی ہوگا، جو دوسری قوموں کا طر یقہ ہے۔ دوسری قوموں میں اگر سفیر کی جان کو ہر حال میں محترم سمجھا جاتا ہے، تو اسلام میں بھی اس…
…کی۔ مگر اسلام سےپہلے کسی بھی دور میں ایسا نہیں ہوا کہ بڑی تعداد میں لوگ توحید کے نظریہ کو مان لیں اور توحید کی بنیاد پر انسانی معاشرہ میں وسیع انقلاب برپا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام سے پہلے انسان کبھی توحید کے حقیقی ثمرات سےآشنا نہ ہوسکا۔
جیسا کہ عرض کیاگیا، خدا کا ہر پیغمبر توحید کا پیغام لےکر آیا۔ مگر پچھلے پیغمبروں کے ساتھ یہ صورت پیش آئی کہ ان کے پیرو ان کے لائے ہوئے دین کی حفاظت نہ کرسکے۔ انھوں نے توحید میں شرک کی آمیزش کردی۔ مثال کے طورپر حضرت مسیح نے خالص توحید کا پیغام دیا، مگر ان کے بعد ان کے پیروؤں نے خود حضرت مسیح کو خدا سمجھ لیا۔ ان کا یہ مشرکانہ عقیدہ مختلف پہلوؤں سے سائنس کی ترقی کے لیے رکاوٹ بن گیا۔ مثلاً کچھ علمائے فلکیات نے نظامِ شمسی کی تحقیق کی۔ وہ اس حقیقت تک پہنچے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ مگر عیسائی علماء ایسے لوگوں کے سخت مخالف ہوگئے۔ اس کی وجہ ان کا مذکورہ مشرکانہ عقیدہ تھا۔ انھوں نے زمین کو خداوند کی جنم بھومی فرض کررکھا تھا، اس لیے ناقابلِ فہم ہوگیا کہ جس زمین پر خدا پیدا ہوا ہو، وہ زمین نظامِ شمسی کا مرکز نہ ہو، بلکہ اس کی حیثیت محض ایک تابع کی قرار پائے۔ اپنے مشرکانہ عقیدہ کو بچانے کے لیے انھوں نے سائنسی حقیقت کا انکار کردیا۔
دوسری بات یہ کہ پچھلے تمام پیغمبروںکامشن صرف اعلان کی حد تک جاسکا، وہ عملی انقلاب تک نہیں پہنچا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھی انسانی تاریخ کے پہلے گروہ ہیں جنھوں نے توحید کو ایک زندہ عمل بنایا۔ انھوں نے اولاً عرب میں…
…وہ اس انتظار میں تھے کہ میزبان نماز کے بعد چائے لے کر آئے گا۔ مگر میزبان نماز کے بعد ہم سے رخصت ہوکر گیا، تووہ دوبارہ واپس نہیں آیا۔ انتظار کرتے کرتے عشاکا وقت ہوگیا۔ ہم لوگ عشا کی نماز پڑھ کر بیٹھ گئے ،مگر بدستور میزبان کا پتہ نہ تھا۔
میرے ساتھی جو اس سے پہلے چائے کے منتظر تھے، اب بھوک سے بے تاب ہو کر کھانے کا انتظار کرنے لگے۔ غرض کافی انتظار کے بعد میزبان بڑے سے برتن میں کھانا لے کر آیا۔ میرے ساتھی خوش ہوئے کہ آخر کار انتظار ختم ہوا۔ مگر ان کی خوشی دیر تک باقی نہیں رہی۔ میزبان نے برتن سے کپڑا ہٹایا تو معلوم ہوا کہ جو کھانا وہ لے کر آیا ہے، عجیب وغریب کھانا ہے، یعنی ارہر کی دال اور گلگلہ۔
اب میرے ساتھیوں کا صبر ٹوٹ گیا۔ وہ بول پڑے کہ اتنی دیر کے بعد تم کھانا لائے ہو، اور وہ بھی ایسا عجیب وغریب کھانا جو ہم نے کبھی نہ کھایا تھا، اور سنا تھا۔ مگر میرا رد عمل بالکل مختلف تھا۔ میں نے بہت خوشی کے ساتھ کھانا شروع کردیا، اور کہا کہ…
…معاملہ ہے، نہ کہ قانونی سزا کا معاملہ۔یہ اعلیٰ سوچ کی ایک انوکھی مثال ہے۔چنانچہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ ممکن ہوا کہ آپ مسائل کے درمیان مواقع کو دیکھ سکیں، اور ان کو اویل کریں۔ اس کو کہتے ہیں— حالات سے اوپر اٹھ کر سوچنا۔
وہ مواقع کیا تھے۔ مثلاً یہ کہ قدیم کعبہ جو توحید کا سینٹر ہونے کے باوجود بتوں کا مرکز بن گیا تھا۔ یہ بات توحید کے پیغمبر کے لیے ناقابلِ برداشت تھی کہ وہ ایسا ہوتے ہوئے دیکھے، اور اس کے خلاف احتجاج نہ کرے۔ مگر پیغمبر اسلام کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ آپ نے ان بتوں کو کعبہ سے ہٹانے کی کوئی بات نہیں کی۔ اس کے برعکس، آپ نے حالات سے اوپر اٹھ کر عمل کیا۔ یعنی آپ نے گہرے مطالعے کے بعد سمجھا کہ جس کعبہ میں بت رکھے ہوئے ہیں، اسی بت کی وجہ سے پورے عرب سے روزانہ بڑی تعداد میں زائرین آتے ہیں، جو پوٹنشل آڈینس کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر بتوں کے خلاف آواز اٹھائی جائے، تو بت نہیں ہٹے گا، مگر نقصان یہ ہوگا کہ زائرین ، یعنی پوٹنشل آڈینس کا آنا بھی بند ہوجائے گا۔ اس کے برخلاف، جب بتوں کے خلاف ہنگامہ نہ کیا جائے تو زائرین ، یعنی آڈینس آئیں گے، جن کو آسانی سے اپنا پیغام پہنچایا جاسکتا ہے۔ پیغمبر اسلام نے یہی طریقہ اختیار کیا، اور سارا عرب آپ کے لیے توحید کا آڈینس بن گیا۔اس طرح آپ نے بتوں کے اجتماع کو مینج کرکے اس کو توحید کا آڈینس بنا دیا۔
اسی طرح یہ کہ پیغمبر اسلام نے اپنا مشن قدیم مکہ میں شروع کیا۔ وہاں آپ کی شدید مخالفت ہوئی۔ یہاں تک کہ انھوں نے آپ کو الٹی میٹم دے دیا کہ آپ مکہ کو چھوڑ دیں، ورنہ ہم آپ کو قتل کردیں گے۔ ان حالات میں آپ نے مکہ کو چھوڑدیا، اور خاموشی کے…
…اِنھیں میں حضرت یوسف پیدا ہوئے، جو حضرت یعقوب کے بیٹے تھے۔ حضرت یوسف کے ساتھ ایسے حالات پیش آئے کہ وہ مصر پہنچ گئے۔ اُس زمانے میں وہاں جس بادشاہ کی حکومت تھی، وہ حضرت یوسف پر مہربان ہوگیا اور اُن کو اپنی حکومت میں ایک بڑا عہدہ دے دیا۔
پھر حضرت یوسف کو جب مصر میں استحکام حاصل ہوا، تو انھوںنے اپنے اہل خاندان، بشمول اپنے والد حضرت یعقوب، سے کہا کہ آپ لوگ فلسطین چھوڑ کر مصر آجائیں۔ اِس طرح یہ لوگ مصر جاکر وہاں آباد ہوئے۔ وہاں ان کی نسل کافی بڑھی، یہاں تک کہ وہ مصر کی ایک با اثر قوم بن گئے۔
حضرت یوسف کے بعد مصر میں سیاسی انقلاب آیا، اور قدیم بادشاہ (Hyksos Kings) کے بجائے ایک نیا خاندان، مصر کا حکم راں بن گیا جس نے فرعون (Pharaoh) کو اپنے خاندانی لقب کے طورپر اختیار کیا۔ فرعون کی اِسی حکومت کے زمانے میں بنی اسرائیل پر…
…کوئی فضیلت نہیں) اِن الفاظ میں بظاہر مطلق مساوات کا اعلان تھا، لیکن آپ کی وفا ت کے بعد جب خلافت کا مسئلہ پیدا ہوا تو اس کو الائمۃ من قریش (مسند احمد، رقم الحدیث: 12657)کی بنیاد پر حل کیاگیا۔ یہ فعل واضح طورپر آئیڈیل مساوات کے خلاف تھا۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے: أمرہم شوریٰ بینہم (اہلِ ایمان کے معاملات اجتماعی مشورے سے طے ہوتے ہیں) الفاظ کے اعتبار سے بظاہر یہ ایک مطلق اصول ہے، لیکن خلیفۂ اوّل حضرت ابو بکر نے خلیفۂ ثانی حضرت عمر کے تقرر میں اِس تعلیم کے خلاف عمل کیا۔ انھوں نے اپنے بعد خلیفہ ثانی کے لئے نام زدگی (nomination) کا طریقہ اختیار کیا۔ آپ نے رائے عامہ کے بغیر بطورخود حضرت عمر کی خلافت کا اعلان کردیا۔ یہ واقعہ واضح طورپر مذکورہ قرآنی اصول کے خلاف تھا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ میں خلافت کے سوال پر مہاجرین اور انصار کے درمیان اختلاف ہوا۔ انصار کا یہ کہنا تھاکہ: منا أمیر ومنکم أمیر (ایک امیر مہاجر ین میںسے اور ایک امیر انصار میںسے)۔بحث کے بعد آخر کار یہ طے…
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم
محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری پیغمبر تھے۔ وہ 570 عیسوی میں قدیم مکہ میں پیداہوئے۔ 610 عیسوی میں اُن کو خدا کی طرف سے پہلی وحی ملی۔ اِس کے بعد انھوںنے مکہ میں اپنا مشن شروع کردیا۔ وہ 13 سال مکہ میں رہے۔ اس کے بعد 622 عیسوی میں وہ عرب کے دوسرے شہر مدینہ چلے گئے۔ وہاں انھوں نے اپنے مشن کو مزید 10 سال تک جاری رکھا۔ 632 عیسوی میں اُن کی وفات ہو ئی۔ ان کی قبر مدینہ میںاب بھی موجود ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل مشن توحید تھا، یعنی خدا کو ایک ماننا، اورایک ہی خدا کی عبادت کرنا۔ جب پیغمبر ِ اسلام نے لوگوں کو توحید کا یہ پیغام دینا شروع کیا، اُس وقت مکہ کی مسجد کعبہ میں 360 بُت موجود تھے، لیکن آپ نےبتوں کی…
…کی۔ مگر اسلام سےپہلے کسی بھی دور میں ایسا نہیں ہوا کہ بڑی تعداد میں لوگ توحید کے نظریہ کو مان لیں اور توحید کی بنیاد پر انسانی معاشرہ میں وسیع انقلاب برپا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام سے پہلے انسان کبھی توحید کے حقیقی ثمرات سےآشنا نہ ہوسکا۔
جیسا کہ عرض کیاگیا، خدا کا ہر پیغمبر توحید کا پیغام لےکر آیا۔ مگر پچھلے پیغمبروں کے ساتھ یہ صورت پیش آئی کہ ان کے پیرو ان کے لائے ہوئے دین کی حفاظت نہ کرسکے۔ انھوں نے توحید میں شرک کی آمیزش کردی۔ مثال کے طورپر حضرت مسیح نے خالص توحید کا پیغام دیا، مگر ان کے بعد ان کے پیروؤں نے خود حضرت مسیح کو خدا سمجھ لیا۔ ان کا یہ مشرکانہ عقیدہ مختلف پہلوؤں سے سائنس کی ترقی کے لیے رکاوٹ بن گیا۔ مثلاً کچھ علمائے فلکیات نے نظامِ شمسی کی تحقیق کی۔ وہ اس حقیقت تک پہنچے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ مگر عیسائی علماء ایسے لوگوں کے سخت مخالف ہوگئے۔ اس کی وجہ ان کا مذکورہ مشرکانہ عقیدہ تھا۔ انھوں نے زمین کو خداوند کی جنم بھومی فرض کررکھا تھا، اس لیے ناقابلِ فہم ہوگیا کہ جس زمین پر خدا پیدا ہوا ہو، وہ زمین نظامِ شمسی کا مرکز نہ ہو، بلکہ اس کی حیثیت محض ایک تابع کی قرار پائے۔ اپنے مشرکانہ عقیدہ کو بچانے کے لیے انھوں نے سائنسی حقیقت کا انکار کردیا۔
دوسری بات یہ کہ پچھلے تمام پیغمبروںکامشن صرف اعلان کی حد تک جاسکا، وہ عملی انقلاب تک نہیں پہنچا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھی انسانی تاریخ کے پہلے گروہ ہیں جنھوں نے توحید کو ایک زندہ عمل بنایا۔ انھوں نے اولاً عرب میں…
…وہ اس انتظار میں تھے کہ میزبان نماز کے بعد چائے لے کر آئے گا۔ مگر میزبان نماز کے بعد ہم سے رخصت ہوکر گیا، تووہ دوبارہ واپس نہیں آیا۔ انتظار کرتے کرتے عشاکا وقت ہوگیا۔ ہم لوگ عشا کی نماز پڑھ کر بیٹھ گئے ،مگر بدستور میزبان کا پتہ نہ تھا۔
میرے ساتھی جو اس سے پہلے چائے کے منتظر تھے، اب بھوک سے بے تاب ہو کر کھانے کا انتظار کرنے لگے۔ غرض کافی انتظار کے بعد میزبان بڑے سے برتن میں کھانا لے کر آیا۔ میرے ساتھی خوش ہوئے کہ آخر کار انتظار ختم ہوا۔ مگر ان کی خوشی دیر تک باقی نہیں رہی۔ میزبان نے برتن سے کپڑا ہٹایا تو معلوم ہوا کہ جو کھانا وہ لے کر آیا ہے، عجیب وغریب کھانا ہے، یعنی ارہر کی دال اور گلگلہ۔
اب میرے ساتھیوں کا صبر ٹوٹ گیا۔ وہ بول پڑے کہ اتنی دیر کے بعد تم کھانا لائے ہو، اور وہ بھی ایسا عجیب وغریب کھانا جو ہم نے کبھی نہ کھایا تھا، اور سنا تھا۔ مگر میرا رد عمل بالکل مختلف تھا۔ میں نے بہت خوشی کے ساتھ کھانا شروع کردیا، اور کہا کہ…
روزہ اور اعتکاف
رمضان کے مہینے میں، عام طورپر آخری عشرہ میں، مسجد کے اندر اعتکاف کیاجاتا ہے۔ جو لوگ اعتکاف کرتے ہیں، وہ اِن دنوں میں دوسرے تعلقات کو منقطع کرکے مسجد میں بیٹھ جاتے ہیں۔ناگزیر انسانی ضرورت کے سوا، وہ کسی اور مقصد سے باہر نہیں نکلتے۔ مسجد میں خلوت نشیں ہوکر ، وہ اپنا زیادہ وقت عبادت اور ذکر اور دعا اور تلاوتِ قرآن میں گزارتے ہیں۔
اعتکاف کا لفظی مطلب — خلوت نشینی (seclusion) ہے۔ یہ اعتکاف کس لیے کیا جاتا ہے۔ حدیث میں اعتکاف کرنے والے کے بارے میں آیا ہے کہ: ہو یعتکف الذُّنوب ( مشکاۃ المصابیح ، رقم : 2108 ) یعنی وہ گناہوں سے اعتکاف کرتا ہے۔ گناہوں سے اعتکاف کرنے کا…
درمیانی شخص کا رول
زندگی کی حکمتوں میںسے ایک حکمت یہ ہے کہ وسیط یا درمیانی شخص (middleman) کی اہمیت کوسمجھا جائے اور اس کو تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہ ایک عالمی اصول ہے۔ ہرزمانے میں اِس کی مثالیں پائی جاتی ہیں، قدیم تاریخ میں بھی اور جدید تاریخ میں بھی۔
1 - قرآن میں اِس معاملے کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ایک مثال حضرت یوسف علیہ السلام کی ہے۔ حضرت یوسف اٹھارھویں صدی قبل مسیح میںفلسطین میں پیداہوئے، پھر وہ مخصوص اسباب کے تحت مصر پہنچے۔ اُس وقت مصر میںایک بادشاہ کی حکومت تھی۔ اس کا نام یہ…
…کا یہ طاقت ور لشکر تقریباً ایک مہینے کے محاصرے کے بعد خود ہی مدینہ کے خلاف کوئی اقدام کئے بغیر واپس چلا گیا۔ یہ معجزہ(miracle) کیسے پیش آیا۔ اِس کا جواب ہم کو سیرت کی کتابوں سے ملتا ہے۔ سیرت کی کتابوں میںیہ واقعہ تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔
اِس کا خلاصہ یہ ہے کہ اُس وقت مدینہ میں ایک صاحب تھے جن کا نام نُعیم بن مسعود بن عامر الاشجعی (وفات 650 ء) تھا۔ وہ اگر چہ دل سے مسلمان ہوچکے تھے، لیکن مخالفِ اسلام گروہ کو ابھی تک اِس کا علم نہ تھا۔ اِس بنا پر ان کے قبیلے کے اندر، یا مخالفِ اسلام گروہ کے اندر ان کو بدستور معتمد علیہ (trustworthy) شخص کی حیثیت حاصل تھی۔ اِس بنا پر وہ اُس وقت دو طرفہ رول ادا کرنے کی پوزیشن میںتھے۔
محاصرے کے دوران نُعیم بن مسعود الاشجعی رات کے وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اپنے بارے میں بتایا کہ میں دل سے اسلام کو مان چکا ہوں، لیکن ابھی دوسرے لوگ اِس سے واقف نہیں۔ اِس بنا پر ابھی تک مجھ کو اُن کا اعتماد حاصل ہے۔…
ہیمرنگکی زبان
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوت کے ابتدائی تیرہ سال تک مکہ میں رہے، اس کے بعد آپ مدینہ چلے گئے اور آخر وقت تک وہیں رہے۔ پہلے دور کو مکی دور کہاجاتا ہے اور دوسرے دور کو مدنی دور۔ قرآن کی سورہ نمبر 109 (الکافرون) کا آغاز اِن الفاظ سے ہوا تھا: قل یاأیّہا الکافرون (کہوکہ اے کافرو)۔ اِس خطاب کے بعد سورہ میں فرمایا گیا تھا کہ: ولا أنتم عابدون ما أعبد (تم اس کی عبادت نہیں کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتاہوں)۔
مذکورہ خطاب ثابت شدہ طورپر قدیم اہلِ مکہ سے تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اِس کے تقریباً آٹھ سال بعد مکہ فتح ہوا، اور مکہ کے تمام لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔ یہی واقعہ ہے جس کو قرآن کی سورہ نمبر 110 میںاِن الفاظ میں بیان کیاگیا: إذا جاء نصر…
…دیکھوں گا کہ موسیٰ عرشِ الٰہی کو پکڑ کر کھڑے ہوئے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ وہ بے ہوش ہوئے تھے اور پھر ہوش میں آگئے، یا اللہ نے اُن کو بے ہوشی سے مستثنیٰ رکھا (صحیح البخاری ومسلم، بہ حوالہ: جامع الأصول فی أحادیث الرسول، رقم الحدیث:6308)۔
اِس روایت میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کو کچھ نہیں کہا، آپ نے یہودی کو ’’گستاخِ رسول‘‘ قرار نہیں دیا۔ آپ اُس وقت مدینہ میں حاکم کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس کے باوجود آپ نے اِس معاملے میں یہودی کی طرف سے بالکل صرفِ نظر فرمایا۔ آپ نے صرف مسلمان کو نصیحت کی۔ آپ نے مسلمان کو ہمیشہ کے لیے اِس قسم کے رویّے سے باز رہنے کا حکم دیا۔
دوسری بات جو اِس واقعے سے معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ اسلام میںتفضیل اور تفاخر کی زبان استعمال کرنا مطلقاً ممنوع ہے۔ اہلِ ایمان کو جس طرح سب وشتم کی زبان سے مکمل طورپر بچنا ہے، اُسی طرح اُن کے لیے ضروری ہے کہ وہ تفضیل اور تفاخر کی زبان سے مکمل…
جہاد اسلامی تاریخ میں
جہاد کے لفظی معنیٰ کوشش یا جدّ وجہد کے ہیں۔ اِس سے مراد اصلاً پُرامن کوشش ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر پچیس میں ارشاد ہوا ہے— اُن سے جہاد کرو، قرآن کے ذریعے، بڑا جہاد (الفرقان: 52 ) قرآن کی اِس آیت میں جہاد یا ’جہادِ کبیر‘ سے مراد واضح طورپر پُرامن دعوتی جد و جہد ہے۔ اِسی طرح حدیث میں آیا ہے: المجاہد مَن جاہد نفسہ فی طاعۃ اللّٰہ (مسند احمد، جلد 6، صفحہ 22) یعنی مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کے خلاف خدا کی اطاعت کے لیے جہاد کرے۔ اِس حدیثِ رسول میں جس چیز کو جہاد کہاگیا ہے، وہ بھی واضح طورپر ایک پُرامن عمل ہے، اُس کا جنگ اور قتال سے کوئی تعلق نہیں۔
تاہم، توسیعی معنوں میں کبھی جہاد کا لفظ قتال کے لیے بھی بولا جاتا ہے، یعنی حربی جہاد کے لیے۔ موجودہ زمانے میں جہاد کا لفظ عام طورپر مسلّح جہاد کے لیے استعمال ہونے لگا ہے۔ آج کل مختلف ملکوں میں مسلمان اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف مسلّح…
…اِسی لیے اُن کو ’صَوافی الأُمراء‘ کہاجاتا ہے،یعنی حاکموں کا میدان (جامع بیان العلم، جلد 2، صفحہ 144)۔ علماء کے اتفاق کے مطابق، مسلّح جہاد کا تعلق، صوافی الامراء سے ہے، یعنی اُس کا فیصلہ صرف حکام کرسکتے ہیں، نہ کہ عوام (الرّحیل للإمام)۔
مکی دَور کے تیرہ سالوں میں اہلِ اسلام کا اقتدار قائم نہیں ہوا تھا، اِس لیے مکی دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم کے باوجود جنگ اور قتال کا فیصلہ نہیں فرمایا۔ اِس کے بعد جب ہجرت کا واقعہ پیش آیا اور مدینہ میں پیغمبر اسلام کا اقتدار قائم ہوگیا تو آپ نے دفاع کے لیے جنگ کی اجازت دی۔ اِسی زمانے میں غزوۂ بدر (2 ہجری)، غزوۂ اُحُد (3ہجری) اور غزوۂ حُنَین (8ہجری) کے واقعات پیش آئے، یہ سب دفاعی غزوات تھے۔ اسلام میں صرف دفاعی جنگ جائز ہے اور اُس کا اختیار بھی صرف حاکمِ وقت کو حاصل ہوتا ہے، کسی غیر حکومتی گروہ کو مسلح جہاد کی ہرگز اجازت نہیں۔
اسلام میں اگر چہ دفاع کے لیے جنگ کی اجازت ہے، لیکن اسی کے ساتھ شدت سے اِعراض کا حکم دیا گیا ہے، یعنی دفاع کے حالات پیدا ہونے کے باوجود آخری حد تک جنگ سے اعراض کی کوشش کی جائے گی اور جب اعراض کی تمام کوششیں ناکام ہوجائیں، اُ س وقت آخری…
…تھا۔ ایک یہ کہ مکہ کے سرداروں کے حربی چیلنج کو قبول کرتے ہوئے، اُن سے مسلّح مقابلہ کریں۔ اُس وقت تک مکہ اور اطرافِ مکہ میں کئی سو افراد آپ پر ایمان لا کر آپ کے ساتھی بن چکے تھے، اِس لحاظ سے آپ کے لیے یہ انتخاب بظاہر ایک ممکن انتخاب تھا۔
آپ کے لیے دوسرا انتخاب یہ تھا کہ آپ مسلح ٹکراؤ سے اعراض کریں، خواہ اِس مقصد کے لیے آپ کو مکہ سے ہجرت کرنا پڑے، یعنی آپ پُر امن طورپر مکہ کو چھوڑ کر باہر چلے جائیں، آپ نے یہی دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ آپ نے مسلح ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ دیا اور پُرامن ہجرت کا طریقہ اختیار کرکے آپ مدینہ چلے گیے۔ اگر چہ ظاہر پسندوں کی نظر میں یہ کوئی باعزت طریقہ نہ تھا۔ چناں چہ سیکولر مؤرخین نے اِس واقعے کو ہجرت کے بجائے فرار (flight) کا نام دیا ہے۔
اِسی طرح کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلحِ حدیبیہ کہاجاتا ہے۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ چھوڑ کر مدینہ آگیے تو آپ کو یہ موقع ملا کہ آپ دعوتِ توحید کا کام زیادہ بڑے پیمانے پر انجام دے سکیں۔ یہ بات مکہ کے سرداروں کو پسند نہیں آئی۔…
ماڈل کون
قرآن اور حدیث کی صراحت کے مطابق، اسلام میں چار ماڈل ہیں— رسول، اصحابِ رسول، خلفائِ راشدین اور محدّثین۔ قرآن میںارشاد ہوا ہے کہ: لقد کان لکم فی رسول اللہ أسوۃ حسنۃ (الأحزاب: 21 ) اِس سے معلوم ہوا کہ دعوتی عمل کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اصحابِ رسول کو قرآن میںانصارُ اللہ (الصّف: 14 ) کہاگیا ہے۔ ’انصار اللہ‘ میںمکہ کے اہلِ ایمان اور مدینہ کے اہلِ ایمان دونوں شامل ہیں۔ اِس طرح اصحابِ رسول، نصرتِ خداوندی کا ماڈل ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ: علیکم بسنّتی، وسنّۃ الخلفاء الراشدین المہدیّین (مسند احمد، جلد 4، صفحہ 126 )۔ اِس سے معلوم ہوا کہ حکم رانی کے لیے خلفائِ راشدین ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اِسی طرح حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ: العلماء وَرَثۃ الأنبیاء (البخاری، کتاب العلم) اِس حدیث کے مطابق، امت کے علما خدمتِ دین کا ماڈل ہیں۔ علما کے اِس طبقے میں سب سے پہلے محدثین کانام آتا ہے۔ محدثین کی حیثیت معیاری علما کی ہے۔ محدثین، امتِ…
…وہ اس انتظار میں تھے کہ میزبان نماز کے بعد چائے لے کر آئے گا۔ مگر میزبان نماز کے بعد ہم سے رخصت ہوکر گیا، تووہ دوبارہ واپس نہیں آیا۔ انتظار کرتے کرتے عشاکا وقت ہوگیا۔ ہم لوگ عشا کی نماز پڑھ کر بیٹھ گئے ،مگر بدستور میزبان کا پتہ نہ تھا۔
میرے ساتھی جو اس سے پہلے چائے کے منتظر تھے، اب بھوک سے بے تاب ہو کر کھانے کا انتظار کرنے لگے۔ غرض کافی انتظار کے بعد میزبان بڑے سے برتن میں کھانا لے کر آیا۔ میرے ساتھی خوش ہوئے کہ آخر کار انتظار ختم ہوا۔ مگر ان کی خوشی دیر تک باقی نہیں رہی۔ میزبان نے برتن سے کپڑا ہٹایا تو معلوم ہوا کہ جو کھانا وہ لے کر آیا ہے، عجیب وغریب کھانا ہے، یعنی ارہر کی دال اور گلگلہ۔
اب میرے ساتھیوں کا صبر ٹوٹ گیا۔ وہ بول پڑے کہ اتنی دیر کے بعد تم کھانا لائے ہو، اور وہ بھی ایسا عجیب وغریب کھانا جو ہم نے کبھی نہ کھایا تھا، اور سنا تھا۔ مگر میرا رد عمل بالکل مختلف تھا۔ میں نے بہت خوشی کے ساتھ کھانا شروع کردیا، اور کہا کہ…
دین اورمنہاج
قرآن کی سورہ نمبر 42 میں بتایاگیا ہے کہ خدا کا جو ’الدّین‘ہے، اُس کو خدا نے تمام پیغمبروں کو یکساں طورپردیا ہے (الشوریٰ:13 )۔ الدّین سے مراد، خدا کے دین کی ابدی تعلیمات ہیں۔ یہ تعلیمات ہمیشہ یکساں رہتی ہیں، اِس میںحالات یا زمانے کے تغیر سے کوئی فرق نہیں ہوتا۔ دین کی یہ ابدی تعلیمات تمام پیغمبروں کو یکساں طورپر دی گئی ہیں۔ اِن ابدی تعلیمات کے اعتبار سے ایک اور دوسرے کے درمیان کوئی فرق نہیں (لانفرّق بین أحدٍ من رّسُلہ، البقرۃ: 285 )
دوسری طرف، قرآن کی سورہ نمبر پانچ میں بتایاگیا ہے کہ ہر پیغمبر کو خدا نے الگ الگ منہاج دیے : لکلٍّ جعلنا منکم شِرعۃً ومنہاجاً (المائدۃ:48 )۔ اِس سے معلوم ہوا کہ دینِ خداوندی کے دو حصے ہیں۔ ایک، الدین اور دوسرا، منہاج۔ الدین ابدی طور پر…
…موجود ہیں۔ الدین کے معاملے میں پیغمبر اسلام کا اُسوہ،ابدی طور پر اور غیر متغیر طورپر ایک ہے اور ایک رہے گا، لیکن جہاں تک منہاج کا معاملہ ہے، اُس کا تعلق حالات سے ہے۔ ہر زمانے میں جو طریقہ حالات کے مطابق ہوگا، اُس کو اختیار کیا جائے گا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب غزوۂ بدر (2 ہجری) کے لیے اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے کوچ فرمایا تو آپ نے اپنی صواب دید کے مطابق ،ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ آپ کے ساتھیوں میں سے ایک ساتھی حبّاب بن مُنذر بن جموح نے آپ سے پوچھا کہ کیا یہ جگہ جہاں آپ نے پڑاؤ ڈالا ہے، یہ خدا کی وحی کی بنیاد پر ہے، آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ انھوںنے کہا کہ پھر تو یہ کوئی پڑاؤ ڈالنے کی جگہ نہیں (فإنّ ہٰذا لیس بمنزل)۔ اِس کے بعد آپ نے اُن کے مشورے کے مطابق، پڑاؤ کی جگہ کو بدل دیا۔
اِسی طرح کی ایک مثال وہ ہے جو غزوۂ اَحزاب (5 ہجری) کے موقع پر پیش آئی۔ اُس وقت آپ کے مخالفین ایک بڑی فوج لے کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ اُس وقت اہلِ ایمان مقابلے کی پوزیشن میں نہ تھے، اِس لیے آپ نے چاہا کہ کسی تدبیر کے تحت جنگ کو ٹال…
…انسان کے لیے ابدی رہ نما کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت ہے کہ اُس نے پیغمبر آخر الزّماں کی زندگی کو آخری طورپر محفوظ کردیا۔ ورنہ جہاں تک پچھلے پیغمبروں کا معاملہ ہے، ان کی تاریخ پورے طور پر محفوظ حالت میں موجود نہیں۔
لیکن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے نمونہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کے یہاں انسانی زندگی کے ہر معاملے کے لیے ایک مقرر مثال (set pattern) یا ایک پیشگی نمونہ (prototype) موجود ہے اور ہمیں، حقیقی صورتِ حال کا لحاظ کیے بغیر، صرف یہ کرنا ہے کہ اِن پیشگی نمونوں کو لے کر ہمیشہ اُن کو اپنے ہر معاملے میں منطبق کرتے رہیں۔ اگر ایسا مانا جائے تو اسلام ایک جامد مذہب بن جائے گا، جس میں مزید ترقی کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ یہ بات پیغمبر اسلام کے زمانے کے لیے بھی درست ہے اور آپ کے بعد کے زمانے کے لیے بھی۔ اِس سلسلے میں چند مثالیں اوپر آچکی ہیں۔ یہاں مزید کچھ مثالیں درج کی جاتی ہیں۔
چند مزید مثالیں
جہاد کیا ہے
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے واپس ہو کر مدینہ پہنچے تو آپ نے فرمایا: رجعنا من الجہاد الأصغر إلی الجہاد الأکبر (ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آئے ہیں) اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ ہم وقتی جہاد سے مستقل جہادکی طرف واپس آئے ہیں:
We have come back from temporary jihad to permanent jihad.
…یہ ہے کہ خدا نے لوہا بنایا جس میں خصوصی طاقت ہے، مگر لوہا اس لیے نہیں ہے آپ اس کو تشدد کے لیے استعمال کریں، بلکہ آپ کو چاہیے کہ لوہے کو تعمیر انسانیت کے لیے استعمال کریں۔ آپ لوہے سے تلوار کے بجائے درانتی بنائیں جو زراعت کے کام آتی ہے۔
اِسی طرح انھوں نے کہا کہ —جنگل ہوں گے تو اناج ہوگا۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ جنگل سے بارش ہوگی اور بارش سے کھیتوں میں فصل اُگے گی۔ اِسی کے ساتھ اس قول کا ایک اخلاقی پہلو بھی ہے۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں ایک کو دوسرے کے ساتھ تعاون کا معاملہ کرنا ہے۔ باہمی تعاون کے بغیر اس دنیا میں کوئی تعمیری نتیجہ بر آمد نہیں ہوسکتا۔
شیخ نورا لدین نورانی کے اقوال کشمیری زبان میں ہیں۔ یہ اقوال، انسانیت اور روحانیت کی اسپرٹ سے بھر پور ہیں۔ کچھ مزید اقوال کا ترجمہ یہ ہے:
پائنٹ آف ریفرنس
7 فروری 2004 کو ترکی کی باسفورس یونیورسٹی (استنبول) کے پروفیسر ڈاکٹر مارک لنڈلے (Mark Lindley)کی قیادت میںترک طالبات کا ایک وفد اسلامی مرکز میںآیا۔ ان طالبات کے نام حسب ذیل ہیں:
Gagla Orpen
اب جو شخص اسلام کو اس کی واقعی حیثیت میںسمجھنا چاہے اس کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ بعد کی بننے والی تاریخ سے گزر کر پہلے دور میںپہنچے اور اسلام کو براہِ راست خدا کی کتاب اور رسول کی سنت کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرے۔
موجودہ مسلم تاریخ، اسلام کو سمجھنے کا مستند ذریعہ نہیں بن سکتی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ تاریخ قدیم ذوق کے مطابق، انتخابی (selective) انداز میں لکھی گئی ہے۔ قدیم زمانے میں تاریخ نگاری کا جو طریقہ رائج تھا وہ یہ تھا کہ سیاسی واقعات کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔ سیاست یا سیاست سے متعلق واقعات ہی کے بیان کا نام تاریخ تھا۔ چنانچہ شعوری یا غیر شعوری طور پر مسلم مورخین نے بھی اسلام کی تاریخ اس نہج پر مرتب کی۔
ابن خلدون ( وفات: 1406 ) نے اس نہج کو بدلنے کی کوشش کی مگر اس وقت تک تاریخ نگاری کا کام اپنی تکمیل کو پہنچ چکا تھا۔ تمام کتابیں اسی قدیم نہج پر لکھی جاچکی تھیں۔ اس لیے یہ نہج بدستور باقی رہا۔ اب اس غلطی کی واحد تلافی یہ ہے کہ اسلام اور…
…اُنھوں نے یہ طے کیا کہ قرآن اور صاحب قرآن کے خلاف وہ عیب جوئی اور الزام تراشی کی مہم چلائیں۔ اپنے جس منفی مقصد کو وہ دلیل کے زور پر حاصل نہیں کرسکتے اُس کو وہ سبّ و شتم کے زور پر حاصل کریں اور اسی طرح عوام کو قرآنی تحریک سے دور کردیں۔
کسی بات یا کسی شخص کے بارے میں اظہار رائے کے دو طریقے ہیں۔ ایک تنقید، دوسرا تعییب۔ تنقید کا مطلب ہے حقائق کی بنیاد پر زیر بحث امر کا تجزیہ کرنا۔اس کے برعکس تعییب یہ ہے کہ آدمی زیر بحث مسئلہ پر دلائل پیش نہ کرے۔ وہ صرف اس میں عیب نکالے وہ اس پر الزام لگا کر اس کو مطعون کرے۔ تنقید کا طریقہ سراسر جائز طریقہ ہے، مگر تعییب کا طریقہ سراسر ناجائز طریقہ۔
جو لوگ کسی کی مخالفت میں یہ کریں کہ وہ دلیل کے طریقہ کو چھوڑ کر عیب جوئی اور کردار کُشی کا طریقہ اختیار کریں، وہ اپنے مفروضہ حریف کو بدنام کرنے کی مہم چلائیں، ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ قرآن کے مطابق، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ کے یہاں…
…پرافٹ کا تعلق، دین کے نظریاتی حصے سے ہے۔ اور نظریاتی اعتبار سے بلا شبہہ ایک پیغمبر فائنل پیغمبر ہوسکتا ہے، لیکن ماڈل کا تعلق، خارجی حالات سے ہے۔ یہ حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں، اِس لیے عملی اعتبار سے کوئی ایک پیغمبر فائنل ماڈل نہیں بن سکتا۔
قرآن کی اصطلاح کے مطابق، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ’الدّین‘ کے اعتبار سے فائنل پیغمبر تھے، لیکن ’منہاج‘ کے اعتبار سے آپ فائنل ماڈل نہ تھے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ حدیث میں یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ آخری زمانے میں مسیح دوبارہ نازل ہوں گے۔
جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبرآخر الزماں کا زمانۂ نبوت قیامت تک ہے، اس لیے اب آپ کے بعد کسی اور پیغمبر کا شخصی طورپر آنا ناقابلِ فہم بات ہے۔ اِس لیے اِن روایات کو درست مانتے ہوئے ان کی صحیح تاویل یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں جو چیز واقع ہوگی،…
احکامِ دین
دین میں جو احکام دیے گیے ہیں وہ مختلف نوعیت کے ہیں۔ قرآن اور سنت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان احکام کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو دین کا مطلق حصہ (absolute part) ہیں۔ اور دوسرے احکام وہ ہیں جو دین کا اضافی حصہ (relative part) ہیں۔ مطلق حصہ ہر حال میں یکساںطورپر مطلوب ہوتاہے۔ جب کہ اضافی حصے کی مطلوبیت حالات پر منحصر ہوتی ہے۔ کسی وقت کے حقیقی حالات یہ طے کرتے ہیں کہ ان کا نفاذ کس طرح کیا جائے گا۔
احکام دین کے اس فرق کو سمجھنے کے لیے قرآن اور سنت کے دو حوالوں کا مطالعہ کیجیے۔ قرآن کی سورہ نمبر 109 میںپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ کہلایا گیا ہے کہ کہو کہ اے منکرو، میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو۔…
…زیارت کے لیے برابر وہاں آتے رہـتے تھے۔ اِسی طرح خود اہلِ مکّہ کے لیے بھی کعبہ ایک مرکزِ اجتماع بنا ہوا تھا۔ جہاں وہ روزانہ اکھٹا ہوتے اور اپنے رواج کے مطابق، وہاں اپنے مذہبی مراسم ادا کرتے۔ اِس طرح کعبہ فطری طورپر ایک مقامِ اجتماع بن گیا۔
کعبہ میںرکھے ہوئے بُت بظاہر پیغمبر اسلام کے لیے ایک مسئلہ تھے، لیکن کعبہ کے صحن میں لوگوںکے اجتماع نے اِس مقام کو گویا کہ عربوں کی نیشنل اسمبلی کا درجہ دے دیا تھا۔ آپ نے کعبہ کے اِس دوگونہ پہلو کو سمجھا، اور بصیرتِ قرآنی سے کام لیتے ہوئے یہ کیا کہ آپ نے بتوں کی موجودگی کو وقتی طور پر نظر انداز کیا، اور انسانوں کی موجودگی کو اپنی دعوت کے لیے مقامِ خطاب کے طورپر استعمال کیا۔ چنانچہ آپ پُرامن طور پر وہاں جاتے اور لوگوں کو قرآن کے حصے پڑھ کر سُناتے۔ اِس طرح قرآن کا پیغام کسی ٹکراؤ کے بغیر خاموشی کے ساتھ عرب قبائل میں پہنچنے لگا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال تک پُرامن پیغام رسانی کا یہ مشن چلاتے رہے۔ قریش نے دیکھا کہ لوگ آپ کے کلام سے متاثر ہو کر آپ کے دین میں داخل ہورہے ہیں، اِس لیے وہ آپ کے مخالف ہوگیے۔ یہ مخالفت اتنی زیادہ بڑھی کہ انھوں نے یہ…
…دفاعی جنگ لڑو، یہاں تک کہ مذہبی جبر(فتنہ) کی حالت ختم ہوجائے اور مذہبی آزادی کی حالت قائم ہوجائے۔ مذہبی جبر یا مذہبی ایذارسانی اپنے آپ میں ایک جارحانہ فعل ہے، اور دوسری جارحیت کی طرح، اس جارحیت کے خلاف جو جنگ کی جائے وہ بھی دفاعی جنگ ہے۔
پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے یہی مدافعانہ جنگ کی۔ یہ گویا ایک قسم کا وقتی آپریشن تھا۔ یہ آپریشن بہترین تربیت یافتہ انسانوں کے ذریعہ کیاگیا، اور یہ آپریشن اصحاب رسول کی اگلی ہی نسل میں تقریباً مکمل ہوگیا۔
جیسا کہ معلوم ہے، یہ آپریشن ہجرت مدینہ کے بعد شروع ہوا ،پہلے عرب میںاور اس کے بعد ایرانی سلطنت اور بازنطینی سلطنت کے دائرہ میں۔ یہ آپریشن پیغمبر اسلام کے زمانہ میں شروع ہوا اورخلیفۂ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں وہ اپنی آخری تکمیل تک…
…گیا اور اسی کے ساتھ تشدد کا بھی۔ کیوں کہ کشور کُشائی اور ملک گیری کی مہم تشدد کے بغیر چلائی نہیں جاسکتی۔ سیاسی حوصلہ مندوں کے اس عمل میں چند چیزوں سے خصوصی نظریاتی مدد ملی۔ اس طرح اُنھیں اپنی عملی سیاست کے لیے نظریاتی جواز بھی حاصل ہوگیا۔
ایک یہ کہ قدیم زمانہ کے رواج کے مطابق، اسلام کی تاریخ سیاسی نمونہ پر لکھی گئی۔ خلافت عباسیہ سے لے کر بعد کے زمانہ تک جتنی بھی تاریخیں لکھی گئیں، وہ سب کی سب قدیم پیٹرن پر لکھی گئیں۔ قدیم پیٹرن میں جنگ و فتح اور سیاسی معرکہ آرائیوں کو سب سے زیادہ اہم سمجھا جاتا تھا اور انھیںکوتاریخ کی کتابوں میں ریکارڈ کیاجاتا تھا۔
ان سیاسی حوصلہ مندوں کو جن چیزوں سے نظریاتی تائید ملی، اُن میں سے ایک، تاریخ نویسی کا یہ قدیم طریقہ تھا۔ یہ تمام تاریخیں حقیقتاً مسلم بادشاہوں کی تاریخیں تھیں۔ اُن کی قائم کردہ ہر سلطنت خاندانی خلافت (dynasty) تھی۔ مگر ان تاریخوںکو…
…سیاسی معنوں میں دار الاسلام بنانے کی کوشش کی جائے۔ اس قسم کا نظریہ سراسر بے بنیاد ہے۔ دیگر علاقوں کے لیے اہلِ اسلام کی ذمہ داری صرف دعوت ہے، اول بھی اور آخر بھی۔ پر امن دعوت کے سوا کسی بھی قسم کی دوسری کارروائی اہل اسلام کے لیے جائز نہیں۔
فقہ کی کتابوں میں،اور دوسرے موضوعات کی کتابوں میں عام طور پر بلاد الکفر اور بلاد الکفار کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ یہ اسلوب یقینی طورپر درست نہیں۔ غیر مسلم ملکوں کا ذکر ان کے اپنے معروف نام کے ساتھ کیا جانا چاہئے نہ کہ بلاد الکفر یا بلاد الکفار کے الفاظ میں۔ اس طرح کے معاملات میں ہمیں خود ساختہ طریقہ اپنانے کے بجائے انٹرنیشنل آداب کو اپناناچاہیے۔ اس سلسلہ میں بنیادی بات یہ ہے کہ اسلام دین فطرت ہے۔ ہر انسان کی جو فطرت ہے وہی خود اسلام بھی ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ ہر انسان امکانی طورپر مسلم ہے:
Every human being is potentially Muslim.
…شاعر ڈاکٹر محمد اقبال سے ملا۔ اقبال نے خود اپنے ایک شعر میں پیغمبر اسلام کے ماننے والوں کی تصویر اِن الفاظ میں پیش کی ہے: ہر مسلماں رگِ باطل کے لیے نشتر تھا۔ اقبال کے اِس مصرعے کا انگریزی ترجمہ مسٹر خوشونت سنگھ نے اِن الفاظ میں کیا ہے:
To every vein of falsehood, every muslim was a knife.
اسی طرح ڈنمارک کا کارٹونسٹ یہ کہہ سکتا ہے کہ پیغمبر اسلام کو ماننے والے خود یہ کررہے ہیں کہ اپنے جسم پر بم باندھ کر وہ اجتماعی مقامات پر جاتے ہیں اور دھماکہ کرکے وہاں بہت سے لوگوں کو ہلاک کردیتے ہیں۔ میں نے اپنے کارٹون میں صر ف یہ کیا تھا…
ایک خط
محترمہ نور باجی صاحبہ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ سے ٹیلی فون پر چند بار گفتگو ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ مولانا محمد ذکوان ندوی سے اکثر آپ کا ذکر ہوتا رہتا ہے جو سویڈن(ا سٹاک ہوم ) میں تین سال تک آپ سے قریب رہے ہیں، اور اب دہلی میں مقیم ہیں۔ میں نے آپ کے بارے میںجو اندازہ کیا ہے اس کے…
اجتماعی معاملات
زندگی کے معاملات دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کا تعلق مسلمانوں اور مسلمانوں کے باہمی معاملات سے ہو۔ دوسرا وہ جس کا تعلق مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان معاملات سے ہو۔ جو معاملات مسلمانوں اور مسلمانوں کے باہمی معاملات سے تعلق رکھتے ہوں ان کے فیصلہ کی بنیاد ہمیشہ کے لیے صرف ایک ہے، اور وہ قرآن اور سنت ہے۔ اس قسم کے باہمی معاملات میں مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ ابدی طورپر قرآن و سنت سے رہنمائی حاصل کریں اور جو کچھ وہاں سے ملے اُس پر دل کی رضامندی کے ساتھ قائم ہوجائیں (النساء: ۶۵۔۶۴)۔
معاملات کی دوسری قسم وہ ہے جو مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان پیش آنے والے مسائل سے تعلق رکھتی ہے۔ اس دوسرے قسم کے معاملات میں فیصلہ کی بنیاد وہ ہوگی جو دونوں کے لیے قابل قبول ہو۔ دوسرے لفظوں میں، اس کو اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں…
…کی وضاحت کرتے ہوئے میںنے کہا کہ قرآن میں ایک مقام پر پچھلے پیغمبروں کا ذکر کرتے ہوئے پیغمبر اسلام سے کہاگیا ہے کہ : اولٰئک الذین ہدی اللہ فبہداہم اقتدہ (الأنعام ۹۰) ۔ یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی، پس تم بھی ان کے طریقہ پر چلو۔
قرآن کی اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت کے اعتبار سے تمام پیغمبروں کا درجہ برابر ہے۔ ہر پیغمبر یکساں طورپر قابل اتباع ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مختلف پیغمبر مختلف حالات میں پیدا ہوئے۔ ہر پیغمبر کی زندگی یہ بتاتی ہے کہ ان حالات میں دین خداوندی کی پیروی کا طریقہ کیا ہے۔ پیغمبروں کے درمیان فرق کرنا اس حکمتِ الٰہیہ کی تردید ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ جب بھی ایسا ہو کہ کسی پیغمبر کے زمانہ میں جو حالات تھے وہی حالات دوبارہ پیش آئیں تو بعد کے لوگوں کے لیے سابقہ پیغمبرکے طریقہ کی پیروی عین اسلام قرار پائے گی۔ یہ دراصل حالات کے فرق کا معاملہ ہے نہ کہ پیغمبروں کے درمیان فرق کا معاملہ۔
اس اُصول کو ملحوظ نہ رکھنے کی صورت میں خود پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی قابل عمل نہ رہے گی۔ مثلاً اگر یہ مانا جائے کہ فتح مکہ کے بعد کا دور نبوت تکمیلی دورِ نبوت ہے اور فتح مکہ سے پہلے کا دورِ نبوت غیر تکمیلی دورِ نبوت، تو پچھلے…
یہ بدعت ہے
۱۰ اگست ۲۰۰۴ کو ایک مسلم نوجوان مجھ سے ملے۔ اُنہوں نے بتایا کہ پچھلے روز دہلی کے ایک آڈیٹوریم میں مسلمانوں کا ایک جلسہ ہوا۔ اس میں ایک مسلم رہنما کی تقریر ہوئی۔ وہ مسلمانوں میں کامیاب مقرر سمجھے جاتے ہیں۔ مسلم نوجوان نے بتایا کہ پورا آڈیٹوریم مسلمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ شاندارتقریر کے دوران مسلسل تالیاں بجتی رہیں۔ تالیوں کی کثرت سے ہال گونج اُٹھا۔
میں نے مذکورہ مسلم نوجوان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں مسلمانوں کو خطاب فرماتے تھے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے ایک لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کے درمیان خطاب فرمایا۔ کیا ان مواقع پر سامعین تالیاں بجاتے تھے۔ اُنہوں نے کہا…
…شدید اور حب شدید کا تعلق قائم کرنا۔ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کرنا۔ اپنے اندر اس شخصیت کی تعمیر کرنا جس کو قرآن میں نفس مذکی یا نفس مطمئن کہا گیا ہے۔ دنیا کی مشغولیتوں میں رہتے ہوئے خدا اور جنت کا طالب بن جانا۔
یہ جہاد بلا شبہہ ایک مشکل ترین عمل ہے۔ یہ اپنی نئی تخلیق کے ہم معنٰی ہے۔ اسی لیے اس کو بڑا جہاد بتایا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام نے ایک بار اپنے دشمنوں کے خلاف اقدام کیا۔ آپ اس سے واپس ہو کر مدینہ پہنچے تو آپ نے فرمایا: رجعنا من الجہاد الأصغر إلی الجہاد الأکبر۔ یعنی ہم چھوٹی جدوجہد سے واپس ہو کر بڑی جدوجہد کی طرف آئے ہیں۔
اس حدیث کے مطابق، بڑا جہاد اس عمل کا نام ہے جواس وقت مدینہ میں انجام دیا جاتا تھا۔ یہ عمل کیا تھا۔ وہ تھا پیغمبر اسلام سے نصیحت لینا، قرآن کا مطالعہ کرنا، ذکر و عبادت میں مشغول رہنا، اجتماعی زندگی کی غلطیوں کو یک طرفہ برداشت کرنا۔
خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۶۹
۱۔ کیرالا کے شانتی گری آشرم کی طرف سے کوٹایم (Kottayam) میںایک انٹرنیشنل سیمینار ہوا۔ اس کا موضوع امن اور روحانیت تھا۔ اس میں سابق صدر مسٹر کے آر نارائنن بھی شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور وہاں کے اجلاس میں حصہ لیا۔ یہ سیمینار ۳۔۵ جنوری ۲۰۰۵ کو منعقد کیا گیا۔ اس سفر کی روداد انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کردی جائے گی۔
۲۔ انڈین ایکسپریس نئی دہلی کے نمائندہ اروناوا داس گپتا (Arunava Dasgupta)نے ۷ جنوری ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر حج کے مقصد کے بارہ میں تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ حج کا مقصد انسانی اور روحانی بنیاد پر…
…کام ہوچکا ہے تو وہ اللہ کے بھروسہ پر اقدام کرتا۔ گویا کہ اسلام میں شورائی کلچر ہے، اسلام میں شورائی نظام نہیں۔ واضح ہو کہ اسپرٹ کے ساتھ ہی شوریٰ کا فائدہ ہے۔ اگر اسپرٹ نہیں تو شوریٰ بھی نہیں۔ کوئی تنظیمی ڈھانچہ اسپرٹ کا بدل نہیں بن سکتا۔
غیر رسمی شورائیت تو اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ موجود رہی ہے۔ مگر رسمی ڈھانچہ کے اعتبار سے شورائی نظام اسلام کی تاریخ میں پایا نہیں جاتا۔ گویا شورائی مزاج تو تھا مگر شورائی تنظیم جیسی کوئی چیز کبھی قائم نہیں کی گئی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں پنج وقتہ نماز کا باقاعدہ نظام بنایا اور اس کے مرکز کے طورپر مسجد کی تعمیر کی۔ اسی طرح آپ یہ بھی کرسکتے تھے کہ شوریٰ کا تنظیمی ڈھانچہ بنائیں اور دارالشوریٰ کے نام سے اس کے لیے ایک عمارت تعمیر…
…حقیقت کے اعتبار سے کلچرل بلڈوزنگ ہے۔ اس کو خواہ سوشل ری انجینئرنگ کہا جائے یا کلچرل نیشنلزم، وہ بہر حال ناقابلِ عمل ہے۔ اور جو چیز فطری قوانین کے مطابق، سرے سے قابلِ عمل ہی نہ ہو اس کو اپنے عمل کا نشانہ بنانا صرف اپنا وقت ضائع کرنا ہے۔
اس معاملہ میں میرا اختلاف نظریاتی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ عملی بنیاد پر ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ غلط ہے بلکہ میں کہتا ہوں کہ یہ ناقابلِ عمل ہے۔ اگر بالفرض ایسا ممکن ہوتا کہ پورے ملک کی ایک زبان ایک کلچر ، رہن سہن کا ایک طریقہ بن جائے تو میں کہتا کہ ضرور ایسا کرنا چاہئے۔ مگر فطرت اور تاریخ کے قوانین کے اعتبار سے ایسی یکسانیت ممکن ہی نہیں۔ نہ کبھی وہ ماضی میں ممکن ہوئی ہے اور نہ وہ مستقبل میں ممکن ہو سکتی ہے۔ کلچر ہمیشہ خود اپنے قوانین کے تحت بنتا ہے۔ ایسا ممکن نہیں کہ کسی دفتر میں کلچر کا ایک خود پسند نقشہ بنایا جائے اور اس کو ملک کے تمام گروہوں میں رائج کردیا جائے۔
ایسی حالت میں ہم کو وہی کرنا چاہئے جو ہم دوسرے اختلافی معاملات میں کرتے ہیں، یعنی رواداری (tolerance) کے اصول پر اپنے مسئلہ کو حل کرنا۔ حقیقتِ واقعہ سے ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کرکے اس سے نپٹنا، نہ کہ اس سے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرنا۔اس…
سوال و جواب
الحمد للہ تقریباً ۲۰ سال سے الرسالہ کا قاری ہوںاور تقریباً آپ کی زیادہ تر کتابیں میری لائبریری میں موجود ہیں۔ آپ کی تحریروں سے جو فائدہ ہوا ہے اُسے بیان کرنا ناممکن ہے۔ کتابیں تو میں نے اہل دیو بند او رجماعت اسلامی کی بھی بہت پڑھی ہیں مگر جو thinking آپ کی تحریروں سے بنی ہے اب اس کے بعد کسی اور کی کتاب دیکھنے کو جی نہیں چاہتا۔
میں تبلیغی جماعت کے ساتھ کام کرتا ہوں۔ مگر یہاں آج کل بہت زیادہ ’’نکلنے‘‘ پر زور دیا جارہا ہے۔ چار مہنیہ، چالیس دن اور روزانہ کے ڈھائی گھنٹہ پر بہت زیادہ اصرار کیا جاتا ہے۔ میں اپنی مصروفیت اور دوسرے مشاغل کی وجہ سے مطلوبہ وقت دے نہیں…
…کا رواج تھا۔ مصر میں ایک پودا پایا جاتا تھا جس کا یونانی نام پیپرس (papuros) تھا۔ اس پودے کے اندر باریک پرت (layer) ہوتی تھی۔ اس پرت کو نکال کر عرصہ تک اس کو کاغذ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ اسی لیے کاغذکا نام پیپر (paper) پڑ گیا۔
دوسری صدی عیسوی میں چین میں لکڑی وغیرہ سے کاغذ بنایا جانے لگا۔ یہ کاغذ تاجروں کے ذریعہ مسلم دنیا میں آنے لگا۔ کاغذ بنانے کا فن ۷۵۱ میں سمرقند میں پہنچا اور ۷۹۳ میں بغداد میں ہارون رشید کے زمانہ میں پہلی بار کاغذ بنایا گیا۔ اس کے بعد کاغذ یہاں سے یوروپ تک پہنچا:
The art of paper making reached Samarkand, in central Asia in 751; and in 793 the first paper was made in Baghdad during the time of Harun-ar-Rashid, with the golden age of Islamic culture, that brought paper making to the frontiers of…
دار الاسلام، دار الحرب
دار الاسلام اور دار الحرب کی اصطلاح زمانہ نبوت کے ڈیڑھ سو سال بعد عباسی دور میں بنی۔ یہ الفاظ قرآن اور حدیث میں استعمال نہیں ہوئے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کہنا درست ہوگا کہ یہ دونوں اصطلاحیں مبتدعانہ اصطلاحیں تھیں۔ ان کو قرآنی اصطلاح یا مسنون اصطلاح نہیں کہا جاسکتا۔
فقہاء کے نزدیک دار الاسلام سے مراد وہ ملک ہے جہاں مسلمانوں کو اسلام پر عمل کرنے کی پوری آزادی حاصل ہو۔ دار الحرب سے مراد وہ ملک ہے جو مسلمانوں کے لیے معاند ملک کی حیثیت رکھتا ہو، جس سے مسلمان امکانی طورپر جنگ (potentially at war) کی حالت…
کفر کی اصطلاح
مکّی دور میں قرآن میں بعض ایسی آیتیں اُتریں جن کاتعلق بیرون عرب کے غیرمسلموں سے تھا۔ مثلاً قرآن کی سورہ نمبر ۳۰ کے آغاز میں رومیوں (عیسائیوں) کا ذکر ہے جو وقتی طورپر ایرانیوں سے مغلوب ہوگئے تھے۔ مگر آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ غلبت الکفار فی ادنی الارض (روم کے کفار جو مغلوب ہوگئے ہیں) بلکہ یہ فرمایا کہ غلبت الروم فی ادنی الارض (رومی جومغلوب ہوگئے ہیں)۔ اسی طرح سورہ نمبر ۱۰۵ میں یمن کے غیر مسلم حاکم ابرہہ کا ذکر ہے۔ مگر قرآن میں اُس کا ذکر یمن کے ایک کافر حکمراں کے طورپر نہیں کیا گیا بلکہ اصحابِ فیل کے لفظ سے اُس کا ذکر کیا گیا۔
قدیم مکّہ کے منکرین کے لیے قرآن میں کفر اورکافر کے الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔ مگر ایسا نہیں ہوا کہ اس کے بعد اُس زمانہ کے اہل اسلام تمام غیر مسلموں کو کافر کے لفظ سے پکارنے لگیں۔ مثلاً ہجرت کے بعد رسول اور آپ کے اصحاب مدینہ آئے تو انہوں…
چند تاریخی مثالیں
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، قرآن میں ایہا الکافرون کے انداز میں خطاب کی مثال صرف منکرین مکّہ کے لیے آئی ہے اور وہ بھی تیرہ سال کے پیغمبرانہ اتمام حجت کے بعد۔ منکرین مکہ کے سوا کسی اور کو اس طرح مشخّص انداز میں خطاب نہیں کیا گیا۔
پیغمبر اسلام ﷺنے جب مکہ میں دعوت کا آغاز کیا تو ابتدائی دور میں آپ نے اس طرح خطاب نہیں کیا کہ یا ایہا الکفار۔ بلکہ قرآن میں یہ آیت اُتری:یا ایہاالانسان ما غرّک بربک الکریم۔ ہجرت کے بعد صحیفۂ مدینہ کا ایک جملہ یہ تھا: للیہود دینہم و…
— 066مذہبی احترام
پیغمبر اسلام کے زمانہ میں مدینہ میں کچھ یہودی قبیلے آبادتھے۔ ایک دن پیغمبر اسلام نے دیکھا کہ ایک راستے سے ایک جنازہ گزر رہا ہے۔ پیغمبر اسلام اس وقت بیٹھے ہوئے تھے۔ جنازہ کو دیکھ کر آپ اس کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ آپ کے ایک ساتھی نے کہا کہ اے خدا کے رسول، یہ تو ایک یہودی کا جنازہ تھا۔ آپ نے فرمایا کہ کیا وہ انسان نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ انسان ہر حال میںقابل احترام ہے، خواہ وہ ایک مذہب کا ہو یا دوسرے مذہب کا، وہ ایک قوم کا فرد ہو یا دوسری قوم کا۔ کسی بھی عذر کی بنا پر اس کا احترام ختم نہیں کیا جاسکتا۔حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان ایک ہی خدا کا پیدا کیا ہوا ہے۔…
…وہ اپنے ضمیر کی آواز کے تحت تواضع کرنے والے کی عظمت کو ماننے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ وہ اس کے مقابلہ میں سرکشی کرنے کا جذبہ کھو دیتا ہے۔ وہ مجبور ہوجاتا ہے کہ اس کی اخلاقی بڑائی کو مانے۔ وہ اپنے مقابلہ میںاس کو زیادہ بڑا انسانی درجہ دے۔
تواضع صرف ایک روش ہے۔ اس میں آدمی کو کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا۔ تواضع کرکے اسے کچھ کھونا نہیں پڑتا۔ مگر کچھ نہ کھو کر وہ سب کچھ حاصل کرلیتاہے۔ تواضع کے خلاف روش اگر جھوٹی بڑائی ہے توتواضع کے مطابق روش سچی انسانیت۔
— 073فضول خرچی نہیں
…کاموضوع آج کا سب سے بڑا فکری چیلنج بنا ہواہے۔ ایسی حالت میں لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ اس معاملہ میںپیغمبر اسلام کی زندگی سے کیا رہنمائی ملتی ہے۔ مگر مذکورہ قسم کی تقریروں میں اس کا کوئی جواب نہیں۔اس پہلو سے یہاں میں چند باتیں عرض کروں گا۔
اہل علم امن کی تعریف عدم جنگ (absence of war) کے الفاظ میں کرتے ہیں۔ یہ تعریف خالص فنّی اعتبار سے درست ہوسکتی ہے مگر وہ آج کے انسان کو بہت زیادہ اپیل نہیں کرتی۔ آج کے انسان کے نزدیک اس قسم کا امن صرف ایک انفعالی امن (passive peace) ہے۔ امن کی اس تعریف میں اس سوال کا جواب نہیںہے کہ تشدد کے بغیر اپنے مسائل کا حل کس طرح نکالا جائے۔ اس اعتبار سے یہ انسان کے لیے پیغمبر اسلام کی بہت بڑی دین ہے۔ انہوں نے ربّانی ہدایت کے تحت یہ کیا کہ انفعالی امن کو فعّال امن (active peace) میں تبدیل کردیا۔اُنہوں نے امن برائے امن کے اصول کو امن برائے عمل کے اصول کی حیثیت دے دی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اُنہوں نے امن کو ایک وقفۂ تعمیر (constructive interlude)کے طورپر استعمال کرنا سکھایا:
The policy of the Prophet in bilateral matters was based on the principle of buying time.
…ہر مسئلہ کا حل ہے۔ دوسرے یہ کہ مسلمان جب تعلیم میں آگے بڑھیںگے تو اس کے بعد فطری طورپر وہ دفتروں اور کمپنیوں اور تجارتی اداروں میںبڑی تعداد میں پہنچیں گے ۔ اس طرح وہ بُعداپنے آپ ختم ہوجائے گا جو زمانی تبدیلی کے نتیجہ میں پیدا ہوگیاہے۔
۴۔ پُر امن بقائے باہم کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ مسلمانوں پر یہ لازم کردیاگیا کہ وہ یک طرفہ قربانی کے ذریعہ پر امن بقائے باہم کا ماحول سماج میں قائم رکھیں۔اسی قربانی کا نام صبر ہے۔
صبر کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کی طرف سے اشتعال انگیزی ہو تب بھی مشتعل نہ ہونا۔ دوسرے اگر نادانی کریں تب بھی اس سے اعراض کرنا۔ دوسرے اگر ستائیں تب بھی اس کو برداشت کرلینا۔ دوسرے اگر نزاع کھڑی کریں تو پہلے ہی مرحلے میں صلح کرکے اس کا خاتمہ…
…طورپر اپنی ریاست میں امن قائم کیا تھا جس کو وہ رومی امن (Pax Romana) کہتے تھے۔ اسی طرح بیسویں صدی میں سوویت یونین میںبظاہر امن پایا جاتا تھا جس کو کمیونسٹ امن کا نام دیا گیا۔ مگر یہ دونوں جبری امن تھے، اور جبری امن کوئی مطلوب امن نہیں۔
کچھ مفکرین امن کے لئے عالمی ریاست (world state) کا خواب دیکھتے رہے ہیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ عالمی ریاست کا قیام کبھی ممکن نہ ہوسکا۔ حقیقت یہ ہے کہ پُر امن معاشرہ ذہنی تربیت اور فکری انقلاب کے ذریعہ وجود میںلایا جاسکتا ہے، نہ کہ کسی عالمی حکومت کے مرکزی کنٹرول کے ذریعہ۔ مغرب کی نشأۃ ثانیہ کے بعد بہت سے مغربی مفکرین نے جنگ کے بغیر دنیا کا خواب دیکھا مگر یہ خواب پورا نہ ہوسکا۔
ڈَچ فلسفی اور ہیومنسٹ اریسمس (Erasmus) ۱۴۶۶ میں روٹرڈم میں پیدا ہوا اور ۱۵۳۶ میں اُس کی وفات ہوئی۔ اُس کی تعلیم یہ تھی کہ انسانیت کا سب سے اونچا آئیڈیل امن اور انسانی اتحاد ہے:
…والتبلیغ سرے سے کسی کتاب میں شامل نہیں۔ یہی حال فقہ کی تمام کتابوں کا ہے۔ فقہ کی کتابوں میں جہاد اور متعلقاتِ جہاد کے احکام نہایت تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں مگر دعوت اور متعلقاتِ دعوت کے ابواب کسی بھی فقہی کتاب میںقائم نہیں کئے گئے۔
یہی حال بعد کو پیدا ہونے والے تقریباً تمام اسلامی لٹریچر کا ہوا۔ ابن تیمیہ سے لے کر شاہ ولی اللہ تک، اور شاہ ولی اللہ سے لے کر موجودہ زمانہ کے مصنفین تک، کوئی بھی شخص دعوت کے موضوع پر کوئی کتاب تیار نہ کرسکا۔ اگر کسی کتاب کا نام دعوت و تبلیغ ہے تو وہ بھی ایسا ہی ہے جیسے سیاست یا فضائل کی کسی کتاب کا نام دعوت و تبلیغ رکھ دیا جائے۔
اس قسم کے لٹریچر کے تحت مسلمانوں کا جومزاج بنا اُسی کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمانوں میں ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرنے والے لوگ ہیرو بن جاتے ہیں اور جو شخص ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کرے وہ اُن میں غیر مقبول ہو کر رہ جاتاہے۔
…کی قسمت کس طرح بدل سکتی ہے۔اس وادی گُل پوش میں کوئی ایسا شخص پیدا ہو جو واقعی قوم کی رہنمائی کرے اور جس کا اندر و باہر ایک ہو اور ایک صادق القول مسلمان ہوتے ہوئے اس پریشان حال قوم کی صحیح رہنمائی کرسکے۔ (ایک کشمیری مسلمان، اننت ناگ)
یہ کہنا صحیح نہیں کہ کشمیریوں پر استحصالی لیڈروں کی فوج سوار ہوگئی ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ کشمیریوں نے خودسے ایسے لیڈروں کو اپنے اوپر سوار کر لیا ہے۔ کشمیر میں جہاد کے نام پر متشددانہ تحریک خود کشمیری عوام کی مرضی سے اکتوبر ۱۹۸۹ میں شروع ہوئی۔ اُس سے صرف ایک مہینہ پہلے میں کشمیر گیا تھا۔ اُس وقت کشمیریوں کے درمیان مسلّح جہاد کا چرچا شروع ہوچکا تھا۔ سری نگر کے ٹیگور ہال میں میری تقریر ہوئی۔ میں نے کہا کہ جہاد کے نام پر جو مسلّح تحریک آپ چلانے جارہے ہیں وہ صرف کشمیر کے مسائل میںاضافہ کرے گی۔ میںنے اپنی تقریرمیں رسول اللہ ﷺکے ایک واقعہ کی مثال دی۔
آپ کے زمانہ میں مدینہ کی مسجدنبوی میںایک دیہاتی شخص مسجد کے اندر آیا اور اس کو گندہ کردیا۔ لوگ اُس کو مارنا چاہتے تھے مگر آپ نے منع کردیا۔ آپ نے کہا کہ اُس مقام پر پانی بہادو، وہ صاف ہوجائے گا۔ اس سلوک کے بعد وہ شخص اور اُس کا پورا…
…اپنے ساتھی سے کہا کہ یہ ایک غیر عملی اور غیر حقیقت پسندانہ مطالبہ ہے۔ پاکستان کے لیڈر لمبی مدت سے اس قسم کا مطالبہ کررہے ہیں۔ مگر اس کا کوئی نتیجہ نہ اب تک نکلااور نہ آئندہ اس کا کوئی امکان ہے کہ اس کا کوئی مثبت نتیجہ اُن کے حق میں نکلے۔
پھر میں نے کہا کہ یہود کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ نے اپنے پیغمبر کی زبان سے فرمایا تھا: یٰقوم ادخلوا الارض المقدسۃ التی کتب اللہ لکم (المائدہ ۲۱)۔ یعنی اے میری قوم، اس پاک زمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے۔ اب اگر فلسطین کے یہودی اس قرآنی آیت کو لے کر یہ کہیں کہ ہم اپنے وطن سے باہر ڈائس پورا(diaspora)میں تھے، پھر خود تمہارے قرآن کے مطابق، ہم واپس آکر فلسطین میںآباد ہوگئے۔ خود تمہارے قرآن کے مطابق، یہ ہمارا قومی حق تھا۔ اب تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم ہمیںاپنے قومی حق سے محروم کرنے کی کوشش کرو۔ ظاہر ہے کہ موجودہ یہودی اگر اس قدیم نوشتہ کا حوالہ دے کر فلسطین میںاسرائیل کے قیام کو جائز قرار دیں تو کوئی بھی مسلمان اس کو تسلیم نہیں کرے گا۔
اسی طرح رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ میں کچھ یہود قبائل آباد تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد ایک اعلانیہ (declaration) جاری کیا جس کو عام طورپر صحیفۃ المدینہ کہا جاتا ہے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ…
بیمار ی سے تطہیر
حدیث میں آیا ہے کہ مدینہ میں ایک شخص بیمار ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی عیادت کے لیے اُس کے گھر گئے۔ وہاں پہنچ کر آپ نے کہا کہ: لا بأس، طہور إن شاء اللہ (صحیح البخاری، کتاب المرضٰی، باب ما یقال للمریض) یعنی کوئی حرج نہیں، انشاء اللہ یہ پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ جب کوئی شخص بیمار ہوتا ہے تو پُر اسرار طورپر اس کے گناہ دھل جاتے ہیں، وہ خود بخود ایک پاکیزہ انسان بن جاتا ہے۔ یہ در اصل ایک معلوم شعوری واقعہ ہے جو ایک سچے مومن کے ساتھ پیش آتا ہے۔
بہت سے لوگوں نے اس طرح کے قصے سنائے۔ اس سے لوگوں کو یقین ہوگیا کہ گروجی کو خاص نظر(vision) حاصل ہے۔ چنانچہ وہ جو کہہ دیتے ہیں اس پر لوگ آنکھ بند کرکے عمل کر تے ہیں۔
شانتی گری آشرم کے اس فنکشن کو اٹینڈکرنے کے لیے جو لوگ دہلی سے گئے تھے ان میں سے دو صاحبان میرے ساتھ اسی جہاز میںتھے۔ مسٹر گوپی ناتھن اور ایک خاتون ڈاکٹر۔ میرے سفر کا انتظام شانتی گری آشرم کی طرف سے کیا گیا تھا۔ مگر مذکورہ دونوں صاحبان خوداپنے خرچ پر وہاں گئے تھے۔ یہ دونوں مڈل کلاس کے لوگ تھے۔ مگر انہوں نے ہوائی جہاز سے سفر کیا جب کہ فی کس ہوائی جہاز کا ریٹرن ٹکٹ تقریباً ۳۵ ہزار تھا۔ وہاں کی تقریبات میں ان کاکوئی حصہ نہ تھا۔ میںنے پوچھا کہ آپ لوگ کس جذبہ کے تحت یہاں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرو کے درشن اور آشیرواد کے لیے۔اس طرح ہزاروں لوگ صرف درشن اور آشیرواد کے لیے دو ردور سے یہاں آئے تھے۔
ٹھیک یہی مزاج خود مسلمانوں میں بڑے پیمانہ پر پایا جاتاہے۔ وہ کچھ لوگوں کو ’’بزرگ‘‘ سمجھ لیتے ہیں۔ اور ان کے لیے لمبے لمبے سفر کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ انہوں نے درشن اور آشیرواد کے بجائے اس کا نام زیارت اور برکت رکھ لیا ہے۔
روزہ کی حقیقت
روزہ کے لیے عربی لفظ صوم ہے۔ صوم کے معنیٰ ہیں، رُکنا(abstinance)۔ زندگی میں صرف اقدام کی اہمیت نہیںہوتی، بلکہ رُکنا بھی زندگی میںایک بے حد اہم پالیسی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اقدام اگر خارجی توسیع کی علامت ہے تو رُکنا داخلی استحکام کی علامت۔ اور زندگی کی حقیقی تعمیر کے لیے بلا شبہہ دونوں ہی یکساں طورپر ضروری ہیں۔
مشہور صحابی خالد بن الولید کو پیغمبر اسلام نے سیف اللہ کا لقب عطا کیا تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن الولید کو یہ لقب کسی اقدام یا جنگی پیش قدمی پر نہیں دیا تھا۔ بلکہ آپ نے سیف اللہ کا لقب اُنہیں اُس وقت…
…صاحب بھی اپنی گاڑی روک کر اُتر گئے۔ اُس آدمی نے ذاکر صاحب کی طرف غصہ سے دیکھتے ہوئے کہا کہ ایڈیٹ(idiot) ۔ اس انگریزی لفظ کے معنیٰ ہوتے ہیں، احمق۔ ذاکر صاحب نے جوابی غصہ نہیں دکھایا۔ اُنہوں نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے نرمی سے کہا:
Sir, I am not Mr. Idiot, I am Zakir Husain.
جناب، میں مسٹر ایڈیٹ نہیں ہوں۔ میں ذاکر حسین ہوں۔ یہ سُن کر اُس آدمی کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا۔ ساری(sorry) کہہ کر وہ خاموشی کے ساتھ اپنی گاڑی پر بیٹھا اور آگے کے لیے روانہ ہوگیا۔
صحبت کا فلسفہ
عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو اسلام میں جو امتیازی درجہ ملا وہ صحبت رسول کی بنا پر تھا۔ یہ بات بجائے خود صحیح ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ صحبت کوئی پُر اسرار (mysterious)چیز ہے اور اُس کی پُر اسرار تاثیر کے نتیجہ میں اصحاب رسول کو مجرد صحبت کی بنا پر خود بخود یہ فائدہ حاصل ہوا۔ یہ نظریہ علمی طورپر درست نہیں۔ وہ اس معاملہ کی پوری توجیہہ نہیں کرتا۔ مثلاً اس نظریہ میں اس واقعہ کی توجیہہ موجودنہیں کہ مدینہ کے سیکڑوں دوسرے لوگ جو بظاہر ایمان لائے اور پیغمبر کی صحبت میں بار بار بیٹھے‘ مگر وہ آپ کی صحبت سے فیض حاصل نہ کرسکے اور اسلام کی تاریخ میں منافق کہلائے گئے۔
اصل یہ ہے کہ کسی انسان کے لیے اعلیٰ ایمان حاصل کرنے کا ذریعہ صرف ایک ہے‘ اور وہ ہے معرفت یا ذہنی ارتقاء۔ ایمان قبول کرنے کے بعد آدمی کے اندر معرفت کے رُخ پر ایک تفکیری عمل (thinking process) جاری ہوتا ہے۔ یہ تفکیری عمل ہی دراصل کسی مومن…
مسلم پالیسی کو بدلنے کی ضرورت
اپریل ۲۰۰۲ء کے آخری ہفتہ میں مکہ میں رابطہ عالم اسلامی کی چوتھی عالمی کانفرنس ہوئی۔ اس میں مختلف ملکوں کے مسلم علماء اور دانشور تقریباً پانچ سو کی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس کا موضوع ’’اسلام اور گلوبلائزیشن ‘‘ بتایا گیا۔ اس کانفرنس کی ایک رپورٹ لاہور کے ماہنامہ محدث (مئی ۲۰۰۲) میں دیکھی۔ اس کا ایک حصہ یہاںکسی قدر تصرف کے ساتھ نقل کیا جاتا ہے :
بوسنیا کے رئیس العلماء مصطفی سیرچ نے سابق صدر بوسنیا عزت بیگووچ کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ ہم بوسنیا کے تلخ تجربہ کی روشنی میں یہ کہنا مناسب سمجھتے ہیں کہ عربوں کو اسرائیل سے صلح وآشتی کا راستہ اختیار کر لینا چاہئے ۔ دکتور یوسف…
…صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نبوت کے تیرہویں سال مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو اُس وقت آپ مسائل کے جنگل سے گذر کر وہاں پہنچے تھے۔ مدینہ پہنچ کر آپ نے وہاں کے لوگوں کے سامنے جو پہلا خطبہ دیا وہ ابن ہشام نے اس عنوان کے ساتھ نقل کیا ہے:
أول خطبۃ خطبہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی المدینۃ (رسول اللہﷺ کا پہلا خطبہ جو آپ نے مدینہ میں دیا)۔
یہ پورا خطبہ سیرت ابن ہشام میںآج بھی موجود ہے۔ اُس کو پڑھیے تو اُس میں ایک لفظ بھی شکایت اور احتجاج کا نہیں ملے گا۔ اس پورے خطبہ کا خلاصہ اُن کے اس جملہ میں ہے: اتقوا النار و لو بشق تمرۃ (اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے…
…لڑنی پڑے۔ دوسری صورت یہ تھی کہ وہ یہ سوچیں کہ مدینہ دعوت ِ اسلامی کا مرکز بن رہا ہے۔ وہاں پہنچ کر مجھے اس دعوتی مہم میں شریک ہونا ہے۔ اسلام کے اس قافلہ کے ساتھ مل کر مجھے چاہئے کہ میںاس تاریخی مہم کو اُس کی تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کروں۔
صہیب رومی نے محسوس کیا کہ یہ کم بہتر اور زیادہ بہتر کے درمیان انتخاب کا معاملہ ہے۔ اگر میں مال کے لیے ٹکراؤ کروں تو یہ کوئی عقل مندی نہ ہوگی۔ یہ مال کی خاطر مقصد کو قربان کرنے کے ہم معنٰی ہوگا۔ چنانچہ اُنہوں نے مقصد کو بچانے کی خاطر مال کو قربان کر دیا اور اُس سے دست بردار ہو کر مدینہ چلے گئے۔
اس طرح کے معاملات میں سوچنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے منطقی انصاف کا طریقہ، اور دوسرا ہے عملی حل کا طریقہ۔ منطقی انصاف کا مطلب یہ ہے کہ خالص فنّی اعتبار سے صحیح اور غلط کو معلوم کیا جائے، جیسا کہ قانونی عدالت میں ہوتا ہے۔ اور دوسرا ہے عملی…
…کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ قومی اور سیاسی شکایت کا مظہر ہوتی ہیں۔ مسلمان اگر اس حکمت کو جانیں اور برادرانِ وطن کے مقابلہ میں قومی اور سیاسی شکایت کا ماحول ختم کردیں تو اس کے بعد وہ دیکھیں گے کہ کسی کو بھی اسلام کے خلاف نہ نفرت ہے اور نہ عناد۔
ہندستان میں اسلام کی جو اشاعت ہوئی ہے وہ زیادہ تر ملک کے پسماندہ طبقات یا غیر تعلیم یافتہ عوام کے درمیان ہوئی۔ یہ لوگ فطر ی طور پر شعوری انقلاب کے نتیجہ میں اسلام میں داخل نہیں ہوئے بلکہ وہ دوسرے اضافی اسباب کے تحت اُس میں داخل ہوئے، مثلاً برکت یا سماجی برابری جیسی چیزوں کی کشش کی بنا پر۔ یہ عوام جب اسلام میں داخل ہوئے تو وہ اپنے پچھلے مذہب کی رسوم و روایات بھی اپنے ساتھ لائے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ ہندستان میں بدعات کا جو زور ہے وہ عرب ملکوں میں موجود نہیں۔ بدعات کیا ہیں، بدعات دراصل ہندوؤں کی مشرکانہ رسموں کا اسلامائزیشن ہیں۔ ہندستان میں سماجی ناانصافی کا ماحول اسلام کی اشاعت کے لیے بہت مدد گار ثابت ہوا۔ مگر اسی کا دوسرا نتیجہ وہ مسائل بھی ہیں جن کو ہم بدعات کہتے ہیں۔ اور جن میںاس ملک کے ،پچاس فیصد سے زیادہ مسلمان مبتلا ہیں۔
اس علاقہ میں اسلامی دعوت کی جو منصوبہ بندی کی جائے اُس میں اس بنیادی نکتہ کو ملحوظ رکھنا بے حد ضروری ہے۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ اسلام آج کی دنیا میں حقیقی معنوں میں غالب دین کی حیثیت سے ابھرے تو اسلام کو علم کے زور پر اٹھانا ہوگا، نہ کہ…
مولانا نور الہدیٰ صاحب نے فرمایا کہ آپ کی تحریروں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آپ جہاد بمعنٰی قتال کو ضروری نہیں سمجھتے، حالانکہ جہاد مسلمانوں کے لئے فرض ہے۔ خاص طورپر افغانستان جیسے ملکوں میں۔
میں نے کہا کہ جہاد بلاشبہہ ایک شرعی حکم ہے۔ مگر جہاد فرض مطلق نہیں۔ تمام علماء کے نزدیک جہاد بمعنیٰ قتال حسن لغیرہ ہے، وہ حسن لذاتہ نہیں۔ جہاد کا عمل شروع کرنے سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ اگر جہاد کے عمل کا نتیجہ اُلٹی صورت میں نکلے تو حکماً فرض ہونے کے باوجود عملاً جہاد نہیں کیا جائے گا۔
مثال کے طورپر مکی دور میں مسلمانوں پر جو حالات تھے وہ افغانستان سے بھی زیادہ سخت تھے۔ چنانچہ جب بیعت عقبہ ثانیہ ہوئی تو اس وقت کے مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺسے قریش کے خلاف جنگ کی اجازت طلب کی۔ مگرآپ نے اس کی اجازت نہ دی اور فرمایا: إنی لم…
میں نے کہا کہ پان کھانے میں کوئی ثواب نہیں ہے۔مگر پان چھوڑنا آپ کے لئے بہت بڑا ثواب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کیسے؟
میںنے کہا کہ قرآن میں مال کے اسراف سے منع کیا گیا ہے اور اسراف یہ ہے کہ غیر ضروری مد میں اپنا مال خرچ کیا جائے۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ: من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ‘‘ (آدمی کے اچھے مسلمان ہونے کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ بے فائدہ چیزوں کو چھوڑ دے) ایسی حالت میں اگر آپ خدا اور رسول کے حکم کی تعمیل میں پان کوچھوڑ دیں تو بلاشبہہ وہ آپ کے لئے ثواب بن جائے گا۔ جب کہ پان کھانا صرف ایک غیر ضروری عادت ہے اور غیر ضروری عادت پر ثواب ملنے کا کوئی سوال نہیں ۔ اللہ کا شکر ہے کہ انہوں نے اس مشورہ کو مان لیا، اور اس مجلس میں پان کو چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا۔ اور اپنا پان کا ڈبہ میرے حوالہ کردیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس فیصلہ پرثابت قدم رکھے۔
۴نومبر کی شام کو کھانے کا دستر خوان بچھایا گیا تو میں نے ایک صاحب سے کہا کہ دیکھئے دسترخوان پر کھانے کے کتنے آئیٹم ہیں۔ انہوں نے فوراً جواب دیا کہ دو، پھر کچھ دیر بعد جواب دیا کہ تین، اور پھر آخر میں کہا کہ چھ۔ میں نے کہا کہ بولنے کا…
جنگ اور امن اسلام میں
اسلام میں جنگ اور امن کی حیثیت کیا ہے، اس سوال کا جواب پانے کے لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ اسلامی مشن کا نشانہ کیا ہے۔ جنگ اور امن دونوں دو مختلف طریقِ کار ہیں، وہ بذات خود مقصد نہیں ہیں۔ ایسی حالت میں اگر اس کا تعین ہو جائے کہ اسلامی مشن کا نشانہ کیا ہے تو اس کے بعد اپنے آپ اس کا تعین ہوجائے گا کہ اسلام کا طریقہ جنگ کاطریقہ ہے یا امن کاطریقہ۔
قرآن میں اس سوال کا واضح جواب دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ کی ایک متعلق آیت یہ ہے۔ قرآن میں پیغمبر اسلام کو خطاب کرتے ہوئے ایک عمومی حکم ان الفاظ میں دیا گیا ہے: وجاھدھم بہ جہادًا کبیرا (الفرقان ۵۲) یعنی اے محمد، لوگوں کے ساتھ تم قرآن کے…
…کو دشمن نظر آئے تو اس کو اپنا ابدی دشمن نہ سمجھ لو۔ ہر دشمن انسان کے اندر تمہارا ایک دوست انسان چھپا ہوا ہے۔ اس دوست انسان کو دریافت کرو اور اس امکان (potential) کو واقعہ (actual) بناؤ، اس کے بعد تمہیں کسی سے دشمنی کی شکایت نہ ہوگی۔
اس معاملہ کی مزید وضاحت ایک روایت سے ہوتی ہے۔ اس روایت میں پیغمبر اسلام کی جنرل پالیسی کو بتاتے ہوئے آپ کی اہلیہ عائشہ نے کہا: ماخیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین امرین إلا اختار أیسرھما (صحیح البخاری) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امر میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب فرماتے تھے۔
یہ واضح ہے کہ طریق کار کی دو قسمیں ہیں۔ پرتشدد طریقِ کار (violent method) اور پر امن طریق کار (peaceful method)۔ اب دونوں کا تقابل کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کسی نزاعی معاملہ کے وقت پر تشدد طریق کار کو اپنانا مشکل انتخاب (harder option) ہے…
…بچایا جائے اور ان کو پوری طرح تعمیری کاموں میں لگایا جائے۔ اسی مصلحت کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لاتتمنوا لقاء العدو واسئلوا اللہ العافیۃ (البخاری) یعنی تم لوگ دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے امن مانگو۔
اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: کُلَّما اوقدوا نَارًا للحرب اطفاھا اللّٰہ (المائدہ ۶۴) یعنی جب کبھی وہ لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں تو اللہ اس کو بجھا دیتا ہے۔
اس قرآنی آیت سے جنگ اور امن کے بارے میں اسلام کی اصل روح معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ دنیا میں مختلف اسباب سے لوگ باربار جنگ پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ یہ دنیا کے مخصوص نظام کا تقاضا ہے جو مسابقت (competition) کے اصول پر بنایا گیا ہے۔ مگر…
…کے طورپر جنگ کرنا جائز ہے۔ یہ حکم قرآن کی جن آیتوں سے معلوم ہوتا ہے ان میں سے ایک آیت یہ ہے: وقاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم ولاتعتدوا (البقرہ ۱۹۲) یعنی اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑوجو تم سے لڑتے ہیں ، اورزیادتی نہ کرو۔
اس طرح کی آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ کی اجازت صرف اس وقت ہے جب کہ کوئی فریق یک طرفہ طورپر اہل اسلام کے خلاف جارحانہ حملہ کردے۔ اس قسم کی عملی جارحیت کے بغیر اسلام میںجنگ کی اجازت نہیں۔
جنگ اور امن کے معاملہ میں اسلام کا جو بنیادی اصول ہے وہ قرآن کے ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے: فما استقاموا لکم فاستقیموا لھم (التوبہ ۷) یعنی پس جب تک وہ تم سے سیدھے رہیں تم بھی ان سے سیدھے رہو۔ اس قرآنی حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ قوموں کے…
…ڈھونڈنے میں اتنا گم ہے، وہ دنیوی مسائل میں اس قدر الجھا ہوا ہے کہ اسے کچھ احساس نہیں رہتا۔ اسی حال میں آدمی زندگی گزارتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اسے موت آتی ہے تو اچانک اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو ایک گڑھے میں لا کر گرادیا ہے۔
رام پور، ۳۰ ستمر ۱۹۶۱ء دعا گو وحید الدین
نوٹ : یہ یادگار خط مرحومہ صدیقہ خانم کے صاحبزادے مسٹر حسین احمد خاں (مقیم بمبئی) کے ذریعہ حاصل ہوا۔
There is a saying of the Prophet that “The best marriage with the most blessings is the easiest in terms of provision. (Musnad Ahmad, Hadith No. 24529)
In the second year after Hijrah, the Prophet married his daughter, Hazrat Fatimah, to Ali ibn Abi Talib. Early records show that the “dower” fixed by the Prophet of Islam for his daughter Fatimah is exemplary in this regard. The following words of Hazrat Ali explain this further:
Hazrat Ali said, “The Messenger of God asked me, “What brought you here? Is there something I can do for you?” I remained silent, but he said, “Have you perhaps come to become engaged to Fatimah?” “Yes, I have,” I replied. “Do you have…
…لِلْمَسْأَلَةِ (تاریخ بغداد للخطیب بغدادی، حدیث نمبر 5433)۔ یعنی ،لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا، جب کہ میری امت کے مالدار تفریح کے لیے حج کریں گے، ان کا مڈل کلاس تجارت کےلیے، اور ان کے علما دکھاوا کے لیے اور ان کے غریب لوگ مانگنے کے لیے۔
آج کل مسلمانوں میں عمرہ کی دھوم ہے۔ عمرہ کے لیے لوگ اتنا زیادہ مکہ جانے لگے ہیں، جو تقریباً حج کے برابر ہوجاتا ہے۔ یہ لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا۔ لیکن یہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ کا عمرہ کے بارے میں اسوہ کیا تھا۔ ہجرت کے بعد 6ہجری میں رسول اللہ نے مدینہ میں اعلان کیا تھا کہ عمرہ کے لیے مکہ جانا ہے۔پھر مدینہ سے آپ تقریباً چودہ سوا صحاب کے ساتھ نکلے تاکہ مکہ پہنچ کر عمرہ کریں۔ لیکن حدیبیہ کے مقام پر پہنچ کر حالات بدل گئے۔ اب آپ نے نیا فیصلہ لیا۔ وہ یہ کہ درمیان سفر سے مدینہ واپس چلے جائیں، اور اگلے سال ، 7ھ میں دوبارہ مکہ جاکر عمرہ کریں۔ اس عمرہ کو اسلامی تاریخ میں عمرۃُ القضاء کے نام سے جانا جاتا ہے۔
رسول اللہ کے اس عمل سے ایک اصول ملتا ہے۔ وہ یہ کہ زندگی کا منصوبہ ناقابلِ تبدیل (unchangeable) منصوبہ نہیں ہے، بلکہ حالات کے تحت ہے۔ اگر حالات بدل جائیں تو منصوبہ بھی بدل سکتا ہے۔ خواہ وہ عمرہ جیسے مقدس عبادت کا منصوبہ ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن…
…کے قائدین نے اگرچہ ابھی الرسالہ کی آواز کو اہمیت نہیں دی ہے۔مگر غیرقائدین میں الرسالہ کی آواز بہت بڑے پیمانے پر پھیلی ہے اور روزانہ پھیل رہی ہے۔تاہم اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔حق کی بے آمیز دعوت کے ساتھ ہمیشہ یہی صورت حال پیش آئی ہے۔
ایک مسلمان بزرگ ملاقات کے لیے تشریف لائے۔انہوں نے بیٹھتے ہی کہا’’مطلقہ عورت کے نفقہ کے سلسلے میں ہندوستان کی عدالت نے جو فیصلہ دیا ہے وہ شریعت میں جارحانہ مداخلت ہے۔ آپ اس کے خلاف کیوں نہیں لکھتے‘‘۔موصوف کی مراد شاہ بانو بیگم-محمد احمد اندوری کے مقدمہ سے تھی۔
میںنے کہا کہ آپ سب سے پہلے اپنے جملے کو صحیح کیجیے۔یہ جملہ میرے نزدیک صحیح نہیں۔اصل بات جو ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک مسلمان خاتون(شاہ بانو بیگم) ہندوستانی عدالت میں گئیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجھے فلاںملکی قانون کے تحت میرے شوہر سے گزارہ…
…مخالفت شروع ہوگئی۔ قریش ہر تدبیر سے یہ کوشش کرنے لگے کہ آپ کا توحید کا مشن ختم ہوجائے۔ اس مخالفت کا سبب کسی بھی درجے میں سیاسی نہ تھا، وہ صرف اعتقادی حسّاسیت کی بنا پر تھا۔ اس مخالفت کا سبب صرف اعتقادی اختلاف تھا، نہ کہ کوئی سیاسی خطرہ۔
پیغمبر اسلام کے اس ابتدائی دَور میںآپ کی بیوی خدیجہ اور آپ کے چچا ابو طالب آپ کے لیے گویا سَپورٹ سسٹم بنے ہوئے تھے۔ اعلانِ نبوت کے دسویں سال اِن دونوں کا انتقال ہوگیا۔ قدیم قبائلی رواج کے مطابق، اب آپ کو ضرورت تھی کہ آپ کسی اور کو تلاش کریں، جو آپ کو اپنی پناہ میں لے لے۔ تاکہ آپ اپنا مشن بدستور جاری رکھ سکیں۔
پناہ کے حصول کے لیے پہلے آپ نے مکّہ میںکوشش کی ۔ کعبہ کی زیارت کے لیے جو قبائلی سردار مکّہ آتے تھے، اُن سے اس مقصد کے لیے ملاقاتیں کیں۔ مگر اُن میں سے کوئی شخص تیّار نہیں ہوا۔ آخر کار آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ مکّہ سے 75 کلومیٹر دور واقع…
… پیدا ہوگئی تھی۔ گویا کہ قدیم مکّہ میں بتوں کو وہی حیثیت حاصل ہوگئی تھی جس کو موجودہ زمانے میں ٹورسٹ انڈسٹری کہا جاتا ہے۔ اس بنا پر مکّہ کے لوگ ڈرتے تھے کہ اگر عرب سے بت پرستی کا خاتمہ ہوجائے تو ان کی ’’ٹورسٹ انڈسٹری‘‘ ختم ہوجائے گی۔
اہل مدینہ کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ مدینہ عرب کے ایک ایسے علاقے میں واقع تھا جہاں پانی کی کمی نہیں تھی۔ اس بنا پر وہاں زراعت اور باغبانی کا کافی رواج تھا۔ یہاں کے لوگوں کے لیے یہ ڈر نہ تھا کہ اگر بت پرستی کا خاتمہ ہوجائے تو اُن کی معاش کا ذریعہ ختم ہوجائے گا۔ کیوں کہ بت پرستی ان کی معاش کا ذریعہ ہی نہ تھی۔
اس بنا پر ایسا ہوا کہ توحید کا مذہب اہلِ مکّہ کے لیے ابتدائی زمانے میں قابلِ قبول نہ ہوسکا۔ مگر اہلِ مدینہ اس قسم کی نفسیات سے خالی تھے۔ بت پرستی کا خاتمہ ان کے نزدیک صرف ایک مذہبی کلچر کا خاتمہ تھا، نہ کہ ان کےمعاشی ذریعے کا خاتمہ۔ چنانچہ…
…کو اتنی شدید مصیبتوں میں مبتلا کیاگیا کہ آپ اور آپ کے ایک سو سے زیادہ ساتھی اپنے وطن اور اپنی جائداد کو چھوڑ کر مکّہ سے مدینہ آگئے۔ یہاں انہیں اپنے گھر اور اپنے عزیزوں سے محروم ہوکر از سرِ نو اپنی زندگی کی تعمیر کا مشکل کام کرنا تھا۔
ایسی حالت میں یہ ہونا چاہیے تھا کہ پیغمبر اسلام کا دل شکایت اور احتجاج سے بھرا ہوا ہو اور وہ مدینہ پہنچتے ہی مکّہ والوں کے خلاف منفی باتیں کہنا شروع کردیں۔ مگر معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ پیغمبر اسلام نے مدینہ پہنچ کر مدینہ والوں کے سامنے جو پہلی تقریر کی،وہ اب بھی سیرت کی کتابوں میںموجود ہے۔ سیرت ابن ہشام میںاس کو" مدینہ کا پہلا خطبہ" کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے —وَکَانَتْ أَوَّلُ خُطْبَةٍ خَطَبَہَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ آپ کے اس خطبے کا خلاصہ یہ ہے— فَمَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ یَقِیَ وَجْہَہُ مِنْ النَّارِ وَلَوْ بِشِقٍّ مِنْ تَمْرَةٍ فَلْیَفْعَلْ (سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ501) ۔ یعنی تم میں سے جو اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچانےکی طاقت رکھتا ہو، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے کیوں نہ ہو، وہ ضرور کرے۔
یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ یہ دراصل پیس فل ایکٹوزم کی قیمت تھی۔ اُس وقت کے حالات میں بلاشبہ یہ ایک مشکل کام تھا۔ یہ اپنے منفی جذبات کو مثبت جذبات میںکنورٹ کرنا تھا۔ مگر یہی پیس فل ایکٹوزم کی قیمت ہے۔ اس قیمت کو ادا کیے بغیر کوئی شخص پیس فل…
…وہ بدل کر مثبت احساس بن چکا ہوتا تھا۔ آپ کی شخصیت کامل معنوں میں ایک مثبت شخصیت تھی۔ آپ منفی حالات میں بھی مثبت ذہن کے ساتھ رہنے کی اعلیٰ صلاحیت رکھتے تھے۔ آپ تشدد کے واقعات کو بدل کر امن کا واقعہ بنانے کی غیر معمولی استعداد رکھتے تھے۔
622 عیسوی میںجب آپ مدینہ پہنچے اس وقت مدینہ میں مسلمانوں کے ساتھ مشرکین اور یہود بھی موجود تھے۔ گویا کہ اس وقت کا مدینہ ایک ملٹی ریلیجس سوسائٹی کی حیثیت رکھتا تھا۔ ایسے ماحول میں لوگ کس طرح پُر امن طورپر رہیں، آپ نے اس کا ایک کامیاب فارمولا دریافت کیا۔ یہ فارمولا اس اصول پر مبنی تھا — ایک کی پیروی کرو، اور سب کا احترام کرو:
Follow one and respect all.
…سے بچنے کے لیے اپنے وطن مکّہ کو چھوڑ دیا اور مدینہ جاکر آباد ہوگئے۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ مدینہ آپ کے مشن کے لیے ایک زرخیز علاقہ ثابت ہوا۔ یہاں کے لوگ تیزی سے آپ کے دین میں داخل ہوگئے۔ یہاں تک کہ اہلِ مدینہ کی اکثریت آپ کی ساتھی بن گئی۔
پیغمبر اسلام کی ہجرت کے بعد یہ ہوا کہ مکّہ اورمکہ کے آس پاس دوسرے مسلمان بھی اپنے مقامات کو چھوڑ کر مدینہ آگئے۔ اس طرح مدینہ، پیغمبر اسلام کے مشن کا ایک مضبوط مرکز بن گیا۔ یہاں مدینہ کے اندر اور مدینہ کے باہر، دونوں علاقوں کے لوگ جمع ہوگئے۔ یہ مکّہ والوں کے لیے گویا ایک وارننگ تھی۔ وہ اپنے طور پر یہ سوچنے لگے کہ پیغمبر اسلام مدینہ میں اپنے افراد کو اکٹھاکرکے ایک بڑی قوت بنائیں گے اور مکّہ کو واپس لینے کے لیے مکّہ پر حملہ کردیں گے۔ اس لیے مکّہ والوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ مدینہ میں پیغمبر اسلام کی طاقت کو توڑ کر اس کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے۔
اس مقصد کے لیے مکّہ والوں نے عوامی عطیات سے پچاس ہزار دینار اکھٹا کیے ، اور تیاری شروع کردی۔ یہاں تک کہ انہوں نے مدینہ پر باقاعدہ حملے کا منصوبہ بنالیا۔ حتی کہ ایک ہزار کی تعداد میں مسلّح فوج لے کر روانہ ہوئے تاکہ مدینہ کی جدید مسلم ریاست…
…کے ساتھ کھُلے طورپر اپنا کام کریں گے۔ یہ سُن کر پیغمبر اسلام نے فرمایا:یَا عُمَرُ إِنَّا قَلِیلٌ قَدْ رَأَیْتَ مَا لَقِینَا (سیرت ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 441) ۔یعنی اے عمر! ہم تھوڑے ہیں، ابوبکر کے ساتھ جو کچھ پیش آیا وہ تم نے دیکھ لیا۔
دھیرے دھیرے پیغمبر اسلام کا مشن پھیلنے لگا۔ آپ کے ساتھیوں کی تعداد بڑھتی رہی۔ پھر وہ وقت آیا جب کہ مدینہ سے 73 آدمی آکر آپ سے ملے، اور بتایا کہ ہم آپ کے مشن میںآپ کے ساتھ ہو چکے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ اب آپ مکّہ والوںکی زیادتی کو اور زیادہ برداشت نہ کیجیے۔ ہم کو اجازت دیجیے کہ ہم مکّہ والوں کے خلاف جہاد کریں۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا:اصْبِرُوا فَإِنِّی لَمْ أُومَرْ بِالْقِتَال (المواھب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃ، جلد1، صفحہ199) ۔یعنی تم لوگ صبر کرو، کیوں کہ مجھے لڑائی کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔
پیغمبر اسلام کی یہ روش بتاتی ہے کہ وہ ہمیشہ عملی نتیجے کو سامنے رکھتے تھے۔ اُن کا یہ ماننا تھا کہ اقدام کو مثبت نتیجے کا حامل ہونا چاہیے، ایسا اقدام جو کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہو ،وہ کوئی اقدام نہیں۔ وہ نتیجہ خیز…
…دفاعی ذہن پیداہوگیا ہے۔ ان کے اندر وہ مثبت ذہن پیدا نہیں ہوتا جو تعمیر و ترقی کے لیے ضروری ہے۔ انھوں نے ہندو جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف اپنی کارروائیوں کا سلسلہ بند کریں تاکہ مسلمان تعمیر و ترقی کی راہ میں آگے بڑھ سکیں۔
میں کہوں گا کہ مسلمانوں کی تعمیر کی راہ میں اصل رکاوٹ ہندو صاحبان نہیں ہیں بلکہ مذکورہ بالا قسم کے مسلم قائدین ہیں، جو مسلمانوں میں صحیح ذہن پیدا نہیں ہونے دیتے۔ یہ قائدین مستقل طورپر ایک ہی کام کررہے ہیں، اور وہ ہے ذہن کو بگاڑنا۔ ا س دنیا میں رکاوٹوں کے باوجود کام کیا جاتا ہے، نہ کہ رکاوٹوں کے بغیر۔ یہ دنیا کبھی رکاوٹوں سے خالی نہیں ہوسکی۔ اسی لیے رکاوٹوں کی شکایت کرنا ہی بے معنی ہے۔ ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ہم رکاوٹوں کے اندر سے اپنے لیے امکان تلاش کریں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے لیے مکہ اور مدینہ میں جو رکاوٹیں تھیں، وہ ہماری رکاوٹوں سے ایک کرور گنا زیادہ تھیں۔ اس کے باوجود انھوں نے ’’تعمیر وترقی‘‘ کے کام کی صورتیں نکالیں۔ حتی کہ انھوں نے تاریخ کے رخ کو بدل دیا۔ اگر…
…مسیح کے پیرو کار رافت ،رحمت اور اعراض کی دعوتی مصلحت کو سمجھ نہ سکے۔ انھوں نے اس کو اصل مطلوب سمجھ لیا اور اس میں مزید مبالغہ کرنا شروع کیا۔ یہاںتک کہ اعراض دنیا برائےاخلاق و دعوت کو انھوںنے ترکِ دنیا بمعنی رہبانیت بنادیا (الحدید، 57:27)۔
اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر چہ اپنی زندگی کا ابتدائی نصف سے زیادہ حصہ دعوت پر زور دینے میں صرف کردیا۔ اس زمانہ میں آپ نے بھی صبر اور اعراض اور یک طرفہ حسن اخلاق کی تعلیم دی۔ مگر ہجرت کے بعد قریش کی جارحیت نے آپ کو دفاع پر مجبور کیا۔ اس وقت آپ کے اوپر قتال کی آیتیں اتاری گئیں۔ مدنی زندگی کا بیشتر حصہ جارحانہ کارروائیوں کا دفاع کرنے میں گزرا۔
مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید اندیشہ تھا کہ آپ کی امت بھی اس معاملہ میں فتنہ میں مبتلا ہوگی۔ جوچیز مشرکین اورکافروں کی جارحیت کے خلاف بطور دفاع فرض کی گئی تھی، اس کو مسلمان خود اپنی جنگ کے لیے استعمال کرنا شروع کردیں گے۔ آپ نے…
…أَصْحَابُ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّہ عَلَیْہِ وآلہ وَسَلَّمَ یَغْزُونَ بَعْدَ الْخُلَفَاءِ الْأَرْبَعَةِ مَعَ الْأُمَرَاءِ الْفُسَّاقِ وَغَزَا أَبُو أَیُّوبَ الْأَنْصَارِیُّ مَعَ یَزِیدَ اللعین)۔ احکام القرآن للجصاص، جلد 4، صفحہ 319
یزید کو لعین کہنا بذات خود قابل اعتراض ہے۔ کسی شخص کو ملعون قرار دینے کے لیے شرعی دلیل درکار ہے، اور یقیناً ایسی کوئی شرعی دلیل موجود نہیں، جو صراحۃً یزید کی ملعونیت کا اعلان کرتی ہو۔
دوسری بات یہ ہے کہ یزید کو جو لوگ بطور خود ملعون کہتے ہیں، وہ اس کی ملعونیت کو کربلا (61ھ) کے واقعہ سے اخذ کرتے ہیں۔ مگر حضرت ابو ایوب انصاری نے یزید کی ماتحتی میں جو غزوہ کیا تھا، وہ کربلا سے بہت پہلے کا واقعہ ہے۔ یہ قسطنطنیہ کا غزوہ تھا،…
…تک نہیں پہنچ سکتا، اور نہ اس کے بغیر وہ خدا کی عبادت کرسکتا۔ اس طرح اس کو اپنے جذبۂ پرستش کی پوری تسکین حاصل نہیںہوتی۔ اسلام میں یہ صورت حال نہیں ۔ اسلام میں ہر آدمی براہِ راست خدا کو پکارسکتا ہے۔ وہ براہِ راست خدا کی عبادت کرسکتا ہے۔
اس ضمن میں ایک اور بات بھی قابلِ ذکر ہے، جس کا تعلق موجودہ زمانے سے ہے۔ موجودہ زمانہ آزادی اور جمہوریت کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں ہر آدمی اپنے آپ کو دوسرے کے برابر سمجھتا ہے۔ اس زمانی مزاج کی وجہ سے لوگوں کو یہ بات پسند نہیں آتی ہےکہ کوئی طبقہ ان سے اوپر ہو۔ لوگ جس مقام پر خود ہیں ،وہیں وہ کلرجی کو بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بات آج صرف اسلام میں پائی جاتی ہے۔اس طرح اسلام انسانی فطرت کے مطابق بھی ہوجاتا ہے، اور وقت کے تقاضے کے مطابق بھی۔
اسلامک انسٹی ٹیوٹ، تغلق آباد، میں ایک میٹنگ تھی۔ میں بھی اس میں شریک تھا۔ میٹنگ میں انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر اوصاف علی صاحب نے ادارے کا تعارف کرایا۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ کے یہاں جو افراد ریسرچ کا کام کررہے ہیں ،ان…
…طور پر اللہ کی کتاب، اور عملی سطح پر حکمت ( practical wisdom) ۔ رسول اللہ کی کامیابی کا جو خاص راز ہے، وہ ہے پریکٹکل وزڈم ۔پریکٹکل وزڈم کا مطلب عملی پہلوؤں پر غور و فکر کرنا، اور عملی تقاضے جو ہیں، اس کو کنسیڈر (consider)کرکے آگے بڑھنا۔
مثلاً یہ کہ جب پیغمبر اسلام نے 610 عیسوی میں اپنا توحید کا مشن شروع کیا تو بڑے پیمانے پر آپ کی مخالفت کی گئی۔ آپ کو مختلف قسم کے ناموں سے پکارا گیا— مجنون (دیوانہ)،مذمم ، وغیرہ۔ مگر آپ نے ان باتوں کا کوئی منفی اثر نہیں لیا۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں سے واضح طورپر یہ معلوم ہوتاہے کہ رسول اور اصحابِ رسول نے کبھی اُس کے خلاف احتجاج اور شکایت کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔
اس کے برعکس، آپ نے جو کیا، وہ یہ تھا کہ آپ نے مسائل کو اگنور کیا، اور مواقع پر فوکس کیا۔ مسائل کیا تھے، مثلاً مخالفین کی جانب سے آپ کو برے ناموں سے پکارا گیا۔ مگر آپ نے اس کا کوئی منفی نوٹس نہیں لیا۔پیغمبر اسلام کا طریقہ یہ تھا کہ وہ…
…اور سنت۔ مگر عملی اعتبار سےیہ مکمل بات نہیں۔ بلاشبہ مسلمان کے لیے قرآن و سنت واحد ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں،لیکن اسی کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ مسلمان وقت کے تقاضے کو سمجھیں، اور وقت کے تقاضوں کا پورا لحاظ رکھتے ہوئے اپنی دینی پلاننگ انجام دیں۔
مثلاً جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو اس سفر کے لیے آپ نے ایک مشرک کو اپنے سفر کا رہنما بنایا۔سیرت کی کتابوں میں اس کا نام عبد اللہ بن اُرَیقِط یا أَرْقَط (سیرت ابن ہشام،جلد1، صفحہ488) بتایا گیا ہے۔ یہ ایک طریقے کی بات تھی، جو قرآن میں پہلے سے لکھا ہوا موجود نہ تھا، وہ حالات کا تقاضا تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حالات کے تقاضے کی رعایت کرنا، کام کی درستگی کا ذریعہ ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس تیسرے عمل ، یعنی حالات کےتقاضے کو سمجھیں، ورنہ وہ اپنی منصوبہ بندی میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔
حالات کے تقاضے کو سمجھنا، اور اس کی رعایت کرنا، منصوبہ بندی کو کامیاب کرتا ہے۔ یہ اس وقت ممکن ہے، جب کہ انسان کھلے ذہن کے ساتھ حالات کو سمجھنے کی کوشش کرے، اور بغیر کسی ریزرویشن کے حالات کے مطابق اپنے کام کو آگے بڑھائے۔ موجودہ زمانے میں…
…is a part of nature. Difference is there in every aspect of life. So it is in the case of religion. Who has the power to remove differences? We have to learn the art of difference management rather than the art of difference elimination.
The Prophet of Islam used this guiding principle in forming an Islamic society in Medina. In 622, he migrated to Medina, where he lived until his death in 632. Medinan society was a multicultural society comprising of Muslims, Christians and Jews. In Medina, the Prophet of Islam issued a declaration called ‘Sahifa-e-Madina’, or the Constitution of Medina. There is a verse in the Quran to this effect—
“For you, your religion and for me, mine.” THE QURAN, 109: 6
DIALOGUE IN RELIGION
RELIGIOUS differences have always existed between people. That is why inter-religious dialogue has been found in one form or the other since ancient times. Fourteen hundred years ago, the Prophet of Islam held a three-religion conference in Medina to exchange views on religious issues.
Such attempts have repeatedly been made in history. The circumstances that unfolded following World War II led the Church, in particular, to pay great attention to this issue. Through its continuous efforts, dialogues of this nature are…
There is a verse in the Quran that says, “Kill them wherever you find them.” (THE QURAN 2: 191), which leads people to believe that Islam is a religion of war and violence.
This is simply not true. This verse relates only to those who attacked the Muslims while they were in Medina. This is not the general command of Islam. The application of this verse in the present times is not possible as present day wars involve multiple non-combatant casualties as collateral damage.
The Quran was not revealed all at once in its complete form, but rather, in stages, according to circumstances that required divine guidance, over a period of 23 years, twenty of which were peaceful. The revelations during these twenty…
…not sanction individual action on this issue. As a general principle, the Quran tells us that, even in the face of danger or an external attack, the people should refer to their rulers and together counter the threat. (THE QURAN 4: 83)
The hadith also say that the government is the shield, battle is done under them, and security attained through them. The common man can play his role as need be, under the government's command and not independently.
There are conditions attached to all actions in Islam. Wars are also subject to these principles, one of them being that when a war (in defence) has been declared by the state, only attacking combatants are targets. Targeting…
…amounts to our inability to stand up for ourselves; when we fail to speak the truth and stand up for justice for fear of losing our interests; when we are loath to renounce comforts and convenience in order to be of a principled character.
Migration or hijrath of the Prophet Muhammad is a clear example of abandoning violent solutions in favour of peaceful solutions.
In all such situations, it becomes essential for us to sacrifice our feelings and desires. We may have to kill our egos completely. In spite of having to surmount all such hurdles, we should be determined to stick to the truth in the real…
The Hudaybiya Peace Treaty
The Hudaybiya peace treaty is another good example. The Prophet and his companions wanted to perform the minor pilgrimage (umrah) in Makkah, but when they reached Hudaybiya, nine miles from Makkah, they were stopped by the leaders of the Quraysh who refused to allow them to enter Makkah. This could easily have taken a military turn. If the Prophet wanted to advance as planned towards Makkah, an encounter would have taken place. The Prophet, however, ended his journey at Hudaybiya and signed a peace treaty, accepting all the conditions laid down by his opponents. He then came back to Medina without having performed the umrah. This was another clear Prophetic example of adopting a peaceful method as opposed to a violent method.
The Conquest Of Makkah
…the gifts of peace and prosperity to people instead of being a harbinger of death and violence. He wanted his followers to do good works for the people, giving them the message of peace and prosperity and not of death and destruction.
If we were to objectively study the entire 23 years of Muhammad’s prophetic life, it would be absolutely clear that Muhammad was a Prophet of peace, not a prophet of violence.
With these examples we can understand that peace was the guiding principle of the Prophet's character. The battles that took place during his life were only incidental and under exceptional circumstances, rather than being the main feature…
Even in Medina his enemies did not leave the Prophet and his followers in peace. They did everything possible to make life miserable for them. The Quran says:
Will you not fight against those who have broken their oaths and conspired to banish the Messenger? They were the first to attack you. Do you fear them? Surely God is more deserving of your fear, if you are true believers. THE QURAN 9: 13
The outcome of these hostilities were the battles of Badr and Uhud. Even after this when the Prophet got to know that his opponents were marching towards Medina with an army of 10,000, he employed a strategy of avoidance by creating a…
Is Islam intolerant of other Religions?
Contrary to common belief, Islam is not intolerant to other religions. It teaches its adherents to give mutual respect to, to be tolerant of and to have dialogue with people of other religions. This can be clearly seen from the following example of the Prophet. When the Prophet reached Medina, it was also inhabited by some idolaters and Jews, who were in a minority. The Prophet decided that some form of law should be established so that there would be no misunderstanding or hostility of any sort, in the future between them and the Muslims. To solve this problem the Prophet of Islam issued a charter, commonly known as the Covenant of Medina.
Since the Muslims were in the majority, the Prophet's position became that of a leader, or a head of state. In this capacity, he declared in this charter that all the inhabitants of Medina would enjoy equal rights. Everyone would be free…
…— کسی حکم شرعی پر عمل کرنے میں جب حالات کی تبدیلی کی بنا پر فرق واقع ہوجائے، تو اس وقت حکم کو ظاہری صورت کے اعتبار سے دیکھنے کے بجائےحکم کو ری ڈیفائن کرنا تاکہ اسپرٹ پوری طرح باقی رہے،لیکن فارم کو اس طرح بدلا جائے کہ وہ مطابقِ حال ہو جائے۔
اس کی ایک رہنما مثال پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور کا ایک واقعہ ہے۔ آپ نےایک بار مدینہ سے صحابہ کی ایک جماعت کو بنو قریظہ کی طرف بھیجا۔ بنو قریظہ ایک یہودی قبیلہ (Jewish tribe)تھا۔یہ قبیلہ مدینہ سے جنوب کی جانب آباد تھا۔ اس واقعے کا ذکر روایتوں میں آیا ہے، اس کا متعلق جز یہ ہے: لما انصرف المشرکون عَن الخندق وَرَجَعَ رَسُول اللَّہِ - صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلَ بیت عَائِشَة أتاہ جبریل فوقف عند موضع الجنائز فَقَالَ:عذیرک مِن محارب! فخرج إِلَیْہِ رَسُول اللَّہِ - صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ -[فزعا فَقَالَ:إن اللہ یأمرک أن تسیر إلى بنی قریظة فإنی عامد إلیہم فمزلزل بہم حصونہم. فَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ - صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - علیا. رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ. فدفع إِلَیْہِ لواءہ وبعث بلالا] فنادى فِی النَّاسُ إِنَّ رَسُول اللَّہِ - صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - یأمرکم ألا تصلوا العصر إلا فِی بنی قریظة (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، 2/57)۔ بعض روایتوں میں یہ اضافہ ہے : فَأَدْرَکَ بَعْضَہُمُ العَصْرُ فِی الطَّرِیقِ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ: لاَ نُصَلِّی حَتَّى نَأْتِیَہَا، وَقَالَ بَعْضُہُمْ: بَلْ نُصَلِّی، لَمْ یُرَدْ مِنَّا ذَلِکَ، فَذُکِرَ لِلنَّبِیِّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ یُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْہُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 946)۔ان میں جن لوگوں نے نماز پڑھی ان لوگوں نے یہ کہا :لم یرد رسول اللہ ترک الصلاة، إنما أراد تعجیل السیر (الفصول فی السیرة، أبو الفداء ابن کثیر ، 1/171)۔
ان روایتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے صحابہ کی ایک جماعت کو غزوۂ خندق کے بعد بنوقریظہ کی طرف بھیجا، اور بھیجتے ہوئے آپ نے تاکید کے ساتھ یہ کہا کہ تم لوگ عصر کی نماز بنو قریظہ کی بستی میں پہنچ کر ہی ادا کرنا۔ مگر بنو قریظہ کی بستی تک پہنچنے…
…کی جنم بھومی فرض کررکھا تھا، اس لیے ناقابلِ فہم ہوگیا کہ جس زمین پر خدا پیدا ہوا ہو، وہ زمین نظامِ شمسی کا مرکز نہ ہو، بلکہ اس کی حیثیت محض ایک تابع کی قرار پائے۔ اپنے مشرکانہ عقیدہ کو بچانے کے لیے انھوں نے سائنسی حقیقت کا انکار کردیا۔
دوسری بات یہ کہ پچھلے تمام پیغمبروںکامشن صرف اعلان کی حد تک جاسکا، وہ عملی انقلاب تک نہیں پہنچا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھی انسانی تاریخ کے پہلے گروہ ہیں جنھوں نے توحید کو ایک زندہ عمل بنایا۔ انھوں نے اولاً عرب میں شرک (مظاہر فطرت کی پرستش) کا مکمل خاتمہ کیا، اور توحید کو عملی طورپر انسانی زندگی میں رائج کیا۔ اس کے بعد وہ آگے بڑھے، اور قدیم زمانہ کی تقریباً تمام آباد دنیا میں شرک کو مغلوب کردیا۔ انھوں نے ایشیا اور افریقہ کے تمام بُت خانوں کو غیر آباد کر دیا، اور توحید کو ایک عالمی انقلاب کی حیثیت دے دی۔
اہلِ اسلام کے ذریعہ توحید کا جو عالمی انقلاب آیا، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ توہم پرستی کا دور ختم ہو۔ اب مظاہر فطرت کو پرستش کے مقام سے ہٹا دیاگیا۔ خدائے واحدانسان کا معبود قرار پایا۔ اس کے علاوہ جو تمام چیزیں ہیں، وہ سب صرف مخلوق بن…
…لیے قرآن میں اس آیت کو عَلَیْہِ لکھے یا اس کو عَلَیْہِ پڑھے۔ سیکڑوں سال سے یہ آیت اسی طرح لکھی اور پڑھی جارہی ہے، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پڑھ کر سنایا تھا۔کیسا عجیب یہ اہتمام ہے، جو قرآن کی حفاظت کے لیے کیا گیا ہے۔
اجمیر کے قریب ایک پہاڑی علاقہ ہے،جس کو میرات کہاجاتاہے۔ یہاں مسلمان معقول تعدادمیں آباد ہیں۔ مگر سب ان پڑھ اور پس ماندہ ہیں۔ وہ دین اور تہذیب دونوں سے دور ہیں۔
تقریباً 15 سال پہلے کی بات ہے مجھے اس علاقہ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ میرے ساتھ دو مولوی صاحبان اور تھے۔ ہم لوگ وہاں پہنچے تو مغرب کا وقت ہوچکا تھا۔ مغرب کی نماز ہم نے اپنے میزبان کے گھر کی چھت پر پڑھی۔
…کو خلیفہ بنانا سخت قابل اعتراض ہوسکتا تھا۔ مگر تمام صحابہ نے اس پر سکوت اختیار کیا۔ حضرت حسین کے سوا کسی نے بھی یزید کے خلاف کوئی مہم نہیںچلائی۔اصحابِ رسول کی یہ خاموشی یقینی طورپر بزدلی کی بنا پر نہ تھی، بلکہ اسلامی حکمت کی بنا پر تھی۔
عرب ویڈیو ٹیپ کو فیدیو تیب (الشریط التلفزیونى) کہتے ہیں۔ عرب سے آئے ہوئے ایک شخص نے کہا کہ بعض عرب ملکوں میں سینما ہاؤس پر پابندی لگائی گئی ہے۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر گھر میں لوگوں نے وی سی آر لگا لیا ہے، اور اس کے اوپر ہر قسم کی فلمیں دیکھتے ہیں۔ انھوںنے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا— آپ باہر سینما ہاؤس بند کریں گے تو گھر میں سینما ہاؤس کھل جائے گا۔
معاشرہ کا ذہن جب تیار نہ کیا گیاہو تو اوپر سے اصلاحی احکام نافذ کرنے کا نتیجہ یہی ہوتا ہے۔
…شخص کے بارہ میں کوئی لغوخبربتائی جائے تو اس کا ذہن بلا تحقیق اس کو قبول کرلے گا ۔ چونکہ وہ مذکورہ شخص کو غلط سمجھتا ہے اس لئے اس کے بارہ میں جب وہ کوئی بری خبرسنتا ہے تو اس کا ذہن شعوری یا غیرشعوری طور پر مان لیتا ہے کہ خبر صحیح ہوگی۔
اس معاملہ میں مجھے اکابر تک کے تجربے ہوئے ہیں ، مگرکسی کو میں نے اس کے بارہ میں محتاط نہیں پایا۔
13 مارچ 1983
عن أم سلمة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا خرج من بيته قال: بسم الله توكلت على الله ، اللهم اني اعوذبك أن أضل اوأضل اواظلم اوأظلم،اواجهل او يجھل علی
حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر سے نکلتے تھے تو اس طرح فرماتے تھے۔ شروع اللہ کے نام سے ، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا۔ اے اللہ میں تجھ سے پناہ چاہتا ہوں کہ میں گمراہ کروں یا گمراہ کیا جاؤں۔ میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے۔میں جہالت کروں یا مجھ پر جہالت کی جائے (ابو داؤد، ابن ماجه ،مشكوة جزہ ثانی، صفحہ 755
یہ محض ایک لفظی دعا نہیں ہے۔ یہ الفاظ یہ بتاتے ہیں کہ آپ جب گھرسے باہر نکلتے تھے توکن احساسات اور کیفیات کے ساتھ نکلتے تھے۔ یہ الفاظ در اصل اس ذہنی حالت کا خارجی اظہار ہیں جواس وقت آپ کے اوپرچھائی ہوئی ہوتی تھی ۔ اور آپ کے سینہ میں امنڈ…
14 اپریل 1983
ایک صاحب نے پرجوش طور پر ایک شاعر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے قوم کو اتحاد و ترقی کا سبق دیا تھا۔ اس کے ثبوت میں انھوں نے مذکورہ شاعر کا یہ شعر پیش کیا:
زرد ہے پھولوں کی رنگت اڑ گیا کلیوں کا روپ آؤ مل کر اہتمام زینت بستاں کریں
…بات ہولے ورنہ چپ رہے ) من كان يومن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا او لیصمت) ، یہی بات ایک مغربی مفکر نے اپنے الفاظ میں اس طرح کہی کہ یہ بہت بڑی بختی ہے کہ آدمی کے پاس نہ اتنی سمجھ ہو کہ وہ بات کر سکے اور نہ اتنی قوت فیصلہ ہو کہ وہ چپ رہے:
It is a great misfortune neither to have enough wit to talk well
nor enough judgement to be silent.
…یہ ہے کہ وہ کمزور ہے، خدا کی سب بڑی طاقت میں ہے کہ وہ طاقت ور ہے ۔ انسان کا کمزور ہونا اس کی تمام دوسری حیثیتوں کو باطل کر دیتاہے۔ اور خدا کا طاقت ور ہونا اس کو یہ مطلق حیثیت دے دیتا ہے کہ وہ ہر حال میں انسان کو مغلوب اور مقہور کر سکے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی عبدیت اپنی آخری شکل میں نمایاں ہو جاتی ہے ۔ کسی شخص کا سفر معرفت اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ اس حقیقت کو نہ جان لے کہ وہ عجز کی انتہا پر ہے اور خدا قدرت کی آخری انتہا پر ۔ اسی ادراک کے بعد آدمی کو ایمان کا ذائقہ ملتا ہے ، اور اسی ادراک کے بعد آدمی کے اندر وہ تمام صفات پیدا ہوتی ہیں جن کو ایمانی صفات کہا جاتا ہے۔
26 مئی 1983
…حالت میں لڑائی جا ری رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ بقیہ مسلمان بھی ہلاک ہو جائیں۔ اگر چہ یہ لوگ نہایت بہادر تھے۔ اورتمام لوگ لڑنے کے لئے پوری طرح تیار تھے۔ مگر خالد بن ولید نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ اسلامی لشکر کو پیچھے ہٹالیا اور مدینہ واپس آگئے۔
مدینہ میں مسلمانوں نے ان کا استقبال فرار (بھاگنے والے) کے لفظ سے کیا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ فرار نہیں بلکہ کرار ہیں (پیچھے ہٹنے والے نہیں بلکہ آگے بڑھنے والے ہیں) اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ اگر دشمن کی طاقت فیصلہ کن طور پر زیادہ ہو تو اس سے لڑائی چھیڑنا اسلام کا طریقہ نہیں ۔ دوسرے یہ کہ اگر ایسی حالت پیش آئے اور اس وقت مسلمان تدبیر جنگ کے طور پر پیچھے ہٹ جائیں تو بظاھر اگرچہ یہ دیکھے ہٹنا ہے، مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ آگے بڑھنا ہے۔ کیوں کہ اس میں یہ ارادہ شامل ہے کہ پہلے مزید تیاری کی جائے ، اس کے بعد زیادہ طاقت کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا جائے ۔
28 مئی 1983
…کا ایک مثل ہے کہ الغنم بالغرم (غنیمت تاوان پر ہے) یعنی اس دنیا میں پہلے نقصان اٹھانا پڑتا ہے، پھر فائدہ ملتا ہے۔ حتی کہ اس میں بالکل برابری کا اصول ہے ۔ کوئی شخص جتنا نقصان اٹھائے گا ، اسی کے بقدر اس کے لئے فائدہ کا استحقاق پیدا ہو گا ۔
قدیم انسان کو دو ہزار سال پہلے زندگی کے تجربات نے زندگی کی یہ حقیقت بتا دی تھی۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ نہ دوسروں کی تاریخ انھیں یہ بات بتانے والی ثابت ہوئی اور نہ خود اپنے حالات سے وہ اس کو جان سکے ۔
19 جولائی1983
The Need for Re-orientation in Islamic Da‘wah
پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن دعوت الی اللہ (اسلامی دعوت) تھا۔ آپ نے یہ کام 610 ء میں مکہ میںشروع کیا۔ اُس وقت آپ اِس مشن میں تنہا تھے، پھر دھیرے دھیرے لوگ اسلام قبول کرتے رہے۔اور آپ کے ساتھیوں کی تعداد بڑھتی رہی۔ ابتدائی تیرہ سال تک اسلامی دعوت کا کام اسی طرح چلتا رہا۔ اُس وقت سارا فوکس اسلام کی بیسک آئڈیالوجی پر تھا، یعنی توحید اور آخرت۔
اُس وقت مکہ میں مشرکین کا غلبہ تھا۔ مکی دور کے آخر میں وہاں کے مشرک سرداروں نے محسوس کیا کہ اسلام کی تحریک اُن کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ ا ب انھوں نے سختی کا طریقہ اختیار کیا۔ وہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں پر تشدد کرنے لگے،…
…عرب میں سیاسی لیڈر کی حیثیت رکھتے تھے۔ اُن کو ہر قسم کے ذرائع حاصل تھے۔ ان کو وہ طاقت بھی حاصل تھی، جس کو موجودہ زمانے میں ٹرانس بارڈر ملٹری کیپیبلٹی (trans-border military capability) کہاجاتا ہے، یعنی سرحد کو پار کرکے حملہ کرنے کی صلاحیت۔
اب مکہ کے مشرک سرداروں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنی فوج تیار کریں اور اقدام کرکے مدینہ پر باقاعدہ حملہ شروع کردیں۔ اِس معاملہ کا پہلا بڑا واقعہ وہ تھا، جس کو غزوۂ بدر (2 ہجری) کہاجاتا ہے۔ اس کے بعد غزوۂ اُحُد (3 ہجری) کا واقعہ پیش آیا۔ اِس طرح جھڑپوں کی صورت میں کئی متشددانہ واقعات پیش آئے۔
مشرکین مکہ کے جنگی ارادوں نے دوبارہ اسلامی تحریک کے لیے خطرہ پیدا کردیا کہ وہ دعوت الی اللہ کے راستے سے ہٹ کر قتال کے راستے کی طرف مڑ جائیں۔ اُس وقت دوبارہ اُس تدبیر کو اختیار کرنے کی ضرورت تھی، جس کو ہم نے ری اورین ٹیشن (re-orientation) …
…طرح بنائی گئی کہ دوپہر سے پہلے کے سیشن میں میں نے اسلام پر ایک تعارفی تقریر کی جو تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی۔ دوپہر بعد کاسیشن سوال و جواب کے لیے رکھا گیا تھا۔ حاضرین کی طرف سے اسلام پر مختلف قسم کے سوالات کئے گئے جن کے میں نے جواب دئے۔
اپنی تقریر میں میں نے پہلے قرآن و حدیث کی روشنی میں اسلام کا سادہ تعارف پیش کیا۔ اس کے بعد یہ بتایا کہ فنڈمنٹلزم وہی چیز ہے، جس کو قرآن و حدیث میں غلو کہا گیا ہے۔ اور غلو (extremism) کو اسلام میں ہلاکت خیز برائی بتایا گیا ہے۔ اس کے بعد میں نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ اسلام کے مطابق، پر امن سماج بنانے کا فارمولا کیاہے۔
سوال و جواب کے سیشن میں لوگوں نے کافی دلچسپی کے ساتھ حصہ لیا۔ بہت سے سوالات کئے گئے جن کا میں نے جواب دیا۔ایک سوال یہ تھا کہ میڈیا کے مطابق، اسلامی مدرسوں میں ٹررزم کی تعلیم دی جاتی ہے ،اور وہاں ٹررسٹ تیار کئے جاتے ہیں۔ میں نے اس سوال کا…
…لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے۔
یہ واقعہ ایک مسیحی گروپ کا ہے، جو پیغمبر اسلام سے ملنے کے لیے حبش سے مدینہ آئے تھے۔ اس مثال کے ذریعہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ کلام الٰہی کا سننا ،ان کے لیے ایک گہراروحانی تجربہ (spiritual experience) بن گیا۔ اس روحانی تجربے کی کچھ علامتیں یہ ہیں - (1) گہرے تاثر کے ساتھ کلام اللہ کو سننا۔ (2) اس کے ذریعہ وحی الٰہی کی پہچان ہوجانا۔ (3)اس کو سننے کے بعد آنکھوں سے آنسو جاری ہونا۔ (4) معرفت کے زیر اثر یہ کہہ اٹھنا کہ خدایا ہم نے اس حق کو قبول کیا۔ (5)سننے کے بعد دل سے اس کی تصدیق کرنے والے بن جانا ۔ (6)کسی چیز کو قبول حق کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دینا۔ (7) کلام اللہ کو سنتے ہی یہ طلب پیدا ہوجانا کہ وہ اس گروہ میں شامل ہوجائیں، جنھوں نے اس کلام کو سن کر فوراً مثبت رسپانس (positive response) دیا۔ اس تاثر کا تعلق یکساں طور پرسماعت قرآن سے بھی ہے، اور مطالعہ قرآن سے بھی۔
یہ تمام علامتیں ایک لفظ میں معرفت قرآن کی علامتیں ہیں۔ اصل یہ ہے کہ قرآن پورا کا پورا فطرت کی زبان میں ہے۔ قرآن ہر آدمی کے لیے اس کی فطرت کا مثنیٰ (counterpart) ہے۔ قرآن کا سننا ہر آدمی کے لیے اس کی داخلی شہادت بن جاتا ہے۔ خاص طور پر…
23 جولائی 1988
حضرت ابو بکر صدیق جب خلیفہ منتخب ہوئے تو انھوں نے مدینہ کی مسجد میں لوگوں کو جمع کر کے خطبہ دیا ۔ اس خطبہ میں آپ کے حمد وثنا کے بعد فرایا :
ايها الناس قد وليت عليكم ولست بخيركم گر فان احسنت فاعینونی وان اسات فقومونی والضعيف فيكم قوى عندى حتى أخذ له حقه والقوى ضعيف عندى حتى آخذ له الحق
…مطابق انھوں نے جواب دیا : نحن مجتهدون الله ولرسوله ۔ ـنهفـاعـلـمأعـدامـاغـفـونوانماكانتوقعةبعـاتعـامالاول،يوممنايامنااقتلنافيهناستقدموغنكذالايكون لن اجتماعـنـدمـــاحـتىترجعإلىعشـاشـرينا. لعلاللهيمـلحذات بيننا. وموعدك الموسم العام المقبل.
ہم اللہ اور اس کے رسول کے لئے پوری کوشش کریں گے۔ مگرہم، آپ جانئے کہ اس وقت آپس کی بغض وعداوت میں مبتلا ہیں۔ اور ابھی پچھلے سال ہمارے یہاں بعاث کی جنگ ہوئی ہے ۔ اگر آپ ایسی حالت میں مدینہ آتے ہیں تو ہم آپ پر جمع نہ ہوسکیں گے ۔ پس آپ ہمیں اپنے لوگوں کی طرف جانے دیجیے، شاید اللہ ہمارے باہمی معاملہ کو درست کر دے۔ اور آپ سے اگلے سال یہیں ملاقات کا وعدہ ہے۔
اس کے بعد دوسری بارنبوت کے بارہویں سال اور تیسری بار نبوت کے تیرھویں سال آپ کی ملاقات مومنین مدینہ سے ہوئی ۔ یہاں تک کہ آپ نے مکہ سے مدینہ کے لئے ہجرت فرمائی۔
8 ستمبر 1983
مشہور جرمن فلسفی اسپینوزا ( 1677 - 1632) یہودی خاندان میں پیدا ہوا تاہم وہ بائیل بلکہ خود مذہب کا زبردست ناقد تھا۔ اس کو عام طور پر ملحد سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس کی زندگی بتاتی ہے کہ دولت کی حرص اس کے اندر بالکل نہیں تھی۔ اس نے دولت حاصل کرنے کے کئی اعلی مواقع بے نیازانہ طور پر ٹھکرا دئے۔
وہ جرمن کے علاوہ لاتینی ، یونانی اور انگریزی زبان جانتا تھا۔ ایک یونیورسٹی میں اس کو فلسفہ کے استاد کی جگہ کی پیشکش کی گئی۔ اس نے یہ کہہ کر اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ فلسفہ کوئی بیچنے کی چیز نہیں :
7 اکتوبر 1983
والٹير (Voltaire) کا قول ہے کہ آدمی کو اس کے سوالات سے سمجھو نہ کہ اس کے جوابات سے:
Judge a man by his questions rather than his answers.
یکم فروری 1984
ہر زبان کا اپنا اسلوب ہوتا ہے۔ اس اسلوب کو اہل زبان تو فورا سمجھ لیتے ہیں ۔ مگر غیر اہل زبان کو اس قابل بننے کے لئے بہت زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے کہ وہ اسلوب کے فرق کو سمجھ سکیں۔ مثلا " خیالات کہاں سے آتے ہیں" اس کو انگریزی زبان میں کہنے کی ایک صورت یہ ہے کہ یوں کہا جائے:
From where come ideas.
…بن عدی نے ایک سووسق کھجوریں لاکر دیں۔ ایک غریب صحابی ابوعقیل جو محنت مزدوری کا کام کرتے تھے ، انھوں نے دن بھرمحنت کر کے دو صاع کھجور حاصل کی۔ اس میں سے ایک صاع کھجور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و پیش کی اور ایک صاع اپنے گھر والوں کو دی۔
مدینہ میں جو منافق تھے انہوں نے ان دونوں ہی قسم کے مسلمان کا مذاق اڑایا جنھوں نے زیادہ مال دیا تھا ان کے بارے میں کہا کہ انھوں نے نمود و نمائش کے لئے دیا ہے ۔ اور جو لوگ کم دے سکے تھے ان کے بارے میں کہا کہ جب اس شخص کے پاس دینے کے لئے نہیں تھا تو اس کو کیا ضرورت تھی کہ اپنا نام دینے والوں میں لکھوائے۔
اس قسم کے عیب نکالنا منافقت ہے۔ منافق کسی گزری ہوئی جماعت کا نام نہیں ۔ ہر وہ شخص منافق ہے جس کے اندر منافق والی صفات پائی جائیں ۔ اس واقعہ میں دوسرا سبق یہ ہے کہ مذاق اڑانے کی کوئی حد نہیں۔ ایک شخص اگر غیر سنجیدہ ہے تو وہ ہربات کا مذاق…
دو مسلمانوں میں بحث ہورہی تھی ۔ ایک مسٹر جناح کے دو قومی نظریہ کا حامی تھا۔ دوسرا مسلمان مولانا حسین احمد مدنی کے متحدہ قومیت کی امید کر رہا تھا۔ اول الذکر مسلمان نے اپنے نقطہ نظر کے حق میں دلیل دیتے ہوۓ کہا :
" جناح کا دو قومی نظریہ بالکل صحیح تھا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہم پائجامہ پہنتے ہیں اور اس کو آگے سے باندھتے ہیں۔ ہندو لوگ دھوتی پہنتے ہیں اور اس کو پیچھے سے باندھتے ہیں ۔"
کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جن کو یہ بھی نہیں معلوم کہ دلیل دوسری چیز ہے اورلطیفہ دوسری چیز۔
…بنانا چاہتے ہیں، اور کچھ لوگوں کے لیے اسلام کو ان کی ری ڈسکوری۔ آپ کی اِس فکری مہم میں مسلمانوں کا کیا درجہ ہے۔ کیا آ پ مسلم اور غیر مسلم کو اِس معاملے میں برابر کی حیثیت دیتے ہیں یا آپ کے نزدیک مسلمانوں کو کوئی خصوصی حیثیت حاصل ہے۔
قرآن اور حدیث کے مطابق، ہماری رائے یہ ہے کہ جہاں تک آخرت کی جزا اور سزا کا معاملہ ہے، اس میں دونوں گروہوں کو یکساں حیثیت حاصل ہے۔ یہ بات قرآن کی اِس آیت سے واضح طور پر ثابت ہوتی ہے:لَیْسَ بِأَمَانِیِّکُمْ وَلَا أَمَانِیِّ أَہْلِ الْکِتَابِ مَنْ یَعْمَلْ سُوءًا یُجْزَ بِہِ(4:123) یعنی نہ تمھاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہلِ کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو کوئی بھی بُرا کرے گا وہ اس کا بدلہ پائے گا۔
یہ عقیدہ بالکل بے بنیاد ہے کہ مسلمان خود اپنی پیدائش کے اعتبار سے ’’منتخب گروہ‘‘ بن چکے ہیں۔ اور ان کی جنّتیں رزرو (reserve)ہیں۔ یہ عقیدہ سر تا سر بے بنیاد ہے۔ یہ عقیدہ بھی ایک بے بنیاد عقیدہ ہے کہ کچھ ظاہری رسوم ورواج کی تعمیل، یا کسی…
…اللہ اس میں اسلام کا کلمہ داخل کرے گا۔ میری خواہش ہے کہ اس حدیث میں بیان کردہ پراسس کا میں حصہ بن جاؤں۔یہاں تک کہ یہ ریَلٹی بن جائے، اور قرآن کی آیت ، لیکون للعالمین نذیرا (25:1)، کے مطابق سارے عالم تک قرآن کا میسج آف انذار پہنچ جائے۔
My greatest desire is to become a part of this historical process, the process of the spreading of the word of God, until it becomes a reality.
سوال: آپ کی ایک اہم کتاب الاسلام یتحدی (مذہب اور جدید چیلنج) ہے۔ کیا آپ کا یہ ارادہ ہے کہ اس کو نئے سائنسی انکشافات کے اعتبار سے اپ ڈیٹ (update) کی جائے، تاکہ وہ موجودہ دور کے اعتبار سےاپ ٹو ڈیٹ (up to date) ہوسکے؟
…منصوبے ہیں، ہر ایک کا اپنا الگ الگ ایجنڈا ہے۔ ایسی حالت میں یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ دوسروں کی رعایت کرتے ہوئے اپنا منصوبہ بنائے۔ اگر لوگ ایسا نہ کریں تو سارے لوگ آپس میں لڑیں گے، اور کوئی بھی شخص اپنا کام درست طور پر انجام نہ دے سکے گا۔
ایسی حالت میں انسان کو اپنا کام انجام دینے کے لیے دانش مندانہ منصوبہ بنانا پڑتا ہے۔ اس دانش مندانہ منصوبے کو ایک لفظ میں پریکٹکل وزڈم کہا جاسکتا ہے۔ اس اعتبار سے قرآن کی ان آیات میں حکمت سے مراد عملی دانش مندی (practical wisdom) ہے۔ یعنی دوسروں سے ٹکراؤ کیے بغیر اپنے منصوبے کو مکمل کرنا۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مکہ میں جب آپ نے توحید کا مشن شروع کیا تو وہاں کی اکثر آبادی شرک پر قائم تھی۔ رسول اللہ کو یہ کرنا تھا کہ مشرکین سے ٹکراؤ کیے بغیر اپنا توحید کا منصوبہ پر امن انداز میں عمل میں لائیں۔ توحید کا اصول ایک مطلق اصول…
…یعنی قابض سے لڑکر کھوئے ہوئے کو دوبارہ حاصل کرنا، اور پھر اپنی تعمیر کا کام کرنا۔ اس طریقۂ کار کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے وقت اور توانائی کا ایک بڑا حصہ منفی سرگرمیوں میں گزرجاتا ہے، اور مثبت تعمیر کے لیے اس کے پاس کم وقت بچتا ہے۔
اس مسئلے کا حل کیا ہے۔ اس مسئلے کا حل اسلام میں یہ بتایا گیا ہے کہ باقی ماندہ حصہ پر پلاننگ (planning on the basis of the remaining part) کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ یہ مسئلہ اللہ کی نظر میں اتنا زیادہ اہم ہے کہ اس کو ایک ابدی اصول کی صورت میں مکہ میں کعبہ کی تاریخ کے ساتھ قائم کردیا گیا۔ قرآن میں حج کا حکم دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ لوگ حج کے لیے مکہ آئیں، اور یہاں اپنے نفع کا مشاہدہ کریں۔ قرآن میں حج کا حکم دیتے ہوئے یہ بیان آیا ہے: وَأَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَأْتُوکَ رِجَالًا وَعَلَى کُلِّ ضَامِرٍ یَأْتِینَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیق۔ لِیَشْہَدُوا مَنَافِعَ لَہُمْ (22:27-28)۔ یعنی اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو، وہ تمہارے پاس آئیں گے۔ پیروں پر چل کر اور دبلے اونٹوں پر سوار ہو کر جو کہ دور دراز راستوں سے آئیں گے۔ تاکہ وہ ان فوائد کو دیکھیں۔
قرآن کی اس آیت کو جب کعبہ کی تاریخ کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے، تومعلوم ہوتا ہے کہ یہ منافع (benefits) کیا ہیں، جن کا مشاہدہ حاجی کو مکہ میں کرنا ہے۔جیسا کہ معلوم ہے کعبہ کو عالمی عبادت کے مرکز کے طور پر پیغمبر ابراہیم نے چار ہزار سال پہلے…
یکم ستمبر 1984
بمبئی کے قریب ٹرامبے کے مقام پر 10 کروڑ روپئے کی لاگت اور کناڈا کے تعاون سے ہندستان کا پہلا ایٹمی ری ایکٹر قائم ہوا۔ سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اس کا افتتاح 16 جنوری 1961 کو کیا تھا۔ واپس آکر دہلی میں انھوں نے 17 جنوری کو ایک تقریر کے دوران اس کا ذکر کیا اور کہا :
” ہمارا یہ ایٹمی ری ایکٹر اجنتا کے غاروں کے سامنے ہے ۔ ان میں سے ایک ایٹمی طاقت کا مظہر ہے ، اور دوسرا روحانی طاقت کا مظہر، اور دنیا کا دارومدار انہیں دو چیزوں کی ترقی پر ہے۔ ہم سائنس اور روحانیت دونوں کو ساتھ لئے بغیر ترقی کی دوڑ میں آگے…
بریلوی حضرات کہتے ہیں کہ عربی میں ھٰذا کا لفظ قریب کے اشارہ کے لئے آتا ہے۔ فرشتوں کے سوال میں اشارہ قریب کا لفظ استعمال کیا جانا بتاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر میت کے پاس حاضر و ناظر ہوتے ہیں ۔
یر دلیل نہیں دلیل بازی ہے ۔ محض هذا کےاستعمال سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی ۔
حدیث وسیرت کی کتابوں میں آتا ہے کہ وفد عبد القیس 5ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ میں آیا ۔ گفتگو کے دوران اس نے یہ جملہ کہا :
…کرے گی ۔ مگرایک طالب علم نے لکھا کہ وہ زندہ رہنا چاہے گی تاکہ اپنے بچہ کی پرورش کر سکے ۔ بچہ کی زندگی اور اس کے مستقبل کا سوال اس کو مجبور کرے گا کہ وہ ایک ایسی زندگی کو قبول کرے گا جس کو عام حالات میں قبول کرنا اس کے لئے ممکن نہیں تھا۔
اسی کا نام با مقصد زندگی ہے۔ مقصد وہ چیز ہے جو آدمی کو جینے کا حوصلہ دیتا ہے۔ جو آدمی مقصد کو کھو دے ، وہ جینے کا حوصلہ بھی کھو دے گا۔
28 اکتوبر 1984
20 نومبر 1984
فرانسس بیکن (Francis Bacon) کا قول ہے ۔ــــ حسد کبھی تعطیل کا دن نہیں مناتی :
Envy never makes holiday.
عظامی یا العظامی کا لفظ عظام الموتی (مرے ہوئے بزرگوں) کی طرف منسوب ہے۔ یہ اس بات کا کنایہ ہے کہ آدمی اپنے گزرے ہوئے آباء و اجداد پرفخر کرے۔ وہ ماضی کے بڑوں سے نسبت دے کر اپنے کو بڑا سمجھے ۔
السامانی کے مذکورہ مقولہ کا مطلب یہ ہے کہ اپنے عمل سے بڑا بننے کی کوشش کرو ، پدرم سلطان بود کے ذہن کے تحت اپنے کو بڑا نہ سمجھو۔ ( العربي ، کویت )
15 دسمبر 1984
…کے وسیع میدان میں اکھٹا ہوتے ہیں۔ اس وقت ایک عجیب منظر ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے انسانوں کے تمام فرق اچانک مٹ گئے ہوں۔ انسان اپنے تمام اختلافات کو کھو کر خدائی وحدت میں گم ہوگئے ہیں۔ تمام انسان ایک ہوگئے ہیں جیسے ان کا خدا ایک ہے۔
عرفات کے وسیع میدان میں جب احرام باندھے ہوئے تمام حاجی جمع ہوتے ہیں اس وقت کسی بلندی سے دیکھا جائے تو ایسا نظر آئے گا کہ زبان، رنگ، حیثیت، جنسیت کے فرق کے باوجود سب کے سب انسان بالکل ایک ہوگئے ہیں۔ اس وقت مختلف قومیتیں ایک ہی بڑی قومیت میں ضم ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حج اجتماعیت کا اتنا بڑا مظاہرہ ہے کہ اس کی کوئی دوسری مثال غالباً دنیا میں کہیں اور نہیں ملے گی۔
کعبہ مسلمانوں کا قبلۂ عبادت ہے۔ مسلمان ہر روز پانچ وقت اس کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھتے ہیں۔ گویا ساری دنیا کے مسلمانوں کا عبادتی قبلہ ایک ہی ہے۔ عام حالت میں وہ ایک تصوراتی حقیقت ہوتا ہے۔ مگر حج کے دنوں میں مکہ پہنچ کر وہ ایک آنکھوں دیکھی…
…دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی حج کی ابراہیمی سنت کی ادائیگی کے ذریعے جو اسپرٹ تم نے اپنے اندر پیدا کی ہے اس کو لے کر دنیا میں پھیل جاؤ اور اللہ کے پیغام کو دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچادو۔اور ہر سال حج کے بعد یہی دعوتی کام کرتے رہو۔
حج کے بعد کے عمل سے مراد دعوت یعنی تمام انسانوں کو خدا کے کریشن پلان سے آگاہ کرنا ہے۔ اس تفسیر کا ماخذ خود سنتِ رسول ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ حجۃ الوداع کا فریضہ ادا کیا۔ پھرحج سے واپسی کے بعد آپ مدینہ آئے وہاں آپ نے ایک مفصل خطاب میں اپنے اصحاب کو یہ پیغام دیا:إن اللہ بعثنی رحمة وکافة(للناس)، فأدوا عنی یرحمکم اللہ، ولاتختلفوا علی کما اختلف الحواریون على عیسى بن مریم (سیرت ابن ہشام: 2/607)۔ بیشک اللہ نے مجھے بھیجا ہے رحمت بنا کر اور تمام انسانوں کے لیے، تو تم میری طرف سے لوگوں کو پہنچادو، اللہ تمھارے اوپر رحم فرمائے، اور تم میرے ساتھ اختلاف نہ کرو جیسا عیسی بن مریم کے حواریوں نے کیا ۔
امتِ مسلمہ کا مشن دعوت الی اللہ ہے۔ حج کا مقصد یہ ہے کہ امت کے افراد ہر سال مکہ کے تاریخی مقام پر مجتمع ہوں، یہاں وہ مختلف اعمال کے علامتی اعادہ کے ذریعے پیغمبر کی دعوتی سنت کو یاد کریں۔ اور پھر دعوت الی اللہ کی اسپرٹ کو لے کر دنیا میں…
…اپنی فیکٹری میں لے گئے۔ ان کی فیکٹری میں ابھی تک کوئی پروفیشنل مینیجر نہیں تھا۔ انھوں نے اپنی فیکٹری کے مختلف حصوں کو دکھاتے ہوئے پروفیشنل مینیجر کے نہ ہونے کا ذکر کیا، اور کہا : اپنی تو لیمیٹیشنس (limitations) آجاتی ہیں، مینجمنٹ سائڈ پر۔
فیکٹری کے مالک کا یہ جملہ سن کر میرا مائنڈ ٹریگر (trigger)ہوگیا۔ میں نے ایک نئے لائن پر سوچنا شروع کردیا۔ میں نے سوچا کہ ہمارے رہنماؤں نے پوری بیسویں صدی اسی سوچ میں گزار دی۔ ایک لفظی فرق کے ساتھ ان کی مشترک سوچ یہ تھی: اپنی تو لیمیٹیشنس آجاتی ہیں، پولیٹکل سائڈ پر۔ پولٹکس کوئی آفاقی نقطہ نظر نہیں ہے۔ پولٹکس کی محدود سرحدیں ہوتی ہیں۔ اس بنا پر ہمارے تمام رہنما گویا زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ اپنی تو لیمیٹیشنس آجاتی ہیں، پولٹکل سائڈ پر۔ اس فکری محدودیت کی بنا پر ہمارے رہنما امت کو آفاقی نقطہ نظر نہ دے سکے۔ ہررہنما کی سوچ کسی نہ کسی پولٹکل سرحد پر رک گئی۔ ہر رہنما فکر ی محدودیت کا شکار ہوا، اور امت کو بھی فکری محدودیت میں مبتلا کردیا۔
حقیقت یہ ہے کہ پولٹکل سرگرمی اور دعوتی عمل دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔سیاسی نقطۂ نظر محدود نقطۂ نظر ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دعوت کا نقطۂ نظر آفاقی نقطۂ نظر ہوتا ہے۔ آفاقی نقطۂ نظر کی کوئی جغرافی سرحد نہیں ہوتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ…
…پیش آتے ہیں جو بظاہر ناخوشگوار دکھائی دیتے ہیں۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں بھی بار بار ایسے واقعات پیش آئے ۔ ایسے موقع پر ہر بار اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ رہنمائی دی گئی کہ بظاہر ایک غیر موافق واقعے میں بھی کس طرح موافق پہلو چھپا ہوا ہے۔
قدیم مکہ میں جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت توحید کا آغاز کیا تو وہاں سخت قسم کی مشکلات پیش آئیں۔ اس وقت قرآن میں یہ رہنمائی دی گئی : فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ۔ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا(94:5-6)۔یعنی مشکلات سے نہ گھبراؤ، کیوں کہ اس دنیا میں ہرمشکل کے ساتھ آسانی موجود ہوتی ہے ۔ اسی طرح آپ کے مشن کے بارے میں آپ کے مخالفین نے بڑے پیمانے پر جھوٹا پروپیگنڈا شروع کیا۔ آپ پر طرح طرح کے عیب اور الزام لگائے گئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ رہنمائی اتری : وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ (94:4)۔یعنی اس پروپیگنڈے کے ذریعہ تمھارا چرچا ہر طرف پھیل رہا ہے۔ اس لیے اس کو مخالفانہ پروپیگنڈا نہ سمجھو، بلکہ اس کو اپنا اور اپنے مشن کا رفعِ ذکر سمجھو ۔
تقریباً 20 سال تک تبلیغ کرنے کے باوجود آپ اور آپ کے ساتھی عرب میں اقلیت کی حیثیت رکھتے تھے، اور مشرکین اکثریت میں تھے۔ اس وقت آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو فطرت کا ایک قانون یاد دلاتے ہوئے قرآن میں کہاگیا : کَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِیلَةٍ…
…یہ یقینی تھا کہ وہ آپ کا پیچھا کریں گے۔ چناں چہ آپ نے شدید احتیاط کے ساتھ یہ سفر فرمایا، حتٰی کہ آپ کو مکہ سے مدینہ کی طرف جاناتھا، لیکن آپ الٹے رخ پر چل کر غارِ ثور میں پہنچے اور وہاں حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ چھپ کر چند دن قیام کیا۔
مکہ کے سرداروں کو جب آپ کی ہجرت کی خبر ہوئی تو انھوں نے اپنے آدمیوں کو چاروں طرف دوڑایا، تاکہ وہ آپ کو مدینہ پہنچنے سے پہلے پکڑ لیں اور نعوذ باللہ آپ کو قتل کرڈالیں۔ آپ ابھی غارِ ثور میں چھپے ہوئے تھے کہ مکہ کے کئی لوگ آپ کی تلاش میں وہاں پہنچ گئے۔ اس وقت وہ اتنے قریب تھے کہ غار کے اندر سے وہ صاف نظر آرہے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے جب یہ دیکھا کہ تلوار لیے ہوئے یہ لوگ غار کے منہ تک پہنچ گئے ہیںتوانھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، اگر ان میں سے کوئی اپنے پاؤں کی طرف نظر ڈالے تو وہ ضرور ہم کو دیکھ لے گا۔ یہ سن کر پیغمبر اسلام نے کامل اعتماد کے ساتھ کہا:یَا أَبَا بَکْرٍ مَا ظَنُّکَ بِاثْنَیْنِ اللَّہُ ثَالِثُہُمَا(سیرۃ ابن کثیر 2/242-43)۔ یعنی اے ابوبکر، ان دو کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے، جن کا تیسرا اللہ ہو۔
پیغمبر اسلام کی زبان سے نکلا ہوا یہ کلمہ اتنا عظیم ہے کہ شاید پوری انسانی تاریخ میں اس کی کوئی دوسری نظیر موجود نہیں۔ اس وقت آپ بلا شبہ انتہائی پُر خطر حالات میں تھے، لیکن اللہ پر اعتماد اتنا زیادہ بڑھا ہوا تھا کہ کوئی بھی طوفان اس کو…
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔اس وقت آپ کو ایک بنیادی ہدایت یہ دی گئی کہ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ (74:5)۔ یعنی رجز کو چھوڑدے۔رجز کا مطلب گندگی ہے۔
وہ رجز کیا تھا جس کو آپ نے چھوڑ کر اپنا مشن چلایا۔اس کی تفصیل آپ کی سیرت کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے۔اس کا تعلق آپ کے مشن کے طریقہ کار (method) سے تھا۔ اگر رسول اللہ کی عملی روش کو لے کر اس کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ نزاعی طریقہ کار (confrontational method) کو چھوڑو، اور غیر نزاعی طریقہ کار (non-confrontational method) کو اختیار کرو۔
رسول اللہ کی سیرت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنا مشن پوری طرح غیر نزاعی اصول پر چلایا۔کعبہ میں اس وقت کے لوگوں نے 360 بت رکھ دیے تھے۔ مگر آپ نے اس سے ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ اس سے اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ مکہ میں دارلندوہ…
…advancement) ہے۔ اسلام میں اہل ایمان کو اجازت نہیں کہ وہ اپنی طرف سے جنگ چھیڑیں ۔ البتہ جہاں تک امن کا تعلق ہے ، اہل ایمان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اسلام کی اشاعت کے لیے پرامن اقدام کا منصوبہ بنائیں۔ اسلام کا یہ اصول فطرت کے قانون پر مبنی ہے۔
فطرت کے قانون کے مطابق، جنگ کے ذریعہ کسی مثبت نتیجہ کا حصول ممکن نہیں۔ کیوں کہ جنگ سے کسی بات کا فیصلہ نہیں ہوتا، نہ ہارنے کی صورت میںاور نہ جیتنے کی صورت میں۔ جنگ میں اگر فتح حاصل ہو، تب بھی ہارنے والے فریق کے دل میں انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھتا ہے۔ اس لیے جنگ میں فتح بھی ایک نئی جنگ کا آغاز بن جاتا ہے۔
پر امن منصوبہ بندی ہمیشہ اپنا کام کرتی ہے، پرامن منصوبہ بندی کوئی نیا مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ وہ صرف مسئلہ کے حل کی طرف لے جاتی ہے۔ پر امن منصوبہ بندی کے تحت اقدام کرنا، ایک ایسے انجام کی طرف لے جاتا ہے جہاں جنگ کا خاتمہ ہوجائے اور لوگوں کو…
11 مارچ 1989
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے جب میری کوئی بات بیان کی جائے تو اس کو اللہ کی کتاب پر جانچ کر دیکھو۔ اگر وہ اس کے مطابق ہو تو اس کو لے لو ورنہ اسے رد کر دو ( اذ أروى لكم عنى حديث فاعرضواہ على كتاب الله تعالى فان وافقه فاقبلوہ، والا فردوه)
یہ مطلب نہیں کہ جو حدیث بظاہر قرآن سے متعارض دکھائی دے اس کو رد کر دیا جائے۔ اس سے مراد ظاہری تعارض نہیں بلکہ معنوی تعارض ہے۔ ہر معاملہ کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ قرآن وحدیث میں کبھی ایک پہلو سے بات کہی جاتی ہے اور کبھی دوسرے پہلو سے۔اس بنا پر…
…پر راضی ہوگیا۔ ہندو لالہ نے اپنے پاس سے پار ہزار روپیہ دے کر مسجد کو خالی کرایا اور اس کو مسلمانوں کے حوالہ کر دیا۔ اب مسجد مکمل طور پرمسلمانوں کے قبضہ میں ہے۔ وہاں باقاعدہ پنج وقتہ نماز ہوتی ہے۔ ایک امام بھی ہیں وہ اپنے حجرے میں رہتے ہیں۔
مسجد کا تصور یہ ہے کہ وہ خدا کی عبادت کی جگہ ہے۔ اس بنا پر ہر آدمی نیک کام سمجھ کر اس میں مدد دینے کے لئے راضی ہو جاتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ اس کے لئے جھگڑا نہ کیا جائے بلکہ ٹھنڈے طریقے سے لوگوں سے مدد کرنے کے لئے کہا جائے ۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جو لوگ مسجد کا مسئلہ لے کر اٹھے ہیں انھوں نے اپنی ماضی کی روش سے اپنی اچھی تصویربنائی ہو۔ اگر انھوں نے اپنی تصویر بگاڑ رکھی ہو تب بھی ان کی اپیل غیر موثر ہو جائے گی۔
20 مارچ 1989
25 مارچ 1989
موجودہ دنیا میں لذت کا حصول ممکن نہیں ۔ انسان ایک چیز کو ذریعہ لذت سمجھ لیتا ہے اور اس کی طرف دوڑتا ہے۔ مگر جب وہ چیز مل جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر حقیقی معنوں میں کوئی لذت نہ تھی ۔ اس دنیا میں ہر لذت فریب لذت ہے۔ اس حقیقت کو جوشخص تجربہ سے پہلے جان لے وہ عارف ہے ، اور جو شخص تجربہ کے بعد جانے وہ جاہل۔
26 مارچ 1989
…here nor there. Dr. Salam expressed his keenness to return to Pakistan. He said that he would give up anyting-even his prestigious position at Trieste if the Pakistan government sets up a Science Institute and asked for his services.
مگر عملا کبھی ایسا نہیں ہوگا۔ کیوں کہ پاکستان کی جو حکومت بھی ڈاکٹر عبدالسلام کو اس طرح بلائے گی ،اس کو موقع پرست لیڈر شوشہ بنا لیں گے اور حکومت پر قادیان نوازی کا الزام عائد کر دیں گے۔ اس طرح وہ عوام کو بھڑکا کر اس حکومت کے لئے اگلے الکشن میں جیتنے کا امکان ختم کر دیں گے۔۔۔ یہی جھوٹی اسلامی سیاست ہے جس نے نصف صدی کے باوجود پاکستان کو بربادی کے سوا کسی اور منزل تک نہیں پہنچایا۔
16 جون 1989
…حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ عام طور پر حدیبیہ کو غزوۃ الحدیبیہ کہاجاتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں۔ کیوں کہ حدیبیہ کے موقع پر فریقین کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس، جو ہوا وہ یہ تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان باہمی امن کا معاہدہ ہوا۔
الحدیبیہ عرب کے ایک علاقہ کا نام ہے، جو مدینہ اور مکہ کے تقریباً درمیانی مقام پر واقع ہے۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نےایک پروگرام کے تحت یہاں دوہفتہ قیام کیا۔ یہاں آپ نے مکہ کے لیڈروں سے گفت و شنید (negotiation) کی۔ اس کے بعد فریقَین کے درمیان دس سال کے لیےایک ناجنگ معاہدہ (no-war pact) ہوا۔ اس معاہدہ کی تکمیل کے بعد مدینہ پہنچنے سے پہلے وہ سورہ نازل ہوئی جو الفتح کے نام سے قرآن میں شامل ہے۔ اس سورہ میں حدیبیہ کے واقعہ کو فتح مبین (clear victory) بتایا گیا ہے۔
جب حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا، اس وقت اہل اسلام کو کوئی فتح حاصل نہیں ہوئی تھی۔ صرف یہ ہوا تھا کہ فریقَین کے درمیان امن کا معاہدہ ( peace treaty)عمل میں آیا تھا۔ ایسی حالت میں اس واقعہ کو فتح مبین کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ لفظ حال کی نسبت سے…
…کوئی مسئلہ ہرگز موجود نہیں۔موجودہ زمانے کے بعض علما نے اس مسئلہ کو اجتہادی مسئلہ بتایا ہے۔ یعنی ضرورت کے تحت مسجد کو اس کے سابق مقام سے ہٹایا جاسکتا ہے، او ر اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔ حنبلی فقہ واضح طور پر اس مسئلے کی تائید کرتی ہے۔
مشہور حنبلی عالم ابن قدامہ (1147-1223ء) نے اپنی کتاب المغنی میں لکھا ہے : ولو جاز جعل أسفل المسجد سقایة وحوانیت لہذہ الحاجة، لجاز تخریب المسجد وجعلہ سقایة وحوانیت ویجعل بدلہ مسجدا فی موضع آخر(المغنی لابن قدامہ، 6/30)۔ یعنی اگر ضرورت کے تحت مسجد کے نچلے حصہ کو سقایہ(پانی کا حوض) اور دکان بنانا جائز ہے، تو مسجد کو ڈھانا اور اس کو سقایہ اور دکان بنانا بھی جائز ہے، اور اس کے بدلے میں دوسری جگہ ایک مسجد بنائی جائے گی۔
اسلام میں مسجد کی عمارت کا مسئلہ ضرورت کی بنیاد پر ہے، نہ کہ تقدس کی بنیاد پر۔ جدید دورمیں جب سٹی پلاننگ کا زمانہ آیا تو مسلم شہروں مثلاً مکہ ،مدینہ ،وغیرہ، میں بڑی تعداد میں قدیم مسجدیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل (relocate)کی گئیں۔ کیوں…
…قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اوپر ان کے رب کی عنایتیں ہیں اور رحمت ہے۔ اور یہی لوگ ہیں جو راہ پر ہیں۔
ان آیات پر غور کرنے سے فطرت کا ایک قانون معلوم ہوتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ خدا انسان کو پیدا کرکے اس سے غیر متعلق نہیں ہوگیا۔ چوں کہ یہ صرف خالق ہے، جس کو تمام حقیقتوں کا علم ہے، اس لیے یہ ضروری تھا کہ خالق اپنے علم کے مطابق، انسان کی رہنمائی بھی کرتا رہے۔ لیکن چوں کہ انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے، اس لیے یہ رہنمائی جزئی طور پر کتاب اللہ کی صورت میں دی گئی ہے، لیکن زیادہ وسیع پہلوؤں کے اعتبار سے وہ حالات کی زبان میں انسان کو فراہم کی جاتی ہے۔
اسی فطری رہنمائی کو یہاں مصیبت کے لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ انسان کو اس دنیا میں جن حالات میں زندگی گزارنا ہے، اس میں بار بار اس کو وہ چیز پیش آتی ہے، جس کو یہاں مصیبت (suffering) کہا گیا ہے۔ یہ مصیبت انسان کے لیےکوئی برائی (evil) نہیں…
…رسول کے لیے پیدا کیا تھا،چنانچہ جب آپ مدینہ میں آئے تو یہ قبائل آپسی اختلاف کا شکار تھے، اور ان کے سردار کچھ قتل کئے جا چکے تھے ، اورکچھ زخمی ہوگئےتھے ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو آپ سے پہلے وقوع پذیر کیا تاکہ وہ اسلام میں داخل ہوجائیں ۔
اس روایت پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ جو صورت قدیم مدینہ (یثرب) میں پیش آئی ، وہ کیا تھی۔ واقعہ یہ تھا کہ ہجرت رسول سے پانچ سال پہلے مدینہ کے دو قبائل، اوس اور خزرج میں باہمی جنگ ہوئی، اس میں ان کے بہت سے لوگ مارے گئے۔ اس حادثہ کے بعد اہل یثرب کے درمیان یہ ذہن پیدا ہوا کہ ہمارا موجودہ قبائلی کلچر ہمارے لیے مصیبت بن گیا ہے ۔اس وقت ان کو نظر آیا کہ اسلام ان کے لیے بہتر انتخاب (better option) ہے۔ واضح ہو کہ ہجرت سے پہلے اسلام یثرب میں پہنچ چکا تھا۔ چنانچہ جب رسول اللہ مدینہ میں داخل ہوئے تو بہت جلد آپ مدینہ والوں کے لیے قابل قبول (acceptable) بن گئے — یہ ایک مثال ہے کہ تاریخ میں کس طرح حالات کا دباؤ لوگوں کے لیے اس بات کا ذریعہ بن گیا کہ وہ اپنی سوچ کو بدلیں، اور جنگ کے بجائے امن کا طریقہ اختیار کریں۔
’’مصیبت‘‘ کا یہ فطری فارمولا افراد کے لیے بھی ہے، اور گروہوں کے لیے بھی۔ تاریخ میں بڑی تعداد میں ایسے افراد بھی ملیں گے، اور ایسے گروہ بھی جن پر مصیبت یا دباؤ کے یہ حالات پیش آئے۔ اس کے نتیجہ میں انھوں نے مسئلے پر دوبارہ غور کیا، اور نئے…
…پہاڑوں کو ان منکروں پر لا کر رکھ دوں تو پیغمبر اسلام نے فرمایا (نہیں) بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان منکروں کی نسل سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اسی کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ بالکل شرک نہ کریں گے۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر3231)
اس کا مطلب یہ تھا کہ پیغمبر اسلام کا مشن انسان کی خیرخواہی کا مشن تھا۔ انسان کے ساتھ آپ کی خیرخواہی اتنی زیادہ بڑھی ہوئی تھی کہ اگر پہلی نسل آپ کے پیغام کو نہ سنے تو آپ اس کے لیے تیار تھے کہ ان کی اگلی نسلیں ان سے مختلف ثابت ہوں گی، اور آپ کے پیغام کو قبول کریں گی، اور آپ کے مشن میں آپ کی ساتھی بن جائیں گی۔
حالات سے اوپر اٹھ کر سوچنا
…کے ساتھ اپنے عمل کا دوسرا منصوبہ بنانا۔ آپ نے ایسا ہی کیا، اور آپ نے پر امن طور پر مدینہ آکر یہاں از سر نو اپنے مشن کا منصوبہ بنایا۔ آپ کا یہ طریقہ اتنا کامیاب ہوا کہ صرف دس سال کے اندر پہلے مکہ اور پھر سارا عرب آپ کے دائرے میں آگیا۔
ایسے حالات میں عام طور پر لوگ جوابی ذہن کے تحت سوچتے ہیں، اور ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ لیکن پیغمبر اسلام نے ٹکراؤ کے بجائے ری پلاننگ کا طریقہ اختیار کیا، اور تجربہ بتاتا ہے کہ آپ کا منصوبہ مکمل طور پر کامیاب رہا۔
ہر حال میں مثبت طرز فکر
…143 کے تحت مختلف مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ یہود کی تالیف قلب کے لیے تھا، مثلا تفسیر الرازی (4/89)، و تفسیر النسفی(1/138)، وغیرہ۔ تالیف قلب کا مطلب ہے دل کو نرم کرنا ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مدینہ کے یہود سےقریبی تعلق جوڑتے ہوئے اپنا کام کرنا۔
یہ صرف یہود کا معاملہ نہیں۔ آپ نے اپنے مشن میں کبھی ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ آپ نے ہمیشہ یہ کیا کہ اپنےپڑوسی سے معتدل تعلقات رکھتے ہوئے اپنے مشن کا کام کرنا۔ آپ کا یہ طریقہ صرف عرب کے مشرکین کے ساتھ نہیں تھا، بلکہ عرب کی سرحد سے باہر بھی جو لوگ آباد تھے، ان کے ساتھ بھی آپ نے یہی طریقہ اختیار کیا۔ یعنی پڑوسی قبائل اور پڑوسی ملکوں کو وفود بھیجنا۔ وفود بھیجنا، آج کل کی اصطلاح میں گڈویل مشن (goodwill mission) کی حیثیت رکھتا ہے۔
پرامن تعلقات
…حل یہ ہے کہ ہر انسان کو انسان سمجھا جائے۔ ہر انسان کے بارے میں انسان رخی رویہ(human-friendly behaviour) اختیار کیا جائے۔ ہر انسان کو اپنے جیسا انسان سمجھا جائے۔ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی عزت (mutual respect) کا طریقہ اختیار کیا جائے۔
پیغمبر اسلام نے خود اپنے عمل سے اس کا نمونہ قائم کیا۔ جیسا کہ معلوم ہے مدینہ ایک مختلف مذاہب کا معاشرہ تھا۔ پیغمبر اسلام نے اپنے عمل سے یہ ماڈل قائم کیا کہ ہر ایک انسان کے ساتھ یکساں طور پر عزت کا معاملہ کرنا۔ ہر انسان کو یکساں طور پر ایک ہی خالق کا پیدا کیا ہوا انسان سمجھنا۔
یکساں طور پر ہر ایک سے باعزت سلوک کا معاملہ صرف اخلاقی بات نہیں۔ اس کا تعلق براہِ راست طور پر انسان کی ترقی سے ہے۔ ایسے ماحول میں سماج کا ہر فرد ایک دوسرے کا خیرخواہ ہوگا۔ ہر انسان قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کا مالک…
انجام دیکھ کر عمل کرنا
پیغمبر اسلام کا ایک واقعہ حدیث میں ان الفاظ میں آیا ہے: جاء رجل إلى النبی صلى اللہ علیہ وسلم فقال:بارک اللہ للمسلمین فیک، فخصنی منک بخاصة خیر، قال: مستوص أنت؟ أراہ قال:ثلاثا، قال:نعم، قال:اجلس، إذا أردت أمرا فتدبر عاقبتہ، فإن کان خیرا فأمضہ، وإن کان شرا فانتہ(الزھد والرقائق لابن المبارک، حدیث نمبر41)۔ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: آپ کے ذریعہ اللہ مسلمانوں کو برکت دے۔ آپ مجھ کو اپنی طرف سےکسی خاص خیر کی نصیحت کیجیے۔ آپ نے کہا: کیاتم نصیحت چاہتے ہو، آپ نے یہ بات غالباًتین بار کہی، آدمی نے کہا: ہاں، آپ نے کہا: بیٹھ جاؤ، جب تم کوئی کام کرناچاہو، تو تم اس کے نتیجہ پر غور کرو، اگر اس میں خیر ہو تو اس کوکرو، اور اگروہ برا ہے تو اس سے رک جاؤ۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تم جو کام کرو،خوب سوچ سمجھ کرکر و۔ پہلے اس کے ہر پہلو پر غور کرو۔ بے لاگ انداز میں غور کرکے یہ سمجھو کہ وہ کام تمھارے لیے باعتبار انجام اچھا ہے یا برا۔ صرف جذبات کے تحت کوئی کام شروع نہ کرو، بلکہ اپنے اقدام کے تمام…
…موافق ہیں۔ یہ دونوں صاحبان مدینہ جاکر لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے تھے۔ اس لیے ان کو مقری کہا جاتا تھا۔ مدینہ کے لوگ برعکس طور پر کسی رکاوٹ کے بغیر اسلام قبول کرنے لگے۔ بیعت عقبہ اولیٰ اور بیعت عقبہ ثانیہ کا واقعہ اسی زمانے میں پیش آیا۔
مدینہ کے بارے میں اس مثبت تجربے کے بعدنبوت کے تیرھویں سال آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے جائیں، اور از سر نو اپنے مشن کا آغاز کریں۔ اسی کا نام ری پلاننگ (replanning) ہے، اور ری پلاننگ پیغمبر اسلام کے طریقۂ کار کا ایک اہم جزء ہے۔
پیغمبر اسلام کا یہ طریقہ نہ تھا کہ اپنے عمل کا کوئی نتیجہ نکلے یا نہ نکلے بدستور اپنے عمل کو جاری رکھیں، اور جو لوگ بے نتیجہ کام میں مارے جائیں، ان کو شہید کا لقب دے کر اس بے نتیجہ کام کو گلوریفائی(glorify) کریں۔ پیغمبر اسلام کی ایک سنت ری…
…پہاڑوں کو ان منکروں پر لا کر رکھ دوں تو پیغمبر اسلام نے فرمایا (نہیں) بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان منکروں کی نسل سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اسی کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ بالکل شرک نہ کریں گے۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر3231)
اس کا مطلب یہ تھا کہ پیغمبر اسلام کا مشن انسان کی خیرخواہی کا مشن تھا۔ انسان کے ساتھ آپ کی خیرخواہی اتنی زیادہ بڑھی ہوئی تھی کہ اگر پہلی نسل آپ کے پیغام کو نہ سنے تو آپ اس کے لیے تیار تھے کہ ان کی اگلی نسلیں ان سے مختلف ثابت ہوں گی، اور آپ کے پیغام کو قبول کریں گی، اور آپ کے مشن میں آپ کی ساتھی بن جائیں گی۔
حالات سے اوپر اٹھ کر سوچنا
…کے ساتھ اپنے عمل کا دوسرا منصوبہ بنانا۔ آپ نے ایسا ہی کیا، اور آپ نے پر امن طور پر مدینہ آکر یہاں از سر نو اپنے مشن کا منصوبہ بنایا۔ آپ کا یہ طریقہ اتنا کامیاب ہوا کہ صرف دس سال کے اندر پہلے مکہ اور پھر سارا عرب آپ کے دائرے میں آگیا۔
ایسے حالات میں عام طور پر لوگ جوابی ذہن کے تحت سوچتے ہیں، اور ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ لیکن پیغمبر اسلام نے ٹکراؤ کے بجائے ری پلاننگ کا طریقہ اختیار کیا، اور تجربہ بتاتا ہے کہ آپ کا منصوبہ مکمل طور پر کامیاب رہا۔
ہر حال میں مثبت طرز فکر
…حل یہ ہے کہ ہر انسان کو انسان سمجھا جائے۔ ہر انسان کے بارے میں انسان رخی رویہ(human-friendly behaviour) اختیار کیا جائے۔ ہر انسان کو اپنے جیسا انسان سمجھا جائے۔ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی عزت (mutual respect) کا طریقہ اختیار کیا جائے۔
پیغمبر اسلام نے خود اپنے عمل سے اس کا نمونہ قائم کیا۔ جیسا کہ معلوم ہے مدینہ ایک مختلف مذاہب کا معاشرہ تھا۔ پیغمبر اسلام نے اپنے عمل سے یہ ماڈل قائم کیا کہ ہر ایک انسان کے ساتھ یکساں طور پر عزت کا معاملہ کرنا۔ ہر انسان کو یکساں طور پر ایک ہی خالق کا پیدا کیا ہوا انسان سمجھنا۔
یکساں طور پر ہر ایک سے باعزت سلوک کا معاملہ صرف اخلاقی بات نہیں۔ اس کا تعلق براہِ راست طور پر انسان کی ترقی سے ہے۔ ایسے ماحول میں سماج کا ہر فرد ایک دوسرے کا خیرخواہ ہوگا۔ ہر انسان قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کا مالک…
انجام دیکھ کر عمل کرنا
پیغمبر اسلام کا ایک واقعہ حدیث میں ان الفاظ میں آیا ہے: جاء رجل إلى النبی صلى اللہ علیہ وسلم فقال:بارک اللہ للمسلمین فیک، فخصنی منک بخاصة خیر، قال: مستوص أنت؟ أراہ قال:ثلاثا، قال:نعم، قال:اجلس، إذا أردت أمرا فتدبر عاقبتہ، فإن کان خیرا فأمضہ، وإن کان شرا فانتہ(الزھد والرقائق لابن المبارک، حدیث نمبر41)۔ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: آپ کے ذریعہ اللہ مسلمانوں کو برکت دے۔ آپ مجھ کو اپنی طرف سےکسی خاص خیر کی نصیحت کیجیے۔ آپ نے کہا: کیاتم نصیحت چاہتے ہو، آپ نے یہ بات غالباًتین بار کہی، آدمی نے کہا: ہاں، آپ نے کہا: بیٹھ جاؤ، جب تم کوئی کام کرناچاہو، تو تم اس کے نتیجہ پر غور کرو، اگر اس میں خیر ہو تو اس کوکرو، اور اگروہ برا ہے تو اس سے رک جاؤ۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تم جو کام کرو،خوب سوچ سمجھ کرکر و۔ پہلے اس کے ہر پہلو پر غور کرو۔ بے لاگ انداز میں غور کرکے یہ سمجھو کہ وہ کام تمھارے لیے باعتبار انجام اچھا ہے یا برا۔ صرف جذبات کے تحت کوئی کام شروع نہ کرو، بلکہ اپنے اقدام کے تمام…
…موافق ہیں۔ یہ دونوں صاحبان مدینہ جاکر لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے تھے۔ اس لیے ان کو مقری کہا جاتا تھا۔ مدینہ کے لوگ برعکس طور پر کسی رکاوٹ کے بغیر اسلام قبول کرنے لگے۔ بیعت عقبہ اولیٰ اور بیعت عقبہ ثانیہ کا واقعہ اسی زمانے میں پیش آیا۔
مدینہ کے بارے میں اس مثبت تجربے کے بعدنبوت کے تیرھویں سال آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے جائیں، اور از سر نو اپنے مشن کا آغاز کریں۔ اسی کا نام ری پلاننگ (replanning) ہے، اور ری پلاننگ پیغمبر اسلام کے طریقۂ کار کا ایک اہم جزء ہے۔
پیغمبر اسلام کا یہ طریقہ نہ تھا کہ اپنے عمل کا کوئی نتیجہ نکلے یا نہ نکلے بدستور اپنے عمل کو جاری رکھیں، اور جو لوگ بے نتیجہ کام میں مارے جائیں، ان کو شہید کا لقب دے کر اس بے نتیجہ کام کو گلوریفائی(glorify) کریں۔ پیغمبر اسلام کی ایک سنت ری…
یکم مارچ 1990
ایک صاحب نے کہاکہ موجودہ زمانہ میں بہت سے بڑے بڑے مصلح پیدا ہوئے۔ بہت بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں۔ مگر سب بے فائدہ ثابت ہوئیں۔ میں نے کہاکہ ان تحریکوں اور ان شخصیتوں نے نتیجہ سے آغازکرناچاہا، اور اس دنیا میں نیتجہ سے آغاز ممکن نہیں۔
صحابہ کرام نے مکہ اور مدینہ میں ایک عمل کیا۔ اس کے بعد عالمی انقلاب کی صورت میں اس کا نتیجہ برآمد ہوا موجودہ زمانہ کے مسلم مسلمین کو صرف نتیجہ کی خبر تھی ، انھیں عمل کی خبر نہیں تھی۔ چنانچہ وہ نتیجہ کو جذباتی انداز میں مسلمانوں کے سامنے…
21 مارچ 1990
طرابلس میں سلیمان القائد کے مکان پر ٹیپ بج رہا تھا ۔ مدینہ کی مسجد نبوی کے امام کی قرأت سنائی دے رہی تھی۔ اچانک مجھ پر ایک لمحاتی تجربہ گیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں قیامت کے میدان میں ہوں ، اور وہاں انسان کے بولے ہوئے الفاظ کو اس کے سامنے دہرایا جارہا ہے۔ یہ اعادہ اتنا کامل اور مشکل ہے کہ کوئی شخص اس کا انکار نہیں کرسکتا۔
ٹیپ کو سن کر اگر کوئی شخص یہ کہے کہ جس طرح دنیا میں ایک انسان کی آواز دہرائی جا رہی ہے اسی طرح آخرت میں اس کی محفوظ آواز دہرائی جائے گی تو یہ ایک استنباط ہوگا۔ مگرمیرا مذکورہ واقعہ استباط نہیں تھا کہ وہ ایک تجربہ تھا۔ اس طرح کے تجربے مجھے…
31 جولائی 1990
29 جولائی 1990 کے تحت میں نے حج کے حادثہ کی بابت ڈاکٹر اشفاق احمد صاحب کا بیان نقل کیا ہے ۔ اس کی مزید تائیدعبد الماجد ندوی صاحب کے بیان سے ہوئی ۔ وہ کشمیر (پونچھ) سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ بھی اس سال حج کے لئے گئے تھے اور وہ سرنگ کے اندرخود بھی پھنس گئے تھے۔ بڑی مشکلوں سے وہ باہر آئے، واپسی کے بعد وہ ہمارے دفتر میں آئے اور ڈاکٹر اشفاق کے بیان کی تائید کی۔
مگر اس سے پہلے اس واقعہ کے بارہ میں ایرانیوں کے حوالے سے جو خبر پریس میں چھپی وہ سراسر اس سے مختلف تھی، ایرانی چوں کہ اس سال بطور احتجاج حج کے لئے نہیں گئے۔ اور ان کا مطالبہ ہے کہ مکہ اور مدینہ کومسلم ممالک کی بین اقوامی نگرانی میں دیدیا…
…کہ ہندستان کے فسادات وغیرہ میں میں یکطرفہ طور پر صرف ہند وقصور وار ہیں مسلمان مکمل طور پر مظلوم ہیں ۔ ہندستان سے جو لوگ امریکہ جاتے ہیں وہ اس کی تصدیق کرتے ہوئے مسلمانوں کی مظلومیت پر تقریریں کرتے ہیں اور وہاں سے بڑی بڑی رقمیں لاتے ہیں۔
ایک خصوصی اجتماع میں یہاں ہندستانی مسلمانوں کا ذکر ہوا۔ میں نے کہا میری رائے بالکل بر عکس ہے ۔ میری رائے یہ ہے کہ ہندستان میں مسلمان ظالم ہیں اور ہندو مظلوم۔ یہ سن کر لوگ حیرت کے ساتھ میری طرف دیکھنے لگے۔ میں نے کہا کہ ہند و اگرمسلمانوں کی دنیا چھین رہا ہے تو مسلمان ہندووں کی آخرت چھینے ہوئے ہیں۔ پھر زیادہ بڑا مظلوم کون ہے۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ وہ ہندوؤں کے سامنے اسلام پیش کرتے وہ ہندوؤں سے داعی اور مدعو کا رشتہ قائم کرتے مگر مسلمان اس کے برعکس ان سے عداوت کارشتہ قائم کئے ہوئے ہیں۔ یہ بلاشہ مسلمانوں کاظلم ہے۔ اس معاملے میں وہ خدا کے یہاں پکڑ سے نہیں بچ سکتے۔
28 نومبر 1990
…مسلمان عالم ہیں۔ وہ ایک دینی مدرسہ چلاتے ہیں۔ انھوں نے ایک عرب ملک کو مالی امداد کی درخواست دی تھی ۔ مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد ان کی درخواست منظور ہوگئی اور رقم دہلی کے مذکورہ عربی سفارتخانہ میں بھیج دی گئی۔ وہ دہلی آکر اپنی رقم لے گئے۔
میں نے ان سے کہاکہ آپ جیسے ہزاروں لوگ اس طرح کی امداد وصول کر رہے ہیں۔ کچھ وہ لوگ جو بڑی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں ، وہ اس سے بھی زیادہ بڑے مواقع پا رہے ہیں۔ مگر میرے علم میں کوئی شخص نہیں جو اس کو خدا کی نعمت سمجھے اور علی الاعلان اس کا ذکر کر کے خدا کا اعتراف کرے۔شکر دین کا خلاصہ ہے اور وہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں سے نکل گیا ہے ۔
اللہ تعالی کو یہ مطلوب ہے کہ ہر زمانہ میں کچھ لوگ ہوں جو دین کا کام کریں۔ مسجد اور مدرسہ چلانا ، دعوت اور تبلیغ کا کام کرنا ، اسلامی علوم کی خدمت کرنا وغیرہ۔ اس طرح کی خدمت کے ساتھ آدمی معاشی کام نہیں کرسکتا۔ اس بنا پر اﷲ تعالی نے بہت بڑے…
…على البیضاء لیلہا کنہارہا، لا یزیغ عنہا بعدی إلا ہالک (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر43)۔ یعنی میں تمھارے پاس ایک روشن دین چھوڑ رہا ہوں، اس کی راتیں بھی اس کے دن کی طرح ہیں، میرے بعد کوئی اس سےدور نہیں ہوگا سوائے اس آدمی کے جو ہلاک ہونے والا ہے۔
یہاں یہ سوال ہے کہ جب دین اتنا واضح ہے تو اس میں اختلافات کیوں۔ قرآن کی تفسیر میں اختلاف، حدیث کی شرح میں اختلاف ، فقہی مسائل میں اختلاف، وغیرہ۔ رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ تم اس طرح نماز پڑھو، جس طرح مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ لیکن آپ کے بعد نماز کے مسائل میں اتنے اختلافات ہوئے کہ مسلمانوں کے درمیان کئی مستقل فقہی اسکول بن گئے، وغیرہ۔
یہ اختلاف ایک مطلوب اختلاف ہے۔ یہ اختلاف اس لیے ہے تاکہ لوگ اس پر تدبر کریں۔لوگ خود اپنے ذہن کو استعمال کریں۔ یہاں تک کہ ہر شخص دین کو ری ڈسکور (rediscover) کرے، ہر آدمی خود دریافت کردہ سچائی (self-discovered truth) پر کھڑا ہو۔
…کے وسیع میدان میں اکھٹا ہوتے ہیں۔ اس وقت ایک عجیب منظر ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے انسانوں کے تمام فرق اچانک مٹ گیے ہوں۔ انسان اپنے تمام اختلافات کو کھو کر خدائی وحدت میں گم ہوگیے ہیں۔ تمام انسان ایک ہوگیے ہیں جیسے ان کا خدا ایک ہے۔
عرفات کے وسیع میدان میں جب احرام باندھے ہوئے تمام حاجی جمع ہوتے ہیں اس وقت کسی بلندی سے دیکھا جائے تو ایسا نظر آئے گا کہ زبان، رنگ، حیثیت، جنسیت کے فرق کے باوجود سب کے سب انسان بالکل ایک ہوگیے ہیں۔ اس وقت مختلف قومیتیں ایک ہی بڑی قومیت میں ضم ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حج اجتماعیت کا اتنا بڑا مظاہرہ ہے کہ اس کی کوئی دوسری مثال غالباً دنیا میں کہیں اور نہیں ملے گی۔
کعبہ مسلمانوں کا قبلۂ عبادت ہے۔ مسلمان ہر روز پانچ وقت اس کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھتے ہیں۔ گویا ساری دنیا کے مسلمانوں کا عبادتی قبلہ ایک ہی ہے۔ عام حالت میں وہ ایک تصوراتی حقیقت ہوتا ہے۔ مگر حج کے دنوں میں مکہ پہنچ کر وہ ایک آنکھوں دیکھی…
Sir, I am not Mr. Idiot, I am Zakir Husain.
جناب، میں مسٹر ایڈیٹ نہیں ہوں۔ میں ذاکر حسین ہوں۔ یہ سُن کر اُس آدمی کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا۔ ساری(sorry) کہہ کر وہ خاموشی کے ساتھ اپنی گاڑی پر بیٹھا اور آگے کے لیے روانہ ہوگیا۔
2۔ ہجرت کے بعد حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا۔ مکہ کے سرداروں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اورآپ کے صحابہ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اُس وقت حدیبیہ کے مقام پر دونوں فریقوں کے درمیان ایک معاہدۂ امن تیار کیا گیا ۔ اس معاہدہ کے وقت…
…مدینہ میں ۳۸ھ میں وفات پائی۔ بوقت وفات اُن کی عمر تقریباً ستّر سال تھی۔ اُن سے تین سو سات حدیثیں مروی ہیں۔ اُن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أنا سابق العرب، وصہیب سابق الروم(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 7288)۔
صہیب رومی کا تذکرہ تاریخ اسلام کی اکثر کتابوں میں آیا ہے۔ مثلاً طبقات ابن سعد، تاریخ ابن عساکر، وغیرہ۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صہیب رومی ایک اونچے خاندان کے فرد تھے۔ پھر وہ مکہ میں تجارت کرنے لگے۔ انہوں نے تجارت میں کافی دولت کمائی (کان صھیب قد ربح مالا وفیرا من تجارتہ)۔ سیر اعلام النبلاء، 3/210۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ سے مدینہ کے لیے ہجرت فرمائی تو صہیب رومی نے بھی ہجرت کا فیصلہ کیا۔ روایات بتاتی ہیں کہ اُن کی ہجرت کی خبر لوگوں کو ہوگئی۔ چنانچہ قریش کے کچھ نوجوان اُن کے پاس آئے۔ اُنہوں نے کہا کہ تم نے اپنا یہ مال…
…کے ڈیولپمنٹ کے لیے اللہ نے پراسس (process) کا طریقہ اختیار کیا۔ یعنی تدریج کے تحت ڈیولپ کرتے ہوئے نقطۂ انتہا (culmination) تک پہنچانا۔ ایسا اس لیے ہوا تاکہ انسان مطالعہ کرکے تاریخ کا علم حاصل کرسکے۔ اور اس طرح تخلیق کی معرفت سے آگاہ ہو۔
مادی کائنات کی تخلیق کا معاملہ حسب ذیل آیت کے مطالعے سے سمجھ میں آتا ہے: ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَہِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَہَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا أَوْ کَرْہًا قَالَتَا أَتَیْنَا طَائِعِینَ (41:11)۔ پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا۔ اور وہ دھواں تھا۔ پھر اس نے آسمان اور زمین سے کہا کہ تم دونوں آؤ خوشی سے یا ناخوشی سے۔ دونوں نے کہا کہ ہم خوشی سے حاضر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مادی دنیا کواس معاملے میں ذاتی اختیار حاصل نہ تھا۔ خالق نے جس طرح مادی دنیا کو ہدایت دی، ٹھیک اس کے مطابق مادی دنیا چلتی رہی۔ یہاں تک کہ اپنے کمال تک پہنچی۔ اس عمل کا آغاز بگ بینگ (الانبیاء30:) سے شروع ہوا۔ اور نظامِ شمسی کے وجود میں آنے پر مکمل ہوا۔
انسانی دنیا کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ انسان کو اللہ نے مکمل آزادی دی تھی۔ اس لیے یہاںاللہ نے انسان کی تاریخ کو مینج (manage) کرنے کا طریقہ اختیار کیا۔ یعنی انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، تاریخ کو مینج کرنا، اور اس کو مطلوب نقطۂ…
…اللَّہُ مَنْ یَنْصُرُہُ إِنَّ اللَّہَ لَقَوِیٌّ عَزِیزٌ (22:40)۔ یعنی اور اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرے۔ بیشک اللہ زبردست ہے، زور والا ہے۔ قرآن کی یہ آیت انسانی تاریخ کے بارے میں ایک خدائی قانون کو بتاتی ہے۔
اصل یہ ہے کہ اللہ رب العالمین نے انسان کو کامل آزادی دی ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ وہ انسانی تاریخ کو برابر مینج بھی کرتا ہے، تاکہ تاریخ کا سفر اپنے صحیح رخ پر جاری رہے۔ مذکورہ آیت میں جس معاملے کا ذکر ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ رب العالمین کے اس منصوبے میں انسان کا رول کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ انسان تاریخ کے بارے میں اللہ کے منشا کو دریافت کرے، اور اللہ کے منصوبے کے مطابق تاریخی عمل (historical process) میں اپنا حصہ ادا کرے۔ انسان اگر ایسا کرے تو وہ اللہ کی مدد کا یقینی مستحق بن جاتا ہے۔
اس معاملے کی ایک مثال وہ ہے جو اسلام کے دور اول میں پیش آئی۔ وہ یہ کہ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کے بعد اللہ تعالی نے ایسے حالات پید اکیے کہ اہل ایمان یک طرفہ شرطوں پر فریق ثانی سے صلح کرلے، اور اس طرح فریقین کے درمیان امن کا ماحول بنا…
…دور ہیں۔ گرہن کی تاریخ کا پہلا دور وہ ہے جب کہ اس معاملے میں توہماتی عقائد کا رواج تھا۔ گرہن کا دوسرا دور اسلام کے ذریعہ انسان کے علم میں آیا۔ گرہن کی تاریخ کا تیسرا دور وہ ہے جوموجودہ زمانے میں دور بین کی ایجاد (1608ء) کے بعد شروع ہوا۔
اسلام نے گرہن کے تعلق سے جو بات بتائی، اس کے مطابق، گرہن کا تعلق نہ توہمات سے ہے اور نہ وہ صرف ایک مادی نوعیت کا فلکیاتی واقعہ ہے، بلکہ وہ خالقِ کائنات کے باشعور تخلیقی نظام کا ایک حصہ ہے۔ وہ خدا کی قدرتِ کاملہ کا ایک مظہر ہے، وہ انسان کے لیے خداوند ِ عالم کا ایک تعارف ہے، گرہن خاموش زبان میں خدا کی حکیمانہ تخلیق کا اعلان کررہا ہے۔
ہجرت کے بعد کا واقعہ ہے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادہ ابراہیم مدینہ میں پیدا ہوئے۔ ڈیڑھ سال کی عمر میں شوال 10 ہجری 632)ء ( میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اتفاق سے اسی دن سور ج گرہن پڑا۔ قدیم توہماتی رواج کے مطابق، مدینہ کے کچھ…
…دورِ شرک کا خاتمہ ہوا۔ اسی کے ساتھ دوسری طرف اس کے نتیجے میں نیچر میں آزادانہ تحقیق کا مزاج پیدا ہوا، اس کے بعدتاریخ میں وہ دور آیا جس کو جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔ تاریخ میں یہ انقلاب ری پلاننگ کے ذریعہ ظہور میں آیا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن توحید کا مشن تھا۔ یعنی شرک کی آئڈیالوجی کے بجائے دنیا میں توحید کی آئڈیالوجی کو ظہور میں لانا۔ آپ نے اپنا مشن 610 عیسوی میں قدیم مکہ میں شروع کیا۔ اس وقت مکہ میں شرک کا کلچر تھا۔ مشرک سرداروں کو ہر اعتبار سے غلبہ کا مقام ملا ہوا تھا۔ تیرہ سال کی مخالفت کے بعد آخر کار انھوں نے رسول اللہ کوعملاً الٹی میٹم دے دیا کہ آپ اپنے ساتھیوں کو لے کر مکہ سے چلے جائیں، ورنہ ہم آپ کو قتل کردیں گے۔
پیغمبر اسلام کےلیے یہ ایک بحران (crisis)کا لمحہ تھا۔ مگر آپ نے رد عمل (reaction) کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ بلکہ حالات کا بے لاگ جائزہ کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ آپ خاموشی سے مکہ چھوڑ دیں، اور یثرب چلے جائیں۔ جو کہ قدیم عرب کے تین بڑے…
…استعداد کو بڑھائیں۔ مشن سے وابستہ ہونے کے وقت ان کی جو استعداد تھی، اسی پر قانع نہ ہو جائیں۔ مثلاً عربی جاننے والے ہیں، عربی بولنے میں اپنی استعداد کو بڑھائیں، اور جو انگریزی جاننے والے ہیں ، وہ انگریزی بولنے میں اپنی استعداد کو بڑھائیں۔
اس کوشش کا فائدہ یہ ہوگا کہ ان کا دائرہ ربط (contact area) بڑھ جائے گا۔ وہ ملاقاتوں میں یا اجتماعات میں اپنی بات کو زیادہ موثر (effective) انداز میں پیش کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔ استعداد بڑھانا ، اپنی قوتِ کارکردگی کو بڑھانا ہے، جو کہ کسی صاحب مشن کے لیے بہت ضروری ہے۔یہ کوشش فطری طور پر ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ ہوگی۔ وہ داعی کو تخلیقی داعی (creative dayee) بنانے والا ثابت ہوگا۔ قرآن میں پیغمبر اسلام کو جن دعاؤں کی تلقین کی گئی ، ان میں سے ایک دعا یہ ہے:وَقُلْ رَبِّ زِدْنِی عِلْمًا (20:114)۔ یعنی اور کہو کہ اے میرے رب میرے علم میں اضافہ کر۔
اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اپنی دعاؤںمیں اس دعا کو شامل کرو کہ رَبِّ زِدْنِی عِلْمًا ۔ بلکہ یہ ایک منصوبہ بندی کی بات ہے۔ اس اعتبار سے اس کا تعلق صرف پیغمبر سے نہیں ہے، بلکہ اسلام کے ہر داعی سے ہے۔ ہر داعی کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے علم…
ری پلاننگ (re-planning)
قدیم مکہ میں آپ کی مخالفت بڑھتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ مکہ کے سرداروں نے آپ کو یہ الٹی میٹم دے دیا کہ یا تو آپ مکہ کو چھوڑ دیں، یا ہم آپ کو قتل کردیں گے۔ اس وقت آپ نے دوبارہ ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ آپ نے ری پلاننگ کا طریقہ اختیار کیا۔ یعنی آپ نے مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ کو اپنے مشن کا مرکز بنا لیا۔ اور مکہ کے بجائے مدینہ سے اپنے مشن کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہ نیا منصوبہ کامیاب رہا، اور بہت جلد اسلام کی تحریک ایک نئے دور میں داخل ہوگئی۔ پہلے اگر آپ کا مشن ایک مقامی مشن تھا، تو اب وہ دھیرے دھیرے ایک انٹرنیشنل مشن بن گیا۔
پیس ایٹ اینی کاسٹ (peace at any cost)
…اسلام کو مکہ میں ایک مضبوط سماجی بنیاد (social base) حاصل ہوگئی۔ مکہ میں یہ سماجی بنیاد آپ کو تقریبا 25 سال حاصل رہی۔ آپ ایک صاحب مشن تھے، اوراپنے مشن کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے ضروری ہے کہ صاحب مشن کو مضبوط سماجی بنیاد حاصل ہو۔
حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد پیغمبر اسلام کا دوسرا نکاح حضرت عائشہ سے ہوا۔ یہ نکاح مکی دور کے آخری زمانے میں ہوا، اور ہجرت کے بعد مدینہ میں ان کی رخصتی ہوئی۔ اس وقت عائشہ کی عمر نو سال تھی، اور پیغمبر اسلام کی عمر 53سال۔ عمر کے اس فرق کو لے کر لوگوں کے درمیان بہت بحثیں جاری ہیں۔ لوگ طرح طرح کی تاویلیں کرتے ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ یہ معاملہ صرف نکاح کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد بطور واقعہ یہ ایک نئی سوشل بنیاد حاصل کرنے کا معاملہ تھا۔ حضرت عائشہ سے نکاح کے بعد ، پیغمبر اسلام کو ان کے باپ کی صورت میں ایک نئی مضبوط تر بنیاد حاصل…
…کرنا
چاہتے تھے۔ طویل گفت و شنید کے بعد جب معاہدے کی دفعات طے ہوگئیں، اور اس کو کاغذ پرلکھا
جانےلگا تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدے کو لکھواتے ہوئے کہا: اکتب یا
علی، ہذا ما صالح علیہ محمد رسول اللہ ۔
فریق ثانی کے لیڈر نے فوراً اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے۔
آپ محمد رسول اللہ کے بجائے محمد بن عبد اللہ لکھیے، جو کہ ہمارے اور آپ کے درمیان
مشترک ہے۔آپ نے بلابحث کہا: امح یا علی، اللہم إنک تعلم أنی رسولک،امح یا علی واکتب،
ہذا ما صالح علیہ محمد بن عبد اللہ(مسند احمد، حدیث نمبر3187)۔یعنی اے علی، اس کو مٹادو۔
اے اللہ ، تو جانتا ہے کہ میں تیرا رسول ہوں۔ اے علی، مٹادو اور لکھو، یہ وہ (دفعات)
ہیں جن پر محمد بن عبد اللہ نے صلح کیا۔ اس کے بعد صلح کا معاہدہ طے پاگیا۔ اور آپ
اپنے اصحاب کے ہمراہ مدینہ واپس آگیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معاملہ بلاشبہ اللہ کی رہنمائی کے مطابق تھا۔ اللہ
کی رہنمائی کے بغیر آپ ایسا نہیں کرسکتے تھے۔ سورہ الفتح میں اس کی بابت یہ الفاظ
آئے ہیں: وَیَہْدِیَکَ صراطًا مُسْتَقِیمًا (48:2)۔ آپ کا…
… لِئَلَّا یَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّہِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ (4:165)۔ یعنی
اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا، تاکہ رسولوں کے
بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت باقی نہ رہے۔
انذار و تبشیر کے الفاظ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پیغمبروں کا مشن خالص اخروی مشن
تھا۔ ان کے مشن کا فوکس ہمیشہ یہ ہوتا تھا کہ انسان کے لیے وہ کون سا رویہ ہے جو اس
کو ابدی جنت تک پہنچانے والا ہے، اور وہ کون سا رویہ ہے جو اس کو اس خطرے (risk) میں
ڈالتا ہے کہ اگلے دورِ حیات میں اس کو ابدی طورپر جہنم والوں کے ساتھ شامل کیا جائے۔
پیغمبروں کے ذریعے انسان کو جو رہنمائی ملی، اصولی طور پر اس کا خلاصہ دو چیزیں تھیں:
…جب (سلام کے بعد ) منھ پھیرا تو کہا، ابھی کس نے وہ بات کہی تھی،
اس آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول، مَیںنے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
میں نےدیکھا کہ 30 سے زیادہ فرشتے دوڑے اس کی طرف ، تاکہ کون پہلے اس کو لکھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو جو نماز سکھائی تھی، اس میں رکوع سے کھڑے
ہونے کے بعد مقتدی کو ربنا لک الحمد کہنے کی تعلیم دی تھی۔ لیکن مذکورہ صحابی نے اس
کلمہ پر اضافہ کرکے اس طرح کہا: ربنا لک الحمد ، حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ۔فرشتوں
کو یہ طریقہ اتنا زیادہ پسند آیا کہ وہ اس کو لکھنے کے لیے بڑی تعدا د میں دوڑ پڑے۔
فرشتوں کا یہ عمل اضافہ شدہ کلمات کی افضلیت کی بنا پر نہ تھا۔ بلکہ صحابی کے تخلیقی
اضافہ (creative addition)کی بنا پر تھا۔
اس سے ایک سنت صحابہ معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی مومن دعا اور ذکر کے مسنون کلمات پر
تخلیقی اضافہ کرسکے تو یہ اس کے لیے ایک عظیم عمل ہوگا۔ جس کو لکھنے کے لیے فرشتے بڑی
تعداد میں دوڑ پڑیں۔اس قسم کا اضافہ کوئی سادہ بات نہیں۔ وہ…
…حملہ کرکے آپ کو جنگ میں الجھانے کی کوشش کی۔ مگر آپ نے ہمیشہ یہ کیا کہ خصوصی تدبیر کے ذریعہ یا تو جنگ کو عملا ًہونے نہیں دیا، یا اس کو جنگ کے بجائے جھڑپ (skirmish) بنا دیا۔ اس معاملے میں آپ کی زندگی مذکورہ قرآنی آیت کی عملی تفسیر ہے۔
آپ کی تاریخ بتاتی ہے کہ مکہ میں آپ کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا، لیکن آپ نے مکہ سے ہجرت کرکےقتل و قتال کو عملا ناممکن بنا دیا۔ غزوۂ احزاب کے موقع پرآپ کے مخالفین نے بارہ ہزار کے لشکر کے ساتھ مدینہ پر حملہ کیا۔ مگر آپ نے اپنے اور فریق مخالف کے درمیان خندق کی صورت میں ایک حاجز (buffer) قائم کردیا۔ حدیبیہ کے موقع پر فریقِ ثانی نے جنگ کی صورت پیدا کردی، لیکن آپ نے یک طرفہ صلح کرکے جنگ کو ہونے سے روک دیا۔ فتح مکہ کے موقع پر جنگ یقینی تھی، لیکن آپ نے خصوصی تدبیر کے ذریعہ اس کو پر امن مارچ (peaceful march) میں بدل دیا، وغیرہ۔
دورِ تائید کا آغاز
…کام کرتے رہے۔ توحید (oneness of God) کا عقیدہ، اسلام میں کلیدی عقیدے کی حیثیت رکھتا ہے۔توحید گویا اسلام کے درخت کا بیج (seed) ہے۔ جس آدمی کو توحید کی معرفت ہوجائے اس آدمی کی پوری زندگی صبغۃ اللہ (البقرۃ : 138)کی عملی تصویر بن جائے گی۔
پیغمبر ِ اسلام نے 23 سال تک اپنے مشن کے لیے کام کیا، تقریبا نصف حصہ مکہ میں اور بقیہ نصف مدینہ میں۔ اس مدت میں مختلف قسم کے تاریخی واقعات پیش آئے۔ یہ تاریخی واقعات اسلام کی آئڈیالوجی کا حصہ نہ تھے، بلکہ وہ زمانی سبب (age factor) کی بنا پر آپ کی زندگی کا حصہ بنے۔ توحید کی آئڈیالوجی آپ کے مشن کا اصل حصہ (real part)تھی، اور تاریخی عامل کے تحت جو واقعات پیش آئے، وہ آپ کے مشن کا اضافی حصہ (relative part)تھے۔
مگربعد کے زمانےکے علماء نے شعوری یا غیر شعوری طور پر، اس فرق کو ملحوظ نہ رکھا۔ مثلا آپ کے مکی دور میں کعبہ میں تین سو ساٹھ بت تھے، رسول اللہ نے بتوں کے مسئلے پر قریش سے ٹکراؤ نہیں کیا۔ بلکہ آپ نے یہی کیا کہ بتوں کی موجودگی کو عملا نظر…
…میں کسی انسان کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔ منکرینِ خدااس واقعے کو منفی معنی میں لیتے ہیں۔ وہ اس کوپرابلم آف ایوِل (problem of evil)کہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی قادرِ مطلق خدا ہے تو موجودہ دنیا میں اس قسم کی برائیاں (evils) کیوں۔
یہ زاویۂ نظر (angle of vision) میں فرق کا معاملہ ہے۔ یہ لوگ انسانی تاریخ کو اپنے خود ساختہ زاویۂ نظر (self-styled angle of vision) سے دیکھتے ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ اس واقعے کو خالق کے اپنے تخلیقی نقشہ (creation plan)کی روشنی میں دیکھا جائے۔ اگر ایسا کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انسانی دنیا کی یہ صورتِ حال کوئی مسئلہ نہیں ، بلکہ وہ انسان کے لیے خالق کی ایک رحمت (blessing) ہے۔
اصل یہ ہے کہ خالق کے نقشے کے مطابق، موجودہ دنیا انسان کی عارضی قیام گاہ ہے۔ انسان کی اصل اور ابدی قیام گاہ آخرت ہے۔ خالق یہ چاہتا ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو فل فِل مینٹ (fulfilment) نہ ملے۔ یہ گویا جبر (compulsion) میں ڈال کر انسان کے…
…لا ننازع الأمر أہلہ(صحیح البخاری،حدیث نمبر7056)۔ یعنی ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی سمع و طاعت پر، پسند پر بھی اور ناپسند پر بھی، اور اس پر کہ دوسروں کو ہمارے اوپر ترجیح دی جائے، اور اس پر کہ ہم صاحب امر سے نزاع نہ کریں۔
اس حدیث میں جس معاملے کا ذکر ہے، اس کا تعلق صرف رسول اور صرف اصحابِ رسول سے نہیں ہے۔ وہ ایک عام اجتماعی اصول ہے جس کی پابندی ہر دور میں ضروری ہے۔ کیو ں کہ اس طرح کا معاملہ ہمیشہ اور ہر اجتماع میں پیش آتا ہے۔ مثلا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی زمانے میں انصار اور مہاجرین کے درمیان کوئی فرق نہ تھا۔ مگر جب رسول اللہ کی وفات کے بعد خلافت کا دور آیا تو اس اصول کو اختیار کیا گیا کہ الائمۃ من قریش (مقدمہ ابن خلدون،بیروت، 1988، صفحہ 242)۔یعنی خلافت کے معاملےمیں انصار کے اوپر مہاجرین کو ترجیح دینا۔
یہ جوہوا، یہ بر بنائے ضرورت تھا، نہ کہ بر بنائے فضیلت۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں اگر کوئی تحریک کتابت اور لیتھو پرنٹنگ کے زمانے میں شروع ہو تو روایتی لوگ تمام کاموں کو انجام دیں گے۔ لیکن تحریک آگے بڑھ کر جب کمپیوٹر اور جدید ٹکنالوجی کے دور…
…یعنی انسان کو اس کے خدا سے متعارف کرنا۔ خالق اور مخلوق کے درمیان وہ تعلق قائم کرنا جو حقیقتِ واقعہ کی نسبت سے مطلوب ہے۔یہی توحید ہے، اور کسی انسان کی ابدی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اس توحید پر قائم کرے، وہ ایک سچا موحد بن جائے۔
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنے مشن کا آغاز کیا۔ 632 عیسوی میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوگئی۔ 23 سا ل کی اس پوری مدت میں آپ مسلسل طور پر اپنے مشن کی اشاعت میں مشغول رہے۔ 23 سال کی اس مدت میں جو واقعات پیش آئے، وہ پیغمبرِاسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ کا ایک حصہ ہیں۔ توحید کی حیثیت نظریہ کی ہے، اور تاریخ کی حیثیت حالات کی نسبت سے پیش آنے والے واقعات کی۔
جو شخص پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کرے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ آئڈیالوجی اور تاریخ کے اس فرق کو بخوبی طور پر جانے۔ اس فرق کو ملحوظ کیے بغیر جو شخص پیغمبر ِ اسلام کی سیرت کا مطالعہ کرے، وہ یقیناً غلط فہمی کا شکار ہوجائے…
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تتمنّوا لقاء العدوّ، واسئلوا اللہ العافیۃ (صحیح البخاری، کتاب الجہاد) یعنی تم دشمن سے مڈ بھیڑ کی تمنّا نہ کرو، بلکہ خدا سے عافیت مانگو:
Don't wish for confrontation with your enemy, instead ask for peace from God.
جیسا کہ عرض کیا گیا،حضرت عائشہ نے پیغمبر اسلام کی جنرل پالیسی کو اِن الفاظ میں بیان کیا ہے: ما خُیّر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین أمرین، إلاّ اختارَ أیسرہما، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امر میں سے ایک امر کا…
مولانا سید سلیمان ندوی (وفات1953) ایک مشہور عالم تھے۔ ان کو کئی قسم کی مصیبتیں پیش آئیں۔ اسی پریشانی کی حالت میں پاکستان میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اپنے آخری زمانے میں انھوں نے کسی سے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
ہم ایسے رہے یا کہ ویسے رہے وہاں دیکھنا ہے کہ کیسے رہے
اس شعر میں زندگی کی ایک تلخ حقیقت کو بالکل سادہ انداز میں بیان کردیا گیا ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ موجودہ دنیا مسائل کی دنیا ہے۔ یہاں ہر عورت اور ہر مرد کو مسائل کے درمیا ن جینا پڑتا ہے۔ اس بنا پر اکثر لوگ پریشانی کی حالت میں زندگی گزارتے…
…میں ہمیشہ بحران کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اجتماعی زندگی میں وہی شخص کامیاب ہوسکتا ہے جس کے اندر بحران کو مینیج کرنے کی صلاحیت (art of crisis management) پائی جاتی ہو۔ اور یہ صفت صرف اسی شخص کے اند رپائی جاتی ہے جو ایک صاحبِ بصیرت انسان ہو۔
اسلام کے ابتدائی دور میں دونوں قسم کی مثالیں موجود ہیں۔ ایک مثال خالد بن ولید کی ہے۔ وہ اسلامی فوج کے سردار تھے۔ خلیفۂ دوم عمر کے زمانے میں ان کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو عام انسان کو بہت زیادہ برہم کرسکتا ہے۔ لیکن حضرت خالد بن ولید ایک با بصیرت انسان تھے، اس کو انھوں نے یہ کہہ کر اپنے لیے غیر موثر بنادیا: انی لا اقاتل فی سبیل عمر، ولکن اقاتل فی سبیل رب عمر ۔یعنی میں عمر کے راستے میں نہیں لڑتا، بلکہ میں عمر کے رب کے راستے میں لڑتا ہوں۔
دوسری تقابلی مثال سعد بن عبادہ کی ہے۔ سعد بن عبادہ مدینے کے قبیلۂ خزرج کے سردار تھے۔ہجرت سے پہلے بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر انھوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ ہجرت کے بعد وہ رسول اللہ کے ساتھی بن گیے۔ مدینے میں اسلام جو تیزی سے پھیلا، اس میں ان…
…کے ایک حصے کو جانتے ہیں، اور وہ تاریخ کے دوسرے حصے سے بے خبر ہیں۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ عالمی تاریخ میں مسلمانوں نے کس طرح اپنا رول اداکیا۔ لیکن وہ اس سے بے خبر ہیں کہ عین اسی وقت سیکولر عناصر بھی مسلسل طور پر اپنا تائیدی رول اداکرتے رہے۔
اسلام کا ایک جزء اس کی آئڈیا لوجی ہے۔ یہ آئڈیا لوجی تمام تر قرآن و سنت پر مبنی ہے۔ اسلام کا دوسرا جزء اس کے تائیدی اسباب ہیں۔ اس دوسرے جزء میں دنیا کی تمام قوموں نے حصہ لیا ہے۔ مثلا قدیم زمانہ مذہبی جبر (religious persecution) کا زمانہ تھا، آج انسان کو پورے معنوں میں مذہبی آزادی حاصل ہے۔ قدیم زمانے میں کھلاپن (openness) نہیں ہوتا تھا، آج پوری دنیا کھلے پن کے دور میں پہنچ گئی ہے۔ قدیم زمانے میں کمیونی کیشن (communication) صرف محدود طور پرہوسکتا تھا، آج ماڈرن ٹکنالوجی نے کمیونی کیشن کو لامحدود حد تک بڑھا دیا ہے۔قدیم زمانے میں بین الاقوامی مسلمات (international norms) قائم نہیں ہوئے تھے، موجودہ زمانے میں بین الاقوامی مسلمات بڑے پیمانے پر قائم ہوگئے ہیں۔ قدیم زمانے میں امن اور جنگ کا کوئی مسلمہ اصول نہیں تھا، آج اقوامِ متحدہ (UNO) کے ذریعے امن اور جنگ کا مسلمہ اصول وضع ہوگیا ہے، وغیرہ۔ یہ تمام مسلمات کیسے قائم ہوئے۔ اس کو وجود میں لانے میں بڑا رول سیکولر افراد نے انجام دیا ہے۔
مسلمان اگر اس حقیقت کو جان لیں تو ان کو پوری انسانی تاریخ عملاً اسلام کی تاریخ نظر آئے گی۔ جب کہ اس وقت وہ صرف مسلم تاریخ کو اسلام کی تاریخ سمجھتے ہیں۔ موجودہ حالت میں مسلمانوں کی نفسیات ہم اور وہ (we and they) کے تصور پر بنی ہے۔ لیکن اس…
…کوئی نیا مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ وہ صرف مسئلہ کے حل کی طرف لے جاتی ہے۔ پر امن منصوبہ بندی کے تحت اقدام کرنا، ایک ایسے انجام کی طرف لے جاتا ہے جہاں جنگ کا خاتمہ ہوجائے اور لوگوں کو پر امن سرگرمیوں کے لیے مواقع (opportunities) حاصل ہوجائیں۔
اسلام کے دورِ اول کی تاریخ اس اصول کی تصدیق کرتی ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلى اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اہل ایمان اور ان کے مخالفین کے درمیان کچھ لڑائیاں ہوئیں۔ مثلاً غزوۂ بدر، غزوۂ احد، غزوۂ حنین، وغیرہ۔ مگر ان لڑائیوں سےٹکراؤ ختم نہیں ہوا۔ گویا باعتبارِ نتیجہ عمل کی کوئی حد نہیں آئی۔ قرآن میں فتح کی آیت صرف صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی۔ فتح کا مطلب ہے ٹکراؤ کا خاتمہ اور پرامن سرگرمیوںکے لیے موافق ماحول پیدا ہوجانا۔کسی اور غزوہ کے بعد فتح کی آیت نہیں اتری۔
حدیبیہ کا واقعہ 6 ھجری میں پیش آیا۔ اس موقع پر فریق ثانی کی کوشش صرف یہ تھی کہ رسول اور اصحابِ رسول مکہ میں داخل نہ ہوں اور عمرہ کیے بغیر واپس مدینہ چلے جائیں۔ مگر پیغمبرِ اسلام صلى اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی طرف سے امن (peace) کی بات چیت…
…کر کے اپنی جانب کی کوتاہی کو معلوم کیا جائے جو کہ اصل وجہ ہے۔ اور پھر اس کو درست کیا جائے۔ اِس کے برعکس، اپنی مصیبت کا ذمے دار کسی دوسرے کو قرار دے کر اس کے خلاف نفرت اور انتقام میں مبتلا ہونا، اسلام میں سرے سے جائز ہی نہیں۔
پیغمبرِاسلام کی حدیثوں میں بھی یہ حقیقت مختلف انداز سے بیاں ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں ایک حدیث یہ ہے: لازلتم منصورین علیٰ أعدائکم مادمتم متمسّکین بسنّتی،فان خرجتم عن سنتی سلّط ﷲ علیکم من لایخافکم ولایرحکم، حتیّ تعودوا الیٰ سنّتی (صحیح مسلم) یعنی تم اپنے دشمنوں پر اس وقت تک غالب رہوگے جب تک میری سنت کو پکڑے رہوگے۔ اور جب تم میری سنت سے نکل جائوگے تو اﷲ تمہارے اوپر ایسے لوگوںکو مسلّط کردے گا جونہ تم سے ڈرے گا، اور نہ تم پر رحم کرے گا یہاں تک کہ تم میری سنت کی طرف لوٹ آئو۔
قرآن سے مزید معلوم ہوتا ہے کہ دشمن خود مسلمانوں کی اپنی غلطی کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ اس سے باہر، خارجی مسئلے کی حیثیت سے، دشمن کا کوئی وجود نہیں۔ قرآن کی ایک آیت میں بتایا گیا ہے: وان تصبرواوتتّقوا لایضّرکم کیدھم شیئاً (آلِ…
…وہ آدمی بہت خوش ہوا۔ اور واپس جاکر قریش کو بہت مثبت رپورٹ دی۔ یہ واقعہ صحیح البخاری حدیث نمبر 2731، اور مسند احمد، حدیث نمبر18928 میں آیا ہے۔ اس کے علاوہ سیرۃ ابن ہشام، مغازی الواقدی، سیرۃ ابن کثیر،الروض الانف وغیرہ کتب سیرت میں آیا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان تالیف قلب کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا یہ فعل خالصۃ دعوت الی اللہ کے لیے ہو۔ اس حدیث کو اگر لفظا لیا جائے تو شاید یہ کہنا درست ہوگا کہ اگر کوئی مسلم لیڈر ہندستانیوں سے گفت و شنید کر رہا ہو، اور اس درمیان اس کو بتایا جائے کہ ایک ہندو لیڈر اس سے ملنے کے لیے آرہاہے۔ تو اس موقع پرمسلم لیڈر کے لیے یہ کرناجائز ہوگا کہ وہ اپنے ساتھیوں کو کہے کہ اس ہندو لیڈرکے یہاں گائے کی پوجا کی جاتی ہے، اس لیے تم اس کا اس طرح استقبال کرو کہ اس کے پاس گائے لے کر جاؤ۔ تو ایسا کرنا اس کے لیے جائز ہوگا۔
اسی طرح کا ایک واقعہ وہ ہے جو نجران کے عیسائیوں کے ساتھ پیش آیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے مدینہ آئے۔ یہاں انھوں نے مدینہ کی مسجد ِ نبوی کے اندر اپنے طریقے کے مطابق عبادت کی ۔ روایت کے مطابق انھوں نے اپنی یہ عبادت…
…لیے انسان کے اندر داخلے کا دروازہ اس کا ایگو (ego) ہے۔ فرشتہ ہر موقع پر آدمی کو صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اس کے برعکس، شیطان ہر موقعے پر انسان کو غلط راستہ دکھاتا ہے۔ انسان جس کی رہنمائی سے متاثر ہوجائے ، اسی کی طرف وہ چل پڑے گا۔
اس معاملے کی ایک تاریخی مثال وہ ہے، جس کا تعلق خلیفۂ ثانی عمر بن خطاب سے ہے۔ ان کے زمانے میں مدینہ میں ایک نصرانی ابو لو ٔلو ٔ فیروز رہتا تھا۔ اس نے خلیفہ ثانی سے شکایت کی کہ میرا خراج زیادہ ہے۔خلیفہ ثانی نے اس سے خراج کی مقدار پوچھی۔ ابولو ٔلو ٔ فیروز نے بتایا ۔ پھر خلیفہ ثانی نے اس سے آمدنی پوچھی، تو اس نے بتایا۔ تو خلیفہ ثانی نے کہا کہ آمدنی کے لحاظ سے تمھارا خراج زیادہ نہیں ہے۔ ابولولو اس پر غصہ ہو گیا۔ وہ ایک دن فجر کے وقت مدینہ کی مسجد میں داخل ہوا، اورخنجر مار کر خلیفہ ثانی کو قتل کردیا۔(ابن اثیر، الکامل فی التاریخ،طبعۃ بیروت: 1979 3/49-50)
خلیفہ ثانی عمر بن خطاب بلاشبہ ایک عادل حکمراں تھے۔ انھوں نے ایشیا اور افریقہ کے بڑے رقبے میں امن اور قسط کا نظام قائم کیا تھا۔ لیکن ابولؤلؤ فیروز نے اتنے بڑے واقعے کو نہیں دیکھا۔ وہ ایک چھوٹے سے واقعہ پر غصہ ہوگیا، یہاں تک کہ اس نے خلیفہ…
سازش (conspiracy)منفی کارروائی کی ایک قسم ہے۔ اس کا مطلب ہے کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے اس کے خلاف خاموش تدبیر کرنا:
Secret planning for some harmful purpose.
یہ طریقہ پوری تاریخ میں جاری رہاہے۔ کسی مشن کے مخالفین ہمیشہ دو طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ ایک ہےکھلے طور پر اس کے خلاف عداوتی کارروائی کرنا۔ اور دوسرا ہے خاموش تدبیر کے ذریعے اس کو زیر کرنے کی کوشش کرنا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی…
…میں اہل نفاق کا ذکر کرتے ہوئے یہ آیت آئی ہے: وَإِذَا قِیلَ لَہُمْ لَا تُفْسِدُوا فِی الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ (2:11) یعنی اور جب ان سے کہا جا تا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔
قرآن کی اس آیت کا تعلق ظلم و تشدد جیسی چیزوںسے نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ آیت مکہ میں نازل ہوتی، جہاں عملاً ایسا کیا جارہا تھا۔ یہ آیت مدینہ میں اتری، اور اس کو اہل نفاق کا عمل بتایا گیا۔ جیسا کہ معلوم ہےمدینہ کے منافقین ظلم اور تشدد جیسی کارروائی نہیں کر رہے تھے۔ تواس آیت میں وہی فعل مراد لیا جائے گا جو مدینہ کے منافقین عملا کر رہے تھے۔
اس پہلو سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں جس چیز کو فساد فی الارض بتایا گیا ہے اس سے مراداہل نفاق کی وہ منفی کار روائیاںہیں جو توحید کی تحریک کے خلاف وہ مدینہ میں چلارہے تھے۔ وہ لوگ بظاہر مسلمان تھے لیکن وہ اپنے ایمان میں…
…کا شکار ہوجاتے ہیں، وہ اسی طرز پر سوچنے لگتے ہیں، ان کی تمام سوچ مبنی بر شکایت یا مبنی بر عداوت سوچ بن جاتی ہے۔ لوگ غلط فہمی کی بنا پر ایسے لوگوں کو مفکرکا مقام دے دیتے ہیں، حالاں کہ یہ لوگ کسی بھی درجے میں مفکرکہے جانے کے مستحق نہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا غارِ حراء میں جانا کوئی سادہ واقعہ نہ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ انسانی حالات سے الگ ہوکر فطرت کی دنیا میں تدبر کرنا۔ انسان کے بجائے خدائی آیات (signs)میں غور کرنا۔ وقتی حالات سے اوپر اٹھ کر ابدی حقیقتوں میں غور کرنا۔ یہی سوچ درست سوچ ہے۔ جولوگ اس طرح تدبر اور تفکر کریں، اور اس کے نتیجے میں اعلیٰ حقیقتوں کو دریافت کریں، وہی وہ لوگ ہیں جو حقیقی معنوں میں مفکر کہے جانے کے مستحق ہیں۔
اس کے برعکس، وہ لوگ جن کی سوچ انسانی حالات میں پھنسی ہوئی ہو، جو انسان کے پیدا کردہ مسائل میں سوچتے ہوں، جن کا ذہن سیاسی حالات اور اخباری رپورٹوں میں الجھا ہوا ہو ۔، ایسے لوگوں کی سوچ وہ سوچ نہیں جس کو قرآن میں تدبر کہا گیا ہے۔
…پاکستان کو چھوڑ کر باہر کے ملکوں میں جانے لگے۔یہاں تک کہ پاکستانی مسلمانوں کی پاکستان سے باہر ایک بڑی کمیونٹی وجود میں آگئی۔ اس کمیونٹی کو پاکستانیز ان ڈائسپورا (Pakistanis in Diaspora) کہا جاسکتا ہے۔ان کی مجموعی تعداد تقریبا 8 ملین ہے:
There are around eight million Pakistani people living abroad.
یہ کوئی اتفاقی بات نہیں، یہ جو ہوا، یہ اللہ کے منصوبہ کے تحت ہوا۔ پاکستانی قوم ایک زندہ قوم ہے۔ اللہ کو یہ منظور ہوا کہ وہ پاکستانی قوم کو ایک زیادہ بڑے مشن کے لیے استعمال کرے۔ وہ تھاساری دنیا میں پاکستانیوں کوپر امن خدائی سفیر…
…لقیک الشیطان بفج قط، إلا أخذ فجا غیر فجک (مسند احمد، حدیث نمبر: 1624 ) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمر، خدا کی قسم، جب بھی شیطان تم سے کسی راستہ میں ملتا ہے، تو وہ تمھارے راستے کے بجائے دوسرا راستہ اختیار کرلیتاہے-
اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ کوئی پراسرار (mysterious) بات نہیں ہے، اور نہ وہ ایک شخص کی فضیلت کے معنی میں ہے- حقیقت یہ ہے کہ یہ ہر اس شخص کی بات ہے، جس کو شعوری ایمان حاصل ہو- یہ وہی ایمانی تجربہ ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے- اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّہُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْا فَاِذَا ہُمْ مُّبْصِرُوْنَ (7:201) یعنی جو لوگ ڈر رکھتے ہیں جب کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انھیں چھو جاتا ہے، تو وہ فوراً چونک پڑتے ہیں،اور پھر اسی وقت ان کو سوجھ آجاتی ہے-
قرآن کی اس آیت کے مطابق شیطان سے بچنے کا اصل راز تذکر ہے- تذکر کا مطلب ہے یاد کرنا(to remember) - مگر یہ یاد، سادہ طورپر صرف یاد کے معنی میں نہیں ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اتنا زیادہ باشعور ہو کہ جب شیطان اس کے دل میں کوئی وسوسہ…
…نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی- ہجرت کا لفظی مطلب ہے، ایک مقام کو چھوڑ کر دوسرے مقام پر جانا- اسلام کے دورِ اول کی تاریخ میںہجرت کوئی پراسرار واقعہ نہ تھا- یہ حالات کے پیش نظر ایک تدبیر کا معاملہ تھا، جو نتیجہ کے پہلو سے نہایت کامیاب ہوا-
ہجرت اپنی حقیقت کے اعتبار سے مقام عمل کو بدلنے کا نام ہے- اسلام کا اصل مشن دعوت الی اللہ ہے- اصولی اعتبار سے اسلام کا مشن ہمیشہ ایک رہے گا- لیکن تدبیر کا تعلق حالات سے ہوتا ہے- اس لئے داعی کو یہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ حالات کا مطالعہ کرے، وہ ہر قسم کی جذباتیت سے الگ ہو کر وقت کی صورت حال کا گہرا جائزہ لے۔ اس کے بعد حالات کے اعتبار سے دعوت کا ایسا منصوبہ بنائے جو اپنے مقصد کے اعتبار سے زیادہ موثر ہونے والا ہو-
تدبیر کی مختلف صورتیں ہیں، مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوتی جدوجہد کے آغاز میں تین سال تک دعوت کا کام انفرادی ملاقاتوں کے انداز میں کیا، یہ ایک تدبیر کا معاملہ تھا- اس زمانے میں کعبہ کے اندر تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے…
…أیسرہما (صحیح البخاری، حدیث : 6786) یعنی رسول اللہ کو جب بھی دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب کرتے۔ دوسرے الفاظ میں آپ کا مستقل اصول یہ تھا کہ مسائل کو نظر انداز کرو، اور مواقع کو استعمال کرو۔
Ignore the problems, avail the opportunities
اس پیغمبرانہ طریقے کی چند مثالیں یہ ہیں۔ مکی دور میں کعبہ کی عمارت میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ نے ان بتوں سے عملاً کوئی تعرض نہیں کیا۔ بلکہ وہاں جو لوگ ملتے تھے ان کو آپ توحید کا پرامن پیغام پیش کرتے رہے۔ قریش نے آپ کے خلاف مقاطعہ…
…آیات کہنا درست ہوگا- یہ حکمت کسی پر اسرار چیز کا نام نہیں ہے- اس سے مراد فطری حکمت (natural wisdom) ہے، یعنی حکمت کے وہ اصول جن پر دنیا کا نظام قائم ہے، اور جن کی پیروی کرکے کوئی انسان، اس دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کرسکتا ہے-
قرآن واحد محفوظ الہامی کتاب ہے- اس حقیقت کا اظہار قرآن میں پیشگی طورپر ان الفاظ میں کیا گیا تھا: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (15:9) یعنی یہ یاد دہانی (کتاب) ہم نے اتاری ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں-
قرآن کی حفاظت کا یہ کام ثابت شدہ تاریخ کے مطابق چار ادوار (periods) میں انجام پایا- پہلے دور میں یہ کام زیادہ تر حفظ (memorization) کے ذریعہ ہوا- دوسرے دور میں حفاظت ِ قرآن کا یہ کام تحریر (writing) کے ذریعہ انجام پایا- لوگوں نے بڑی…
…ابدی ہے، لیکن اس کی تاریخ میں فطری طورپر ایسے اجزا شامل ہیں جو وقتی حالات کی نسبت سے اسلام کی تاریخ کاجز بنے تھے- حالات بدلنے کے بعد ان اجزاء کی حیثیت صرف گزرے ہوئے ماضی کی وقتی تاریخ کی ہے، آئیڈیالوجی کی طرح اس کی حیثیت ابدی نہیں-
اسلام کی آئیڈیالوجی، توحید الٰہ (oneness of God) کی ابدی حقیقت پر مبنی ہے- لیکن ساتویں صدی کے نصف اول میں جب اسلام کا ظہور ہوا، اس وقت دنیا میں شرک کا غلبہ تھا- مزید یہ کہ اس زمانے میں ساری دنیا میں بادشاہت (kingship) کا نظام قائم تھا- اس زمانے کے بادشاہوں نے شرک کو سرکاری مذہب (official religion) کی حیثیت دے دی تھی- اس بنا پر اس زمانے کا نظام عملاً مشرکانہ بادشاہت کا نظام بن گیا تھا- یہ نظام مذہبِ توحید کے لئے ایک جارحانہ مسئلہ (violent problem) کی حیثیت اختیار کئے ہوئے تھا-
اسلام اپنی حقیقت کے اعتبار سے تمام تر ایک پر امن مشن ہے، لیکن مذکورہ حالات کی بنا پر فطری طورپر ایسا ہوا کہ فریق ثانی کی طرف سے متشددانہ مخالفت شروع ہوگئی- پہلے قبائلی سردار (Tribal Chief) کی طرف سے، اور اس کے بعد اس وقت کے قائم شدہ…
…(وفات: 127ھ) جب بھی ہمارے پاس آتے تو ہم سے وہ ہمیشہ یہ کہتے اس امت کے آخری حصہ کو وہی چیز درست کرے گی جس نے ا س کے پہلے حصہ کو درست کیا- میں (راوی) نے پوچھا کہ اس سے ان کی مراد کیا ہوتی تھی-انھوں نے کہا کہ ان کی مراد ہوتی تھی :تقوی-
تقوی کا لفظ اسپرٹ (spirit) کو بتاتا ہے- اس روایت میں اگر چہ بظاہر اصلاح امت کا حوالہ ہے، لیکن اس سے مراد مصلح (پیغمبر) کے طریقہ کو بتانا ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ مصلح اول کے جس طریقہ سے امت اصلاح یافتہ ہوئی تھی، بعد کے مصلحین کو بھی یہی کرنا ہے کہ اسی طریقہ کے مطابق امت کو اصلاح یافتہ بنائیں- مصلح اول کا یہ طریقہ آپ کی تاریخ سے معلوم ہوتاہے-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس امت کے مصلح اول تھے- آپ کو مکہ میں حکومت کا عہدہ پیش کیا گیا تو آپ نے کہا میرا مقصد تمھارے اوپر حکومت کرنا نہیں ہے- اس سے معلوم ہوا کہ دعوت واصلاح کا کام غیر سیاسی (non-political)انداز میں ہونا چاہئے-…
…جنوری 2005 کو ایک تقریر کی - اِس تقریر کا اہتمام الشریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ (پاکستان) نے کیا تھا- اِس تقریر کا عنوان یہ تھا: مغرب کا فکری وتہذیبی چیلنج اور علماء کی ذمہ داریاں‘‘- یہ تقریر 22 صفحات پر مشتمل ہے- تقریر کا آخری پیراگراف یہ ہے:
’’اپنی اِس تلخ نوائی کو میں ایک فارسی شعر پر ختم کرتا ہوں، فارسی کا شعر ہے:
نوائے من ازاں پُرسوز وبے باک وغم انگیز است
…صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانے میں قرآن کو جس انداز میں مرتب کرکے امت کے حوالے کیا، وہ نزولی ترتیب سے مختلف تھا- یہاں یہ سوال ہے کہ کیوں ایسا ہے کہ قرآن میں تلاوت کی ترتیب اُس سے مختلف ہے جو نزول کے اعتبار سے اُس کی ترتیب تھی-
اِس کا سبب یہ ہے کہ قرآن کوئی تاریخ کی کتاب نہیں ہے- قرآن اصلاحِ انسانیت کی کتاب ہے- اِسی اصلاح کی حکمت کی بنا پر، ابتدائی دور میں قرآن اپنے معاصر حالات (contemporary situation)کے اعتبار سے اترا- لیکن بعد کو اُس کی ترتیب،ابدی حالات کے اعتبار سے کی گئی- یعنی وہ حالات جو بعد کے زمانے میں انسانیت کو پیش آنے والے تھے-
ترتیب کا یہ فرق بالکل فطری ہے- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مکہ اور مدینہ کے جو حالات تھے، اُن حالات کی نسبت سے قرآن کی آیتیں اور سو رتیں وقت وقت پر اترتی رہیں- لیکن قرآن ساری انسانیت کے لیے ہے- نزول کے اعتبار سے اُس میں…
…فَاِنَّکُمْ غٰلِبُوْنَ ۚ وَعَلَی اللّٰہِ فَتَوَکَّلُوْٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (المائدة: 23) انھوں نے کہا کہ تم شہر میں داخل ہوجاؤ، جب تم اس میں داخل ہوجاؤگے تو تم ہی غالب ہوگے، اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو-
اِس آیت میں ’’دخول پر غلبہ‘‘ کے جس معاملہ کا ذکر ہے، وہ صر ف بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک عمومی اصول ہے- عمومی اعتبار سے اِس کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ حق کی برتر آئیڈیالوجی اِس بات کی ضامن ہوتی ہےکہ وہ ہرجگہ ان کے لیے غلبہ کا ذریعہ بن جائے- اسلام کے دورِ اول میں اس کی ایک مثال یہ ہے کہ رسول اور اصحابِ رسول جب مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ میں داخل ہوئے تو قرآن کی آئیڈیالوجی ان کے لیے پرامن غلبہ کا ضامن بن گئی-
وسیع تر انطباق (extended application) کے اعتبار سے یہ اصول موجودہ زمانہ میں مزید اضافہ کے ساتھ صادق آتا ہے-موجودہ زمانے کا ایک نیا ظاہرہ وہ ہے، جس کو کانفرنس کہتے ہیں- یہ اجتماعات موجودہ زمانے میں ہر جگہ بڑے پیمانے پر ہورہے ہیں- امن…
…نوعیت بد ل گئی- پہلے یہ ہوا تھا کہ تاریخ کا سفر امتِ غیر مسلمہ سے امتِ مسلمہ کی طرف ہوا تھا، لیکن امت بننے کے بعدایک نیا تاریخی عمل (process) شروع ہوگیا، اور وہ تھا— عروج سے زوال کی طرف یا تشکیلِ امت سے امت کے تنزّل(degeneration) کی طرف-
مکی د ور میں اسلام کی دعوت کا طریقِ کار یہ تھا کہ اسلام کے نہ ماننے والوں کو اسلام کی اہمیت بتا کر انھیں اسلام کی طرف راغب کیا جائے- لیکن مدنی دور کے بعد یہ ہونے والا تھا کہ صرف تین نسل (قرونِ ثلاثہ) کے بعد امت میں زوال کا دور آجائے- قانونِ فطرت کے مطابق، یہ تبدیلی لازم تھی- اِس کے لیے ضرورت تھی کہ امت کے مصلحین کو یہ بتایا جائے کہ امت کے زوال (degeneration) کے بعد امت کے احیاء ِ نو (regeneration)کا طریقِ کار کیا ہوگا-
یہی وہ حکمت ہے جس کی بنا پر قرآن کی سورتوں کی وہ ترتیب اختیار کی گئی جس کو توقیفی ترتیب کہاجاتا ہے- یہ ترتیب اتفاقی نہیں، بلکہ وہ خود فرشتۂ وحی (جبرئیل) کی ہدایت کے مطابق کی گئی- اِس حکمتِ ترتیب میں یہ ہوا کہ عمومی طورپر مدنی سورتوں کو…
پیغمبر کی اہمیت
ایک صاحب جو اہلِ قرآن کہلائے جانے والے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں، ان سے میری گفتگو ہوئی- انھوں نے کہا —کہ ہم یہ مانتے ہیں کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے، لیکن قرآن کو درست طور پرسمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن کو دوسری تمام چیزوں سے الگ (detach) کرکے دیکھا جائے، تاریخ کو، حدیث کو، تفسیر کو، حتی کہ خود محمد کو بھی حذف کرکے دیکھا جائے، تب قرآن سمجھ میں آئے گا- انھوں نے کہا کہ قرآن کو صرف قرآن کے ذریعے سمجھنا ہے، نہ کہ کسی اور چیز کے ذریعے-
یہ بات بظاہر گریمر کے لحاظ سے درست ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ مکمل طورپر بے بنیاد ہے- حقیقت یہ ہے کہمحمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو حذف کرنے کے بعد خود قرآن کو حذف کرنا پڑے گا، کیوں کہ قرآن ہمارے پاس براہِ راست نہیں آیا، بلکہ اُس…
…(صحیح البخاری، رقم الحدیث: 4202) یعنی ایک آدمی لوگوں کے خیال کے مطابق، اہلِ جنت کا عمل کرتا ہے، حالاں کہ وہ جہنم والوں میں سے ہوتا ہے- اور ایک آدمی لوگوں کے خیال کے مطابق، اہلِ جہنم کا عمل کرتا ہے، حالاں کہ وہ جنت والوں میں سے ہوتا ہے-
اِس حدیث میں فیما یبدو للناس کا لفظ بہت اہم ہے- اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص بظاہر (face vlue)پر کچھ اور ہوتا ہے، مگر حقیقت کے اعتبار سے، وہ کچھ اور ہوتا ہے- یہاں ’فیما یبدو للناس‘ کے مقابلے میں، ’فیما یبدو للہ‘ کا لفظ محذوف ہے- دنیا کی زندگی میں ’فیما یبدو للناس‘ کے اعتبار سے، آدمی بظاہر کچھ اور دکھائی دے سکتا ہے، لیکن آخرت میں اس کا معاملہ ’فیما یبدو للہ‘ کے اعتبار سے ہوگا- یہ بات صالح انسان کی نسبت سے بھی ہے اور غیر صالح انسان کی نسبت سے بھی-
تاہم یہ معاملہ دنیا کی زندگی میں بھی کسی نہ کسی موقع پر کھل جاتا ہے- د ونوں قسم کے انسانوں کی زندگی میں آخر کار کوئی ایسا شاکنگ واقعہ (shocking event) پیش آتا ہے جس کے بعد اندر کی شخصیت کھل کر باہر آجاتی ہے- یہ اللہ کے قانون کے تحت ہوتا…
…انتخاب کرسکتا ہے، لیکن اجتماعی زندگی کے معاملے میں کبھی معیار کا انتخاب ممکن نہیں ہوتا-اِس لیے اجتماعی زندگی کے بارے میں صحیح اصول یہ ہےکہ جب انتخابِ اول (first choice) ممکن نہ ہو تو انتخابِ ثانی (second choice) کو اختیار کرلیا جائے-
اِس اصول کی حکمت یہ ہے کہ انتخابِ اول کو اختیار کرنے کی صورت میں اگر معیار حاصل ہوتا تھا، تو انتخابِ ثانی کی صورت میں امن اور استحکام (stability) حاصل ہوجاتا ہے- اجتماعی زندگی کے لیے یہی واحد عملی طریقہ ہے، اِس کے سوا کوئی اور طریقہ عملاً ممکن ہی نہیں-
یہی فطری اصول پیغمبر کی سنت بھی ہے- مثلاً ہجرتِ مدینہ کے وقت فرسٹ چوائس یہ تھا کہ مکہ میں تیرہ سال کی جدوجہد سے جو جزئی کامیابی ہوئی تھی، وہ مزید جدوجہد کے ذریعے مکمل کامیابی تک پہنچے- اور سکنڈ چوائس یہ تھا کہ مکہ چھوڑ دیا جائے، تاکہ…
…The best arguer is one who is not obsessed with his own mind but is able to see the other party’s mind, which he tries to address. He changes his argument so that the other party may be brought to understand the point he is making.
It is a fact that there are different kinds of mindsets. Everyone sees things from his own angle. Everyone thinks in his own way. Everyone is obsessed with his own ideas. So, to convince the other party, you have to understand the mindset of others. You must try to address others’ minds, even at the cost of making a change in your argument. This is the right way to have a successful dialogue.
When you see that the other party is not convinced with your argument, don’t lose hope, change your argument and very soon you will find that the other party is ready to accept your point of view.
…لوٹا اور وہ یہ کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم میں اس پر نہ زیادہ کروں گا اور نہ اس پر کمی کرونگا۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آدمی کامیاب ہوگا، اگر اس نے سچ کہا۔ (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر46،صحیح مسلم، حدیث نمبر11)
اسلام میں متعین کچھ عبادتی فرائض ہیں۔ آدمی اگر سچا عبادت گزاربن جائے تو وہ فرض کے سوا زائد عبادت بھی کرنے لگتا ہے جس کو شریعت میں نفل کہاگیا ہے۔ اسی طرح جب آدمی کی زندگی میں عبادت کی روح پوری طرح پیدا ہوجائے تو اس کے لازمی نتیجہ کے طورپر ایسا ہوتاہے کہ اخلاق ومعاملات میں بھی اس کا اثر ظاہر ہونے لگتا ہے۔ خدا کی نسبت سے وہ عابد بن جاتاہے، اور بندوں کی نسبت سے عادل۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبد القیس کا وفد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کون لوگ ہو۔ انہوں نے کہا کہ (ہم )ربیعہ( قبیلہ سے ہیں)۔ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ اچھے آئے…
…"پھر تو اللہ ہم کوضائع نہیں کرے گا" (إذن لا یُضَیِّعُنَا) صحیح البخاری، حدیث نمبر 3364۔اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ مکہ آباد ہو، اور وہ نسل ظہور میں آئے جس میں رسول اور اصحابِ رسول پیدا ہوئے،جن کے ذریعہ دنیا میں اسلام کا انقلاب برپا ہوا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ تیرھویں صدی قبل مسیح کا زمانہ ہے۔ وہ قدیم مصر میں آئے۔ اس وقت وہاں فرعون (Pharaoh) کی حکومت تھی۔ بنی اسرائیل کو فرعون نے غلام بنا رکھا تھا۔ جب پیغمبر موسیٰ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے تو فرعون نے اپنی فوج کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔ حضرت موسیٰ اپنی قوم کے ساتھ ایسے مقام پر پہنچے جہاں سامنے بحر احمر تھا، اور پیچھےفرعون کا لشکر۔ یہ انتہائی خطرناک صورتِ حال تھی۔ اس نازک موقع پر بنی اسرائیل اور موسیٰ کی جو کیفیت تھی، اس کو قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہےفَلَمَّا تَرَٰٓءَا ٱلۡجَمۡعَانِ قَالَ أَصۡحَٰبُ مُوسَىٰٓ إِنَّا لَمُدۡرَکُونَ ۔ قَالَ کَلَّآۖ إِنَّ مَعِیَ رَبِّی سَیَہۡدِینِ(26:61-62)۔ یعنی، پھر جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا کہ ہم تو پکڑے گئے۔ موسیٰ نے کہا کہ ہرگز نہیں، بےشک میرا رب میرے ساتھ ہے۔ وہ مجھ کو راہ بتائے گا۔ چنانچہ اللہ نے ان کی مدد کی، اور فرعون اپنے لشکر سمیت غرق ہوگیا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ ہے۔ 622ء میں آپ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ یہ ایک بے حد خطرناک سفر تھا۔ اس سفر کے دوران آپ کوغار ثور میں چھپنا پڑا ۔ آپ کے مخالفین جو آپ کی تلاش میں نکلے تھے ، وہ تلوار لیے ہوئے غار کے منہ…
مدینہ میں اسلام کا داخلہ
پیغمبر اسلام ابھی مکّہ میں تھے کہ آپ نے اپنے دو ساتھیوں کو مکّہ سے مدینہ کے لیے روانہ کیا۔ یہ لوگ وہاں اس لیے گئے تھے تاکہ آپ کا پیغام مدینہ والوں کو پہنچائیں۔ مدینہ والوں کی زبان عربی تھی، جس طرح مکہ والوں کی زبان عربی ۔ چنانچہ اِن لوگوں نے یہ کیا کہ قرآن کے مختلف حصوں کو پڑھ کر اُنہیںسنانے لگے۔ اسی لیے ان کا نام مُقری پڑ گیا (وَکَانَ یُدْعَى الْمُقْرِئَ) معرفۃ الصحابہ لابی نعیم الاصفہانی، جلد5، صفحہ2556۔ عربی زبان میں مقری کے معنی ہیں: پڑھ کر سنانے والا۔
واقعات بتاتے ہیں کہ مکہ کے برعکس مدینہ میں پیغمبر اسلام کا پیغام تیزی سے پھیلنے لگا۔ مدینہ کے تقریباً ہر گھر میں ایسے افراد پیدا ہوگئے جنہوں نے بتوںکی پرستش چھوڑ دی اور پیغمبر اسلام کے دین کو اختیار کرلیا۔مکّہ میںمخالفت اور مدینہ میں…
…تھا کہ آپ نے یک طرفہ اعتدال پسندی کی مذکورہ قیمت ادا کی۔ آپ کے ساتھ فریقِ ثانی کی طرف سے ہر قسم کی زیادتی کی گئی مگر آپ ان زیادتیوں سے اوپر اُٹھ کر سوچتے رہے۔ ان کی زیادتیوں کو نظر انداز کرکے آپ نے مثبت انداز میںاپنے عمل کا نقشہ بنایا۔
پیغمبر اسلام کی یہ تقریر بتاتی ہے کہ آپ مکمل معنوں میں ایک امن پسند انسان تھے۔ کوئی بڑے سے بڑا ناخوش گوار واقعہ آپ کے ذہنی سکون (peace of mind) کو درہم برہم نہیں کرسکتا تھا۔ آپ نے اپنے ذہن کی سطح پر ایک ایسی بلند چیز پالی تھی کہ اس کے بعد ہر دوسری چیز آپ کو غیراہم معلوم ہوتی تھی۔ آپ کامل معنوں میں ایک مثبت ذہن کے انسان تھے۔ آپ کا دماغ گویا ایک ایسا کارخانہ تھا جس میں داخل ہو کر ایک نیگیٹیو آئٹم بھی پازیٹیو آئٹم بن جاتا تھا۔ آپ کو اپنی زندگی میں جب بھی کوئی ناخوشگوار تجربہ پیش آتا تو آپ کا ذہن فوری طور پر ڈفیوز کرکے اس کو ایک مثبت احساس میں تبدیل کرلیتا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ آپ کے حافظے تک جب کوئی منفی احساس پہنچتا تو وہ بدل کر مثبت احساس بن چکا ہوتا تھا۔ آپ کی شخصیت کامل معنوں میں ایک مثبت شخصیت تھی۔ آپ منفی حالات میں بھی مثبت ذہن کے ساتھ رہنے کی اعلیٰ صلاحیت رکھتے تھے۔ آپ تشدد کے واقعات کو بدل کر امن کا واقعہ بنانے کی غیر معمولی استعداد رکھتے تھے۔
622 عیسوی میںجب آپ مدینہ پہنچے اس وقت مدینہ میں مسلمانوں کے ساتھ مشرکین اور یہود بھی موجود تھے۔ گویا کہ اس وقت کا مدینہ ایک ملٹی ریلیجس سوسائٹی کی حیثیت رکھتا تھا۔ ایسے ماحول میں لوگ کس طرح پُر امن طورپر رہیں، آپ نے اس کا ایک کامیاب…
…کے خاتمے پر تمام نمازیوں کو اپنا چہرا دائیں اور بائیں پھیر کر یہ کہنا ہوتا تھا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔ اس طرح گویا نمازی ساری دنیا کے انسانوں کو مخاطب کرکے یہ کہتا ہے کہ اے لوگو، تمہارے اوپر سلامتی (peace) ہو۔
اس طرح نمازِ باجماعت گویا لوگوں کی اس انداز میں تربیت کا ذریعہ تھی کہ وہ اپنے سماج میں پُر امن شہری بن کر رہیں۔ سماج کے لوگوں کے لیے ان کے دل میں ہر حال میں مثبت جذبات ہوں، وہ دوسروں کے لیے کبھی مسئلہ نہ بنیں۔ اُن کا رویّہ دوسروں کے ساتھ انسان دوستی (human friendly) والا رویّہ ہو۔
پیغمبر اسلام جب ہجرت کرکے مکّہ سے مدینہ آگئے تو یہ ٹکراؤ کا خاتمہ نہ تھا بلکہ یہ ٹکراؤ کے نئے دَور کا آغاز بن گیا۔ پیغمبر اسلام نے خود تو یہ قربانی دی کہ جنگ سے بچنے کے لیے اپنے وطن مکّہ کو چھوڑ دیا اور مدینہ جاکر آباد ہوگئے۔ مگر…
…میں جو لٹریچر تیار ہوا، اس میں اسی طرح اسلام کو حذف کردیا گیا تھا۔ اپنی اصل کے اعتبارسے بلاشبہ تمام مذاہب توحید کے مذاہب تھے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ آج خالص توحیدی مذہب اسلام ہے۔ کیوں کہ دوسرے مذاہب اپنی ابتدائی حالت میں باقی نہیں ہیں۔
مغربی علما نے اب اپنی اس روش پر نظر ثانی شروع کردی ہے۔چنانچہ 1977 میں شائع ہونے والی ایک انسائیکلو پیڈیا— Collins Concise Encyclopedia (Glasgow) میں اس سلسلہ میں حسب ذیل الفاظ لکھے گئے ہیں کہ توحید اس عقیدہ کا نام ہے کہ یہاں صرف ایک خدا ہے جیسا کہ یہودیت اور عیسائیت اور اسلام میں مانا جاتاہے:
Monotheism, belief that there is only one God, as in Judaism, Christianity and Islam.
…امریکا کے لوگ اس کو پائٹ پڑھتے ہیں اور انگلینڈ کے لوگ پواِٹ کہتے ہیں۔ اسی طرح salt کو ہندستان میں سالٹ کہاجاتا ہے۔ مگر یہی لفظ برطانیہ میں سوٹ کی آواز میں پڑھا جاتا ہے۔ جب کہ لکھنے کے اعتبار سے ہر جگہ اس کو ایک ہی طریقہ سے لکھا جاتاہے۔
قرآن اپنی کتابت کے اعتبار سے بلا شبہ محفوظ ہے، اور صد فی صد(100%) محفوظ ہے۔ اب جو بعض فرق ہے وہ لہجہ اور تلفظ کا فر ق ہے۔ اور لہجہ اور تلفظ کا فرق فطری ہے، وہ نہ ختم ہوتا اور نہ اس سے کوئی خرابی واقع ہوتی ہے۔
29 جون 1985
…گئی۔ اس وقت ہندستان کی مسلم قیادت نے زبردست جوش وخروش کا مظاہرہ کیا۔ 29اگست 1981 کو ایک معروف مسلم ادارے کی جانب سے مسلم یونی ورسٹی کنونشن ہوا۔ یہ کنونشن بچوں کا گھر دہلی میںمنعقد کیا گیا تھا۔ اس موقع پر ادارے کی ترجمان میگزین نے لکھا:
’’یونی ورسٹی کے ذمہ داران یونی ورسٹی کے مسائل کو جیل اور گولی اور رسوا کن بیانات سے کیوں طے کرنا چاہتے ہیں۔ معقولیت اور گفتگو کا طریقہ کیوں نہیں اپنایا جاتا۔ہمارے ادارے نے مسلم یونیورسٹی کنونشن اس لیے بلایا ہے تاکہ یونی ورسٹی کے معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کیا جائے اور یونیورسٹی کی فضا خو ش گوار ہوسکے‘‘ (28اگست، 1981)۔
جب دوسروں کا احتساب کرنا ہو تو تمام مسلم لیڈر یہی زبان بولتے ہیں، مگر خود اپنا احتساب کرنا ہو تو وہ اس کے بالکل خلاف عمل کرتے ہیں۔ آج ہر مسلم ادارے کا یہ حال کہ اس کو جس سے اختلاف ہو جائے اس کے بارے میں بقدر استطاعت وہ ’’گولی‘‘ اور’’ رسوا…
…(دہلی) نے بتایا کہ ایک شخص پر کسی جرم میں مقدمہ چلا اور اس کو قید کی سزا ہوگئی۔اس نے جیل خانے سے ایک بزرگ کے یہاں پیغام بھیجا کہ میں جیل میں بند ہوگیا ہوں۔ کوئی ایسا عمل بتائیے کہ اس سے رہائی ہوجائے۔ بزرگ نے اس کو بتایا کہ تم یہ پڑھا کرو:
آج کل پرسوں ہزار بار بگوید قفل در زنداں بکشاید
اس نے اس جملہ کا ورد شروع کیا اور اسی کے بعد اس کو جیل خانے سے رہائی مل گئی۔
…تھا، وہ کربلا سے بہت پہلے کا واقعہ ہے۔ یہ قسطنطنیہ کا غزوہ تھا، جو امیر معاویہ کے زمانے میں 49ھ میںپیش آیا، جب کہ یزید ابھی خلیفہ بھی نہیں ہوا تھا۔ پھر کیا وہ خلافت اور کربلا سے پہلے ہی ملعون تھا، کیا وہ ماں کے پیٹ سے ملعون پیدا ہوا تھا۔
ہمارے علما میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو علمی حدود کے پابند رہ کر بولتے ہوں۔ ہمارا قدیم وجدید لٹریچر غیر علمی بیانات سے بھرا ہوا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں اپنی دعوت کا آغاز کیا۔ وہاں آپ تقریباً 13سال رہے۔ مکہ والوں نے آپ کی سخت مخالفت کی۔ یہاں تک کہ وہ آپ کو ہلاک کرنے کے درپے ہوگئے۔ عین اسی وقت مکی دور کے آخری زمانے میں قرآن میں سورہ یوسف اتری۔…
…سب مسلم ہیں۔ اس کے باوجود ذمے دارا ن اور کارکنوں کے درمیان اس طرح کے جھگڑے پائے جاتے ہیں۔ اس قسم کے جھگڑے اگر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ہوں تو فوراً اس کو تعصب کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ایسے لوگ مذکورہ مسئلے کے بارے میں کیا کہیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں تمام جھگڑے انٹرسٹ (interest) کے جھگڑے ہیں۔ بظاہر کوئی شخص ایک قسم کی زبان استعمال کررہا ہے اور کوئی شخص دوسری قسم کی زبان ۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے سب کا کیس ایک ہی کیس ہے ،اور وہ وہی ہے، جس کو ’’انٹرسٹ‘‘ کہاجاتا ہے۔
اس دنیا میں کامیابی کے لیے سب سے ضروری چیز حقیقت پسندی ہے۔ مگر موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ کسی بھی معاملے میں حقیقت پسندانہ انداز سے رائے نہیں قائم کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا ہر اقدام ناکامی کا شکار ہوتاہے۔
…کے ناموں سے پکارا گیا— مجنون (دیوانہ)،مذمم ، وغیرہ۔ مگر آپ نے ان باتوں کا کوئی منفی اثر نہیں لیا۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں سے واضح طورپر یہ معلوم ہوتاہے کہ رسول اور اصحابِ رسول نے کبھی اُس کے خلاف احتجاج اور شکایت کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔
اس کے برعکس، آپ نے جو کیا، وہ یہ تھا کہ آپ نے مسائل کو اگنور کیا، اور مواقع پر فوکس کیا۔ مسائل کیا تھے، مثلاً مخالفین کی جانب سے آپ کو برے ناموں سے پکارا گیا۔ مگر آپ نے اس کا کوئی منفی نوٹس نہیں لیا۔پیغمبر اسلام کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ہمیشہ منفی واقعات کے اندر مثبت پہلو تلاش کرتے تھے۔ اس سلسلے میں ایک روایت حدیث کی کتابوں میں اس طرح آئی ہے، پیغمبر اسلام نے کہا :أَلاَ تَعْجَبُونَ کَیْفَ یَصْرِفُ اللَّہُ عَنِّی شَتْمَ قُرَیْشٍ وَلَعْنَہُمْ، یَشْتِمُونَ مُذَمَّمًا، وَیَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3533)۔ یعنی کیا تم کو یہ بات عجیب نہیں معلوم ہوتی کہ اللہ مجھ سے قریش کے سب وشتم اور لعنت کو کس طرح دور کررہا ہے ۔ مجھے وہ مذمم کہہ کر شتم کرتے ہیں، مذمم کہہ کر وہ مجھ پر لعنت بھیجتے ہیں۔ حالانکہ میں تو محمد ہوں۔
اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر اسلام کا طریقہ سب و شتم پر مشتعل ہونا نہیں ہے، اور نہ فریقِ مخالف کے خلاف شکایت اور احتجاج کرنا ہے۔ بلکہ اس سے اعراض کرنا ہے۔ یہ بلند اخلاقی کا معاملہ ہے، نہ کہ قانونی سزا کا معاملہ۔یہ اعلیٰ سوچ کی ایک انوکھی مثال…
…تھا۔ اس کی وجہ قدیم زمانہ میں شرک کا غلبہ ہے۔ شرک اس میں مانع تھا کہ آدمی فطرت کا مطالعہ کرے، اور اس کی قوتوں کو دریافت کرکے انھیں اپنے کام میں لائے۔شرک کیا ہے۔ شرک نام ہے فطرت کو پوجنے کا۔ قدیم زمانہ میں یہی شرک تمام اقوام کا مذہب تھا۔
For the ancient man, Nature was not just a treasure-trove of natural resources, but a goddess, Mother Earth. And the vegetation that sprang from the earth, the animals that roamed the earth’s surface, and the minerals hiding in the earth’s bowels, all partook of nature’s divinity, so did all natural phenomena — springs and rivers and the sea; mountains, earthquakes and lightening and thunder.
غرض زمین سے آسمان تک جو چیز بھی انسان کو نمایاں نظر آئی، اس کو اس نےاپنا خدا فرض کرلیا، اسی کا نام شرک ہے اور یہ شرک اسلام سے پہلے تمام معلوم زمانوں میں دنیا کا غالب فکر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قدیم انسان کے لیے فطرت پرستش کا موضوع…
…اللَّہ أمة محمد أحب إلی من أن تفترق ( تاریخ الاسلام للذہبی،جلد 4، صفحہ 87)۔ یعنی لوگ کہتے ہیں کہ یزید امت محمد کےبہتر لوگوں میں سےنہیں ہے، اور میں بھی یہی کہتا ہوں۔ لیکن امتِ محمدی کا اتفاق سے رہنا،مجھے افتراق کی بنسبت زیادہ پسند ہے۔
جس وقت امیر معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد بنایا اس وقت ہزاروں کی تعداد میں صحابہ کرام زندہ موجود تھے ۔ مثلاً حسین بن علی، عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن عمر، عبد اللہ بن زبیر، اور عبدالرحمن بن ابی بکر اور دوسرے بہت سے جلیل القدر افراد ملت کے اندر موجود تھے۔ ایسی حالت میں یزید کو خلیفہ بنانا سخت قابل اعتراض ہوسکتا تھا۔ مگر تمام صحابہ نے اس پر سکوت اختیار کیا۔ حضرت حسین کے سوا کسی نے بھی یزید کے خلاف کوئی مہم نہیںچلائی۔اصحابِ رسول کی یہ خاموشی یقینی طورپر بزدلی کی بنا پر نہ تھی، بلکہ اسلامی حکمت کی بنا پر تھی۔
عرب ویڈیو ٹیپ کو فیدیو تیب (الشریط التلفزیونى) کہتے ہیں۔ عرب سے آئے ہوئے ایک شخص نے کہا کہ بعض عرب ملکوں میں سینما ہاؤس پر پابندی لگائی گئی ہے۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر گھر میں لوگوں نے وی سی آر لگا لیا ہے، اور اس کے اوپر ہر قسم کی…
مدعو سےمیل جول
پٹا پرتھی کے سفر سے پہلے میری ملاقات دہلی میں ایک صاحب سے ہوئی، جو ایک بڑے مدرسے میں تدریس کا کام کرتے ہیں۔ اُن سے اِس سفر کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا کہ سائی بابا کے ماننے والے تو اُن کو خدا کہتے ہیں، اس قسم کا عقیدہ کھلا ہوا شرک ہے۔ اس مشرکانہ ماحول میں جانا آپ کے لیے درست نہیں۔ مگر اس کانفرنس میں شرکت کے بعد مجھے ایک ایسی حقیقت دریافت ہوئی جو دعوتی کام کرنے والوں کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہاں مجھے معلوم ہوا کہ سائی بابا خود تو اپنے کو خدا نہیں بتاتے ہیں، مگر ان کے معتقدین ان کے بارے میں ایسا ہی کہتے ہیں۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ اس کانفرنس میں مجھے اسلام پر بولنے کے لیے بلایا گیا۔ کسی شرط کے بغیر ایک عظیم مجمعے کے سامنے مجھے اسلام پر بولنے کا موقع دیا گیا۔ میں نے اپنی تقریر میںصاف طورپر کہا کہ اسلام کا مقصد ہے انسان کو خدا کا پرستار (worshipper of God) بنانا۔ سائی بابا کے معتقدین ان کی حد درجہ تعظیم کرتے تھے۔ مگر میں یہاں اسی طرح رہا، جس طرح سیکولر کانفرنسوں میں رہتا ہوں۔ میری تقریر کے بعد کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا، بلکہ ہرایک نے اس پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ خود سائی بابا نے کہا کہ ہم اپنے اسکولوں میں قرآن کو پڑھاتے ہیں، اور ہم اس پر پورا عقیدہ رکھتے ہیں۔
اس تجربے سے مجھے ایک اہم حقیقت کا علم ہوا۔ وہ یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی آدمی ایک لفظ بولتا ہے وہ اس لفظ کو خود اپنے ذہن کے اعتبار سے بولتا ہے مگر سننے والا اس کو اپنے ذہن کے اعتبار سے لے لیتا ہے۔ اس سے غیر ضروری قسم کے مسائل پیدا…
…وقت آپ اِس مشن میں تنہا تھے، پھر دھیرے دھیرے لوگ اسلام قبول کرتے رہے۔اور آپ کے ساتھیوں کی تعداد بڑھتی رہی۔ ابتدائی تیرہ سال تک اسلامی دعوت کا کام اسی طرح چلتا رہا۔ اُس وقت سارا فوکس اسلام کی بیسک آئڈیالوجی پر تھا، یعنی توحید اور آخرت۔
اُس وقت مکہ میں مشرکین کا غلبہ تھا۔ مکی دور کے آخر میں وہاں کے مشرک سرداروں نے محسوس کیا کہ اسلام کی تحریک اُن کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ ا ب انھوں نے سختی کا طریقہ اختیار کیا۔ وہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں پر تشدد کرنے لگے، یہاںتک کہ انھوںنے یہ فیصلہ کیا کہ وہ پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر ڈالیں۔ اِس مقصد کے لیے وہ ضروری تیاریاں کرنے لگے۔ اُس وقت، پیغمبر اسلام کے ساتھیوں میں جوابی مقابلے کا ذہن پیدا ہوا۔ انھوں نے چاہا کہ اپنی طاقت کو مجتمع کرکے وہ مشرکین سے لڑیں۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر لوگوں کو خاموش کردیا کہ تم لوگ صبر کرو، کیوں کہ مجھے لڑنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے (اصبروا فإنى لم أومر بالقتال) المواہب اللدنیة بالمنح المحمدیةجلد 1، صفحہ 199۔
اگر آپ کار پر ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے سفر کریں تو درمیان میں بار بار دوسرے مقامات کو جانے والے راستے آتے ہیں۔ آپ اِن راستوں کی طرف نہیں جاتے، بلکہ اپنی گاڑی کو سیدھے رخ پر چلاتے رہتے ہیں، یہاںتک کہ آپ منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔…
…اس کے بعد یہ بتایا کہ فنڈمنٹلزم وہی چیز ہے، جس کو قرآن و حدیث میں غلو کہا گیا ہے۔ اور غلو (extremism) کو اسلام میں ہلاکت خیز برائی بتایا گیا ہے۔ اس کے بعد میں نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ اسلام کے مطابق، پر امن سماج بنانے کا فارمولا کیاہے۔
سوال و جواب کے سیشن میں لوگوں نے کافی دلچسپی کے ساتھ حصہ لیا۔ بہت سے سوالات کئے گئے جن کا میں نے جواب دیا۔ایک سوال یہ تھا کہ میڈیا کے مطابق، اسلامی مدرسوں میں ٹررزم کی تعلیم دی جاتی ہے ،اور وہاں ٹررسٹ تیار کئے جاتے ہیں۔ میں نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں خودمدرسہ کاایک پروڈکٹ ہوں۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مدرسہ کا کوئی تعلق ٹررزم سے نہیں ہے۔ کم از کم انڈیا میں مجھے کوئی ایسا مدرسہ معلوم نہیں جہاں مدرسہ کے نظام کے تحت ٹررزم کی تعلیم دی جاتی ہو۔ مدرسہ میں کیسے لوگ تیار کئے جاتے ہیں، اس کا اندازہ مجھ کو دیکھ کر آپ کرسکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مدرسہ صرف مذہبی تعلیم کے لیے ہے۔ وہاں کے نصاب یا وہاں کے نظام کا کوئی بھی تعلق اس چیز سے نہیں جس کو آج کل ٹررزم کہا جاتا ہے۔
ایک نوجوان نے کہا کہ ہم نے کتاب میں پڑھا ہے کہ اسلام کے پیغمبر نے خود حملہ کیا اور لڑائی کی پھر آپ کیسے کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام ایک امن پسند انسان تھے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے میں نے پوچھا کہ آپ نے یہ بات کس کتاب میں پڑھی ہے۔ وہ کسی کتاب…
…(advantageous position) حاصل ہے۔ وہ یہ کہ دوسروں کے برعکس، مسلمانوں کا ذہن اسلام کے خلاف تعصّب سے خالی ہوتا ہے۔ اِس بنا پر مسلمان ممکن طورپر اس قابل رہتے ہیں کہ وہ کسی نفسیاتی رکاوٹ کے بغیر اِس بارے میں غور وفکر کا صحیح نقطۂ آغاز پالیں۔
حدیث میں آیا ہے: کُلُّ مَوْلُودٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ، فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ أَوْ یُنَصِّرَانِہِ أَوْ یُمَجِّسَانِہِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔ یعنی ہر پیدا ہونے والا فطرتِ صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو یا تو یہودی بنا دیتے ہیں۔ یانصرانی بنا دیتے ہیں، یا مجوسی بنادیتے ہیں۔
اصل یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والا کسی خاندان میں پیداہوتا ہے اور کسی سماج میں اس کی پرورش ہوتی ہے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر آدمی بچپن ہی سے متاثّر ذہن کا حامل بن جاتا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں کنڈیشننگ (conditioning) کہا…
…وہ چیز ہے جو سیکولر تعلیم یافتہ مسلمانوں کے اسلام سے دور ہونے کا سبب بن رہی ہے۔ جب کہ میں ہر چیز کو سب سے پہلے لاادری (میں نہیں جانتا ہوں)کے خانے میں ڈالتا ہوں۔ اس کے بعد موضوعی اعتبار سےیہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ اصل حقیقت کیا ہے۔
سوال: وہ کیا پروگرام ہیں، جس کے بارے میں آپ اللہ سے یہ تمنا کرتے ہیں کہ وہ اس کو پورا کرے؟
جواب: میری صرف ایک تمنا ہے۔ حدیث میں آیا ہےکہ اللہ ہر گھر میں اسلام کا کلمہ داخل کرے گا، روایت کے الفاظ یہ ہیں: لَا یَبْقَى عَلَى ظَہْرِ الْأَرْضِ بَیْتُ مَدَرٍ، وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَہُ اللَّہُ کَلِمَةَ الْإِسْلَامِ(مسند احمد،…
…مندانہ منصوبہ بنانا پڑتا ہے۔ اس دانش مندانہ منصوبے کو ایک لفظ میں پریکٹکل وزڈم کہا جاسکتا ہے۔ اس اعتبار سے قرآن کی ان آیات میں حکمت سے مراد عملی دانش مندی (practical wisdom) ہے۔ یعنی دوسروں سے ٹکراؤ کیے بغیر اپنے منصوبے کو مکمل کرنا۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مکہ میں جب آپ نے توحید کا مشن شروع کیا تو وہاں کی اکثر آبادی شرک پر قائم تھی۔ رسول اللہ کو یہ کرنا تھا کہ مشرکین سے ٹکراؤ کیے بغیر اپنا توحید کا منصوبہ پر امن انداز میں عمل میں لائیں۔ توحید کا اصول ایک مطلق اصول ہے۔ اس کے مقابلے میں توحیدکو زیر عمل لانا، دانش مندانہ منصوبے کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹکراؤ کیے بغیر توحید کے منصوبے کو زیر عمل لانے کے لیے اس حکمت کو اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، جس کو پریکٹکل وزڈم کہاجاتاہے۔ پیغمبر یہ کرتا ہے کہ وہ ایک طرف توحید کے اصول لوگوں کو بتا تا ہے، اور دوسری طرف وہ پریکٹکل وزڈم یعنی اس کے اختیار کرنے کے عملی پہلوؤں سے لوگوں کو آگاہ کرتا ہے تاکہ وہ کوئی نیا مسئلہ کھڑا کیے بغیر توحید کے عامل بن سکیں۔
غور و تدبر سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں رسول کی نسبت سے جس چیز کو حکمت کہا گیا ہے۔ اس سے مراد یہی پریکٹکل وزڈم ہے۔ پیغمبر نے اپنی پوری زندگی میں اس پریکٹکل وزڈم کو اختیار کیا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو رسول اور اصحابِ رسول لڑائی اور ٹکراؤ…
…کے درجے میں بھی کوئی ذکر نہیں۔ حالاں کہ حدیث میں رسول اللہ کی زبان سےیہ الفاظ ہیں : ذَاکَ جِبْرِیلُ أَتَاکُمْ یُعَلِّمُکُمْ أَمْرَ دِینِکُمْ(سنن الترمذی، حدیث نمبر2610)۔ یعنی وہ جبریل تھے، جوآئےتاکہ تم کو تمھارے دین کی تعلیم دیں ۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مظلومیت کی بات امر ِدین میں سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق قومی شکایت سے ہوسکتا ہے، لیکن خدا اور رسول کے دین سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ موجودہ زمانے میں مفروضہ مظلومیت کے حوالے سے مسلمان اپنے مفروضہ ظالموں کے خلاف جو بددعائیں کرتے ہیں، ان کا بھی دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اسی طرح موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ براہ راست طور پر جبریل کی شرکت سے جو اجتماع مدینہ میں ہوا تھا، اس میں سب سے زیادہ اہمیت کے ساتھ خلافت کے موضوع پر تذکرہ ہونا چاہیے تھا۔ لیکن آپ حدیث جبریل کو بار بار…
…ہے۔ یہاں مشرقی لباس اور مغربی لباس کے امتیازات فضا میں گم ہو جاتے ہیں۔ احرام کے مشترک لباس میں تمام لوگ اس طرح نظر آتے ہیں جیسے کہ تمام لوگوں کی صرف ایک حیثیت ہے۔ تمام لوگ صرف ایک خدا کے بندے ہیں۔ اس کے سوا کسی کوکوئی اور حیثیت حاصل نہیں۔
حج کے مقرر ہ مراسم اگرچہ مکہ میں ختم ہو جاتے ہیں مگر بیشتر حاجی حج سے فارغ ہو کر مدینہ بھی جاتے ہیں۔ مدینہ کا قدیم نام یثرب تھا۔ مگر پیغمبر ِ اسلام نے اپنی زندگی کے آخری زمانے میں اس کو اپنا مرکز بنایا۔ اس وقت سے اس کا نام مدینۃ النبی (نبی کا شہر) پڑ گیا۔ مدینہ اسی کااختصار ہے۔ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی مسجد ہے۔ یہاں آپ کی قبر ہے۔ یہاں آپ کی پیغمبرانہ زندگی کے نشانات بکھرے ہوئے ہیں۔
ان حالات میں حاجی جب مدینہ پہنچتے ہیں تو یہ ان کے لیے مزید اتحاد اور اجتماعیت کا عظیم سبق بن جاتا ہے۔ یہاں کی مسجد نبوی میں وہ اس یاد کو تازہ کرتے ہیں کہ ان کا رہنما صرف ایک ہے۔ وہ یہاں سے یہ احساس لے کر لوٹتے ہیں کہ ان کے اندر خواہ کتنے…
…لیمیٹیشنس آجاتی ہیں، پولٹکل سائڈ پر۔ اس فکری محدودیت کی بنا پر ہمارے رہنما امت کو آفاقی نقطہ نظر نہ دے سکے۔ ہررہنما کی سوچ کسی نہ کسی پولٹکل سرحد پر رک گئی۔ ہر رہنما فکر ی محدودیت کا شکار ہوا، اور امت کو بھی فکری محدودیت میں مبتلا کردیا۔
حقیقت یہ ہے کہ پولٹکل سرگرمی اور دعوتی عمل دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔سیاسی نقطۂ نظر محدود نقطۂ نظر ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دعوت کا نقطۂ نظر آفاقی نقطۂ نظر ہوتا ہے۔ آفاقی نقطۂ نظر کی کوئی جغرافی سرحد نہیں ہوتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ آج امتِ مسلمہ پولٹکل سرگرمیوں سے ہجرت کرلے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکے سے مدینے کو ہجرت کی تھی۔اس کے بعد ہی وہ دعوتی مشن کو آفاقی طور پر آگے لے جاسکتے ہیں۔
پیغمبرِ اسلام بعثت کے بعد تیرہ سال مکہ میں رہے۔ اس کے بعد آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ جب آپ نےہجرت کا ارادہ کیا تو اس وقت آپ نے اپنے اصحاب کو پیشین گوئی کی زبان میں خبر دیا تھا۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے، جو…
…گئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ رہنمائی اتری : وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ (94:4)۔یعنی اس پروپیگنڈے کے ذریعہ تمھارا چرچا ہر طرف پھیل رہا ہے۔ اس لیے اس کو مخالفانہ پروپیگنڈا نہ سمجھو، بلکہ اس کو اپنا اور اپنے مشن کا رفعِ ذکر سمجھو ۔
تقریباً 20 سال تک تبلیغ کرنے کے باوجود آپ اور آپ کے ساتھی عرب میں اقلیت کی حیثیت رکھتے تھے، اور مشرکین اکثریت میں تھے۔ اس وقت آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو فطرت کا ایک قانون یاد دلاتے ہوئے قرآن میں کہاگیا : کَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِیلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً کَثِیرَةً بِإِذْنِ اللَّہِ وَاللَّہُ مَعَ الصَّابِرِینَ (2:249) ۔ یعنی اس دنیا میں کتنی ہی بار ایسا ہوا ہے کہ عددی اقلیت رکھنے والا گروہ، عددی اکثریت کے اوپر غالب آیا ۔
اسی طرح 3 ہجری میں غزوۂ اُحد پیش آیا۔ ا س میں مسلمانوں کو مشرکین کے مقابلے میں شکست ہوئی۔ یہ بظاہر ایک دل شکن واقعہ تھا۔ مگر اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو رہنما آیتیں اتریں، وہ دوبارہ اس کے روشن پہلو کی طرف نشاندہی کرنے والی تھیں۔…
…حدیث میں اعلیٰ معرفت کی باتیں ہیں، لیکن اس کا اسلوب قدیم ہے۔ اگر یہ باتیں جدید اسلوب کلام میں ہوتیں تو اس قسم کی باتیں معاصر مخاطبین کے لیے معمہ بن جاتیں۔ سننے والوں کا ذہن ایڈریس نہ ہوتا، اور کلام میں وہ تاثیر پیدا نہ ہوتی جو مطلوب تھی۔
مثال کے طور پر حضرت ابراہیم چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے۔ قدیم عراق کے بادشاہ سے ان کا ایک دعوتی مکالمہ ہوا۔ اس میں انھوں نےبادشاہ سے ایک بات یہ کہی:فَإِنَّ اللَّہَ یَأْتِی بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِہَا مِنَ الْمَغْرِبِ (2:258)۔ یعنی اللہ سورج کو پورب سے نکالتا ہے تم اس کو پچھم سے نکال دو ۔ اس کے برعکس حضرت ابراہیم اگر یہ کہتے کہ خدا کے قائم کردہ قانون کے مطابق صبح و شام کا نظام ہیلیو سینٹرک سسٹم (heliocentric system) کے اصول پر قائم ہے، تم اس کو جیو سنٹرک سسٹم (geocentric system) پر قائم کردو۔ تو مخاطب اس جملے کا کوئی مطلب نہ سمجھتا، اور بات بے اثر ہوکر رہ جاتی۔
اسی طرح کی ایک اور مثال یہ ہے کہ ہجرت کے بعد مدینے میں سورج گرہن (solar eclipse) پڑا، اتفاق سے اس دن پیغمبر کے بیٹے کا انتقال ہوگیا تھا۔ لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ آج پیغمبر کے بیٹے کا انتقال ہوا ہے، اس لیے سورج گرہن لگا ہے۔ روایات…
…کے طریقہ کار (method) سے تھا۔ اگر رسول اللہ کی عملی روش کو لے کر اس کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ نزاعی طریقہ کار (confrontational method) کو چھوڑو، اور غیر نزاعی طریقہ کار (non-confrontational method) کو اختیار کرو۔
رسول اللہ کی سیرت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنا مشن پوری طرح غیر نزاعی اصول پر چلایا۔کعبہ میں اس وقت کے لوگوں نے 360 بت رکھ دیے تھے۔ مگر آپ نے اس سے ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ اس سے اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ مکہ میں دارلندوہ (tribal parliament) تھا۔ مگر آپ نے اس میں قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اس سے مکمل طور پر اعراض کرتے ہوئے اپنا مشن غیر سیاسی انداز میں چلایا۔ مکہ کے سرداروں نے کہا کہ آپ مکہ چھوڑ دیجیے، تو آپ نے ان کے اس فیصلہ پر کوئی ٹکراؤنہیں کیا، بلکہ خاموشی کے ساتھ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گیے۔
اس واقعے کی روشنی میں رجز کو چھوڑنے کا مطلب یہ ہوگا کہ ہر قسم کے ٹکراؤ کو چھوڑتے ہوئے، اپنا مشن جاری رکھا جائے۔ یعنی مذہبی ٹکراؤ، سیاسی ٹکراؤ، قومی ٹکراؤ، حقوق کا ٹکراؤ، وغیرہ سے مکمل طور پر اجتناب کرتے ہوئے توحید کا مشن جاری رکھا…
…نہیں۔ کیوں کہ جنگ سے کسی بات کا فیصلہ نہیں ہوتا، نہ ہارنے کی صورت میںاور نہ جیتنے کی صورت میں۔ جنگ میں اگر فتح حاصل ہو، تب بھی ہارنے والے فریق کے دل میں انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھتا ہے۔ اس لیے جنگ میں فتح بھی ایک نئی جنگ کا آغاز بن جاتا ہے۔
پر امن منصوبہ بندی ہمیشہ اپنا کام کرتی ہے، پرامن منصوبہ بندی کوئی نیا مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ وہ صرف مسئلہ کے حل کی طرف لے جاتی ہے۔ پر امن منصوبہ بندی کے تحت اقدام کرنا، ایک ایسے انجام کی طرف لے جاتا ہے جہاں جنگ کا خاتمہ ہوجائے اور لوگوں کو پر امن سرگرمیوں کے لیے مواقع (opportunities) حاصل ہوجائیں۔ اسلام کے دورِ اول کی تاریخ اس اصول کی تصدیق کرتی ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اہل ایمان اور ان کے مخالفین کے درمیان کچھ لڑائیاں ہوئیں۔ مثلاً غزوۂ بدر، غزوۂ احد، غزوۂ حنین، وغیرہ۔ مگر ان لڑائیوں سےٹکراؤ ختم نہیں ہوا۔
ٹکراؤ کا خاتمہ اس وقت ہوا، جب آپ نے یک طرفہ طور پر صلح کی۔ قرآن میں فتح کی آیت صرف صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی۔ اس آیت میں فتح کا مطلب ہے ٹکراؤ کا خاتمہ اور پرامن سرگرمیوںکے لیے موافق ماحول پیدا ہوجانا۔کسی اور غزوہ کے بعد فتح کی آیت…
…فریقَین کے درمیان دس سال کے لیےایک ناجنگ معاہدہ (no-war pact) ہوا۔ اس معاہدہ کی تکمیل کے بعد مدینہ پہنچنے سے پہلے وہ سورہ نازل ہوئی جو الفتح کے نام سے قرآن میں شامل ہے۔ اس سورہ میں حدیبیہ کے واقعہ کو فتح مبین (clear victory) بتایا گیا ہے۔
جب حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا، اس وقت اہل اسلام کو کوئی فتح حاصل نہیں ہوئی تھی۔ صرف یہ ہوا تھا کہ فریقَین کے درمیان امن کا معاہدہ ( peace treaty)عمل میں آیا تھا۔ ایسی حالت میں اس واقعہ کو فتح مبین کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ لفظ حال کی نسبت سے نہیں، بلکہ مستقبل کی نسبت سے تھا۔ اس اعتبار سے فتح مبین کا مطلب گویا فاتحانہ منصوبہ (victorious planning) کے ہم معنی ہے۔ رسول اللہ کی سنتوں میں سےایک اہم سنت وہ ہے جس کو فاتحانہ منصوبہ بندی کہا جاسکتا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب مدینہ سے نکلے تھے، مکہ جانے کے لیے ۔ لیکن وہ معاہدہ کے مطابق حدیبیہ سے واپس مدینہ آگیے۔ اس لحاظ سےحدیبیہ کا واقعہ بظاہر ایک پسپائی کا واقعہ تھا۔ پھر اس کو فتح مبین کیوں کہا…
…فی موضع آخر(المغنی لابن قدامہ، 6/30)۔ یعنی اگر ضرورت کے تحت مسجد کے نچلے حصہ کو سقایہ(پانی کا حوض) اور دکان بنانا جائز ہے، تو مسجد کو ڈھانا اور اس کو سقایہ اور دکان بنانا بھی جائز ہے، اور اس کے بدلے میں دوسری جگہ ایک مسجد بنائی جائے گی۔
اسلام میں مسجد کی عمارت کا مسئلہ ضرورت کی بنیاد پر ہے، نہ کہ تقدس کی بنیاد پر۔ جدید دورمیں جب سٹی پلاننگ کا زمانہ آیا تو مسلم شہروں مثلاً مکہ ،مدینہ ،وغیرہ، میں بڑی تعداد میں قدیم مسجدیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل (relocate)کی گئیں۔ کیوں کہ یہ قدیم مسجدیں سٹی پلاننگ (city planning) میں رکاوٹ ثابت ہورہی تھیں۔ مثلاً اگر ایک مسجد بلال کے نام پر کہیں واقع تھی، تو اسی نام سے دوسری مسجد پہلے مقام سے ہٹاکر دوسری جگہ پر بنا دی گئی، اور مسجد کے مقام پر شہری منصوبہ کے مطابق نئی تعمیر کی گئی۔مسجد کی عمارت بلاشبہ ایک قابل احترام عمارت ہے۔ لیکن ضرورت کے تحت کسی مسجد کی عمارت کے مقام کو تبدیل کرنا بلاشبہ جائز ہے۔
آج کا نوجوان
…کی رہنمائی بھی کرتا رہے۔ لیکن چوں کہ انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے، اس لیے یہ رہنمائی جزئی طور پر کتاب اللہ کی صورت میں دی گئی ہے، لیکن زیادہ وسیع پہلوؤں کے اعتبار سے وہ حالات کی زبان میں انسان کو فراہم کی جاتی ہے۔
اسی فطری رہنمائی کو یہاں مصیبت کے لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ انسان کو اس دنیا میں جن حالات میں زندگی گزارنا ہے، اس میں بار بار اس کو وہ چیز پیش آتی ہے، جس کو یہاں مصیبت (suffering) کہا گیا ہے۔ یہ مصیبت انسان کے لیےکوئی برائی (evil) نہیں ہوتی۔ نفسیات کی زبان میں وہ حالات کا دباؤ (compulsion) کے ہم معنی ہوتی ہے۔ دباؤ کے یہ حالات انسان کوعمل کا رخ (direction)دیتے ہیں۔ وہ انسان کو اپنے عمل کی ری پلاننگ (replanning) کی طرف لے جاتے ہیں۔ وہ انسان کی سوچ کو نیا زاویہ عطا کرتے ہیں۔ اس طرح انسان اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے عمل کا منصوبہ فطرت کے مطابق کرے۔ وہ فطرت کے نظام کو اختیار کرکے اپنے آپ کو کامیاب بنائے۔
حالات کے تحت جو دباؤ (pressure) پیش آتا ہے،وہ ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ البتہ دباؤ کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ہے، کچل دینے والا دباؤ (crippling pressure)۔ یعنی وہ دباؤ جس کے بعد آدمی کام کرنے کے قابل نہ رہے۔ دوسرا دباؤ وہ ہے، جو…
…مڈبھیڑ ہوئی۔ اس وقت اہل ایمان کو کامیابی حاصل ہوئی، اور ان کے ہاتھ تقریباً 70 مشرکین قید ہوگئے۔ ان کی رہائی کایہ فدیہ مقرر کیا گیا کہ وہ مدینہ کے بچوں کو لکھنا سکھادیں (فداءہم أن یعلموا أولاد الأنصار الکتابة) مسند احمد، حدیث نمبر2216 ۔
بدرمیں قیدکیے ہوئے مکہ کے یہ لوگ جنگی اصطلاح میں جنگی قیدی (prisoners of war) تھے۔ اس زمانے کےعام رواج کے مطابق پیغمبر اسلام یہ کرسکتے تھے کہ ان کو قتل کروادیتے۔ لیکن آپ نے انتقام سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ اس طرح آپ کے لیے ممکن ہوا کہ یہاں اپنے ایک مائنس (minus)کو پلس (plus)میں بدل دیں۔ جو لوگ بظاہر آپ کے دشمن تھے، ان کو اپنے معاون کے طور پر استعمال کیا۔ یعنی دشمن کو اپنے بچوں کے لیے ٹیچر کے طور پر استعمال کیا۔ آپ کی اس پالیسی کے تحت مدینہ میں پہلا اسکول قائم ہوا، جس کے ٹیچر سب کے سب آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔
راستہ بدلنا
ابتدائی منصوبہ پر نظر ثانی
موجودہ دنیا میں کوئی آدمی پیشگی طور پر بالکل درست منصوبہ نہیں بنا سکتا۔ جب آدمی کسی عمل کو شروع کرتا ہے تو بعد کو ایسے حالات پیش آتے ہیں، جو تقاضا کرتے ہیں کہ اپنے عمل کو نتیجہ خیز بنانے کےلیے اپنے عمل کی ری پلاننگ کی جائے۔ پیغمبر اسلام کے حکیمانہ طریقے کا ایک جز ء یہ بھی تھا۔ آپ ہمیشہ اس کے لیے تیار رہتے تھے کہ اگر ابتدائی منصوبہ میں کوئی کمی نظر آئے تو دوبارہ زیادہ قابل عمل انداز میں نیا منصوبہ بنایا جائے۔
اس کی ایک مثال یہ ہےکہ پیغمبر اسلام نے مکہ میں 610 عیسوی میں اپنا مشن شروع کیا۔ اس وقت کے مکہ میں آپ کے مشن کے لیے موافق ماحول موجود نہ تھا۔ چناں چہ وہاں کے لوگوں کی اکثریت آپ کے خلاف ہوگئی۔آپ کے راستے میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالنے لگے۔…
…شتم تو کرتے ہیں، لیکن جس شخص کی وہ سب و شتم کرتے ہیں، اس کا نام انھوں نے بطور خود مذمم رکھ دیا ہے۔ اس طرح ان کے اپنے کہنے کے مطابق ان کی بات کسی ایسے شخص پر پڑتی ہے جس کا نام مذمم ہو، وہ شخص جس کا نام محمد ہے اس پر ان کی بات پڑتی ہی نہیں۔
یہ اعلیٰ سوچ کی ایک انوکھی مثال ہے۔ پیغمبر اسلام چوں کہ مکمل طور پر مثبت سوچ پر قائم تھے۔ اس لیے انھوں نے ایک لطیف اسلوب میں قریش کے سب و شتم کو بے حقیقت کردیا۔ انھوں نے کہا کہ جب وہ میرا اصل نام لے کر مجھے کچھ نہیں کہتے تو وہ خود ہی اپنے سب و شتم کو کسی اور کے اوپر ڈال رہےہیں۔ یعنی کسی مفروضہ مذمم پر، نہ کہ اس شخص پر جس کا نام اس کے ماں باپ نے محمد رکھا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسوۂ محمدی میں سب و شتم پر مشتعل ہونا نہیں ہے، اور نہ شاتم کو قتل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ بلکہ اس سے لطیف پیرائے میں اعراض کرنا ہے۔ یہ بلند اخلاقی کا معاملہ ہے، نہ کہ قانونی سزا کا معاملہ۔
مشن کی نئی پلاننگ
…وطنوں کے خلاف جوابی کارروائی کریں۔ مگر پیغمبر اسلام نے اس قسم کی کوئی بات اشارے کی زبان میں بھی نہیں کی۔ اس خطبہ کا خلاصہ یہ تھا: فمن استطاع أن یقی وجہہ من النار ولو بشق من تمرة فلیفعل، ومن لم یجد فبکلمة طیبة (سیرت ابن ہشام، 1/500-1) ۔
خطبہ کے مذکورہ الفاظ پر غور کیجیے۔ اس کا خلاصہ دوسرے لفظوں میں یہ ہے —— دوسرے لوگ آپ کو’’آگ‘‘ میں دھکیلنے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن آپ کا دل ان کی ہمدردی سے بھرا ہوا ہو۔ آپ ان کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ اپنے آپ کو اللہ کی پکڑ سے بچاؤ۔ یہ ہے پیغمبرانہ حکمت۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ آپ کے دشمن بنیں، آپ ان کے خیر خواہ بن جائیں۔ جو لوگ آپ پر ظلم کریں، آپ اللہ سے ان کے لیے اچھے اجر کے طالب بن جائیں۔ جو لوگ آپ کو نہ دیں، آپ ان کے لیے دینے والے (giver) بن جائیں، اور ا ن کے لیے داعی بن کر ان کے ساتھ مدعو فرینڈلی روش اختیار کریں۔ پیغمبر اسلام کی یہ روش صرف ایک اخلاقی روش نہیں ہے، بلکہ وہ اعلیٰ درجے کی دانش مندی کا معاملہ ہے۔
ٹکراؤ سے کامل پرہیز
…مڈبھیڑ ہوئی۔ اس وقت اہل ایمان کو کامیابی حاصل ہوئی، اور ان کے ہاتھ تقریباً 70 مشرکین قید ہوگئے۔ ان کی رہائی کایہ فدیہ مقرر کیا گیا کہ وہ مدینہ کے بچوں کو لکھنا سکھادیں (فداءہم أن یعلموا أولاد الأنصار الکتابة) مسند احمد، حدیث نمبر2216 ۔
بدرمیں قیدکیے ہوئے مکہ کے یہ لوگ جنگی اصطلاح میں جنگی قیدی (prisoners of war) تھے۔ اس زمانے کےعام رواج کے مطابق پیغمبر اسلام یہ کرسکتے تھے کہ ان کو قتل کروادیتے۔ لیکن آپ نے انتقام سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ اس طرح آپ کے لیے ممکن ہوا کہ یہاں اپنے ایک مائنس (minus)کو پلس (plus)میں بدل دیں۔ جو لوگ بظاہر آپ کے دشمن تھے، ان کو اپنے معاون کے طور پر استعمال کیا۔ یعنی دشمن کو اپنے بچوں کے لیے ٹیچر کے طور پر استعمال کیا۔ آپ کی اس پالیسی کے تحت مدینہ میں پہلا اسکول قائم ہوا، جس کے ٹیچر سب کے سب آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔
راستہ بدلنا
ابتدائی منصوبہ پر نظر ثانی
موجودہ دنیا میں کوئی آدمی پیشگی طور پر بالکل درست منصوبہ نہیں بنا سکتا۔ جب آدمی کسی عمل کو شروع کرتا ہے تو بعد کو ایسے حالات پیش آتے ہیں، جو تقاضا کرتے ہیں کہ اپنے عمل کو نتیجہ خیز بنانے کےلیے اپنے عمل کی ری پلاننگ کی جائے۔ پیغمبر اسلام کے حکیمانہ طریقے کا ایک جز ء یہ بھی تھا۔ آپ ہمیشہ اس کے لیے تیار رہتے تھے کہ اگر ابتدائی منصوبہ میں کوئی کمی نظر آئے تو دوبارہ زیادہ قابل عمل انداز میں نیا منصوبہ بنایا جائے۔
اس کی ایک مثال یہ ہےکہ پیغمبر اسلام نے مکہ میں 610 عیسوی میں اپنا مشن شروع کیا۔ اس وقت کے مکہ میں آپ کے مشن کے لیے موافق ماحول موجود نہ تھا۔ چناں چہ وہاں کے لوگوں کی اکثریت آپ کے خلاف ہوگئی۔آپ کے راستے میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالنے لگے۔…
…ہے۔ یہاں مشرقی لباس اور مغربی لباس کے امتیازات فضا میں گم ہو جاتے ہیں۔ احرام کے مشترک لباس میں تمام لوگ اس طرح نظر آتے ہیں جیسے کہ تمام لوگوں کی صرف ایک حیثیت ہے۔ تمام لوگ صرف ایک خدا کے بندے ہیں۔ اس کے سوا کسی کوکوئی اور حیثیت حاصل نہیں۔
حج کے مقرر ہ مراسم اگرچہ مکہ میں ختم ہو جاتے ہیں مگر بیشتر حاجی حج سے فارغ ہو کر مدینہ بھی جاتے ہیں۔ مدینہ کا قدیم نام یثرب تھا۔ مگر پیغمبر اسلام نے اپنی زندگی کے آخری زمانہ میں اس کو اپنا مرکز بنایا۔ اس وقت سے اس کا نام مدینۃ النبی (نبی کا شہر) پڑ گیا۔ مدینہ اسی کااختصار ہے۔ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی مسجد ہے۔ یہاں آپ کی قبر ہے۔ یہاں آپ کی پیغمبرانہ زندگی کے نشانات بکھرے ہوئے ہیں۔
ان حالات میں حاجی جب مدینہ پہنچتے ہیں تو یہ ان کے لیے مزید اتحاد اور اجتماعیت کا عظیم سبق بن جاتا ہے۔ یہاں کی مسجد نبوی میں وہ اس یاد کو تازہ کرتے ہیں کہ ان کا رہنما صرف ایک ہے۔ وہ یہاں سے یہ احساس لے کر لوٹتے ہیں کہ ان کے اندر خواہ کتنے…
…آج جو خاکہ بھی پیش کریں گے، بشرطیکہ اُس میں صلہ رحمی کو ملحوظ رکھا گیا ہو ، میں ضرور اُس پر راضی ہوجاؤں گا۔دشمن کی یک طرفہ شرطوں کو ماننا ایک سخت ناگوار معاملہ تھا۔ مگر آپ نے مذکورہ بات کہہ کر اس ناگوارکو ایک خوش گوار معاملہ بنا لیا۔
پیغمبر اسلام کا یہ قول ہجر جمیل کی ایک حکیمانہ مثال ہے۔قدیم عربوں کے نزدیک صلہ رحمی بہت بڑی انسانی قدر سمجھی جاتی تھی۔ اور قطع رحمی کو وہ بہت بُرا سمجھتے تھے۔ اس لیے اس کا سوال ہی نہ تھا کہ وہ معاہدہ کے لیے ایسا خاکہ پیش کریں جس میں قطع رحم کی دفعہ رکھی گئی ہو۔ باعتبار حقیقت رسول اللہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ میں ہر قیمت پر قریش سے صلح کر لوں گا۔ اس بات کو کہنے کے باعزت طریقہ کے طورپر آپ نے فرمایا کہ میں قریش کی طرف سے صُلح کے ہر خاکہ کو منظور کرلوں گا بشرطیکہ اُس میں قطع رحم نہ پایا جاتا ہو ۔ حالانکہ پیشگی طورپر یہ معلوم تھا کہ وہ قطع رحم کی شرط کبھی نہیں رکھیں گے۔
3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے تو جلد ہی یہاں کے باشندوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔ اُس وقت مدینہ میںایک شخص تھا جس کا نام عبد اللہ بن اُبی تھا۔ وہ اپنے زمانہ کا ایک بڑا لیڈر تھا۔ وہ بھی اگر چہ اپنے قبیلہ…
…طبقات ابن سعد، تاریخ ابن عساکر، وغیرہ۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صہیب رومی ایک اونچے خاندان کے فرد تھے۔ پھر وہ مکہ میں تجارت کرنے لگے۔ انہوں نے تجارت میں کافی دولت کمائی (کان صھیب قد ربح مالا وفیرا من تجارتہ)۔ سیر اعلام النبلاء، 3/210۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ سے مدینہ کے لیے ہجرت فرمائی تو صہیب رومی نے بھی ہجرت کا فیصلہ کیا۔ روایات بتاتی ہیں کہ اُن کی ہجرت کی خبر لوگوں کو ہوگئی۔ چنانچہ قریش کے کچھ نوجوان اُن کے پاس آئے۔ اُنہوں نے کہا کہ تم نے اپنا یہ مال مکہ میں حاصل کیا ہے۔ اس کو لے کر ہم تم کومدینہ نہیں جانے دیں گے۔ صہیب رومی نے کہا کہ اگر میں تم کو اپنا مال دے دوں تو کیا تم مجھ کو جانے دوگے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہاں۔ اس کے بعد صہیب رومی نے اپنا سارا مال اُن کے حوالہ کردیا(فجعل لہم مالہ أجمع)۔ الطبقات الکبریٰ لابن سعد، 3/227۔
اپنا مال قریش کے حوالہ کرکے صہیب رومی مدینہ کے لیے روانہ ہوئے۔ وہ مدینہ پہنچے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپ کو مکہ کا پورا واقعہ بتایا۔ اُس کو سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا أبا یحیٰ ربح البیع(أے ابو…
…معاملے میں ذاتی اختیار حاصل نہ تھا۔ خالق نے جس طرح مادی دنیا کو ہدایت دی، ٹھیک اس کے مطابق مادی دنیا چلتی رہی۔ یہاں تک کہ اپنے کمال تک پہنچی۔ اس عمل کا آغاز بگ بینگ (الانبیاء30:) سے شروع ہوا۔ اور نظامِ شمسی کے وجود میں آنے پر مکمل ہوا۔
انسانی دنیا کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ انسان کو اللہ نے مکمل آزادی دی تھی۔ اس لیے یہاںاللہ نے انسان کی تاریخ کو مینج (manage) کرنے کا طریقہ اختیار کیا۔ یعنی انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، تاریخ کو مینج کرنا، اور اس کو مطلوب نقطۂ کمال تک پہنچانا۔
اللہ کے منصوبہ کے مطابق، انسانی تاریخ مختلف مراحل سے گزرتی رہی۔ مثلاً طوفانِ نوح کے بعد انسانی آبادی کا منتشر ہوکر ساری دنیا میں آباد ہونا، حضرت ابراہیم کے ذریعے ایک نئی نسل کی تیاری، رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے مذہبی جبر کے دور کو ختم…
A lunar eclipse lasts for a few hours, whereas a total solar eclipse lasts for only a few minutes at any given place.
گرہن کا یہ واقعہ محکم فلکیاتی قانون کے تحت پیش آتا ہے۔ یہاں تک کہ بہت پہلے ان کی قطعی پیشین گوئی کی جاسکتی ہے۔ مثال کے طورپر 2010 میں 15جنوری کو سورج گرہن ہوا۔ علماءِ فلکیات (astronomer) کی پیشگی خبر کے مطابق، پہلے سے لوگوں کو اِس گرہن کا علم تھا۔
گرہن کیا ہے۔ گرہن دراصل سایہ پڑ جانے کا دوسرا نام ہے۔ گردش کے دوران جب چاند، زمین اور سورج کے درمیان آجائے تو سورج اس آڑ کی بنا پر جزئی یا کلّی طورپر دکھائی نہیں دے گا۔ اِسی کا نام سورج گرہن ہے۔ اور جب زمین، چاند اور سورج کے درمیان…
…ہے۔ صحیح البخاری (حدیث نمبر1871)اور صحیح مسلم (حدیث نمبر1382)کے مشترک الفاظ یہ ہیں:أمرت بقریة تأکل القرى، یقولون یثرب، وہی المدینة ۔ یعنی مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے، جو بستیوں کو کھاجائے گی۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں، اور وہ مدینہ ہے۔
اس حدیثِ رسول پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں باعتبار معنی ہجرت مدینہ سے مراد مشن کی ری پلاننگ ہے۔ چنانچہ یہی ہوا۔ آپ نےمدینہ پہنچ کر مکہ والوں کے خلاف کسی قسم کی منفی روش اختیار نہیں کی۔ بلکہ مکہ والوں کے سلوک کو بھلا کر انتہائی مثبت انداز میں اپنے مشن کی نئی منصوبہ بندی کی۔ تفصیل کے لیےملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتابیں،پیغمبر انقلاب اور سیرت رسول۔
مثلا ً عرب میں پھیلے ہوئے قبائل کی طرف کثرت سے دعوتی وفود بھیجنا ، عرب کے باہر ملوک و سلاطین کے نام دعوتی خطوط بھیجنا۔ قریش کی یک طرفہ شرطوں کو مانتے ہوئے ان سے امن کا معاہدہ کرنا، قریش نے یک طرفہ طور پر حملہ کرکے آپ کو جنگ میں الجھانا…
…بصیرت سے ہے۔ ہر آدمی کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی بصیرت کو استعمال کرتے ہوئے حالات کا بے لاگ جائزہ لے۔ وہ فطرت کے اٹل اصولوں کی معنویت کو دوبارہ دریافت کرے۔ اس طرح یہ ممکن ہوگا کہ وہ فطرت کے نظام میں کوئی خلل ڈالے بغیر اپنے مقصد کی تکمیل کرسکے۔
اس اصول کی مثال خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود ہے۔ہجرت کے پانچویں سال جب کہ پیغمبر اسلام مدینہ میں تھے، آپ کو معلوم ہوا کہ قریش کے لیڈر تمام عرب سےبارہ ہزار کا لشکر لے کر مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں۔ آپ نے اپنےاصحاب کو جمع کرکے مشورہ کیا کہ لڑائی کے بغیر اس مسئلے کو کیسے حل کیا جائے۔ آپ کے ساتھیوں میں ایک سلمان فارسی تھے، جو ایران سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں جب بادشاہ لوگ جنگ کو اوائڈ (avoid) کرنا چاہتے ہیں تو وہ اپنے اور مخالف کے درمیان خندق (trench) کھود دیتے ہیں۔اس طرح فریقَین کے درمیان ایک بفر (buffer) قائم ہوجاتا ہے، اور دونوں کے درمیان جنگ کی نوبت نہیں آتی۔ پیغمبر اسلام نے اس کو پسند کیا، اور رات دن کی کوشش سے مدینہ کے ایک طرف جو کھلا ہوا تھا، لمبی خندق کھود دی۔اس طرح فریقین کے درمیان جنگ کی نوبت نہیں آئی۔
پیغمبر اسلام کا یہ عمل ری پلاننگ کی ایک مثال ہے۔ کیوں کہ اس سے پہلے فریقین کے درمیان براہ راست ٹکراؤ کی نوبت آجاتی تھی۔ جنگ کو ٹالنے کا یہ طریقہ جو اس وقت اختیار کیا گیا، وہ اس بات کی مثال تھی کہ دوسرے کے طریقے کی پیروی کرنا بھی اتنا ہی…
…(middle ummah)کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان
کے ایک طرف اللہ رب العالمین تھا اور ان کے دوسری طرف تمام انسان۔ انھوں نے اس رہنمائی
کو اللہ سے لیا اور پورے معنوں میں ناصح اور امین (الاعراف68:) بن کر اس کو انسانوں
تک پہنچایا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی میں مدینہ میں ہوئی۔ آپ اللہ کے
آخری رسول تھے۔ آپ نے اپنے بعد ہدایت کے دو مستند ذریعے (authentic sources) چھوڑے،
ایک قرآن اور دوسرا سنت رسول۔ اب کوئی پیغمبر دنیا میں آنے والا نہیں ہے۔ لیکن جہاں
تک پیغمبر کے مشن کی بات ہے، وہ بدستور جاری ہے۔پہلے انبیاء کی حیثیت امت وسط کی ہوتی
تھی، اب پیغمبر آخرالزماں کے متبعین کی حیثیت امت وسط کی ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں
ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَکُونُوا
شُہَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْکُمْ شَہِیدًا (2:143) ۔ یعنی
اور اس طرح ہم نے تم کو امت وسط بنا دیا تاکہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر، اور رسول
ہو تم پر بتانے والا۔
امت وسط کا مطلب بیچ کی امت (middle community) ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم
کے متبعین سب کے سب امت محمدی ہیں۔ ان کی حیثیت دوبارہ امت وسط کی ہے۔ صرف اس فرق کے
ساتھ کہ پیغمبر، خدا اور انسان کے درمیان امت وسط ہوتے تھے۔…
…ہوتا ہے کہ حدیث میں محبتِ رسول کا لفظ رسول کے مشن کے معنی میں آیا ہے۔ یعنی توحید کا مشن جو پیغمبر کی رہنمائی میں چل رہا تھا، اس سے اہل ایمان کو جذباتی تعلق (emotional attachment)ہونا چاہیے، ورنہ وہ آخری وقت تک اس پر قائم نہیں رہ سکتا۔
پیغمبرِ اسلام نے یہ بات مدینہ میں اس وقت فرمائی تھی، جب کہ بیرونی حملہ کی بنا پرجنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کچھ لوگ ، اپنے والدین، اپنے اولاد، اپنے رشتے داروں، اور اپنے خاندان، اورمال، اور تجارت،جائدادسےمحبت کی بنا پر یہ چاہنے لگے تھے کہ ان کو جنگ میں شرکت نہ کرنا پڑے۔ان حالات میں سورہ التوبہ کی آیت نمبر 24 نازل ہوئی۔ اور پیغمبراسلام نے وہ بات فرمائی جو مذکورہ حدیث میں موجود ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مومن کے اندر ذاتی محبت اللہ سے ہونی چاہیے(البقرۃ165 :)۔ رسول سے اہل ایمان کی محبت مقصدی محبت ہوتی ہے، نہ کہ ذاتی محبت۔ یہ حقیقت ایک حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے:أحبوا اللہ لما یغذوکم من نعمہ وأحبونی بحب اللہ(سنن الترمذی، حدیث نمبر3789 :)۔
…دیکھتے ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ اس واقعے کو خالق کے اپنے تخلیقی نقشہ (creation plan)کی روشنی میں دیکھا جائے۔ اگر ایسا کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انسانی دنیا کی یہ صورتِ حال کوئی مسئلہ نہیں ، بلکہ وہ انسان کے لیے خالق کی ایک رحمت (blessing) ہے۔
اصل یہ ہے کہ خالق کے نقشے کے مطابق، موجودہ دنیا انسان کی عارضی قیام گاہ ہے۔ انسان کی اصل اور ابدی قیام گاہ آخرت ہے۔ خالق یہ چاہتا ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو فل فِل مینٹ (fulfilment) نہ ملے۔ یہ گویا جبر (compulsion) میں ڈال کر انسان کے اندر یہ سوچ پیدا کرنا ہے کہ وہ موجودہ دنیا کو اپنی منزلِ مقصود نہ سمجھے بلکہ اپنی خواہش (desire) کی تکمیل کے لیے وہ ہمیشہ ایک متبادل (alternative)کی تلاش میں رہے۔ اور بطور نتیجہ اخروی جنت کو اپنا منزلِ مقصود بنائے۔
یثرب کی مثال
…تو یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ اسلام میں مسلّح جہاد، یا قتال صرف ایک غیر مطلوب انتخاب (undesirable option) ہے، وہ ہر گز کوئی مطلوب انتخاب (desirable option) نہیں۔ پیغمبراسلام کی زندگی کے واقعات واضح طورپر اِس نقطۂ نظر کی تائید کرتے ہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں توحید کے مشن کا آغاز کیا۔ اُس وقت مکہ شرک کا مرکز بنا ہوا تھا۔ چنانچہ وہاں کے مشرک سردار آپ کے دشمن بن گیے، پھر بھی آپ کا مشن پھیلتا رہا اور لوگ آپ کے ساتھی بنتے رہے۔ اِس طرح تیرہ سال گزر گیے۔ اب مکہ کے مخالفین نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ آپ کو مارڈالیں۔
یہ 622 عیسوی کا واقعہ ہے۔ اُس وقت آپ کو دو میں سے ایک کے انتخاب کا موقع تھا۔ ایک یہ کہ مکہ کے سرداروں کے حربی چیلنج کو قبول کرتے ہوئے، اُن سے مسلّح مقابلہ کریں۔ اُس وقت تک مکہ اور اطرافِ مکہ میں کئی سو افراد آپ پر ایمان لا کر آپ کے…
ہم ایسے رہے یا کہ ویسے رہے وہاں دیکھنا ہے کہ کیسے رہے
اس شعر میں زندگی کی ایک تلخ حقیقت کو بالکل سادہ انداز میں بیان کردیا گیا ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ موجودہ دنیا مسائل کی دنیا ہے۔ یہاں ہر عورت اور ہر مرد کو مسائل کے درمیا ن جینا پڑتا ہے۔ اس بنا پر اکثر لوگ پریشانی کی حالت میں زندگی گزارتے ہیں۔ اس مسئلے کا آسان فارمولا یہ ہے کہ جب آپ کو اپنی مصیبت یاد آئے تو مذکورہ شعر کو پڑھ لیں۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ پریشانی کا احساس ختم ہوگیا۔ ذہن کو نارمل بنانے کا یہ نہایت آسان فارمولاہے۔
یہ فارمولا ایک حدیثِ رسول پر مبنی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایک واقعہ پیش آیا جس کو غزوۂ خندق کہا جاتا ہے۔ اس موقعہ پر مدینہ کے اہل ایمان سخت مشکلات سے دوچار ہوئے۔ قرآن میں اس کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے:…
…ہے۔ لیکن حضرت خالد بن ولید ایک با بصیرت انسان تھے، اس کو انھوں نے یہ کہہ کر اپنے لیے غیر موثر بنادیا: انی لا اقاتل فی سبیل عمر، ولکن اقاتل فی سبیل رب عمر ۔یعنی میں عمر کے راستے میں نہیں لڑتا، بلکہ میں عمر کے رب کے راستے میں لڑتا ہوں۔
دوسری تقابلی مثال سعد بن عبادہ کی ہے۔ سعد بن عبادہ مدینے کے قبیلۂ خزرج کے سردار تھے۔ہجرت سے پہلے بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر انھوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ ہجرت کے بعد وہ رسول اللہ کے ساتھی بن گیے۔ مدینے میں اسلام جو تیزی سے پھیلا، اس میں ان کا بڑا ہاتھ تھا۔ رسول اللہ کی آخری زندگی تک وہ اسی طرح اپنے حال پر قائم رہے۔ وہ اس وقت بدل گیے، جب کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد ابوبکر صدیق کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت ہوئی۔ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافت کا مستحق وہ انصار کو سمجھتے تھے۔ انھوں نے ابوبکر صدیق کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت نہیں کی۔ اس کے بعد جب دوسرے مہاجر، عمر بن خطاب خلیفہ منتخب ہوئے تب بھی انھوں نے خلیفۂ دوم کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی۔ وہ اسی حال پر قائم رہے۔ یہاں تک کہ وہ مدینہ میں ایک غیر مطلوب شخص بن گیے۔ اب وہ مدینہ چھوڑ کر شام چلے گیے۔ وہاں ہجرت کے پندرھویں سال ان کی وفات ہوگئی۔
خالد بن ولید اور سعد بن عبادہ دونوں اپنی انفرادی زندگی میں اچھے انسان تھے۔ لیکن دونوں کا دو مختلف انجام ہوا۔ خالد بن ولید کو مرکزی قیادت سے اختلاف ہوا۔ یہ ان کے لیے بحران کا وقت تھا۔ لیکن انھوں نے اپنی بصیرت سے اس بحران کو مینیج کرلیا۔ اس…
…الفاظ میں آئی ہے: إن الدین لیأرِزُ إلى الحجاز کما تأرِز الحیة إلى جحرہا (سنن الترمذی، حدیث نمبر2630)۔ یعنی دین حجاز میں سمٹ آئے گا، جس طرح سانپ اپنے بل میں سمٹ آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فتنہ کے دور میں بھی دین حجاز میں زندہ رہےگا۔
حجاز وہ جغرافی علاقہ ہے جہاں پیغمبرِ اسلام صلى اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، جہاں حر م مکہ اور حرمِ مدینہ واقع ہیں، جہاں اسلام کی تاریخ بنی، جہاں ابراہیم اور اسماعیل اور اس کے بعد رسول اور اصحابِ رسول کی روایات قائم ہوئیں، جو اسلام کی عالمی عبادت ، حج کا مرکز ہے۔حرم وہ مقام ہے جہاں جان کو مارنا کلی طور پر حرام ہے۔
چنانچہ ارض حجاز (عرب) کو مسلمانوں کے درمیان خصوصی احترام کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کو پیغمبر اسلام صلى اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کی زبان میں فرمایا کہ جب دنیا میں فتنہ پھیل جائے گا تب بھی ارضِ حجاز (عرب) نسبتاً…
…ہمدردانہ انداز میں سمجھاتے۔ وہ ایک ایسی کتاب لکھتے جس میں وہ بتاتے کہ شتم رسول جیسا غیر فطری معاملہ ہمیشہ غلط فہمی کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے آدمی کے اوپر تبلیغ کرنا چاہیے، اور پر امن دعوتی عمل کے ذریعے اس کی اصلاح کی کوشش کرنا چاہیے۔
سید ابوالاعلی مودودی کے زمانے میں ایک واقعہ پیش آیا، اس کے بعد انھوں نے اپنی اردو کتاب الجہاد فی الاسلام لکھی۔ اس وقت وہ اپنی جوانی کی عمر میں تھے۔ چنانچہ انھوں نے جوش و خروش کے انداز میں ایک ایسی کتاب لکھی جس میں جہاد بمعنی قتال کی زبردست وکالت کی گئی تھی۔ حالاں کہ اگر وہ اس وقت پختگی کی عمر میں ہوتے تو شاید وہ ایک اور کتاب لکھتے جس کا عنوان یہ ہوتا، الدعوۃ الی اللہ۔ اس کتاب میں وہ پر امن دعوت کی اہمیت بتاتے اور مسلمانوں کو راغب کرتے کہ وہ پرامن دعوت کے اصول پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔ یہی معاملہ دوسرے مسلم مفکرین کے ساتھ پیش آیا۔ اب اس کا حل یہ ہے کہ اسلام کو سمجھنے کے لیے براہ راست طور پر قرآن و سنت کا مطالعہ کیا جائے ،نہ کہ بعد کے زمانے میں لکھی ہوئی کتابوں کا۔
امن ایک اقدام
…یعنی تم اپنے دشمنوں پر اس وقت تک غالب رہوگے جب تک میری سنت کو پکڑے رہوگے۔ اور جب تم میری سنت سے نکل جائوگے تو اﷲ تمہارے اوپر ایسے لوگوںکو مسلّط کردے گا جونہ تم سے ڈرے گا، اور نہ تم پر رحم کرے گا یہاں تک کہ تم میری سنت کی طرف لوٹ آئو۔
قرآن سے مزید معلوم ہوتا ہے کہ دشمن خود مسلمانوں کی اپنی غلطی کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ اس سے باہر، خارجی مسئلے کی حیثیت سے، دشمن کا کوئی وجود نہیں۔ قرآن کی ایک آیت میں بتایا گیا ہے: وان تصبرواوتتّقوا لایضّرکم کیدھم شیئاً (آلِ عمران120:) یعنی اگر تم صبر کرو، اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ اہلِ ایمان کے لیے اصل مسئلہ، سازش کی موجودگی نہیں ہے بلکہ صبر اور تقویٰ کی غیر موجودگی ہے۔ اگر اہلِ ایمان کے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت پائی جائے تو وہ پوری طرح دشمنوں کی سازش سے محفوظ رہیں گے۔ انھیں دوسروں کی طرف سے کوئی گزند پہنچنے والا نہیں۔
اِس اصول کی عملی مثال بھی قرآن میں واضح طور پر موجود ہے۔ ایک مثال غزوۂ اُحد کی ہے۔ پیغمبراسلام کی ہجرت کے تیسرے سال غزوۂ احد پیش آیا۔ اِس غزوہ میں مسلمانوں کوسخت نقصان پہنچا۔ یہ غزوہ واضح طور پر پیغمبرِاسلام کے مخالفین کی زیادتی کی بنا…
…صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں کعبہ کا طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے، پھر ہجرت کے بعد آپ کو حکم ہوا کہ آپ اپنی نماز قبلہ ٔ یہود صخرۃ کی طرف رخ کرکے ادا کریں، ایسا یہود کی تالیف قلب کے لیے کیا گیا، پھر بعد کو آپ کا قبلہ کعبہ کی طرف کردیا گیا۔
تالیف قلب اسلام کی ایک جامع تعلیم ہے۔ اس کی ضرورت ہمیشہ باقی رہے گی۔ مومن کے لیے ہر انسان مدعو ہے۔ اس لیے مومن کو ہر انسان کے ساتھ تالیف قلب کے اصول پر معاملہ کرنا ہے۔ تالیف قلب کا اصول کو ئی وقتی یا محدود اصول نہیں ہے، وہ ہمیشہ کے لیے اہل ایمان سے مطلوب ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر ابتدائی زمانے میں سورہ المدثر اتری۔ اس سورہ میں دعوت کا حکم دیتے ہوئےایک اصول یہ دیا گیا کہ وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ (74:6) یعنی اور ایسا نہ کرو کہ احسان کرو اور بہت بدلہ چاہو۔ اس حکم کا تعلق دعوت کے…
Secret planning for some harmful purpose.
یہ طریقہ پوری تاریخ میں جاری رہاہے۔ کسی مشن کے مخالفین ہمیشہ دو طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ ایک ہےکھلے طور پر اس کے خلاف عداوتی کارروائی کرنا۔ اور دوسرا ہے خاموش تدبیر کے ذریعے اس کو زیر کرنے کی کوشش کرنا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دونوں قسم کی مخالفت کی مثالیں ملتی ہیں۔ قدیم مکہ کے قریش نے آپ کے خلاف کھلی دشمنی کی۔قدیم مدینہ کے یہود بھی آپ کے مخالف تھے لیکن انھوں نے اپنی مخالفانہ کارروائیاں خاموش تدبیر کے انداز میں کیں۔
سازش دراصل بزدلانہ مخالفت کا دوسرا نام ہے۔ سازش ہمیشہ وہ لوگ کرتے ہیں جو منافقانہ کردار کے حامل ہوں۔ یعنی اوپر سے بظاہر اچھے بنے رہنا، مگر اندر سے عناد (malice)رکھنا، اور عناد کے جذبے کے تحت خاموش انداز میں منفی تدبیریں کرنا۔ منفی تدبیر کا…
…کی تفکیر ہمیشہ منفی تفکیر (negative thinking)ہوتی ہے۔ایسے مفکرین ہمیشہ ظلم اور سازش کا انکشاف کرتے رہتے ہیں۔ وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جن کے نتیجے میں لوگوں کے درمیان اشتعال پیدا ہو۔ اور پھر یہ اشتعال بڑھتے بڑھتے متشددانہ ٹکراؤ تک پہنچ جائے۔
سچا مفکراپنی مثبت سوچ کی بنا پر اس قابل ہوتا ہے کہ وہ منفی حالات میں بھی مثبت بات کہے۔ مثلا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیغمبرانہ مشن کے تیرہویں سال مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچے۔ یہ ہجرت ظلم اور تشدد کے درمیان مجبورانہ طور پر ہوئی تھی۔ مگر جب آپ 16 دن کا نہایت مشکل سفر طے کرکے مدینہ پہنچے تو آپ نے مدینہ کے لوگوں کے سامنے مکہ والوں کی کوئی شکایت نہیں کی۔ اس کے برعکس، آپ نے مدینہ کے لوگوں کوسچائی کا مثبت پیغام دیا۔ان کو وہ عمل کرنے کے لیے کہا جو ان کو جنت میں پہنچائے۔
There are around eight million Pakistani people living abroad.
یہ کوئی اتفاقی بات نہیں، یہ جو ہوا، یہ اللہ کے منصوبہ کے تحت ہوا۔ پاکستانی قوم ایک زندہ قوم ہے۔ اللہ کو یہ منظور ہوا کہ وہ پاکستانی قوم کو ایک زیادہ بڑے مشن کے لیے استعمال کرے۔ وہ تھاساری دنیا میں پاکستانیوں کوپر امن خدائی سفیر (ambassadors of God) بنانا، پاکستانیو ں کو یہ دعوتی رول دینا کہ وہ اللہ کے پیغام کو ساری دنیا کے لوگوں تک پہنچائیں۔
یہ گویا باعتبار ِ صورت صحابہ کی تاریخ کا ایک اعادہ تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔ تیرہ سال بعد آپ ہجرت کرکے مکہ سے مدینہ پہنچے۔ ہجرت سے پہلے آپ نے کہا تھا : أمرت بقریة تأکل القرى،…
…کو یہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ حالات کا مطالعہ کرے، وہ ہر قسم کی جذباتیت سے الگ ہو کر وقت کی صورت حال کا گہرا جائزہ لے۔ اس کے بعد حالات کے اعتبار سے دعوت کا ایسا منصوبہ بنائے جو اپنے مقصد کے اعتبار سے زیادہ موثر ہونے والا ہو-
تدبیر کی مختلف صورتیں ہیں، مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوتی جدوجہد کے آغاز میں تین سال تک دعوت کا کام انفرادی ملاقاتوں کے انداز میں کیا، یہ ایک تدبیر کا معاملہ تھا- اس زمانے میں کعبہ کے اندر تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے، آپ نے بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کرکے ان کے زائرین کے درمیان پر امن دعوت کا کام کیا- مکہ میں مخالفت بڑھی تو آپ نے اپنے مقام کو بدلا، اور مکہ سے تقریباً تین سو میل دور مدینہ کو اپنی دعوت کا مرکز بنایا- حدیبیہ کے موقع پر آپ نے ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر مدینہ واپسی کا فیصلہ کیا، وغیرہ-
یہ سب تدبیر کے واقعات تھے- تدبیر دراصل حکیمانہ منصوبہ بندی کا دوسرا نام ہے- دعوت کے لئے نظری اعتبار سے سب سے زیادہ اہمیت توحید کی ہے- اور عملی اعتبار سے سب سے زیادہ اہمیت حکیمانہ تدبیر کی- ان دونوں پہلوؤں کی کامل رعایت کا نام کامیاب دعوت…
Ignore the problems, avail the opportunities
اس پیغمبرانہ طریقے کی چند مثالیں یہ ہیں۔ مکی دور میں کعبہ کی عمارت میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ نے ان بتوں سے عملاً کوئی تعرض نہیں کیا۔ بلکہ وہاں جو لوگ ملتے تھے ان کو آپ توحید کا پرامن پیغام پیش کرتے رہے۔ قریش نے آپ کے خلاف مقاطعہ (boycott) کا فیصلہ کیا تو آپ نے قریش سے ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ مقاطعہ کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے پرامن طور پر شعبِ ابی طالب میں چلے گیے۔ اہل مکہ نے آپ کو مجبور کیا کہ آپ مکہ چھوڑ دیںتو آپ نے اہل مکہ سے جنگ نہیں کی بلکہ ہجرت کرکے پرامن طور پر مدینہ چلے گیے۔ حدیبیہ کے موقع پر مکہ کے سرداروں نے آپ کو اس سے روکا کہ آپ مکہ جاکر عمرہ کریں، آپ نے اس موقع پر ان سے ٹکراؤ نہیں کیا بلکہ حدیبیہ سے واپس ہوکر مدینہ چلے گیے، وغیرہ۔
اسی کے ساتھ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کچھ اور مثالیں ہیں۔ مثلاًبدر کے موقعے پر آپ نے قریش سے قتال کیا، احد کے موقعے پر آپ نے اہل مکہ سے جنگ کی ، حنین کے موقع پر آپ نے قبیلۂ ہوازن سے جنگی مقابلہ کیا، وغیرہ۔
…کے بادشاہوں نے شرک کو سرکاری مذہب (official religion) کی حیثیت دے دی تھی- اس بنا پر اس زمانے کا نظام عملاً مشرکانہ بادشاہت کا نظام بن گیا تھا- یہ نظام مذہبِ توحید کے لئے ایک جارحانہ مسئلہ (violent problem) کی حیثیت اختیار کئے ہوئے تھا-
اسلام اپنی حقیقت کے اعتبار سے تمام تر ایک پر امن مشن ہے، لیکن مذکورہ حالات کی بنا پر فطری طورپر ایسا ہوا کہ فریق ثانی کی طرف سے متشددانہ مخالفت شروع ہوگئی- پہلے قبائلی سردار (Tribal Chief) کی طرف سے، اور اس کے بعد اس وقت کے قائم شدہ ایمپائر (ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر کی طرف سے)-اس جنگ میں مشرکانہ اقتدار کی حیثیت جارح کی تھی، اور اسلام کی حیثیت مدافع کی تھی- یہ جنگ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں شروع ہوئی اور خلیفہ ثانی عمرفاروق (وفات: 23ھ /644ء) کے زمانے میں اصولاً ختم ہوگئی- مسلح مزاحمت (armed struggle) کی یہ مدت تقریباً 25 سال ہے- اللہ کی خصوصی نصرت کے تحت اس مختصر مدت میں مشرکانہ اقتدار کا زور ٹوٹ گیا- اب یہ ممکن ہوگیا کہ اسلام کا اصل مشن، پر امن دعوتِ توحید مزاحمت کے خطرے کے بغیر جاری کیا جائے اور قیامت تک اس کو جاری رکھا جائے-
وقت کے مشرکانہ اقتدار سے اسلام کی مسلح مزاحمت (armed struggle) کا تعلق وقتی حالات سے تھا، وہ اسلام کی آئیڈیالوجی کا ابدی حصہ نہ تھا- مگر بعد کے زمانے میں حضرت عثمان کی شہادت (35 ھ656/ء) کے وقت امت میں ایسا بحران (crisis)پیدا ہوا کہ لوگ…
…مصلح (پیغمبر) کے طریقہ کو بتانا ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ مصلح اول کے جس طریقہ سے امت اصلاح یافتہ ہوئی تھی، بعد کے مصلحین کو بھی یہی کرنا ہے کہ اسی طریقہ کے مطابق امت کو اصلاح یافتہ بنائیں- مصلح اول کا یہ طریقہ آپ کی تاریخ سے معلوم ہوتاہے-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس امت کے مصلح اول تھے- آپ کو مکہ میں حکومت کا عہدہ پیش کیا گیا تو آپ نے کہا میرا مقصد تمھارے اوپر حکومت کرنا نہیں ہے- اس سے معلوم ہوا کہ دعوت واصلاح کا کام غیر سیاسی (non-political)انداز میں ہونا چاہئے- قدیم مکہ میں کعبہ کے اندر 360 بت رکھے ہوئے تھے- مگر آپ نے اپنی تحریک کا آغاز تطہیر کعبہ سے نہیں کیا، بلکہ تطہیر ذہن سے کیا- مکہ میں جب مخالفت زیادہ بڑھی تو آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے- اس سے معلوم ہوا کہ حقوق کے نام پر لڑائی لڑنے کے بجائے اہل ایمان کو چاہئے کہ وہ نئے مواقع کار دریافت کریں- مدینہ پہنچنے کے بعد آپ نے وہاں کے لوگوں کے سامنے کبھی مکہ والوں کی شکایت نہیں کی، بلکہ مثبت طورپر دعوت کا کام کرتے رہے- اس سے معلوم ہوا کہ ظلم کے خلاف چیخ وپکار رسول اللہ کا طریقہ نہیں، وغیرہ- یہی طریقہ آج بھی دعوت واصلاح کا صحیح طریقہ ہے-
…(9:19) یعنی کیا تم نے حاجیوں کے پانی پلانے اور مسجد حرام کے انتظام کرنے کو برابر کردیااس شخص کے جو اللہ اور آخرت پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا-اللہ کے نزدیک یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے- اور اللہ ظالم لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا-
قرآن کی اس آیت میں ایک واقعہ کے حوالے سے ایک اصولی بات بتائی گئی ہے- وہ یہ کہ کسی امت کا زوال یافتہ ہونا کیا ہے، اور یہ کہ جب کوئی امت دینی اعتبار سے اپنے زوال کے دور میں پہنچ جائے تو اس وقت اس کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے مصلح کو کیا طریقہ اختیار کرنا چاہئے- اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دور زوال میں دین کا جو بگڑا ہوا فارم ان کے یہاں پایا جاتا ہے، اسی کو وہ اصل دین سمجھ لیتے ہیں-قدیم مکہ کے مشرکین، معروف قومی معنوں میں مشرکین نہ تھے، بلکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ملت ابراہیم کا زوال یافتہ حصہ تھے- اپنے طریقہ میں کنڈیشننگ کی وجہ سے وہ سمجھتے تھے کہ جو بگڑا ہوا دین ان کے یہاں ہے، وہی عین دین ابراہیم ہے- اسی یقین کی بنا پر انھوں نے یہود مدینہ سے مذکورہ سوال کیا، اور یہود چوںکہ خود بھی اپنے زوال کی بنا پر دین موسی کی ایک بگڑی ہوئی صورت پر قائم تھے، اس معاملہ میں ان کی نفسیات بھی وہی تھی، جو مکہ والوں کی نفسیات تھی- اس لئے انھوں نے کہہ دیا کہ تمھارا دین محمد کے دین سے بہتر ہے-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعتبار سے دین ابراہیمی کے مجدد تھے- آپ مکہ کے لوگوں کے درمیان دوبارہ اصل دین ابراہیمی کو زندہ کرنا چاہتے تھے- آیت کے الفاظ کمن آمن باللہ والیوم الآخر دراصل پیغمبر کے طریق اصلاح کو بتارہے ہیں،اور وہ…
’’اپنی اِس تلخ نوائی کو میں ایک فارسی شعر پر ختم کرتا ہوں، فارسی کا شعر ہے:
نوائے من ازاں پُرسوز وبے باک وغم انگیز است
کہ خاشاکم درِ شعلہ افتاد وبادِ صبح دم تیز است
…ہے- اِسی اصلاح کی حکمت کی بنا پر، ابتدائی دور میں قرآن اپنے معاصر حالات (contemporary situation)کے اعتبار سے اترا- لیکن بعد کو اُس کی ترتیب،ابدی حالات کے اعتبار سے کی گئی- یعنی وہ حالات جو بعد کے زمانے میں انسانیت کو پیش آنے والے تھے-
ترتیب کا یہ فرق بالکل فطری ہے- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مکہ اور مدینہ کے جو حالات تھے، اُن حالات کی نسبت سے قرآن کی آیتیں اور سو رتیں وقت وقت پر اترتی رہیں- لیکن قرآن ساری انسانیت کے لیے ہے- نزول کے اعتبار سے اُس میں معاصر حالات کی رعایت تھی- مگر موجودہ ترتیب میں وہ اِس طرح مرتب کیا گیا ہےکہ وہ بعد کے حالات پر منطبق ہوتا رہے-
مثال کے طور پر، بعد کے زمانے میں عملی طورپر ایسا ہونے والا تھا کہ امت ِ مسلمہ قرآن کی مخاطب بن جائے، اِس لئے موجودہ مصحف میں اُن سورتوں کو مقدم کردیاگیا ہے، جن میں زوال یا فتہ یہود کا ذکر تھا، تاکہ مسلمان اپنے دور زوال میں یہود کے حالات…
…جو سورتیں نازل ہوئیں، اُن کو ترتیب میں مصحف کے آخر میں رکھ دیا گیا، اور جو سورتیں بعد کو مدینہ میں اتریں، ان کو ترتیب میں مصحف کے ابتدائی حصے میں رکھ دیاگیا- ترتیب میں یہ تبدیلی اتفاقی نہیں ہے، بلکہ اس کو بالقصد طورپر اختیار کیا گیا ہے-
اصل یہ ہے کہ مکی دور میں جب قرآن اترنا شروع ہوااُس وقت امتِ مسلمہ بحیثیت ’’امت‘‘ موجود نہ تھی- اُس وقت مکہ میں اور اطرافِ مکہ میں دعوت کا کام کیاگیا- اِس کے نتیجے میں لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے، یہاں تک کہ وہ گروہ تیار ہوا جس کو امتِ مسلمہ کہا جاتاہے- گویا کہ مکی دور میں اسلام کا سفر غیر اسلام سے اسلام کی طرف یا غیر امتِ مسلمہ سے امتِ مسلمہ کی طرف ہوا-
لیکن مدنی دور میں یہ ہوا کہ عملاً وہ گروہ وجود میں آگیا جس کو امتِ مسلمہ کہاجاتا ہے- جب امتِ مسلمہ کے نام سے ایک امت وجود میں آگئی تو اب تاریخ کے سفرکی نوعیت بد ل گئی- پہلے یہ ہوا تھا کہ تاریخ کا سفر امتِ غیر مسلمہ سے امتِ مسلمہ کی طرف…
…interpretation) پیش کی، جب کہ اسلام کی ربانی تعبیر ہی اس کی صحیح تعبیر ہے- اہلِ قرآن گروپ کا کیس یہ ہے کہ وہ اسلام کی مبنی بر نظام تعبیر سے متاثر ہوا، اور اس میں اپنی طرف سے مزید اضافہ کرکے اس کے بگاڑ کو اس کی آخری حد تک پہنچا دیا-
قرآن کا اصل مدعا وہی ہے جس کو قرآن کی پہلی آیت میں بیان کیاگیا ہے، یعنی الحمد اللہ رب العالمین- یہی قرآن کی تعلیمات کا خلاصہ ہے- قرآن کا مدعا یہ ہے کہ انسان رب العالمین کو اس کی صفاتِ کمال کے ساتھ دریافت کرے، وہ ایک ربانی انسان بن جائے- اس کی شخصیت میں وہ انقلاب آئے جب کہ وہ پورے معنوں میں حمد اسپرٹ میں جینے لگے-
یہی قرآنی تعلیمات کا ماحصل (gist)ہے- جب ایک انسان کے اندر یہ صفت پیدا ہوتی ہے تو اس کے لازمی نتیجے کے طورپر اس کی زندگی میں تزکیہ کا عمل شروع ہوجاتاہے- وہ اللہ کی یاد میں جینے لگتا ہے، وہ اللہ کا عبادت گزار بندہ بن جاتا ہے- اس کے سوچنے…
…کا لفظ محذوف ہے- دنیا کی زندگی میں ’فیما یبدو للناس‘ کے اعتبار سے، آدمی بظاہر کچھ اور دکھائی دے سکتا ہے، لیکن آخرت میں اس کا معاملہ ’فیما یبدو للہ‘ کے اعتبار سے ہوگا- یہ بات صالح انسان کی نسبت سے بھی ہے اور غیر صالح انسان کی نسبت سے بھی-
تاہم یہ معاملہ دنیا کی زندگی میں بھی کسی نہ کسی موقع پر کھل جاتا ہے- د ونوں قسم کے انسانوں کی زندگی میں آخر کار کوئی ایسا شاکنگ واقعہ (shocking event) پیش آتا ہے جس کے بعد اندر کی شخصیت کھل کر باہر آجاتی ہے- یہ اللہ کے قانون کے تحت ہوتا ہے- مثلاً قدیم مکہ میں حمزہ بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے تھے، مگر ایک واقعے نے ان کو ہلا دیا اور انھوں نے اعلان کردیا کہ: دینی دین محمد (میرا دین وہی ہے جو محمد کا دین ہے)- اِسی طرح قدیم مدینہ میں ایک شخص عبد اللہ بن اُبی تھا- وہ بظاہر کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوگیا تھا، لیکن مدینہ میں ایک واقعہ پیش آیا جس کے بعد اس کا داخلی نفاق نمایاں ہوگا اور وہ اسلام سے خارج قرار پایا- یہ واقعہ ہر انسان کے ساتھ پیش آتا ہے، کسی بھی انسان کا اِس معاملے میں کوئی استثنا (exception)نہیں-
…یہ ہے کہ انتخابِ اول کو اختیار کرنے کی صورت میں اگر معیار حاصل ہوتا تھا، تو انتخابِ ثانی کی صورت میں امن اور استحکام (stability) حاصل ہوجاتا ہے- اجتماعی زندگی کے لیے یہی واحد عملی طریقہ ہے، اِس کے سوا کوئی اور طریقہ عملاً ممکن ہی نہیں-
یہی فطری اصول پیغمبر کی سنت بھی ہے- مثلاً ہجرتِ مدینہ کے وقت فرسٹ چوائس یہ تھا کہ مکہ میں تیرہ سال کی جدوجہد سے جو جزئی کامیابی ہوئی تھی، وہ مزید جدوجہد کے ذریعے مکمل کامیابی تک پہنچے- اور سکنڈ چوائس یہ تھا کہ مکہ چھوڑ دیا جائے، تاکہ ٹکراؤ سے بچ کر پُرامن ماحول میں اپنا مشن جاری رکھا جائے- اُس وقت پیغمبر نے اپنے لیے سکنڈ چوائس کو اختیار کرلیا-اِسی طرح حدیبیہ کے موقع پر فرسٹ چوائس یہ تھا کہ سفر کو جاری رکھتے ہوئے آپ مکہ پہنچیں اور عمرہ کریں- اور سکنڈ چوائس یہ تھا کہ وہ درمیان میں اپنےسفر کو ختم کرکے مدینہ واپس چلے جائیں- پیغمبر نے اُس وقت بھی سکنڈ چوائس کو لینے کا فیصلہ کیا-
یہی فطرت کا اصول ہے اور یہی پیغمبر کی سنت بھی- اِس دنیا میں کسی بھی میدان میں کامیابی اِسی اصول کو اختیار کرکے حاصل ہوسکتی ہے- یہی قدیم زمانے میں بھی ممکن تھا او ر یہی موجودہ زمانے میں بھی ممکن ہے- فرسٹ چوائس ہمیشہ آدمی کی ذاتی خواہش کے…
ہر کہ شمشیر زند، سکّہ بہ نامش خوانند
مگر تاریخ کا تجربہ برعکس طور پر یہ بتاتا ہے کہ جنگ سے کبھی کسی نے کوئی مثبت فائدہ حاصل نہیں کیا- ہمیشہ یہ ہوا ہے کہ جنگ میں جو فریق ہارتا ہے، وہ اپنی ہار کو تسلیم نہیں کرتا- نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہارنے والے فریق کے اندر انتقام (revenge) کی نفسیات جاگ اٹھتی ہے- وہ دوبارہ اپنی قوتوں کو مجتمع کرتا ہے اور فاتح فریق کے خلاف انتقامی جنگ چھیڑ دیتاہے- یہی واقعہ بار بار ہوتا رہتا ہے- اِس طرح عملاً یہ ہوتا ہے کہ جنگ سے ہمیشہ ایک دورِ برائی (vicious circle) قائم ہوجاتا ہے:
war-defeat-revenge, war-defeat-revenge
…اگر مکہ چلا جائے تو اہلِ مکہ کو حق ہوگا کہ وہ اس کو مکہ میں روک لیں اور دوبارہ اس کو مدینہ واپس نہ کریں- اِسی طرح اِس معاہدے کی ایک شرط یہ تھی کہ تمام اہلِ ایمان اِس سال حدیبیہ سے مدینہ واپس چلے جائیں، وہ عمرہ کے لیے مکہ میں داخل نہ ہوں-
معاہدہ حدیبیہ ایک کاغذ پر لکھا گیا تھا-حضرت علی بن ابی طالب اس کی کتابت کررہے تھے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق، انھوں نے پہلا جملہ یہ لکھا: ہذا ما صالح علیہ محمد رسول اللہ- فریقِ ثانی کے نمائندہ سہیل بن عمرو نے اِس پر اعتراض کیا- انھوں نے کہا کہ ہم آپ کو اللہ کا رسول نہیں مانتے، اِس لیے آپ صرف ’’محمد بن عبد اللہ‘‘ لکھیے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے کہا کہ تم کاغذ پر ’’رسول اللہ‘‘ کا لفظ مٹا دو اور صرف ’’محمد بن عبد اللہ‘‘ لکھو- حضرت علی کاغذ سے ’’رسول اللہ‘‘ کا لفظ مٹانے پر راضی نہ ہوئے- اِس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کو اپنے ہاتھ سے کاغذ سے مٹا دیا-اِس معاہدے کی تکمیل کے بعد رسول اور اصحاب رسول مدینہ واپس آگئے-اِس معاہدے سے پہلے دونوں فریقوں کے درمیان مسلسل طور پر ایک حالت ِ جنگ (state of war) قائم تھی- اِس بنا پر اسلام کا دعوتی مشن عملاً تقریباً متروک ہوکر رہ گیا تھا- معاہدہ حدیبیہ کے بعد یہ ہوا کہ دونوں فریقوں کے درمیان مکمل امن قائم ہوگیا- اب پیغمبراور آپ کے اصحاب نے دعوت کا نیا منصوبہ بنایا- انھوں نے منظم انداز میں مدینہ کے اطراف میں مسلسل طورپر دعوتی کام شروع کردیا- عرب کے مختلف علاقوں میں آباد قبائل کے درمیان وفود بھیج کر دعوتی کام کیا جانے لگا، حتی کہ عرب کے باہر جو حکومتیں قائم تھیں، اُن کے یہاں دعوتی وفود بھیجے جانے لگے- خود مکہ میں رشتے داروں کے ذریعے آمد ورفت جاری ہوگئی- اِس طرح خود مکہ میں توحید کی آواز پہنچنے لگی-
پرامن ماحول میں اِس طرح دعوتی سرگرمیوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ کثرت سے اسلام کے حلقے میں داخل ہونے لگے، یہاں تک کہ صرف دو سال کے اندر اہلِ ایمان کی تعداد اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ یہ ممکن ہوگیا کہ جنگ کے بغیر خوداہلِ ایمان کی تعداد اسلام کی فتح…
…اللّٰہُ نَــصْرًا عَزِیْزًا (48:1-3) یعنی بے شک ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی تاکہ اللہ تمھاری اگلی اور پچھلی خطائیں معاف کردے اور تمھارے اوپر اپنی نعمت کی تکمیل کردے اور تم کو سیدھا راستہ دکھائے اور تم کو زبردست مدد عطا کرے-
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سورہ الفتح دورانِ سفر اُس وقت اتری جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معاہدہ حدیبیہ کی تکمیل کے بعد حدیبیہ سے مدینہ جارے تھے- اُس وقت جو واقعہ ہوا تھا، وہ صرف معاہدۂ امن تھا- جہاں تک فتح کی بات ہے، وہ ابھی مستقبل کی چیز بنی ہوئی تھی- پھر کیوں ایسا ہوا کہ ماضی کے صیغے میں ارشاد ہوا کہ ہم نے تم کو فتح دے دی، کھلی ہوئی فتح- یہ اسلوب دراصل امن کی اہمیت بتانے کے لیے تھا- اس کا مطلب یہ تھا کہ جب حقیقی معنوں میں پرامن طریقہ (peaceful method) اختیار کیاجائے، تو اُس کے بعد موافق نتیجے کا نکلنا یقینی ہوجاتا ہے-اس کے بعد فرمایا کہ ’لِیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ ‘ اِس آیت میں ’ذنب‘ کا لفظ ہے- ’ذنب‘ کے لفظی معنی گناہ (sin) کے ہوتے ہیں- مگر یہاں ’دنب‘ کا لفظ اپنے معروف معنی کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ وہ شدتِ اظہار کے لیے استعمال ہوا ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالی نے ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر یک طرفہ امن کی طرف رہنمائی کی تو تمھارے اندر اِس کے درست ہونے پر شک کیوں پیدا ہوا-
جیسا کہ روایات میں آیا ہے، صحابہ نے اِس معاہدے پر برہمی کا اظہار کیا تھا- حضرت عمر فاروق نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ: لم نعطی الدنیة فی دیننا (ہم اپنے دین کے بارے میں ذلت کا طریقہ کیوں اختیار کریں)- اِسی طرح یہاں’ مغفرت‘ سے مراد معروف معنی…
حدیبیہ کلچر
معاہدہ حدیبیہ سادہ طور پر صرف ایک معاہدہ نہ تھا- معاہدہ حدیبیہ کے ذریعے انسان کے اوپر ایک عظیم حکمت (wisdom) کو کھولا گیا، یعنی یہ حکمت کہ اجتماعی زندگی میں کامیابی کا طریقہ کیا ہے-پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں 2 ہجری میں بدر کی لڑائی پیش آئی- اِس لڑائی میں اہلِ ایمان کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی، لیکن اِس کے صرف ایک سال بعد احد کی لڑائی پیش آئی- اِس لڑائی میں فریقِ ثانی نے زبردست کامیابی حاصل کی- انھوں نے لڑائی کے میدان میں اہلِ ایمان کے 70 آدمیوں کو ہلاک کردیا- ایسا انتقامی نفسیات کی بنا پر ہوا- بدر کی لڑائی اہلِ ایمان کے لیے فتح تھی، لیکن فریقِ ثانی کے لیے وہ انتقام کے ہم معنی بن گئی:
Battle of Badr was victory for Muslims and revenge for the other party.
…طرح خلیفہ عمر بن عبد العزیز نے اُس زمانے کے ایک مشہور تابعی عالم محمد بن شہاب الزہری (وفات: 124ہجری) کو حدیث جمع کرنے کا حکم دیا- اسی طرح انھوں نے اسلامی ملکوںکے دوسرے حکام کو بھی ذخائر حدیث کے جمع وتدوین کا تاکیدی حکم بطور فرمان بھیجا-
اِس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ عمر بن عبد العزیز، اسلامی ریاست کے تحت، احادیث کو مدوّن کرنا چاہتے تھے، لیکن جلد ہی خلیفہ کی وفات ہوگئی اور یہ کام اُس وقت انجام نہ پاسکا- اِس کے بعد عباسی خلافت کا زمانہ آیا- اُس وقت علماءِ اسلام کی ایک بڑی جماعت نے بطور خود اِس کام کو انجام دیا، جن کو محدثین کہاجاتا ہے-
حفاظتِ قرآن، حفاظتِ حدیث
…پڑی- یہ اہلِ عرب کے لیےایک نیا تجربہ تھا- چناں چہ اس کو دیکھ کر لشکر کے سردار نے کہا: واللہ إن ہذہ لمکیدة ماکانت العرب تکیدہا (السیرة النبویة لابن ہشام: 182/4 ) یعنی خدا کی قسم، یہ ایک ایسی تدبیر ہے جیسی تدبیر سے اہلِ عرب اب تک ناواقف تھے-
یہ خندق لشکر کی مزید پیش قدمی کے لیے رکاوٹ (buffer)بن گئی- تقریباً ایک مہینہ پڑاؤ ڈالنے کے بعد اہلِ مکہ واپس چلے گئے-پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا یہ واقعہ صرف ایک وقتی واقعہ نہیں، اِس واقعے میں انسانی زندگی کے لیے ایک جامع رہنمائی موجود ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں جب ٹکراؤ کی صورت پیش آئے تو اُس وقت تم ٹکراؤ کا آپشن نہ لو، بلکہ یک طرفہ تدبیر کے ذریعے اپنے اور فریقِ ثانی کے درمیان ایک آڑ یا فاصل (buffer) قائم کرلو- اِس طرح تم متشددانہ ٹکراؤ اور اس کے نقصان سے بچ جاؤ گے-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں مختلف صورتوں میں اِس طریقے کو اختیار کیا- مثلاً غزوۂ حدیبیہ (6 ہجری) کے موقع پر آپ نے فریقِ ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طورپر مان کر اُن سے دس سال کا ناجنگ معاہدہ (no-war pact) کرلیا-…
…براہِ راست طورپر آپ کی باتوں کو سن رہا ہے- اِس طرح احادیث نے گویا کہ پیغمبر کی صحبت کو ابدی بنادیا ہے-اِس کی ایک مثال مشہور حدیث جبریل ہے- جو حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے- صحیح مسلم میں اس کو باب بیان الإیمان کے تحت دیکھا جاسکتا ہے-
آپ یکسو ہو کر اور استحضار کے ساتھ اِس حدیث کو پڑھیں توحدیث کا متن آپ کو اِس طرح اپنی طرف کھینچ لے گا کہ آپ محسوس کریں گے کہ آپ بھی مدینہ کی اُس مجلس میں ہیں جہاں پیغمبر اور جبریل کے درمیان یہ مکالمہ ہوا — تقریباً یہی معاملہ تمام دوسری حدیثوں کا بھی ہے-
حدیث پیغمبرانہ معرفت
سلمان فارسی، اصفہان (ایران) میں پیدا ہوئے، پھر وہ مدینہ آئے- یہاں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا- ان کی وفات مدائن (ایران) میں 35 ہجری (655 عیسوی) میں ہوئی-
ہجرت کے پانچویں سال وہ واقعہ پیش آیا جس کو عام طورپر غزوہ خندق کہاجاتا ہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ مکہ کے سرداروں نے مختلف قبائل کے تعاون سے ایک بڑا لشکر تیار کیا ہے- اس کے افراد ;کی تعداد دس ہزار ہے- یہ لشکر مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے مکہ سے روانہ ہوچکاہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب معمول مدینہ میں اپنے اصحاب کو جمع کیا اور اُن سے مشورہ کیا کہ اِس طرح کی صورت حال میں ہم کو کیا کرنا چاہیے- یہ بات واضح تھی کہ مسلمان اُس وقت اتنے بڑے لشکر سے جنگی مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے- اِس لیے سوال یہ تھا کہ اِس لشکر سے مقابلے کے لیے جنگ کے سوا دوسری کون سی تدبیر اختیار کی جائے-
اُس وقت سلمان فارسی کھڑے ہوئے- انھوں نے کہا کہ میرا تعلق فارس (ایران) سےہے- میں نے دیکھا ہے کہ فارس کے حکمراں جب دشمن سے ٹکراؤ کرنا نہیں چاہتے تو وہ اپنے اور دشمن کے درمیان ایک خندق کھود دیتے ہیں- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس تجویز…
…اللّٰہِ بِاَفْوَاہِہِمْ ۭ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ (61:8) یعنی وہ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کی روشنی کواپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ اپنی روشنی کو پورا کرکے رہے گا،خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو-
قرآن کی اِس آیت کا خطاب محدود طورپر صرف قدیم مکہ یا قدیم مدینہ کے مخالفین سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق پوری انسانی تاریخ کے ربانی سفرسے ہے- آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے پچھلے ہزاروں سا ل کے دوران مختلف مقامات پر اپنے پیغمبر بھیجے، لیکن مخالفین نے اُن کے مشن کو آگے بڑھنے نہیں دیا- اب اللہ نے تاریخ میں مداخلت کرتے ہوئے اِس مشن کا چارج خود لے لیا ہے- یہی مداخلت اِس بات کی ضمانت ہے کہ خدا کا یہ مشن اپنی آخری تکمیل تک پہنچے، کوئی بھی طاقت اس کے سفر کو روکنے میں کامیاب نہ ہو-
رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے ساتویں صدی عیسوی میں جو انقلاب آیا، وہ اِسی فیصلۂ الہی کا نتیجہ تھا- اِس انقلاب کا سب سے زیادہ انوکھا پہلو یہ تھا کہ وہ تقریباً 35 سال (610-644) کے اندر مکمل ہوگیا- انقلاب کا یہ پہلو بے حد اہم ہے- تاریخ میں…
…خدائی منصوبہ (divine plan) تھا، جو رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے انجام پایا- اِس کا ظہور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم کے زمانے میں ہوا اور خلافتِ راشدہ کے زمانے میں اس کی تکمیل ہوئی-
اللہ کا یہ منصوبہ تھاکہ توحید کی بنیاد پر ایک انقلاب برپا کیا جائے- اِس مقصد کے لیے قدیم دور میں اللہ نے بہت سے پیغمبر بھیجے- مگر اِن پیغمبروں کے ذریعے کوئی ٹیم نہیں بنی- اِس لیے قدیم زمانے میں مطلوب انقلاب برپا نہ ہوسکا- اس کے بعد اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم کے ذریعے ایک نیا منصوبہ بنایا- اِس منصوبے کے تحت حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بچے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسا دیا- اِس واقعے کی طرف قرآن میں اِن الفاظ میں اشارہ کیاگیاہے: رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّم (14:37)-
اِس صحرائی ماحول میںلمبی مدت تک توالد وتناسل کے ذریعے ایک جان دار قوم تیارہو ئی- اِسی قوم کے اندر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی- پھر اِسی قوم کے اندر کام کرکے وہ ٹیم بنی جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے-
عرب کا اسلامائزیشن
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب میں جوکامیابی حاصل ہوئی، اس میں ایک بڑا دخل اُس واقعے کا ہے جس کو اسلامی تاریخ میں صلح حدیبیہ کہا جاتاہے- یہ ایک انوکھی تدبیر تھی جس کو پوری تاریخ میں کسی نے استعمال نہیں کیا تھا- یہ مکمل طورپر ایک اجتہادی تدبیر تھی-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مشن 610 عیسوی میں شروع کیا- یہ زمانہ جارحانہ شرک اور مذہبی عدم رواداری (religious intolerance) کا زمانہ تھا- اِس بنا پر وہاں فریقِ ثانی کی طرف سے مسلسل طورپر ٹکراؤ اور جنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا- اِس…
…اسلام کا حصہ ہیں، مگر دونوں کو یکساں طورپر برابر کا حصہ سمجھنا درست نہیں- قرآن میں واضح طورپر دونوںکےدرمیان فرق کیاگیاہے- یہ فرق ایک حقیقت پر مبنی ہے- اِس فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سےاسلام کے بارے میں غیر ضروری قسم کی غلط فہمیاں ہوتی ہیں-
قرآن میں بتایا گیاہے کہ ’’الدّین‘‘ تمام نبیوں کے درمیان ہمیشہ ایک رہا ہے- الدین کے معاملے میں تمام انبیا کی تعلیمات کے درمیان کوئی فرق نہیں (42:13)- دوسری طرف، قرآن میں بتایا گیاہےکہ شریعت کا معاملہ اِس سے مختلف ہے- قرآن کے مطابق ، مختلف امتوں کو مختلف شریعتیں دی گئیں: لکل جعلنا منکم شرعةً ومنہاجاً (5:48) -
یہاں یہ سوال ہے کہ دین اور شریعت میں فرق کیوں-دین اور شریعت دونوں جب خدا کی طرف سے ہیں تو بظاہر اُن کے درمیان فرق نہ ہونا چاہیے- اِ س کا جواب یہ ہے کہ دین (بنیادی تعلیمات) کا تعلق حقیقتِ واقعہ سےہے، اور شریعت (قانون) کا تعلق زمانی حالات…
…کے لیے قابلِ حصول بنا دیا- یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو اہلِ مغرب کے ذریعے پہلی بار انجام پایا- اِس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ انسان اپنے رب کے لیے زیادہ بڑا شکر ادا کرسکے — اہلِ مغرب کا یہ عطیہ بلا شبہہ تائید دین کی ایک اعلی مثال کی حیثیت رکھتاہے-
3- اِس سلسلے میں اہلِ مغرب کی تیسری دین وہ ہے جس کو عالمی مواصلات کہاجاتا ہے- اللہ تعالی کو یہ مطلوب تھا کہ اس نے اپنا پیغام جو پیغمبروں کے ذریعے بھیجا ہے، وہ تمام اہلِ عالم تک پہنچے- اِس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے : تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْراً (25:1)یعنی بہت بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل کیا، تاکہ وہ تمام عالم کے لیے آگاہ کرنے والا ہو-
یہی بات حدیث میں پیشین گوئی کی زبان میں اِس طرح آئی ہے: لایبقى على ظہر الأرض بیت مدر ولا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمة الإسلام (مسند أحمد، رقم الحدیث: 24215) یعنی زمین کی سطح پر کوئی گھر یا خیمہ نہیں بچے گا، مگر اللہ اس میں اسلام کا کلمہ…
علمِ نباتات کی ایک اصطلاح ہے جس کو ٹرانسپلانٹیشن (transplantation) کہا جاتا ہے، یعنی پودے کو ایک جگہ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ لگانا، تاکہ وہ بہتر نشو ونما پائے:
The act of removing a plant from one location and introducing it in another location.
یہی اصول انسانی زندگی کے لیے بھی ہے- انسانی گروہ کے لیے بھی کبھی یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس کے عمل کے مقام کو بدلا جائے، تاکہ وہ زیادہ بہتر طورپر اپنا کام انجام دے سکے- اسلام میں ہجرت کا مقصد یہی ہے- اسلام کےمطابق، ہجرت سادہ طورپر صرف ترکِ…
…الْمَوْتَ وَالْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ(67:2) یعنی اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سےکون اچھا کام کرتا ہے- اور اللہ بہت زبردست ہے، بخشنے والا ہے-
اصل یہ ہے کہ اللہ نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کو پیدا کرکے سیارہ ارض پر بسایا- انسان کو زمین پر بسانا بطور امتحان (test) تھا، تاکہ امتحانی حالات سے گزار کر احسن العمل افراد کا انتخاب کیا جائے، یعنی ایسے عورت اور مرد کا انتخاب جنھوں نے کامل آزادی کے باوجود اپنے آپ کو پوری طرح حدودِ الہی کا پابند بنایا، جنھوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال (misuse) نہیں کیا- یہی منتخب افراد وہ لوگ ہیں جن کو پوری تاریخ سے لے کر ابدی جنتوں میں بسایا جائے گا- زمین پر یہ آزادانہ ماحول اللہ کو لازمی طور پر مطلوب ہے- آزادی کے اِس نظام کو کوئی بھی شخص یا گروہ اگر منسوخ (abolish) کرے تو اللہ ہر گز اس کو قبول نہیں کرے گا، وہ ایسے افراد یا گروہ کا لازما خاتمہ کردے گا-
بادشاہت کے نظام کا خاتمہ
…وہی ہے جس کو عام طورپر مغربی تہذیب (western civilization) کہاجاتا ہے- اِس تاریخی عمل کے دو بڑے دھارے تھے — ایک، وہ جس کو جدید اصطلاح میں، جمہوریت (democracy) کہا جاسکتا ہے- اور دوسرا، وہ جس کو جدید ٹکنالوجی پر مبنی صنعت کہنا درست ہوگا-
عام طورپر مسلم علما مغربی تہذیب کے بعض ناپسندیدہ پہلو کو دیکھ کر اس کے بارے میں منفی ہوگئے ہیں، مگر یہ ناپسندیدہ پہلو دراصل مغربی تہذیب کا کلچرل پہلو ہے، وہی اصل مغربی تہذیب نہیں ہے- اصل مغربی تہذیب اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہی چیز ہے جس کو ہم نے خدا کے دین کے حق میں تائیدی عنصر کی حیثیت سے بیان کیا ہے-
جمہوریت کا دور
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو نمونہ قائم ہوا، اس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس معاملے میں نصرتِ الہی کے ظہور کے تین مرحلے ہیں- وہ مرحلے حسب ذیل ہیں:
1- نصرت باعتبارِ حفاظت (Nusrat in terms of security)
2- نصرت باعتبارِ پراسس (Nusrat in terms of process)
…کیا جائے- مگر مخالف فریق نے جنگ اور ٹکراؤ کا جو ماحول بنا رکھا تھا، اس کی موجودگی کی بنا پر اِس پیدا شدہ موقع کو استعمال کرنا عملاً ناممکن ہوگیا تھا- اِس لیے اب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت حکمت کے ساتھ ایک نیا منصوبہ بنایا-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت مدینہ میں تھے- اللہ تعالی نے آپ کو خواب دکھایا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ جارہے ہیں- آپ نے یہ خواب اپنے اصحاب کو بتایا- اِس کو سن کر لوگ بہت خوش ہوئے- وہ عمرہ کے لیے مکہ جانے کی تیاری کرنے لگے- اِس کے مطابق، آپ یکم ذی القعدہ 6 ہجری کو عمرہ کے ارادے سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے- اُس وقت تقریباً 15 سو مہاجرین اور انصار آپ کے ساتھ تھے-اہلِ مکہ کو پیغمبر اسلام کے اِس سفر کی اطلاع ہوگئی- انھوںنے طے کیا کہ وہ کسی قیمت پر پیغمبر اسلام کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے- چناں چہ انھوں نے آگے بڑھ کر حدیبیہ کے مقام پر آپ کے قافلے کو روک دیا جو کہ مکہ سے 9 میل کے فاصلے پر واقع تھا-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے حدیبیہ میں پڑاؤ ڈال دیا- اِس کے بعد اہلِ مکہ کے نمائندے وہاں آنے لگے اور تقریباً دو ہفتے تک دونوں فریق کے درمیان گفت وشنید جاری رہی- اِس گفتگو کے دوران پیغمبر اسلام کو یہ موقع ملا کہ…
…اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی زمانے میں مکہ کے لوگ شرک میں مبتلا تھے- مگر جب قرآن کے ذریعے ان کے سامنے اسلام کا پیغامِ توحید بے آمیز طورپر آیا تو ان کی اکثریت نے اسلام کو اپنے دل کی آواز سمجھ کر اس کو جلد یا بدیر قبول کرلیا-
موجودہ زمانے میں بھی اِس کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں- ایک بنگالی ہندو جن کا نام ڈاکٹرنشی کانت چٹوپادھیا (وفات: 1910) تھا، انھوںنے اعلیٰ تعلیم پائی- وہ کئی زبانیں جانتے تھے- انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا- ان کی فطرت نے اسلام کی سچائی کی تصدیق کی- چناں چہ انھوں نے اسلام کو اپنے مذہب کی حیثیت سے قبول کرلیا- اِس کے بعد انھوں نے انگریزی زبان میں کئی کتابیں لکھیں- انھوں نے 1904 میں حیدر آباد (انڈیا) کے ایک جلسے میں اپنے اسلام کا اعلان کیا اور اپنا نام عزیز الدین رکھا-
اِسی طرح مارما ڈیوک پکتھال (Marmaduke Pickthall) ایک انگریز تھے- وہ عیسائی خاندان میں پیدا ہوئے- اسلام کی فطری تعلیمات نے ان کو متاثر کیا- چناں چہ انھوں نے اسلام قبول کرلیا اور اپنا نام محمد پکتھال رکھا- ان کی وفات 1936 میں ہوئی- انھوںنے…
Present Muslims Under Siege.
مسلم علما اور مسلم رہنماؤں کی طرف سے آج کل ہر جگہ اِس طرح کی تحریریں چھپ رہی ہیں اور اِس طرح کی تقریریں کی جارہی ہیں- موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا عام ذہن یہی ہے- وہ سمجھتے ہیں کہ ہر جگہ وہ مخالفین کی طرف سے کی جانے والی دشمنی اور سازش کے درمیان گھرے ہوئے ہیں- ان کے خیال کے مطابق، یہ صورتِ حال اتنی عام ہے کہ وہ خود مسلم ملکوں میں بھی پائی جاتی ہے-
اِس قسم کی منفی سوچ یقینی طورپر ایک غیر اسلامی سوچ ہے، وہ قومی ذہن سے نکلی ہوئی سوچ ہے، حقیقی اسلامی سوچ سے اس کا کوئی تعلق نہیں- جو مسلمان اِس طرح سوچتے ہیں، اُن کو قرآن کی حسب ذیل آیات پر غور کرنا چاہیے: الذین قال لہم الناسُ إن الناس…
…حدیث کی کتابوں میں اِن الفاظ میں آئی ہے: أمرتُ بقریۃ تأکل القری۔ یقولون: یثرب، وہی المدینۃ (صحیح البخاری، رقم الحدیث:1748) یعنی مجھے ایک بستی کا حکم دیاگیا ہے، وہ تمام بستیوں کو کھا جائے گی۔ لوگ اُس کو یثرب کہتے ہیں، لیکن وہ مدینہ ہے۔
یہ حدیث سادہ طورپر مدینہ کی پراسرار فضیلت کے بارے میں نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ اِس حدیث میں تاریخ کا ایک قانون بیان کیاگیا ہے۔ یہ قانون تاریخ میں بار بار واقعہ بنا ہے، پھر یہی قانون، مدینہ (یثرب) کے حق میں واقعہ بنا۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا، جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے اور یہاں اپنے پیغمبرانہ مشن کی منصوبہ بندی کی۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جب تک آپ مکہ میں تھے، آپ کا مشن عملاً ایک مقامی مشن کی حیثیت رکھتا تھا، مگر جب آپ ہجرت کرکے مدینہ آئے تو آپ کا مشن بہت جلد پورے ملک (عرب) میں پھیل گیا۔ اگر چہ پیشگی طور پر کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ مستقبل میں کیا…
…ہوئی۔ اس کی دعوت پر میںنے ترکی کا سفر کیا۔ ایک ہفتہ قیام کے دوران میں نے ترکی کے مختلف تاریخی مقامات دیکھے۔ اُن میں سے ایک حضرت ابو ایوب الانصاری کا مقبرہ ہے جو استانبول میں واقع ہے۔ اِس مقبرے کے ساتھ اب ایک بڑا کامپلیکس بنا دیاگیا ہے۔
3 مئی 2012 کو میں نے یہ مقبرہ دیکھا۔ جس وقت میں مقبرے کے سامنے کھڑا ہوا تھا، میرا دماغ اس کی تاریخ کے بارے میں سوچنے لگا۔ میں نے سوچا کہ ابو ایوب انصاری ایک صحابیٔ رسول تھے۔ وہ مدینہ میں پیدا ہوئے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے مشن میں شریک ہوئے۔ ایک دعوتی سفر کے دوران 52 ہجری میں وہ ترکی آئے۔ اُس وقت اُن کی عمر تقریباً 80 سال ہوچکی تھی۔ یہاں پہنچ کر شدید بیماری کی حالت میں ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کی تدفین قسطنطنیہ میں ہوئی- قسطنطنیہ کا موجودہ نام استانبول ہے۔ ترکی میں متعدد صحابہ کی قبریں ہیں۔ ابو ایوب انصاری کی قبر اُن میں سے ایک ہے۔
میں نے سوچا کہ ابو ایوب انصاری اور دوسرے صحابہ عرب میں پیداہوئے۔ اس کے بعد وہ پرمشقت سفر کرکے ترکی پہنچے اور پھر وہ یہاں کی سرزمین میں مدفون ہوگئے۔ یہ سوچتے ہوئے مجھے تاریخ کا وہ واقعہ یاد آیا جو 632 عیسوی میں عرب کے میدانِ عرفات میں پیش…
…کا ترجمہ یہ ہے: ’’بے شک ہم نے قرآن کو اتارا ہے شبِ قدر میں۔ اور تم کوکیا جانو کہ شبِ قدر کیا ہے۔ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ فرشتے اور روح اس میں اپنے رب کی اجازت سے اترتے ہیں، ہر حکم لے کر۔ وہ رات سرتا سر سلامتی ہے، صبح نکلنے تک‘‘۔
یہ 610 ء کی ایک رات تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے قریب غارِ حرا میں موجود تھے۔ اُس وقت جبریل، قرآن کی پہلی وحی لے کر آپ کے پاس آئے۔ یہ پہلی وحی سورہ العلق(96) کی ابتدائی پانچ آیتیں تھیں۔ قرآن کا نزول خدا کی عظیم رحمت کا نزول تھا، اِس لیے اُس رات کو ایک یادگار رات قرار دیا گیا۔
شبِ قدر کے موقع پر خدا اپنے سالانہ فیصلے فرماتا ہے۔ اِس لیے یہ رات ذکر اور دعا اور عبادت اور تلاوت کی رات قرار دی گئی ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہر عورت اور مرد کو اِس موقع پر زیادہ سے زیادہ خدا کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ دعا…
…کہ وہ اطراف کے علاقوں میں کمیون ازم کو برآمد (export) کرے۔ اِنھیں میں سے ایک نشانہ تاشقند کا ملک تھا جس کا دار السلطنت سمر قند تھا۔ اُس زمانے میں ایک کمیونسٹ رائٹر نے اِس موضوع پر ایک کتاب لکھی تھی، جو ’’صبح سمر قند‘‘ کے نام سے شائع ہوئی:
Joshua Kunitz, Dawn Over Samarkand, 1935, 350 pages, The Van Rees Press, New York
یہ کہنا صحیح ہوگا کہ کشمیر میں اب ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ اِس دور کو درست طور پر ’’صبح کشمیر‘‘ (Dawn Over Kashmir) کہا جاسکتا ہے۔ کشمیر میں یہ دور کسی خارجی سبب سے نہیں، بلکہ خود اہلِ کشمیر کے اندر ابھرنے والی نئی سوچ کے زیر اثر وجود…
…کا پیغمبرانہ ماڈل ہے۔ اہلِ کشمیر اور تمام دنیا کے مسلمانوں کو اِسی پیغمبرانہ ماڈل کی پیروی کرنی ہے۔ یہی واحد ماڈل ہے جس کی پیروی کرکے مسلمان دنیا میں عزت اور کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ اِس کے سوا کوئی دوسرا ماڈل اِس دنیا میں قابلِ عمل نہیں۔
اِس کے مطابق، اہلِ کشمیر اور دنیا کے تمام مسلمانوں کے اوپر فرض ہے کہ وہ نفرت اور تشدد کا طریقہ مکمل طورپر چھوڑدیں۔ وہ مسلح جدوجہد (armed struggle) کے لفظ کو اپنی ڈکشنری سے ہمیشہ کے لیے نکال دیں۔ وہ نفرت پر مبنی لٹریچر کو جلا دیں، وہ ٹکراؤ کی سیاست کو کامل طورپر چھوڑ دیں، وہ اپنے تمام ہتھیاروں کو ہمیشہ کے لیے دریا میں پھینک دیں، وہ دوسرے انسانوں کے حریف (rival) بننے کے بجائے، دوسرے انسانوں کے خیر خواہ (well-wisher) بن جائیں، وہ دل سے انسان دوست کلچر (human-friendly culture) کو اختیار کرلیں، ایسا کرنا اپنی خواہش پر چلنے کے بجائے، خدا کی صراطِ مستقیم پر چلناہوگا، اور جو لوگ اپنی خواہش کا اتباع چھوڑ دیںاور وہ خدا کی صراطِ مستقیم کے پیرو بن جائیں، وہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے دنیا کی سعادت بھی مقدر ہے اور آخرت کی سعادت بھی۔
سنتِ رسول کے خلاف
کشمیر دھماکہ(Kashmir explosion)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 622 عیسوی میں مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ ہجرت سے پہلے آپ نے فرمایا تھا کہ: أمرت بقریۃ تأکل القری، یقولون یثرب، وہی المدینۃ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1748)یعنی مجھ کو ایک ایسی بستی کا حکم دیا گیاہے جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں، اور وہ مدینہ ہے۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہ مدینہ کے لیے اللہ نے مقدر کیا تھا کہ وہ دعوتِ توحید کے لیے فلیش پوائنٹ (flash-point) بنے۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا، مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد توحید کا دین (اسلام) بہت جلد ایک عالمی دین بن گیا۔
…دے دو، جن کا حال یہ ہے کہ جب اُن کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ — ہم اللہ کے ہیں اور ہم اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اوپر اُن کے رب کی عنایتیں اور رحمت ہے، اور یہی لوگ ہیں جو صحیح راہ پر ہیں‘‘۔ (2: 155-157)
موجودہ دنیا کا نظام اِس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں لوگوں کو طرح طرح کے نقصانات کا تجربہ ہوتاہے۔ یہ نقصانات بظاہر کسی انسان کی طرف سے پیش آتے ہیں، اِس لیے عام طورپر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اُسی انسان کو نقصان کا ذمے دار سمجھ کر اس کے خلاف نفرت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ یہ نفرت بڑھتے بڑھتے تشدد تک پہنچ جاتی ہے۔ مگر یہ سوچ سنتِ الٰہی کے خلاف ہے۔ اِسی لیے نفرت اور تشدد کا کوئی مثبت انجام ایسے لوگوں کو نہیں ملتا۔
صحیح یہ ہے کہ جب کوئی نقصان پیش آئے تو اس کا الزام دوسروں کو نہ دیا جائے، بلکہ خود اپنا محاسبہ (introspection) کیا جائے۔ دنیا کے اِن نقصانات کے حوالے سے آخرت کو یاد کیا جائے۔ اِن نقصانات کو خدائی یاد دہانی (divine warning) سمجھا جائے…
…دیتے ہیں اور اِس دن اہتمام کے ساتھ روزہ رکھتے ہیں۔ روایات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ عاشورا کے روزے کی وہ اہمیت نہیں ہے جو عام طورپر مسلمانوں کے درمیان رواجی طورپر پائی جاتی ہے۔ وہ صرف ایک مستحب روزہ ہے، جیسا کہ دوسرے بہت سے مستحبّات۔
روایات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے تو وہاں اہلِ مکہ کے درمیان دورِ جاہلیت سے ایک رواج چلا آرہا تھا، اور وہ عاشورا کا روزہ تھا۔ وہ اِس کو حضرت ابراہیم سے منسوب کئے ہوئے تھے۔ مکی دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اِس رواج کے تحت عاشورا کا روزہ رکھا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ آئے تو یہاں اُس وقت یہود بڑی تعداد میں آباد تھے۔ یہود بھی عاشورا کے دن روزہ رکھتے تھے۔ وہ اس کو حضرت موسیٰ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ یہود کے اِس رواج کے تحت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مدینہ میں عاشورا کا روزہ رکھا۔
اِس سے معلوم ہوا کہ عاشو را کا روزہ دوسرے مذہبی گروہ کے رواج کے تحت تھا، مکہ میں مشرکین کے قدیم رواج کے تحت، اور مدینہ میں یہود کے قدیم رواج کے تحت۔ یہاں یہ سوال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود ایک شریعت لائے تھے، پھر آپ نے دوسرے…
…مکی ماڈل سے مراد کوئی پراسرار چیز نہیں ہے۔ اُس سے مراد عین وہی چیز ہے جس کو دوسرے الفاظ میں دعوت کا پرامن طریقہ (peaceful method of dawah) کہا جاسکتا ہے۔ مسیح کے حوالے سے اِس ماڈل کو بیان کرنا صرف تقریبِ فہم کے لیے ہے، نہ کہ حصر کے لیے۔
اصل یہ ہے کہ قدیم زمانہ مذہبی جبر کا زمانہ تھا۔ اُس زمانے میں مدعو کی طرف سے شدید رد عمل کا اظہار ہوتا تھا، حتی کہ بشرطِ استطاعت، تشدد اور قتال کی نوبت آجاتی تھی۔ ’’مدنی دور‘‘ دراصل اِسی دورِ تشدد کی ایک علامت ہے۔ مدنی دور میں رسول اور اصحابِ رسول نے قتال کے جواب میں قتال کے ذریعہ اپنا دفاع کیا۔ مگر یہ قتال بلاشبہہ ایک زمانی ظاہر ہ تھا، نہ کہ مستقل معنوں میں پیغمبرانہ طریقِ کار کا ظاہرہ۔
اسلامی تاریخ کے بعد کے زمانے میں یہ ہونے والا تھا کہ عالمی حالات میںتبدیلی کے نتیجے میں قتال کا طریقہ ایک متروک طریقہ بن جائے۔ حالات میں ایسا انقلاب آئے کہ پُرامن طریقِ کار پوری طرح نہ صرف ممکن ہوجائے، بلکہ وہ واحد موثر طریقے کی حیثیت…
…یہ ہوا کہ پیغمبر اسلام مقری بن گئے۔ اُس وقت آپ مکہ میں تھے۔ آپ جہاں بھی دیکھتے کہ کچھ لوگ اکھٹا ہیں، آپ وہاں جاتے اور قرآن کے نازل شدہ حصہ کو انھیں پڑھ کر سناتے، چناں چہ روایتوں میں آتا ہے کہ: عرض علیہم الإسلام، وتلا علیہم القرآن۔
پیغمبر اسلام کے اصحاب نے بھی اِسی طریقہ کو اختیار کرلیا، ہر صحابی عملاً مقری بن گیا۔ انٹریکشن (interaction) کے دوران جب بھی کوئی صحابی کچھ لوگوں کو پاتا، وہ مقری بن کر ان کو قرآن کے حصے پڑھ کر سناتا۔ مقری کا لفظ اگر چہ مکی دور میں استعمال نہیں ہوا، یہ لفظ پہلی بار اس وقت استعمال ہوا جب ہجرت سے کچھ پہلے ایک صحابی (مصعب بن عمیر) مکہ سے مدینہ بھیجے گئے، وہ وہاں یہی کرتے تھے کہ جس مقام پر وہ دیکھتے کہ کچھ اہل مدینہ اکھٹا ہیں، وہاں وہ چلے جاتے اور قرآن کا کچھ حصہ انھیں پڑھ کر سناتے۔ یہی ان کا دعوہ ورک تھا ، مدینہ میں ان کو مقری کہا جانے لگا، یعنی داعی۔یہی دعوت کا اصل کام ہے، یعنی قرآن کو پڑھ کر سنانا، رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ میں پرنٹنگ پریس وجود میں نہیں آیا تھا، اُس وقت کسی مومن کے لیے مقری یا داعی بننے کی ایک ہی ممکن صورت تھی، یہ کہ وہ قرآن کو یاد کرے، اور حافظہ کی مدد سے قرآن کے حصے لوگوں کو پڑھ کر سنائے۔
حدیث میں دو گروہوں کا خاص طورپر ذکر کیا گیا ہے، ایک اصحاب رسول اور دوسرے اخوانِ رسول۔ غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ اصحابِ رسول سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر اہلِ ایمان ہیں، انھوںنے رسول اللہ سے براہِ راست قرآن کو سنا،…
…کو 30ستمبر 2010 کو لگا۔ یہ وہ تاریخ ہے جب کہ تقریباً 60 سالہ عدالتی کارروائی کے بعد ہائی کورٹ نے بابری مسجد کے بارے میں اپنا فیصلہ دیا۔ یہ فیصلہ مسلمانوں کے نزدیک، ان کی امیدوں کے مطابق نہیں تھا، اِس لیے دوبارہ وہ ذہنی صدمہ کا شکار ہوگئے۔
اِس طرح کے بحران (crisis) کے معاملے میں اسلام کی رہنمائی کیا ہے۔ کیا اسلام میں صرف نماز، روزہ کے احکام ہیں یا اُس میں بابری مسجد جیسے حادثے کے بارے میں بھی واضح رہنمائی موجود ہے۔ میرے نزدیک، بلا شبہہ یہ رہنمائی اسلام میں موجود ہے۔ ذیل میں مختصر طورپر اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔
1 - بابری مسجد کے معاملے میں اسلامی تعلیمات سے انحراف کا پہلا واقعہ 1528 میں پیش آیا، جب کہ اجودھیا میں یہ مسجد بنائی گئی۔ اُس وقت وہاں ’’رام چبوترہ‘‘ کے نام سے ایک چبوترہ موجود تھا، یہاں رام اور سیتا کی کچھ یادگاریں مثلاً سلوٹا اور…
…طور پر اللہ کی کتاب، اور عملی سطح پر حکمت ( practical wisdom) ۔ رسول اللہ کی کامیابی کا جو خاص راز ہے، وہ ہے پریکٹکل وزڈم ۔پریکٹکل وزڈم کا مطلب عملی پہلوؤں پر غور و فکر کرنا، اور عملی تقاضے جو ہیں، اس کو کنسیڈر (consider)کرکے آگے بڑھنا۔
مثلاً یہ کہ جب پیغمبر اسلام نے 610 عیسوی میں اپنا توحید کا مشن شروع کیا تو بڑے پیمانے پر آپ کی مخالفت کی گئی۔ آپ کو مختلف قسم کے ناموں سے پکارا گیا— مجنون (دیوانہ)،مذمم ، وغیرہ۔ مگر آپ نے ان باتوں کا کوئی منفی اثر نہیں لیا۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں سے واضح طورپر یہ معلوم ہوتاہے کہ رسول اور اصحابِ رسول نے کبھی اُس کے خلاف احتجاج اور شکایت کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔
اس کے برعکس، آپ نے جو کیا، وہ یہ تھا کہ آپ نے مسائل کو اگنور کیا، اور مواقع پر فوکس کیا۔ مسائل کیا تھے، مثلاً مخالفین کی جانب سے آپ کو برے ناموں سے پکارا گیا۔ مگر آپ نے اس کا کوئی منفی نوٹس نہیں لیا۔پیغمبر اسلام کا طریقہ یہ تھا کہ وہ…
…حسنہ‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ اِس کی تشریح میںآپ نے لکھا ہے کہ اِس کا مطلب لازمی طور پر ہر صورتِ حال کے لیے عملی ماڈل کی موجودگی نہیں ہے، بلکہ اِس سے مراد صرف اصولی رہنمائی ہے۔ براہِ کرم، اِس معاملے کی وضاحت فرمائیں (ڈاکٹر عبد الرحمن، نئی دہلی)
1 - آپ نے غالباً اصل مضمون کو زیادہ غور کے ساتھ نہیں پڑھا، ورنہ آپ کو اِس قسم کا اشکال پیش نہ آتا۔ اگر آپ مضمون کو غور سے پڑھیں تو آپ پر کھل جائے گا کہ مسیحی ماڈل کی آمدِ ثانی کا مطلب دوسرے لفظوں میں مکی ماڈل کی آمدِ ثانی ہے۔ مذکورہ مضمون میں جس چیز کو مسیحی ماڈل کہاگیا ہے، وہ خود پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پوری طرح موجود ہے۔ مکی دور میں آپ نے خود اِسی اصول کے مطابق عمل فرمایا ہے۔ مضمون میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ اِس تصور کو زیادہ ممیَّز (distinguished) کرنے کے لیے اس کو مسیحی ماڈل کا نام دے دیا گیا ہے، تاکہ وہ جدید ذہن کے لیے زیادہ قابلِ فہم ہوسکے۔
جیسا کہ معلوم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبرانہ مشن کے دو دور ہیں — مکی دور، اور مدنی دور۔ مکی دور پُرامن دعوت کا دور ہے۔ اِس کے مقابلے میں مدنی دور کو جہاد اور قتال کا دور سمجھا جاتا ہے۔ اور یہ دونوں ادوار بلا شبہہ اسلام میں…
…ایک مادی نوعیت کا فلکیاتی واقعہ ہے، بلکہ وہ خالقِ کائنات کے باشعور تخلیقی نظام کا ایک حصہ ہے۔ وہ خدا کی قدرتِ کاملہ کا ایک مظہر ہے، وہ انسان کے لیے خداوند ِ عالم کا ایک تعارف ہے، گرہن خاموش زبان میں خدا کی حکیمانہ تخلیق کا اعلان کررہا ہے۔
ہجرت کے بعد کا واقعہ ہے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادہ ابراہیم مدینہ میں پیدا ہوئے۔ ڈیڑھ سال کی عمر میں شوال 10 ہجری 632)ء ( میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اتفاق سے اسی دن سور ج گرہن پڑا۔ قدیم توہماتی رواج کے مطابق، مدینہ کے کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ سورج گرہن پیغمبر کے بیٹے کی موت کی وجہ سے ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بہت ناپسند ہوئی۔ آپ نے لوگوں کو جمع کرکے تقریر کی۔ آپ نے فرمایا: إنّ الشمس والقمر لا یخسفان لموت أحد من الناس، ولٰکنہما آیتان من آیات اللہ، فإذا رأیتموہا فصلّوا (صحیح البخاری، کتاب الکسوف)یعنی سورج اورچاند میں کسی انسان کی موت سے گرہن نہیں لگتا، وہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہے۔ جب تم ایسا دیکھو تو نماز پڑھو۔
’’چاند گرہن اور سورج گرہن خدا کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں‘‘— یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ دراصل اس معاملے کے اصل معنوی پہلو کی طرف اشارہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چاند گرہن اور سورج گرہن جس طرح ہوتا ہے، اس پر غور کیا جائے تو وہ آدمی کے لئے…
…اور سنت۔ مگر عملی اعتبار سےیہ مکمل بات نہیں۔ بلاشبہ مسلمان کے لیے قرآن و سنت واحد ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں،لیکن اسی کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ مسلمان وقت کے تقاضے کو سمجھیں، اور وقت کے تقاضوں کا پورا لحاظ رکھتے ہوئے اپنی دینی پلاننگ انجام دیں۔
مثلاً جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو اس سفر کے لیے آپ نے ایک مشرک کو اپنے سفر کا رہنما بنایا۔سیرت کی کتابوں میں اس کا نام عبد اللہ بن اُرَیقِط یا أَرْقَط (سیرت ابن ہشام،جلد1، صفحہ488) بتایا گیا ہے۔ یہ ایک طریقے کی بات تھی، جو قرآن میں پہلے سے لکھا ہوا موجود نہ تھا، وہ حالات کا تقاضا تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حالات کے تقاضے کی رعایت کرنا، کام کی درستگی کا ذریعہ ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس تیسرے عمل ، یعنی حالات کےتقاضے کو سمجھیں، ورنہ وہ اپنی منصوبہ بندی میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔
حالات کے تقاضے کو سمجھنا، اور اس کی رعایت کرنا، منصوبہ بندی کو کامیاب کرتا ہے۔ یہ اس وقت ممکن ہے، جب کہ انسان کھلے ذہن کے ساتھ حالات کو سمجھنے کی کوشش کرے، اور بغیر کسی ریزرویشن کے حالات کے مطابق اپنے کام کو آگے بڑھائے۔ موجودہ زمانے میں…
…— کسی حکم شرعی پر عمل کرنے میں جب حالات کی تبدیلی کی بنا پر فرق واقع ہوجائے، تو اس وقت حکم کو ظاہری صورت کے اعتبار سے دیکھنے کے بجائےحکم کو ری ڈیفائن کرنا تاکہ اسپرٹ پوری طرح باقی رہے،لیکن فارم کو اس طرح بدلا جائے کہ وہ مطابقِ حال ہو جائے۔
اس کی ایک رہنما مثال پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور کا ایک واقعہ ہے۔ آپ نےایک بار مدینہ سے صحابہ کی ایک جماعت کو بنو قریظہ کی طرف بھیجا۔ بنو قریظہ ایک یہودی قبیلہ (Jewish tribe)تھا۔یہ قبیلہ مدینہ سے جنوب کی جانب آباد تھا۔ اس واقعے کا ذکر روایتوں میں آیا ہے، اس کا متعلق جز یہ ہے: لما انصرف المشرکون عَن الخندق وَرَجَعَ رَسُول اللَّہِ - صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلَ بیت عَائِشَة أتاہ جبریل فوقف عند موضع الجنائز فَقَالَ:عذیرک مِن محارب! فخرج إِلَیْہِ رَسُول اللَّہِ - صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ -[فزعا فَقَالَ:إن اللہ یأمرک أن تسیر إلى بنی قریظة فإنی عامد إلیہم فمزلزل بہم حصونہم. فَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ - صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - علیا. رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ. فدفع إِلَیْہِ لواءہ وبعث بلالا] فنادى فِی النَّاسُ إِنَّ رَسُول اللَّہِ - صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - یأمرکم ألا تصلوا العصر إلا فِی بنی قریظة (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، 2/57)۔ بعض روایتوں میں یہ اضافہ ہے : فَأَدْرَکَ بَعْضَہُمُ العَصْرُ فِی الطَّرِیقِ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ: لاَ نُصَلِّی حَتَّى نَأْتِیَہَا، وَقَالَ بَعْضُہُمْ: بَلْ نُصَلِّی، لَمْ یُرَدْ مِنَّا ذَلِکَ، فَذُکِرَ لِلنَّبِیِّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ یُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْہُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 946)۔ان میں جن لوگوں نے نماز پڑھی ان لوگوں نے یہ کہا :لم یرد رسول اللہ ترک الصلاة، إنما أراد تعجیل السیر (الفصول فی السیرة، أبو الفداء ابن کثیر ، 1/171)۔
ان روایتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے صحابہ کی ایک جماعت کو غزوۂ خندق کے بعد بنوقریظہ کی طرف بھیجا، اور بھیجتے ہوئے آپ نے تاکید کے ساتھ یہ کہا کہ تم لوگ عصر کی نماز بنو قریظہ کی بستی میں پہنچ کر ہی ادا کرنا۔ مگر بنو قریظہ کی بستی تک پہنچنے…
…کی جنم بھومی فرض کررکھا تھا، اس لیے ناقابلِ فہم ہوگیا کہ جس زمین پر خدا پیدا ہوا ہو، وہ زمین نظامِ شمسی کا مرکز نہ ہو، بلکہ اس کی حیثیت محض ایک تابع کی قرار پائے۔ اپنے مشرکانہ عقیدہ کو بچانے کے لیے انھوں نے سائنسی حقیقت کا انکار کردیا۔
دوسری بات یہ کہ پچھلے تمام پیغمبروںکامشن صرف اعلان کی حد تک جاسکا، وہ عملی انقلاب تک نہیں پہنچا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھی انسانی تاریخ کے پہلے گروہ ہیں جنھوں نے توحید کو ایک زندہ عمل بنایا۔ انھوں نے اولاً عرب میں شرک (مظاہر فطرت کی پرستش) کا مکمل خاتمہ کیا، اور توحید کو عملی طورپر انسانی زندگی میں رائج کیا۔ اس کے بعد وہ آگے بڑھے، اور قدیم زمانہ کی تقریباً تمام آباد دنیا میں شرک کو مغلوب کردیا۔ انھوں نے ایشیا اور افریقہ کے تمام بُت خانوں کو غیر آباد کر دیا، اور توحید کو ایک عالمی انقلاب کی حیثیت دے دی۔
اہلِ اسلام کے ذریعہ توحید کا جو عالمی انقلاب آیا، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ توہم پرستی کا دور ختم ہو۔ اب مظاہر فطرت کو پرستش کے مقام سے ہٹا دیاگیا۔ خدائے واحدانسان کا معبود قرار پایا۔ اس کے علاوہ جو تمام چیزیں ہیں، وہ سب صرف مخلوق بن…
…لیے قرآن میں اس آیت کو عَلَیْہِ لکھے یا اس کو عَلَیْہِ پڑھے۔ سیکڑوں سال سے یہ آیت اسی طرح لکھی اور پڑھی جارہی ہے، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پڑھ کر سنایا تھا۔کیسا عجیب یہ اہتمام ہے، جو قرآن کی حفاظت کے لیے کیا گیا ہے۔
اجمیر کے قریب ایک پہاڑی علاقہ ہے،جس کو میرات کہاجاتاہے۔ یہاں مسلمان معقول تعدادمیں آباد ہیں۔ مگر سب ان پڑھ اور پس ماندہ ہیں۔ وہ دین اور تہذیب دونوں سے دور ہیں۔
تقریباً 15 سال پہلے کی بات ہے مجھے اس علاقہ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ میرے ساتھ دو مولوی صاحبان اور تھے۔ ہم لوگ وہاں پہنچے تو مغرب کا وقت ہوچکا تھا۔ مغرب کی نماز ہم نے اپنے میزبان کے گھر کی چھت پر پڑھی۔
…طور پر اللہ کی کتاب، اور عملی سطح پر حکمت ( practical wisdom) ۔ رسول اللہ کی کامیابی کا جو خاص راز ہے، وہ ہے پریکٹکل وزڈم ۔پریکٹکل وزڈم کا مطلب عملی پہلوؤں پر غور و فکر کرنا، اور عملی تقاضے جو ہیں، اس کو کنسیڈر (consider)کرکے آگے بڑھنا۔
مثلاً یہ کہ جب پیغمبر اسلام نے 610 عیسوی میں اپنا توحید کا مشن شروع کیا تو بڑے پیمانے پر آپ کی مخالفت کی گئی۔ آپ کو مختلف قسم کے ناموں سے پکارا گیا— مجنون (دیوانہ)،مذمم ، وغیرہ۔ مگر آپ نے ان باتوں کا کوئی منفی اثر نہیں لیا۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں سے واضح طورپر یہ معلوم ہوتاہے کہ رسول اور اصحابِ رسول نے کبھی اُس کے خلاف احتجاج اور شکایت کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔
اس کے برعکس، آپ نے جو کیا، وہ یہ تھا کہ آپ نے مسائل کو اگنور کیا، اور مواقع پر فوکس کیا۔ مسائل کیا تھے، مثلاً مخالفین کی جانب سے آپ کو برے ناموں سے پکارا گیا۔ مگر آپ نے اس کا کوئی منفی نوٹس نہیں لیا۔پیغمبر اسلام کا طریقہ یہ تھا کہ وہ…
…باری کو یہودیوں کے خلاف جائز قرار دے دیا گیا۔ مگر یہودکے خلاف تمام سرگرمیاں کاؤنٹر پروڈکٹیو(counter productive)ثابت ہوئیں۔ اِن سرگرمیوں کا نقصان براہِ راست طورپر عربوں کے حصے میں آیا، اور بالواسطہ طورپر تمام دنیا کے مسلمانوں کے حصے میں۔
عرب اور غیر عرب مسلمانوں کی یہ مخالفِ یہود پالیسی واضح طورپر اسلامی تعلیمات کے خلاف تھی۔ بال فور ڈکلریشن کے تحت، فلسطین کی تقسیم، یہودی تارکینِ وطن (Jews in diaspora) کے لیے اپنے وطن کی طرف واپسی کے ہم معنیٰ تھی۔ یہ بات واضح طورپر قرآن کی تعلیم کے عین مطابق تھی۔ قرآن کی سورہ نمبر 5 میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ کے زمانے میں یہود سے کہاگیا تھا: یا قوم ادخلوا الأرض المقدسۃ التی کتب اللہ لکم (المائدۃ: 21 ) یعنی تم ارضِ مقدس میں داخل ہو جاؤ جس کو خدا نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے:
O my people, enter the holy land which God has assigned to you (5:21)
…واپسی‘‘ کا ذکر کیا تھا۔ اِس سے آپ کی مراد کیا ہے۔ دوسرے یہ کہ آپ نے اپنی تحریروں میں کئی مقامات پر اعلیٰ بصیرت اور پریکٹل وزڈم (practical wisdom) کی باتیں لکھی ہیں۔ برائے کرم مثال کے ذریعے اس کو واضح فرمائیں (عبد الباسط عمری، دوحہ، قطر)
1 - قیامت سے پہلے مسیح کی آمد ثانی کے بارے میں جو روایتیں آئی ہیں، اُس سے مراد غالباً مسیحی ماڈل کی آمد ثانی ہے، نہ کہ جسمانی معنوں میں پیغمبر مسیح کی آمد ثانی۔ یہ مسیحی ماڈل قرآن میں بھی مذکور ہے اور انجیل میں بھی اس کا ذکر آیا ہے۔ یہ مسیحی ماڈل، قرآن اور انجیل دونوں کی تصریحات کے مطابق، یہ ہے کہ یک طرفہ صبر کے ذریعہ غیر سیاسی انداز میں پرامن طورپر دعوت الی اللہ کا کام کرنا۔ یہی مسیحی ماڈل ہے اور اِس کو تاریخ میں دوبارہ واپس آنا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسیحی ماڈل وہی ہے جس کو مکی ماڈل کہاجاتا ہے۔ مسیحی ماڈل کی واپسی دراصل خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی ماڈل کی واپسی ہے۔ مگر بعد کے زمانے میں پیغمبر اسلام کے حوالے سے یہ ماڈل مسلمانوں کے لیے قابلِ دریافت نہیں رہے…
…کی جنم بھومی فرض کررکھا تھا، اس لیے ناقابلِ فہم ہوگیا کہ جس زمین پر خدا پیدا ہوا ہو، وہ زمین نظامِ شمسی کا مرکز نہ ہو، بلکہ اس کی حیثیت محض ایک تابع کی قرار پائے۔ اپنے مشرکانہ عقیدہ کو بچانے کے لیے انھوں نے سائنسی حقیقت کا انکار کردیا۔
دوسری بات یہ کہ پچھلے تمام پیغمبروںکامشن صرف اعلان کی حد تک جاسکا، وہ عملی انقلاب تک نہیں پہنچا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھی انسانی تاریخ کے پہلے گروہ ہیں جنھوں نے توحید کو ایک زندہ عمل بنایا۔ انھوں نے اولاً عرب میں شرک (مظاہر فطرت کی پرستش) کا مکمل خاتمہ کیا، اور توحید کو عملی طورپر انسانی زندگی میں رائج کیا۔ اس کے بعد وہ آگے بڑھے، اور قدیم زمانہ کی تقریباً تمام آباد دنیا میں شرک کو مغلوب کردیا۔ انھوں نے ایشیا اور افریقہ کے تمام بُت خانوں کو غیر آباد کر دیا، اور توحید کو ایک عالمی انقلاب کی حیثیت دے دی۔
اہلِ اسلام کے ذریعہ توحید کا جو عالمی انقلاب آیا، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ توہم پرستی کا دور ختم ہو۔ اب مظاہر فطرت کو پرستش کے مقام سے ہٹا دیاگیا۔ خدائے واحدانسان کا معبود قرار پایا۔ اس کے علاوہ جو تمام چیزیں ہیں، وہ سب صرف مخلوق بن…
…لیے قرآن میں اس آیت کو عَلَیْہِ لکھے یا اس کو عَلَیْہِ پڑھے۔ سیکڑوں سال سے یہ آیت اسی طرح لکھی اور پڑھی جارہی ہے، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پڑھ کر سنایا تھا۔کیسا عجیب یہ اہتمام ہے، جو قرآن کی حفاظت کے لیے کیا گیا ہے۔
اجمیر کے قریب ایک پہاڑی علاقہ ہے،جس کو میرات کہاجاتاہے۔ یہاں مسلمان معقول تعدادمیں آباد ہیں۔ مگر سب ان پڑھ اور پس ماندہ ہیں۔ وہ دین اور تہذیب دونوں سے دور ہیں۔
تقریباً 15 سال پہلے کی بات ہے مجھے اس علاقہ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ میرے ساتھ دو مولوی صاحبان اور تھے۔ ہم لوگ وہاں پہنچے تو مغرب کا وقت ہوچکا تھا۔ مغرب کی نماز ہم نے اپنے میزبان کے گھر کی چھت پر پڑھی۔
…) اقرأکے لفظی معنٰی ہیں— پڑھو، لیکن اِس میں پڑھاؤ کا مفہوم بھی شامل ہے۔ کیوں کہ جب آدمی سچائی کو دریافت کرتا ہے تو فطری طورپر وہ چاہتا ہے کہ اِس سچائی سے وہ دوسروں کو بھی آگاہ کرے۔ اِس اعتبار سے، اِس آیت کا مطلب ہے— پڑھو اور پڑھاؤ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی طریقہ تھا۔ آپ، لوگوں کو اسلام کی دعوت پیش کرتے اور ان کے سامنے قرآن پڑھ کر سناتے (فعرضَ علیہم الإسلام، وقرأ علیہم القرآن)۔ گویا کہ آپ قرآن کے قاری بھی تھے اور اُس کے مقری بھی۔ ہجرت سے پہلے، صحابی ٔ رسول مصعب بن زبیر (وفات: 690 ء) دعوتی مشن کے تحت، مدینہ گئے۔ وہاں اُن کا طریقہ یہ تھا کہ وہ قرآن کو یاد رکھتے اور اُس کو پڑھ کر لوگوں کو سناتے۔ چناںچہ وہ مقری کہے جانے لگے (وکان یُدعیٰ المُقرئ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب بیک وقت قاری بھی تھے اور مقری بھی۔
اب پرنٹنگ پریس کا زمانہ آگیا ہے۔ اب یہی کام ہم کو مطبوعہ دعوتی لٹریچر کے ذریعہ کرنا ہے، ایسا دعوتی لٹریچر جو وقت کی زبان میں ہو، جو جدید ذہن کو ایڈریس کرے۔ اِس قسم کا لٹریچر، بروشر اور پمفلٹ، موجودہ زمانے میں دعوت کا سب سے زیادہ موثر…
…میں صرف اقدام کی اہمیت نہیںہوتی، بلکہ رُکنا بھی زندگی میںایک بے حد اہم پالیسی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اقدام اگر خارجی توسیع کی علامت ہے تو رُکنا داخلی استحکام کی علامت۔ اور زندگی کی حقیقی تعمیر کے لیے بلا شبہہ دونوں ہی یکساں طورپر ضروری ہیں۔
مشہور صحابی خالد بن الولید کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے سیف اللہ کا لقب عطا کیا تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پیغمبر اسلام نے خالد بن الولید کو یہ لقب کسی اقدام یا جنگی پیش قدمی پر نہیں دیا تھا، بلکہ آپ نے سیف اللہ کا لقب اُنھیں اُس وقت دیا تھا جب کہ غزوۂ مُوتہ (8 ہجری) کے موقع پر انھوں نے یک طرفہ طورپر اپنی تلوار میان میں رکھ لی تھی اور تمام صحابہ کو جنگ کے میدان سے ہٹا کر مدینہ واپس آگئے تھے۔
روزہ اس بات کا سبق ہے کہ تم چند دنوں کے لیے کھانا چھوڑ دو، تاکہ تم بقیہ دنوں میں زیادہ اچھے کھانے والے بنو۔ تم چند دنوں کے لیے اپنی سرگرمیوں کو داخلی تعمیر کے محاذ پر لگا دو، تاکہ اس کے بعد تم زیادہ بہتر طورپر خارجی سرگرمی کے قابل بن جاؤ۔…
…کرتے ہیں، وہ اِن دنوں میں دوسرے تعلقات کو منقطع کرکے مسجد میں بیٹھ جاتے ہیں۔ناگزیر انسانی ضرورت کے سوا، وہ کسی اور مقصد سے باہر نہیں نکلتے۔ مسجد میں خلوت نشیں ہوکر ، وہ اپنا زیادہ وقت عبادت اور ذکر اور دعا اور تلاوتِ قرآن میں گزارتے ہیں۔
اعتکاف کا لفظی مطلب — خلوت نشینی (seclusion) ہے۔ یہ اعتکاف کس لیے کیا جاتا ہے۔ حدیث میں اعتکاف کرنے والے کے بارے میں آیا ہے کہ: ہو یعتکف الذُّنوب ( مشکاۃ المصابیح ، رقم : 2108 ) یعنی وہ گناہوں سے اعتکاف کرتا ہے۔ گناہوں سے اعتکاف کرنے کا مطلب کیا ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے محدث ناصر الدین الالبانی (وفات : 1999 ) نے لکھا ہے کہ : أی یحتبس عن الذّنُوب (مشکاۃ، جلد 1 ، صفحہ 650 ) یعنی وہ اپنے آپ کو گناہوں سے روک لیتا ہے۔ اعتکاف کا مطلب سادہ طور پر صرف گناہ سے رکنا نہیںہے، بلکہ روزے کی اسپرٹ کو بھر پور طورپر اپنانے کے لیے اپنے آپ کو خلوت نشیں بنا لینا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اعتکاف کا مطلب ہے— اپنے آپ کو مواقعِ گناہ سے ہٹا کر پوری طرح عملِ خیر میں مشغول کرلینا۔
اِس پر غور کرتے ہوئے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اعتکاف کا اصل مقصد اپنے آپ کو ڈسٹریکشن (distraction) سے بچانا ہے۔ گناہ خود بھی ایک قسم کا ڈسٹریکشن ہے۔ فطرت کی صراطِ مستقیم سے ہٹنا، آدمی کو گناہ کی طرف لے جاتا ہے۔ اعتکاف ایک خصوصی تدبیر ہے جس…
…حکمتوں میںسے ایک حکمت یہ ہے کہ وسیط یا درمیانی شخص (middleman) کی اہمیت کوسمجھا جائے اور اس کو تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہ ایک عالمی اصول ہے۔ ہرزمانے میں اِس کی مثالیں پائی جاتی ہیں، قدیم تاریخ میں بھی اور جدید تاریخ میں بھی۔
1 - قرآن میں اِس معاملے کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ایک مثال حضرت یوسف علیہ السلام کی ہے۔ حضرت یوسف اٹھارھویں صدی قبل مسیح میںفلسطین میں پیداہوئے، پھر وہ مخصوص اسباب کے تحت مصر پہنچے۔ اُس وقت مصر میںایک بادشاہ کی حکومت تھی۔ اس کا نام یہ تھا— اپوفِس (Apophis)۔ حضرت یوسف کو یہ موقع ملا کہ وہ مصر میں وہ پوزیشن حاصل کرلیں جس کوقرآن میں خزائنِ ارض (یوسف: 55) پر اقتدار کہاگیا ہے۔
حضرت یوسف کو یہ غیر متوقع کامیابی کیسے ملی۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ بعض اسباب کے تحت وہاں ایک شخص سامنے آیا جس نے اُن کے اور بادشاہ کے بیچ، درمیانی شخص (intermediary) کارول ادا کیا۔ اِس طرح حضرت یوسف جیل سے نکل کر اقتدار کے منصب پر پہنچ…
…لیکن مخالفِ اسلام گروہ کو ابھی تک اِس کا علم نہ تھا۔ اِس بنا پر ان کے قبیلے کے اندر، یا مخالفِ اسلام گروہ کے اندر ان کو بدستور معتمد علیہ (trustworthy) شخص کی حیثیت حاصل تھی۔ اِس بنا پر وہ اُس وقت دو طرفہ رول ادا کرنے کی پوزیشن میںتھے۔
محاصرے کے دوران نُعیم بن مسعود الاشجعی رات کے وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اپنے بارے میں بتایا کہ میں دل سے اسلام کو مان چکا ہوں، لیکن ابھی دوسرے لوگ اِس سے واقف نہیں۔ اِس بنا پر ابھی تک مجھ کو اُن کا اعتماد حاصل ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں مخالفانہ محاصرے کو ختم کرنے کے سلسلے میں اہم رول ادا کرسکتا ہوں۔ پیغمبر اسلام نے اُس وقت ایسا نہیں کیا کہ وہ نعیم بن مسعود پر شک کریں اور ان کو دشمنوں کا ایجنٹ (agent) بتا کر اپنے اصحاب سے کہیں کہ یہ شخص خطرناک آدمی ہے، تم لوگ اِس سے بچو۔ اِس کے برعکس، پیغمبر اسلام نے اُن کی قدر دانی کی۔ آپ نے فرمایا کہ تم ضرور اپنے منصوبے کے مطابق کوشش کرو۔ کیوں کہ: إنما أنت فینا رجلٌ واحد (سیرت ابنِ ہشام، جلد 3 ، صفحہ 247) یعنی تم تو ہمارے درمیان ایک ہی ایسے آدمی ہو:
You are only one man among us. So go and awake distrust among the enemy to draw them off us, if you can, war is deceit.
…ثابت کرنے کے لیے کہا کہ خدا، سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تم اس کو مغرب سے نکال دو (البقرۃ: 258 )۔ سورج کا مشرق سے نکلنا اور مغرب میں ڈوبنا مسلمہ طورپر ایک برتر طاقت کا عمل تھا، اِس لیے مذکورہ بادشاہ اس کے مقابلے میں مبہوت ہو کر رہ گیا۔
جدالِ غیر احسن یہ ہے کہ آپ فریقِ ثانی کے خلاف کوئی مسلّمہ دلیل نہ دیں، اِس کے برعکس، آپ یہ کریں کہ اُس کے خلاف صرف منفی ریمارک(negative remark) دیں، لفظی طورپر اس کی مذمت کریں اور بیانیہ انداز میں اس کو غلط بتائیں۔ یہ جدالِ غیر احسن ہے، اِس سے کبھی مطلوب نتیجہ برآمد نہیںہوتا۔ اِسی قسم کے جدالِ غیر احسن سے مسلمانوں کو روکنے کے لیے قرآن میںیہ حکم دیاگیا کہ: اور اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں، اُن کو تم بُرا نہ کہو، ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اللہ کو بُرا کہنے لگیں گے (الأنعام: 109 )۔
قرآن، توحید کی کتاب ہے۔سارا قرآن براہِ رست یا بالواسطہ طورپر، توحید کا بیان ہے، مگر یہ تمام بیانات دلائل کی زبان میں ہیں۔ کیوں کہ دلیل کی زبان ہی میں کوئی قول، قولِ بلیغ(النساء:63 ) بنتا ہے۔ مگر قرآن میںاس کو پسند نہیںکیاگیا کہ کوئی شخص…
…نفسہ فی طاعۃ اللّٰہ (مسند احمد، جلد 6، صفحہ 22) یعنی مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کے خلاف خدا کی اطاعت کے لیے جہاد کرے۔ اِس حدیثِ رسول میں جس چیز کو جہاد کہاگیا ہے، وہ بھی واضح طورپر ایک پُرامن عمل ہے، اُس کا جنگ اور قتال سے کوئی تعلق نہیں۔
تاہم، توسیعی معنوں میں کبھی جہاد کا لفظ قتال کے لیے بھی بولا جاتا ہے، یعنی حربی جہاد کے لیے۔ موجودہ زمانے میں جہاد کا لفظ عام طورپر مسلّح جہاد کے لیے استعمال ہونے لگا ہے۔ آج کل مختلف ملکوں میں مسلمان اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف مسلّح کارروائیوں میں مشغول ہیں اور اُن کو وہ جہاد فی سبیل اللہ کہتے ہیں، مجھے اِس سے اتفاق نہیں۔ تاہم، زیر نظر مضمون میں ہم عمومی استعمال کے لحاظ سے جہاد کو مسلّح جہاد کے معنیٰ میں لیتے ہوئے اِس موضوع کا ایک تاریخی جائزہ لیں گے۔
1 - پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنے مشن کا آغاز کیا۔ اُس وقت مکہ پر مشرک لوگوں کا اقتدار قائم تھا۔ اُس وقت مکہ میںآپ کی حیثیت داعی کی تھی اور بقیہ لوگوں کی حیثیت مدعو کی۔ مکہ کے مشرک سردار آپ کے نظریۂ…
…یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کا ہوجائے۔اِس آیت میں ’قاتلوہم‘ سے مراد عوام سے جنگ نہیں، بلکہ سردارانِ وقت سے جنگ ہے۔ جنگ ہمیشہ اقتدار کے مالکوں سے کی جاتی ہے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: قاتلوا أئمۃَ الکفر (التوبۃ: 12)
اِس آیت میں ’فتنۃ‘ کالفظ استعمال ہوا ہے۔ مفسرینِ قرآن نے عام طورپر یہ لکھا ہے کہ فتنہ سے مراد کفر اور شرک ہے۔ مگر اس کا مطلب مجرد شرک یا اعتقادی شرک نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ شرک یا کفر، دوسرے امتحانی پرچوں کی طرح امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ امتحان کے تمام پرچے قیامت تک باقی رہیں گے۔ اُن میںسے کسی امتحانی پرچے کو قیامت سے پہلے منسوخ یا معدوم نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس آیت میں فتنہ سے مراد شرکِ جارح، یا کفرِ جارح ہے، جیسا کہ عبد اللہ بن عباس کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔
شرکِ جارح کیا چیز ہے، اِس سے مراد وہی چیز ہے جس کو آج کل کی اصطلاح میں مذہبی تعذیب کہاجاتا ہے۔اس کا ایک حوالہ قرآن کی سورہ نمبر 85 میں ملتا ہے۔ اس سورہ میں ارشاد ہوا ہے— ہلاک ہوئے خندق والے جس میں بھڑکتے ہوئے ایندھن کی آگ تھی۔ جب کہ وہ…
…اصول پرستی کی باتیں کرتے ہیں، اور دوسری طرف مفاد پرستی کی۔ ایک طرف وہ آفاقیت کا قصیدہ پڑھتے ہیں، اور دوسری طرف قوم پرستی کا ترانہ گاتے ہیں۔ وہ ایک طرف آخرت کا نام لیتے ہیں اور دوسری طرف دنیوی جھگڑوں میں بھی لوگوں کے ساتھ شریک رہتے ہیں۔
پیغمبر کی دعوت کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ہر ایک اپنی نفی محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں ’’مشرک‘‘ لیڈر کو ماننے میں کسی کو اپنی نفی نظر نہیں آتی۔ اس میں کسی کو اپنی جگہ سے ہٹنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ ہر آدمی جہاں ہے، وہیں وہ اپنے مفروضہ حق کو بھی پالیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرک کے ساتھ بھیڑ جمع ہوجاتی ہے، اور موحد اس دنیا میں اکیلا رہ جاتاہے۔
ایک شریر آدمی نے موقع پاکر ایک بزرگ کے مکان پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد اس نے مزید یہ کیا کہ بزرگ کے اوپر جھوٹے مقدمے قائم کردیے تاکہ وہ دباؤ میں آکر اس کے ناجائز قبضہ کو مان لیں۔ عدالت کی پیشیاں ہونے لگیں، اور بزرگ کی توجہ اور پیسہ غیر…
…لیے قرآن میں اس آیت کو عَلَیْہِ لکھے یا اس کو عَلَیْہِ پڑھے۔ سیکڑوں سال سے یہ آیت اسی طرح لکھی اور پڑھی جارہی ہے، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پڑھ کر سنایا تھا۔کیسا عجیب یہ اہتمام ہے، جو قرآن کی حفاظت کے لیے کیا گیا ہے۔
اجمیر کے قریب ایک پہاڑی علاقہ ہے،جس کو میرات کہاجاتاہے۔ یہاں مسلمان معقول تعدادمیں آباد ہیں۔ مگر سب ان پڑھ اور پس ماندہ ہیں۔ وہ دین اور تہذیب دونوں سے دور ہیں۔
تقریباً 15 سال پہلے کی بات ہے مجھے اس علاقہ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ میرے ساتھ دو مولوی صاحبان اور تھے۔ ہم لوگ وہاں پہنچے تو مغرب کا وقت ہوچکا تھا۔ مغرب کی نماز ہم نے اپنے میزبان کے گھر کی چھت پر پڑھی۔
…رہتی ہیں، اِس میںحالات یا زمانے کے تغیر سے کوئی فرق نہیں ہوتا۔ دین کی یہ ابدی تعلیمات تمام پیغمبروں کو یکساں طورپر دی گئی ہیں۔ اِن ابدی تعلیمات کے اعتبار سے ایک اور دوسرے کے درمیان کوئی فرق نہیں (لانفرّق بین أحدٍ من رّسُلہ، البقرۃ: 285 )
دوسری طرف، قرآن کی سورہ نمبر پانچ میں بتایاگیا ہے کہ ہر پیغمبر کو خدا نے الگ الگ منہاج دیے : لکلٍّ جعلنا منکم شِرعۃً ومنہاجاً (المائدۃ:48 )۔ اِس سے معلوم ہوا کہ دینِ خداوندی کے دو حصے ہیں۔ ایک، الدین اور دوسرا، منہاج۔ الدین ابدی طور پر ایک ہی رہتا ہے، لیکن منہاج یا طریقِ کار (method) کا تعلق وقت کے حالات سے ہوتا ہے، اِس لیے حالات کی تبدیلی کے تحت اُس میں فرق ہوتا رہتا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سلسلۂ نبوت کی آخری کڑی تھے (الأحزاب: 40 ) 570 عیسوی میں آپ مکہ میں پیداہوئے۔ 610 عیسوی میں آپ پرپہلی وحی اُتری۔ 632 عیسوی میں مدینہ میںآپ کی وفات ہوئی۔ آپ خدا کے آخری نبی تھے۔ آپ پر اُترنے والی…
…کہ کیا یہ جگہ جہاں آپ نے پڑاؤ ڈالا ہے، یہ خدا کی وحی کی بنیاد پر ہے، آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ انھوںنے کہا کہ پھر تو یہ کوئی پڑاؤ ڈالنے کی جگہ نہیں (فإنّ ہٰذا لیس بمنزل)۔ اِس کے بعد آپ نے اُن کے مشورے کے مطابق، پڑاؤ کی جگہ کو بدل دیا۔
اِسی طرح کی ایک مثال وہ ہے جو غزوۂ اَحزاب (5 ہجری) کے موقع پر پیش آئی۔ اُس وقت آپ کے مخالفین ایک بڑی فوج لے کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ اُس وقت اہلِ ایمان مقابلے کی پوزیشن میں نہ تھے، اِس لیے آپ نے چاہا کہ کسی تدبیر کے تحت جنگ کو ٹال دیا جائے۔ آپ نے لوگوں سے مشورہ کیا۔ اُس وقت سلمان فارسی کھڑے ہوئے۔ انھوںنے کہا کہ ایران کے بادشاہ جب جنگ سے اعراض کرنا چاہتے ہیں تو وہ اپنے اور مخالف فوج کے درمیان خندق (trench) کھود دیتے ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس رائے کو پسند کیا اور ایرانی طریقے کے مطابق، مدینہ کے باہر ایک خندق کھوددی۔ اِس لیے اِس غزوے کو ’غزوۂ خندق‘ کہاجاتا ہے۔
اِسی طرح کا ایک معاملہ وہ ہے جو کھجور کے درختوں کی زرخیزی (pollination) سے تعلق رکھتا ہے۔ سیرت کی کتابوں میں اِس کو ’تأبیرِ نخل‘ کا نام دیاگیا ہے۔ صحیح مسلم کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کرکے مدینہ آئے تو وہاں کے…
…تھے۔ لیکن ہجرت کے آٹھویں سال جب مکہ فتح ہوا تو مکہ کے تمام لوگ اسلام میں داخل ہوگیے۔ اُس وقت صورتِ حال مکمل طور پر بدل گئی۔ چناں چہ آپ نے تمام بتوں کو کعبہ سے نکال دیا۔ یہ دو مختلف طریقے آپ نے صورتِ حال کے فرق کی بنا پر اختیار فرمائے۔
ایک اور مثال یہ ہے کہ مدینہ میںآپ نے ایک خطاب میں فرمایا کہ: نحن أمّۃٌ أمّیَّۃٌ، لا نکتب ولا نَحسِب (صحیح البخاری، مسلم، مسند احمد) یعنی ہم اُمّی لوگ ہیں۔ ہم نہ لکھتے ہیں اور نہ ہم حساب کرتے ہیں۔ یہ ابتدائی زمانے کی بات تھی۔ بعد کو ایرانی ایمپائر اور رومی ایمپائر اسلام کے علاقے میں داخل ہوئے تو صورتِ حال بدل گئی۔ اب بڑھی ہوئی ضرورتوں کی بنا پر سرکاری معاملات کا حساب رکھنا ضروری ہوگیا۔چناں چہ خلیفۂ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسلامی سلطنت کے دفتروں کو ایرانی ایمپائر اور رومی ایمپائر کے نمونے پر قائم کیا۔ انھوںنے ایرانیوں اور رومیوں کے ماہر افرادکو اسلامی دفاتر میں رکھا، جو ایرانی اور رومی نقشے پر سرکاری معاملات کا حساب درج کرتے تھے۔
طریقِ کار کے معاملے میں یہی عمل آپ کے بعد بھی جاری رہا۔ بنو اُمیّہ کے زمانے میں بحری بیڑا تیار کیا گیا، حالاں کہ اِس سے پہلے اسلام میں ایسا نہیں کیاگیا تھا۔ بنو عبّاس کے زمانے میں بغداد میں رسدگاہ (observatory) بنائی گئی، جو اسکندریہ کے…
…لفظوں میں یہ کہ میں نے تشدد کا طریقہ چھوڑ کر امن اور محبت کا طریقہ اختیار کرلیا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کشمیر نہ صرف ایک پُر امن علاقہ بن گیا، بلکہ وہاں اسلام اتنی تیزی سے پھیلا کہ کشمیر کی بہت بڑی اکثریت اسلام کے دائرے میں داخل ہوگئی۔
لیکن اکتوبر 1989 سے کشمیر میں ایسے لوگ اُبھرے جو برعکس اصول پر یقین رکھتے تھے۔ انھوں نے برعکس طور پر یہ کیا کہ اپنی ’’درانتی‘‘ کو توڑ کر اُس سے ’’تلوار‘‘ بنالی۔ انھوں نے جہاد کے نام پر پوری ریاست میں نفرت اور تشدد پھیلادیا۔ جس کا نتیجہ اب بھی کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔
اِس خود ساختہ جہاد کانتیجہ ناقابلِ بیان نقصانات کی صورت میں نکلا۔ کشمیر میں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان خوش گوار تعلقات ختم ہوگیے۔ سیاحت کی انڈسٹری پر تباہ کن اثر پڑا۔ اقتصادی ترقی رک گئی۔ دعوت کا عمل ختم ہوگیا۔ لوگوں کے اندرمایوسی اور…
Aysegul Turan
ان لوگوں نے راقم الحروف سے اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں گفتگو کی۔ اور جدید سیاق میں اسلام کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں ان سے جو گفتگو ہوئی اس کو کسی قدر اضافے کے ساتھ یہاںنقل کیا جاتا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش 570 کو مکہ میںہوئی۔ 610 ء میں آپ کو خدا کی طرف سے پہلی وحی آئی۔ اس طرح ساتویں صدی عیسوی کی ابتداء میںاسلام کا آغاز ہوا۔ نبوت ملنے کے بعد آپ 13 سال تک مکہ میں رہے۔ اس کے بعد 622 ء میں آپ ہجرت…
…تلافی یہ ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام کو تاریخ کے بجائے قرآن اورحدیث کی روشنی میں سمجھا جائے جو کہ اس کا زیادہ مستند اور مکمل ماخذ ہے جب کہ بعد کے مسلمانوں کی لکھی ہوئی تاریخ، اسلام کو سمجھنے کے سلسلے میں ایک جزئی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال لیجیے۔ اسلام پر بعد کے دور میں کتابیں لکھی گئی ہیںان سب میں یہ انداز اختیار کیا گیا ہے کہ سب سے پہلے پیغمبر اسلام کے بارے میں لکھا جاتا ہے۔ اور اس کے بعد سلسلہ وار اگلے واقعات درج کیے جاتے ہیں۔ مگر تاریخ کی ہر کتاب میں ایک مشترک کمی موجود ہے۔ اور وہ ہے پیغمبر اسلام کی غیر سیاسی زندگی کا تذکرہ بہت کم ہونا اور آپ کی زندگی کے سیاسی حصہ کا تذکرہ بہت زیادہ تفصیل کے ساتھ کیا جانا۔
مکہ کی 13 سالہ مدت میں پیغمبراسلام کی زندگی میں بہت سے واقعات پیش آئے مگر یہ سب کے سب غیر سیاسی نوعیت کے واقعات تھے، چنانچہ ان کا ذکر بہت مختصر طورپر ان تاریخی کتابوں میں ملتا ہے۔ اس کے برعکس مدینہ میںآپ صرف دس سال تک رہے مگر ان دس سالوں…
…میں جو چیز واقع ہوگی، وہ مسیح کی آمد ثانی نہیں ہے، بلکہ مسیح کے ماڈل کی آمد ثانی ہے۔یعنی بعد کے زمانے میں حالات کے اندر ایسی تبدیلیاں واقع ہوں گی کہ حالات کے اعتبار سے حضرت مسیح کا عملی ماڈل زیادہ قابلِ انطباق (applicable) بن جائے گا۔
پیغمبر اسلام کے ماڈل اور پیغمبر مسیح کے ماڈل میں کیا فرق ہے۔ یہ فرق نصوص سے واضح طورپر معلوم ہوتا ہے۔ پیغمبر اسلام کا ماڈل یہ ہے کہ آپ نے مکہ میں اپنے دعوتی مشن کا آغاز کیا۔ اِس کے بعد مخاطبین کی طرف سے سخت مخالفت پیش آئی۔ اِس کے بعد آپ نے مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ کو اپنا مستقر بنایا۔
اب مخالفین کی طرف سے حملے کیے گیے۔ اس کے نتیجے میں دفاعی جنگ پیش آئی۔ اِس کے بعد آپ نے اپنے حریفوں سے وہ صُلح کی جو اسلام کی تاریخ میں ’صلح حدیبیہ‘ کے نام سے مشہور ہے۔ آخر میں فتح مکہ کا واقعہ پیش آیا اور پھر عرب میں آپ کا اقتدار قائم…
…ہیں۔ اور دوسرے احکام وہ ہیں جو دین کا اضافی حصہ (relative part) ہیں۔ مطلق حصہ ہر حال میں یکساںطورپر مطلوب ہوتاہے۔ جب کہ اضافی حصے کی مطلوبیت حالات پر منحصر ہوتی ہے۔ کسی وقت کے حقیقی حالات یہ طے کرتے ہیں کہ ان کا نفاذ کس طرح کیا جائے گا۔
احکام دین کے اس فرق کو سمجھنے کے لیے قرآن اور سنت کے دو حوالوں کا مطالعہ کیجیے۔ قرآن کی سورہ نمبر 109 میںپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ کہلایا گیا ہے کہ کہو کہ اے منکرو، میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو۔ (الکافرون: 1-2)
قرآن کی اس آیت میں عبادت کا لفظ آیا ہے۔ اس سے صریح طورپر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جہاں تک عبادت کا تعلق ہے، اس کو دین کے ایک مطلق حکم کی حیثیت حاصل ہے۔ عبادت کے معاملے میں دوسروں سے نہ سمجھوتہ ہے اور نہ ایڈجسٹمنٹ۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ…
…کے مہینے میں اپنے مفروضہ دشمن کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ لیکن یہ جنگ یک طرفہ طورپر’’مجاہدین‘‘ کی تباہی پر ختم ہوئی۔ عجیب بات ہے کہ اِس معکوس تجربے کے باوجود لوگوں کے نظریے میں فرق نہیں آیا۔ وہ اب بھی رمضان کے مہینے میں جنگ کی باتیں کررہے ہیں۔
رمضان کے مہینے کو فتح کا مہینہ سمجھنے کا ماخذ کیا ہے۔ اس کا ماخذ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جنگِ بدر پیش آئی۔ یہ جنگ ۱۷ رمضان ۲ ہجری کو ہوئی۔ اِس جنگ میں رسول اور اصحابِ رسول کو فتح حاصل ہوئی۔ اس لیے یہ سمجھ لیا گیا کہ رمضان کا مہینہ فتح کا مہینہ ہے،مگر یہ ایک بے اصل بات ہے۔ بدر کی لڑائی کا رمضان کے مہینے میں پیش آنا، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا انتخاب(choice) نہ تھا۔ بدر کی جنگ ایک دفاعی جنگ تھی۔ وہ رمضان کے مہینے میں اس لیے پیش آئی کہ فریقِ مخالف کا لشکر اسی مہینے میں اقدام کرکے مدینے کے قریب بدر کے مقام پر پہنچا۔ یہ فریقِ مخالف کی طرف سے یک طرفہ اقدام تھا او راس مسلّح اقدام کی بنا پر بدر کی دفاعی جنگ پیش آئی۔
اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بدر کی لڑائی کے علاوہ بھی کچھ اور لڑائیاں پیش آئی ہیں۔ مثلاً غزوۂ اُحد اور غزوۂ حُنین۔ مگر یہ د وسری لڑائیاں رمضان کے مہینے میں نہیںہوئیں۔ احد کی لڑائی مدینہ کے پاس ۶شوال ۳ ہجری میں پیش…
…جارہے ہیں، ان کو اپنے حق میں استعمال کرنا۔ یہ ایک کامیاب فارمولا ہے جس کو قرآن میں انّ مع العسر یسرا کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔ یعنی مسائل کے ساتھ ہمیشہ مواقع بھی موجود رہتے ہیں، اس لیے مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو:
Ignore the problems, avail the opportunities.
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم انسانی تاریخ کے پہلے شخص ہیں جنھوں نے حقیقی معنوں میں امن کا سماج قائم کیا۔ اس سماج کے قیام میں پوری طرح مذکورہ قرآنی فارمولے کو استعمال کیاگیا تھا۔ پیغمبر اسلام کی زندگی گویا کہ امن کے اِس قرآنی فارمولے…
…لگے۔ اُن کا طریقہ یہ تھا کہ وہ لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے ۔ اِس لیے اُن کو مُقری کہاجانے لگا، یعنی پڑھ کر سنانے والا۔ اِس کوشش کا نتیجہ یہ ہوا کہ مدینہ کے لوگ تیزی سے اسلام قبول کرنے لگے۔ یہاں تک کہ مدینہ کے ہر گھر میں اسلام داخل ہوگیا۔
اس تجربے سے اندازہ ہوا کہ مدینہ کے حالات مکّہ کے حالات سے مختلف ہیں۔ چنانچہ پیغمبر اسلام نے فیصلہ کیا کہ وہ مکّہ والوں سے متشدّدانہ ٹکراؤکی نوبت نہ آنے دیں۔ اِس کے بعد آپ یک طرفہ فیصلے کے تحت، مکّہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ اِس واقعہ کو اسلام کی تاریخ میں ہجرت کہا جاتا ہے۔ ہجرت کا مطلب ہے—تشدد کے مقام کو چھوڑ کر ایسی جگہ چلے جانا جہاں پُر امن طورپر کام کرنے کے مواقع پائے جاتے ہوں۔
پیغمبر اسلام نے پُر امن عمل کا یہی طریقہ اپنی پوری زندگی میں اختیار کیا۔ ہجرت کے بعد قریش نے آپ کے خلاف جنگی کارروائی شروع کی تو آپ ہر قیمت پر اس سے اعراض کرتے رہے۔ چند بار صرف اُس وقت محدودطور پر دفاعی جنگ کی نوبت آئی جب کہ فریقِ مخالف…
…نے فرمایا: واذا وضع السیف فی امتی لم یرفع منہا إلی یوم القیامۃ (ابو داؤد، کتاب الفتن، الترمذی ،کتاب الفتن، ابن ماجہ، کتاب الفتن، مسند احمد) یعنی میری امت کے اندر جب تلوار داخل ہوگی تو اس کے بعد وہ قیامت تک اُس سے اُٹھائی نہ جائے گی۔
سیف (تلوار) تشدد کی علامت ہے۔ اس قولِ رسول کا مطلب یہ ہے کہ امت مسلمہ کے اندر جب ایک بار متشددانہ طریقہ داخل کردیا جائے تو پھر وہ نسل در نسل جاری رہے گا۔ حتیٰ کہ اگر اس رجحان کو بدلنے کی خصوصی کوشش نہ کی گئی تو عین ممکن ہے کہ وہ برابر امت کے اندر جاری رہے، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ مسلمانوں کی تاریخ کو دیکھا جائے تو پیغمبر اسلام کی پیشین گوئی بالکل لفظی طورپر درست ثابت ہوتی ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، خلیفۂ ثالث عثمان بن عفان کے آخری زمانہ میں سیف، بالفاظ دیگر، متشددانہ طریق کار امت مسلمہ کے اندر داخل ہوا، اس کے بعد پھر وہ کبھی ختم نہ ہوسکا۔ اِس وقت سے لے کر آج تک پوری امت کا یہ حال ہے کہ اُس کے کچھ افراد اگر عملی…
…اور دار الحرب سے مراد وہ علاقے تھے جہاں مسلمانوں کی حکومت ’’ابھی‘‘ قائم نہیں ہوئی۔ یہ فرض کر لیاگیا کہ یہ تمام غیر مسلم علاقے گویا امکانی طورپر مسلمانوں سے حالت جنگ (potentially at war) میں ہیں، اس لیے ان کو دار الحرب کا نام دے دیا گیا۔
دار الحرب اور دار الکفر کی اصطلاحیں بلا شبہہ اجتہادی ہیں، وہ کسی نصّ صریح پر مبنی نہیں۔ جن لوگوں نے اپنے اجتہاد سے یہ اصطلاحیں وضع کیں وہ ایک حدیث کے مطابق، اس پر یقینا اجتہادی خطا کا اجر پائیں گے، مگر ان کو درست اجتہاد کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ بلاد کی تقسیم کے لئے صحیح طورپر دو ہی ابدی اصطلاحیں ہیں، دارالدعوہ، اور دارالاسلام۔ جہاں اسلام کا حکم قائم ہو جائے وہ دارالاسلام ہے اور جہاں ایسا نہ ہو وہ دار الدعوہ ہے۔ ان کے سوا کوئی تیسری اور چوتھی اصطلاح اسلام کی تعلیم کے مطابق نہیں۔
اس معاملہ میں دور اول کو لیجئے۔ نبوت کے ابتدائی زمانہ میں مکہ اور مدینہ اور دوسرے تمام علاقے ایک ہی قسم سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ سب کے سب دار الدعوہ تھے۔ ہجرت کے بعد مدینہ میںاسلام کا اقتدار قائم ہوگیا تو اس کے بعد مدینہ دار الاسلام بن گیا…
…پڑھی تو مجھے آپ کی باتیں بڑی اچھی لگیں اور آپ کے خیالات پڑھتے پڑھتے دل نے کہا کہ مجھے جس انسان کی تلاش تھی وہ یہی انسان ہے۔ تب سے آج تک آپ کی بہت ساری کتابیں پڑھیں ، دل کو سکون ہوا۔ پھر سے کلمہ پڑھا اور خدا کو پالیا۔ (احمد اچھا، لندن)
لائف انشورنس کے بارے میں علماء کے فتوے آچکے ہیں، وہ سب کو معلوم ہیں۔ میں اِس قسم کے فتووں سے ایک بنیادی اختلاف رکھتا ہوں، وہ یہ کہ یہ فتوے عباسی دور میں پیدا ہونے والے مدارسِ فقہ کو شعوری یا غیر شعور ی طورپر ماڈل مانتے ہیں۔ اور اسی کو اسلام کا آخری نمونہ سمجھ کر فتوے دیئے جاتے ہیں۔ مگر اصولی اعتبار سے یہ بات درست نہیں۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ کو مکّی دور اور مدنی دور میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ عام طورپر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مکّی دور کی حیثیت اسلام کے ابتدائی دور کی ہے، اور مدنی دور کی حیثیت اسلام کے تکمیلی دَور کی۔ مگر یہ تصور مکمل طورپر غلط ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مکّی دور اور مدنی دَور دونوں یکساں طورپر، اسلامی نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں۔مکّی دَور اُس حالت کا ایک معیاری نمونہ ہے جب کہ اہلِ اسلام سیاسی اقتدار کی حالت میں نہ ہوں اور مدنی دور اُس حالت کا ایک معیاری نمونہ ہے جب کہ اہلِ…
…اگر یہ چاہتے ہیں کہ کوئی شخص ان کی پر تشدد تصویر نہ بنائے تو خود ان کو بھی اپنے آپ کو پر تشدد اعمال سے بچاناہوگا۔ یہ ناممکن ہے کہ مسلمان ایک پر تشدد عمل کریں اور میڈیا میں جب اس کی خبر آئے تواس کے عنوان میں تشدد کے بجائے امن لکھا ہوا ہو۔
اسی طرح اسلام اور عقل دونوں کے اعتبار سے وہی عمل صحیح عمل ہے جو اپنے انجام کے اعتبار سے مثبت نتیجے کا حامل ہو۔ ایسا اقدام جو اپنے نتیجے کے اعتبار سے کاؤنٹر پروڈکٹیو(counter productive) ثابت ہو، وہ نہ اسلام کے اعتبار سے درست ہے اور نہ عقل کے اعتبار سے۔
اس اصول کی روشنی میں دیکھئے تو اقدام کا نتیجہ برعکس صورت میں برآمد ہوا ہے یعنی اسلام لوگوں کی نظر میں ایک ایسا مذہب بن گیا ہے جو آزادی کے خلاف ہے اور اپنے پیروؤں کو تشدد کی تعلیم دیتا ہے۔ حالانکہ یہ اسلام کی صحیح تصویر نہیں۔پیغمبر اسلام…
محترمہ نور باجی صاحبہ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ سے ٹیلی فون پر چند بار گفتگو ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ مولانا محمد ذکوان ندوی سے اکثر آپ کا ذکر ہوتا رہتا ہے جو سویڈن(ا سٹاک ہوم ) میں تین سال تک آپ سے قریب رہے ہیں، اور اب دہلی میں مقیم ہیں۔ میں نے آپ کے بارے میںجو اندازہ کیا ہے اس کے مطابق، آپ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ آپ کو خدا نے بہترین صلاحیت عطا فرمائی ہے۔ مگر جب بھی آپ کا خیال آتا ہے مجھے یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ:
She is underutilizing her great potential.
All roads lead to Riyadh.
شاہ فہد کا دَورِ حکومت نہایت جاہ وجلال کا دورِ حکومت تھا۔ مگر ۱۹۹۵ میں اُن پر دل کا دورہ پڑا۔ اُن کی صحت نہایت کمزور ہوگئی۔ اُنھیں کنگ فیصل اسپتال میں داخل کردیاگیا۔ اِس کے بعد وہ مسلسل زیرِ علاج رہے۔ دس سال پہلے انھیں حکومت کے کاموں سے عملی طورپر الگ ہوجانا پڑا۔ چنانچہ حکومت کے کام ان کی نیابت میں ان کے سوتیلے بھائی شہزادہ عبد اللہ انجام دینے لگے۔ شاہ فہد کے انتقال کے بعد شہزادہ عبد اللہ سعودی عرب کے حکمراں مقرر کیے گئے ہیں۔ ۱۹۹۵ میں شاہ فہد کے صاحبِ فراش ہوجانے کے بعد سے، حکومت کا روز مرّہ کا کام شاہ عبد اللہ ہی سنبھالے ہوئے تھے۔
شاہ فہد کے زمانۂ حکومت میں سعودی عرب کو غیر معمولی ترقی حاصل ہوئی۔ حرم مکّی اور حرم مدنی دونوں میں غیر معمولی توسیع کی گئی۔ ان کو جدید ترین سہولتوں سے آراستہ کیا گیا۔ قرآن کی توسیع واشاعت کے لیے بہت بڑا ادارہ قائم ہوا، جس کے تحت دنیا…
…صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی قابل عمل نہ رہے گی۔ مثلاً اگر یہ مانا جائے کہ فتح مکہ کے بعد کا دور نبوت تکمیلی دورِ نبوت ہے اور فتح مکہ سے پہلے کا دورِ نبوت غیر تکمیلی دورِ نبوت، تو پچھلے دور کے تمام پیغمبرانہ نمونے منسوخ قرار پائیں گے۔
مثلاً مکہ کے ابتدائی زمانہ میں چھپ کر نماز پڑھنا یا خفیہ دعوت دینا، کعبہ میں بتوں کی موجودگی سے تعرض نہ کرتے ہوئے دعوت کا کام کرنا، مخالفینِ قریش کے ظلم کو سہنا مگر اُن سے ٹکراؤ نہ کرنا، مکہ میں جنگی چیلنج سے اعراض کرتے ہوئے خاموشی سے مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے جانا، طائف کے مشرک سرداروں سے پناہ طلب کرنا، ہجرت کے سفر میںدشمنوں کے خوف سے غارِ ثور میں چھپنا، مدینہ کے ابتدائی دور میں یہود کے ساتھ مصالحت کا معاملہ کرنا، وغیرہ۔ اس قسم کے تمام پیغمبرانہ واقعات بلا شبہہ اسلامی زندگی کے مطلوب نمونے ہیں۔ مگر فتح مکہ کے بعد کے زمانہ کو اعلیٰ زمانہ قرار دینے کی صورت میں یہ تمام نمونے منسوخ قرار پائیں گے اور ان نمونوں کی حکمت اہلِ اسلام کے لیے ناقابلِ فہم بن جائے گی۔ اسلام میں اصل چیز یہ ہے کہ مختلف حالات میں اہلِ ایمان نے کیا رسپانس دیا۔ اس لحاظ سے مکی دور اور مدنی دور دونوں کی حیثیت یکساں ہے۔ دونوں ہی دوروں میں قابل لحاظ بات یہ ہے کہ اہل ایمان اپنے حالات کے اعتبار سے وہ رسپانس دے سکیں جو اس وقت ان سے مطلوب تھا۔
۷۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ بیسویں صدی پوری تاریخ انسانی کی ایک استثنائی صدی تھی۔ اس صدی میں جدید افکار اپنے عروج پر پہنچ گئے۔ اس صدی میں دو انتہائی بڑے دماغ پیدا ہوئے۔ برطانیہ میں برٹرینڈ رسل اور انڈیا میں ڈاکٹر رادھا…
…ایک جلسہ ہوا۔ اس میں ایک مسلم رہنما کی تقریر ہوئی۔ وہ مسلمانوں میں کامیاب مقرر سمجھے جاتے ہیں۔ مسلم نوجوان نے بتایا کہ پورا آڈیٹوریم مسلمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ شاندارتقریر کے دوران مسلسل تالیاں بجتی رہیں۔ تالیوں کی کثرت سے ہال گونج اُٹھا۔
میں نے مذکورہ مسلم نوجوان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں مسلمانوں کو خطاب فرماتے تھے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے ایک لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کے درمیان خطاب فرمایا۔ کیا ان مواقع پر سامعین تالیاں بجاتے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر میں نے پوچھا کہ خلفائے راشدین بار بار مسلم اجتماعات میں خطاب کرتے تھے۔ کیا ان مواقع پر یہ مسلمان تالیاں بجاتے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر میں نے پوچھا کہ صحابہ اور تابعین بار بار مسلمانوں کے اجتماعات میں تقریر کرتے تھے۔ کیا وہ لوگ تقریر کو سُن کر تالیاں بجاتے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ نہیں۔
پھر میں نے کہا کہ حدیث کے مطابق، ابتدائی زمانہ کے تین دوروں کو قرون مشہود لہا بالخیر کہا گیا ہے۔ یہ تین دور ہیں۔ رسو ل اللہ کا دور، صحابہ کا دور اور تابعین کا دور۔ ان تینوں دوروں کے بارہ میں ثابت ہے کہ اُ س زمانہ میں مسلم ذمہ دار مسلم…
…دیتا رہا۔ خطاب کے آغاز میں میں نے کہا کہ میں اپنی بات شکر خدا وندی کے جذبہ سے شروع کرتا ہوں۔ یہ جدید کمیونیکیشن بلا شبہہ ایک عظیم نعمت ہے جس نے اس بات کو ممکن بنایا کہ ایک شخص دہلی میں بولے اور عین اسی وقت امریکا میں اس کو سنا جارہا ہو۔
موجودہ زمانہ میں کمیونیکیشن کی طاقت کو زیادہ تر غیر مسلم قومیں استعمال کررہی ہیں، اس لیے اکثر مسلمان یہ سمجھنے لگے ہیں کہ جدید کمیونیکیشن در اصل گلوبلائزیشن (globlization) کا ایک ہتھیار ہے جس کے ذریعہ مسلم دشمن قومیں مسلمانوں کو اپنی غلامی میں جکڑ لینا چاہتی ہیں۔ یہ ایک بے شعوری کی بات ہے۔ جدید کمیونیکیشن کی حیثیت ایک طاقت کی ہے، جو بھی چاہے اس کو اپنے حق میں استعمال کرسکتا ہے۔
پھر میںنے کہا کہ اس وقت میں جہاد کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کیوں کہ جہاد آج کل بہت زیادہ نیوز میں ہے۔ عام طورپر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جہاد کے معنٰی جنگ کے ہیں، مگر یہ درست نہیں۔ جنگ کے لیے قرآن میں قتال کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔…
…تھا۔ اس میں سابق صدر مسٹر کے آر نارائنن بھی شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور وہاں کے اجلاس میں حصہ لیا۔ یہ سیمینار ۳۔۵ جنوری ۲۰۰۵ کو منعقد کیا گیا۔ اس سفر کی روداد انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کردی جائے گی۔
۲۔ انڈین ایکسپریس نئی دہلی کے نمائندہ اروناوا داس گپتا (Arunava Dasgupta)نے ۷ جنوری ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر حج کے مقصد کے بارہ میں تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ حج کا مقصد انسانی اور روحانی بنیاد پر لوگوں کا اتحاد ہے۔
۳۔ سب ٹی وی(نئی دہلی) کے تحت ۱۰ جنوری ۲۰۰۵ کو ان کے اسٹوڈیو میں جَن سنسد کا پروگرام ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اس کا موضوع یہ تھا: فیملی پلاننگ اور اسلام۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام میں زندگی کو ختم کرنا حرام ہے…
…آیت سے واضح ہورہا ہے۔ قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے یہ ارشاد ہوا ہے: وشاورہم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ (آل عمران ۱۵۹) یعنی تم ان سے معاملہ میں مشورہ لو، پھر جب تم عزم کر لو تو اللہ پر بھروسہ رکھو۔
قرآن کی یہ آیت بظاہر پیغمبر اسلام کو خطاب کرتی ہے۔ مگر پیغمبر اسلام ایک اعتبار سے پیغمبر تھے اور دوسرے اعتبار سے وہ تمام اہل ایمان کے لیے اسوہ تھے۔ اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں اصل چیز مشورہ کی اسپرٹ ہے نہ کہ مشورہ کا نظامی ڈھانچہ۔ اس کے مطابق، ہر مومن کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ چھوٹے اور بڑے ہر معاملہ میں بار بار لوگوں سے پیش آمدہ معاملہ میں مشورہ لے۔ وہ لوگوں سے ڈسکشن کرے۔ وہ معاملہ کے سارے پہلوؤں پر نہ صرف خود غور کرے بلکہ اس کو دوسروں کے ساتھ زیر بحث لائے۔ اس طرح وہ زیادہ بہتر طورپر اس پوزیشن میں ہوگا کہ وہ یقین کے ساتھ فیصلہ لے سکے۔ اور جب وہ اس طرح کسی فیصلہ پر پہنچ جائے تو خدا کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنا کام شروع کردے۔
قرآن کی اس آیت سے واضح طورپر معلوم ہوتا ہے کہ شوریٰ یا مشورہ کا مقصد یہ نہیں ہے کہ معروف جمہوری ڈھانچہ کی صورت میں اس کا ایک قانونی نظام بنایا جائے اور اس نظام کے ممبران کے اتفاق رائے یا ان کی کثرت رائے کو حتمی حیثیت دے کراس کے مطابق کام…
…موجود نہ تھی۔ اُن کے گھر میں کوئی خادم بھی نہیں تھا۔ وہ اپنا ہر کام خود کرتے تھے۔ اُن کے بولنے کا انداز نرمی اور تواضع سے بھرا ہوا تھا۔ بڑائی کا کوئی احساس میں نے ان کے اندر نہیں پایا۔ اُن کے بیان کے مطابق، یہ گاندھیائی تعلیم کا نتیجہ تھا۔
مجھ کو نماز پڑھتے دیکھ کر ایک ہندو نے کہا کہ آپ لوگ مکہ مدینہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان چوںکہ اپنی عبادت کا مرکز مکہ مدینہ بنائے ہوئے ہیں، اس لئے ان کی وفاداری بھی مکہ مدینہ سے جڑی ہوئی ہے اور ان کے اندر حب الوطنی کا جذبہ صحیح معنوں میں پیدا نہیں ہونے پاتا۔ میں نے کہا کہ نماز کا قبلہ مکہ مدینہ یا عرب کا ملک نہیں ہے بلکہ کعبہ ہے جو کہ ایک اسٹرکچر ہے، نہ کہ جغرافی خطّہ۔ آپ سمجھتے ہیں کہ مسلمان ہندستانی جغرافیہ کے بجائے عرب کے جغرافیہ کو اپنا قبلہ بنائے ہوئے ہیں۔ مگر یہ سرے سے جغرافی مسئلہ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ ابوالانبیاء حضرت ابراہیم نے چار ہزار سال پہلے پتھر کی ایک مسجد بنائی تھی جس کو کعبہ کہا جاتا ہے جو اب تک وہاں موجود ہے۔ یہی قدیم سنگی اسٹرکچر، نہ کہ کوئی جغرافی خطہ، مسلمانوں کا عبادتی قبلہ ہے۔
میں نے کہا کہ وفاداری ایک الگ چیز ہے اور عبادت اُس سے الگ دوسری چیز۔ وفاداری کا تعلق وطن سے ہوتا ہے اور عبادت کا تعلق خدا سے۔ وطن اور خدا دونوں ایک دوسرے کے حریف نہیں ہیں۔ بلکہ دونوں دو مختلف موضوع سے تعلق رکھتے ہیں۔ وطن وہ زمینی خطہ ہے…
…ایک منزل ہوتی ہے۔ پھر ہندوازم کی تلاش کی منزل کیوں اب تک نہیں آئی۔ جب کہ بتایا جاتا ہے کہ ہندوازم دنیا کا قدیم ترین مذہب ہے۔ حتّٰی کہ ان کے مطابق ، نامعلوم مدت سے یہ تلاش جاری ہے۔ سچائی یقین چاہتی ہے اور یقین منزل کے بغیر کبھی نہیں آتا۔
انھوں نے اس کا جواب تمثیل کی زبان میں دیا۔ انھوں نے کہا کہ چڑیا آسمان میں اڑتی ہے۔ مگر وہ کبھی آسمان کی حد تک نہیں پہنچتی۔ وہ جس دائرہ میں اڑرہی ہے وہی گویا اس کی منزل ہے۔ یہ جواب بالکل غیر متعلق (irrelevant) ہے۔ اس لئے کہ میرا سوال فکر کے سفر کے بارے میں تھا۔ اور فکر کا سفر بلاروک جاری رہنے کی طاقت رکھتا ہے۔ جب کہ انھوں نے چڑیا کی مثال دی جو جسمانی سفر کی ایک مثال ہے۔ جسمانی سفر بلاشبہ محدود دائرہ میں جاری ہوتا ہے۔ مگر فکری سفر کا معاملہ اس سے مختلف ہے، وہ سارے کاماسے گزر کر فل اسٹاپ تک پہنچ سکتا ہے۔
۲۴ نومبر ۲۰۰۳ کا دن اسلام کے لئے خاص تھا۔ اس میں میں واحد اسپیکر تھا۔ پروگرام کی ترتیب اس طرح بنائی گئی کہ دوپہر سے پہلے کے سیشن میں میں نے اسلام پر ایک تعارفی تقریر کی جو تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی۔ دوپہر بعد کا سشن سوال و جواب کے لئے…
…چلائی گئی۔ مگر تجربہ نے بتایا کہ یہ قابلِ عمل نہیں۔چنانچہ بیس سال کے اندر ہی اندر اس نظریہ کو ترک کر دیا گیا۔اب کناڈا میںسرکاری طورپر ملٹی کلچرلزم کے اصول کواختیار کر لیا گیا ہے اور یونی کلچرلزم کے نظریہ کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا گیاہے۔
یہی معاملہ امریکا کا ہے۔ امریکا میں دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکنائزیشن کی تحریک چلائی گئی۔ اس کا مقصد بھی یہی تھا۔ مگر لمبی جدوجہد کے بعد معلوم ہوا کہ وحدت کلچر کایہ نظریہ قابلِ عمل نہیں۔ چنانچہ اس نظریہ کو ترک کر دیا گیا اور امریکا میںبھی ملٹی کلچرلزم کے اصول کو اختیار کرلیا گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ کلچر کا اختلاف دوگروہوں کے درمیان اختلاف کا معاملہ نہیں ہے۔ خودایک گروہ کے درمیان بھی یہ اختلاف پایا جاسکتاہے۔ اس داخلی اختلاف کی مثالیں ہر گروہ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ اس لیے مختلف مذاہب کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی لانے کے…
…میں موجود ہیں۔ آپ کی تحریروں سے جو فائدہ ہوا ہے اُسے بیان کرنا ناممکن ہے۔ کتابیں تو میں نے اہل دیو بند او رجماعت اسلامی کی بھی بہت پڑھی ہیں مگر جو thinking آپ کی تحریروں سے بنی ہے اب اس کے بعد کسی اور کی کتاب دیکھنے کو جی نہیں چاہتا۔
میں تبلیغی جماعت کے ساتھ کام کرتا ہوں۔ مگر یہاں آج کل بہت زیادہ ’’نکلنے‘‘ پر زور دیا جارہا ہے۔ چار مہنیہ، چالیس دن اور روزانہ کے ڈھائی گھنٹہ پر بہت زیادہ اصرار کیا جاتا ہے۔ میں اپنی مصروفیت اور دوسرے مشاغل کی وجہ سے مطلوبہ وقت دے نہیں پاتا مگرساتھی اس کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ یہ بھی دین کا کام ہے اور اپنے بھائیوں میں دین کی لائن سے فکر کرنا کہ کیسے وہ اعمال پر آجائیں بہت اونچی بات ہے۔ مگر کیا یہ ’’نکلنا‘‘ اتنا زیادہ ضروری ہے اور اس کا ثواب بھی وہی ہے جو یہ ’’اللہ کے راستے میں‘‘ نکلنے کا بتاتے ہیں (عبد الرزاق، ممبئی)
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان جو تحریکیں اُٹھیں، بد قسمتی سے تقریباً ہر ایک میں انتہا پسندی کاوہی غیر مطلوب عنصر پایا جاتا ہے جس کوقرآن اور حدیث میں غلو کہا گیا ہے۔ مثلاً جماعت اسلامی میں سیاسی انتہا پسندی، تبلیغی جماعت میں فضائلی…
…موجود رہتا تھا۔ انسان اگر اس کو بھول جائے یا وہ مرجائے تو اس کے ساتھ پیغام بھی معدوم ہوجاتا تھا۔ مزید یہ کہ انسان ایک صاحب ارادہ مخلوق ہے۔ وہ اس پر قادر ہے کہ اس کے پاس جو پیغام ہے اس کو اس کی اصلی حالت پر باقی رکھے یا وہ اس کو بدل ڈالے۔
اس قدیم دور کو انسانی دور حفاظت کہا جاسکتا ہے، یعنی وہ دور جب کہ حفاظت کا کام تمام تر انسان کی مرضی پر منحصر ہوتا تھا۔ قرآن سے پہلے کی تمام آسمانی کتابیں بنیادی طورپر اسی انسانی حفاظت کے دور میں آئیں۔ یہ عملی طور پر حفاظت کا ایک غیر یقینی ذریعہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم کتابیں اپنی اصل حالت میں محفوظ نہ رہ سکیں۔ انسان نے قصداً یا بلا قصد پچھلی تمام آسمانی کتابوں کو غیر محفوظ بنا دیا۔
پیغام کی حفاظت کا دوسرا دور وہ ہے جس کو میکنیکل حفاظت کا دور کہا جاسکتا ہے۔ یہ دور وہ ہے جب کہ کسی پیغام کی حفاظت کا کام زندہ انسان کے ہاتھ سے نکل کر جامد مادہ کے دائرہ میںآگیا۔ یعنی وہ دور جب کہ پیغام کو کاغذ پر لکھا جانے لگا اور چھاپ کر…
…کے اصحاب اُس کو یاد کرلیتے۔ اُس زمانہ میں کثرت استعمال کی بنا پر لوگوں کے حافظے بہت اچھے ہوا کرتے تھے، اس لیے نازل شدہ حصۂ قرآن کو یاد کرنا کچھ بھی مشکل نہ تھا۔ اسی کے ساتھ اُترنے کے بعد فوراً ہی اُس کو جھلّی وغیرہ پر لکھ لیاجاتا تھا۔
ڈاکٹر موریس بُکائی نے اس دو طرفہ طریقہ کو ڈبل چیکنگ کا طریقہ (double checking system) بتایا ہے۔ یعنی حافظہ کا تقابل تحریر سے کیا جائے اور تحریر کا تقابل حافظہ سے کیا جائے۔ اس طرح ایک کو دوسرے سے چیک کرتے ہوئے اُس کی صحت کا تیقن حاصل کیا جائے۔
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: لا تکتبوا عنی غیر القرآن۔ یعنی تم لوگ صرف قرآن کو لکھو، تم میرے اپنے کلام کو نہ لکھو۔ پیغمبر اسلام کی یہ ہدایت صرف مذکورہ ۲۳ سال کے لیے تھی جب کہ قرآن اُتر رہا تھا۔ آپ چاہتے تھے کہ قرآن اور…
…کی دعوت پہنچاتے رہے۔ اس دعوتی مہم میں آپ نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ اپنے مخاطبین کو کافر کہہ کر خطاب کریں۔اس دوران میںجو آیتیں اتریں ان سب میں انسان جیسے الفاظ تھے۔ آپ نے انہیں اپنی قوم کا حصہ قرار دیتے ہوئے انہیں اپنا پیغام پہنچایا۔
دعوت کی یہ مہم آپ نے اس طرح چلائی کہ آپ گہرے طورپر ان کے خیر خواہ بنے رہے۔ آپ نے ان کی ایذاؤں پر یکطرفہ صبر کیا۔ آپ نے ان سے کسی بھی قسم کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ آپ نے ان سے کبھی بھی کوئی ایسی بات نہیں کہی جس سے آپ کے اور ان کے درمیان مادّی نوعیت کی کوئی نزاع قائم ہو جائے۔ آپ یک طرفہ طورپر ہمیشہ اُن کے خیر خواہ بنے رہے۔ آپ کو ان کی طرف سے طرح طرح کی مصیبتیں پہنچیں مگر آپ ہمیشہ ان کے لیے دعا کرتے رہے۔
دعوت کی یہ صبرآزما جدوجہد تیرہ سال تک چلتی رہی۔ تیرہ سال کے بعد بھی پیغمبر اسلام نے اپنی زبان سے ان کے لیے کبھی کافر کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آیت اتری کہ : قل یا ایہا الکفرون (تم کہہ دو کہ اے انکار کرنے…
…غیر مسلموں کو کافر کے نام سے پکاریں۔ اُنہوں نے ہر ایک کو اُس کے اپنے اختیار کردہ نام سے پکارا۔ مثلاً شام کے مسیحیوں کو مسیحی کہا، فلسطین کے یہودیوں کو یہودی کہا، ایران کے مجوسیوں کو مجوسی کہا، افغانستان کے بودھوں کو بودھ (بوذا) کہا، وغیرہ۔
اسی طرح دور اول کے یہ مسلمان جب ہندستان آئے تو یہاں بھی اُنہوں نے یہی کیا۔ اُنہوں نے یہاں کے لوگوں کو ہندو کہا جو سندھو کا عربی تلفظ ہے۔ ابو الریحان البیرونی (وفات ۱۰۴۸ء) نے ہندستان کا سفر کیا۔ اُس نے سنسکرت زبان سیکھی اور ہندستان کے بارہ میں ایک عربی کتاب تاریخ الہند لکھی۔ اُس میں وہ یہاں کے غیر مسلموں کو ہندو کہتا ہے، نہ کہ کافرانِ ہند۔
ہزا ر سال سے زیادہ مدت تک یہی رواج باقی رہا۔ اب بھی کثرت سے ہندستان اور پاکستان کے علاوہ بقیہ دنیا میں یہی رواج بالفعل قائم ہے۔ مسلمان امریکا اور یورپ کے مختلف ملکوں میں آباد ہیں۔ وہاں اُن کا سابقہ غیر مسلم قوموں سے پڑتا ہے۔ مگر ہر ایک کو…
— 072تواضع سے بلندی
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ جوشخص تواضع کا طریقہ اختیار کرے خدا اس کو بلندی عطا کرتا ہے۔ یہ خدا کا مقرر کیا ہوا ایک قانون ہے۔ اس کے مطابق، تواضع کی روش آدمی کے لیے ترقی کے راستے کھولتی ہے۔ اس کے برعکس گھمنڈ کا طریقہ آدمی کو پستی کی طرف لے جاتا ہے۔تواضع کا فائدہ دو طرفہ ہے۔ تواضع کرنے والے کواس کا یہ فائدہ ملتا ہے کہ اس کے اندر روحانیت جاگتی ہے، اس کے اندر اعلیٰ انسانی صفات پیدا ہوتی ہیں۔ وہ خدا کے فیضان کو وصول کرنے لگتا ہے۔ اس کے اندر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ اس قابل ہوجاتاہے کہ چیزوں کو بے آمیز انداز میں دیکھ سکے۔
وہ شخص جس سے تواضع کا معاملہ کیاجائے وہ اپنے ضمیر کی آواز کے تحت تواضع کرنے والے کی عظمت کو ماننے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ وہ اس کے مقابلہ میں سرکشی کرنے کا جذبہ کھو دیتا ہے۔ وہ مجبور ہوجاتا ہے کہ اس کی اخلاقی بڑائی کو مانے۔ وہ اپنے مقابلہ…
…مواقع یکسر ختم ہوجاتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں امن سے کام کے تمام مواقع کھلتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے یہ فارمولا دیا کہ یکطرفہ تحمل کے ذریعہ جنگ سے اوائڈ کرو اور امن کی حالت میں پیدا ہونے والے مواقع کو اپنی تعمیر اور استحکام کے لیے استعمال کرو۔
پیغمبر اسلام کی پوری زندگی اسی اعلیٰ حکمت کی مثال ہے۔ مکہ کے ابتدائی زمانہ میں کعبہ (بیت اللہ) میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ پیغمبر اسلام نے بت کے سوال پر عملی ٹکراؤ سے بچتے ہوئے پرامن انداز میں دعوت توحید کا کام شروع کردیا۔ مکہ کے آخری زمانہ میں جب کہ وہاں کے سردار آپ کو قتل کرنے کے درپے ہوگئے تب بھی آپ نے اُن سے ٹکراؤ نہیں کیا بلکہ خاموشی کے ساتھ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے اور وہاں اپنا دعوتی مرکز قائم کیا۔ ہجرت کے بعد قریشِ مکہ نے آپ کے خلاف باقاعدہ جنگ چھیڑ دی مگر آپ نے حسن تدبیر کے ذریعہ اُن سے دس سال کا ناجنگ معاہدہ کرلیا جو صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔اس صلح نے آپ کو اپنے دعوتی کام کے لیے وسیع مواقع دے دیے۔
پیغمبر اسلام نے اس طرح امن کو ایک مستقل پالیسی کی حیثیت دے دی۔ اس حکیمانہ پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف ۲۳ سال میں پورے عرب میں اسلامی انقلاب آگیا۔ یہ انقلاب اتنا زیادہ پرامن تھا کہ اس کو بجا طور پر غیر خونی انقلاب (bloodless revolution)…
…خدا سے اس کی تلافی کی امید رکھنا۔ دوسرے اگر فساد کریں تب بھی ان کے لیے اصلاح کی دعائیں کرنا۔ دوسرے اگر کاٹنے کی کوشش کریں تب بھی ان سے جڑے رہنا۔ دوسرے اگر نہ دیں تب بھی ان کو دینے کی کوشش کرنا۔ دوسرے اگر ظلم کریں تب بھی انہیں معاف کردینا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس معاملہ میںاس آخری حد تک گئے کہ ہجرت کے بعد مدینہ میںآپ تقریباً سولہ ماہ تک کعبہ کے بجائے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے تاکہ وہاں بسنے والے یہودیوںسے غیر ضروری ٹکراؤ نہ پیش آئے۔ قرآن میںاس معاملہ میں یہ اصول مقرر کیا گیا کہ تمہارے لیے تمہارا دین اورہمارے لیے ہمارا دین۔ مدینہ میں ہجرت کے بعد پیغمبر اسلام نے جو منشور جاری کیا اس میں آپ نے یہ درج فرمایا کہ مسلمانوں کے لیے مسلمان کا دین اور یہود کے لیے یہود کا دین(للیہود دینہم وللمسلمین دینہم) وغیرہ۔
اس مقصد کے لیے یہ اعلان کیا گیا کہ تمام انسان ایک ہی جوڑے کی اولادہیں۔ تمام انسان آپس میں بھائی اور بہن ہیں۔ تمام انسان خدا کی عیال ہیں۔ ایک انسان اور دوسرے انسان میں دنیوی تعلقات کے اعتبارسے کوئی فرق نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو مولانا…
He taught that the highest ideal of mankind would be peace and concord. (13/849)
اس میں کوئی شک نہیں کہ عملی اعتبار سے امن تمام مطلوب چیزوں میں سب سے بڑا مطلوب ہے۔ اس لیے کہ کسی بھی مثبت یا تعمیری کام کے لیے انسانی آبادی میںامن کا ماحول ہونا ضروری ہے۔ امن کے بغیر کسی بھی قسم کی کوئی ترقی نہیں ہوسکتی۔
عام طورپر یہ سمجھا جاتا ہے کہ امن کے قیام کے سلسلہ میں مذہب کی زیادہ اہمیت نہیں۔ اُن کے نزدیک تاریخ یہ بتاتی ہے کہ مذہب کے ذریعہ امن کبھی قائم نہ ہوسکا:
…میں کافر کا لفظ صرف پانچ بار قرآن میں آیا ہے اور اُس کی جمع الکفار ، الکافرون اور الکافرین کے الفاظ ۵۰ بار آئے ہیں—اس سے اندازہ ہوتاہے کہ اس معاملہ میں قرآن کا تصور کیا ہے۔ قرآن کی نظر میں یہ زمین دارالانسان ہے، نہ کہ دارالکفار۔
تمام مساجد میں اذان کے لئے لاؤڈاسپیکر کا استعمال ہوتا ہے۔ اذان کی آواز بعض وقت نہایت گراں محسوس ہوتی ہے۔ جب یہ گرانی افراد ملت کو ہے تو دیگر بندگان خدا کو کس قدر ہوگی۔ اس معاملہ کی وضاحت فرمائیں۔ (حکیم انور علی صدیقی، میرٹھ)
عرض یہ کہ لاؤڈاسپیکر کا تعلق فتویٰ سے نہیں ہے بلکہ ضرورت سے ہے۔ بوقت ضرورت حسب حالات لاؤڈاسپیکر کا استعمال کیاجاسکتا ہے۔ مگر جہاں لاؤڈاسپیکر کی ضرورت نہ ہو، نیزاُس سے کوئی غیرضروری مسئلہ پیدا ہوتا ہو تو لاؤڈاسپیکر کے استعمال سے احتراز…
…کتاب میںمذکورہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: فیہ دلالۃ صریحۃ لمذہب الشافعی و أحمد و داؤد وموافقیہم فی استحباب صوم ہذہ الستۃ وقال ابو مالک وابوحنیفۃ یکرہ ذلک۔ قال مالک ما رأیت احداً من اہل العلم یصومہا قالوا فیکرہ لئلا یظن وجوبہ۔ (۵۶)
ترجمہ: اس میںشافعی اور احمد اور داؤد اور اُن کے موافقین کے مسلک کی کھُلی دلیل ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ چھ روزے مستحب ہیں۔ اور مالک اور ابو حنیفہ کا قول ہے کہ یہ روزے مکروہ ہیں۔ امام مالک نے مؤطا میںکہا ہے کہ میںنے کسی اہل علم کو نہیں دیکھا کہ وہ یہ روزے رکھتا ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ مکروہ اس لیے ہیں کہ کہیں اُس کو واجب نہ سمجھ لیا جائے۔
یہ معاملہ در اصل شفٹ آف ایمفیسس (shift of emphasis) کا ہے۔ یعنی زیادہ اہم کو کم اہم اور کم اہم کو زیادہ اہم بنا لینا۔ مثلاً روزہ میںاُس کی روح کے مقابلہ میں تعداد کو زیادہ اہم سمجھ لینا۔ اسی طرح دعوت حق کے مقابلہ میں سوشل سروس کو زیادہ…
…اُس میں صلہ رحمی کو ملحوظ رکھا گیا ہو ، میں ضرور اُس پر راضی ہوجاؤں گا (سیرت ابن ہشام ،الجزء ۳، صفحہ ۳۵۸) دشمن کی یک طرفہ شرطوں کو ماننا ایک سخت ناگوار معاملہ تھا۔ مگر آپ نے مذکورہ بات کہہ کر اس ناگوارکو ایک گوارا معاملہ بنا لیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ہجر جمیل کی ایک حکیمانہ مثال ہے۔قدیم عربوں کے نزدیک صلہ رحمی بہت بڑی انسانی قدر سمجھی جاتی تھی۔ اور قطع رحمی کو وہ بہت بُرا سمجھتے تھے۔ اس لیے اس کا سوال ہی نہ تھا کہ وہ معاہدہ کے لیے ایسا خاکہ پیش کریں جس میں قطع رحم کی دفعہ رکھی گئی ہو۔ باعتبار حقیقت رسول اللہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ میں ہر قیمت پر قریش سے صلح کر لوں گا۔ اس بات کو کہنے کے باعزت طریقہ کے طورپر آپ نے فرمایا کہ میں قریش کی طرف سے صُلح کے ہر خاکہ کو منظور کرلوں گا بشرطیکہ اُس میں قطع رحم نہ پایا جاتا ہو ۔ حالاںکہ پیشگی طورپر یہ معلوم تھا کہ وہ قطع رحم کی شرط کبھی نہیں رکھیں گے۔
۳۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے تو جلد ہی یہاں کے باشندوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔ اُس وقت مدینہ میںایک شخص تھا جس کا نام عبد اللہ بن اُبیّ تھا۔ وہ اپنے زمانہ کا ایک بڑا لیڈر تھا۔ وہ بھی اگر چہ اپنے قبیلہ…
…کے مسلم علماء اور دانشور تقریباً پانچ سو کی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس کا موضوع ’’اسلام اور گلوبلائزیشن ‘‘ بتایا گیا۔ اس کانفرنس کی ایک رپورٹ لاہور کے ماہنامہ محدث (مئی ۲۰۰۲) میں دیکھی۔ اس کا ایک حصہ یہاںکسی قدر تصرف کے ساتھ نقل کیا جاتا ہے :
بوسنیا کے رئیس العلماء مصطفی سیرچ نے سابق صدر بوسنیا عزت بیگووچ کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ ہم بوسنیا کے تلخ تجربہ کی روشنی میں یہ کہنا مناسب سمجھتے ہیں کہ عربوں کو اسرائیل سے صلح وآشتی کا راستہ اختیار کر لینا چاہئے ۔ دکتور یوسف القرضاوی فوراً مائیک پر آئے اور نہایت شدید الفاظ میں عزت بیگوچ کے اس نظریہ کی تردید کی۔ رپورٹ کے مطابق، بظاہر پوری کانفرنس میں کوئی شخص بھی عزت بیگوچ کی حمایت میں بولنے کے لیے کھڑا نہیں ہوا (صفحہ ۵۴)۔
جس زمانہ میں عزت بیگووچ نے بوسنیا کے آزاد مسلم مملکت ہونے کا اعلان کیا اور اس کے نتیجہ میںوہاں خونی جنگ چھڑ گئی، اُس وقت ساری مسلم دنیا میں عزت بیگووچ ہیرو بن گئے۔ مگر آج یہی عزت بیگووچ جب امن اور صلح کی بات کرتے ہیں تو اب وہ مسلمانوں کے…
…ہشام میںآج بھی موجود ہے۔ اُس کو پڑھیے تو اُس میں ایک لفظ بھی شکایت اور احتجاج کا نہیں ملے گا۔ اس پورے خطبہ کا خلاصہ اُن کے اس جملہ میں ہے: اتقوا النار و لو بشق تمرۃ (اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ کیوں نہ ہو)۔
عجیب بات ہے کہ اسی رسول کے امتی آج رسول کی سنت کے برعکس شکایت اور احتجاج کی سرگرمیوں میں مشغول ہیں۔ حتیٰ کہ مکہ اور مدینہ میںبھی یہی خلاف سنت کام نہایت دھوم کے ساتھ جاری ہے۔ کوئی اللہ کا بندہ اگر اُنہیں اس روش کو ترک کرنے کی نصیحت کرے تو وہ اُس کے دشمن ہوجاتے ہیں۔ اس قسم کی خلافِ سنت سرگرمیاں بلاشبہہ خدا کے غضبکو دعوت دینے والی ہیں، خواہ یہ سرگرمیاں مقدس مقامات پر کیوں نہ کی جارہی ہوں۔
اصل یہ ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے انسانوں کا ظلم نہیںہے بلکہ وہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کا انتباہ ہے۔ یہ سب مسلمانوں کو چوکنّا کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ مسلمانوں کے لیے فلاح کی واحد صورت یہ ہے…
…اُن کی پیدائش موصل میں ہوئی۔ اُنہوں نے مدینہ میں ۳۸ھ میں وفات پائی۔ بوقت وفات اُن کی عمر تقریباً ستّر سال تھی۔ اُن سے تین سو سات حدیثیں مروی ہیں۔ اُن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أنا سابق العرب، وصہیب سابق الروم۔
صہیب رومی کا تذکرہ تاریخ اسلام کی اکثر کتابوں میں آیا ہے۔ مثلاً طبقات ابن سعد، تاریخ ابن عساکر، وغیرہ۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صہیب رومی ایک اونچے خاندان کے فرد تھے۔ پھر وہ مکہ میں تجارت کرنے لگے۔ انہوں نے تجارت میں کافی دولت کمائی (کان صہیب قد ربح مالا وفیرا من تجارتہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ سے مدینہ کے لیے ہجرت فرمائی تو صہیب رومی نے بھی ہجرت کا فیصلہ کیا۔ روایات بتاتی ہیں کہ اُن کی ہجرت کی خبر لوگوں کو ہوگئی۔ چنانچہ قریش کے کچھ نوجوان اُن کے پاس آئے۔ اُنہوں نے کہا کہ تم نے اپنا یہ مال…
…میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: انا فتحنا لک فتحا مبینا(الفتح ۱)۔ دوسر ے لفظوں میں یہ کہ فریقِ ثانی کے ساتھ صلح کرنا اسلام کے لیے فتح مبین کا ذریعہ ہے۔مصالحانہ رویہ اختیار کرنا اسلام کے لیے پُرامن فاتحانہ اقدام کا راستہ کھولتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس اعتبار سے ہندستان میںکرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان معتدل تعلقات قائم کئے جائیں۔ یک طرفہ اعراض کے ذریعہ امن کے ماحول کو برقرار رکھا جائے۔ اس کے بعد اسلام کی نظریاتی اشاعت اپنے آپ ہونے لگے گی۔ ہندستانی صوفیاء کا تجربہ اس معاملہ کی ایک تاریخی مثال ہے۔ اُن کے زمانہ میں اسلام کی اشاعت کا خاص سبب یہی تھا کہ اُنہوں نے اپنی صلح کُل کی پالیسی کے ذریعہ فرقہ وارانہ کشیدگی کے ماحول کو ختم کر دیا تھا۔
موجودہ دنیا کا نظام آزادمسابقت کے اصول پر بنایا گیا ہے۔ اس بنا پر موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک فریق کو دوسرے فریق سے شکایتیں پیدا ہوں۔ یہ ایک فطری امر ہے جو ہمیشہ اور ہر سماج میں باقی رہے گاحتیٰ کہ خود مسلم سماج کے درمیان بھی…
…کے طریقہ کو درست سمجھتے ہیںوہ اس پر عمل کرنے کے لئے آزاد ہیں۔ مگر کسی کو بھی اس کی آزادی نہیں کہ وہ میرے اوپر جھوٹا الزام لگائے۔ یعنی میں طریقۂ کار کو چھوڑنے کی بات کروں اور وہ یہ مشہور کرے کہ میں خود مسجد کو چھوڑنے کی بات کررہا ہوں۔
ایک صاحب ملاقات کے لئے تشریف لائے۔ ان کاتعارف کراتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ مولانا نور الہدیٰ قاسمی ہیں۔ وہ جامعہ اسلامیہ عربیہ کے استاذ ہیں اور آپ کے ناقد بھی ہیں۔ میںنے کہا کہ عربی مقولہ ہے کہ:’’من ھو ناصحک خیرلک ممن ھو مادحک‘‘جو شخص تم کو نصیحت کرنے والا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہاری تعریف کرنے والاہے۔ میں نے کہا کہ تنقید اور تنقیص میں فرق ہے۔ تنقید ایک صحت مند عمل ہے۔ اس کے برعکس تنقیص ایک گناہ ہے۔ تنقید نام ہے علمی تجزیہ کا، جب کہ تنقیص عیب جوئی اور الزام تراشی کانام ہے۔
مولانا نور الہدیٰ صاحب نے فرمایا کہ آپ کی تحریروں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آپ جہاد بمعنٰی قتال کو ضروری نہیں سمجھتے، حالانکہ جہاد مسلمانوں کے لئے فرض ہے۔ خاص طورپر افغانستان جیسے ملکوں میں۔
…کا ذکر ہے جو اس زمانہ میں مدینہ میں رائج تھے۔پھر جب رسول اللہ کو ہر کھانا پسند تھا تو وہ کون سا کھانا ہے جو آپ کو پسند نہ تھا۔ پسند ایک انتخابی پسند کا نام ہے۔ جب ہر موجود چیز کے بارے میں پسند کی روایت ہو تو وہ انتخابی پسند نہیں بنتی۔
یہ سوال عرصہ سے میرے ذہن میں تھا۔ پھر میرے ساتھ ایک تجربہ گذرا۔ اس تجربہ کے بعد ان روایتوں کا مفہوم میری سمجھ میں آیا۔ عرصہ ہوا میںایک مرتبہ راجستھان کے علاقہ ’میرات‘ گیا۔یہاں مسلمانوں کی ایک آبادی تھی۔ وہ لوگ نہ صرف جاہل تھے بلکہ کلچر کے اعتبار سے نہایت پسماندہ تھے۔ میرے ساتھ دو اور عالم تھے۔ ہم لوگ وہاں پہنچے تو مغرب کا وقت ہو چکا تھا۔ تلاش کے بعد وہ آدمی ملا جس کے یہاں ہم لوگ مہمان بننے والے تھے۔ وہ ہم لوگوں کو ایک گھر کی چھت پر بٹھا کر چلا گیا۔ ہم لوگوں نے مغرب کی نماز پڑھی او رچھت پر بیٹھ گئے۔ میرے ساتھیوں کا خیال تھا کہ وہ آدمی چائے لینے کے لئے گیا ہے۔ مگر کافی دیر ہوگئی وہ چائے لے کر نہ آیا۔ یہاں تک کہ عشاء کا وقت ہوگیا اورہم لوگوں نے عشاء کی نماز پڑھی۔ مگر اب بھی آدمی کا پتہ نہ تھا۔ کافی دیر کے بعد وہ ہمارا کھانالے کر آیا ۔ یہ کھانا صرف دو چیزوں پر مشتمل تھاــــــارہر کی سادہ دال اور گلگلہ۔ یہ عجیب و غریب کھانا دیکھ کر میرے دونوں ساتھی غصہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ بندۂ خدا اتنی دیر کے بعد کھانا لایا ہے اور وہ بھی ارہر کی دال اور گلگلہ جن کا ایک دوسرے کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں۔اس وقت میری فطرت نے رہنمائی کی اور میں اچانک خوب تعریف کرکے اس کو کھانے لگا۔ میری زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے۔ یہ بہترین کھانا ہے۔ اس سے اچھا کوئی کھانا نہیں۔ یہ گویا فطرت کی زبان سے میرے سوال کا جواب تھا۔ اس تجربہ کے بعد میں نے سمجھا کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس وقت مدینہ میں کھانے کی چیزوں کی شدید قلت تھی۔ خاص طورپر مہاجرین کو اکثر بھوکا رہنا پڑتا تھا۔ اب یہ ہوتا تھا کہ کسی انصاری کو معلوم ہوا کہ لوگ بھوکے ہیں۔ وہ رسول اللہ کے پاس آتا۔ آپ کو اور کچھ دوسرے صحابہ کو لے کر اپنے گھر جاتا تاکہ ان کو کھانا کھلائے۔ وہاں گھر میں اکثر صرف ایک یا دو سادہ آئیٹم ہوتا تھا۔ وہ انصاری شرمندگی کے ساتھ اپنا سادہ کھانا اندر سے لے کر آتا اور رسول اللہ کے سامنے رکھ دیتا۔ اب رسول اللہﷺ تعریف کرکے اس کو کھانا شروع کردیتے۔ یہ حقیقتاً کھانے کی تعریف نہ ہوتی تھی بلکہ وہ صاحب خانہ کی شرمندگی کو دور کرنے کا ایک انداز تھا۔ یہ در اصل ایک اخلاقی کلمہ ہوتا تھا، نہ کہ تعریف طعام کا کلمہ۔ اس راز کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگوں نے اس کو پسندیدہ کھانے کے ساتھ جوڑ دیا اور خود اپنے غیر مطلوب شوقِ طعام کے لئے اس کو ایک شرعی جواز بنا لیا۔
مولانا شمس الدین ندوی نے مجلس میںایک سوال کیا کہ احادیث میں آتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی شکم سیر ہو کر کھانا نہیں کھایا۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ جہاں تک میرا خیال ہے، عام طورپر اس کے دو اسباب ہوتے تھے۔ ایک یہ…
…کیا ہے۔ جنگ اور امن دونوں دو مختلف طریقِ کار ہیں، وہ بذات خود مقصد نہیں ہیں۔ ایسی حالت میں اگر اس کا تعین ہو جائے کہ اسلامی مشن کا نشانہ کیا ہے تو اس کے بعد اپنے آپ اس کا تعین ہوجائے گا کہ اسلام کا طریقہ جنگ کاطریقہ ہے یا امن کاطریقہ۔
قرآن میں اس سوال کا واضح جواب دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ کی ایک متعلق آیت یہ ہے۔ قرآن میں پیغمبر اسلام کو خطاب کرتے ہوئے ایک عمومی حکم ان الفاظ میں دیا گیا ہے: وجاھدھم بہ جہادًا کبیرا (الفرقان ۵۲) یعنی اے محمد، لوگوں کے ساتھ تم قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کرو۔
قرآن ایک کتاب ہے، وہ کوئی گن یا تلوار نہیں۔ ایسی حالت میں قرآن کے ذریعہ جہاد کا مطلب واضح طورپر پر امن جدو جہد (peaceful struggle) ہے، نہ کہ مسلح جدوجہد(armed struggle)۔
…کاایک ناقابل تنسیخ حق مان لیا گیا ہے تواب صرف پر امن طریق کار ہی کا انتخاب کیا جائے گا۔ کیوں کہ وقت کے مسلّمہ اصول کے مطابق، پر تشدد طریق کار کو اختیار کرنے میں تو یقینًا رکاوٹیں ہیں مگر پر امن طریق کار کو اختیار کرنے میںکوئی رکاوٹ نہیں۔
یہاں یہ اضافہ کرنا مناسب ہوگا کہ پیغمبر اسلام کے زمانہ میں محدود نوعیت کی جو چند لڑائیاں پیش آئیں ان میں دراصل زمانی عامل (age-factor) کام کررہا تھا۔ یہ لڑائیاں ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں ہوئیں۔ یہ زمانہ مذہبی جبر اور مذہبی ایذا رسانی (religious persecution) کا زمانہ تھا۔ اس زمانہ میں موجودہ قسم کا مذہبی ٹالرنس نہیں پایا جاتا تھا۔ اس بنا پر توحید کے مخالفوں نے پیغمبراسلام کے خلاف جارحانہ کارروائی کرکے آپ کو لڑنے پر مجبور کردیا۔ موجودہ زمانہ میں مذہبی آزادی ہر فرد اور ہر گروہ کا ایک مسلّم حق بن چکی ہے ۔ اس لئے موجودہ زمانہ میں مذہبی حقوق کے لئے جنگ کا کوئی سوال نہیں۔
اسلام میں امن کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ہر ناخوش گوار صورت حال کو برداشت کرتے ہوئے حالت امن کو برقرار رکھنے کا حکم دیا گیاہے۔ فریقِ مخالف کی ایذا رسانی پر صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کرنا اور اس کو ہر قیمت پر یک طرفہ تدبیر کے ذریعہ باقی…
…اہل اسلام کا طریقہ جنگ نہیں ہے بلکہ اعراض جنگ ہے۔ انہیں ایک طرف یہ کرنا ہے کہ جنگ کی حد تک جائے بغیر اپنے مفادات کا تحفظ کریں۔ دوسری طرف ان کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ امن کے پیغامبر بنیں۔ وہ دنیا میںامن کے تاجر ہوں، نہ کہ جنگ کے تاجر۔
اسلام کی یہی اسپرٹ ہے جس کی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کو جب مدینہ میں اقتدار ملا تو آپ نے ایسا نہیں کیا کہ لوگوں کو اپنا ماتحت بنانے کے لئے ان سے جنگ چھیڑ دیں۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ عرب میں پھیلے ہوئے قبائل سے گفت و شنید کرکے ان سے معاہدے کئے۔ اس طرح آپ نے پورے عرب میں پھیلے ہوئے قبائل کو معاہدات کے ایک شیرازۂ امن میں باندھ دیا۔
اسلام کی تعلیم کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اسلام ان اسباب کی جڑ کاٹ دینا چاہتا ہے جوجنگ کی طرف لے جانے والے ہیں۔جنگ کرنے والا جنگ کیو ں کرتا ہے۔ اس کے دو بنیادی سبب ہیں۔ ایک ہے دشمن کو ختم کرنے کی کوشش کرنا۔ اور دوسرا سبب ہے…
…تو اہل اسلام کو بھی لازماً امن کی روش اختیار کرنی ہوگی۔ اہل اسلام ایسا نہیں کرسکتے کہ فریقِ ثانی کی پر امن روش کے باوجود کوئی عذر لے کر اس کے خلاف جنگی کارروائی کرنے لگیں۔ اس معاملہ میں عملی جارحیت کے سوا کوئی بھی دوسرا عذر قابل قبول نہیں۔
جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ۵۷۰ء میں مکہ میںہوئی۔ ۶۱۰ء میں آپ کو نبوت ملی۔ اس کے بعد آپ ۲۳ سا ل تک پیغمبر کی حیثیت سے دنیا میں رہے۔ اس ۲۳ سالہ مدت کے ابتدائی ۱۳ سال آپ نے مکہ میں گزارے اور بعد کے ۱۰ سال مدینہ میں۔ قرآن کی کچھ سورتیں مکی دو رمیں نازل ہوئیں اور کچھ سورتیں مدنی دور میں ۔ اس پیغمبرانہ مدت میں آپ نے کیا کیا۔
آپ نے لوگوں کو اقرأ باسم ربک الذی خلق(العلق) اور اس قسم کی دوسری غیر حربی آیتیں سنائیں۔ آپ لوگوںسے یہ کہتے رہے کہ ایھا الناس قولوا لا الٰہ الا اللّٰہ تفلحوا۔
…ہے۔ یہ زندگی کی ایک حقیقت ہے نہ کہ زندگی کا ایک مسئلہ۔ اس کا نہایت سادہ حل قرآن نے یہ تجویز کیا ہے کہ جب کوئی اختلافی سوال کھڑا ہو تو ہر شخص اس پر طبع آزمائی نہ کرے بلکہ اس کو ان لوگوں کے پاس لے جایا جائے جو علم اور تحقیق کے مالک ہیں
وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ(4:83)۔یعنی، اور جب ان کے پاس کوئی خبر پہنچتی ہے، امن کی یا خوف کی تو اس کو پھیلا دیتے ہیں۔ اگر یہ اس کو رسول تک اور اپنے اصحاب امر تک پہنچاتے تو اس کو وہ لوگ جان لیتے جو تحقیق کرنے والے ہیں۔
یہ اختلاف پیدا ہونے کی شکل میں پہلا قدم ہے ۔ لیکن اگر اصحاب علم کی مجلس بھی کسی ایک رائے پر نہ پہنچ سکے تو آخری تدبیر یہ بتائی گئی کہ رائے شماری کے ذریعہ کسی ایک فیصلہ پر پہنچ کر اس کے مطابق عمل کرووَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ…
…وہ لوگ جو حق کے خلاف کچھ الفاظ بول کر سمجھتے ہیں کہ انھوں نے حق کا اعتراف نہ کرنے کے لیے مضبوط استدلالی سہارے دریافت کرليے ہیں، بہت جلد ان کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ محض فرضی سہارے تھے جو ان کے نفس نے اپنی جھوٹی تسکین کے لیے وضع کرليے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ تھی کہ جن امور میں ابھی وحی نہ آئی ہو ان میں آپ پچھلے انبیاء کے طریقےکی پیروی کرتے تھے۔ اسی بنا پر آپ نے ابتداميں بیت المقدس کو قبلہ بنا لیا تھا جو حضرت سلیمان کے زمانہ سے بنی اسرائیل کے پیغمبروں کا قبلہ رہا ہے۔ یہود کو جب اللہ تعالیٰ نے دین کي امامت وپیشوائی سے معزول کیا تو اس کے بعد یہ بھی ضروری ہوگیا کہ دین کو زوال یافتہ روایات سے جدا کردیا جائے تاکہ خدا کا دین ہر اعتبار سے اپنی خالص شکل میں نمایاں ہوسکے۔ اسی مصلحت کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تبدیلیٔ قبلہ کے حکم کا انتظار رہتا تھا۔ چنانچہ ہجرت کے دوسرے سال یہ حکم آگیا۔ بنی اسرائیل کے انبیاء جو یہود کو خبر دار کرنے کے لیے آئے، وہ پہلے ہی اس فیصلۂ الٰہی کی بابت یہود کو بتا چکے تھے اور ان کے علما اس معاملہ کو اچھی طرح جانتے تھے۔ تاہم ان میں صرف چند لوگ (جیسے عبد اللہ بن سلّام اور مخيریق رضی اللہ عنہما) ایسے نکلے جنھوں نے آپ کی تصدیق کی اور اس بات کا اقرار کیا کہ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سچے دین کا اظہار فرمایا ہے۔ان کے نہ ماننے کی وجہ محض ان کی خواہش پرستی تھی۔ وہ جن گروہی خوش خیالیوں میں جی رہے تھے، ان سے وہ نکلنا نہیں چاہتے تھے۔ اور جو انکار محض خواہش پرستی کی بنا پر پیداہو اس کو توڑنے میں کبھی کوئی دلیل کامیاب نہیں ہوتی۔ ایسا آدمی دلائل کے انکار سے اپنے ليے وہ رزق حاصل کرنے کی کوشش کرتاہے جو اس کے خالق نے صرف دلائل کے اعتراف میں رکھا ہے۔
اللہ کی طرف سے جب کسی امرِ حق کا اعلان ہوتاہے تو وہ ایسے قطعی دلائل کے ساتھ ہوتا ہے کہ کوئی اللہ کا بندہ اس کی صداقت کو پہچاننے سے عاجز نہ رہے۔ایسی حالت میں جو لوگ شبہ میں پڑیں وہ صرف یہ ثابت کررہے ہیں کہ وہ خدا سے آشنا نہ تھے۔ اس ليے وہ خدا کی بولی کو پہچان نہ سکے۔ اسی طرح وہ لوگ جو حق کے خلاف کچھ الفاظ بول کر سمجھتے ہیں کہ انھوں نے حق کا اعتراف نہ کرنے کے لیے مضبوط استدلالی سہارے دریافت کرليے ہیں، بہت جلد ان کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ محض فرضی سہارے تھے جو ان کے نفس نے اپنی جھوٹی تسکین کے لیے وضع کرليے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ تھی کہ جن امور میں ابھی وحی نہ آئی ہو ان میں آپ پچھلے انبیاء کے طریقےکی پیروی کرتے تھے۔ اسی بنا پر آپ نے ابتداميں بیت المقدس کو قبلہ بنا لیا تھا جو حضرت سلیمان کے زمانہ سے بنی اسرائیل کے پیغمبروں…
…ہیں۔ یہ حقوق وہ ہیں جن کو آدمی کا تقویٰ اس کو محسوس کراتاہے۔ اور آدمی کا متقیانہ احساس جتنا شدید ہو اتنا ہی زیادہ وہ اس کو اپنے اوپر لازم سمجھتا ہے۔ اندر کا یہ زوراگر موجود نہ ہو تو آدمی کبھی صحیح طورپر د وسروں کے حقوق ادا نہیں کرسکتا۔
نماز گویا دین کا خلاصہ ہے۔ نماز مومنانہ زندگی کی وہ مختصر تصویر ہے جو پھیلتی ہے تو مکمل اسلامی زندگی بن جاتی ہے۔ یہاں ایک مختصر فقرہ میں نماز کے تین اہم ترین اجزاء کو بیان کردیا گیا ہے(1)نماز کا پانچ وقت کے لیے فرض ہونا۔2) (نماز کا ایک قابل اہتمام چیز ہونا۔(3)یہ بات کہ نماز کی اصل حقیقت عجز ہے۔
’’پابندی کرو نمازوں کی اور پابندی کرو بیچ کی نماز کی‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ نمازوں میں ایک بیچ کی نماز ہے اور پھر اس کے دونوں طرف نمازیں ہیں۔ اس جملہ میں اطراف کی ’’نمازوں‘‘ سے کم از کم چار کا عدد مراد لینا ضروری ہے کیوں کہ عربی زبان میں صلوات (نمازوں) کا اطلاق تین یا اس سے زیادہ کے عدد کے لیے ہوتا ہے۔ پہلا ممکن عدد جس میں ’’نمازوں‘‘کے درمیان ایک ’’بیچ کی نماز‘‘ بن سکے چارہی ہے۔ اس طرح ایک نماز بیچ کی نماز ہو کر اس کے دونوں طرف دو دو نمازیں ہوجاتی ہے۔ ’’بیچ کی نماز‘‘ سے مراد عصر کی نماز ہے جیسا کہ روایات سے ثابت ہے۔ نماز کے دوسرے پہلو کو بتانے کے لیے ’’محافظت‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ گویا نماز اسی طرح حفاظت کی ایک چیز ہے جس طرح مال آدمی کے لیے حفاظت کی چیز ہوتا ہے۔ نماز کے اوقات کا پورا لحاظ، اس کو بتائے ہوئے طریقہ پر ادا کرنے کا اہتمام، ایسی چیزوں سے بالقصد پرہیز جو آدمی کی نماز میں کوئی خرابی پیدا کرنے والی ہوں وغیرہ، محافظت نماز میں شامل ہیں۔ نماز کا تیسرا پہلو عجز ہے۔ یہ نماز کی اصل روح ہے، نماز بندے کا اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اس ليے ضروری ہے کہ نماز کے وقت آدمی کے اوپر وہ کیفیت طاری ہو جو سب سے بڑے کے آگے کھڑے ہونے کی صورت میں سب سے چھوٹے کے اوپر طاری ہوتی ہے۔
معاشرت کے احکام بتاتے ہوئے یہ کہنا کہ ’’یہ حق ہے متقیوں کے اوپر‘‘ شریعت کے ایک اہم پہلو کو ظاہر کرتاہے۔ باہمی معاملات میں کچھ حقوق وہ ہیں جن کو قانون نے متعین کردیا ہے۔ مگر ایک آدمی پر دوسرے کے حقوق کی حدیں یہیں ختم نہیں ہوجاتیں۔ متعین حقوق کے علاوہ بھی کچھ حقوق ہیں۔ یہ حقوق وہ ہیں جن کو آدمی کا تقویٰ اس کو محسوس کراتاہے۔ اور آدمی کا متقیانہ احساس جتنا شدید ہو اتنا ہی زیادہ وہ اس کو اپنے اوپر لازم سمجھتا ہے۔ اندر کا یہ زوراگر موجود نہ ہو تو آدمی کبھی صحیح طورپر د وسروں کے حقوق ادا نہیں کرسکتا۔
مکہ سے تنگ آکر مسلمان مدینہ چلے آئے۔مدینہ میں اپنے دین کے مطابق رہنے کے لیے نسبتاً آزادانہ ماحول تھا۔ مگر مخالفین اسلام نے اب بھی ان کو نہ چھوڑا۔ انھوںنے فوجی حملے شروع کرديے تا کہ مدینہ سے مسلمانوں کا خاتمہ کردیں۔ اس وقت حکم ہوا کہ ان…
…قرض حسن فرمایا۔
مومن کی راہ میں مشکلات کا پیش آنا کوئی محرومی کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے فضل کا نیا دروازہ کھلنا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے جان ومال کو اللہ کے لیے خرچ کرکے اللہ کی ان عنایتوں کا مستحق بنتا ہے جو عام حالات میں کسی کو نہیں ملتیں۔
مکہ سے تنگ آکر مسلمان مدینہ چلے آئے۔مدینہ میں اپنے دین کے مطابق رہنے کے لیے نسبتاً آزادانہ ماحول تھا۔ مگر مخالفین اسلام نے اب بھی ان کو نہ چھوڑا۔ انھوںنے فوجی حملے شروع کرديے تا کہ مدینہ سے مسلمانوں کا خاتمہ کردیں۔ اس وقت حکم ہوا کہ ان سے مقابلہ کرو۔ مخالفین کی نسبت سے اس وقت مسلمانوں کی طاقت بہت کم تھی۔ اس ليے کچھ لوگوں کے اندر بے ہمتی پیدا ہوئی۔ یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک واقعہ یاد دلا کر بتایا گیا کہ زندگی کے معرکہ میں شکست سے ڈرنے ہی کا نام شکست ہے۔
بنی اسرائیل کی ایک پڑوسی قوم فلستی نے ان پر حملہ کردیا۔ بنی اسرائیل شکست کھاگئے۔ فلستیوں نے دو حملوں میں ان کے
34
ہزار آدمی مار ڈالے۔ بنی اسرائیل اتنا ڈرے کہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ بائبل کے الفاظ میں ’’حشمت بنی اسرائیل سے جاتی رہی‘‘ (سموئيل
4:22
)۔ بنی اسرائیل کا سارا گھرانا خوف میں مبتلا ہوکر نوحہ وفریاد کرنے لگا۔ اسی حال میں ان کو 20 سال گزر گئے۔ پھر انھوں نے سوچا کہ فلستیوں کے سامنے ان کو شکست کیوں ہوئی۔ ان کے نبی سموئیل نے کہا کہ شکست کی وجہ خدا میں تمھارے یقین کا کمزور ہوجانا ہے۔ انھوںنے اسرائیل کے سارے گھرانے سے کہا کہ اگر تم اپنے سارے دل سے خداوند کی طرف رجوع لاتے ہو تو اجنبی دیوتاؤں کو اپنے بیچ سے دور کردو اور خداوند کے لیے اپنے دلوں کو مستعد کرکے فقط اسی کی عبادت کرو۔ خدا فلستیوں کے ہاتھ سے تم کو رہائی دے گا۔ تب اسرائیليوں نے اجنبی دیوتاؤں کو اپنے سے دور کیا اور فقط خداوند کی عبادت کرنے لگے۔ اب جب دوبارہ فلستیوں اور اسرائیلیوں میں جنگ ہوئی تو بائبل کے الفاظ میں ’’خداوند فلستیوں کے اوپر اس دن بڑی کڑک کے ساتھ گرجا اور ان کو گھبرا دیا۔ اور انھوں نے اسرائیلیوں کے آگے شکست کھائی(سموئيل
7:70
)۔ اللہ پر اعتماد کے راستہ کو چھوڑ کر ان پر ملّی موت واقع ہوئی تھی، اللہ پر اعتماد کے راستہ کو اختیار کرنے کے بعد ان کو ملّی زندگی حاصل ہوگئی۔
قرض حسن کے معنی ہیں اچھا قرض۔ یہاں اس سے مراد وہ انفاق ہے جو خدا کے دین کی راہ میں کیا جائے۔ یہ انفاق خالص اللہ کے لیے ہوتا ہے جس میں کوئی دوسرا مفاد شامل نہیں ہوتا۔ اس ليے خدا نے اس کو اپنے ذمّے قرض قرار دیا۔ اور چوں کہ وہ بہت زیادہ اضافہ کے ساتھ اس کولو ٹائے گا اس ليے اس کو قرض حسن فرمایا۔
مومن کی راہ میں مشکلات کا پیش آنا کوئی محرومی کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے فضل کا نیا دروازہ کھلنا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے جان ومال کو اللہ کے لیے خرچ کرکے اللہ کی ان عنایتوں کا مستحق بنتا ہے جو عام حالات میں کسی کو نہیں ملتیں۔
مکہ سے تنگ آکر مسلمان مدینہ چلے آئے۔مدینہ میں اپنے دین کے مطابق رہنے کے لیے نسبتاً آزادانہ ماحول تھا۔ مگر مخالفین اسلام نے اب بھی ان کو نہ چھوڑا۔ انھوںنے فوجی حملے شروع کرديے تا کہ مدینہ سے مسلمانوں کا خاتمہ کردیں۔ اس وقت حکم ہوا کہ ان…
…گا جس کی تعمیل تمھارے لیے بے حد مشکل ہو۔
۳۔ اس واقعہ کے ذریعہ انسانوں کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ دوسری زندگی اسی طرح ایک ممکن زندگی ہے جیسے پہلی زندگی۔ اللہ ہر آدمی کو مرنے کے بعد زندہ کردے گا اور اس کو دوبارہ ایک نئی دنیا میں اٹھائے گا۔
خدا کے حکم کے بارے میں جو لوگ بحثیں اور تاویلیں کریں ان کے اندر دھیرے دھیرے بے حسی کا مرض پیدا ہوجاتا ہے۔ ان کے دل سخت ہوتے چلے جاتے ہیں۔ خدا کا نام سب سے بڑی ہستی کا نام ہے۔ آدمی کے اندر ایمان زندہ ہو تو خدا کا نام اس کو ہلا دیتا ہے۔ بولنے سے زیادہ اسے چپ لگ جاتی ہے۔ مگر جب دلوں میں جمود اور بے حسی آتی ہے تو خدا کی باتوں میں بھی اسی قسم کی بحثیں اور تاویلیں شروع کردی جاتی ہیں جو عام انسانی کلام میں کی جاتی ہیں۔ اس قسم کا عمل ان کی بے حسی میں اور اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے دل پتھر کی طرح سخت ہوجاتے ہیں۔ اب خدا کا تصور ان کے دلوں کو نہیں پگھلاتا، وہ ان کے اندر تڑپ پیدا نہیں کرتا۔ وہ ان کی روح کے اندر ارتعاش پیدا کرنے کا سبب نہیں بنتا ۔
پتھروں کا ذکر یہاں تمثیل کے طورپر کیا گیاہے۔ خدا نے اپنی کائنات کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ آدمی کے لیے عبرت و نصیحت کا سامان بن گئی ہے۔ یہاں کی ہر چیز خاموش مثال کی زبان میں اسی مرضیٔ رب کا عملی نشان ہے جو مرضیٔ رب قرآن میں ان الفاظ کے ذریعہ بیان کی گئی ہے۔
پتھروں کے ذریعہ خدا نے اپنی دنیا میں جو تمثیلات قائم کی ہیں ان میں سے تین چیزوں کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔
پہاڑوں پر ایک مشاہدہ یہ سامنے آتا ہے کہ پتھروں کے اندر سے پانی کے سوتے بہتے رہتے ہیں جو بالآخر مل کر دریا کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ یہ اس انسان کی تمثیل ہے جس کے دل میں اللہ کا ڈر بسا ہوا ہو اور وہ آنسوؤں کی صورت میں اس کی آنکھ سے بہہ پڑتا ہے۔
دوسری مثال اس پتھر کی ہے جو بظاہر خشک چٹان معلوم ہو، مگر جب توڑنے والے اس کو توڑتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے نیچے پانی کا بڑا ذخیرہ موجود تھا۔ ایسی چٹانوں کو توڑکر کنوئیں بنائے جاتے ہیں۔ یہ اس انسان کی تمثیل ہے جو بظاہر خدا سے دور معلوم ہوتاتھا۔ اس کے بعد اس پر ایک حادثہ گزرا۔ اس حادثے نے اس کی روح کو ہلا دیا۔ وہ آنسوؤں کے سیلاب کے ساتھ خدا کی طرف دوڑ پڑا۔
پتھروں کی دنیا میں تیسری مثال ہبوط (لینڈ سلائڈ) کی ہے۔ یعنی پہاڑوں کے اوپر سے پتھر کے ٹکڑوں کا لڑھک کر نیچے آجانا۔ یہ اس انسان کی تمثیل ہے جس نے کسی انسان کے مقابلے میں غلط رویہ اختیا رکیا۔ اس کے بعد اس کے سامنے خدا کا حکم پیش کیا گیا۔ خدا کا حکم سامنے آتے ہی وہ ڈھ پڑا۔ انسان کے سامنے وہ جھکنے کے لیے تیار نہ تھا۔ مگر جب انسان کا معاملہ خدا کا معاملہ بن گیا تو وہ عاجزانہ طورپر اس کے آگے گر پڑا۔
مدینہ کے لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے ان کے اس قدر جلد آپ کو پہچان لینے اور آپ کو مان لینے کا ایک سبب یہ تھا کہ وہ یہودی پڑوسیوں سے اکثر سنتے رہتے تھے کہ ایک آخری نبی آنے والے ہیں۔ اس بنا پر نبی آخر الزماں کی…
…کی زد میں نہیں آتا۔ وہ خدا کو مانتا ہے مگر اس کی بے حسی اس کو ایسے ایسے کاموں کے لیے ڈھیٹ بنادیتی ہے، جو کوئی ایسا آدمی ہی کرسکتا ہے جو نہ خدا کو مانتا ہو اور نہ یہ جانتا ہو کہ اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے اور اس کی باتوں کو سن رہا ہے۔
مدینہ کے لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے ان کے اس قدر جلد آپ کو پہچان لینے اور آپ کو مان لینے کا ایک سبب یہ تھا کہ وہ یہودی پڑوسیوں سے اکثر سنتے رہتے تھے کہ ایک آخری نبی آنے والے ہیں۔ اس بنا پر نبی آخر الزماں کی آمد کی خبر ان کے لیے ایک مانوس خبر تھی۔ یہ مسلمان طبعی طورپر اس امید میں تھے کہ جن یہودیوں کی باتیں سن کر ان کے دل کے اندر قبولِ اسلام کا ابتدائی جذبہ ابھرا تھا وہ یقیناً خود بھی آگے بڑھ کر اس پیغمبر کا ساتھ دیں گے۔ چنانچہ وہ پُر جوش طورپر ان یہودیوں کے پاس اسلام کا پیغام لے کر جاتے اور ان کو دعوت دیتے کہ وہ آپ پر ایمان لا کر آپ کا ساتھ دینے والے بنیں۔
مگر مسلمانوں کو اس وقت سخت دھکا لگتا جب وہ دیکھتے کہ ان کی امیدوں کے برعکس یہودِ مدینہ ان کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ اس کے نتیجے میں ایک اور فتنہ پیدا ہو نے لگاتھا۔وہ فتنہ یہ تھا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو ناپسند کرتے تھے۔ وہ مسلمانوں سے کہتے کہ پیغمبر اسلام کا معاملہ اتنا یقینی نہیں جتنا تم لوگوں نے سمجھ لیا ہے۔ اگر وہ اتنا یقینی ہوتا تو مدینہ کے یہ یہودی علماء ضرور ان کی طرف دوڑ پڑتے۔ کیوں کہ وہ آسمانی کتابوں کے بارے میں تم سے زیادہ جانتے ہیں ۔
مگر کسی بات کو قبول کرنے کے لیے اس بات کا جاننا کافی نہیں ہے۔ بلکہ اس بات کے بارے میں سنجیدہ ہونا ضروری ہے۔ پچھلی قوموں کا حال یہ تھا کہ انھوں نے خود اپنے پاس کی ان کتابوں میں تبدیلیاں کر ڈالیں جن کو وہ آسمانی کتابیں مانتے تھے۔ اپنی مقدس کتابوں میں وہ جس بات کو اپنی خواہش کے خلاف دیکھتے اس میں تاویل یا تحریف کرکے اس کو اپنی خواہش کے مطابق بنا لیتے۔ وہ اپنے دین کو اپنے دنیوی مفادات کے تابع بنائے ہوئے تھے۔ جو لوگ اپنے عمل سے اس قسم کی غیر سنجیدگی کا ثبوت دے رہے ہوں وہ اپنے سے باہر کسی حق کو ماننے پر کیسے راضی ہوجائیں گے۔
کوئی بات خواہ کتنی ہی برحق ہو، اگر آدمی اس کا انکار کرنا چاہے تو وہ اس کے لیے کوئی نہ کوئی تاویل ڈھونڈ لے گا۔ اس تاویل کی آخری صورت کا نام تحریف ہے۔ اس طرز عمل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے معاملہ کی سنگینی آدمی کے دل سے نکل جاتی ہے۔ وہ خدا کے حکم کو سنتا ہے مگر لفظی تاویل کرکے مطمئن ہوجاتا ہے کہ اس کا اپنا معاملہ اس حکم کی زد میں نہیں آتا۔ وہ خدا کو مانتا ہے مگر اس کی بے حسی اس کو ایسے ایسے کاموں کے لیے ڈھیٹ بنادیتی ہے، جو کوئی ایسا آدمی ہی کرسکتا ہے جو نہ خدا کو مانتا ہو اور نہ یہ جانتا ہو کہ اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے اور اس کی باتوں کو سن رہا ہے۔
مدینہ کے لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے ان کے اس قدر جلد آپ کو پہچان لینے اور آپ کو مان لینے کا ایک سبب یہ تھا کہ وہ یہودی پڑوسیوں سے اکثر سنتے رہتے تھے کہ ایک آخری نبی آنے والے ہیں۔ اس بنا پر نبی آخر الزماں کی…
…کی زد میں نہیں آتا۔ وہ خدا کو مانتا ہے مگر اس کی بے حسی اس کو ایسے ایسے کاموں کے لیے ڈھیٹ بنادیتی ہے، جو کوئی ایسا آدمی ہی کرسکتا ہے جو نہ خدا کو مانتا ہو اور نہ یہ جانتا ہو کہ اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے اور اس کی باتوں کو سن رہا ہے۔
مدینہ کے لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے ان کے اس قدر جلد آپ کو پہچان لینے اور آپ کو مان لینے کا ایک سبب یہ تھا کہ وہ یہودی پڑوسیوں سے اکثر سنتے رہتے تھے کہ ایک آخری نبی آنے والے ہیں۔ اس بنا پر نبی آخر الزماں کی آمد کی خبر ان کے لیے ایک مانوس خبر تھی۔ یہ مسلمان طبعی طورپر اس امید میں تھے کہ جن یہودیوں کی باتیں سن کر ان کے دل کے اندر قبولِ اسلام کا ابتدائی جذبہ ابھرا تھا وہ یقیناً خود بھی آگے بڑھ کر اس پیغمبر کا ساتھ دیں گے۔ چنانچہ وہ پُر جوش طورپر ان یہودیوں کے پاس اسلام کا پیغام لے کر جاتے اور ان کو دعوت دیتے کہ وہ آپ پر ایمان لا کر آپ کا ساتھ دینے والے بنیں۔
مگر مسلمانوں کو اس وقت سخت دھکا لگتا جب وہ دیکھتے کہ ان کی امیدوں کے برعکس یہودِ مدینہ ان کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ اس کے نتیجے میں ایک اور فتنہ پیدا ہو نے لگاتھا۔وہ فتنہ یہ تھا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو ناپسند کرتے تھے۔ وہ مسلمانوں سے کہتے کہ پیغمبر اسلام کا معاملہ اتنا یقینی نہیں جتنا تم لوگوں نے سمجھ لیا ہے۔ اگر وہ اتنا یقینی ہوتا تو مدینہ کے یہ یہودی علماء ضرور ان کی طرف دوڑ پڑتے۔ کیوں کہ وہ آسمانی کتابوں کے بارے میں تم سے زیادہ جانتے ہیں ۔
مگر کسی بات کو قبول کرنے کے لیے اس بات کا جاننا کافی نہیں ہے۔ بلکہ اس بات کے بارے میں سنجیدہ ہونا ضروری ہے۔ پچھلی قوموں کا حال یہ تھا کہ انھوں نے خود اپنے پاس کی ان کتابوں میں تبدیلیاں کر ڈالیں جن کو وہ آسمانی کتابیں مانتے تھے۔ اپنی مقدس کتابوں میں وہ جس بات کو اپنی خواہش کے خلاف دیکھتے اس میں تاویل یا تحریف کرکے اس کو اپنی خواہش کے مطابق بنا لیتے۔ وہ اپنے دین کو اپنے دنیوی مفادات کے تابع بنائے ہوئے تھے۔ جو لوگ اپنے عمل سے اس قسم کی غیر سنجیدگی کا ثبوت دے رہے ہوں وہ اپنے سے باہر کسی حق کو ماننے پر کیسے راضی ہوجائیں گے۔
کوئی بات خواہ کتنی ہی برحق ہو، اگر آدمی اس کا انکار کرنا چاہے تو وہ اس کے لیے کوئی نہ کوئی تاویل ڈھونڈ لے گا۔ اس تاویل کی آخری صورت کا نام تحریف ہے۔ اس طرز عمل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے معاملہ کی سنگینی آدمی کے دل سے نکل جاتی ہے۔ وہ خدا کے حکم کو سنتا ہے مگر لفظی تاویل کرکے مطمئن ہوجاتا ہے کہ اس کا اپنا معاملہ اس حکم کی زد میں نہیں آتا۔ وہ خدا کو مانتا ہے مگر اس کی بے حسی اس کو ایسے ایسے کاموں کے لیے ڈھیٹ بنادیتی ہے، جو کوئی ایسا آدمی ہی کرسکتا ہے جو نہ خدا کو مانتا ہو اور نہ یہ جانتا ہو کہ اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے اور اس کی باتوں کو سن رہا ہے۔
آرزوؤں (امانی) سے مراد وہ جھوٹے قصے کہانیاں ہیں جوخدائی کتاب کی حامل زوال یافتہ قوموں نے اپنے دین کے بارے میں گھڑ رکھی تھیں اور جو اپنی ظاہرفریبی کی وجہ سے عوام میں خوب پھیل گئی تھیں (أَكَاذِيبَ مُخْتَلِفَةً سَمِعُوهَا مِنْ…
…ان کے سارے حقوق خدا کے یہاں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوچکے ہیں، ایسے لوگ سچے دین کی دعوت کو کبھی گوارا نہیں کرتے۔ کیوں کہ ایسی باتیں ان کو اپنی میٹھی نیند کو خراب کرتی ہوئی نظر آتی ہیں، وہ ان کو زندگی کی برہنہ حقیقتوں کے سامنے کھڑا کر دیتی ہیں۔
انسان کے اوپر اللہ کا پہلا حق یہ ہے کہ وہ اللہ کا عبادت گزار بنے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ دوسرا حق بندوں کے ساتھ حسن سلوک ہے۔ اس حسن سلوک کا آغاز اپنے ماں باپ سے ہوتا ہے اور پھر رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے گزر کر ان تمام انسانوں تک پہنچ جاتا ہے جن سے عملی زندگی میںسابقہ پیش آئے۔ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان جب بھی کوئی معاملہ پڑے تو وہاں ایک ہی برتاؤ اپنے بھائی کے ساتھ درست ہے۔ اور وہ وہی ہے جو انصاف اور خیر خواہی کے مطابق ہو۔
اس معاملہ میں آدمی کا اصل امتحان ’’یتیموں اور مسکینوں‘‘ بالفاظ دیگر، کمزور افراد کے ساتھ ہوتا ہے۔ کیوں کہ جو طاقت ور ہے اس کا طاقت ور ہونا خود اس بات کی ضمانت ہے کہ لوگ اس کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ مگر کمزور آدمی کے ساتھ حسن سلوک کے لیے اس قسم کا کوئی اضافی محرک نہیں۔ اس لیے سب سے زیادہ حسن سلوک جہاں مطلوب ہے وہ کمزور لوگ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں ہر چیز کی نفی ہوجاتی ہے وہاں خداہوتا ہے۔ ایسے آدمی کے ساتھ وہی شخص حسن سلوک کرے گا جو فی الواقع اللہ کی خوشنودی کے لیے ایسا کررہا ہو۔ کیوں کہ وہاں کوئی دوسرا محرک موجود ہی نہیں۔
جب معاملہ کمزور آدمی سے ہوتو مختلف وجوہ سے حسن سلوک کا شعور دَب جاتا ہے۔ کمزور آدمی کو مدد دی جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پانے والے کے مقابلہ میں دینے والا اپنے کو اونچا سمجھنے لگتا ہے۔ یہ نفسیات کمزورآدمی کی عزت نفس کو ملحوظ رکھنے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ کمزور کی طرف سے متوقع نیاز مندی کا اظہار نہ ہو تو فوراً اس کو نااہل سمجھ لیا جاتا ہے اور اس کا اظہار مختلف تکلیف دہ صورتوں میں ہوتا رہتا ہے، ایک دو بار مدد کرنے کے بعد یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ شخص مستقل طورپر میرے سر نہ ہوجائے، اس لیے اس سے چھٹی لینے کی خاطر اس کے ساتھ غیر شریفانہ اندازاختیار کیا جاتا ہے، وغیرہ۔
بھلی بات بولنا تمام اعمال کا خلاصہ ہے۔ ایک حقیقی خیر خواہی کا کلمہ کہنا آدمی کے لیے ہمیشہ سب سے زیادہ دشوار ہوتا ہے۔ آدمی اچھی اچھی تقریریں کرتا ہے۔ مگر جب ایک اچھی بات کسی دوسرے کے اعتراف کے ہم معنی ہو تو آدمی ایسی اچھی بات منھ سے نکالنے کے لیے سب سے زیادہ بخیل ہوتا ہے۔ سامنے کا آدمی اگر بے زور ہے تو اس کے لیے شرافت کے الفاظ بولنا بھی وہ ضروری نہیں سمجھتا۔ اگر کسی سے شکایت یا برہمی پیدا ہوجائے تو آدمی سمجھ لیتا ہے کہ وہ انصاف کے ہر خدائی حکم سے اس کو مستثنیٰ کرنے میں حق بجانب ہے۔
قدیم مدینہ کے اطراف میں تین غیر عرب قبیلے آباد تھے— بنو نضیر، بنو قریظہ اور بنو قینقاع۔یہ سب موسوی شریعت کو مانتے تھے۔ مگر ان کی زوال یافتہ ذہنیت نے ان کو الگ الگ گروہوں میں بانٹ رکھا تھا۔ اپنی دنیوی سیاست کے تحت وہ مدینہ کے مشرک قبائل ،…
…کرنا ہے۔ یہ دین کے اخروی پہلو کو نظر انداز کرنا ہے اور دین کے بعض وہ پہلو جو اپنے اندر دنیوی رونق اور شہرت رکھتے ہیں ان میں دین داری کا کمال دکھانا ہے۔ دین میں اس قسم کی جسارت آدمی کو اللہ کے غضب کا مستحق بناتی ہے، نہ کہ اللہ کے انعام کا۔
قدیم مدینہ کے اطراف میں تین غیر عرب قبیلے آباد تھے— بنو نضیر، بنو قریظہ اور بنو قینقاع۔یہ سب موسوی شریعت کو مانتے تھے۔ مگر ان کی زوال یافتہ ذہنیت نے ان کو الگ الگ گروہوں میں بانٹ رکھا تھا۔ اپنی دنیوی سیاست کے تحت وہ مدینہ کے مشرک قبائل ، اوس اور خزرج کے ساتھ مل گئے تھے۔ بنو نضیر اور بنو قریظہ نے قبیلہ اوس کا ساتھ پکڑ لیا تھا۔ بنو قینقاع قبیلہ خزرج کے حلیف بنے ہوئے تھے۔ اس طرح دو گروہ بن کر وہ آپس میں لڑتے رہتے تھے۔جنگ بعاث اسی قسم کی ایک جنگ تھی جو ہجرت نبوی سے پانچ سال پہلے واقع ہوئی۔ ان لڑائیوں میں یہ اہل کتاب مشرک قبائل کے ساتھ مل کر دو دو گروپس میں تقسیم ہوجاتے۔ ایک گروپ میں شامل ہونے والے اہل کتاب مشرکین کے ساتھ مل کر دوسرے گروپ میں شامل ہونے والے اہل کتاب کو قتل کرتے اور ان کو ان کے گھروں سے بے گھر کرتے۔ پھر جب جنگ ختم ہوجاتی تو وہ تورات، یعنی خدائی کتاب کا حوالہ دے کر اپنے ہم مذہبوں سے چندہ کی اپیلیں کرتے تاکہ اپنے گرفتار بھائیوں کو فدیہ دے کر مشرک قبائل کے ہاتھ سے چھڑایاجاسکے۔ انسان کے جان ومال کے احترام کے بارے میں وہ خدا کے حکم کو توڑتے اور پھر اپنی ظالمانہ سیاست کا شکار ہونے والوں کے ساتھ نمائشی ہمدردی کرکے ظاہر کرتے کہ وہ بہت دیندار ہیں ۔
یہ ایسا ہی هےجیسے ایک شخص کو ناحق قتل کردیا جائے اور اس کے بعد شرعی طریقہ پر اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے — شریعت کے اصلی اور اساسی احکام آدمی سے جاہلی زندگی چھوڑنے کے لیے کہتے ہیں۔ وہ اس کی خواہش نفس سے ٹکراتے ہیں۔ وہ اس کی دنیا دارانہ سیاست پر روک لگاتے ہیں، اس ليے آدمی ان احکام کو نظر انداز کرتاہے۔ وہ حقیقی دین داری کے جوئے میں اپنے کو ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ البتہ کچھ معمولی اور نمائشی چیزوں کی دھوم مچا کر یہ ظاہر کرتاہے کہ وہ خدا کے دین پر پوری طرح قائم ہے۔ مگر یہ خدا کے دین کا خود ساختہ ایڈیشن تیار کرنا ہے۔ یہ دین کے اخروی پہلو کو نظر انداز کرنا ہے اور دین کے بعض وہ پہلو جو اپنے اندر دنیوی رونق اور شہرت رکھتے ہیں ان میں دین داری کا کمال دکھانا ہے۔ دین میں اس قسم کی جسارت آدمی کو اللہ کے غضب کا مستحق بناتی ہے، نہ کہ اللہ کے انعام کا۔
قدیم مدینہ کے اطراف میں تین غیر عرب قبیلے آباد تھے— بنو نضیر، بنو قریظہ اور بنو قینقاع۔یہ سب موسوی شریعت کو مانتے تھے۔ مگر ان کی زوال یافتہ ذہنیت نے ان کو الگ الگ گروہوں میں بانٹ رکھا تھا۔ اپنی دنیوی سیاست کے تحت وہ مدینہ کے مشرک قبائل ،…
…نتیجہ ہی کا نام اختلاف اور ٹکراؤ ہے۔ اس کے برعکس، جس معاشرہ میں تمام لوگ ایک خدا کے وفادار بن جائیں وہاں سب کا رخ ایک مرکز کی طرف ہوجاتا ہے، سب ایک رسّی سے بندھ جاتے ہیں۔ اِس طرح باہمی اختلاف اور ٹکراؤ کے اسباب اپنے آپ ختم ہوجاتے ہیں۔
دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ یہاں ہر وقت یہ خطرہ ہے کہ شیطان آدمی کے ایمان کو اچک لے جائے اور فرشتے اس کی روح اس حال میں قبض کریں کہ وہ ایمان سے خالی ہو۔اس ليے ضروری ہے کہ آدمی ہر وقت باہوش رہے، وہ اپنے آپ پر نگراں بن جائے۔ ایمان سے دور ہونے کی ایک صورت وہ ہے جب کہ دین کے اجزاء میں تبدیلی کرکے اہم کو غیر اہم اور غیر اہم کو اہم بنا دیا جائے۔ دین کی اصل رسّی تقویٰ ہے۔ یعنی اللہ سے ڈرنا اور مرتے دم تک اپنے ہر معاملہ میں وہی رویہ اختیار کرنا جو اللہ کے سامنے جواب دہی کے تصور سے بنتا ہو۔ یہی صراطِ مستقیم ہے۔ اس سے انحراف یہ ہے کہ ’’تقویٰ‘‘ کے بجائے، کسی اور چیز کو مدارِ دین سمجھ لیا جائے اور اس پراس طرح زور دیا جائے جس طرح خوف خدا اور فکر آخرت پر دیا جاتا ہے۔ جب بھی دین میں اس قسم کی تبدیلی کی جاتی ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملّت کے درمیان اختلاف پيدا هو جاتا ہے۔ کوئی ایک ضمنی چیز پر زور دیتا ہے تو کوئی دوسری ضمنی چیز پر، اور اس طرح ملت فرقے فرقے میں بٹ کر رہ جاتی ہے۔ اول الذکر سے ایک اللہ توجہ کا مرکز بنتا ہے اور ثانی الذکر سے متفرق مسائل توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ جب دین میں سارا زور وتاکید تقویٰ (اللہ سے ڈرنے) پر دیا جائے تو اس سے باہمی اتفاق وجود میںآتا ہے اور جب اس کے سوا دوسری چیزوں پر زور دیا جانے لگے تو اس سے باہمی اختلاف کی وہ برائی پیدا ہوتی ہے جو لوگوں کو جہنم کے کنارے پہنچا دیتی ہے۔ کسی گروہ کے اندر اختلاف دنیا میں بھی عذاب ہے اور آخرت میںبھی عذاب۔
اسلام سے پہلے مدینہ میں دو قبیلے تھے— اوس اور خزرج۔ یہ دونوں عرب قبیلے تھے مگر وہ آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ ان باہمی لڑائیوں نے ان کو کمزور کردیا تھا۔ جب وہ اسلام کے دائرہ میں داخل ہوئے تو ان کی لڑائیاں ختم ہوگئیں، وہ بھائی بھائی کی طرح مل کر رہنے لگے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر اسلام میں ہر آدمی اپنا وفادار رہتا ہے اور اسلام میں صرف ایک اللہ کا۔ جس سماج میں لوگ اپنے یا اپنے گروہ کے وفادار ہوں وہاں قدرتی طورپر کئی وفاداریاں وجود میں آتی ہیں۔ اور کئی وفاداریوں کے عملی نتیجہ ہی کا نام اختلاف اور ٹکراؤ ہے۔ اس کے برعکس، جس معاشرہ میں تمام لوگ ایک خدا کے وفادار بن جائیں وہاں سب کا رخ ایک مرکز کی طرف ہوجاتا ہے، سب ایک رسّی سے بندھ جاتے ہیں۔ اِس طرح باہمی اختلاف اور ٹکراؤ کے اسباب اپنے آپ ختم ہوجاتے ہیں۔
’’تم میں ایک گروہ ہو جو دعوت الی الخیر کا کام کرے اور نیکیوں کا حکم دے اور برائیوں سے روکے‘‘ یہ ارشاد بیک وقت دو باتوں کو بتارہا ہے۔ ایک کا تعلق خواص سے ہے اوردوسرے کا تعلق عوام سے۔ امت کے خواص کے اندر یہ روح ہونی چاہيے کہ وہ امت کے اندر…
…کو راضی کرنے کا یہ فائدہ ملتا ہے کہ وہ ٹکڑوں ٹکڑوں میں بٹنے سے بچ جاتے ہیں۔ ایک حکم کے تحت چلنے کے نتیجے میں سب مل کر ایک ہوجاتے ہیں۔ اتحاد واتفاق ان کی عام صفت بن جاتی ہے اور بلا شبہ اتحاد و اتفاق سے زیادہ بڑی طاقت اس دنیا میں کوئی نہیں۔
’’تم میں ایک گروہ ہو جو دعوت الی الخیر کا کام کرے اور نیکیوں کا حکم دے اور برائیوں سے روکے‘‘ یہ ارشاد بیک وقت دو باتوں کو بتارہا ہے۔ ایک کا تعلق خواص سے ہے اوردوسرے کا تعلق عوام سے۔ امت کے خواص کے اندر یہ روح ہونی چاہيے کہ وہ امت کے اندر برائی کو برداشت نہ کریں، وہ نیکی اور بھلائی کے لیے تڑپنے والے ہوں۔ ان کا یہ جذبۂ اصلاح انھیں مجبور کرے گا کہ وہ لوگوں کہ احوال سے غیر متعلق نہ رہیں، وہ اپنے بھائیوں کو نیکی کی راہ پر چلنے کے لیے اکسائیں اور انھیں برائی سے دور رہنے کی تلقین کریں۔
تاہم اس عمل کی کامیابی کے لیے امت کے عوام کے اندر اطاعت کا جذبہ ہونا بھی لازماً ضروری ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے خواص کا احترام کریں۔ وہ ان کے کہنے سے چلیں اور جہاں وہ روکیں وہاں وہ رک جائیں۔ وہ اپنے آپ کو اپنے دینی ذمہ داروں کے حوالے کردیں۔ جس مسلم گروہ میں خواص اور عوام کا یہ حال ہو وہی فلاح پانے والا گروہ ہے۔ سمع وطاعت کی اس فضا ہی میں کسی معاشرہ کے اندر وہ اوصاف جنم لیتے ہیں جو اس کو دنیا میںطاقت ور اور آخرت میںنجات یافتہ بناتے ہیں۔
خواص کے اندر اس روح کے زندہ ہونے کا یہ فائدہ ہے کہ ان کی ساری توجہ خیر، بالفاظ دیگر اساسات دین پر مرتکز رہتی ہے۔ فرعی اور جزئی مسائل میں موشگافیاں کرنے کا ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا۔ جو لوگ خدا کی عظمتوں کے نقیب بنیں اور آخرت کے منذراور مبشربن کر اٹھیں ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ ظاہری مسائل کی جزئیات میں اپنی مہارت دکھائیں۔ اس کے ساتھ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام انھیں حقیقی مسائل کی اصلاح میں لگا دیتا ہے۔ فرضی اور قیاسی مسائل میں ذہنی ورزش کرنا انھیں اسی طرح بے معنی اور بے فائدہ معلوم ہونے لگتا ہے جس طرح ایک کسان کو شطرنج کا کھیل۔
عوام کو اس نظام اطاعت پر اپنے کو راضی کرنے کا یہ فائدہ ملتا ہے کہ وہ ٹکڑوں ٹکڑوں میں بٹنے سے بچ جاتے ہیں۔ ایک حکم کے تحت چلنے کے نتیجے میں سب مل کر ایک ہوجاتے ہیں۔ اتحاد واتفاق ان کی عام صفت بن جاتی ہے اور بلا شبہ اتحاد و اتفاق سے زیادہ بڑی طاقت اس دنیا میں کوئی نہیں۔
غزوۂ احزاب (5 ھ) عرب قبائل اور یہود کی طرف سے مدینہ پر مشترک حملہ تھا۔ اس میں حملہ آوروں کی تعداد تقریباً
12
ہزارتھی۔ مسلمان اس عظیم فوج سے لڑنے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی خصوصی تدبیروں کے ذریعے دشمنوں کو اس قدر خوف…
…ان کو ایسے لوگوں کا دشمن بنا دیتا ہے جو ان کو اپنے مفاد کے خلاف نظر آئیں، جو ان کے اپنے گروہ میں شامل نہ ہوں۔ خدا کو مانتے ہوئے وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیا خدا کی دنیا ہے۔ یہاں کسی کی کوئی تدبیر اللہ کی مشیّت کے بغیر مؤثر نہیں ہوسکتی۔
یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوںمیں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان مسلمانوں کے سینے کھول ديے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے وقتی کمزوری پیدا ہوجائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑنہیں دیتا بلکہ اس کا مدد گار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ اللہ کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے اب دشمن فوج کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر فوجی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رخ کو ’’مدینہ‘‘ کے بجائے ’’مکہ‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھوں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔
مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر بھی تعداد کی کمی پوری کردے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے لیے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دارومدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ لینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فریقِ مخالف کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کردیتاہے۔ وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔
یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری…
…کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔
یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوںمیں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان مسلمانوں کے سینے کھول ديے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے وقتی کمزوری پیدا ہوجائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑنہیں دیتا بلکہ اس کا مدد گار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ اللہ کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے اب دشمن فوج کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر فوجی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رخ کو ’’مدینہ‘‘ کے بجائے ’’مکہ‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھوں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔
مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر بھی تعداد کی کمی پوری کردے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے لیے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دارومدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ لینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فریقِ مخالف کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کردیتاہے۔ وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔
یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری…
…کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔
یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوںمیں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان مسلمانوں کے سینے کھول ديے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے وقتی کمزوری پیدا ہوجائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑنہیں دیتا بلکہ اس کا مدد گار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ اللہ کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے اب دشمن فوج کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر فوجی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رخ کو ’’مدینہ‘‘ کے بجائے ’’مکہ‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھوں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔
مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر بھی تعداد کی کمی پوری کردے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے لیے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دارومدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ لینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فریقِ مخالف کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کردیتاہے۔ وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔
یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری…
…کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔
یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوںمیں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان مسلمانوں کے سینے کھول ديے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے وقتی کمزوری پیدا ہوجائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑنہیں دیتا بلکہ اس کا مدد گار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ اللہ کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے اب دشمن فوج کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر فوجی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رخ کو ’’مدینہ‘‘ کے بجائے ’’مکہ‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھوں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔
مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر بھی تعداد کی کمی پوری کردے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے لیے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دارومدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ لینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فریقِ مخالف کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کردیتاہے۔ وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔
یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری…
…کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔
یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوںمیں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان مسلمانوں کے سینے کھول ديے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے وقتی کمزوری پیدا ہوجائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑنہیں دیتا بلکہ اس کا مدد گار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ اللہ کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے اب دشمن فوج کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر فوجی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رخ کو ’’مدینہ‘‘ کے بجائے ’’مکہ‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھوں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔
مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر بھی تعداد کی کمی پوری کردے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے لیے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دارومدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ لینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فریقِ مخالف کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کردیتاہے۔ وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔
حق کی دعوت جب بھی اٹھتی ہے تو وہ لوگوں کو ایک غیر اہم آواز معلوم ہوتی ہے۔ ایک طرف وقت کا ماحول ہوتا ہے جس کے قبضہ میں ہر قسم کے مادی وسائل ہوتے ہیں۔ دوسری طرف حق کا قافلہ ہوتا ہے جس کو ابھی ماحول میں کوئی جماؤ حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ…
…راستہ پالیا۔ تاہم انھوں نے جب اپنی غلطی کا اعتراف کیا تو اللہ نے ان کو معاف کردیا اور ابتدائی نقصان کے بعد ان کی مدد اس طرح کی کہ دشمنوں کے دل میں رعب ڈال کر ان کو واپس کردیا۔ حالاں کہ اس وقت وہ مدینہ سے صرف چند میل کے فاصلے پر رہ گئے تھے۔
زندگی کے معرکہ میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ آدمی کا چین اس سے رخصت نہ ہو۔ وہ پوری یکسوئی کے ساتھ اپنا منصوبہ بنانے کے قابل رہے۔ اللہ پر بھروسہ کی وجہ سے اہلِ ایمان کو یہ چیز کمال درجہ میں حاصل ہوتی ہے۔ حتی کہ ہلادینے والے موقع پر جب کہ لوگوں کی نیندیں اُڑ جاتی ہیں، اس وقت بھی وہ اس قابل رہتے ہیں کہ ایک نیند لے کر دوبارہ تازہ دم ہوسکیں۔ احد کے موقع پر اس کا ایک مظاہرہ اس طرح ہوا کہ شکست کے بعد سخت ترین حالات کے باوجود وہ سو سکے اور اگلے دن حمراء الاسد تک دشمن کا پیچھا کیا، جو مدینہ سے ۸ میل کے فاصلے پر ہے۔ اس کے نتیجہ میں فاتح دشمن مرعوب ہو کر مکہ واپس چلا گیا۔ یہ سچے اہل ایمان کا حال ہے۔مگر جو لوگ پورے معنوں میں اللہ کو اپنا ولی وسرپرست بنائے ہوئے نہ ہوں، ان کو ہر طرف بس اپنی جان کا خطرہ نظر آتا ہے۔ دین کی فکر سے خالی لوگ اپنی ذات کی فکر میں پڑے رہتے ہیں وہ اللہ کی نصرتِ اطمینان میں سے اپنا حصہ نہیں پاتے۔
احد کے موقع پر عبد اللہ بن اُبي کی رائے تھی کہ مدینہ میں رہ کر جنگ کی جائے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مخلص مسلمانوں کے مشورہ پر باہر نکلے اور احد پہاڑ کے دامن میں مقابلہ کیا۔ درّہ پر متعین دستہ کی غلطی سے جب شکست ہوئی تو ان لوگوں کو موقع ملا۔ انھوں نے کہنا شروع کیا کہ اگر ہماری بات مانی گئی ہوتی اور مدینہ میں رہ کر لڑتے تو اس بربادی کی نوبت نہ آتی۔ مگر موت خدا کی طرف سے ہے اور وہیں آکر رہتی ہے جہاں وہ کسی کے لیے لکھی ہوئی ہے۔ احتیاطی تدبیریں کسی کو موت سے بچا نہیں سکتیں۔ اس طرح کے واقعات، خواہ بظاہر ان کا جو سبب بھی نظر آئے، وہ اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں۔ تاکہ اللہ کے سچے بندے اللہ کی طرف رجوع کرکے مزید رحمتوں کے مستحق بنیں۔ اور جو سچے نہیں ہیں ان کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آجائے۔
احد کے درہ پر جو پچاس تیر انداز متعین تھے جب انھوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کو فتح ہوگئی ہے تو ان میں سے کچھ لوگوں نے اصرار کیاکہ چل کر مال غنیمت لوٹیں ۔ مگر عبد اللہ بن جبیرؓ او ران کے کچھ ساتھیوں نے کہا نہیں۔ ہم کو ہر حال میں یہیں رہنا ہے کیوں کہ یہی رسول اللہ کا حکم ہے۔ بالآخر گیارہ کو چھوڑ کر بقیہ لوگ چلے گئے۔ باہمی اختلاف کی اس کمزوری سے شیطان نے اندر داخل ہونے کا راستہ پالیا۔ تاہم انھوں نے جب اپنی غلطی کا اعتراف کیا تو اللہ نے ان کو معاف کردیا اور ابتدائی نقصان کے بعد ان کی مدد اس طرح کی کہ دشمنوں کے دل میں رعب ڈال کر ان کو واپس کردیا۔ حالاں کہ اس وقت وہ مدینہ سے صرف چند میل کے فاصلے پر رہ گئے تھے۔
اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ تاہم یہاں ہر چیز پر اسباب کا پردہ ڈال دیاگیا ہے۔ واقعات بظاہر اسباب کے تحت ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر حقیقتاً وہ اللہ کے حکم کے تحت ہورہے هوتے ہیں۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری اسباب…
…سخت کوتاہی کی ہے۔ مگر زبان سے قربانی کرنے والوں کو مطعون کرکے اپنا ظاہری بھرم قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی زبان سے ایسے الفاظ بولتے ہیں جن کے بارے میں خود ان کا دل گواہی دے رہا ہوتا ہے وہ جھوٹے الفاظ ہیں، ان کی کوئی واقعی حقیقت نہیں۔
جو لوگ اسلام دشمنوں سے لڑے اور شہید ہوئے ان کو منافقین ’’موتِ ضیاع‘‘ کہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ مسلمان ایک شخص کے بہکاوے میں آکر اپنی جانیں ضائع کررہے ہیں۔ فرمایا کہ جس کو تم موت سمجھتے ہو وہی حقیقت میں زندگی ہے۔ تم صرف دنیا کا نفع نقصان جانتے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آخرت کی راہ میں جان دینا تمھیں اپنے آپ کو برباد کرنا معلوم ہوتا ہے مگر اللہ کی راہ میں مرنے والے تم سے زیادہ بہتر زندگی پائے ہوئے ہیں۔ وہ آخرت میں تم سے زیادہ عیش کی حالت میں ہیں۔
شیطان کا یہ طریقہ ہے کہ وہ جن انسانوں کو اپنے قریب پاتاہے انھیں اکسا کر کھڑا کردیتا ہے كہ وہ دین کی طرف بڑھنے کے خوفناک نتائج دکھا کر لوگوں كو دین کے راستے سے ہٹا دیں۔ یہ لوگ مخالفین کی قوت كو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں تاکہ اہل ایمان مرعوب ہوجائیں۔ مگر اس قسم کی باتیں اہل ایمان کے حق میں مفید ثابت ہوتی ہیں۔ کیوں کہ ان کا یہ یقین از سر نو زندہ ہوجاتا ہے کہ مشکل حالات میںان کا خداا نھیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔
احد کی جنگ مدینہ سے تقریباً دو میل کے فاصلے پر ہوئی۔ جنگ کے بعد کافروں کا لشکر ابو سفیان کی قیادت میں واپس روانہ ہوا۔ مدینہ سے آٹھ میل پر حمراء الاسد پہنچ کر انھوں نے پڑاؤ ڈالا۔ یہاں ان کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ احد سے واپس ہو کر انھوں نے غلطی کی ہے۔ یہ بہترین موقع تھا کہ مدینہ تک مسلمانوں کا پیچھا کیا جاتا اور ان کی طاقت کا آخری طورپر خاتمہ کردیا جاتا۔ اس درمیان میںان کو قبیلہ عبد القیس کا ایک تجارتی قافلہ مل گیا جو مدینہ جارہا تھا۔ کافروں نے اس قافلہ کو کچھ رقم دے کر آمادہ کیا کہ وہ مدینہ پہنچ کر ایسی خبریں پھیلائے جس سے مسلمان ڈر جائیں۔ چنانچہ قافلہ والوں نے مدینہ پہنچ کر کہنا شروع کیا کہ ہم دیکھ آئیں ہیں کہ مکہ والے بھاری لشکر جمع کررہے ہیںاور وه دوبارہ مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں۔ مگر مسلمانوں کا اللہ پر بھروسہ اس بات کی ضمانت بن گیا کہ کافروں کی تدبیر الٹی پڑجائے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے ارادہ سے باخبر ہوگئے۔ قبل اس کے کہ مکہ والوں کی فوج مدینہ کی طرف چلے وہ خود پیغمبر کی رہنمائی میںاپنی جمعیت بنا کر تیزی سے حمراء الاسد کی طرف روانہ ہوگئے۔ مکہ والوں کو جب یہ خبر ملی کہ مسلمانوں کی فوج اقدام کرکے ان کی طرف آرہی ہے تو وہ سمجھے کہ مسلمانوںکو نئی کمک مل گئی ہے۔ وہ گھبرا کر مکہ کی طرف واپس چلے گئے۔
دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ اس لیے یہاں کی چیزوں میں آدمی کے لیے ظاہری کشش رکھی گئی ہے۔ اب خدا یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون ہے جو ظاہری کشش سے متاثر ہو کر دنیا کی چیزوں میں کھو جاتا ہے۔او ر کون ہے جو اس سے اوپر اٹھ کر آخرت کی اَن دیکھی چیزوں کو…
…سولی دے دی۔ یہود کے اس جرم پر خدا نے یہ فیصلہ کردیا کہ حضرت مسیح کو ماننے والی قوم قیامت تک یہودی قوم پر غالب رہے گی۔ یہود اور مسیحی دونوں کے ساتھ يه خدا کا دنیوی معاملہ ہے۔ آخرت کا معاملہ اس کے علاوہ ہے ،جو خدا کی عام سنت کے تحت ہوگا۔
مسیحی لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت مسیح عام انسانوں سے بالکل مختلف ہیں۔ ان کی پیدائش توالد وتناسل کے عام قاعدہ کے خلاف باپ کے واسطہ کے بغیر ہوئی۔ پھر آپ کو عام انسانوں کی طرح ایک انسان کیسے کہاجائے۔ آپ کا طریقِ پیدائش خود بتاتا ہے کہ وہ بشر سے ماورا تھے۔ وہ انسان کے بیٹے نہیں بلکہ خدا کے بیٹے تھے۔ کہا گیا کہ تمھارے سوال کا جواب انسان اول (آدم) کی تخلیق میں موجود ہے۔ تم خود یہ مانتے ہو کہ آدم سب سے پہلے بشر ہیں۔ وہ معروف طریقے کے مطابق مرد اور عورت کے تعلق سے وجود میں نہیں آئے۔بلکہ براہِ راست خدا کے حکم کے تحت وجود میں آئے۔ پھر باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر جب آدم خدا کے بیٹے نہیںہیں تو اسی طرح باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر مسیح کیسے خدا کے بیٹے ہوجائیں گے۔
نجران (یمن) نزول قرآن کے زمانہ میں مسیحی مذہب کا بہت بڑا مرکز تھا۔ ان کے علما اور پیشواؤں کا ایک وفد ۹ھ میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسیحی عقائد کے بارے میں بحث کی۔ آپ نے مختلف دلائل ان کے سامنے پیش کیے۔ مثلاً آپ نے فرمایا کہ مسیح خدا کے بیٹے کیسے ہوسکتے ہیں جب کہ خدا ایک زندہ ہستی ہے، اس پر کبھی موت آنے والی نہیں۔ مگر عیسیٰ پر موت اور فنا آنے والی ہے (وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء) بهجۃ المحافل وبغيۃ الاماثل، يحيى بن ابو بكر العامری، جلد2، صفحہ
15
۔آپ کے دلائل کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا مگر وہ برابر کج بحثی کرتے رہے۔ جب آپ نے دیکھا کہ وہ دلیل سے ماننے والے نہیں ہیں تو آپ ؐنے ان کو ایک آخری چیلنج دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اپنے کو برسرِ حق سمجھتے ہو تو مباہلہ (ایک دوسرے پر لعنت کی بد دعا) کے لیے تیار ہوجاؤ۔
اگلے دن صبح کو آپ باہر نکلے۔ آپ ؐکے ساتھ آپ کے دونوں نواسے حسن اور حسین تھے۔ ان کے پیچھے حضرت فاطمہ ؓاور ان کے پیچھے حضرت علیؓ۔ نجرانی عیسائی یہ دیکھ کر مرعوب ہوگئے اور باہم مشورہ کی مہلت مانگی۔ علیحدہ مشورہ میںان کے ایک عالم نے کہا تم جانتے ہو کہ اللہ نے بنی اسماعیل میں پیغمبر بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ بعید نہیں کہ یہ وہی پیغمبر ہوں۔ پھر ایک پیغمبر سے مباہلہ اور ملاعنہ کرنے کا نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ تمھارے چھوٹے اور بڑے سب ہلاک ہوجائیں اور نسلوں تک اس کا اثر باقی رہے۔ خدا کی قسم میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ دعا کریں تو پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ہم ان سے صلح کرکے اپنی بستيوں کی طرف روانہ ہوجائیں۔
کائنات کا خالق ومالک کوئی مشینی خدا نہیں بلکہ ایک زندہ اور باشعور خدا ہے۔ اس نے ہر زمانہ میں انسان کے لیے رہنمائی بھیجی۔ انھیں میں سے وہ کتابیں تھیں جو تورات وانجیل کی صورت میں پچھلے انبیاء پر اتاری گئیں۔ مگر انسان ہمیشہ یہ کرتا رہا کہ اس…
…چھوٹے اور بڑے سب ہلاک ہوجائیں اور نسلوں تک اس کا اثر باقی رہے۔ خدا کی قسم میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ دعا کریں تو پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ہم ان سے صلح کرکے اپنی بستيوں کی طرف روانہ ہوجائیں۔
مسیحی لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت مسیح عام انسانوں سے بالکل مختلف ہیں۔ ان کی پیدائش توالد وتناسل کے عام قاعدہ کے خلاف باپ کے واسطہ کے بغیر ہوئی۔ پھر آپ کو عام انسانوں کی طرح ایک انسان کیسے کہاجائے۔ آپ کا طریقِ پیدائش خود بتاتا ہے کہ وہ بشر سے ماورا تھے۔ وہ انسان کے بیٹے نہیں بلکہ خدا کے بیٹے تھے۔ کہا گیا کہ تمھارے سوال کا جواب انسان اول (آدم) کی تخلیق میں موجود ہے۔ تم خود یہ مانتے ہو کہ آدم سب سے پہلے بشر ہیں۔ وہ معروف طریقے کے مطابق مرد اور عورت کے تعلق سے وجود میں نہیں آئے۔بلکہ براہِ راست خدا کے حکم کے تحت وجود میں آئے۔ پھر باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر جب آدم خدا کے بیٹے نہیںہیں تو اسی طرح باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر مسیح کیسے خدا کے بیٹے ہوجائیں گے۔
نجران (یمن) نزول قرآن کے زمانہ میں مسیحی مذہب کا بہت بڑا مرکز تھا۔ ان کے علما اور پیشواؤں کا ایک وفد ۹ھ میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسیحی عقائد کے بارے میں بحث کی۔ آپ نے مختلف دلائل ان کے سامنے پیش کیے۔ مثلاً آپ نے فرمایا کہ مسیح خدا کے بیٹے کیسے ہوسکتے ہیں جب کہ خدا ایک زندہ ہستی ہے، اس پر کبھی موت آنے والی نہیں۔ مگر عیسیٰ پر موت اور فنا آنے والی ہے (وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء) بهجۃ المحافل وبغيۃ الاماثل، يحيى بن ابو بكر العامری، جلد2، صفحہ
15
۔آپ کے دلائل کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا مگر وہ برابر کج بحثی کرتے رہے۔ جب آپ نے دیکھا کہ وہ دلیل سے ماننے والے نہیں ہیں تو آپ ؐنے ان کو ایک آخری چیلنج دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اپنے کو برسرِ حق سمجھتے ہو تو مباہلہ (ایک دوسرے پر لعنت کی بد دعا) کے لیے تیار ہوجاؤ۔
اگلے دن صبح کو آپ باہر نکلے۔ آپ ؐکے ساتھ آپ کے دونوں نواسے حسن اور حسین تھے۔ ان کے پیچھے حضرت فاطمہ ؓاور ان کے پیچھے حضرت علیؓ۔ نجرانی عیسائی یہ دیکھ کر مرعوب ہوگئے اور باہم مشورہ کی مہلت مانگی۔ علیحدہ مشورہ میںان کے ایک عالم نے کہا تم جانتے ہو کہ اللہ نے بنی اسماعیل میں پیغمبر بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ بعید نہیں کہ یہ وہی پیغمبر ہوں۔ پھر ایک پیغمبر سے مباہلہ اور ملاعنہ کرنے کا نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ تمھارے چھوٹے اور بڑے سب ہلاک ہوجائیں اور نسلوں تک اس کا اثر باقی رہے۔ خدا کی قسم میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ دعا کریں تو پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ہم ان سے صلح کرکے اپنی بستيوں کی طرف روانہ ہوجائیں۔
مسیحی لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت مسیح عام انسانوں سے بالکل مختلف ہیں۔ ان کی پیدائش توالد وتناسل کے عام قاعدہ کے خلاف باپ کے واسطہ کے بغیر ہوئی۔ پھر آپ کو عام انسانوں کی طرح ایک انسان…
…جو آدمی کو معلوم ہو۔ یہ تمام تر نامعلوم چیز ہے اور اس کا فیصلہ آخرت میں اللہ کی عدالت میں ہونے والا ہے۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جو آدمی سے برتری کا احساس چھین لیتا ہے۔ اور برتری کا احساس ہی وہ چیز ہے جو بیشتر معاشرتی خرابیوں کی اصل جڑ ہے۔
زندگی کے طریقے جو قرآن میں بتائے گئے ہیں وہ کوئی نئے نہیں ہیں۔ ہر دور میں اللہ اپنے پیغمبروں کے ذریعہ ان کا اعلان کراتا رہا ہے۔ ہر زمانہ کے خدا پرست لوگوں کا اسی پر عمل تھا۔ مگر قدیم آسمانی کتابوں کے محفوظ نہ رہنے کی وجہ سے یہ طریقے گم ہوگئے۔ اب اللہ نے اپنے آخری رسول کے ذریعہ ان کو عربی زبان میں اتارا اور ان کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا۔ آج جب کوئی گروہ ان طریقوں پر اپنی زندگی کو ڈھالتا ہے تو گویا وہ صالحین کے اس ابدی قافلہ میں شامل ہوجاتا ہے جن کو اللہ کی رحمتوں میں حصہ ملا، جو ہر زمانہ میں اللہ کے اُس راستہ پر چلے جس کو اللہ نے اپنے وفادار بندوں کے لیے کھولا تھا۔
ہر انسانی گروہ میں ایسا ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں صدیوں کے رواج سے جڑ جمالیتی ہیں۔ وہ لوگوں کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتی ہیں کہ ان کے خلاف سوچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جب اللہ کا کوئی بندہ معاشرتی اصلاح کا کام شروع کرتا ہے تو اس قسم کے لوگ چیخ اٹھتے ہیں۔ اپنے مانوس طریقوں کو چھوڑ کرنامانوس طریقوں كو اختيار كرنا ان كے ليے سخت دشوار هوجاتا هے۔ وه ايسي اصلاحي تحريك كے دشمن بن جاتے هيں، جو ان كو ان كے باپ داداكے طريقوں سے ہٹانا چاہتی ہو۔ اس سلسلہ میں مذہبی طبقہ کاردعمل اور بھی زیادہ شدید ہوتا ہے۔ جب دین کا اندرونی پہلو کمزور ہوتا ہے تو خارجی موشگافیاں جنم لیتی ہیں۔ اب آداب وقواعد کا ایک ظاہری ڈھانچہ بنا لیا جاتا ہے۔ لوگ دین کی اصلی کیفیات سے خالی ہوتے ہیںاور ظاہری آداب وقواعد کی پابندی کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہیں۔ یہ خود ساختہ دین اسلاف سے منسوب ہو کر دھیرے دھیرے مقدس بن جاتا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ خدا کا سادہ اور فطری دین ان کو اجنبی معلوم ہوتا ہے، اور اپنا جکڑ بندیوں والا دین عین برحق نظرآتا ہے۔ ایسی حالت میں جو تحریک اصلی اور ابتدائی دین کو زندہ کرنے کے لیے اٹھے وہ اس کے شدید مخالف بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ اس ميں ان کو اپنی دین داری کی نفی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مثلاً خدا کی شریعت میں حیض کے زمانہ میں عورت کے ساتھ مباشرت ناجائز ہے، اس کے علاوہ دوسرے تعلقات اسی طرح رکھے جاسکتے ہیں جس طرح عام دنوںمیں ہوتے ہیں۔ یہودیوں نے اس سادہ حکم پر اضافہ کرکے یہ مسئلہ بنایا کہ ایام ماہواری میں عورت کی پکائی ہوئی چیز کو کھانا، اس کے ہاتھ کا پانی پینا، اس کے ساتھ ایک جگہ بیٹھنا، اس کو اپنے ہاتھ سے چھونا، سب ناجائز یا کم ازکم تقویٰ کے خلاف ہے۔ اس طرح حائضہ عورت سے مکمل دوری گویا پارسائی کی علامت بن گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں جب خدا کی اصلی شریعت کو زندہ کیا تو یہودی بگڑ گئے۔ وہ چیز جس پر انھوں نے اپنی پارسائی کی عمارت کھڑی کی تھی دفعۃً گرتی ہوئی نظر آئی — خدا کے سادہ دین کو جب بھی زندہ کیا جائے تو وہ لوگ اس کے سخت مخالف ہوجاتے ہیں،جو بناوٹی دین کے اوپر اپنی دین داری کی عمارت کھڑی كيے ہوئے ہوں۔ یہ ان سے سرداری چھیننے کے ہم معنی ہوتا ہے اور سرداری کا چھننا کوئی برداشت نہیں کرتا۔
زندگی کے طریقے جو قرآن میں بتائے گئے ہیں وہ کوئی نئے نہیں ہیں۔ ہر دور میں اللہ اپنے پیغمبروں کے ذریعہ ان کا اعلان کراتا رہا ہے۔ ہر زمانہ کے خدا پرست لوگوں کا اسی پر عمل تھا۔ مگر قدیم آسمانی کتابوں کے محفوظ نہ رہنے کی وجہ سے یہ طریقے گم…
…نظر آئی — خدا کے سادہ دین کو جب بھی زندہ کیا جائے تو وہ لوگ اس کے سخت مخالف ہوجاتے ہیں،جو بناوٹی دین کے اوپر اپنی دین داری کی عمارت کھڑی كيے ہوئے ہوں۔ یہ ان سے سرداری چھیننے کے ہم معنی ہوتا ہے اور سرداری کا چھننا کوئی برداشت نہیں کرتا۔
زندگی کے طریقے جو قرآن میں بتائے گئے ہیں وہ کوئی نئے نہیں ہیں۔ ہر دور میں اللہ اپنے پیغمبروں کے ذریعہ ان کا اعلان کراتا رہا ہے۔ ہر زمانہ کے خدا پرست لوگوں کا اسی پر عمل تھا۔ مگر قدیم آسمانی کتابوں کے محفوظ نہ رہنے کی وجہ سے یہ طریقے گم ہوگئے۔ اب اللہ نے اپنے آخری رسول کے ذریعہ ان کو عربی زبان میں اتارا اور ان کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا۔ آج جب کوئی گروہ ان طریقوں پر اپنی زندگی کو ڈھالتا ہے تو گویا وہ صالحین کے اس ابدی قافلہ میں شامل ہوجاتا ہے جن کو اللہ کی رحمتوں میں حصہ ملا، جو ہر زمانہ میں اللہ کے اُس راستہ پر چلے جس کو اللہ نے اپنے وفادار بندوں کے لیے کھولا تھا۔
ہر انسانی گروہ میں ایسا ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں صدیوں کے رواج سے جڑ جمالیتی ہیں۔ وہ لوگوں کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتی ہیں کہ ان کے خلاف سوچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جب اللہ کا کوئی بندہ معاشرتی اصلاح کا کام شروع کرتا ہے تو اس قسم کے لوگ چیخ اٹھتے ہیں۔ اپنے مانوس طریقوں کو چھوڑ کرنامانوس طریقوں كو اختيار كرنا ان كے ليے سخت دشوار هوجاتا هے۔ وه ايسي اصلاحي تحريك كے دشمن بن جاتے هيں، جو ان كو ان كے باپ داداكے طريقوں سے ہٹانا چاہتی ہو۔ اس سلسلہ میں مذہبی طبقہ کاردعمل اور بھی زیادہ شدید ہوتا ہے۔ جب دین کا اندرونی پہلو کمزور ہوتا ہے تو خارجی موشگافیاں جنم لیتی ہیں۔ اب آداب وقواعد کا ایک ظاہری ڈھانچہ بنا لیا جاتا ہے۔ لوگ دین کی اصلی کیفیات سے خالی ہوتے ہیںاور ظاہری آداب وقواعد کی پابندی کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہیں۔ یہ خود ساختہ دین اسلاف سے منسوب ہو کر دھیرے دھیرے مقدس بن جاتا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ خدا کا سادہ اور فطری دین ان کو اجنبی معلوم ہوتا ہے، اور اپنا جکڑ بندیوں والا دین عین برحق نظرآتا ہے۔ ایسی حالت میں جو تحریک اصلی اور ابتدائی دین کو زندہ کرنے کے لیے اٹھے وہ اس کے شدید مخالف بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ اس ميں ان کو اپنی دین داری کی نفی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مثلاً خدا کی شریعت میں حیض کے زمانہ میں عورت کے ساتھ مباشرت ناجائز ہے، اس کے علاوہ دوسرے تعلقات اسی طرح رکھے جاسکتے ہیں جس طرح عام دنوںمیں ہوتے ہیں۔ یہودیوں نے اس سادہ حکم پر اضافہ کرکے یہ مسئلہ بنایا کہ ایام ماہواری میں عورت کی پکائی ہوئی چیز کو کھانا، اس کے ہاتھ کا پانی پینا، اس کے ساتھ ایک جگہ بیٹھنا، اس کو اپنے ہاتھ سے چھونا، سب ناجائز یا کم ازکم تقویٰ کے خلاف ہے۔ اس طرح حائضہ عورت سے مکمل دوری گویا پارسائی کی علامت بن گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں جب خدا کی اصلی شریعت کو زندہ کیا تو یہودی بگڑ گئے۔ وہ چیز جس پر انھوں نے اپنی پارسائی کی عمارت کھڑی کی تھی دفعۃً گرتی ہوئی نظر آئی — خدا کے سادہ دین کو جب بھی زندہ کیا جائے تو وہ لوگ اس کے سخت مخالف ہوجاتے ہیں،جو بناوٹی دین کے اوپر اپنی دین داری کی عمارت کھڑی كيے ہوئے ہوں۔ یہ ان سے سرداری چھیننے کے ہم معنی ہوتا ہے اور سرداری کا چھننا کوئی برداشت نہیں کرتا۔
زندگی کے طریقے جو قرآن میں بتائے گئے ہیں وہ کوئی نئے نہیں ہیں۔ ہر دور میں اللہ اپنے پیغمبروں کے ذریعہ ان کا اعلان کراتا رہا ہے۔ ہر زمانہ کے خدا پرست لوگوں کا اسی پر عمل تھا۔ مگر قدیم آسمانی کتابوں کے محفوظ نہ رہنے کی وجہ سے یہ طریقے گم…
…نظر آئی — خدا کے سادہ دین کو جب بھی زندہ کیا جائے تو وہ لوگ اس کے سخت مخالف ہوجاتے ہیں،جو بناوٹی دین کے اوپر اپنی دین داری کی عمارت کھڑی كيے ہوئے ہوں۔ یہ ان سے سرداری چھیننے کے ہم معنی ہوتا ہے اور سرداری کا چھننا کوئی برداشت نہیں کرتا۔
زندگی کے طریقے جو قرآن میں بتائے گئے ہیں وہ کوئی نئے نہیں ہیں۔ ہر دور میں اللہ اپنے پیغمبروں کے ذریعہ ان کا اعلان کراتا رہا ہے۔ ہر زمانہ کے خدا پرست لوگوں کا اسی پر عمل تھا۔ مگر قدیم آسمانی کتابوں کے محفوظ نہ رہنے کی وجہ سے یہ طریقے گم ہوگئے۔ اب اللہ نے اپنے آخری رسول کے ذریعہ ان کو عربی زبان میں اتارا اور ان کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا۔ آج جب کوئی گروہ ان طریقوں پر اپنی زندگی کو ڈھالتا ہے تو گویا وہ صالحین کے اس ابدی قافلہ میں شامل ہوجاتا ہے جن کو اللہ کی رحمتوں میں حصہ ملا، جو ہر زمانہ میں اللہ کے اُس راستہ پر چلے جس کو اللہ نے اپنے وفادار بندوں کے لیے کھولا تھا۔
ہر انسانی گروہ میں ایسا ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں صدیوں کے رواج سے جڑ جمالیتی ہیں۔ وہ لوگوں کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتی ہیں کہ ان کے خلاف سوچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جب اللہ کا کوئی بندہ معاشرتی اصلاح کا کام شروع کرتا ہے تو اس قسم کے لوگ چیخ اٹھتے ہیں۔ اپنے مانوس طریقوں کو چھوڑ کرنامانوس طریقوں كو اختيار كرنا ان كے ليے سخت دشوار هوجاتا هے۔ وه ايسي اصلاحي تحريك كے دشمن بن جاتے هيں، جو ان كو ان كے باپ داداكے طريقوں سے ہٹانا چاہتی ہو۔ اس سلسلہ میں مذہبی طبقہ کاردعمل اور بھی زیادہ شدید ہوتا ہے۔ جب دین کا اندرونی پہلو کمزور ہوتا ہے تو خارجی موشگافیاں جنم لیتی ہیں۔ اب آداب وقواعد کا ایک ظاہری ڈھانچہ بنا لیا جاتا ہے۔ لوگ دین کی اصلی کیفیات سے خالی ہوتے ہیںاور ظاہری آداب وقواعد کی پابندی کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہیں۔ یہ خود ساختہ دین اسلاف سے منسوب ہو کر دھیرے دھیرے مقدس بن جاتا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ خدا کا سادہ اور فطری دین ان کو اجنبی معلوم ہوتا ہے، اور اپنا جکڑ بندیوں والا دین عین برحق نظرآتا ہے۔ ایسی حالت میں جو تحریک اصلی اور ابتدائی دین کو زندہ کرنے کے لیے اٹھے وہ اس کے شدید مخالف بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ اس ميں ان کو اپنی دین داری کی نفی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مثلاً خدا کی شریعت میں حیض کے زمانہ میں عورت کے ساتھ مباشرت ناجائز ہے، اس کے علاوہ دوسرے تعلقات اسی طرح رکھے جاسکتے ہیں جس طرح عام دنوںمیں ہوتے ہیں۔ یہودیوں نے اس سادہ حکم پر اضافہ کرکے یہ مسئلہ بنایا کہ ایام ماہواری میں عورت کی پکائی ہوئی چیز کو کھانا، اس کے ہاتھ کا پانی پینا، اس کے ساتھ ایک جگہ بیٹھنا، اس کو اپنے ہاتھ سے چھونا، سب ناجائز یا کم ازکم تقویٰ کے خلاف ہے۔ اس طرح حائضہ عورت سے مکمل دوری گویا پارسائی کی علامت بن گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں جب خدا کی اصلی شریعت کو زندہ کیا تو یہودی بگڑ گئے۔ وہ چیز جس پر انھوں نے اپنی پارسائی کی عمارت کھڑی کی تھی دفعۃً گرتی ہوئی نظر آئی — خدا کے سادہ دین کو جب بھی زندہ کیا جائے تو وہ لوگ اس کے سخت مخالف ہوجاتے ہیں،جو بناوٹی دین کے اوپر اپنی دین داری کی عمارت کھڑی كيے ہوئے ہوں۔ یہ ان سے سرداری چھیننے کے ہم معنی ہوتا ہے اور سرداری کا چھننا کوئی برداشت نہیں کرتا۔
ایک کا مال دوسرے تک پہنچنے کی ایک صورت یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کی ضرورت فراہم کرے اور اس سے اپنی محنت کا معاوضہ لے۔ یہ تجارت ہے اور شریعت کے مطابق، یہی کسب معاش کا صحیح طریقہ ہے۔ اس کے بجائے چوری، دھوکا، جھوٹ، رشوت، سود، جوا وغیرہ سے جو…
…احساسات کے اعتبار سے اس طرح ایک ختم شدہ انسان بن جاتا ہے کہ اس کے اندر حق اور ناحق کی تمیز باقی نہیں رہتی۔ کھلی کھلی نشانیاں سامنے آنے کے بعد بھی اس کو اعتراف کی توفیق نہیں ہوتی۔ وہ لایعنی شوشوں اور واقعی دلائل کے درمیان فرق نہیں کرتا۔
آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم پر جب زوال آتا ہے تو وہ عمل کے بجائے خوش عقیدگی کی سطح پر جینے لگتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے درمیان جبت يعني توہمات خوب پھیلتے ہیں۔ جو چیز حقیقی عمل کے ذریعے ملتی ہے اس کو وہ عملیات اور فرضی عقیدوں اور سفلی اعمال کے راستے سے پانے کی کوشش شروع کردیتی ہے۔ ایسے لوگ دین کے معاملہ کو ’’پاک کلمات‘‘اور ’’بابرکت نسبتوں‘‘ کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں جس کے محض زبانی تلفظ یا رسمی تعلق سے معجزاتی واقعات ظاہر ہوتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ زبان سے دین کا نام لیتے ہوئے اپنی عملی زندگی کو طاغوت يعني شیطان کے حوالے کردیتے ہیں۔ وہ حقیقی زندگی میں نفس کی خواہشات اور شیطان کی ترغیبات پر چل پڑتے ہیں مگر اسی کے ساتھ اپنے اوپر دین کا لیبل لگا کر سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کرنے لگیں وہی خدا کا دین ہے۔ ایسی حالت ميں جب ان کے درمیان بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ سب سے زیادہ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کی دینی حیثیت کی نفی کررہی ہے۔ منكرينِ حق کا وجود ان کے لیے اس قسم کا چیلنج نہیں ہوتا اس لیے منكروںکے معاملہ میں وہ نرم ہوتے ہیں مگر حق کے داعی کے لیے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیںہوتا۔ ان کے اندر حاسدانہ آگ بھڑک اٹھتی ہے کہ جب دین کے اجارہ دار ہم تھے تو دوسرے کسی شخص کو دین کی نمائندگی کا درجہ کیسے مل گیا۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ خدا آدمی کی قلبی استعداد کی بنیاد پر کسی کو اپنے دین کا نمائندہ چنتا ہے، نہ کہ نمائشی چیزوں کی بنیاد پر۔
لعنت یہ ہے کہ آدمی اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے بالکل دور کردیا جائے۔ کھانا اور پانی بند ہونے سے جس طرح آدمی کی مادی زندگی ختم ہوجاتی ہے اسی طرح خدا کی نصرت سے محرومی کے بعد آدمی کی ایمانی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ لعنت زدہ آدمی لطیف احساسات کے اعتبار سے اس طرح ایک ختم شدہ انسان بن جاتا ہے کہ اس کے اندر حق اور ناحق کی تمیز باقی نہیں رہتی۔ کھلی کھلی نشانیاں سامنے آنے کے بعد بھی اس کو اعتراف کی توفیق نہیں ہوتی۔ وہ لایعنی شوشوں اور واقعی دلائل کے درمیان فرق نہیں کرتا۔
ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک اداکرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ وهي کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور…
…کافیصلہ لینا چاہے تو اس کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، خواہ وہ اپنے رویہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کتنے ہی خوب صورت الفاظ اپنے پاس رکھتا ہو۔ تاہم ایسے لوگوں سے نہ الجھتے ہوئے ان کو مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا کام پھر بھی جاری رہنا چاہیے۔
ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک اداکرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ وهي کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خلاف نظر آئے تب بھی اس کو انصاف اور سچائی ہی کے طریقے پر قائم رہنا ہے۔ کیوں کہ بہتری ا س میں ہے جو اللہ بتائے، نہ کہ اس میں جو ہمارے نفس کو پسند ہو۔ جهاں كهيں مسلم حکومت قائم هے وهاں كے مسلمانوں كو چاهيے كه وه اس كے قوانين كي پاسداري كريں اور اگر حکومتی معاملات میں پرامن طور پر حصہ لینے کا موقع ہو تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس میں حصہ لیں۔ ایسے مواقع نہ ہونے کی شکل میں، یعنی جهاں اسلامي حكومت قائم نهيں هے تو وهاں وه اپنے اندر كے قابلِ اعتماد افراد کو اپنا سربراہ بنالیں اور ان کی ہدایات لیتے ہوئے دینی زندگی گزاریں۔ جب کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو ہر فریق پر لازم هے کہ وہ اس بات کو مان لے جو اللہ اور رسول کی طرف سے آرہی ہو۔ہر آدمی کو اختلاف رائے کی آزادی ہے مگر اجتماعی فیصلہ کو نہ ماننے کی آزادی کسی کو بھی حاصل نہیں۔ اجتماعی نظام مسلم معاشرہ کی اجتماعی ضرورت ہے۔
مدینہ کے ابتدائی زمانہ میں اختلافی معاملات میں فیصلہ لینے کے لیے بیک وقت دو عدالتیں پائی جاتی تھیں۔ ایک، یہودي سرداروں کی جو پہلےسے چلی آرہی تھی۔ دوسری، رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہجرت کے بعد قائم ہوئی۔ مسلمانوں میں جو لوگ اپنے مفاد کی قربانی کی قیمت پر دینداربننے کے لیے تیار نہ تھے وہ ایسا کرتے کہ جب ان کو اندیشہ ہوتا کہ ان کا مقدمہ کمزور ہے اور وہ رسولِ خدا کی عدالت سے اپنے موافق فیصلہ نہ لے سکیں گے تو وہ کعب بن اشرف یہودی کی عدالت میں چلے جاتے۔ یہ بات سراسر ایمان کے خلاف ہے ۔ آدمی اگر اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو بلکہ اپنی پسند کافیصلہ لینا چاہے تو اس کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، خواہ وہ اپنے رویہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کتنے ہی خوب صورت الفاظ اپنے پاس رکھتا ہو۔ تاہم ایسے لوگوں سے نہ الجھتے ہوئے ان کو مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا کام پھر بھی جاری رہنا چاہیے۔
مال نہ عیش کے لیے ہے اور نہ اظہار فخر کے لیے۔ وہ آدمی کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے۔ وہ دنیا میں اس کے قیام وبقا کا سامان ہے۔ مال کا ذریعۂ زندگی ہونا ایک طرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کو بذات خود مقصود بنا لینا درست نہیں۔ دوسرے یہ کہ یہ انتہائی…
…وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بنے، وہ اپنی استعداد کے مطابق دوسروں کو دے۔ اگر کوئی شخص دینے کی حیثیت میںنہیں ہے توآخری اسلامی درجہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کا دل نہ دکھائے، وہ اپنی زبان کھولے تو سیدھی اور سچی بات کہنے کے لیے کھولے، ورنہ خاموش رہے۔
ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک اداکرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ وهي کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خلاف نظر آئے تب بھی اس کو انصاف اور سچائی ہی کے طریقے پر قائم رہنا ہے۔ کیوں کہ بہتری ا س میں ہے جو اللہ بتائے، نہ کہ اس میں جو ہمارے نفس کو پسند ہو۔ جهاں كهيں مسلم حکومت قائم هے وهاں كے مسلمانوں كو چاهيے كه وه اس كے قوانين كي پاسداري كريں اور اگر حکومتی معاملات میں پرامن طور پر حصہ لینے کا موقع ہو تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس میں حصہ لیں۔ ایسے مواقع نہ ہونے کی شکل میں، یعنی جهاں اسلامي حكومت قائم نهيں هے تو وهاں وه اپنے اندر كے قابلِ اعتماد افراد کو اپنا سربراہ بنالیں اور ان کی ہدایات لیتے ہوئے دینی زندگی گزاریں۔ جب کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو ہر فریق پر لازم هے کہ وہ اس بات کو مان لے جو اللہ اور رسول کی طرف سے آرہی ہو۔ہر آدمی کو اختلاف رائے کی آزادی ہے مگر اجتماعی فیصلہ کو نہ ماننے کی آزادی کسی کو بھی حاصل نہیں۔ اجتماعی نظام مسلم معاشرہ کی اجتماعی ضرورت ہے۔
مدینہ کے ابتدائی زمانہ میں اختلافی معاملات میں فیصلہ لینے کے لیے بیک وقت دو عدالتیں پائی جاتی تھیں۔ ایک، یہودي سرداروں کی جو پہلےسے چلی آرہی تھی۔ دوسری، رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہجرت کے بعد قائم ہوئی۔ مسلمانوں میں جو لوگ اپنے مفاد کی قربانی کی قیمت پر دینداربننے کے لیے تیار نہ تھے وہ ایسا کرتے کہ جب ان کو اندیشہ ہوتا کہ ان کا مقدمہ کمزور ہے اور وہ رسولِ خدا کی عدالت سے اپنے موافق فیصلہ نہ لے سکیں گے تو وہ کعب بن اشرف یہودی کی عدالت میں چلے جاتے۔ یہ بات سراسر ایمان کے خلاف ہے ۔ آدمی اگر اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو بلکہ اپنی پسند کافیصلہ لینا چاہے تو اس کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، خواہ وہ اپنے رویہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کتنے ہی خوب صورت الفاظ اپنے پاس رکھتا ہو۔ تاہم ایسے لوگوں سے نہ الجھتے ہوئے ان کو مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا کام پھر بھی جاری رہنا چاہیے۔
ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک اداکرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ وهي کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور…
…کافیصلہ لینا چاہے تو اس کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، خواہ وہ اپنے رویہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کتنے ہی خوب صورت الفاظ اپنے پاس رکھتا ہو۔ تاہم ایسے لوگوں سے نہ الجھتے ہوئے ان کو مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا کام پھر بھی جاری رہنا چاہیے۔
ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک اداکرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ وهي کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خلاف نظر آئے تب بھی اس کو انصاف اور سچائی ہی کے طریقے پر قائم رہنا ہے۔ کیوں کہ بہتری ا س میں ہے جو اللہ بتائے، نہ کہ اس میں جو ہمارے نفس کو پسند ہو۔ جهاں كهيں مسلم حکومت قائم هے وهاں كے مسلمانوں كو چاهيے كه وه اس كے قوانين كي پاسداري كريں اور اگر حکومتی معاملات میں پرامن طور پر حصہ لینے کا موقع ہو تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس میں حصہ لیں۔ ایسے مواقع نہ ہونے کی شکل میں، یعنی جهاں اسلامي حكومت قائم نهيں هے تو وهاں وه اپنے اندر كے قابلِ اعتماد افراد کو اپنا سربراہ بنالیں اور ان کی ہدایات لیتے ہوئے دینی زندگی گزاریں۔ جب کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو ہر فریق پر لازم هے کہ وہ اس بات کو مان لے جو اللہ اور رسول کی طرف سے آرہی ہو۔ہر آدمی کو اختلاف رائے کی آزادی ہے مگر اجتماعی فیصلہ کو نہ ماننے کی آزادی کسی کو بھی حاصل نہیں۔ اجتماعی نظام مسلم معاشرہ کی اجتماعی ضرورت ہے۔
مدینہ کے ابتدائی زمانہ میں اختلافی معاملات میں فیصلہ لینے کے لیے بیک وقت دو عدالتیں پائی جاتی تھیں۔ ایک، یہودي سرداروں کی جو پہلےسے چلی آرہی تھی۔ دوسری، رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہجرت کے بعد قائم ہوئی۔ مسلمانوں میں جو لوگ اپنے مفاد کی قربانی کی قیمت پر دینداربننے کے لیے تیار نہ تھے وہ ایسا کرتے کہ جب ان کو اندیشہ ہوتا کہ ان کا مقدمہ کمزور ہے اور وہ رسولِ خدا کی عدالت سے اپنے موافق فیصلہ نہ لے سکیں گے تو وہ کعب بن اشرف یہودی کی عدالت میں چلے جاتے۔ یہ بات سراسر ایمان کے خلاف ہے ۔ آدمی اگر اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو بلکہ اپنی پسند کافیصلہ لینا چاہے تو اس کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، خواہ وہ اپنے رویہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کتنے ہی خوب صورت الفاظ اپنے پاس رکھتا ہو۔ تاہم ایسے لوگوں سے نہ الجھتے ہوئے ان کو مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا کام پھر بھی جاری رہنا چاہیے۔
ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک اداکرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ وهي کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور…
…ہوئے بھی نازک معاملات میں کود پڑتا ہے اور پھر خود بھی ہلاک ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی ہلاک کرتا ہے۔ اجتماعی معاملات میں بولنے سے زیادہ چپ رہنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ شیطان کی مدد کرنا ہے کہ آدمی جو بات سنے اس کو دوسروں کے سامنے دہرانے لگے۔
دین داری کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی عملی طورپر جہاں ہے وہیں رہے، وہ اپنی حقیقی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔ البتہ کچھ اوپری مظاہر کا اہتمام کرکے سمجھے کہ میں دین دار بن گیا ہوں۔ ایسے دین سے کسی کو ضد نہیں ہوتی۔ لوگ اس کی مخالفت کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ مگر جب دین کے ایسے تقاضے پیش كيے جائیں جو قربانی کا مطالبہ کرتے ہوں، جس میںآدمی کو اپنی بنی بنائی زندگی اجاڑنا پڑے تو اس کے سامنے آنے کے بعد لوگوں میں دو فریق ہوجاتے ہیں۔ ایک طبقہ دعوت کے مخالفین کا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سستے مظاہر کے ذریعہ اپنی دین داری کا سکہ قائم كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ قربانی والے دین کے مخالف بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ ایسے دین کو اختیار کرنا ان کو برتری کے مقام سے اترنے کے ہم معنی نظر آتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہوتا ہے جس کی فطرت زندہ ہوتی ہے۔ وہ چیزوں کو مفاد اور مصلحت سے اوپر اٹھ کر دیکھتا ہے۔ ایک بات کا حق ثابت ہوجانا ہی اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے کہ وہ اس کو قبول کرلے۔ یہ صورت حال کبھی اتنی سنگین ہوجاتی ہے کہ حق کی تائید وحمایت میں زبان کھولنا جہاد کے ہم معنی بن جاتاہے۔ اس کے برعکس، حق کے بارے میں خاموشی یا مخالفت کا رویہ اختیار کرنا آدمی کو انعام کا مستحق بنا دیتا ہے۔تاہم جہاں تک سچے اہل ایمان کا تعلق ہے ان کو ہر حال میں یہ حکم ہے کہ عام معاشرتی تعلقات کو اس اختلاف سے متاثر نہ ہونے دیں۔ اور ان کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ اختیار نہ کریں۔ مسلمان کا رویہ دوسروں کے رد عمل میں نہیں بننا چاہیے بلکہ اس قسم کی چیزوں کو نظر انداز کرکے بننا چاہیے۔ یہ معاملہ اللہ سے متعلق ہے کہ وہ کس کو کیا بدلہ دے اور کسی کے لیے کیا فیصلہ کرے۔
نازک حالات میں دعوت حق کو زندہ رکھنے کی ضمانت صرف یہ ہوتی ہے کہ کم از کم داعی اپنی ذات کی سطح پر یہ عزم رکھے کہ وہ ہر حال میں اپنے موقف پر قائم رہے گا خواہ کوئی تائید کرنے والا ہو یا نہ ہو۔ایسے حالات میں داعی کا عزم اس کو اللہ کی خصوصی نصرت کا مستحق بنا دیتا ہے۔ اس کی ایک مثال بدر صغریٰ کا غزوہ ہے جو احد کے صرف ایک ماہ بعد پیش آیا۔ اس وقت مدینہ میں ایسی کیفیت چھائی ہوئی تھی کہ صرف ستر آدمی رسول اللہ کے ساتھ نکلے۔ مگر اس مختصر قافلہ کو اللہ کی یہ خصوصی مدد ملی کہ مکہ والوں پر ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ مقابلہ میں نہ آسکے۔ خدا کی سنت ہے کہ وہ منکرین کا زورتوڑے۔ مگر خدا کی یہ سنت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب کہ دین کے علم بردار اپنی بے سروسامانی کے باوجود خدا کے دشمنوں کا زور توڑنے کے لیے نکل پڑے ہوں۔
دین داری کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی عملی طورپر جہاں ہے وہیں رہے، وہ اپنی حقیقی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔ البتہ کچھ اوپری مظاہر کا اہتمام کرکے سمجھے کہ میں دین دار بن گیا ہوں۔ ایسے دین سے کسی کو ضد نہیں ہوتی۔ لوگ اس کی مخالفت کی ضرورت…
…ملی کہ مکہ والوں پر ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ مقابلہ میں نہ آسکے۔ خدا کی سنت ہے کہ وہ منکرین کا زورتوڑے۔ مگر خدا کی یہ سنت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب کہ دین کے علم بردار اپنی بے سروسامانی کے باوجود خدا کے دشمنوں کا زور توڑنے کے لیے نکل پڑے ہوں۔
دین داری کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی عملی طورپر جہاں ہے وہیں رہے، وہ اپنی حقیقی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔ البتہ کچھ اوپری مظاہر کا اہتمام کرکے سمجھے کہ میں دین دار بن گیا ہوں۔ ایسے دین سے کسی کو ضد نہیں ہوتی۔ لوگ اس کی مخالفت کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ مگر جب دین کے ایسے تقاضے پیش كيے جائیں جو قربانی کا مطالبہ کرتے ہوں، جس میںآدمی کو اپنی بنی بنائی زندگی اجاڑنا پڑے تو اس کے سامنے آنے کے بعد لوگوں میں دو فریق ہوجاتے ہیں۔ ایک طبقہ دعوت کے مخالفین کا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سستے مظاہر کے ذریعہ اپنی دین داری کا سکہ قائم كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ قربانی والے دین کے مخالف بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ ایسے دین کو اختیار کرنا ان کو برتری کے مقام سے اترنے کے ہم معنی نظر آتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہوتا ہے جس کی فطرت زندہ ہوتی ہے۔ وہ چیزوں کو مفاد اور مصلحت سے اوپر اٹھ کر دیکھتا ہے۔ ایک بات کا حق ثابت ہوجانا ہی اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے کہ وہ اس کو قبول کرلے۔ یہ صورت حال کبھی اتنی سنگین ہوجاتی ہے کہ حق کی تائید وحمایت میں زبان کھولنا جہاد کے ہم معنی بن جاتاہے۔ اس کے برعکس، حق کے بارے میں خاموشی یا مخالفت کا رویہ اختیار کرنا آدمی کو انعام کا مستحق بنا دیتا ہے۔تاہم جہاں تک سچے اہل ایمان کا تعلق ہے ان کو ہر حال میں یہ حکم ہے کہ عام معاشرتی تعلقات کو اس اختلاف سے متاثر نہ ہونے دیں۔ اور ان کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ اختیار نہ کریں۔ مسلمان کا رویہ دوسروں کے رد عمل میں نہیں بننا چاہیے بلکہ اس قسم کی چیزوں کو نظر انداز کرکے بننا چاہیے۔ یہ معاملہ اللہ سے متعلق ہے کہ وہ کس کو کیا بدلہ دے اور کسی کے لیے کیا فیصلہ کرے۔
نازک حالات میں دعوت حق کو زندہ رکھنے کی ضمانت صرف یہ ہوتی ہے کہ کم از کم داعی اپنی ذات کی سطح پر یہ عزم رکھے کہ وہ ہر حال میں اپنے موقف پر قائم رہے گا خواہ کوئی تائید کرنے والا ہو یا نہ ہو۔ایسے حالات میں داعی کا عزم اس کو اللہ کی خصوصی نصرت کا مستحق بنا دیتا ہے۔ اس کی ایک مثال بدر صغریٰ کا غزوہ ہے جو احد کے صرف ایک ماہ بعد پیش آیا۔ اس وقت مدینہ میں ایسی کیفیت چھائی ہوئی تھی کہ صرف ستر آدمی رسول اللہ کے ساتھ نکلے۔ مگر اس مختصر قافلہ کو اللہ کی یہ خصوصی مدد ملی کہ مکہ والوں پر ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ مقابلہ میں نہ آسکے۔ خدا کی سنت ہے کہ وہ منکرین کا زورتوڑے۔ مگر خدا کی یہ سنت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب کہ دین کے علم بردار اپنی بے سروسامانی کے باوجود خدا کے دشمنوں کا زور توڑنے کے لیے نکل پڑے ہوں۔
دین داری کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی عملی طورپر جہاں ہے وہیں رہے، وہ اپنی حقیقی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔ البتہ کچھ اوپری مظاہر کا اہتمام کرکے سمجھے کہ میں دین دار بن گیا ہوں۔ ایسے دین سے کسی کو ضد نہیں ہوتی۔ لوگ اس کی مخالفت کی ضرورت…
…یہ کہ سزا ایسی عبرت ناک ہو کہ اس کو دیکھ کر دوسرے مجرمین کی حوصلہ شکنی ہو۔ تاہم مجرم اگر جرم کے بعد اپنے فعل پر شرمندہ ہو۔ وہ اللہ سے معافی مانگے اور آئندہ اس قسم کی چیزوں کو بالکل چھوڑ دے تو امید ہے کہ آخرت میں اللہ اسے معاف کردے گا۔
مدینہ میں اندرونی طورپر دو قسم کے لوگ اسلامی دعوت کے مخالفت کررہے تھے۔ ایک منافقین، دوسرے یہود۔ منافقین وہ لوگ تھے جو ظاہری اور نمائشی اسلام کو لیے ہوئے تھے۔ سچے اسلام کی دعوت میں ان کو اپنے اغراض ومفادات پر زد پڑتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ یہود وہ لوگ تھے جو مذہب کی نمائندگی کی گدیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو محسوس ہوتا تھا کہ اسلامی دعوت ان کو ان کے برتری کے مقام سے نیچے اتار رہی ہے۔ یہ دونوں قسم کے لوگ سچے اسلام کی دعوت کو اپنا مشترک دشمن سمجھتے تھے۔ اس لیے اسلام کے خلاف مہم چلانے میں دونوں ایک ہوگئے۔ ان کے ’’بڑے‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔ اس لیے وہ خود نہ آتے۔ البتہ ان کے ’’چھوٹے‘‘ اس پر لگے ہوئے تھے کہ وہ آپ کی باتوں کوسنیں اور ا ن کو اپنے بڑوں تک پہنچائیں۔ پھر یہ لوگ اس کو الٹے معنی پہناتے اور آپ کو اور آپ کی تحریک کو بدنام کرتے۔ ان کی سرکشی نے ان کو ایسا ڈھیٹ بنا دیا تھا کہ وہ اللہ کے کلام کو اس کے موقع ومحل سے ہٹا کر اس سے اپنا مفیدِ مطلب مفہوم نکالنے سے بھی نہ ڈرتے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے کو خدا اور رسول کے تابع نہیں کرتے۔ بلکہ ان کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ جو بات اپنے ذوق کے مطابق ہو اس کو لے لو اور جو بات ذوق کے مطابق نہ ہو اس کو چھوڑ دو۔ یہ مزاج کسی آدمی کے لیے سخت فتنہ ہے۔ جن لوگوںکا یہ حال ہو کہ وہ حق کے مقابلہ میں مفاد اور مصلحت کو ترجیح دیں، جو ہر حال میں اپنے کو بڑائی کے مقام پر دیکھنا چاہیں، جو حق کو زیر کرنے کے لیے اس کے خلاف تخریبی سازشیں کریں، حتی کہ اپنے عمل کو جائز ثابت کرنے کے لیے خدا کے کلام کو بدل ڈالیں، ایسے لوگوں کی نفسیات بالآخر یہ ہوجاتی ہے کہ وہ حق کو قبول کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ انھوںنے خدا کا ساتھ چھوڑا، اس لیے خدا نے بھی ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ ایسے لوگ خدا کی توفیق سے محروم ہو کر باطل مشغلوں میں لگے رہتے ہیں، یہاں تک کہ آگ کی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔
اللہ کا جو بندہ اللہ کے سچے دین کا پیغام لے کر اٹھا ہو اس کو مخالفتوں کی وجہ سے بے ہمت نہیں ہونا چاہیے۔ ایسے لوگوں کی سرگرمیاں حقیقۃً داعی کے خلاف نہیں بلکہ خدا کے خلاف ہیں۔ اس لیے وہ کبھی کامیاب نہیںہوسکتیں۔ دعوتی عمل سے اللہ کو جو چیز مطلوب ہے وہ صرف یہ کہ اصل بات سے بخوبی طورپر لوگوں کو آگاہ کردیا جائے۔ اور یہ کام اللہ کی مدد سے لازماً اپنی تکمیل تک پہنچ کر رہتا ہے۔
حرام (سُحت) سے مراد رشوت ہے۔ رشوت کی ایک عام شکل وہ ہے جو براہِ راست اسی نام پر لی جاتی ہے۔ چنانچہ یہودی علماء میں ایسے لوگ تھے جو رشوت لے کر غلط مسائل بتایا کرتے تھے۔ تاہم رشوت کی ایک اور صورت وہ ہے جس میں براہِ راست لین دین نہیں ہوتا مگر…
…خیر خواہی پر قائم ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کے آگے جھکنے والے ہوتے ہیں۔ یعنی معاملات دنیا میں کوئی بھی چیز ان کو انانیت پر آمادہ نہیں کرتی بلکہ وہ ہر موقع پر وہی کرتے ہیں جو اللہ چاہے۔ وہ تواضع اختیار کرنے والے ہوتے ہیں، نہ کہ سرکشی کرنے والے۔
وہ لوگ جو خود ساختہ دین کی بنیاد پر خدا پرستی کے اجارہ دار بنے ہوئے ہوں ان کے درمیان جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے خلاف وہ اتنی شدید نفرت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اپنی معقولیت تک کھوبیٹھتے ہیں۔ حتی کہ ایسی چیزیں جو بلا اختلاف قابل احترام ہیں ان کا بھی مذاق اڑانے لگتے ہیں۔یہی مدینہ کے یہود کاحال تھا۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کی اذان کا مذاق اڑانے سے بھی نہیں رکتے تھے۔ جو لوگ اتنے بے حس اور اتنے غیر سنجیدہ ہوجائیں ان سے ایک مسلمان کا تعلق دعوت کا تو ہوسکتا ہے مگر دوستی کا نہیں ہوسکتا۔
ان لوگوں کی خدا سے بے خوفی کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ سچے مسلمانوں کو مجرم سمجھتے ہیں اور اپنے تمام جرائم کے باوجود اپنے متعلق یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کا معاملہ خدا کے یہاں بالکل درست ہے۔ جب وہ اپنی اس کیفیت کی اصلاح نہیں کرتے تو بالآخر ان کی بے حسی ان کو اس نوبت تک پہنچاتی ہے کہ ان کی عقل حق وباطل کے معاملہ میں کند ہوجاتی ہے۔ وہ شکل کے اعتبار سے انسان مگر باطن کے اعتبار سے بدترین جانور بن جاتے ہیں۔
وہ لطیف احساسات جو آدمی کے اندر خدا کے چوکی دار کی طرح کام کرتے ہیں، جو اس کو برائیوں سے روکتے ہیں وہ ان کے اندر ختم ہوجاتے ہیں۔ مثلاً حیاء، شرافت، وسعت ظرف، پاکیزہ طریقوں کو پسند کرنا، وغیرہ۔ اس گراوٹ کا آخري درجہ یہ ہے کہ آدمی کی پوری زندگی شیطانی راستوں پر چل پڑے۔ جب کوئی گروہ اس نوبت کو پہنچتا ہے تو وہ لعنت کا مستحق بن جاتا ہے، وہ خدا کی رحمت سے آخری حد تک د ور ہوجاتا ہے۔ اس کی انسانیت مسخ ہوجاتی ہے وہ فطرت کے سیدھے راستہ سے بھٹک کر جانوروں کی طرح جینے لگتا ہے۔
انسان کو اپنی خواہشوں کے پیچھے چلنے سے جو چیز روکتی ہے، وہ عقل ہے۔ مگر جب آدمی پر ضد اور عداوت کا غلبہ ہوتا ہے تو اس کی عقل اس کی خواہش کے نیچے دب کر رہ جاتی ہے۔ اب وہ ظاہر میں انسان مگر باطن میں حیوان ہوتا ہے۔ حتی کہ صاحب بصیرت آدمی اس کو دیکھ کر جان لیتا ہے کہ اس کے ظاہری انسانی ڈھانچہ کے اندر کون سا حیوان چھپا ہوا ہے۔
وہ لوگ جو خود ساختہ دین کی بنیاد پر خدا پرستی کے اجارہ دار بنے ہوئے ہوں ان کے درمیان جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے خلاف وہ اتنی شدید نفرت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اپنی معقولیت تک کھوبیٹھتے ہیں۔ حتی کہ ایسی چیزیں جو بلا…
…اور عداوت کا غلبہ ہوتا ہے تو اس کی عقل اس کی خواہش کے نیچے دب کر رہ جاتی ہے۔ اب وہ ظاہر میں انسان مگر باطن میں حیوان ہوتا ہے۔ حتی کہ صاحب بصیرت آدمی اس کو دیکھ کر جان لیتا ہے کہ اس کے ظاہری انسانی ڈھانچہ کے اندر کون سا حیوان چھپا ہوا ہے۔
وہ لوگ جو خود ساختہ دین کی بنیاد پر خدا پرستی کے اجارہ دار بنے ہوئے ہوں ان کے درمیان جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے خلاف وہ اتنی شدید نفرت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اپنی معقولیت تک کھوبیٹھتے ہیں۔ حتی کہ ایسی چیزیں جو بلا اختلاف قابل احترام ہیں ان کا بھی مذاق اڑانے لگتے ہیں۔یہی مدینہ کے یہود کاحال تھا۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کی اذان کا مذاق اڑانے سے بھی نہیں رکتے تھے۔ جو لوگ اتنے بے حس اور اتنے غیر سنجیدہ ہوجائیں ان سے ایک مسلمان کا تعلق دعوت کا تو ہوسکتا ہے مگر دوستی کا نہیں ہوسکتا۔
ان لوگوں کی خدا سے بے خوفی کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ سچے مسلمانوں کو مجرم سمجھتے ہیں اور اپنے تمام جرائم کے باوجود اپنے متعلق یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کا معاملہ خدا کے یہاں بالکل درست ہے۔ جب وہ اپنی اس کیفیت کی اصلاح نہیں کرتے تو بالآخر ان کی بے حسی ان کو اس نوبت تک پہنچاتی ہے کہ ان کی عقل حق وباطل کے معاملہ میں کند ہوجاتی ہے۔ وہ شکل کے اعتبار سے انسان مگر باطن کے اعتبار سے بدترین جانور بن جاتے ہیں۔
وہ لطیف احساسات جو آدمی کے اندر خدا کے چوکی دار کی طرح کام کرتے ہیں، جو اس کو برائیوں سے روکتے ہیں وہ ان کے اندر ختم ہوجاتے ہیں۔ مثلاً حیاء، شرافت، وسعت ظرف، پاکیزہ طریقوں کو پسند کرنا، وغیرہ۔ اس گراوٹ کا آخري درجہ یہ ہے کہ آدمی کی پوری زندگی شیطانی راستوں پر چل پڑے۔ جب کوئی گروہ اس نوبت کو پہنچتا ہے تو وہ لعنت کا مستحق بن جاتا ہے، وہ خدا کی رحمت سے آخری حد تک د ور ہوجاتا ہے۔ اس کی انسانیت مسخ ہوجاتی ہے وہ فطرت کے سیدھے راستہ سے بھٹک کر جانوروں کی طرح جینے لگتا ہے۔
انسان کو اپنی خواہشوں کے پیچھے چلنے سے جو چیز روکتی ہے، وہ عقل ہے۔ مگر جب آدمی پر ضد اور عداوت کا غلبہ ہوتا ہے تو اس کی عقل اس کی خواہش کے نیچے دب کر رہ جاتی ہے۔ اب وہ ظاہر میں انسان مگر باطن میں حیوان ہوتا ہے۔ حتی کہ صاحب بصیرت آدمی اس کو دیکھ کر جان لیتا ہے کہ اس کے ظاہری انسانی ڈھانچہ کے اندر کون سا حیوان چھپا ہوا ہے۔
نماز کا مقصدآدمی کو برائیوں سے پاک کرنا ہے۔ وضو اسی کی ایک خارجی تیاری ہے۔ آدمی جب نماز کا ارادہ کرتا ہے تو پہلے وہ پانی کے پاس جاتا ہے۔ پانی بہت بڑی نعمت ہے جو آدمی کے لیے ہر قسم کی گندگی کو دھونے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اسی طرح نماز بھی…
…کافی قرار دیا گیا۔ وضو اور غسل کے سادہ طریقے اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔ اس طرح طہارت شرعی کو طہارت طبعی کے ساتھ جوڑدیاگیا ہے۔ معذوری کی حالت میں تیمم کی اجازت مزید نعمت ہے کیوں کہ یہ غلو سے بچانے والی ہے جس میں اکثر مذاہب كے لوگ مبتلا ہوئے۔
وہ لوگ جو خود ساختہ دین کی بنیاد پر خدا پرستی کے اجارہ دار بنے ہوئے ہوں ان کے درمیان جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے خلاف وہ اتنی شدید نفرت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اپنی معقولیت تک کھوبیٹھتے ہیں۔ حتی کہ ایسی چیزیں جو بلا اختلاف قابل احترام ہیں ان کا بھی مذاق اڑانے لگتے ہیں۔یہی مدینہ کے یہود کاحال تھا۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کی اذان کا مذاق اڑانے سے بھی نہیں رکتے تھے۔ جو لوگ اتنے بے حس اور اتنے غیر سنجیدہ ہوجائیں ان سے ایک مسلمان کا تعلق دعوت کا تو ہوسکتا ہے مگر دوستی کا نہیں ہوسکتا۔
ان لوگوں کی خدا سے بے خوفی کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ سچے مسلمانوں کو مجرم سمجھتے ہیں اور اپنے تمام جرائم کے باوجود اپنے متعلق یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کا معاملہ خدا کے یہاں بالکل درست ہے۔ جب وہ اپنی اس کیفیت کی اصلاح نہیں کرتے تو بالآخر ان کی بے حسی ان کو اس نوبت تک پہنچاتی ہے کہ ان کی عقل حق وباطل کے معاملہ میں کند ہوجاتی ہے۔ وہ شکل کے اعتبار سے انسان مگر باطن کے اعتبار سے بدترین جانور بن جاتے ہیں۔
وہ لطیف احساسات جو آدمی کے اندر خدا کے چوکی دار کی طرح کام کرتے ہیں، جو اس کو برائیوں سے روکتے ہیں وہ ان کے اندر ختم ہوجاتے ہیں۔ مثلاً حیاء، شرافت، وسعت ظرف، پاکیزہ طریقوں کو پسند کرنا، وغیرہ۔ اس گراوٹ کا آخري درجہ یہ ہے کہ آدمی کی پوری زندگی شیطانی راستوں پر چل پڑے۔ جب کوئی گروہ اس نوبت کو پہنچتا ہے تو وہ لعنت کا مستحق بن جاتا ہے، وہ خدا کی رحمت سے آخری حد تک د ور ہوجاتا ہے۔ اس کی انسانیت مسخ ہوجاتی ہے وہ فطرت کے سیدھے راستہ سے بھٹک کر جانوروں کی طرح جینے لگتا ہے۔
انسان کو اپنی خواہشوں کے پیچھے چلنے سے جو چیز روکتی ہے، وہ عقل ہے۔ مگر جب آدمی پر ضد اور عداوت کا غلبہ ہوتا ہے تو اس کی عقل اس کی خواہش کے نیچے دب کر رہ جاتی ہے۔ اب وہ ظاہر میں انسان مگر باطن میں حیوان ہوتا ہے۔ حتی کہ صاحب بصیرت آدمی اس کو دیکھ کر جان لیتا ہے کہ اس کے ظاہری انسانی ڈھانچہ کے اندر کون سا حیوان چھپا ہوا ہے۔
مدینہ کے یہودیوں میں کچھ لوگ تھے جو اسلام سے ذہنی طور پر مرعوب تھے۔ نیز اسلام کا بڑھتا ہوا غلبہ دیکھ کر کھلم کھلا اس کا حریف بننا بھی نہیں چاہتے تھے۔ یہ لوگ اگر چہ اندر سے اپنے آبائی دین پر جمے ہوئے تھے مگر الفاظ بول کر ظاہر کرتے تھے کہ…
…دیتے کہ ان کے ذریعہ سے ان کے لیے جنت کے محل تعمیر ہورہے ہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ بہت برا کام ہے کہ لوگوں کے درمیان ایسا دین تقسیم کیا جائے جس میں حقیقی عملی زندگی کو بدلنا نہ ہو، البتہ کچھ نمائشی چیزوں کا اہتمام کرکے جنت کی ضمانت مل جائے۔
مدینہ کے یہودیوں میں کچھ لوگ تھے جو اسلام سے ذہنی طور پر مرعوب تھے۔ نیز اسلام کا بڑھتا ہوا غلبہ دیکھ کر کھلم کھلا اس کا حریف بننا بھی نہیں چاہتے تھے۔ یہ لوگ اگر چہ اندر سے اپنے آبائی دین پر جمے ہوئے تھے مگر الفاظ بول کر ظاہر کرتے تھے کہ وہ بھی مومن ہیں۔ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ اصل معاملہ کسی انسان سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ اور خدا وہ ہے جو دلوں تک کا حال جانتا ہے۔ وہ کسی سے جو معاملہ کرے گا حقیقت کے اعتبار سے کرے گا، نہ کہ ان الفاظ کی بنا پر جو اس نے مصلحت کے طورپر اپنے منھ سے نکالا تھا۔
یہود کے خواص میں دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک ربّی جن کو مشائخ کہاجاسکتا ہے۔ دوسرے احبار جو اُن کے علماء اور فقہا کی مانند تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اگر چہ دین ہی کو اپنا صبح وشام کا مشغلہ بنائے ہوئے تھے۔ دین کے نام پر ان کی قیادت قائم تھی۔ اور دین ہی کے نام پر ان کو بڑی بڑی رقمیں ملتی تھی۔ مگر ان کی قیادت ومقبولیت کا راز عوام پسند دین کی نمائندگی تھی، نہ کہ خدا پسند دین کی نمائندگی۔ ان کا بولنا اور ان کاچلنا بظاہر دین کے لیے تھا۔ مگر حقیقۃً وہ ایک قسم کی دنیاداری تھی جو دین کے نام پر جاری تھی۔ وہ دین کے نام پر لوگوں کو وہی چیز دے رہے تھے جس کو وہ دین کے بغیر اپنے لیے پسند كيے ہوئے تھے۔
خدا کا پسندیدہ دین تقویٰ کا دین ہے۔ یعنی یہ کہ آدمی لوگوں کے درمیان اس طرح رہے کہ اس کی زبان گناہ کے کلمات نہ بولے، وہ اپنی سرگرمیوں میں حرام طریقوں سے پوری طرح بچتا ہو۔ جن لوگوں سے اس کا معاملہ پیش آئے ان کے ساتھ وہ انصاف کرنے والا ہو، نہ کہ ظلم کرنے والا۔ مگر آدمی کا نفس ہمیشہ اس کو دنیا پرستی کے راستہ پر ڈال دیتاہے۔ وہ ایسی زندگی گزارنا چاہتا ہے جس میں اس کو صحیح اور غلط نہ دیکھنا ہو بلکہ صرف اپنے فائدوں اور مصلحتوں کو دیکھنا ہو۔ یہود کے عوام اسی حالت پر تھے۔ اب ان کے خواص کا کام یہ تھا کہ وہ ان کو اس سے روکتے۔ مگر انھوںنے عوام سے ایک خاموش مفاہمت کرلی۔وہ عوام کے درمیان ایسا دین تقسیم کرنے لگے جس میں اپنی حقیقی زندگی کو بدلے بغیر نجات کی ضمانت ہو اور بڑے بڑے درجات طے ہوتے ہوں۔ یہ خواص اپنے عوام کی حقیقی زندگیوں کو نہ چھیڑتے البتہ ان کو ملت یہود کی فضیلت کے جھوٹے قصے سناتے۔ ان کے قومی ہنگاموں کو دین کے رنگ میں بیان کرتے۔ رسمی قسم کے اعمال دہرا دینے پر یہ بشارت دیتے کہ ان کے ذریعہ سے ان کے لیے جنت کے محل تعمیر ہورہے ہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ بہت برا کام ہے کہ لوگوں کے درمیان ایسا دین تقسیم کیا جائے جس میں حقیقی عملی زندگی کو بدلنا نہ ہو، البتہ کچھ نمائشی چیزوں کا اہتمام کرکے جنت کی ضمانت مل جائے۔
مدینہ کے یہودیوں میں کچھ لوگ تھے جو اسلام سے ذہنی طور پر مرعوب تھے۔ نیز اسلام کا بڑھتا ہوا غلبہ دیکھ کر کھلم کھلا اس کا حریف بننا بھی نہیں چاہتے تھے۔ یہ لوگ اگر چہ اندر سے اپنے آبائی دین پر جمے ہوئے تھے مگر الفاظ بول کر ظاہر کرتے تھے کہ…
…ہونے لگتا ہے کہ باعزت زندگی حاصل کرنے کي اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں کہ ان معبودوں کے تحت بنے ہوئے ڈھانچہ سے مصالحت کر لی جائے۔ مگر اس قسم کا رویہ اپنے ایمان میں ایسا نقصان شامل کرلینا ہے جو خود ایمان ہی کو خدا کی نظر میں مشتبہ بنا دے۔
’’فضیلت‘‘ کسی کانسلی یا قومی لقب نہیں۔ یہ اللہ کا ایک عطیہ ہے جس کا تحقّق صرف ان افراد کے لیے ہوتا ہے جو ہدایت کے مطابق اپنے کو صالح بنائیں، شرک کی تمام قسموں سے اپنے کو بچائیں اور ’’بلامعاوضہ نصیحت‘‘ کے دعوتی منصوبہ میں اپنے کو ہمہ تن شامل کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی کتاب کو اپنا حقیقی رہنما بناتے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ اپنے وجود کو اتنا زیادہ شامل کرلیتے ہیں کہ ان پر اس راہ کے وہ بھید کھلنے لگتے ہیں جن کو حکمت کہا جاتاہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا چن لیتاہے اور ان میں سے جن کو چاہتا ہے اپنے دین کی پیغام رسانی کی توفیق دیتاہے، دور نبوت میں اللہ کے خصوصی پیغمبر کی حیثیت سے اور ختم نبوت کے بعد اللہ کے عام داعی کی حیثیت سے۔ اللہ کا انعام خواہ وہ پیغمبروں کے لیے ہو یا عام انسانوں کے لیے، تمام تر نیک عملی (احسان) کی بنیاد پر ملتاہے، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔
دعوتِ حق کا کام صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اس کی خاطر اتنا زیادہ یکسو اور بے نفس ہوچکے ہوں کہ وہ مدعو سے کسی قسم کی مادی توقع نہ رکھیں۔ جس شخص یا گروہ تک آپ آخرت کا پیغام پہنچا رہے ہوں اسی سے آپ اپنے دنیوی حقوق کے لیے احتجاج اور مطالبات کی مہم نهيں چلا سکتے ہیں۔ داعی کا ایسا کرنا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ اس کی دعوت مدعو کی نظر میں مضحکہ خیز بن کر رہ جائے اور ماحول کے اندر کبھی اس کو سنجیدہ مہم کی حیثیت حاصل نہ ہو۔
مکہ میں کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے۔ مگر بحیثیت ’’قوم‘‘ مکہ والوں نے آپ کا انکارکردیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مدینہ والوں کے دل آپ کی دعوت کے حق میں نرم کرديے اور وہ بحیثیت قوم آپ کے مومن بن گئے۔ حتی کہ آپ کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ آپ مکہ سے مدینہ جاکر وہاں اسلام کا مرکز قائم کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ مدد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل درجہ میں حاصل ہوئی۔ تاہم آپ کی امت میں اٹھنے والے داعیوں کو بھی اللہ یہ مدد دے سکتا ہے اور اپنی مصلحت کے مطابق دیتا رہا ہے۔
’’فضیلت‘‘ کسی کانسلی یا قومی لقب نہیں۔ یہ اللہ کا ایک عطیہ ہے جس کا تحقّق صرف ان افراد کے لیے ہوتا ہے جو ہدایت کے مطابق اپنے کو صالح بنائیں، شرک کی تمام قسموں سے اپنے کو بچائیں اور ’’بلامعاوضہ نصیحت‘‘ کے دعوتی منصوبہ میں اپنے کو ہمہ تن…
…آپ مکہ سے مدینہ جاکر وہاں اسلام کا مرکز قائم کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ مدد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل درجہ میں حاصل ہوئی۔ تاہم آپ کی امت میں اٹھنے والے داعیوں کو بھی اللہ یہ مدد دے سکتا ہے اور اپنی مصلحت کے مطابق دیتا رہا ہے۔
’’فضیلت‘‘ کسی کانسلی یا قومی لقب نہیں۔ یہ اللہ کا ایک عطیہ ہے جس کا تحقّق صرف ان افراد کے لیے ہوتا ہے جو ہدایت کے مطابق اپنے کو صالح بنائیں، شرک کی تمام قسموں سے اپنے کو بچائیں اور ’’بلامعاوضہ نصیحت‘‘ کے دعوتی منصوبہ میں اپنے کو ہمہ تن شامل کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی کتاب کو اپنا حقیقی رہنما بناتے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ اپنے وجود کو اتنا زیادہ شامل کرلیتے ہیں کہ ان پر اس راہ کے وہ بھید کھلنے لگتے ہیں جن کو حکمت کہا جاتاہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا چن لیتاہے اور ان میں سے جن کو چاہتا ہے اپنے دین کی پیغام رسانی کی توفیق دیتاہے، دور نبوت میں اللہ کے خصوصی پیغمبر کی حیثیت سے اور ختم نبوت کے بعد اللہ کے عام داعی کی حیثیت سے۔ اللہ کا انعام خواہ وہ پیغمبروں کے لیے ہو یا عام انسانوں کے لیے، تمام تر نیک عملی (احسان) کی بنیاد پر ملتاہے، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔
دعوتِ حق کا کام صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اس کی خاطر اتنا زیادہ یکسو اور بے نفس ہوچکے ہوں کہ وہ مدعو سے کسی قسم کی مادی توقع نہ رکھیں۔ جس شخص یا گروہ تک آپ آخرت کا پیغام پہنچا رہے ہوں اسی سے آپ اپنے دنیوی حقوق کے لیے احتجاج اور مطالبات کی مہم نهيں چلا سکتے ہیں۔ داعی کا ایسا کرنا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ اس کی دعوت مدعو کی نظر میں مضحکہ خیز بن کر رہ جائے اور ماحول کے اندر کبھی اس کو سنجیدہ مہم کی حیثیت حاصل نہ ہو۔
مکہ میں کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے۔ مگر بحیثیت ’’قوم‘‘ مکہ والوں نے آپ کا انکارکردیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مدینہ والوں کے دل آپ کی دعوت کے حق میں نرم کرديے اور وہ بحیثیت قوم آپ کے مومن بن گئے۔ حتی کہ آپ کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ آپ مکہ سے مدینہ جاکر وہاں اسلام کا مرکز قائم کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ مدد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل درجہ میں حاصل ہوئی۔ تاہم آپ کی امت میں اٹھنے والے داعیوں کو بھی اللہ یہ مدد دے سکتا ہے اور اپنی مصلحت کے مطابق دیتا رہا ہے۔
’’فضیلت‘‘ کسی کانسلی یا قومی لقب نہیں۔ یہ اللہ کا ایک عطیہ ہے جس کا تحقّق صرف ان افراد کے لیے ہوتا ہے جو ہدایت کے مطابق اپنے کو صالح بنائیں، شرک کی تمام قسموں سے اپنے کو بچائیں اور ’’بلامعاوضہ نصیحت‘‘ کے دعوتی منصوبہ میں اپنے کو ہمہ تن…
…آپ مکہ سے مدینہ جاکر وہاں اسلام کا مرکز قائم کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ مدد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل درجہ میں حاصل ہوئی۔ تاہم آپ کی امت میں اٹھنے والے داعیوں کو بھی اللہ یہ مدد دے سکتا ہے اور اپنی مصلحت کے مطابق دیتا رہا ہے۔
’’فضیلت‘‘ کسی کانسلی یا قومی لقب نہیں۔ یہ اللہ کا ایک عطیہ ہے جس کا تحقّق صرف ان افراد کے لیے ہوتا ہے جو ہدایت کے مطابق اپنے کو صالح بنائیں، شرک کی تمام قسموں سے اپنے کو بچائیں اور ’’بلامعاوضہ نصیحت‘‘ کے دعوتی منصوبہ میں اپنے کو ہمہ تن شامل کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی کتاب کو اپنا حقیقی رہنما بناتے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ اپنے وجود کو اتنا زیادہ شامل کرلیتے ہیں کہ ان پر اس راہ کے وہ بھید کھلنے لگتے ہیں جن کو حکمت کہا جاتاہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا چن لیتاہے اور ان میں سے جن کو چاہتا ہے اپنے دین کی پیغام رسانی کی توفیق دیتاہے، دور نبوت میں اللہ کے خصوصی پیغمبر کی حیثیت سے اور ختم نبوت کے بعد اللہ کے عام داعی کی حیثیت سے۔ اللہ کا انعام خواہ وہ پیغمبروں کے لیے ہو یا عام انسانوں کے لیے، تمام تر نیک عملی (احسان) کی بنیاد پر ملتاہے، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔
دعوتِ حق کا کام صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اس کی خاطر اتنا زیادہ یکسو اور بے نفس ہوچکے ہوں کہ وہ مدعو سے کسی قسم کی مادی توقع نہ رکھیں۔ جس شخص یا گروہ تک آپ آخرت کا پیغام پہنچا رہے ہوں اسی سے آپ اپنے دنیوی حقوق کے لیے احتجاج اور مطالبات کی مہم نهيں چلا سکتے ہیں۔ داعی کا ایسا کرنا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ اس کی دعوت مدعو کی نظر میں مضحکہ خیز بن کر رہ جائے اور ماحول کے اندر کبھی اس کو سنجیدہ مہم کی حیثیت حاصل نہ ہو۔
مکہ میں کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے۔ مگر بحیثیت ’’قوم‘‘ مکہ والوں نے آپ کا انکارکردیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مدینہ والوں کے دل آپ کی دعوت کے حق میں نرم کرديے اور وہ بحیثیت قوم آپ کے مومن بن گئے۔ حتی کہ آپ کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ آپ مکہ سے مدینہ جاکر وہاں اسلام کا مرکز قائم کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ مدد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل درجہ میں حاصل ہوئی۔ تاہم آپ کی امت میں اٹھنے والے داعیوں کو بھی اللہ یہ مدد دے سکتا ہے اور اپنی مصلحت کے مطابق دیتا رہا ہے۔
’’فضیلت‘‘ کسی کانسلی یا قومی لقب نہیں۔ یہ اللہ کا ایک عطیہ ہے جس کا تحقّق صرف ان افراد کے لیے ہوتا ہے جو ہدایت کے مطابق اپنے کو صالح بنائیں، شرک کی تمام قسموں سے اپنے کو بچائیں اور ’’بلامعاوضہ نصیحت‘‘ کے دعوتی منصوبہ میں اپنے کو ہمہ تن…
…آپ مکہ سے مدینہ جاکر وہاں اسلام کا مرکز قائم کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ مدد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل درجہ میں حاصل ہوئی۔ تاہم آپ کی امت میں اٹھنے والے داعیوں کو بھی اللہ یہ مدد دے سکتا ہے اور اپنی مصلحت کے مطابق دیتا رہا ہے۔
لوگ دنیا کو ہار جیت (تغابن) کی جگہ سمجھتے ہیں۔ کسی شخص کو یہاں کامیابی مل جائے تو وہ خوش ہوتا ہے۔ اور جو شخص یہاں ناکامی سے دو چار ہو وہ لوگوں کی نظر میں حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا کی ہار بھی بے قیمت ہے اور یہاں کی جیت بھی بے قیمت۔
ہار جیت کا اصل مقام آخرت ہے۔ ہارنے والا وہ ہے جو آخرت میں ہارے اور جیتنے والا وہ ہے جو آخرت میں جیتے، اور وہاں کی ہار جیت کا معیار بالکل مختلف ہے۔ دنیا میں ہار جیت ظاہری مادیات کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اور آخرت کی ہار جیت خدائی اخلاقیات کی بنیاد پر ہوگی۔ اس وقت دیکھنے والے یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ یہاں سارا معاملہ بالکل بدل گیا ہے۔ جس پانے کو لوگ پانا سمجھ رہے تھے وہ در اصل کھونا تھا، اور جس کھونے کو لوگوں نے کھونا سمجھ رکھا تھا، وہی در اصل وہ چیز تھی جس کو پانا کہا جائے۔ اسی دن کی ہار ہار ہے اور اسی دن کی جیت جیت۔
’’فضیلت‘‘ کسی کانسلی یا قومی لقب نہیں۔ یہ اللہ کا ایک عطیہ ہے جس کا تحقّق صرف ان افراد کے لیے ہوتا ہے جو ہدایت کے مطابق اپنے کو صالح بنائیں، شرک کی تمام قسموں سے اپنے کو بچائیں اور ’’بلامعاوضہ نصیحت‘‘ کے دعوتی منصوبہ میں اپنے کو ہمہ تن…
ہجرت کے بعد جو مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ پہنچے، ان کا مدینہ آنا مدینہ کے باشندوں (انصار) پر ایک بوجھ تھا۔ مگر انہوں نے نہایت خوش دلی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اموال آئے تو آپ نے ان کا حصہ مہاجرین کے درمیان تقسیم کیا۔ اس پر بھی انصارِ مدینہ کے اندر ان کے لیے کوئی رنجش پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ ان کے اتنے قدر داں رہے کہ ان کے حق میں ان کے دل سے بہترین دعائیں نکلتی رہیں۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ بناتی ہے۔
قیامت کے منظر کو موجودہ دنیا میں حقیقی طور پر کھولا نہیں جا سکتا۔ تا ہم قرآن میں جگہ جگہ ان کو اشارہ یا تمثیل میں بتایا گیا ہے تا کہ آدمی ان کا مجمل احساس کر سکے۔ قیامت جب آئے گی تو وہ اتنی ہولناک ہوگی کہ آدمی اپنے ان رشتوں اور مفادات…
…گا کہ کام بنانے والا صرف خدا تھا۔ اگر چہ آدمی اپنی نادانی کی وجہ سے دوسروں کو اپنا کام بنانے والا سمجھتا رہا۔ شریکوں کے پاس تو سرے سے مدد کرنے کی کوئی طاقت ہی نہیں، مگر خدا اپنے وفادار بندوں کی مدد دنیا میں بھی کرتاہے۔ اور آخرت میں بھی۔
توحید اور آخرت، نیکی اور عدل کی طرف بلانا ’’عُرف‘‘ کی طرف بلانا ہے۔ یعنی ان بھلائیوں کی طرف جو عقل وفطرت کے نزدیک جانی پہچانی ہیں۔ مگر یہ سادہ ترین کام ہر زمانے میں مشکل ترین کام رہاہے۔ انسان کی حُب عاجلہ کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر زمانہ میں لوگ اپني زندگی کا نظام دنیوی مفاد اور ذاتی مصلحتوں کی بنیاد پر قائم كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ حق کا نام لے کر باطل پرستی کے مشغلہ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب بھی سچائی کی بے آمیز دعوت اٹھتی ہے تو ہر آدمی اپنے آپ پر اس کی زد پڑتے ہوئے محسوس کرتاہے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ہر آدمی اس کا مخالف بن کر کھڑا ہوجاتاہے۔
ایسی حالت میں داعی کو کیا کرنا چاہیے۔ اس کا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے درگزر اور اعراض۔ یعنی لوگوں سے الجھے بغیر بالکل ٹھنڈے طورپر اپنا کام جاری رکھنا۔ داعی اگر لوگوں کے نکالے ہوئے شوشوں کا جواب دینے لگے تو حق کی دعوت مناظرہ کی صورت اختیار کرلے گی۔ داعی اگر لوگوں کی طرف سے چھیڑے ہوئے غیر ضروری سوالات میں اپنے کو مشغول کرے تو وہ صرف اپنے وقت اور اپنی طاقت کو ضائع کرے گا۔داعی اگر لوگوں کی طرف سے آنے والی تکلیفوں پر ان سے جھگڑنے لگے تو دعوتِ حق دعوت نہ رہے گی بلکہ معاشی اور سیاسی لڑائی بن جائے گی۔ اس ليے حق کی دعوت کو اس کی اصلی صورت میں باقی رکھنے کے ليے ضروری ہے کہ داعی جاہلوں اور معاندوں کی طرف سے پیش آنے والی ناخوش گواریوں پر صبر کرے اور ان سے الجھے بغیر اپنے مثبت کام کو جاری رکھے۔
تاہم موجودہ دنیا میں کوئی شخص نفس اور شیطان کے حملوں سے خالی نہیں رہ سکتا۔ ایسے موقع پر جو چیز آدمی کو بچاتی ہے وہ صرف اللہ کا ڈر ہے۔ اللہ کا ڈر آدمی کو بے حد حساس بنا دیتاہے۔ یہی حساسیت موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کی سب سے بڑی ڈھال ہے۔ جب بھی آدمی کے اندر کوئی غلط خیال آتاہے یا کسی قسم کی منفی نفسیات ابھرتی ہے تو اس کی حساسیت فوراً اس کو بتادیتی ہے کہ وہ پھسل گیا ہے۔ ایک لمحہ کی غفلت کے بعد اس کی آنکھ کھل جاتی ہے اور وہ اللہ سے معافی مانگتے ہوئے دوبارہ اپنے کو درست کرلیتاہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اللہ کے ڈر سے خالی ہوتے ہیں ان کے اندر شیطان داخل ہو کر اپنا کام کرتا رہتاہے اور ان کو محسوس بھی نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھی بن کر وہ کسی گڑھے کی طرف چلے جارہے ہیں۔ حساسیت آدمی کی سب سے بڑی محافظ ہے، جب کہ بے حسی آدمی کو شیطان کے مقابلہ میں غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔
ہجرت کے بعد جو مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ پہنچے، ان کا مدینہ آنا مدینہ کے باشندوں (انصار) پر ایک بوجھ تھا۔ مگر انہوں نے نہایت خوش دلی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اموال آئے تو آپ نے ان کا حصہ…
…اس کی تاریخ کے بغیر۔ وہ قدیم بزرگوں کے نام پر داعیٔ حق کا انکار کردیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ عین ہدایت پر ہے۔ مگر اس طرح کی غلط فہمی کسی کے ليے خدا کے یہاں عذر نہیں بن سکتی۔ یہ خدا کے نام پر شیطان کی پیروی ہے، نہ کہ حقیقۃً خدا کی پیروی۔
ہجرت کے بعد جو مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ پہنچے، ان کا مدینہ آنا مدینہ کے باشندوں (انصار) پر ایک بوجھ تھا۔ مگر انہوں نے نہایت خوش دلی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اموال آئے تو آپ نے ان کا حصہ مہاجرین کے درمیان تقسیم کیا۔ اس پر بھی انصارِ مدینہ کے اندر ان کے لیے کوئی رنجش پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ ان کے اتنے قدر داں رہے کہ ان کے حق میں ان کے دل سے بہترین دعائیں نکلتی رہیں۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ بناتی ہے۔
قدیم عرب میں لوگ ننگے ہو کر کعبہ کاطواف کرتے اور اس کی حمایت میں یہ کہتے کہ خدا کی عبادت دنیا کی آلائشوں سے پاک ہو کر فطری حالت میں کرنا چاہیے۔ حالاں کہ برہنگی ایسی کھلی ہوئی برائی ہے جس کا برا ہونا عقل عام سے معلوم ہوسکتاہے، اسی طرح…
…رہنما اور ان کے مفاد پرست پیرو خوب ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے ہیں۔ ہر ایک کے پاس دوسرے کے لیے عمدہ الفاظ ہیں۔ ہر ایک دوسرے کی بہتری میں لگا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں ہر ایک دوسرے سے نفرت کرے گا، ہر ایک دوسرے کو شدید تر عذاب میں دھکیلناچاہے گا۔
اس آیت میں ’’ اُمت ‘‘ سے مراد گمراہ کرنے والے لیڈر اور ’’اُخت‘‘ سے مراد گمراہ ہونے والے عوام ہیں۔ آخرت میں جب ہر دو ر کے بے راہ قائدین اور ان کا ساتھ دینے والے بے راہ عوام جہنم میں ڈالے جائیں گے تو یہ ایک بڑا عبرت ناک منظر ہوگا۔ دنیامیں تووہ ایک دوسرے کے بڑے خیر خواہ اور فدا کار بنے ہوئے تھے۔ قائدین اپنے عوام کی ہر خواہش کا احترام کرتے تھے اور عوام اپنے قائدین کو ہیرو بنائے ہوئے تھے۔ مگر جب جہنم کی آگ انہیں پکڑے گی تو ان کی آنکھوں سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جائیں گے۔ اب ہر ایک دوسرے کو اس کے اصلی روپ میں دیکھنے لگے گا۔ پیروی کرنے والے اپنے قائدین سے کہیں گے کہ تم پر لعنت ہو ۔ تمہاری قیادت کیسی بری قیادت تھی جس نے چند دن کے جھوٹے تماشے دکھائے اوراس کے بعد ہم کو اتنی بڑی تباہی میں ڈال دیا۔ اس کے جواب میں قائدین اپنے پیرؤوں سے کہیں گے کہ تم اپنی پسند کا ایک دین چاہتے تھے اور ایسا دین ہمارے پاس دیکھ کر ہمارے پیچھے دوڑ پڑے۔ ورنہ عین اسی زمانہ میں ایسے بھی خدا کے بندے تھے جو تم کو کامیابی کےسچے راستہ کی طرف بلاتے تھے۔ تم نے ان کی پکار سنی، مگر تم نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔
رہنما اپنے پیروؤں سے کہیں گے کہ تم کسی اعتبار سے ہم سے بہتر نہیں ہو۔ ہم نے اپنی خواہشوں کی خاطر قیادتیں کھڑی کیں اور تم نے بھی اپنی خواہشوں کی خاطر ہمارا ساتھ دیا۔ حقیقت کے اعتبار سے دونوں کا درجہ ایک ہے۔ اس ليے یہاں تم کو بھی وہی سزا بھگتنی ہے جو ہمارے ليے ہمارے اعمال کے سبب سے مقدر کی گئی ہے۔
پیروؤں کی جماعت اپنے رہنماؤں کے بارے میں خدا سے کہے گی کہ انھوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا اس ليے ان کو ہمارے مقابلہ میں دگنا عذاب دیا جائے۔ جواب ملے گا کہ تمھارے رہنماؤں میں سے ہر ایک کو دگنا عذاب مل رہاہے مگر تم کو اس کا احساس نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جہنم میں جس کو جو عذاب ملے گا وہ اس کو اتنا زیادہ سخت ہوگا کہ وہ سمجھے گا کہ مجھ سے زیادہ تکلیف میں کوئی دوسرا نہیں ہے۔ ہر شخص جس تکلیف میں ہوگا وہی تکلیف اس کو سب سے زیادہ معلوم ہوگی۔
دنیا میں مفاد پرست رہنما اور ان کے مفاد پرست پیرو خوب ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے ہیں۔ ہر ایک کے پاس دوسرے کے لیے عمدہ الفاظ ہیں۔ ہر ایک دوسرے کی بہتری میں لگا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں ہر ایک دوسرے سے نفرت کرے گا، ہر ایک دوسرے کو شدید تر عذاب میں دھکیلناچاہے گا۔
ہجرت کے بعد جو مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ پہنچے، ان کا مدینہ آنا مدینہ کے باشندوں (انصار) پر ایک بوجھ تھا۔ مگر انہوں نے نہایت خوش دلی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اموال آئے تو آپ نے ان کا حصہ…
…ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کی جنتوں میں جائیں گے۔ اصحاب اعراف قیامت میں ایسے لوگوں سے کہیں گے کہ اب دیکھ لو کہ حقیقت کیا تھی اور تم اس کو کیا سمجھے ہوئے تھے۔ بالآخر کون کامیاب رہا اور کون ناکام ٹھہرا۔
ہجرت کے بعد جو مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ پہنچے، ان کا مدینہ آنا مدینہ کے باشندوں (انصار) پر ایک بوجھ تھا۔ مگر انہوں نے نہایت خوش دلی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اموال آئے تو آپ نے ان کا حصہ مہاجرین کے درمیان تقسیم کیا۔ اس پر بھی انصارِ مدینہ کے اندر ان کے لیے کوئی رنجش پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ ان کے اتنے قدر داں رہے کہ ان کے حق میں ان کے دل سے بہترین دعائیں نکلتی رہیں۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ بناتی ہے۔
دنیا دو قسم کی غذاؤں کا دستر خوان ہے۔ ایک دنیوی اور دوسری اخروی۔ ایک انسان وہ ہے جس کی روح کی غذا یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کو نمایاں ہوتے ہوئے دیکھے۔ دنیا کی رونقیں اپنے گرد پاکر اسے خوشی حاصل ہوتی ہے۔ مادی سازوسامان کا مالک ہو کر وہ اپنے کو…
…کا استحقاق اُس کے لیے ہے جس نے دنیا میں خدا کی نعمتوں کا اعتراف کیا ہو۔ جنت خدا کے منعم ومحسن ہونے کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ اس ليے آخرت کی جنت کو وہی پائے گا جس نے دنیا میں خدا کے منعم ومحسن ہونے کو پالیا ہو۔ یہی معرفت جنت کی اصل قیمت ہے۔
ہجرت کے بعد جو مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ پہنچے، ان کا مدینہ آنا مدینہ کے باشندوں (انصار) پر ایک بوجھ تھا۔ مگر انہوں نے نہایت خوش دلی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اموال آئے تو آپ نے ان کا حصہ مہاجرین کے درمیان تقسیم کیا۔ اس پر بھی انصارِ مدینہ کے اندر ان کے لیے کوئی رنجش پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ ان کے اتنے قدر داں رہے کہ ان کے حق میں ان کے دل سے بہترین دعائیں نکلتی رہیں۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ بناتی ہے۔
انسان ناموں کے ذریعہ کسی چیز کا تصور قائم کرتاہے۔ کسی شخص کے ساتھ اچھا لفظ لگ جائے تو وہ اچھا معلوم ہوتا ہے اور اگر برا لفظ لگ جائے تو برا دکھائی دینے لگتاہے۔ خدا کے سوا دوسری چیزیں یا ہستیاں جوآدمی کی توجہات کا مرکز بنتی ہیں اس کی وجہ…
…بڑی بن جاتی ہے۔ اگر ایسا ہو کہ برائی جب اپنی ابتدائی حالت میں ہو اسی وقت کچھ لوگ اس کے خلاف اٹھ جائیں تو وہ آسانی کے ساتھ اسے کچل دیں گے۔ لیکن جب برائی پھیل چکی ہو تو اس کی جڑیں اتنی گہری ہوجاتی ہیں کہ پھر اس کو ختم کرنا ممکن نہیں رہتا۔
آدمی دیکھتا ہے کہ اونٹ جیسا عجیب الخلقت جانور اس کا مطیع ہے۔ آسمان اپنی ساری عظمتوں کے باوجود اس کے لیے مسخر ہے۔ زمین ہماری کسی کوشش کے بغیر ہمارے لیے حد درجہ موافق بنی ہوئی ہے۔ یہ واقعات سوچنے والے کو خدا اور آخرت کی یاد دہانی کراتے ہیں۔ جو لوگ دنیا کے اس نظام سے یاد دہانی کی غذا لیں انھوں نے اپنے لیے خدا کی ابدي نعمتوں کا استحقاق ثابت کیا۔ اور جو لوگ غفلت میں پڑے رہیں انہوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ صرف اس قابل ہیں کہ ان کو ہر قسم کی نعمتوں سے ہمیشہ کے لیے محروم کردیا جائے۔
مکہ میں مسلمان بالکل بے بسی کی حالت میں تھے۔ ہر وقت اندیشہ لگا رہتا کہ کب ان کو اکھاڑ کر پھینک دیا جائے۔ وہ ایسے کمزور کی مانندتھے جس کو ہر طرح دبایا جاتاہے اور اس کے جائز حقوق بھی اس کو نہیں ديے جاتے۔ بالآخر ان کے ليے مدینہ کا راستہ…
…ہے۔ کسی شخص پر اگر اس کے ایک کام کی غلطی واضح ہو جاتی ہے اور اس کے بعد بھی وہ اس کا ارتکاب کرتاہے تو وہ بہت بڑی ذمہ داری اپنے سر لے رہا ہے۔ کیوں کہ غلطی کو غلطی جاننے کے بعد اس کو دہرانا ڈھٹائی ہے اور ڈھٹائی خدا کے یہاں قابل معافی نہیں۔
مکہ میں مسلمان بالکل بے بسی کی حالت میں تھے۔ ہر وقت اندیشہ لگا رہتا کہ کب ان کو اکھاڑ کر پھینک دیا جائے۔ وہ ایسے کمزور کی مانندتھے جس کو ہر طرح دبایا جاتاہے اور اس کے جائز حقوق بھی اس کو نہیں ديے جاتے۔ بالآخر ان کے ليے مدینہ کا راستہ کھلا۔ ان کو یہ موقع دیاگیا کہ وہ مدینہ جاکر اپنا مرکز بنائیں اور وہاں کے ماحول میں آزادی اور عزت کے ساتھ رہیں۔
مشکل کے بعد آسانی فراہم کرنے کا یہ معاملہ اس ليے کیا جاتاہے تاکہ آدمی کے اندر شکر کا جذبہ ابھرے۔ آدمی کے حالات جب اس حد پر پہنچ جاتے ہیں جہاں وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرنے لگتاہے۔ اس وقت اچانک خدا کی مدد ظاہر ہو کر حالات کو بدل دیتی ہے۔ ایسا اس ليے ہوتاہے تاکہ آدمی یقین کرے کہ جو کچھ ہوا وہ خدا کی طرف سے ہوا۔ اس احساس کی بنا پر وہ خدا کے انعامات کے جذبہ سے سرشار ہوجائے۔
آدمی خدا اور ا س کے رسول پر ایمان لاتاہے۔ اس طرح وہ عہد کرتاہے کہ وہ خدا ورسول کے راستہ پر چلے گا۔ مگر جب ایمانی طریقہ کو اختیار کرنے میں اس کے مال واولاد کے تقاضے حائل ہوتے ہیں تو وہ ایمان کے تقاضے کو چھوڑ کر مال واولاد کے تقاضے کو پکڑ لیتاہے۔ یہ ایمانی عہد کے ساتھ کھلی ہوئی غداری ہے۔ اس غداری کی شناعت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب یہ دیکھا جائے کہ آدمی جس چیز کے ساتھ غداری کا معاملہ کررہا ہے وہ بھی خود خدا کا ایک عطیہ ہے۔
آدمی کا مال اور اس کی اولاد کیا ہے۔ وہ خدا ہی کا دیا ہوا تو ہے۔ وہ بندہ کے پاس خدا کی امانت ہے۔ اس امانت کا اگر کوئی سب سے بہتر مصرف ہوسکتاہے تو وہ یہ ہے کہ جب دینے والا اس کو مانگے تو اس کو بخوشی اس کے حوالے کردیا جائے۔ مگر جب خدا کہتاہے کہ میرے دین کے ليے اٹھو اور اس میں اپنی اپنی قوتیں لگاؤ تو آدمی اسی امانت کو اپنے ليے عذر بنا لیتاہے جس کو خدا کے دین کی راہ میں دے کر اسے خدا سے كيے ہوئے عہدِ ایمان کو پورا کرنا تھا — وہ کامیابی کے کنارے پہنچ کر اپنے کو ناکاموں کی فہرست میں لکھوا لیتاہے۔
کوئی فعل خدا کے یہاں جرم اس وقت بنتا ہے جب کہ یہ جانتے ہوئے اس پر عمل کیا جائے کہ وہ غلط ہے۔ کسی شخص پر اگر اس کے ایک کام کی غلطی واضح ہو جاتی ہے اور اس کے بعد بھی وہ اس کا ارتکاب کرتاہے تو وہ بہت بڑی ذمہ داری اپنے سر لے رہا ہے۔ کیوں کہ غلطی کو غلطی جاننے کے بعد اس کو دہرانا ڈھٹائی ہے اور ڈھٹائی خدا کے یہاں قابل معافی نہیں۔
فرقان کے معنی ہیں فرق کرنے والی چیز۔ یہاں فرقان سے مراد حق وباطل کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت ہے۔ آدمی اگر اللہ سے ڈرے، وہ وہی کرے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے اور اس سے بچے جس سے اللہ نے منع کیا ہے تو اس کو اس بات کی توفیق ملتی ہے کہ وہ حق…
…اس بنا پر کسی چیز کا مالک نہیں بن جائیگا کہ وہ اتفاق سے اس کے قبضہ میں آگئی ہے۔ قبضہ کے باوجود آدمی کو چاہيے کہ وه اس چیز کو ذمہ دار افراد کے حوالے کردے اور اصولی اور قانونی بنیاد پر اس کو جتنا ملنا چاہیے اس کو لے کر اس پر راضی ہوجائے۔
اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا لوگوں پر پوری طرح کھل جائے۔ یہ کام ابتداء ً دعوت کے ذریعہ دلائل کی زبان میں ہوتا ہے۔ داعی طاقت ور اور عام فہم دلائل کے ذریعہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت کرتاہے۔ احقاق حق اور ابطال باطل کے اس کام کی تکمیل بالآخر غیر معمولی واقعات سے کی جاتی ہے، خواہ یہ غیر معمولی واقعہ کوئی آسمانی معجزہ ہو یا زمیني غلبہ۔ بدر کی جنگ میں یہی دوسرا واقعہ پیش آیا۔
قریش مکہ سے اس ليے نکلے کہ شام سے آنے والے اپنے تجارتی قافلہ کی مدد کریں۔ مسلمان مدینہ سے اس ليے نکلے کہ تجارتی قافلہ پر حملہ کریں۔ تجارتی قافلہ معروف راستہ کو چھوڑ کر سمندری ساحل سے گزرا اور بچ گیا۔ اور یہ دونوں فریق بدر پہنچ کر آمنے سامنے ہوگئے۔ یہ اللہ کی تدبیر سے ہوا۔ دونوں کو ایک دوسرے سے ٹکرا کر اہل ایمان کو فتح دی گئی۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مشن کی صداقت لوگوں پر پوری طرح کھل گئی۔ جو لوگ سچے طالب تھے ان پر آخری حد تک یہ بات واضح ہوگئی کہ یہی حق ہے۔ اور جو لوگ اپنے اندر کسی قسم کی نفسیاتی پیچیدگی ليے ہوئے تھے انھوں نے اس کے بعد بھی اپنے مسلک پر قائم رہ کر ثابت کردیا کہ وہ اسی قابل ہیں کہ انھیں ہلاک کردیا جائے۔
بدر میں قریش کی فوج کی تعداد زیادہ تھی۔ اگر مسلمان ان کی اصل تعداد کو دیکھتے تو کوئی کہتا کہ لڑو اور کوئی کہتا کہ نہ لڑو۔ اس طرح اختلاف پیدا ہوجاتا اور اصل کام ہونے سے رہ جاتا۔ خدا نے حسب موقع کبھی تعداد گھٹا کر دکھائی اور کبھی بڑھا کر۔ اس طرح ممکن ہوسکا کہ تمام مسلمان بے جگری کے ساتھ لڑیں۔ خدا کو جب کوئی کام مطلوب ہوتا ہے تو وہ اسی طرح اپنی مدد بھیج کر اس کام کی تکمیل کا سامان کردیتا ہے۔
عمل کے دوران جو حالات پیش آتے ہیں وہ خدا کی طرف سے ہوتے ہیں اور یہ دیکھنے کے ليے ہوتے ہیں کہ کس شخص نے اپنے حالات کے اندر کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔
اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا لوگوں پر پوری طرح کھل جائے۔ یہ کام ابتداء ً دعوت کے ذریعہ دلائل کی زبان میں ہوتا ہے۔ داعی طاقت ور اور عام فہم دلائل کے ذریعہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت کرتاہے۔…
…کوئی کام مطلوب ہوتا ہے تو وہ اسی طرح اپنی مدد بھیج کر اس کام کی تکمیل کا سامان کردیتا ہے۔
عمل کے دوران جو حالات پیش آتے ہیں وہ خدا کی طرف سے ہوتے ہیں اور یہ دیکھنے کے ليے ہوتے ہیں کہ کس شخص نے اپنے حالات کے اندر کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔
اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا لوگوں پر پوری طرح کھل جائے۔ یہ کام ابتداء ً دعوت کے ذریعہ دلائل کی زبان میں ہوتا ہے۔ داعی طاقت ور اور عام فہم دلائل کے ذریعہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت کرتاہے۔ احقاق حق اور ابطال باطل کے اس کام کی تکمیل بالآخر غیر معمولی واقعات سے کی جاتی ہے، خواہ یہ غیر معمولی واقعہ کوئی آسمانی معجزہ ہو یا زمیني غلبہ۔ بدر کی جنگ میں یہی دوسرا واقعہ پیش آیا۔
قریش مکہ سے اس ليے نکلے کہ شام سے آنے والے اپنے تجارتی قافلہ کی مدد کریں۔ مسلمان مدینہ سے اس ليے نکلے کہ تجارتی قافلہ پر حملہ کریں۔ تجارتی قافلہ معروف راستہ کو چھوڑ کر سمندری ساحل سے گزرا اور بچ گیا۔ اور یہ دونوں فریق بدر پہنچ کر آمنے سامنے ہوگئے۔ یہ اللہ کی تدبیر سے ہوا۔ دونوں کو ایک دوسرے سے ٹکرا کر اہل ایمان کو فتح دی گئی۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مشن کی صداقت لوگوں پر پوری طرح کھل گئی۔ جو لوگ سچے طالب تھے ان پر آخری حد تک یہ بات واضح ہوگئی کہ یہی حق ہے۔ اور جو لوگ اپنے اندر کسی قسم کی نفسیاتی پیچیدگی ليے ہوئے تھے انھوں نے اس کے بعد بھی اپنے مسلک پر قائم رہ کر ثابت کردیا کہ وہ اسی قابل ہیں کہ انھیں ہلاک کردیا جائے۔
بدر میں قریش کی فوج کی تعداد زیادہ تھی۔ اگر مسلمان ان کی اصل تعداد کو دیکھتے تو کوئی کہتا کہ لڑو اور کوئی کہتا کہ نہ لڑو۔ اس طرح اختلاف پیدا ہوجاتا اور اصل کام ہونے سے رہ جاتا۔ خدا نے حسب موقع کبھی تعداد گھٹا کر دکھائی اور کبھی بڑھا کر۔ اس طرح ممکن ہوسکا کہ تمام مسلمان بے جگری کے ساتھ لڑیں۔ خدا کو جب کوئی کام مطلوب ہوتا ہے تو وہ اسی طرح اپنی مدد بھیج کر اس کام کی تکمیل کا سامان کردیتا ہے۔
عمل کے دوران جو حالات پیش آتے ہیں وہ خدا کی طرف سے ہوتے ہیں اور یہ دیکھنے کے ليے ہوتے ہیں کہ کس شخص نے اپنے حالات کے اندر کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔
کامیابی خدا کی مدد سے آتی ہے۔ مگر خدا کی مدد ہمیشہ اسباب کے پردہ میں آتی ہے، نہ کہ بے اسبابی کے حالات میں۔ مسلمان اگر اپنے ممکن اسباب کو جمع کردیں تو بقیہ کمی خدا کی طرف سے پوری کرکے انھیں کامیاب کردیا جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ بے اسبابی کا…
…تھا اور شیطان اب ان کو چھوڑ کر بھاگ چکا تھا۔
جو لوگ اللہ پر بھروسہ کریں اللہ ضرور ان کی مدد کرتا ہے۔ مگر الله کی مدد ہمیشہ اس وقت آتی ہے جب کہ اہلِ ایمان اللہ پر یقین کا اتنا بڑا ثبوت دے دیں کہ بے یقین لوگ کہہ اٹھیں کہ یہ مجنون ہوگئے ہیں۔
شعبان 2 ھ میں معلوم ہوا کہ قریش کا ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ کی طرف واپس جا رہا ہے۔ اس قافلہ کے ساتھ تقریباً 50 ہزار اشرفی کا سامان تھا۔ اس کا راستہ مدینہ کے قریب سے گزرتا ہے۔ یہ اندیشہ تھا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے قافلۂ تجارت پر حملہ کریں۔ چنانچہ قافلہ کے سردار ابو سفیان بن حرب نے تیز رفتار اونٹنی کے ذریعہ مکہ والوں کے پاس یہ خبر بھیجی کہ مدد کے ليے دوڑو ورنہ مسلمان تجارتی قافلہ کو لوٹ لیں گے۔ مکہ میں اس خبر سے بڑا جوش پیدا ہوگیا۔ چنانچہ 950 سوار جن میں 600 زرہ پوش تھے مکہ سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تمام خبریں مل رہی تھیں۔ اب مدینہ کے مسلمان دو گروہوں کے درمیان تھے۔ ایک شام سے آنے والا تجارتی قافلہ۔ دوسرا مکہ سے مدینہ کی طرف بڑھنے والا جنگی لشکر۔ مسلمانوں کے ایک طبقہ میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ تجارتی قافلہ کی طرف بڑھا جائے۔ اس قافلہ کے ساتھ بمشکل 40 محافظ تھے۔ اس کو به آسانی مغلوب کرکے اس کے سامان پر قبضہ کیا جاسکتاتھا۔ مگر خدا کا منصوبہ دوسرا تھا۔ خدا کو دراصل منکرین حق کا زور توڑنا تھا، نہ کہ کچھ اقتصادی فائدہ حاصل کرنا۔ خدا نے مخصوص حالات پیدا کرکے ایسا کیا کہ تمام مخالف سرداروں کو مکہ سے نکالا اور ان کو مدینہ سے 20 میل کے فاصلہ پر بدر کے مقام پر پہنچا دیا تاکہ مسلمانوں کو ان سے ٹکرا کر ہمیشہ کے ليے ان کا خاتمہ کردیا جائے۔ اللہ کے رسول نے جب مسلمانوں کو خدا کے اس منصوبہ سے مطلع کیا تو سب کے سب متفق ہو کر بدر کی طرف بڑھے۔ ان کی تعداد اگر چہ صرف
313
تھی۔ ان کے پاس ہتھیار کم تھے۔ مگر اللہ نے ان کی خصوصی مدد فرمائی۔ انھوں نے قریش کے لشکر کو بری طرح شکست دی۔ ان کے ستر سردار قتل ہوئے اور ستر گرفتار کر ليے گئے۔ بد رکا میدان کفر کے مقابلہ میں اسلام کی فتح کا میدان بن گیا— جب بھی ایسا ہو کہ ایک طرف مادی فائدہ ہو اور دوسری طرف دینی فائدہ تو یہ تقسیم خود اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا کی مرضی دینی فائدہ کی طرف ہے، نہ کہ مادی فائدہ کی طرف۔
اسلامی جدوجہد کا نشانہ کبھی معاشی مفاد حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ اسلامی جدوجہد کا نشانہ ہمیشہ باطل کا زور توڑنا ہوتاہے۔ خواہ وہ نظریاتی طاقت کے ذریعہ ہو یا حالات کے اعتبار سے مادی طاقت کے ذریعہ۔
نعمت کا انحصار حالتِ استحقاق نعمت پر ہے۔ قومی سطح پر کسی کو جو نعمتیں ملتی ہیں وہ ہمیشہ اس استحقاق کے بقدر ہوتی ہیں جو نفسی حالت کے اعتبار سے اس کے یہاں پایا جاتا ہے۔ یہ ’’نفس‘‘ چونکہ فرد کے اندر ہوتاہے اس ليے اس بات کو دوسرے لفظوں میں یوں…
…اتنے ہولناک مراحل ہیں کہ موجودہ حالات میں ان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
انسان جب ظلم اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتاہے تو اولاً اس کے ليے تنبیہات ظاہر ہوتی ہیں۔ اگر وہ ان سے سبق نہ لے تو بالآخر وہ خدا کے فیصلہ کن عذاب کی زد میں آجاتا ہے۔
مدینہ کے یہود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کاانکار کرکے خدا کی نظر میں مجرم ہوچکے تھے۔ اس جرم پر مزید اضافہ ان کی بد عہدی تھی۔ ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور یہود مدینہ کے درمیان یہ تحریری معاہدہ ہوا کہ دونوں ایک دوسرے کے معاملہ میں غیر جانب دار رہیں گے۔ مگر یہود خفیہ طورپر آپ کے دشمنوں (مشرکین) سے مل کر آپ کے خلاف سازشیں کرنے لگے۔ یہ کفر پر بد عہدی کا اضافہ تھا۔ یہ انکار کے ساتھ کمینگی کو جمع کرنا تھا۔ ایسے لوگوں کے ليے آخرت میں ہولناک عذاب ہے اور دنیا میں یہ حکم ہے کہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ ان کی شرارتوں کا خاتمہ ہو اور ان کے ارادے پست ہوجائیں۔
اگر کسی قوم سے مسلمانوں کا عہد ہو اور مسلمان ان کی طرف سے بد عہدی کے اندیشہ کی بنا پر اس عہد کو توڑنا چاہیں تو ضروری ہے کہ وہ پہلے انھیں اس کی اطلاع دیں تاکہ دونوں پیشگی طورپر یہ جان لیں کہ اب دونوں کے درمیان عہد کی حالت باقی نہیں رہی۔ امیر معاویہ اور رومی حکمراں میں ایک بار میعادی معاہدہ تھا۔ معاہدہ کی مدت قریب آئی تو امیر معاویہ نے اپنی فوجوں کو خاموشی کے ساتھ روم کی سرحد پر جمع کرنا شروع کیا تاکہ معاہدہ کی تاریخ ختم ہوتے ہی اگلی صبح کو اچانک رومی علاقہ پر حملہ کردیا جائے۔ اس وقت ایک صحابی حضرت عمرو بن عنبسہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے۔ وہ بآواز بلند کہہ رہے تھے اللہ اکبر اللہ اکبر وفاءٌ لا غدرٌ (اللہ اکبر، اللہ اکبر، عہد کو پورا کرو، عہد کو نہ توڑو)، انھوں نے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنائیمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ، فَلَا يَحِلَّنَّ عُقْدَةً وَلَا يَشُدَّهَا حَتَّى يَنْقَضِيَ أَمَدُهَا، أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ (مسند احمد، حدیث نمبر 17015)۔يعني، جس کا کسی قوم سے معاہدہ ہو تو کوئی گرہ نہ کھولی جائے اور نہ باندھی جائے یہاں تک کہ معاہدہ کی مدت پوری ہوجائے یا برابری کے ساتھ عہد اس کی طرف پھینک دیا جائے۔
دوسری صورت وہ ہے جب کہ صرف اندیشہ کی بات نہ ہو بلکہ فریق ثانی کی طرف سے عملاً معاہدہ کی واضح خلاف ورزی ہو چکی ہو۔ ایسی صورت میں اجازت ہے کہ فریق ثانی کو مطلع كيے بغیر جوابی کارروائی کی جائے۔ غزوۂ مکہ اسی کی مثال ہے۔ قریش نے آپ کے حلیف (بنو خزاعہ) کے خلاف بنو بکر کی جارحانہ کارروائی میں شریک ہو کر معاہدۂ حدیبیہ کی یک طرفہ خلاف ورزی کی تو آپ نے قریش کو پیشگی اطلاع ديے بغیر ان کے خلاف خاموش کارروائی فرمائی۔
مدینہ کے یہود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کاانکار کرکے خدا کی نظر میں مجرم ہوچکے تھے۔ اس جرم پر مزید اضافہ ان کی بد عہدی تھی۔ ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور یہود مدینہ کے درمیان یہ تحریری معاہدہ ہوا کہ دونوں ایک…
…کارروائی کی جائے۔ غزوۂ مکہ اسی کی مثال ہے۔ قریش نے آپ کے حلیف (بنو خزاعہ) کے خلاف بنو بکر کی جارحانہ کارروائی میں شریک ہو کر معاہدۂ حدیبیہ کی یک طرفہ خلاف ورزی کی تو آپ نے قریش کو پیشگی اطلاع ديے بغیر ان کے خلاف خاموش کارروائی فرمائی۔
مدینہ کے یہود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کاانکار کرکے خدا کی نظر میں مجرم ہوچکے تھے۔ اس جرم پر مزید اضافہ ان کی بد عہدی تھی۔ ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور یہود مدینہ کے درمیان یہ تحریری معاہدہ ہوا کہ دونوں ایک دوسرے کے معاملہ میں غیر جانب دار رہیں گے۔ مگر یہود خفیہ طورپر آپ کے دشمنوں (مشرکین) سے مل کر آپ کے خلاف سازشیں کرنے لگے۔ یہ کفر پر بد عہدی کا اضافہ تھا۔ یہ انکار کے ساتھ کمینگی کو جمع کرنا تھا۔ ایسے لوگوں کے ليے آخرت میں ہولناک عذاب ہے اور دنیا میں یہ حکم ہے کہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ ان کی شرارتوں کا خاتمہ ہو اور ان کے ارادے پست ہوجائیں۔
اگر کسی قوم سے مسلمانوں کا عہد ہو اور مسلمان ان کی طرف سے بد عہدی کے اندیشہ کی بنا پر اس عہد کو توڑنا چاہیں تو ضروری ہے کہ وہ پہلے انھیں اس کی اطلاع دیں تاکہ دونوں پیشگی طورپر یہ جان لیں کہ اب دونوں کے درمیان عہد کی حالت باقی نہیں رہی۔ امیر معاویہ اور رومی حکمراں میں ایک بار میعادی معاہدہ تھا۔ معاہدہ کی مدت قریب آئی تو امیر معاویہ نے اپنی فوجوں کو خاموشی کے ساتھ روم کی سرحد پر جمع کرنا شروع کیا تاکہ معاہدہ کی تاریخ ختم ہوتے ہی اگلی صبح کو اچانک رومی علاقہ پر حملہ کردیا جائے۔ اس وقت ایک صحابی حضرت عمرو بن عنبسہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے۔ وہ بآواز بلند کہہ رہے تھے اللہ اکبر اللہ اکبر وفاءٌ لا غدرٌ (اللہ اکبر، اللہ اکبر، عہد کو پورا کرو، عہد کو نہ توڑو)، انھوں نے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنائیمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ، فَلَا يَحِلَّنَّ عُقْدَةً وَلَا يَشُدَّهَا حَتَّى يَنْقَضِيَ أَمَدُهَا، أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ (مسند احمد، حدیث نمبر 17015)۔يعني، جس کا کسی قوم سے معاہدہ ہو تو کوئی گرہ نہ کھولی جائے اور نہ باندھی جائے یہاں تک کہ معاہدہ کی مدت پوری ہوجائے یا برابری کے ساتھ عہد اس کی طرف پھینک دیا جائے۔
دوسری صورت وہ ہے جب کہ صرف اندیشہ کی بات نہ ہو بلکہ فریق ثانی کی طرف سے عملاً معاہدہ کی واضح خلاف ورزی ہو چکی ہو۔ ایسی صورت میں اجازت ہے کہ فریق ثانی کو مطلع كيے بغیر جوابی کارروائی کی جائے۔ غزوۂ مکہ اسی کی مثال ہے۔ قریش نے آپ کے حلیف (بنو خزاعہ) کے خلاف بنو بکر کی جارحانہ کارروائی میں شریک ہو کر معاہدۂ حدیبیہ کی یک طرفہ خلاف ورزی کی تو آپ نے قریش کو پیشگی اطلاع ديے بغیر ان کے خلاف خاموش کارروائی فرمائی۔
مدینہ کے یہود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کاانکار کرکے خدا کی نظر میں مجرم ہوچکے تھے۔ اس جرم پر مزید اضافہ ان کی بد عہدی تھی۔ ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور یہود مدینہ کے درمیان یہ تحریری معاہدہ ہوا کہ دونوں ایک…
…کارروائی کی جائے۔ غزوۂ مکہ اسی کی مثال ہے۔ قریش نے آپ کے حلیف (بنو خزاعہ) کے خلاف بنو بکر کی جارحانہ کارروائی میں شریک ہو کر معاہدۂ حدیبیہ کی یک طرفہ خلاف ورزی کی تو آپ نے قریش کو پیشگی اطلاع ديے بغیر ان کے خلاف خاموش کارروائی فرمائی۔
اسلام کا اعتماد استعمال قوت سے زیادہ مظاہرۂ قوت پر ہے۔ اسی ليے اہل اسلام کو قوت مُرہبہ فراہم کرنے کا حکم دیاگیا ، یعنی وہ چیزیں جو حریف کو اس قدر مرعوب کریں کہ وہ اقدام کا حوصلہ کھو دے۔ اسلام وقت کے معیار کے مطابق اپنے کو طاقت ور بناتا ہے، مگر لازماً لڑنے کے ليے نہیں۔ بلکہ اس ليے تاکہ اس کے دشمنوں پر اس کی دھاک قائم رہے اور وہ اس کے خلاف جارحانہ کارروائی کی ہمت نہ کریں۔ اسلام كو وقت کے معیار کے مطابق فكري اور عملی اعتبار سے طاقت ور بنانے میں جو لوگ اپنی کمائی خرچ کریں گے وہ کئی گناہ زیادہ مقدار میں اس کا بدلہ اپنے رب کے یہاں پائیںگے۔
اسلام کی فتح کا راز اصلاً جنگی مقابلوں میں نہیں بلکہ اس کے اصولوں کی تبلیغ میں ہے۔ اس ليے حکم ہوا کہ جب بھی فریق ثانی صلح کی پیش کش کرے تو ہر اندیشہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کو قبول کرلو۔ کیوں کہ اندیشہ بہر حال یقینی نہیں اور جنگ بندی کا یہ فائدہ یقینی ہے کہ پُرامن فضا میںاسلام کا دعوتی عمل شروع ہو جائے اور اس طرح جنگ کا رکنا اسلام کی نظریاتی توسیع کا سبب بن جائے۔
اسلام خود اپنی ذا ت میں سب سے بڑی طاقت ہے۔ خدا اور آخرت کا عقیدہ اگر پوری طرح کسی گروہ کے افراد میں پیدا ہوجائے تو ان کے اندر سے وہ تمام نفسیاتی خرابیاں نکل جاتی ہیں جو نااتفاقی اور باہمی ٹکراؤ کا باعث ہوتی ہیں۔ اس کے بعد لازماً ایسا ہوتاہے کہ وہ سب کے سب باہم جڑ کر ایک ہوجاتے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اتحاد سب سے بڑی طاقت ہے۔ متحد گروہ اگر تعداد میں کم ہو تب بھی وہ اپنے سے زیادہ تعداد رکھنے والے گروہ پر غالب آجائے گا۔
باہمی اتفاق سب سے زیادہ مشکل چیز ہے۔ کسی گروہ کی نصرت یافتہ ہونے کی ایک پہچان یہ ہے کہ اس کے افراد باہم متحد رہیں، کوئی بھی چیز ان کے اتحاد کو توڑنے والی ثابت نہ ہو۔
شعبان 2 ھ میں معلوم ہوا کہ قریش کا ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ کی طرف واپس جا رہا ہے۔ اس قافلہ کے ساتھ تقریباً 50 ہزار اشرفی کا سامان تھا۔ اس کا راستہ مدینہ کے قریب سے گزرتا ہے۔ یہ اندیشہ تھا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے قافلۂ تجارت پر حملہ…
…ان کو زیر کرنے میں کوئی کامیاب نہ ہوسکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جنگی تدبیرمیں اس کوتاہی کے باوجود قریش اہل ایمان کے اوپر غالب نہ آسکے۔ اور بالآخر وہی ہوا جس کا ہونا پہلے سے خدا کے یہاں لکھا جاچکا تھا، یعنی مسلمانوں کی فتح اور اسلام کا غلبہ۔
شعبان 2 ھ میں معلوم ہوا کہ قریش کا ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ کی طرف واپس جا رہا ہے۔ اس قافلہ کے ساتھ تقریباً 50 ہزار اشرفی کا سامان تھا۔ اس کا راستہ مدینہ کے قریب سے گزرتا ہے۔ یہ اندیشہ تھا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے قافلۂ تجارت پر حملہ کریں۔ چنانچہ قافلہ کے سردار ابو سفیان بن حرب نے تیز رفتار اونٹنی کے ذریعہ مکہ والوں کے پاس یہ خبر بھیجی کہ مدد کے ليے دوڑو ورنہ مسلمان تجارتی قافلہ کو لوٹ لیں گے۔ مکہ میں اس خبر سے بڑا جوش پیدا ہوگیا۔ چنانچہ 950 سوار جن میں 600 زرہ پوش تھے مکہ سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تمام خبریں مل رہی تھیں۔ اب مدینہ کے مسلمان دو گروہوں کے درمیان تھے۔ ایک شام سے آنے والا تجارتی قافلہ۔ دوسرا مکہ سے مدینہ کی طرف بڑھنے والا جنگی لشکر۔ مسلمانوں کے ایک طبقہ میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ تجارتی قافلہ کی طرف بڑھا جائے۔ اس قافلہ کے ساتھ بمشکل 40 محافظ تھے۔ اس کو به آسانی مغلوب کرکے اس کے سامان پر قبضہ کیا جاسکتاتھا۔ مگر خدا کا منصوبہ دوسرا تھا۔ خدا کو دراصل منکرین حق کا زور توڑنا تھا، نہ کہ کچھ اقتصادی فائدہ حاصل کرنا۔ خدا نے مخصوص حالات پیدا کرکے ایسا کیا کہ تمام مخالف سرداروں کو مکہ سے نکالا اور ان کو مدینہ سے 20 میل کے فاصلہ پر بدر کے مقام پر پہنچا دیا تاکہ مسلمانوں کو ان سے ٹکرا کر ہمیشہ کے ليے ان کا خاتمہ کردیا جائے۔ اللہ کے رسول نے جب مسلمانوں کو خدا کے اس منصوبہ سے مطلع کیا تو سب کے سب متفق ہو کر بدر کی طرف بڑھے۔ ان کی تعداد اگر چہ صرف
313
تھی۔ ان کے پاس ہتھیار کم تھے۔ مگر اللہ نے ان کی خصوصی مدد فرمائی۔ انھوں نے قریش کے لشکر کو بری طرح شکست دی۔ ان کے ستر سردار قتل ہوئے اور ستر گرفتار کر ليے گئے۔ بد رکا میدان کفر کے مقابلہ میں اسلام کی فتح کا میدان بن گیا— جب بھی ایسا ہو کہ ایک طرف مادی فائدہ ہو اور دوسری طرف دینی فائدہ تو یہ تقسیم خود اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا کی مرضی دینی فائدہ کی طرف ہے، نہ کہ مادی فائدہ کی طرف۔
اسلامی جدوجہد کا نشانہ کبھی معاشی مفاد حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ اسلامی جدوجہد کا نشانہ ہمیشہ باطل کا زور توڑنا ہوتاہے۔ خواہ وہ نظریاتی طاقت کے ذریعہ ہو یا حالات کے اعتبار سے مادی طاقت کے ذریعہ۔
بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنا مسلمانوں کے ليے ایک جنگي غلطی تھی۔ مگر خود قیدیوں کے حق میں یہ ایک نئی زندگی فراہم کرنے کے ہم معنیٰ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ لوگ جو اپنی مخالفتِ حق کے نتیجہ میں ہلاکت کے مستحق ہوچکے تھے ان کو ایک بار…
…راه میں رکاوٹ بن جائیں گے۔ مگر قرآن نے اس اندیشہ کو اہمیت نہ دی۔ کیوں خالص حق کے ليے جو تحریک اٹھتی ہے وہ عام طرز کی انسانی تحریک نہیں ہوتی۔ وہ ایک خدائی معاملہ ہوتاہے۔ اس کی پشت پر خود خدا ہوتا ہے اور خدا سے لڑنا کسی کے بس کی بات نہیں۔
بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنا مسلمانوں کے ليے ایک جنگي غلطی تھی۔ مگر خود قیدیوں کے حق میں یہ ایک نئی زندگی فراہم کرنے کے ہم معنیٰ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ لوگ جو اپنی مخالفتِ حق کے نتیجہ میں ہلاکت کے مستحق ہوچکے تھے ان کو ایک بار اور موقع مل گیا کہ وہ اسلام کی دعوت اور اس کے مقابلہ میں اپنی بے جا روش پر دوبارہ غور کرسکیں۔ اس مہلت نے ان کے ليے اپنی اصلاح کا نیا دروازہ کھول دیا۔
اب ایک صورت یہ تھی کہ ان قیدیوں کے دل میں شکست کی بنا پر انتقام کی آگ بھڑکے۔ فدیہ دینے کی وجہ سے ان کو جو ذلت اور نقصان ہوا ہے اس کا بدلہ لینے کے ليے وہ بے چین ہوجائیں۔ ایسی صورت میں وہ پھر اسی غلطی کو دہرائیں گے جس کے نتیجے میں وہ خدا کی پکڑ کے مستحق بن گئے تھے۔ وہ اپنی قوتوں کو اسلام کی مخالفت میں صرف کریںگے، جس کا انجام دنیا میں ہلاکت ہے اور آخرت میں عذاب۔
دوسری صورت یہ تھی کہ وہ بدر کے میدان میں پیش آنے والے غیر معمولی واقعہ پر غور کریں کہ مسلمانوں کو کم تر اسباب کے باوجود اتنی کھلی ہوئی فتح کیوں نصیب ہوئی۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ خدا مسلمانوں کے دین کے ساتھ ہے، نہ کہ قریش کے دین کے ساتھ۔ یہ دوسرا ذہن اگر پیدا ہوجائے تو وہ ان کو آمادہ کرے گا کہ وہ اپنی سابقہ روش کو بدلیں اور جس دین کو پہلے اختیار نہ کرسکے، اس کو اب سے اختیار کرلیں۔ اور اس طرح دنیا اور آخرت میں خداکے انعام کے مستحق بنیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ قریش کے لوگوں میں ایک تعداد ایسی نکلی جن کے دل میں مذکورہ سوال جاگ اٹھا اور جلد یا بدیر وہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ حضرت عباس بن عبد المطلب نے زمانہ قید ہی میں اسلام قبول کرلیا۔ کچھ دوسرے لوگ بعد کو اسلام کے حلقہ میں آگئے۔ یہ لوگ اگرچہ گروہی تعصب کی نظر میں ذلیل ہوئے مگر انھوں نے خدا کی نظر میں عزت حاصل کرلی۔ دنیا کا نقصان اٹھا کر وہ آخرت کے فائدہ کے مالک بن گئے۔
قیدیوں کو چھوڑنے کی وجہ سے مسلمانوں کو یہ اندیشہ تھا کہ وہ اس کو احسان سمجھ کر اس کا اعتراف نہیں کریں گے بلکہ پہلے کی طرح دوبارہ سازش اور تخریب کاری کا راستہ اختیار کرکے اسلام کی راه میں رکاوٹ بن جائیں گے۔ مگر قرآن نے اس اندیشہ کو اہمیت نہ دی۔ کیوں خالص حق کے ليے جو تحریک اٹھتی ہے وہ عام طرز کی انسانی تحریک نہیں ہوتی۔ وہ ایک خدائی معاملہ ہوتاہے۔ اس کی پشت پر خود خدا ہوتا ہے اور خدا سے لڑنا کسی کے بس کی بات نہیں۔
عام طورپر جب ایک آدمی دوسرے کی مدد کرتاہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ آدمی اس کے اپنے خاندان کا ہے، اس سے گروہی اور جماعتی تعلق ہے۔ مگر ہجرت کے بعد مدینہ میں جو اسلامی معاشرہ قائم ہوا وہ ایسا معاشرہ تھا جس میں گھر والوں نے اپنے گھر…
…کی مدد کرنا بین اقوامی پیچیدگیاں پیدا کرنے کے ہم معنی سمجھا جائے۔
’’ہجرت‘‘ جنت میں داخلہ کا دروازہ ہے۔ ایک بندہ جب خدا کے ناپسندیدہ مقام سے نکل کر خدا کے پسندیدہ مقام کی طرف جاتاہے تو دراصل وہ غیر جنت کو چھوڑ کر جنت میں داخل ہوتا ہے۔
عام طورپر جب ایک آدمی دوسرے کی مدد کرتاہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ آدمی اس کے اپنے خاندان کا ہے، اس سے گروہی اور جماعتی تعلق ہے۔ مگر ہجرت کے بعد مدینہ میں جو اسلامی معاشرہ قائم ہوا وہ ایسا معاشرہ تھا جس میں گھر والوں نے اپنے گھر ایسے لوگوں کو ديے جن سے تعلق کی بنیاد صرف دین تھی۔ جو لوگ اپنے وطن کو چھوڑ کر مدینہ آئے وہ بھی اللہ کے ليے اور آخرت طلبی کے ليے آئے۔ اور جنھوں نے ان اجنبی لوگوں کو اپنے مال اور اپنی جائداد میں شریک کیا وہ بھی صرف اس ليے تاکہ ان کا خدا ان سے خوش ہو اور آخرت میں انھیں جنتوں میں داخل کرے۔
یہ ایسا سماج تھا جس میںاہم چیز خاندان اور نسب نہیں بلکہ ایمان و اسلام تھا۔ وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے مگر دنیوی فائدہ کے ليے نہیں بلکہ آخرت کے فائدہ کے ليے۔ وہ ایک دوسرے کو دیتے تھے مگر پانے والےسے کسی بدلہ کی امید میں نہیں بلکہ اللہ سے انعام کی امید میں۔ وہی معاشرہ حقیقۃ ً اسلامی معاشرہ ہے جہاں تعلقات خاندانی رشتوں اور گروہی عصبیتوں پر قائم نہ ہوں بلکہ حق کی بنیاد پر قائم ہوں۔ جہاں لوگ ایک دوسرے کے حامی وناصر اس بنیاد پر ہوں کہ وہ ان کے دینی بھائی ہیں، نہ کہ اس بنیاد پر کہ دنیوی مصلحتوں میں سے کوئی مصلحت ان کے ساتھ وابستہ ہے۔
ایک مسلمان جب دوسرے مسلمان سے حق کے معاملہ میں مدد طلب کرے تو اس وقت اس کی مدد کرنا بالکل لازم ہے۔ اگر مسلمانوں میں باہمی مدد کی یہ روح باقی نہ رہے تو یہ ہوگا کہ شریر لوگ کمزور مسلمانوں پر دلیر ہوجائیں گے اور ان کی زندگی اور ان کے ایمان کا محفوظ رہنا سخت مشکل ہوجائے گا۔ حق کے مخالفین اپنے ساتھیوں کی مدد کے ليے انتهائی متعصب ہوتے ہیں پھر حق کے ماننے والے اپنے ساتھیوں کی مدد میں کیوں نہ سرگرم ہوں۔ اس میں استثنا صرف اس وقت ہے جب کہ معاملہ بین اقوامی ہو اور مسلمانوں کی مدد کرنا بین اقوامی پیچیدگیاں پیدا کرنے کے ہم معنی سمجھا جائے۔
’’ہجرت‘‘ جنت میں داخلہ کا دروازہ ہے۔ ایک بندہ جب خدا کے ناپسندیدہ مقام سے نکل کر خدا کے پسندیدہ مقام کی طرف جاتاہے تو دراصل وہ غیر جنت کو چھوڑ کر جنت میں داخل ہوتا ہے۔
خدا پر ایمان لانا خداکے ليے زندگی گزارنے کا فیصلہ کرنا ہے۔ ایسے لوگ اکثر ان لوگوں کے درمیان اجنبی بن جاتے ہیں جو خدا کے سوا کسی اور چیز کی خاطر زندگی گزار رہے ہوں۔ یہ اجنبیت کبھی اتنی بڑھتی ہے کہ ہجرت کی نوبت آجاتی ہے۔ ماحول کی مخالفت کے…
…چیزوں کو ضروری سمجھ لے ان کی کوئی اہمیت اللہ کے نزدیک نہیں ہے۔ تاہم اللہ نے خود اپنی کتاب میں اہل خاندان کے لیے حقوق اور وراثت کا جو قانون مقرر کردیا ہے وہ ہر حال میں قائم رہے گا۔ اور کوئی دوسری چیز اس کی ادائيگی کے ليے عذر نہیں بن سکتی۔
خدا پر ایمان لانا خداکے ليے زندگی گزارنے کا فیصلہ کرنا ہے۔ ایسے لوگ اکثر ان لوگوں کے درمیان اجنبی بن جاتے ہیں جو خدا کے سوا کسی اور چیز کی خاطر زندگی گزار رہے ہوں۔ یہ اجنبیت کبھی اتنی بڑھتی ہے کہ ہجرت کی نوبت آجاتی ہے۔ ماحول کی مخالفت کے نتیجہ میں پوری زندگی جدوجہد اور جاں فشانی کی زندگی بن کر رہ جاتی ہے۔ یہی لوگ ہیں جو خدا کے نزدیک سچے مومن ہیں۔ اس کے بعد سچا ایمان ان لوگوں کا ہے جو اسلام کی خاطر برباد ہوجانے والے اس قافلہ کے پشت پناہ بنیں وہ ان کو جگہ دیں اور ان کی ہر ممکن مدد کے ليے کھڑے ہوجائیں۔ جن کی زندگیاں نہیں لٹی ہیں وہ اپنا اثاثہ ان لوگوں کے حوالے کردیں جن کی زندگیاں اسلام کی راہ میں لٹ گئی ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ حقیقی مسلم بننے کے ليے آدمی کو دو میں سے کم از کم ایک چیز کا ثبوت دینا ہے۔ آدمی یا تو اپنے آپ کو اسلام کے ساتھ اس طرح وابستہ کرے کہ اگر اس کو اپنی بنی بنائی دنیا اجاڑ دینی پڑے تو اس سے بھی دریغ نہ کرے، آرام کی زندگی کو بے آرام کی زندگی بنا دینا پڑے تو اس کو بھی گوارا کرلے۔ پھر یہ کہ اسلام کی خاطر جب کچھ لوگ اپنا اثاثہ لٹا دیں تو وہ لوگ جو ابھی لٹنے سے محفوظ ہیں وہ پہلے فریق کی مدد کے ليے اپنا بازو کھول دیں، حتی کہ ضرورت ہو تو اپنی کمائی اور اپنی جائداد میں بھی ان کو شریک کرلیں— سچا ایمان کسی کو یا تو ’’مہاجر‘‘ بننے کی سطح پر ملتا ہے یا ’’انصار‘‘ بننے کی سطح پر۔
یہی دو قسم کے لوگ ہیں جن کے ليے خدا کے یہاں مغفرت اور رزق کریم ہے۔ آخرت میں آنے والی جنت انتہائی ستھری اور نفیس دنیا ہے۔ وہ ایک کامل دنیا ہے اور کامل دنیا میں بسائے جانے کے لائق وہی لوگ ہوسکتے ہیںجو خود بھی کامل ہوں۔ کوئی انسان اپنی بشری کمزوریوں کی بنا پر ایسی کاملیت کا ثبوت نہیں دے سکتا۔ تاہم اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ جوشخص مذکورہ دونوں کسوٹی میں سے کسی ایک کسوٹی پر پورا اترے گا خدا اپنی قدرت سے اس کی کمیوں کی تلافی کرکے اس کو جنت میں داخل کردے گا۔
دین کی بنیاد پر بھائی بننے والوں کی مدد اور حمایت بے حد اہم ہے تاہم وہ رحمی رشتوں کے حقوق اور ان کے درمیان وراثتوں کی تقسیم پر اثر انداز نہ ہوگی۔ اپنی خواہش کے تحت کوئی شخص اپنے اہل خاندان کے ليے جن چیزوں کو ضروری سمجھ لے ان کی کوئی اہمیت اللہ کے نزدیک نہیں ہے۔ تاہم اللہ نے خود اپنی کتاب میں اہل خاندان کے لیے حقوق اور وراثت کا جو قانون مقرر کردیا ہے وہ ہر حال میں قائم رہے گا۔ اور کوئی دوسری چیز اس کی ادائيگی کے ليے عذر نہیں بن سکتی۔
شعبان 2 ھ میں معلوم ہوا کہ قریش کا ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ کی طرف واپس جا رہا ہے۔ اس قافلہ کے ساتھ تقریباً 50 ہزار اشرفی کا سامان تھا۔ اس کا راستہ مدینہ کے قریب سے گزرتا ہے۔ یہ اندیشہ تھا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے قافلۂ تجارت پر حملہ…
…بچ نہ سکیں گے۔ إلاّ یہ کہ وہ توبہ کریں اور سرکشی سے باز آئیں ۔ کوئی شخص ماضی میں خواہ کتنا ہی برارہا ہو مگر جب وہ اصلاح قبول کرلے تو وہ اسلامی برادری کا ایک معزز رکن بن جاتا ہے۔ اس کے بعد اس میں اور دوسرے مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں رہتا۔
خدا کے دین کی دعوت جب بھی شروع کی جائے تودو میں سے کوئی ایک صورت پیش آتی ہے۔ یا تو ماحول اس کا دشمن ہوجاتا ہے۔ ایسے ماحول میں دین کے ليے پکارنے والے اجنبی بن جاتے ہیں ۔ وہ اپنی جگہ کے اندر بے جگہ کرديے جاتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو مہاجر (چھوڑنے والا) کہا جاتاہے۔ دوسری صورت وہ ہے جب کہ ماحول خدا کے دین کی دعوت کے ليے سازگار ثابت ہو۔ ایسے ماحول میں جو لوگ دین کے داعی بنتے ہیں ان کے ساتھ یہ حادثہ پیش نہیں آتا کہ ان کا سب کچھ ان سے چھن جائے۔ یہ دوسری قسم کے لوگ اگر ایسا کریں کہ وہ پہلے لوگوں کا سہارا بن کر کھڑے ہو جائیں تو یہی انصار (مدد کرنے والے) قرار پاتے ہیں ۔ دورِ اول میں مکہ کے حالات نے وہاں کے مسلمانوں کو مہاجر بنا دیا اور مدینہ کے حالات نے وہاں کے مسلمانوں کو انصارکی حیثیت دے دی۔
خدا کی رضامندی اور اس کی جنت کسی آدمی کو یا تو مہاجر بننے کی قیمت پر ملتی ہے یا انصار بننے کی قیمت پر۔ یا تو وہ خدا کے ليے اتنا یکسو ہوکہ دنیا کے سرے اس سے چھوٹ جائیں ۔ یا اگر وہ اپنے کو صاحب وسائل پاتا ہے تو اپنے وسائل کے ذریعہ وہ اول الذکر گروہ کی محرومی کا بدل بن جائے۔ دورِ اول کے مسلمان (صحابہ کرام) اس ہجرت ونصرت کاکامل نمونہ تھے۔ بعد کے مسلمانوں میں جو لوگ اس ہجرت ونصرت کے معاملہ میں اپنے پیش روؤں کی تقلید کریں گے وہ بالتبع اس مقدس خدائی گروہ میں شامل ہوتے چلے جائیں گے۔ خدا کچھ لوگوں کومحروم کرتا ہے تاکہ ان کے اندر اِنابت کا جذبہ ابھرے اسی طرح خدا کچھ لوگوں کو محرومی سے بچاتاہے تاکہ وہ محروموں کی مدد کرکے خدا کے ليے خرچ کرنے والے بنیں ۔ یہ خدا کا منصوبہ ہے۔ جو لوگ اس کا ثبوت نہ دیں ، وہ ایسے لوگ ہیں ، جو خدا کے منصوبہ پر راضی نہ ہوئے۔ اس ليے خدا بھی آخرت کے دن ان سے راضی نہ ہوگا۔
’’وہ اللہ سے راضی ہوگئے‘‘ یعنی جس کو اللہ نے ایسے حالات میں اٹھایا کہ اس کو سب کچھ چھوڑنے کی قیمت پر دین کو اختیار کرنا پڑا تو وہ اس میں ثابت قدم رہا۔ اسی طرح جس کے حالات کا تقاضا یہ ہوا کہ وہ اپنے اثاثہ میں ایسے دینی بھائیوں کو شریک کرے جن سے اس کا تعلق صرف مقصد کا ہے، نہ کہ رشتہ داری کا تو وہ بھی اس پر راضی ہوگیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کی خوشی حاصل کی اور یہی وہ لوگ ہیں جو جنت کے ابدی باغوں میں داخل كيے جائیں گے۔
منافق وہ ہے جو مسلمان ہونے کا دعوی کرے مگر جب ہجرت اور نصرت کی قیمت پر دین دار بننے کا سوال ہو تو اس کے ليے اپنے کو راضی نہ کرسکے۔
خدا کے دین کی دعوت جب بھی شروع کی جائے تودو میں سے کوئی ایک صورت پیش آتی ہے۔ یا تو ماحول اس کا دشمن ہوجاتا ہے۔ ایسے ماحول میں دین کے ليے پکارنے والے اجنبی بن جاتے ہیں ۔ وہ اپنی جگہ کے اندر بے جگہ کرديے جاتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو…
…اختیار کرے وہ گویا خدا کے غضب کے راستہ پر چل پڑا۔ وہ اپنے کو بے خطا ثابت کرنے کے ليے جھوٹی تاویلیں کرے گا۔ ایک غلطی کو نبھانے کے ليے وہ دوسری بہت سی غلطیاں کرتا چلا جائے گا۔ پہلے شخص کے ليے خدا کی رحمت ہے اور دوسرے شخص کے ليے خدا کی سزا۔
کچھ ایسے لوگ ہیں جن کی طبیعتوں میں اگرچہ شر نہیں ہوتا۔ وہ معمول والے دینی اعمال بھی کرتے رہتے ہیں ۔ مگر جب دین کا کوئی ایسا تقاضا سامنے آتاہے جس میں اپنے بنے ہوئے نقشہ کو توڑ کر دین دار بننے کی ضرورت ہو تو وہ اپنی زندگی اور مال کو اس طرح دین کے ليے نہیں دے پاتے جس طرح انھیں دینا چاہیے۔ قوتِ فیصلہ کی کمزوری یا دنیا میں ان کی مشغولیت ان کے ليے دین کی راہ میں اپنا حصہ ادا کرنے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں ۔ ایسے لوگ اگرچہ قصور وار ہوتے ہیں تاہم ان کا قصور اس وقت معاف کردیا جاتا ہے جب کہ یاد دہانی کے بعد وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرلیں اور شرمندگی کے احساس کے ساتھ دوبارہ دین کی طرف لوٹ آئیں ۔
اعتراف اور شرمندگی کا ثبوت یہ ہے کہ ان کے اندر از سرنو دینی خدمت کا جذبہ پیدا ہو۔ وہ اپنے احساسِ گناہ کو دھونے کے ليے اپنے محبوب مال کا ایک حصہ خدا کی راہ میں پیش کریں ۔ جب ان کی طرف سے ایسا رد عمل ظاہر ہو تو پیغمبر کو تلقین کی گئی کہ اب انھیں ملامت نہ کرو بلکہ ان کو نفسیاتی سہارا دینے کی کوشش کرو۔ ان کو دعائیں دو تاکہ ان کے دل کا بوجھ دوبارہ ایمانی عزم و اعتماد میں تبدیل ہوجائے۔
خدا کے نزدیک اصل برائی غلطی کرنا نہیں ہے بلکہ غلطی پر قائم رہنا ہے۔ جو آدمی غلطی کرنے کے بعد اس کی تاویلیں ڈھونڈنے لگے وہ برباد ہوگیااور جو شخص غلطی کا اعتراف کرکے اپنی اصلاح کرلے وہ خداکے نزدیک قابل معافی ٹھہرا۔
غلطی کرنے کے بعد آدمی ہمیشہ دو امکانات کے درمیان ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرلے۔ دوسرا یہ کہ وہ ڈھٹائی کرنے لگے، جو شخص اپنی غلطی کا اعتراف کرلے اس کے اندر تواضع پیدا ہوتی ہے۔ وہ دوبارہ خدا کی رحمتوں کا مستحق بن جاتاہے۔ اس کے برعکس، جو شخص ڈھٹائی کا طریقہ اختیار کرے وہ گویا خدا کے غضب کے راستہ پر چل پڑا۔ وہ اپنے کو بے خطا ثابت کرنے کے ليے جھوٹی تاویلیں کرے گا۔ ایک غلطی کو نبھانے کے ليے وہ دوسری بہت سی غلطیاں کرتا چلا جائے گا۔ پہلے شخص کے ليے خدا کی رحمت ہے اور دوسرے شخص کے ليے خدا کی سزا۔
زندگی کی تعمیر کی دو بنیادیں ہیں ۔ ایک تقویٰ، دوسرے ظلم۔ پہلی صورت یہ ہے کہ خدا کے ڈر کی بنیاد پر زندگی کی عمارت اٹھائی جائے۔ آدمی کی تمام سرگرمیاں جس فکر کےما تحت چل رہی ہوں وہ فکر یہ ہو کہ اس کو اپنے تمام قول وفعل کا حساب ایک ایسی ہستی…
…کا مطلب یہ ہے کہ کافر لوگ خدا سے بے خوفی پر متحد ہوجاتے ہیں ، تم خدا سے خوف ( تقویٰ) پر متحد ہوجاؤ۔ وہ منفی مقاصد کے ليے باہم جڑ جاتے ہیں تم مثبت مقاصد کے ليے آپس میں جڑجاؤ۔ وہ دنیا کی خاطر ایک ہوجاتے ہیں تم آخرت کی خاطر ایک ہوجاؤ۔
یہ آیتیں غزوہ تبوک (9 ھ) کے ذیل میں اتریں ۔ اس موقع پر مدینہ کے منافقین کی طرف سے جو عمل ظاہر ہوا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کمزور ایمان والے لوگ جب کسی اسلامی معاشرہ میں داخل ہوجاتے ہیں تو نازک مواقع پر ان کا کردار کیا ہوتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ اسلام سے تعلق کے دو درجے ہیں ۔ ایک یہ کہ اسی سے آدمی کی تمام وفاداریاں وابستہ ہوجائیں ۔ وہ آدمی کے ليے زندگی وموت کا مسئلہ بن جائے۔ دوسرے یہ کہ آدمی کی حقیقی دلچسپیاں تو کہیں اور اٹکی ہوئی ہوں اور اوپری طور پر وہ اسلام کا اقرار کرلے۔ پہلی قسم کے لوگ سچے مومن ہیں اور دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جن کو شریعت کی اصطلاح میں منافق کہاگیا ہے۔ مومن کا حال یہ ہوتاہے کہ عام حالات میں بھی وہ اسلام کو پکڑے ہوئے ہوتا ہے اور قربانی کے لمحات میں بھی وہ پوری طرح اس پر قائم رہتا ہے۔ اس کے برعکس، منافق کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ بے ضرر اسلام یا نمائشی دین داری میں تو بہت آگے دکھائی دیتا ہے۔ مگر جب قربانی کی سطح پر اسلام کے تقاضوں کو اختیار کرنا ہو تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ مومن کے سامنے اصلاً آخرت ہوتی ہے ا ور منافق کے سامنے اصلاً دنیا۔ مومن آخرت کی بے پایاں نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی قیمت نہیں سمجھتا، اس ليے جب بھی دنیا کی چیزوں میں سے کوئی چیز اس کے راستہ میں حائل ہو تو وہ اس کو نظر انداز کرکے دین کی طرف بڑھ جاتاہے۔ اس کے برعکس، منافق ایسے اسلام کو پسند کرتاہے جس میں دنیا کو بگاڑے بغیر اسلامیت کا کریڈٹ مل رہا ہو۔ اس ليے جب ایسا موقع آتا ہے کہ دنیا کو کھو کر اسلام کو پانا ہو تو وہ دنیا کی طرف جھک جاتا ہے، خواہ اس کے نتیجہ میں اسلام کی رسی اس کے ہاتھ سے نکل جائے۔
اسلام اور غیر اسلام کی کش مکش کے جو لمحات موجودہ دنیا میں آتے ہیں وہ بظاہر دیکھنے والوں کو اگرچہ دو انسانی گروہوں کی کش مکش دکھائی دیتی ہے مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک خدائی معاملہ ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر خود خدا اسلام کی طرف سے کھڑا ہوتا ہے۔ ایسے کسی واقعہ کو اسباب کے روپ میں اس ليے ظاہر کیا جاتاہے تاکہ ان لوگوں کو خدمتِ دین کا کریڈٹ دیا جائے جو اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے حوالے کرچکے ہیں ۔
یہ آیتیں غزوہ تبوک (9 ھ) کے ذیل میں اتریں ۔ اس موقع پر مدینہ کے منافقین کی طرف سے جو عمل ظاہر ہوا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کمزور ایمان والے لوگ جب کسی اسلامی معاشرہ میں داخل ہوجاتے ہیں تو نازک مواقع پر ان کا کردار کیا ہوتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ…
…سے یہ ایک خدائی معاملہ ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر خود خدا اسلام کی طرف سے کھڑا ہوتا ہے۔ ایسے کسی واقعہ کو اسباب کے روپ میں اس ليے ظاہر کیا جاتاہے تاکہ ان لوگوں کو خدمتِ دین کا کریڈٹ دیا جائے جو اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے حوالے کرچکے ہیں ۔
موجودہ دنیا میں انسان کو رہنے بسنے کا جو موقع دیاگیا ہے وہ کسی حق کی بنا پر نہیں ہے بلکہ محض آزمائش کے ليے ہے۔ خدا جب تک چاہتا ہے کسی کو اس زمین پر رکھتا ہے او ر جب اس کے علم کے مطابق اس کی مدت امتحان پوری ہوجاتی ہے تو اس پر موت وارد کرکے اس کو یہاں سے اٹھا لیا جاتا ہے۔
یہی معاملہ پیغمبر کے مخاطبین کے ساتھ دوسری صورت میں کیا جاتاہے۔ پیغمبر جن لوگوں کے درمیان آتاہے ان پر وہ آخری حد تک حق کی گواہی دیتا ہے۔ پیغمبر کے دعوتی کام کی تکمیل کے بعد جو لوگ ایمان نہ لائیں وہ خدا کی زمین پر زندہ رہنے کا حق کھودیتے ہیں ۔ وہ آزمائش کی غرض سے یہاں رکھے گئے تھے۔ اتمام حجت نے آزمائش کی تکمیل کردی۔ پھر اس کے بعد زندگی کا حق کس ليے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں کے کام کی تکمیل کے بعد ان کے اوپر کوئی نہ کوئی ہلاکت خیز آفت آتی ہے اور ان کا استیصال کردیا جاتاہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا۔ مگر ان پر کوئی آسمانی آفت نہیں آئی۔ ان کے اوپر خدا کی مذکورہ سنت کا نفاذ اسباب کے نقشہ میں کیاگیا ہے۔ اولاً قرآن کے برتر اسلوب اور پیغمبر کے اعلیٰ کردار کے ذریعہ ان کو دعوت پہنچائی گئی۔ پھر اہلِ توحید کو مکہ کے اہلِ شرک پر غالب کرکے ان کے اوپر اتمام حجت کردیاگیا۔ جب یہ سب کچھ ہوچکا اور اس کے باوجود وہ انکار کی روش پر قائم رہے تو ان کو مسلسل خیانت اور عہد شکنی کا مجرم قرار دے کر ان کو الٹی میٹم دياگیا کہ چار ماہ کے اندر اپنی اصلاح کرلو، ورنہ مسلمانوں کی تلوار سے تمھارا خاتمہ کردیا جائے گا۔
پھر یہ سارا معاملہ تقویٰ کے اصول پر کیاگیا، نہ کہ قومی سیاست کے اصول پر— مشرکین کو دلائل کے میدان میں لاجواب کردیاگیا، ان کو پیشگي انتباہ کے ذریعہ کئی مہینہ تک سوچنے کا موقع دیاگیا۔ آخر وقت تک ان کے ليے دروازہ کھلا رکھا گیا کہ جو لوگ توبہ کرلیں وہ خدا کے انعام یافتہ بندوں میں شامل ہوجائیں ۔ جن بعض قبائل نے معاہدہ نہیں توڑا تھا ان کے معاملہ کو معاہدہ توڑنے والوں سے الگ رکھاگیا، وغیرہ۔
یہ آیتیں غزوہ تبوک (9 ھ) کے ذیل میں اتریں ۔ اس موقع پر مدینہ کے منافقین کی طرف سے جو عمل ظاہر ہوا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کمزور ایمان والے لوگ جب کسی اسلامی معاشرہ میں داخل ہوجاتے ہیں تو نازک مواقع پر ان کا کردار کیا ہوتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ…
…سے یہ ایک خدائی معاملہ ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر خود خدا اسلام کی طرف سے کھڑا ہوتا ہے۔ ایسے کسی واقعہ کو اسباب کے روپ میں اس ليے ظاہر کیا جاتاہے تاکہ ان لوگوں کو خدمتِ دین کا کریڈٹ دیا جائے جو اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے حوالے کرچکے ہیں ۔
مدینہ کے منافقین میں ایک طبقہ کم زور عقیدہ کے مسلمانوں كا تھا۔ انھوں نے اسلام کو حق سمجھ کر اس کا اقرار کیا تھا۔ وہ اسلام کی ان تعلیمات پر عمل کرتے تھے جو ان کی دنیوی مصلحتوں کے خلاف نہ ہوں ۔ مگر جب اسلام کا تقاضا ان کے دنیوی تقاضوں سے ٹکراتا تو ایسے موقع پر وہ اسلامی تقاضے کو چھوڑ کر اپنے دنیوی تقاضے کو پکڑ لیتے۔ مدینہ کے معاشرہ میں مومن اس شخص کانام تھا جو قربانی کی سطح پر اسلام کو اختیار كيے ہوئے ہو اور منافق وہ تھا جو اسلام کی خاطر قربانی کی حد تک جانے کے لیے تیار نہ ہو۔
تبوک کا معاملہ ایک علامتی تصویر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی نظر میں مومن کون ہوتاہے اور منافق کون۔ اس موقع پر روم جیسی بڑی اور منظم طاقت سے مقابلہ کے ليے نكلنا تھا۔ زمانه شديد گرمي كا تھا۔ فصل بالكل كاٹنے كے قريب پهنچ چكي تھي۔ هر قسم كي ناسازگاري كا مقابله كرتے ہوئے شام کی دوردراز سرحد پر پہنچناتھا۔ پھر مسلمانوں میں سامان والے تھے اور کچھ بے سامان والے۔ کچھ آزاد تھے اور کچھ اپنے حالات میں گھرے ہوئے تھے۔ مگر حکم ہوا کہ ہر حال میں نکلو، کسی بھی چیز کو اپنے ليے عذر نہ بناؤ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کے یہاں اصل مسئلہ مقدار کا نہیں ہوتا بلکہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اس کو پیش کردے۔ یہی دراصل جنت کی قیمت ہے، خواہ وہ بظاہر دیکھنے والوں کے نزدیک کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔
منافق کی خاص پہچان یہ ہے کہ اگر وہ دیکھتا ہے کہ بے مشقت سفر کرکے خدمت اسلام کا ایک بڑا کریڈٹ مل رہا ہے تو وہ فوراً ایسے سفر کے ليے تیار ہوجاتاہے۔ اس کے برعکس، اگر ایسا سفر درپیش ہوجس میں مشقتیں ہوں اور سب کچھ کرکے بھی بظاہر کوئی عزت اور کامیابی ملنے والی نہ ہو تو ایسی دینی مہم کے ليے اس کے اندر رغبت پیدا نہیں ہوتی۔
ایک حقیقی دینی مہم سامنے ہو اور آدمی عذرات پیش کرکے اس سے الگ رہنا چاہے تو یہ صاف طورپر اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی نے خدا کے دین کو اپنی زندگی میں سب سے اونچا مقام نہیں دیا ہے۔ عذر پیش کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ پیش نظر مقصد کے مقابلہ میں کوئی اور چیز آدمی کے نزدیک زیادہ اہمت رکھتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا عذر کسی آدمی کو خدا کی نظر میں بے اعتبار ثابت کرنے والا ہے، نہ یہ کہ اس کی بنا پر اس کو مقبولین کی فہرست میں شامل کیاجائے۔ منافقت دراصل خدا سے بے پروا ہو کر بندوں کی پروا کرنا ہے۔ آدمی اگر خدا کی قدرت کو جان لے تو وہ کبھی ایسا نہ کرے۔
مدینہ کے منافقین میں ایک طبقہ کم زور عقیدہ کے مسلمانوں كا تھا۔ انھوں نے اسلام کو حق سمجھ کر اس کا اقرار کیا تھا۔ وہ اسلام کی ان تعلیمات پر عمل کرتے تھے جو ان کی دنیوی مصلحتوں کے خلاف نہ ہوں ۔ مگر جب اسلام کا تقاضا ان کے دنیوی تقاضوں سے…
…اس کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ کس موقع پر اسے کس قسم کا رد عمل پیش کرناچاہيے۔
آخرت کا نفع سامنے نہ ہونے کی وجہ سے آدمی اس کے ليے قربانی دینے میں شک میں پڑ جاتا ہے۔ مگر اس شک کے پردہ کو پھاڑنا ہی اس دنیا میں آدمی کا اصل امتحان ہے۔
دین کو اختیار کرنا ایک مخلصانہ ہوتا ہے اور دوسرا منافقانہ۔ مخلصانہ طورپر دین کو اختیار کرنا یہ ہے کہ دین کے مسئلہ کو آدمی اپنی زندگی کا مسئلہ بنائے، اپنی زندگی اور اپنے مال پر وہ سب سے زیادہ دین کا حق سمجھے۔ اس کے برعکس، منافقانہ طورپر دین کو اختیار کرنا یہ ہے کہ دین سے بس رسمی اور ظاہری تعلق رکھا جائے۔ دین کو آدمی اپنی زندگی میں یہ مقام نہ دے کہ اس کے ليے وہ وقف ہوجائے اور ہر قسم کے نقصان کا خطرہ مول لے کر اس کی راہ میں آگے بڑھے۔
اپنی غلطی کو ماننا اپنے کو دوسرے کے مقابلہ میں کمتر تسلیم کرنا ہے اور اس قسم کا اعتراف کسی آدمی کے ليے مشکل ترین کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی ہمیشہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنے موقف کو صحیح ثابت کردے۔ چنانچہ منافقانہ طورپر اسلام کو اختیار کرنے والے ہمیشہ اس تلاش میں رہتے ہیں کہ کوئی موقع ملے تو مخلص مومنوں کو مطعون کریں اور ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو زیادہ درست ثابت کرسکیں ۔
مدینہ کے منافقین مسلسل اس کوشش میں رہتے تھے۔ مثلاً غزوۂ احد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو مدینہ میں بیٹھ رہنے والے منافقین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف یہ پروپیگنڈا شروع کردیا کہ ان کو معاملات جنگ کا تجربہ نہیں ہے۔ انھوں نے جو ش کے تحت اقدام کیا اور ہماری قوم کے جوانوں کو غلط مقام پر لے جاکر خواہ مخوا کٹوا دیا۔
انسانوں میں کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مسائل کا گہرا تجزیہ کرسکیں اور اس حقیقت کو جانیں کہ کسی بات کا قواعدِ زبان کے اعتبار سے صحیح الفاظ میں ڈھل جانااس کا كافي ثبوت نہیں ہے کہ وہ بات معنی کے اعتبار سے بھی صحیح ہوگی۔ بیشتر لوگ سادہ فکر کے ہوتے ہیں اور کوئی بات خوبصورت الفاظ میں کہی جائے تو وه بہت جلد اس سے متاثر ہوجاتے ہیں ۔ اس بنا پر کسی مسلم گروہ میں منافق قسم کے افراد کی موجودگی ہمیشہ اس گروہ کی کمزوری کا باعث ہوتی ہے۔ یہ لوگ اپنے کو درست ثابت کرنے کی کوشش میں اکثر ایسا کرتے ہیں کہ باتوں کو غلط رخ دے کر ان کو اپنے مفید مطلب رنگ میں بیان کرتے ہیں ۔ اس سے سادہ فکر کے لوگ متاثر ہوجاتے ہیں اور ان کے اندر غیر ضروری طور پر شبہ اور بے یقینی کی کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے۔
منافقین کی مخالفانه کوششوں کے باوجود جب بدر کی فتح ہوئی تو عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے کہا: هَذَا أَمْرٌ قَدْ تَوَجَّهَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4566)۔ یعنی یہ چیز تو اب چل نکلی۔ اسلام کا غلبہ ظاہر ہونے کے بعد انھیں اسلام کی صداقت پر یقین کرنا چاہيے تھا مگر اس وقت بھی انھوں نے اس سے حسد کی غذا لی۔
دین کو اختیار کرنا ایک مخلصانہ ہوتا ہے اور دوسرا منافقانہ۔ مخلصانہ طورپر دین کو اختیار کرنا یہ ہے کہ دین کے مسئلہ کو آدمی اپنی زندگی کا مسئلہ بنائے، اپنی زندگی اور اپنے مال پر وہ سب سے زیادہ دین کا حق سمجھے۔ اس کے برعکس، منافقانہ طورپر…
…اہم ہے کہ اس نازک خطرہ کے باوجو اس کا دروازہ بند نہیں کیا گیا۔
ایک شخص اگر بے خبری اور لاعلمی کی بنا پر ظلم کرے تو اس کا ظلم خواہ کتنا ہی زیادہ ہو مگر اسی کے ساتھ ہر ممکن رعایت کی جائے گی تا وقتیکہ اس کی لاعلمی اور بے خبری ختم ہوجائے۔
مدینہ میں ایک شخص جُد بن قیس تھا۔ تبوک کے غزوہ میں نکلنے کے ليے اعلان عام ہوا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہا کہ مجھے اس غزوہ سے معاف رکھيے۔ یہ رومی علاقہ ہے۔ وہاں رومی عورتوں کو دیکھ کر میں فتنہ میں پڑ جاؤں گا، مگر ایسے مواقع پر عذر پیش کرنا بجائے خود فتنہ میں پڑنا ہے۔ کیوں کہ نازک مواقع پر آدمی کے اندر دین کی خاطر فدا ہوجانے کا جذبہ بھڑکنا چاہيے، نہ کہ عذرات تلاش کرکے پیچھے رہ جانے کا۔ پھر ایسے کسی عذر کو دینی اور اخلاقی رنگ دینا اور بھی زیادہ برا ہے۔ کیوں کہ یہ بے عملی پر فریب کاری کا اضافہ ہے۔
اس قسم کا مزاج حقیقۃً آدمی کے اندر اس ليے پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنی دنیا کو آخرت کے مقابلہ میں عزیز تر رکھتاہے۔ خطرات کے موقع پر ایسے لوگ دین کی راہ میں آگے بڑھنے سے رکے رہتے ہیں ۔ پھر جب سچے حق پرستوں کو ان کی غیر مصلحت اندیشانہ دینداری کی وجہ سے کبھی کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے تو یہ لوگ خوش ہوتے ہیں کہ بہت اچھا ہوا کہ ہم نے اپنے ليے حفاظتی پہلو اختیار کرلیا تھا۔ اس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ سچے حق پرست خطرات کا مقابلہ کریں اور اس میں انھیں کامیابی ہو تو ان لوگوں کے دل تنگ ہوتے ہیں ۔ کیوں کہ ایسا کوئی واقعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ انھوں نے جو پالیسی اختیار کی وہ درست نہ تھی۔
سچے اہل ایمان کے ليے اس دنیا میں ناکامی کا سوال نہیں ۔ ان کی کامیابی یہ ہے کہ خدا ان سے راضی ہو اور یہ ہر حال میں انھیں حاصل ہوتا ہے۔ مومن پر اگر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس کے دل کی انابت کو بڑھاتی ہے۔ اگر اس کو کوئی سکھ ملتاہے تو اس کے اندر احساس مندی کا جذبہ ابھرتاہے اور وہ شکر کرکے خدا کی مزید عنایتوں کا مستحق بنتا ہے۔
’’تم انتظار کرو ہم بھی انتظار کررہے ہیں ‘‘ بظاہر مومنین کا کلمہ ہے۔ مگر حقیقۃً یہ خدا کی طرف سے ہے۔ خدا ان لوگوں سے تہدیدی انداز میں کہہ رہا ہے کہ تم لوگ اہلِ حق کی بربادی کے منتظر ہو، حالاں کہ خدا کے تقدیری نظام کے مطابق انھیں ابدی کامیابی ملنے والی ہے۔ اور تمھارے ساتھ جو ہونا ہے وہ یہ کہ تمھارے جرم کو آخری حد تک ثابت کرکے تم کو دائمی طورپر رسوائی اور عذاب کے حوالے کردیا جائے۔
مدینہ میں ایک شخص جُد بن قیس تھا۔ تبوک کے غزوہ میں نکلنے کے ليے اعلان عام ہوا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہا کہ مجھے اس غزوہ سے معاف رکھيے۔ یہ رومی علاقہ ہے۔ وہاں رومی عورتوں کو دیکھ کر میں فتنہ میں پڑ جاؤں گا، مگر…
…کہ تم لوگ اہلِ حق کی بربادی کے منتظر ہو، حالاں کہ خدا کے تقدیری نظام کے مطابق انھیں ابدی کامیابی ملنے والی ہے۔ اور تمھارے ساتھ جو ہونا ہے وہ یہ کہ تمھارے جرم کو آخری حد تک ثابت کرکے تم کو دائمی طورپر رسوائی اور عذاب کے حوالے کردیا جائے۔
مدینہ میں ایک شخص جُد بن قیس تھا۔ تبوک کے غزوہ میں نکلنے کے ليے اعلان عام ہوا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہا کہ مجھے اس غزوہ سے معاف رکھيے۔ یہ رومی علاقہ ہے۔ وہاں رومی عورتوں کو دیکھ کر میں فتنہ میں پڑ جاؤں گا، مگر ایسے مواقع پر عذر پیش کرنا بجائے خود فتنہ میں پڑنا ہے۔ کیوں کہ نازک مواقع پر آدمی کے اندر دین کی خاطر فدا ہوجانے کا جذبہ بھڑکنا چاہيے، نہ کہ عذرات تلاش کرکے پیچھے رہ جانے کا۔ پھر ایسے کسی عذر کو دینی اور اخلاقی رنگ دینا اور بھی زیادہ برا ہے۔ کیوں کہ یہ بے عملی پر فریب کاری کا اضافہ ہے۔
اس قسم کا مزاج حقیقۃً آدمی کے اندر اس ليے پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنی دنیا کو آخرت کے مقابلہ میں عزیز تر رکھتاہے۔ خطرات کے موقع پر ایسے لوگ دین کی راہ میں آگے بڑھنے سے رکے رہتے ہیں ۔ پھر جب سچے حق پرستوں کو ان کی غیر مصلحت اندیشانہ دینداری کی وجہ سے کبھی کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے تو یہ لوگ خوش ہوتے ہیں کہ بہت اچھا ہوا کہ ہم نے اپنے ليے حفاظتی پہلو اختیار کرلیا تھا۔ اس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ سچے حق پرست خطرات کا مقابلہ کریں اور اس میں انھیں کامیابی ہو تو ان لوگوں کے دل تنگ ہوتے ہیں ۔ کیوں کہ ایسا کوئی واقعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ انھوں نے جو پالیسی اختیار کی وہ درست نہ تھی۔
سچے اہل ایمان کے ليے اس دنیا میں ناکامی کا سوال نہیں ۔ ان کی کامیابی یہ ہے کہ خدا ان سے راضی ہو اور یہ ہر حال میں انھیں حاصل ہوتا ہے۔ مومن پر اگر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس کے دل کی انابت کو بڑھاتی ہے۔ اگر اس کو کوئی سکھ ملتاہے تو اس کے اندر احساس مندی کا جذبہ ابھرتاہے اور وہ شکر کرکے خدا کی مزید عنایتوں کا مستحق بنتا ہے۔
’’تم انتظار کرو ہم بھی انتظار کررہے ہیں ‘‘ بظاہر مومنین کا کلمہ ہے۔ مگر حقیقۃً یہ خدا کی طرف سے ہے۔ خدا ان لوگوں سے تہدیدی انداز میں کہہ رہا ہے کہ تم لوگ اہلِ حق کی بربادی کے منتظر ہو، حالاں کہ خدا کے تقدیری نظام کے مطابق انھیں ابدی کامیابی ملنے والی ہے۔ اور تمھارے ساتھ جو ہونا ہے وہ یہ کہ تمھارے جرم کو آخری حد تک ثابت کرکے تم کو دائمی طورپر رسوائی اور عذاب کے حوالے کردیا جائے۔
مدینہ میں یہ صورت پیش آئی کہ عمومی طورپر لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ان میں اکثریت مخلص اہل ایمان کی تھی تاہم ایک تعداد وہ تھی جس نے وقت کی فضا کا ساتھ دیتے ہوئے اگرچہ اسلام قبول کرلیا تھا لیکن اس کے اندر وہ سپردگی پیدا نہیں ہوئی تھی جو…
…کا جو حال ہوتا ہے وہ یہ کہ مال وجاہ ان کے ليے ایسے بندھن بن جاتے ہیں کہ وہ خدا کے دین کی طرف بھر پور طور پر نہ بڑھ سکیں ۔ وہ خدا کو بھول کر ان میں مشغول رہیں یہاں تک کہ موت آجائے اور وه بے رحمی کے ساتھ ان کو ان کے مال و جاہ سے جدا کردے۔
مدینہ میں یہ صورت پیش آئی کہ عمومی طورپر لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ان میں اکثریت مخلص اہل ایمان کی تھی تاہم ایک تعداد وہ تھی جس نے وقت کی فضا کا ساتھ دیتے ہوئے اگرچہ اسلام قبول کرلیا تھا لیکن اس کے اندر وہ سپردگی پیدا نہیں ہوئی تھی جو حقیقی ایمان اور سچے تعلق باللہ کا تقاضا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو منافقین کہاجاتا ہے۔
يه منافقین زیادہ تر مدینہ کے مال دار لوگ تھے اور یہی مال داری ان کے نفاق کا اصل سبب تھی۔ جس کے پاس کھونے کے ليے کچھ نہ ہو وہ زیادہ آسانی کے ساتھ اسلام کو اختیار کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے جس میں اپنا سب کچھ کھو دینا پڑے۔ مگر جن لوگوں کے پاس کھونے کے ليے ہو وہ عام طورپر مصلحت اندیشی میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ اسلام کے بے ضرر احکام کی تعمیل تو وہ کسی نہ کسی طرح کرلیتے ہیں ۔ مگر اسلام کے جن تقاضوں کو اختیار کرنے میں جان ومال کی محرومی دکھائی دے رہی ہو، جس میں قربانی کی سطح پر مومن بننے کا سوال ہو، ان کی طرف بڑھنے کے ليے وہ اپنے کو آمادہ نہیں کر پاتے۔
مگر قربانی والے اسلام سے پیچھے رہنا ان کے ’’نماز روزہ‘‘ کو بھی بے قیمت کردیتا ہے۔ مسجد کی عبادت کا بہت گہرا تعلق مسجدکے باہر کی عبادت سے ہے۔ اگر مسجد سے باہر آدمی کی زندگی حقیقی دین سے خالی ہو تو مسجد کے اندر بھی اس کی زندگی حقیقی دین سے خالی ہوگی اور ظاہر ہے کہ بے روح عمل کی خدا کے نزدیک کوئی قیمت نہیں ۔ خدا سچے عمل کو قبول کرتا ہے، نہ کہ جھوٹے عمل کو۔
کسی آدمی کے پاس دولت کی رونقیں ہوں اور آدمیوں کا جـتھا اس کے گردو پیش دكھائی دیتا ہو تو عام لوگ اس کو رشک کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ سب سے زیادہ بدقسمت لوگ ہیں ۔ عام طور پر ان کا جو حال ہوتا ہے وہ یہ کہ مال وجاہ ان کے ليے ایسے بندھن بن جاتے ہیں کہ وہ خدا کے دین کی طرف بھر پور طور پر نہ بڑھ سکیں ۔ وہ خدا کو بھول کر ان میں مشغول رہیں یہاں تک کہ موت آجائے اور وه بے رحمی کے ساتھ ان کو ان کے مال و جاہ سے جدا کردے۔
مدینہ میں یہ صورت پیش آئی کہ عمومی طورپر لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ان میں اکثریت مخلص اہل ایمان کی تھی تاہم ایک تعداد وہ تھی جس نے وقت کی فضا کا ساتھ دیتے ہوئے اگرچہ اسلام قبول کرلیا تھا لیکن اس کے اندر وہ سپردگی پیدا نہیں ہوئی تھی جو…
…رسوائی اور عذاب کے سوا ان کا کوئی ٹھکانا نہیں ۔
اللہ کا ڈر آدمی کے دل کو نرم کردیتاہے۔ وہ لوگوں کی بے بنیاد باتوں کو بھی خاموشی کے ساتھ سن لیتا ہے، یہاں تک کہ نادان لوگ کہنے لگیں کہ یہ تو سادہ لوح ہیں ، باتوں کی گہرائی کو سمجھتے ہی نہیں ۔
مدینہ کے منافقین اپنی نجی مجلسوں میں اسلامی شخصیتوں کا مذاق اڑاتے۔ مگر جب وہ مسلمانوں کے سامنے آتے تو قسم کھا کر یقین دلاتے کہ وہ اسلام کے وفادار ہیں ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمان مدینہ میں طاقت ور تھے۔ وہ منافقین کو نقصان پہنچانے کی حیثیت میں تھے۔ اس ليے منافقین مسلمانوں سے ڈرتے تھے۔
اس سے منافق کے کردار کا اصل پہلو سامنے آتا ہے۔ منافق کی دین داری انسان کے ڈر سے ہوتی ہے، نہ کہ خدا کے ڈر سے۔ وہ ایسے مواقع پر اخلاق وانصاف والا بن جاتاہے جہاں انسان کا دباؤ ہو یا عوام کی طرف سے اندیشہ لاحق ہو۔ مگر جہاں اس قسم کا خطرہ نہ ہو اور صرف خدا کا ڈر ہی وہ چیز ہو جو آدمی کی زبان کو بند کرے اور اس کے ہاتھ پاؤں کو روکے تو وہاں وہ بالکل دوسرا انسان ہوتا ہے۔ اب وہ ایک ایسا شخص ہوتا ہے جس کو نہ با اخلاق بننے سے کوئی دل چسپی ہو اور نہ انصاف کا رویہ اختیار کرنے کی کوئی ضرورت۔
جو لوگ مصلحتوں میں گرفتار ہوتے ہیں اور اس بنا پر تحفظات سے اوپر اٹھ کر خدا کے دین کا ساتھ نہیں دے پاتے وہ عام طورپر معاشرہ کے صاحب حیثیت لوگ ہوتے ہیں ۔ اپنی حیثیت کو باقی رکھنے کے ليے وہ ان لوگوں کی تصویر بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں جو سچے اسلام کو لے کر اٹھے ہیں ۔ وہ ان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کی مہم چلاتے ہیں ۔ ان کو طرح طرح سے بدنام کرنے کی تدبیريں کرتے ہیں ۔ ان کی باتوں میں بے بنیاد قسم کے اعتراضات نکالتے ہیں ۔
ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ یہ بے حد سنگین بات ہے۔ یہ اہلِ ایمان کی مخالفت نہیں بلکہ خود خدا کی مخالفت ہے۔ یہ خدا کا حریف بن کر کھڑاہونا ہے۔ ایسے لوگ اگر اپنی معصومیت ثابت کرنے کے بجائے اپنی غلطی کا اقرار کرتے اور کم از کم دل سے اسلام کے داعیوں کے خیر خواہ بن جاتے تو شاید وہ قابلِ معافی ٹھہرتے۔ مگر ضد اور مخالفت کا طریقہ اختیار کرکے انھوں نے اپنے کو خدا کے دشمنوں کی فہرست میں شامل کرلیا۔ اب رسوائی اور عذاب کے سوا ان کا کوئی ٹھکانا نہیں ۔
اللہ کا ڈر آدمی کے دل کو نرم کردیتاہے۔ وہ لوگوں کی بے بنیاد باتوں کو بھی خاموشی کے ساتھ سن لیتا ہے، یہاں تک کہ نادان لوگ کہنے لگیں کہ یہ تو سادہ لوح ہیں ، باتوں کی گہرائی کو سمجھتے ہی نہیں ۔
غزوہ تبوک کے موقع پر مدینہ میں یہ فضا تھی کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے وہ ارباب عزیمت شمار ہورہے تھے اور جو لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ رہے تھے وہ منافق اور پست ہمت سمجھے جاتے تھے۔ بیٹھ رہنے والے منافقین نے رسول اور…
…ہو کہ پورا ماحول امن وسکون کا گہوارہ بن جائے۔ یہی ربانی زندگی آخرت میں جنتی زندگی میں تبدیل ہوجائے گی۔ وہاں آدمی نہ صرف اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹے گا بلکہ خدا کی خصوصی رحمت سے ایسے انعامات پائے گا جن کا اس سے پہلے اس نے تصور نہیں کیا تھا۔
منافقانہ طورپر اسلام سے وابستہ رہنے والے لوگوں میں جو خصوصیات ہوتی ہیں وہ ہیں آخرت سے غفلت، دنیوی ضرورتوں سے دل چسپی، بھلائی کے ساتھ تعاون سے دوری اور نمائشی کاموں کی طرف رغبت۔ ان مشترک خصوصیات کی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے خوب ملے جلے رہتے ہیں ۔ یہ چیزیں ان کو مشترک دل چسپی کا موضوعِ گفتگو دیتی ہیں ۔ اس سے انھیں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا میدان حاصل ہوتا ہے۔ یہ ان کے ليے باہمی تعلقات کا ذریعہ بنتا ہے۔
یہی معاملہ ایک اور شکل میں سچے اہل ایمان کاہوتاہے۔ ان کے دل میں خدا کی لگن لگی ہوئی ہوتی ہے۔ ان کو سب سے زیادہ آخرت کی فکر ہوتی ہے۔ وہ دنیا کی چیزوں سے بطور ضرورت تعلق رکھتے ہیں نہ کہ بطور مقصد، خدا کی پسند کا کام ہورہا ہو تو ان کا دل فوراً اس کی طرف کھینچ اٹھتا ہے۔ برائی کا کام ہو تو اس سے ان کی طبیعت اِبا کرتی ہے۔ ان کی زندگی اور ان کا اثاثہ سب سے زیادہ خدا کے ليے ہوتا ہے، نہ کہ اپنے ليے۔ وہ خدا کی یاد کرنے والے اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے ہوتے ہیں ۔
اہل ایمان کے یہ مشترک اوصاف انھیں ایک دوسرے سے قریب کردیتے ہیں ۔ سب کی دوڑ خدا کی طرف ہوتی ہے۔ سب کی اطاعت کا مرکز خدا کا رسول ہوتا ہے۔ جب وہ ملتے ہیں تو یہی وہ باہمی دلچسپی کی چیزیں ہوتی ہیں جن پر وہ بات کریں ۔انھیں اوصاف کے ذریعہ وہ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں ۔ اسی کی بنیاد پر ان کے آپس کے تعلقات قائم ہوتے ہیں ۔ اسی سے انھیں وہ مقصد ہاتھ آتا ہے جس کے ليے وہ متحدہ کوشش کریں ۔ اسی سے ان کو وہ نشانہ ملتاہے، جس کی طرف سب مل کر آگے بڑھیں ۔
دنیا میں اہلِ ایمان کی زندگی ان کی آخرت کی زندگی کی تمثیل ہے۔ دنیا میں اہل ایمان اس طرح جیتے ہیں جیسے ایک باغ میں بہت سے شاداب درخت کھڑے ہوں ۔ ہر ایک دوسرے کے حسن میں اضافہ کررہا ہو۔ ان درختوں کو فیضانِ خداوندی سے نکلنے والے آنسو سیراب کررہے ہوں ۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا اس طرح خیرخواہ اور ساتھی ہو کہ پورا ماحول امن وسکون کا گہوارہ بن جائے۔ یہی ربانی زندگی آخرت میں جنتی زندگی میں تبدیل ہوجائے گی۔ وہاں آدمی نہ صرف اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹے گا بلکہ خدا کی خصوصی رحمت سے ایسے انعامات پائے گا جن کا اس سے پہلے اس نے تصور نہیں کیا تھا۔
ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تقریباً 80 منافقین مدینہ میں موجود تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ منافقین سے جس جہاد کا حکم دیاگیا ہے، وہ جنگ کے معنی میں نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ ان منافقین کا خاتمہ کرا دیتے۔ اس…
…تو اس کو ریا کار کہہ کر گراتے ہیں ۔ اور کسی نے اپنی حیثیت کی بنا پر کم دیا تو کہتے ہیں کہ خداکو اس آدمی کے صدقہ کی کیا ضرورت تھی۔ جو لوگ اتنا زیادہ اپنے آپ میں گم ہوں انھیں اپنے آپ سے باہر کی اعلیٰ تر حقیقتیں کبھی دکھائی نہیں دیتیں ۔
ثعلبہ بن حاطب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے ليے دعاکیجيے کہ خدا مجھے ما ل دے دے۔ آپ نے فرمایا: تھوڑے مال پر شکر گزار ہونا اس سے بہتر ہے کہ تم کو زیادہ مال ملے اور تم شکر ادا نہ کرسکو۔ مگر ثعلبہ نے بار بار درخواست کی چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ خدایا، ثعلبہ کو مال دے دے۔ اس کے بعد ثعلبہ نے بکری پالی۔ اس کی نسل اتنی بڑھی کہ مدینہ کی زمین ان کی بکریوں کے لیے تنگ ہوگئی۔ ثعلبہ نے مدینہ کے باہر ایک وادی میں رہنا شروع کیا۔ اب ثعلبہ کے اسلام میں کمزوری آنا شروع ہوئی۔ پہلے ان کی جماعت کی نماز چھوٹی۔ پھر جمعہ چھوٹ گیا۔ حتی کہ یہ نوبت آئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عامل ثعلبہ کے پاس زکوٰۃ لینے کے لیے گیاتو ثعلبہ نے زکوٰۃ نہیں دی اور کہا کہ زکوٰۃ تو جزیہ کی بہن معلوم ہوتی ہے (مَا هَذِهِ إِلا جِزْيَةٌ، مَا هَذِهِ إِلا أُخْتُ الْجِزْيَةِ )أسد الغابہ فی معرفة الصحابہ، جلد1، صفحہ
462
۔
وہ شخص خدا کی نظر میں منافق ہے جس کا حال یہ ہو کہ وہ مال کے ليے خدا سے دعائیں کرے اور جب خدا اس کو مال والا بنا دے تو وہ اپنے مال میں خدا کا حق نکالنا بھول جائے۔ آدمی کے پاس مال نہیں ہوتا تو وہ مال والوں کو برا کہتا ہے کہ یہ لوگ مال کو غلط کاموں میں برباد کرتے ہیں ۔ اگر خدا مجھ کو مال دے تو میں اس کو خیر کے کاموں میں خرچ کروں ۔ مگر جب اس کے پاس مال آتاہے تو اس کی نفسیات بدل جاتی ہے۔ وہ بھول جاتاہے کہ پہلے اس نے کیا کہا تھا اور کن جذبات کا اظہار کیا تھا۔ اب وہ مال کو اپنی محنت اور لیاقت کا نتیجہ سمجھ کر تنہا اس کا مالک بن جاتا ہے۔ خدا کا حق ادا کرنا اسے یاد نہیں رہتا۔
اس قسم کے لوگ اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے ليے مزید سرکشی یہ کرتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جو خدا کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں ۔ کسی نے زیادہ دیا تو اس کو ریا کار کہہ کر گراتے ہیں ۔ اور کسی نے اپنی حیثیت کی بنا پر کم دیا تو کہتے ہیں کہ خداکو اس آدمی کے صدقہ کی کیا ضرورت تھی۔ جو لوگ اتنا زیادہ اپنے آپ میں گم ہوں انھیں اپنے آپ سے باہر کی اعلیٰ تر حقیقتیں کبھی دکھائی نہیں دیتیں ۔
ثعلبہ بن حاطب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے ليے دعاکیجيے کہ خدا مجھے ما ل دے دے۔ آپ نے فرمایا: تھوڑے مال پر شکر گزار ہونا اس سے بہتر ہے کہ تم کو زیادہ مال ملے اور تم شکر ادا نہ کرسکو۔ مگر ثعلبہ نے بار بار درخواست…
…تو اس کو ریا کار کہہ کر گراتے ہیں ۔ اور کسی نے اپنی حیثیت کی بنا پر کم دیا تو کہتے ہیں کہ خداکو اس آدمی کے صدقہ کی کیا ضرورت تھی۔ جو لوگ اتنا زیادہ اپنے آپ میں گم ہوں انھیں اپنے آپ سے باہر کی اعلیٰ تر حقیقتیں کبھی دکھائی نہیں دیتیں ۔
ثعلبہ بن حاطب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے ليے دعاکیجيے کہ خدا مجھے ما ل دے دے۔ آپ نے فرمایا: تھوڑے مال پر شکر گزار ہونا اس سے بہتر ہے کہ تم کو زیادہ مال ملے اور تم شکر ادا نہ کرسکو۔ مگر ثعلبہ نے بار بار درخواست کی چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ خدایا، ثعلبہ کو مال دے دے۔ اس کے بعد ثعلبہ نے بکری پالی۔ اس کی نسل اتنی بڑھی کہ مدینہ کی زمین ان کی بکریوں کے لیے تنگ ہوگئی۔ ثعلبہ نے مدینہ کے باہر ایک وادی میں رہنا شروع کیا۔ اب ثعلبہ کے اسلام میں کمزوری آنا شروع ہوئی۔ پہلے ان کی جماعت کی نماز چھوٹی۔ پھر جمعہ چھوٹ گیا۔ حتی کہ یہ نوبت آئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عامل ثعلبہ کے پاس زکوٰۃ لینے کے لیے گیاتو ثعلبہ نے زکوٰۃ نہیں دی اور کہا کہ زکوٰۃ تو جزیہ کی بہن معلوم ہوتی ہے (مَا هَذِهِ إِلا جِزْيَةٌ، مَا هَذِهِ إِلا أُخْتُ الْجِزْيَةِ )أسد الغابہ فی معرفة الصحابہ، جلد1، صفحہ
462
۔
وہ شخص خدا کی نظر میں منافق ہے جس کا حال یہ ہو کہ وہ مال کے ليے خدا سے دعائیں کرے اور جب خدا اس کو مال والا بنا دے تو وہ اپنے مال میں خدا کا حق نکالنا بھول جائے۔ آدمی کے پاس مال نہیں ہوتا تو وہ مال والوں کو برا کہتا ہے کہ یہ لوگ مال کو غلط کاموں میں برباد کرتے ہیں ۔ اگر خدا مجھ کو مال دے تو میں اس کو خیر کے کاموں میں خرچ کروں ۔ مگر جب اس کے پاس مال آتاہے تو اس کی نفسیات بدل جاتی ہے۔ وہ بھول جاتاہے کہ پہلے اس نے کیا کہا تھا اور کن جذبات کا اظہار کیا تھا۔ اب وہ مال کو اپنی محنت اور لیاقت کا نتیجہ سمجھ کر تنہا اس کا مالک بن جاتا ہے۔ خدا کا حق ادا کرنا اسے یاد نہیں رہتا۔
اس قسم کے لوگ اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے ليے مزید سرکشی یہ کرتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جو خدا کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں ۔ کسی نے زیادہ دیا تو اس کو ریا کار کہہ کر گراتے ہیں ۔ اور کسی نے اپنی حیثیت کی بنا پر کم دیا تو کہتے ہیں کہ خداکو اس آدمی کے صدقہ کی کیا ضرورت تھی۔ جو لوگ اتنا زیادہ اپنے آپ میں گم ہوں انھیں اپنے آپ سے باہر کی اعلیٰ تر حقیقتیں کبھی دکھائی نہیں دیتیں ۔
ثعلبہ بن حاطب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے ليے دعاکیجيے کہ خدا مجھے ما ل دے دے۔ آپ نے فرمایا: تھوڑے مال پر شکر گزار ہونا اس سے بہتر ہے کہ تم کو زیادہ مال ملے اور تم شکر ادا نہ کرسکو۔ مگر ثعلبہ نے بار بار درخواست…
…تو اس کو ریا کار کہہ کر گراتے ہیں ۔ اور کسی نے اپنی حیثیت کی بنا پر کم دیا تو کہتے ہیں کہ خداکو اس آدمی کے صدقہ کی کیا ضرورت تھی۔ جو لوگ اتنا زیادہ اپنے آپ میں گم ہوں انھیں اپنے آپ سے باہر کی اعلیٰ تر حقیقتیں کبھی دکھائی نہیں دیتیں ۔
مسلمانوں کو جب زور حاصل ہوگیا تو قریش نے ان سے معاہدے کرليے۔ تاہم وہ ان معاہدوں سے خوش نہ تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اپنے ’’دشمن‘‘ سے یہ معاہدہ انھوں نے اپنی بربادی کی قیمت پر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر وقت اس انتظار میں رہتے تھے کہ جہاں موقع ملے معاہدہ کی خلاف ورزی کرکے مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں یا کم ازکم انھیں بدنام کریں ۔ ظاہر ہے کہ جب ایک فریق کی طرف سے اس قسم کی خیانت کا مظاہرہ ہو تو دوسرے فریق کے ليے کسی معاہدہ کی پابندی ضروری نہیں رہتی۔
یہ قریش کا حال تھا ،جن کو مسلمانوں کے عروج میں اپنی قیادت چھنتی ہوئی نظرآتی تھی۔ تاہم کچھ دوسرے عرب قبائل (بنو کنانہ، بنو خزاعہ، بنو ضمرہ) جو اس قسم کی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا نہ تھے، انھوں نے مسلمانوں سے معاہدے كيے اور اپنے معاہدے پر قائم رہے۔ جب چار ماہ کی مہلت کا اعلان کیاگیا تو ان کے معاہدہ کی میعاد پوری ہونے میں تقریباً نومہینے باقی تھے۔ حکم ہوا کہ ان سے معاہدہ کو آخر وقت تک باقی رکھو، کیوں کہ تقویٰ کا تقاضا یہی ہے۔ مگر اس مدت کے ختم ہونے کے بعد پھر کسی سے اس قسم کا معاہدہ نہیں کیا گیا اور تمام مشرکین کے سامنے صرف دو صورتیں باقی رکھی گئیں یا اسلام لائیں یا جنگ کے ليے تیار ہوجائیں ۔
معاشرتی زندگی کی بنیاد ہمیشہ دو چیزوں پر ہوتی ہے— رشتہ داری یا قول وقرار۔ جن سے رحمی رشتے ہیں ان کے حقوق کا لحاظ آدمی رحمی رشتوں کی بنیاد پر کرتاہے۔ اور جن سے قول وقرار ہوچکا ہے ان سے قول وقرار کی بنا پر۔ مگر جب آدمی کے اوپر دنیا کے مفاد اور اس کی مصلحت کا غلبہ ہوتا ہے تو وہ دونوں باتوں کو بھول جاتاہے۔ وہ اپنے حقیر فائدہ کی خاطر رحمی حقوق کو بھی بھول جاتا ہے اور قول وقرار کو بھی۔ ایسے لوگ حد سے گزر جانے والے ہیں ۔ وہ خدا کی نظر میں مجرم ہیں ۔ دنیا میں اگر وہ چھوٹ گئے تو آخرت میں وہ خدا کی پکڑ سے بچ نہ سکیں گے۔ إلاّ یہ کہ وہ توبہ کریں اور سرکشی سے باز آئیں ۔ کوئی شخص ماضی میں خواہ کتنا ہی برارہا ہو مگر جب وہ اصلاح قبول کرلے تو وہ اسلامی برادری کا ایک معزز رکن بن جاتا ہے۔ اس کے بعد اس میں اور دوسرے مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں رہتا۔
ثعلبہ بن حاطب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے ليے دعاکیجيے کہ خدا مجھے ما ل دے دے۔ آپ نے فرمایا: تھوڑے مال پر شکر گزار ہونا اس سے بہتر ہے کہ تم کو زیادہ مال ملے اور تم شکر ادا نہ کرسکو۔ مگر ثعلبہ نے بار بار درخواست…
…تو اس کو ریا کار کہہ کر گراتے ہیں ۔ اور کسی نے اپنی حیثیت کی بنا پر کم دیا تو کہتے ہیں کہ خداکو اس آدمی کے صدقہ کی کیا ضرورت تھی۔ جو لوگ اتنا زیادہ اپنے آپ میں گم ہوں انھیں اپنے آپ سے باہر کی اعلیٰ تر حقیقتیں کبھی دکھائی نہیں دیتیں ۔
غزوۂ تبوک سخت گرمی کے موسم میں ہوا۔ مدینہ سے چل کر شام کی سرحد تک تین سو میل جانا تھا۔ منافق مسلمانوں نے کہا کہ ایسی تیز گرمی ميں اتنا لمبا سفر نہ کرو۔یہ کہتے ہوئے وہ بھول گئے کہ خدا کی پکار سننے کے بعد کسی خطرہ کی بنا پر نہ نکلنا اپنے آپ کو شدید تر خطرہ میں مبتلا کرنا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے دھوپ سے بھاگ کر آگ کے شعلوں کی پناہ لی جائے۔
جو لوگ خدا کے مقابلہ میں اپنے کو اور اپنے مال کو زیادہ محبوب رکھتے ہیں وہ جب اپنی خوبصورت تدبیروں سے اس میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ وہ مسلمان بھی بنے رہیں اور اسی کے ساتھ ان کی زندگی اور ان کے مال کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے کو عقل مند سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کو بے وقوف کہتے ہیں جنھوں نے خدا کی رضا کی خاطر اپنے كو ہلکان کررکھا ہو۔
مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ یہ ایسا ہنسنا ہے جس کا انجام رونے پر ختم ہونے والا ہے۔ کیوں کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں اس قسم کی ’’ہوشیاری‘‘ سب سے بڑی نادانی ہوگی۔ اس وقت آدمی افسوس کرے گا کہ وہ جنت کا طلب گار تھا مگر اس نے اپنے اثاثہ کی وہی چیز اس کے لیے نہ دی جو دراصل جنت کی واحد قیمت تھی۔
اس قسم کے منافق ہمیشہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی تحفظاتی پالیسی کی وجہ سے اپنے گرد مال وجاہ کے اسباب جمع کرلیتے ہیں اس بنا پر عام مسلمان ان سے مرعوب ہوجاتے ہیں ۔ ان کی شان دار زندگیاں اور ان کے خوب صورت باتیں لوگوں کی نظر میں ان کوعظیم بنادیتی ہیں ۔ یہ کسی اسلامی معاشرہ کے ليے ایک سخت امتحان ہوتا ہے۔ کیوں کہ ایک حقیقی اسلامی معاشرہ میں ایسے لوگوں کو نظر انداز کیا جانا چاہیے، نہ یہ کہ ان کو عزت کا مقام دیا جانے لگے۔
جن لوگوں کے بارے میں پوری طرح معلوم ہوجائے کہ وہ بظاہر مسلمان بنے ہوئے ہیں مگر حقیقۃً وہ اپنے مفادات اور اپنی دنیوی مصلحتوں کے وفادار ہیں ان کو حقیقی اسلامی معاشرہ کبھی عزت کے مقام پر بٹھانے کے ليے راضی نہیں ہوسکتا۔ ایسے لوگوں کا انجام یہ ہے کہ وہ اسلامی تقریبات میں صرف پیچھے کی صفوں میں جگہ پائیں ۔ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات میں ان کا کوئی دخل نہ ہو۔ دینی مناصب کے ليے وہ نااہل قرار پائیں ۔ جس معاشرہ میں ایسے لوگوں کو عزت کا مقام ملاہوا ہو وہ کبھی خدا کا پسندیدہ معاشرہ نہیں ہوسکتا۔
غزوۂ تبوک سخت گرمی کے موسم میں ہوا۔ مدینہ سے چل کر شام کی سرحد تک تین سو میل جانا تھا۔ منافق مسلمانوں نے کہا کہ ایسی تیز گرمی ميں اتنا لمبا سفر نہ کرو۔یہ کہتے ہوئے وہ بھول گئے کہ خدا کی پکار سننے کے بعد کسی خطرہ کی بنا پر نہ نکلنا اپنے…
…اسلامی تقریبات میں صرف پیچھے کی صفوں میں جگہ پائیں ۔ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات میں ان کا کوئی دخل نہ ہو۔ دینی مناصب کے ليے وہ نااہل قرار پائیں ۔ جس معاشرہ میں ایسے لوگوں کو عزت کا مقام ملاہوا ہو وہ کبھی خدا کا پسندیدہ معاشرہ نہیں ہوسکتا۔
غزوۂ تبوک سخت گرمی کے موسم میں ہوا۔ مدینہ سے چل کر شام کی سرحد تک تین سو میل جانا تھا۔ منافق مسلمانوں نے کہا کہ ایسی تیز گرمی ميں اتنا لمبا سفر نہ کرو۔یہ کہتے ہوئے وہ بھول گئے کہ خدا کی پکار سننے کے بعد کسی خطرہ کی بنا پر نہ نکلنا اپنے آپ کو شدید تر خطرہ میں مبتلا کرنا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے دھوپ سے بھاگ کر آگ کے شعلوں کی پناہ لی جائے۔
جو لوگ خدا کے مقابلہ میں اپنے کو اور اپنے مال کو زیادہ محبوب رکھتے ہیں وہ جب اپنی خوبصورت تدبیروں سے اس میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ وہ مسلمان بھی بنے رہیں اور اسی کے ساتھ ان کی زندگی اور ان کے مال کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے کو عقل مند سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کو بے وقوف کہتے ہیں جنھوں نے خدا کی رضا کی خاطر اپنے كو ہلکان کررکھا ہو۔
مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ یہ ایسا ہنسنا ہے جس کا انجام رونے پر ختم ہونے والا ہے۔ کیوں کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں اس قسم کی ’’ہوشیاری‘‘ سب سے بڑی نادانی ہوگی۔ اس وقت آدمی افسوس کرے گا کہ وہ جنت کا طلب گار تھا مگر اس نے اپنے اثاثہ کی وہی چیز اس کے لیے نہ دی جو دراصل جنت کی واحد قیمت تھی۔
اس قسم کے منافق ہمیشہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی تحفظاتی پالیسی کی وجہ سے اپنے گرد مال وجاہ کے اسباب جمع کرلیتے ہیں اس بنا پر عام مسلمان ان سے مرعوب ہوجاتے ہیں ۔ ان کی شان دار زندگیاں اور ان کے خوب صورت باتیں لوگوں کی نظر میں ان کوعظیم بنادیتی ہیں ۔ یہ کسی اسلامی معاشرہ کے ليے ایک سخت امتحان ہوتا ہے۔ کیوں کہ ایک حقیقی اسلامی معاشرہ میں ایسے لوگوں کو نظر انداز کیا جانا چاہیے، نہ یہ کہ ان کو عزت کا مقام دیا جانے لگے۔
جن لوگوں کے بارے میں پوری طرح معلوم ہوجائے کہ وہ بظاہر مسلمان بنے ہوئے ہیں مگر حقیقۃً وہ اپنے مفادات اور اپنی دنیوی مصلحتوں کے وفادار ہیں ان کو حقیقی اسلامی معاشرہ کبھی عزت کے مقام پر بٹھانے کے ليے راضی نہیں ہوسکتا۔ ایسے لوگوں کا انجام یہ ہے کہ وہ اسلامی تقریبات میں صرف پیچھے کی صفوں میں جگہ پائیں ۔ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات میں ان کا کوئی دخل نہ ہو۔ دینی مناصب کے ليے وہ نااہل قرار پائیں ۔ جس معاشرہ میں ایسے لوگوں کو عزت کا مقام ملاہوا ہو وہ کبھی خدا کا پسندیدہ معاشرہ نہیں ہوسکتا۔
غزوۂ تبوک سخت گرمی کے موسم میں ہوا۔ مدینہ سے چل کر شام کی سرحد تک تین سو میل جانا تھا۔ منافق مسلمانوں نے کہا کہ ایسی تیز گرمی ميں اتنا لمبا سفر نہ کرو۔یہ کہتے ہوئے وہ بھول گئے کہ خدا کی پکار سننے کے بعد کسی خطرہ کی بنا پر نہ نکلنا اپنے…
…بچ نہ سکیں گے۔ إلاّ یہ کہ وہ توبہ کریں اور سرکشی سے باز آئیں ۔ کوئی شخص ماضی میں خواہ کتنا ہی برارہا ہو مگر جب وہ اصلاح قبول کرلے تو وہ اسلامی برادری کا ایک معزز رکن بن جاتا ہے۔ اس کے بعد اس میں اور دوسرے مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں رہتا۔
دعوتِ دین کی جدوجہد جب لوگوں سے ان کی زندگی اور ان کے مال کا تقاضا کررہی ہو اس وقت صاحبِ استطاعت ہونے کے باوجود عذر کرکے بیٹھ رہنا بدترین جرم ہے۔ یہ دینی پکار کے معاملہ میں بے حسی کا ثبوت ہے۔ ایک مسلمان کے ليے اس قسم کا رویہ خدا اور رسول سے غداری کرنے کے ہم معنی ہے۔ ایسے لوگ خدا کی رحمتوں میں کوئی حصہ پانے کے حقدار نہیں ہیں ۔ ان کے پاس جو کچھ تھا اس کو جب انھوں نے خدا کے ليے پیش نہیں کیا تو خدا کے پاس جو کچھ ہے وہ کس ليے انھیں دے دے گا۔ قیمت ادا كيے بغیر کوئی چیز کسی کو نہیں مل سکتی۔
تاہم معذورین کے ليے خدا کے یہاں معافی ہے۔ جو شخص بیمار ہو، جس کے پاس خرچ کرنے کے ليے کچھ نہ ہو، جو اسباب سفر نہ رکھتاہو، ایسے لوگوں سے خدا در گزر فرمائے گا۔ یہی نہیں بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ نہ کرنے کے باوجود سب کچھ ان كے خانہ ميں لکھ دیا جائے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ غزوۂ تبوک سے واپس ہوتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: مدینہ کچھ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ تم کوئی راستہ نہیں چلے اور تم نے کوئی وادی طے نہیں کی مگر وہ برابر تمھارے ساتھ رہے (إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا، مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا، وَلاَ قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ )صحیح البخاری، حدیث نمبر 4423۔
یہ خوش قسمت لوگ کون ہیں جو نہ کرنے کے باوجود کرنے کا انعام پاتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو معذور ہونے کے ساتھ تین باتوں کا ثبوت دیں — نصح، یعنی عملی شرکت نہ کرتے ہوئے بھی قلبی شرکت۔ احسان، یعنی عدم شرکت کے باوجود کم از کم زبان سے ان کے بس میں جو کچھ ہے اس کو پوری طرح کرتے رہنا۔ حزن، یعنی اپنی کوتاہی پر اتنا شدید رنج جو آنسوؤں کی صورت میں بہہ پڑے۔
کوئی آدمی جب اپنی عملی زندگی میں ایک چیز کو غیر اہم درجہ میں رکھے اور بار بار ایسا کرتا رہے تو اس کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ اس چیز کی اہمیت کا احساس اس کے دل سے نکل جاتا ہے۔ اس چیز کے تقاضے اس کے سامنے آتے هيں مگر دل کے اندر اس کے بارے میں تڑپ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس کی طرف بڑھ نہیں پاتا۔ یہ وہی چیز ہے جس کو بے حسی کہاجاتا ہے اور اسی کو قرآن میں دلوں پر مہر کرنے سے تعبیر کیاگیا ہے۔
دعوتِ دین کی جدوجہد جب لوگوں سے ان کی زندگی اور ان کے مال کا تقاضا کررہی ہو اس وقت صاحبِ استطاعت ہونے کے باوجود عذر کرکے بیٹھ رہنا بدترین جرم ہے۔ یہ دینی پکار کے معاملہ میں بے حسی کا ثبوت ہے۔ ایک مسلمان کے ليے اس قسم کا رویہ خدا اور رسول…
…اس کے دل سے نکل جاتا ہے۔ اس چیز کے تقاضے اس کے سامنے آتے هيں مگر دل کے اندر اس کے بارے میں تڑپ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس کی طرف بڑھ نہیں پاتا۔ یہ وہی چیز ہے جس کو بے حسی کہاجاتا ہے اور اسی کو قرآن میں دلوں پر مہر کرنے سے تعبیر کیاگیا ہے۔
’’تمھارے حالات ہم کو اللہ نے بتا ديے ہیں ‘‘ کا فقرہ ظاہر کرہا ہے کہ یہاں جن منافقین کا ذکر ہے ان سے مراد زمانہ نزول قرآن کے منافقین ہیں ۔ کیوں کہ براہِ راست وحی خداوندی کے ذریعہ آگاہ ہونے کا معاملہ صرف زمانۂ رسالت میں ہوا یا ہو سکتا تھا۔ بعد کے زمانہ میں ایسا ہونا ممکن نہیں ۔ طبقات ابن سعد کی روایت کے مطابق یہ کل بیاسی (
82
)افراد تھے جن کے نفاق کے بارے میں اللہ نے بذریعہ وحی مطلع فرمایا تھا (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد2، صفحہ
125
)۔
تاہم اس علم کے باوجود صحابہ کرام کو ان کے ساتھ جس سلوک کی اجازت دی گئی، وہ تغافل اور اعراض تھا، نہ کہ ان کو ہلاک کرنا۔ ان کو سزا یا عذاب دینے کا معاملہ پھر بھی خدا نے اپنے ہاتھ میں رکھا۔ مدینہ کے منافقین کے ساتھ اگرچہ اتنی سختی کی گئی کہ انھوں عذرات پیش كيے تو ان کے عذرات قبول نہیں كيے گئے۔ حتی کہ ثعلبہ بن حاطب انصاری نے منافقانہ روش اختیار کرنے کے بعد زکوٰۃ پیش کی تو ان کی زکوٰۃ لینے سے انکار کردیاگیا۔ تاہم ان میں سے کسی کو بھی آپ نے قتل نہیں کرایا۔ عبد اللہ بن ابی کے لڑکے عبد اللہ نے اپنے باپ کی منافقانہ حرکت پر سخت کارروائی کرنی چاہی تو آپ نے روک دیا اور فرمایا: انھیں چھوڑ دو، بخدا جب تک وہ ہمارے درمیان ہیں ہم ان کے ساتھ اچھا ہی سلوک کریں گے (دعہ فلعمری لنحسنن صحبتہ ما دام بین اظہرنا) الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد2، صفحہ 50۔
بعد کے زمانہ کے منافقین کے بارے میں بھی یہی حکم ہے۔ تاہم دونوں کے درمیان ایک فرق ہے۔ دور اول کے منافقین سے ان کی حالتِ قلبی کی بنیاد پر معاملہ کیا گیا، مگر بعد کے منافقین سے ان کی حالت ظاہری کی بنیاد پر معاملہ کیا جائے گا۔ان سے اعراض وتغافل کا سلوک صرف اس وقت جائز ہوگا جب کہ ان کے عمل سے ان کی منافقت کا خارجی ثبوت مل رہا ہو۔ ان کی نیت یا ان کی قلبی حالت کی بناپر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ بعد کے لوگ عذر پیش کریں تو ان کا عذر بھی قبول کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ان کے صدقات وغیرہ بھی۔ ان کے انجام کو اللہ کے حوالے کرتے ہوئے ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جو ظاہری قانون کے مطابق کسی کے ساتھ کیا جانا چاہيے۔
جنت کسی کو ذاتی عمل کی بنیاد پر ملتی ہے، نہ کہ مسلمانوں کی جماعت یا گروہ میں شامل ہونے کی بنیاد پر۔ منافقین سب کے سب مسلمانوں کی جماعت میں شامل تھے وہ ان کے ساتھ نماز روزہ کرتے تھے مگر اس کے باوجود ان کے جہنمی ہونے کا اعلان کیاگیا۔
’’تمھارے حالات ہم کو اللہ نے بتا ديے ہیں ‘‘ کا فقرہ ظاہر کرہا ہے کہ یہاں جن منافقین کا ذکر ہے ان سے مراد زمانہ نزول قرآن کے منافقین ہیں ۔ کیوں کہ براہِ راست وحی خداوندی کے ذریعہ آگاہ ہونے کا معاملہ صرف زمانۂ رسالت میں ہوا یا ہو سکتا…
…چاہيے۔
جنت کسی کو ذاتی عمل کی بنیاد پر ملتی ہے، نہ کہ مسلمانوں کی جماعت یا گروہ میں شامل ہونے کی بنیاد پر۔ منافقین سب کے سب مسلمانوں کی جماعت میں شامل تھے وہ ان کے ساتھ نماز روزہ کرتے تھے مگر اس کے باوجود ان کے جہنمی ہونے کا اعلان کیاگیا۔
’’تمھارے حالات ہم کو اللہ نے بتا ديے ہیں ‘‘ کا فقرہ ظاہر کرہا ہے کہ یہاں جن منافقین کا ذکر ہے ان سے مراد زمانہ نزول قرآن کے منافقین ہیں ۔ کیوں کہ براہِ راست وحی خداوندی کے ذریعہ آگاہ ہونے کا معاملہ صرف زمانۂ رسالت میں ہوا یا ہو سکتا تھا۔ بعد کے زمانہ میں ایسا ہونا ممکن نہیں ۔ طبقات ابن سعد کی روایت کے مطابق یہ کل بیاسی (
82
)افراد تھے جن کے نفاق کے بارے میں اللہ نے بذریعہ وحی مطلع فرمایا تھا (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد2، صفحہ
125
)۔
تاہم اس علم کے باوجود صحابہ کرام کو ان کے ساتھ جس سلوک کی اجازت دی گئی، وہ تغافل اور اعراض تھا، نہ کہ ان کو ہلاک کرنا۔ ان کو سزا یا عذاب دینے کا معاملہ پھر بھی خدا نے اپنے ہاتھ میں رکھا۔ مدینہ کے منافقین کے ساتھ اگرچہ اتنی سختی کی گئی کہ انھوں عذرات پیش كيے تو ان کے عذرات قبول نہیں كيے گئے۔ حتی کہ ثعلبہ بن حاطب انصاری نے منافقانہ روش اختیار کرنے کے بعد زکوٰۃ پیش کی تو ان کی زکوٰۃ لینے سے انکار کردیاگیا۔ تاہم ان میں سے کسی کو بھی آپ نے قتل نہیں کرایا۔ عبد اللہ بن ابی کے لڑکے عبد اللہ نے اپنے باپ کی منافقانہ حرکت پر سخت کارروائی کرنی چاہی تو آپ نے روک دیا اور فرمایا: انھیں چھوڑ دو، بخدا جب تک وہ ہمارے درمیان ہیں ہم ان کے ساتھ اچھا ہی سلوک کریں گے (دعہ فلعمری لنحسنن صحبتہ ما دام بین اظہرنا) الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد2، صفحہ 50۔
بعد کے زمانہ کے منافقین کے بارے میں بھی یہی حکم ہے۔ تاہم دونوں کے درمیان ایک فرق ہے۔ دور اول کے منافقین سے ان کی حالتِ قلبی کی بنیاد پر معاملہ کیا گیا، مگر بعد کے منافقین سے ان کی حالت ظاہری کی بنیاد پر معاملہ کیا جائے گا۔ان سے اعراض وتغافل کا سلوک صرف اس وقت جائز ہوگا جب کہ ان کے عمل سے ان کی منافقت کا خارجی ثبوت مل رہا ہو۔ ان کی نیت یا ان کی قلبی حالت کی بناپر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ بعد کے لوگ عذر پیش کریں تو ان کا عذر بھی قبول کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ان کے صدقات وغیرہ بھی۔ ان کے انجام کو اللہ کے حوالے کرتے ہوئے ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جو ظاہری قانون کے مطابق کسی کے ساتھ کیا جانا چاہيے۔
جنت کسی کو ذاتی عمل کی بنیاد پر ملتی ہے، نہ کہ مسلمانوں کی جماعت یا گروہ میں شامل ہونے کی بنیاد پر۔ منافقین سب کے سب مسلمانوں کی جماعت میں شامل تھے وہ ان کے ساتھ نماز روزہ کرتے تھے مگر اس کے باوجود ان کے جہنمی ہونے کا اعلان کیاگیا۔
حدیث میں آیا ہے کہ جس نے دیہات میں سکونت اختیار کی وہ سخت مزاج ہوجائے گا (مَنْ سَكَنَ البَادِيَةَ جَفَا) سنن الترمذی، حدیث نمبر 2256۔ شہر کے اندر علمی ماحول ہوتا ہے، تعلیمی ادارے قائم ہوتے ہیں ۔ وہاں علم وفن کا چرچا رہتا ہے۔ جب کہ دیہات…
…اور کبھی دوسری زبان میں۔ کبھی اس کے لیے تمثیل کا پیرایہ اختیار کیا گیا اورکبھی اس کو براہِ راست پیرایہ میں بیان کیا گیا۔ کبھی نازل ہونے کے بعد اس کی حفاظت کی ذمہ داری انسانوں پر ڈالی گئی اور کبھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود خدا نے لے لی۔
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓنے فرمایا کہ کوئی اچھی زمین ہے اور کوئی بنجر زمین۔ ایک اگتی ہے اور اسی کے پاس دوسری نہیں اگتی (أَرْضٌ طَيِّبَةٌ وَأَرْضٌ سَبِخَةٌ، نَبَتَتْ هَذِهِ، وَهَذِهِ إِلَى جَنْبِهَا لَا تَنْبُتُ) البحر المحيط لأبی حيان الأندلسی، جلد6، صفحہ
348
۔مجاہد نے کہا کہ یہی معاملہ بنی آدم کا ہے۔ ان میں اچھے بھی ہیں اور برے بھی، حالانکہ سب کی اصل ایک ہے (كَمَثَلِ بَنِيَ آدَمَ صَالِحِهِمْ وَخَبِيثِهِمْ وَأَبُوهُمْ وَاحِدٌ) حسن بصری نے کہاکہ یہ ایک مثال ہے جو اللہ نے بنی آدم کے دلوں کے لیے دی ہے (هَذَا مَثَلٌ ضَرَبَهُ اللَّهُ تَعَالَى لِقُلُوبِ بَنِي آدَم) تفسیر البغوی، جلد3، صفحہ7۔
زمین میں ایک عجیب نشانی یہ ہے کہ ایک ہی مٹی ہے۔ ایک ہی پانی سے اس کو سیراب کیا جاتا ہے مگر ایک جگہ سے ایک درخت نکلتا ہے اور اسی کے پاس دوسری جگہ سے دوسرا درخت۔ ایک میں میٹھا پھل ہے اور دوسرے میں کھٹا پھل۔ کوئی زیادہ پیداوار دیتاہے اور کوئی کم پیدوار۔
یہ انسانی واقعہ کی زمینی تمثیل ہے۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ اگر چہ تمام انسان بظاہر یکساں ہیں اور ان سب کے پاس ایک ہی ہدایت آتی ہے۔ مگر ہدایت سے استفادہ کے معاملہ میں ایک انسان اور دوسرے انسان میں بہت زیادہ فرق ہوجاتا ہے۔ کوئی اس سے رہنمائی حاصل کرتاہے اور کوئی اس کا منکر بن جاتاہے۔ کوئی تھوڑی ہدایت لیتاہے اورکسی کی زندگی ہدایت سے مالا مال ہوجاتی ہے۔ گویا جیسی زمین ویسی پیداوار کااصول یہاں بھی ہے اور وہاں بھی۔
خدا کے دین کو اختیار کرنے کا انجام عام طورپر آخرت میں سامنے آتا ہے۔ مگر پیغمبر کے مخاطبین اگر پیغمبر کی دعوت کا انکار کردیں تو اس کا برا انجام ان کے لیے موجودہ دنیا ہی سے شروع ہوجاتاہے۔
تاہم اس دنیوی انجام کاکوئی ایک اصول نہیں۔ یہ مختلف…
…کا سرا خداکے ہاتھ میں ہے۔ وہ ہر ایک کے اوپر پورا اختیار رکھتاہے۔ خدا کی اس برتر حیثیت کا ابتدائی ظہور اسی موجودہ دنیا میں ہو رہا ہے۔ اس کا کامل اور انتہائی ظہور آخرت میں ہوگا جب کہ اندھے بھی اس کو دیکھ لیں اور بہرے بھی اس کو سننے لگیں۔
خدا کے دین کو اختیار کرنے کا انجام عام طورپر آخرت میں سامنے آتا ہے۔ مگر پیغمبر کے مخاطبین اگر پیغمبر کی دعوت کا انکار کردیں تو اس کا برا انجام ان کے لیے موجودہ دنیا ہی سے شروع ہوجاتاہے۔
تاہم اس دنیوی انجام کاکوئی ایک اصول نہیں۔ یہ مختلف پیغمبروں کے زمانہ میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا رہا ہے۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص مصالح کی بنا پر خدا کا یہ فیصلہ اس شکل میں ظاہر ہوا کہ پیغمبر کے متبعین کو پیغمبر کے منکرین پر غالب کردیا گیا۔
مکی دور کے آخری زمانہ میں جب کہ مکہ کے سرداروں نے آپ کا انکار کردیا تھا، عین اسی وقت یہ ہورہا تھا کہ اسلام کی دعوت دھیرے دھیرے مدینہ میں اور مکہ کے بیرونی قبائل میں پھیل رہی تھی۔ گویا اسلام کی دعوتی قوت مکہ کے اطراف کو فتح کرتی ہوئی مکہ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ پیغمبر آخر الزماں کے لیے خدا کی سنت دعوتی فتوحات کی صورت میں ظاہر ہوئی۔
یہاں دعوتی تدبیر کو خدائی تدبیر کہاگیا ہے۔ اس سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتاہے۔ قریش نے جب مکہ سے آپ کو نکالا تو انھوںنے یہ سمجھا تھا کہ انھوں نے آپ کا خاتمہ کردیا ہے۔ اس وقت آپ ایک ایسے شخص تھے جس کی معاشیات برباد ہوچکی تھی۔ جس کو خود اپنے قبیلہ کی حمایت سے محروم کردیا گیا تھا۔
قریش یہ سب کرکے اپنے طورپر خوش تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ انھوںنے پیغمبر کے ’’مسئلہ‘‘ کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیا ہے۔ مگر وہ اس راز کو سمجھ نہ سکے کہ داعی کا سب سے بڑا ہتھیار دعوت ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کو کوئی شخص کبھی داعی سے چھین نہیں سکتا۔ داعی کی دوسری محرومیاں اس کے داعیانہ زور کو اور بڑھا دیتی ہیں، وہ کسی طرح اس کو کم نہیں کرتیں۔ چنانچہ عین اس وقت جب کہ قریش اپنے خیال کے مطابق پیغمبر سے اس کا سب کچھ چھین چکے تھے، اس کی دعوت چاروں طرف عرب کے قبائل میں پھیل رہی تھی۔ لوگوں کے دل اس سے مسخر ہوتے جارہے تھے۔ یہ عمل خاموشی کے ساتھ مسلسل جاری تھا۔ اور فتح مکہ گویا اسی کا انتہائی نقطہ تھا — مکہ والوں نے جن لوگوں کو ’’دس سو‘‘ سمجھ کر گھر سے بے گھر کیا تھا وہ صرف چند سال میں ’’دس ہزار‘‘ بن کر دوبارہ مکہ میں اس طرح واپس آئے کہ مکہ والوں کو یہ ہمت بھی نہ تھی کہ ان کو مکہ میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کریں۔
حق کی دعوت سے جن لوگوں کے مفادات پر زد پڑتی ہے وہ اس کو زیر کرنے کے لیے اس کے خلاف تدبیریں کرتے ہیں۔ مگر تمام تدبیروں کا سرا خداکے ہاتھ میں ہے۔ وہ ہر ایک کے اوپر پورا اختیار رکھتاہے۔ خدا کی اس برتر حیثیت کا ابتدائی ظہور اسی موجودہ دنیا میں ہو رہا ہے۔ اس کا کامل اور انتہائی ظہور آخرت میں ہوگا جب کہ اندھے بھی اس کو دیکھ لیں اور بہرے بھی اس کو سننے لگیں۔
خدا کے دین کو اختیار کرنے کا انجام عام طورپر آخرت میں سامنے آتا ہے۔ مگر پیغمبر کے مخاطبین اگر پیغمبر کی دعوت کا انکار کردیں تو اس کا برا انجام ان کے لیے موجودہ دنیا ہی سے شروع ہوجاتاہے۔
تاہم اس دنیوی انجام کاکوئی ایک اصول نہیں۔ یہ مختلف…
…کو کاٹ کر ان کو شاندار گھروں میں تبدیل کردیا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ انھوں نے اپنی حفاظت کا آخری انتظام کرلیا ہے۔ جب انھوں نے خدا کی پکار کو نظر انداز کردیا تو خدا نے حکم دیا اور ان کے عظیم مکانات ان کے لیے عظیم قبروں میں تبدیل ہوگئے۔
پیغمبر کے مخاطبین نے پیغمبر کے اوپر دیوانگی کا شبہ کیا۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ پیغمبر کی دعوت تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ ’’میںخدا کا نمائندہ ہوں۔ جو شخص میری بات مانے گا وہ کامیاب ہوگا اور جو شخص نہیں مانے گا وہ ناکام ہو کر رہ جائے گا‘‘۔مگر یہ مخاطبین عملاً جو کچھ دیکھ رہے تھے وہ اس کے برعکس تھا۔ ان کا اپنا یہ حا ل تھا کہ ان کو رائج الوقت نظام میں سرداری اور پیشوائی کا مقام حاصل تھا۔ دوسری طرف پیغمبر ایک غیر رواجی دین کا داعی ہونے کی وجہ سے مروجہ نظام میں بے حیثیت اور اجنبی بنا ہوا تھا۔ اس فرق کی بنا پر مخاطبین کو یہ کہنے کی جرأت ہوئی کہ تم ہم کو دیوانہ معلوم ہوتے ہو۔ ہر قسم کی دنیوی خوبیاںتو خدا نے ہم کو دے رکھی ہیں اور تم کہتے ہو کہ کامیابی تمھارے لیے ہے اور تمھارا ساتھ دینے والوں کے لیے۔مگر یہ ان کے زاویۂ نظر کا فرق تھا ۔ وہ اپنی چیزوں کو ’’انعام‘‘ کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ حالاں کہ یہ تمام چیزیں صرف ’’آزمائش‘‘ کا سامان ہیں جو موجودہ دنیا میں کسی کو وقتی طورپر دی جاتی ہیں۔
وہ یہ بھی کہتے تھے کہ تمھارے دعوے کے مطابق تمھارے پاس خدا کے فرشتے آتے ہیں تو یہ فرشتے ہمیں کیوں نہیں دکھائی دیتے۔ یہ بھی زاویۂ نظر کے فرق کی بنا پر تھا۔ پیغمبر کے پاس جو فرشتہ آتا ہے وہ وحی کا فرشتہ ہوتا ہے جو خدا کا کلام پیغمبر تک پہنچاتاہے۔ اس کے علاوہ خداکے وہ فرشتے بھی ہیں جو اس لیے آتے ہیں کہ وہ حقیقت کو لوگوں کے سامنے بے نقاب کردیں ۔ مگر وہ دعوت کی تکمیل کے بعد آتے ہیں اورجب وہ آتے ہیں تو یہ فیصلہ کرنے کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ ایمان کی طرف بلانے کا۔
اصحاب ایکہ سے مراد حضرت شعیب کی قوم ہے۔ اس قوم کا اصل نام بنی مدیان تھا۔ یہ لوگ موجودہ تبوک کے علاقہ میں آباد تھے۔ اصحاب حجر سے مراد قوم ثمود ہے جس کی طرف حضرت صالح مبعوث ہوئے۔ یہ علاقہ موجودہ مدینہ کے شمال میں واقع تھا۔
اصحاب ایکہ کی…
…قیامت میں انجام پائے گا۔ شاہ عبد القادر دہلوی لکھتے ہیں— ’’اس جہان میں بہت باتوں کا شبہ رہا۔ کسی نے اللہ کو مانا اور کوئی اس کا منکر رہا تو دوسرا جہان ہونا لازم ہے کہ جھگڑے تحقیق ہوں۔ سچ اور جھوٹ جدا ہو اور مطیع اور منکر اپنا کیا پائیں‘‘۔
اکثر مفسرین نے اس آیت کو ان 80 صحابہ سے متعلق مانا ہے جو مکہ میں مخالفین اسلام کی زیادتیوں کا نشانہ بن رہے تھے اور بالآخر اپنا وطن چھوڑ کر حبش چلے گئے۔ یہ واقعہ ہجرت مدینہ سے پہلے مکی دور میں پیش آیا۔
حق کے معاملہ میں ہمیشہ دو گروہ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو حق کو اتنی اہمیت نہ دیں کہ اس کی خاطر ملی ہوئی چیزوں کو چھوڑیں یا اپنی زندگی کا نقشہ بدلیں۔ دوسرے وہ لوگ جو حق کو اس طرح اختیار کرتے ہیں کہ وہی ان کے نزدیک سب سے اہم چیز بن جاتا ہے۔ وہ اس کی خاطر ہر تکلیف کو سہنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ وہ حق کو اپنا اہم ترین مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ وہ ہر دوسری چیز کو چھوڑ سکتے ہیں مگر حق کو نہیں چھوڑ سکتے۔
ظاہر ہے کہ دونوں قسم کے گروہوں کا انجام یکساں نہیںہوسکتا۔ جن لوگوں نے حق کو اپنی زندگی میں اہم ترین مقام دیا وہ خدا کی ابدی نعمتوں کے مستحق ٹھہریںگے۔ اور جن لوگوں نے حق کو نظر انداز کیا انھیں خدا بھی نظر انداز کردے گا۔ وہ خدا کے یہاں کوئی عزت کا مقام نہیں پاسکتے اور نہ وہ خدا کی نعمتوں میں حصہ دار بن سکتے۔
اکثر مفسرین نے اس آیت کو ان 80 صحابہ سے متعلق مانا ہے جو مکہ میں مخالفین اسلام کی زیادتیوں کا نشانہ بن رہے تھے اور بالآخر اپنا وطن چھوڑ کر حبش چلے گئے۔ یہ واقعہ ہجرت مدینہ سے پہلے مکی دور میں پیش آیا۔
حق کے معاملہ میں ہمیشہ دو گروہ ہوتے…
…کی شخصیت اور آپ کی تعلیمات کے بارے میں کسی کے لیے شبہ کی گنجائش نہ رہے۔ انسان، خود اپنے مسلمہ علمی معیار کے مطابق آپ کی حیثیت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجائے۔ اقرار واعتراف کی آخری صورت تعریف ہے، اس لیے اس کو ’’مقام محمود‘‘ کہاگیا ہے۔
حوادث کے نتیجے میں بنی اسرائیل کے اندر رجوع الی اللہ کی کیفیت پیدا ہوئی تو خدا نے دوبارہ ان کی مدد کی۔ اس بار خدا نے شاہ ایران سائرس (خسرو) کو اٹھایا۔ اس نے
539
ق م میں بابل پر حملہ کیا، اور اس کی حکومت کو شکست دے کر اس کے اوپر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد اس نے یہود پر یہ مہربانی کی کہ ان کو دوبارہ بابل سے ان کے وطن فلسطین جانے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ وہ واپس آئے اور ایک عرصہ کے بعد دوبارہ اپنا عبادت خانہ تعمیر کیا۔
تاہم یہود کی نئی نسل میں دوبارہ وہی بگاڑ پیدا ہونے لگا جو ان کی پچھلی نسل میں پیدا ہوا تھا۔ اس درمیان میں ان کے اندر مختلف اتار چڑھاؤ آئے۔ یہاں تک کہ ان کے درمیان حضرت یحیٰ اور حضرت مسیح اٹھے۔ ان پیغمبروں نے یہود کی روش پر تنقیدیں کیں۔ ان کی اس بے دینی کو کھولا جو وہ دین کے نام پر کررہے تھے۔ مگر یہود اس تنقید وتجزیہ کا اثر قبول کرنے کے بجائے بگڑ گئے۔ حتی کہ انھوںنے حضرت یحییٰ کو قتل کردیا اور حضرت مسیح کو سولی پر چڑھانے کے لیے تیار ہوگئے۔
اب دوبارہ ان پر خدا کا غضب بھڑکا۔ 70 ءمیں رومی بادشاہ تیتس (Titus)اٹھا اور اس نے یروشلم پر حملہ کرکے اس کو بالکل تباہ وبرباد کرڈالا۔
یہود کی تاریخ کے یہ واقعات خود یہود کے نزدیک بھی مسلم ہیں۔ مگر یہود جب ان تاریخی واقعات کا ذکر کرتے ہیں تو وہ ان کو ظالموں کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں۔ مگر قرآن واضح طورپر ان کو خود یہود کے خانہ میںڈال رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سیاسی حالات ہمیشہ اخلاقی حالات کے تابع ہوتے ہیں۔ کوئی ظالم کسی کے اوپر ظلم نہیں کرتا۔ بلکہ قوم کی دینی اور اخلاقی حالت کا بگاڑ لوگوں کو یہ موقع دے دیتاہے کہ وہ اس کو اپنے ظلم و استغلال کا نشانہ بنائیں۔
پیغمبر اسلام کو عرب کے سردار ’’مذموم‘‘ بنا دینا چاہتے تھے۔ مگر اللہ کا فیصلہ تھا کہ آپ کو ’’محمود‘‘ کے مقام تک پہنچایا جائے۔ اس کے لیے کہ اللہ کا منصوبہ یہ تھا کہ مدینہ میںآپ کے لیے موافق حالات پیدا کيے جائیں اور مکہ سے نکال کر آپ کو…
…تھے تو وہ فوراً لوگوں کی عقیدت کا مرکز بن گئے۔ نیا رومی حکمراں تھیوڈوسیس خود ان سے ملنے او ر ان کی برکت لینے کے لیے پیدل چل کر ان کے پاس آیا،اور جب ان نوجوانوں کا انتقال ہوا تو ان کی یاد گار میں ان کے غار کے اوپر عبادت خانہ تعمیر کیاگیا۔
اصحاب کہف کے بارہ میں کچھ لوگ غیر ضروری بحثوں میں مبتلا تھے۔ کسی نے کہا کہ ان کی تعداد تین تھی اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ کسی نے کہا کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ کسی نے کہا کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔
مگر اس قسم کی بحثیں مزاج کی خرابی کی علامت ہیں۔ جب دینی روح زندہ ہو تو سارا زور اصل حقیقت پر دیا جاتا ہے۔ اور جب قوم پر زوال آتا ہے تو اصل روح پس پشت چلی جاتی ہے اور ظاہری تفصیلات بحث و مناظرہ کا موضوع بن جاتی ہیں۔ سچے خدا پرست کو چاہیے کہ وہ ان بحثوں میں نہ پڑے بلکہ اگر کوئی دوسرا شخص اس قسم کے سوالات کرے تو اس کو اجمالی جواب دے کر گزر جائے۔
قریش نے نضر بن حارث اور عقبہ بن معیط کو مدینہ بھیجا کہ وہ یہود سے مل کر محمد کے بارے میں پوچھیں۔ کیوں کہ وہ لوگ نبیوں کا علم رکھتے ہیں۔ دونوں مدینہ آئے اور علماء یہود سے کہا کہ ہم کو ہمارے آدمی کے بارے میں بتاؤ۔ انھوں نے کہا کہ تم لوگ…
…بات آج واقعہ بن چکی ہے ، آج پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبرانہ صداقت پر اتنے دلائل جمع ہوچکے ہیں کہ کوئی ہوش مند آدمی اس سے انکار کی جرأت نہیں کرسکتا ۔ آپ کی نبوت آج ایک ثابت شدہ نبوت ہے، نہ کہ محض مدعیانہ نبوت۔
قریش نے نضر بن حارث اور عقبہ بن معیط کو مدینہ بھیجا کہ وہ یہود سے مل کر محمد کے بارے میں پوچھیں۔ کیوں کہ وہ لوگ نبیوں کا علم رکھتے ہیں۔ دونوں مدینہ آئے اور علماء یہود سے کہا کہ ہم کو ہمارے آدمی کے بارے میں بتاؤ۔ انھوں نے کہا کہ تم لوگ ان سے تین چیزوں کے بارے میں پوچھو۔ اگر وہ تم کو ان کی بابت بتا دیں تو وہ پیغمبر ہیں۔ ورنہ وہ متقول (باتیں بنانے والے ) ہیں۔ ان میں سے ایک سوال اصحابِ کہف کے نوجوانوں کے بارے میں تھا۔ دوسرا ذوالقرنین کے بارے میں اور تیسرا روح کے بارے میں۔
پریس کے دور سے پہلے عام لوگوں کو اصحاب کہف کی بابت کچھ معلوم نہ تھا۔ یہ قصہ بعض سریانی مخطوطات میں درج تھا جس کی خبر صرف چند خاص علماء کو تھی۔ آپ کے سامنے یہ سوال آیا تو آپ نے فرمایا کہ تم نے جو بات پوچھی ہے اس کا جواب میں کل دوں گا (أُخْبِرُكُمْ بِمَا سَأَلْتُمْ عَنْهُ غَدًا)آپ کو امید تھی کہ کل تک جبریل آجائیں گے اور میں ان سے معلوم کرکے جواب دے دوں گا۔ مگر جبریل کے آنے میں تاخیر ہوئی۔ یہاں تک کہ وہ پندرہ دن کے بعد سورہ کہف لے کر آئے(سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ
301
)۔
وحی میں اس تاخیر سے مکہ کے مخالفین کو موقع مل گیا۔ انھوںنے اس کو بنیاد بنا کر لوگوں کو آپ سے بد ظن کرنا شروع کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم ایک معمولی بات کو شوشہ بنا کر جس شخص کی صداقت سے لوگوں کو مشتبہ کرنا چاہتے ہو اس کی صداقت پر اس سے زیادہ یقینی اور اس سے زیادہ بڑی دلیلیں جمع ہونے والی ہیں (ان الله سيؤتيه من الحجج على صحة نبوته ما هو ادلّ من قصة اصحاب الكهف )التفسیر المظہری، جلد 6، صفحہ
27
۔
یہ بات آج واقعہ بن چکی ہے ، آج پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبرانہ صداقت پر اتنے دلائل جمع ہوچکے ہیں کہ کوئی ہوش مند آدمی اس سے انکار کی جرأت نہیں کرسکتا ۔ آپ کی نبوت آج ایک ثابت شدہ نبوت ہے، نہ کہ محض مدعیانہ نبوت۔
قتادہ اور مطرف بن عبد اللہ کی تفسیر کے مطابق 300 سال یا
309
سال لوگوں کے قول کی حکایت ہے، نہ کہ خداکی طرف سے خبر۔ عبد اللہ بن مسعود کی قرأت سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ اس زمانہ کے اہلِ کتاب غیر مستند قصوں کی بنیاد پر یہ سمجھتے تھے کہ…
سورہ نور غزوۂ بنی المصطلق کے بعد 6ہجری میں نازل ہوئی۔ اس غزوہ میں ایک معمولی واقعہ پیش آیا۔ اس کو شوشہ بنا کر مدینہ کے منافقین نے حضرت عائشہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنا شروع کیا۔ اس سورہ میں ایک طرف حضرت عائشہ کی کامل برأت کردی گئی اور دوسری وہ خاص احکام دئے گئے جو معاشرہ میں اس قسم کی صورت حال پیش آنے کے بعد نافذکيے جانے چاہئیں۔
اسلامی قانون میں زنا بے حد سنگین جرم ہے۔ تاہم اسلامی قانون دو قسم کے انسانوں میں فرق کرتاہے۔ ایک وہ جس کے ليے جائز صنفی تعلق کے مواقع موجود ہوں اس کے باوجود وہ ناجائز صنفی تعلق قائم کرے۔ دوسرا وہ جس کو ابھی جائز صنفی تعلق کے مواقع حاصل نہ ہوئے ہوں۔
’’زانی اور زانیہ کو سو کوڑے مارو‘‘— قرآن میں کچھ ایسے قانونی احکام ہیں جو حکومتی معاملات سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً چوری، زنا، شراب خوری، قذَف، قتل، وغیرہ۔ مگر اس قسم کے احکام بہت کم ہیں۔ ان احکام کو وضع کرنے کا مقصد ’’معیار ی سماج‘‘بنانا نہیں ہے بلکہ ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ سماج میں ضروری نظم برقرار رہے
It is just to maintain a necessary level of order in society
عوام کے سامنے سزا دینا دراصل سزا میں عبرت کا پہلو شامل کرناہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ حال کے مجرم کا انجام دیکھ کر مستقبل کے مجرم ڈر جائیں اور اس قسم کا جرم کرنے سے باز رہیں۔زانی اور زانیہ اگر سزا کے بعد توبہ اور اصلاح کرلیں تو وہ دوبارہ عام مسلمانوں کی طرح ہوجائیں گے۔ لیکن اگر وہ توبہ اور اصلاح نہ کریں تو اس کے بعد وہ اس قابل نہیں رہتے کہ اسلام معاشرہ میں وہ رشتہ اور تعلق کے ليے قبول کيے جاسکیں۔
داعی اگر واقعۃ ً سچائی پر ہے تو اس کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے ہمیشہ اس کے حق میں مفید ثابت ہوتے ہیں کیوں کہ جھو ٹے پروپیگنڈوں کی حقیقت آخر کا رکھل کر رہتی ہے۔ اور جب حقیقت کھلتی ہے تو ایک طرف داعی کا برسر حق ہونا اور زیادہ واضح ہوجاتا ہے اور…
…النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ) سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ
291
۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات حکمت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ بڑے بڑے مجرمین کو بھی دنیا میں سزا نہ دی جائے بلکہ ان کے معاملہ کو آخرت کے اوپر چھوڑ دیا جائے۔
داعی اگر واقعۃ ً سچائی پر ہے تو اس کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے ہمیشہ اس کے حق میں مفید ثابت ہوتے ہیں کیوں کہ جھو ٹے پروپیگنڈوں کی حقیقت آخر کا رکھل کر رہتی ہے۔ اور جب حقیقت کھلتی ہے تو ایک طرف داعی کا برسر حق ہونا اور زیادہ واضح ہوجاتا ہے اور جو لوگ اس کے بارے میں مذبذب تھے وہ اس کے بعد یقین کے درجہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ عملاً دیکھ لیتے ہیں کہ داعیٔ حق کے مخالفین کے پاس جھوٹے الزام اور بے بنیاد اتہام کے سوا اور کچھ نہیں۔
حضرت عائشہ ؓصدیقہ کے خلاف الزام میں سب سے بڑا حصہ لینے والا مشہور منافق عبد اللہ بن ابی تھا۔ اس کے ليے قرآن میں سخت اخروی عذاب کا اعلان کیاگیا۔ مگر دنیا میں اس کو کوئی سزا نہیں دی گئی، یہاں تک کہ وہ اپنی طبعی موت مرگیا۔اس واقعہ کے بعد حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اس شخص کو قتل کردیا جائے۔ آپ نے فرمایا اے عمرؓ، کیا ہوگا جب لوگ کہیں گے کہ محمدؐ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں (فَكَيْفَ يَا عُمَرُ إذَا تَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ) سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ
291
۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات حکمت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ بڑے بڑے مجرمین کو بھی دنیا میں سزا نہ دی جائے بلکہ ان کے معاملہ کو آخرت کے اوپر چھوڑ دیا جائے۔
ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا یہ حق ہے کہ وہ اس کے بارے میں ہمیشہ نیک گمان کرے۔ دوسرے کے بارے میں بدگمانی کرنا خود اپنے بد نفسی کا ثبوت ہے۔ اور دوسرے کے بارے میں نیک گمان کرنااپنی نیک نفسی کا ثبوت۔
صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص کسی…
…اس کے نتیجے میں پورا سلامی معاشرہ بد گمانیوں کا شکار ہوجاتا۔ مسلمان دو گروہوں میں بٹ کر آپس میں لڑنے لگتے۔ جس گروہ کے ليے خدا کا منصوبہ یہ تھا کہ اس کے ذریعے سے شرک کا عالمی غلبہ ختم کیا جائے وہ آپس کی جنگ میں خود اپنے آپ کو ختم کرلیتا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت حق کے داعی کی تھی۔ داعی کا معاملہ بے حد نازک معاملہ ہوتا ہے۔ کردار کی ایک غلطی اس کے پورے مشن کو ڈھادینے کے ليے کافی ہوتی ہے۔ایسی حالت میں جن لوگوں نے یہ کیا کہ ایک اسلامی خاتون کے بارے میں ایک بے بنیاد بات سن کر اس کو اِدھر اُدھر بیان کرنے لگے، انھوں نے سخت غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد سے اس الزام کی بروقت تردید نہ ہو گئی ہوتی تو یہ غلطی اسلام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کا سبب بن جاتی۔ اس کے نتیجے میں پورا سلامی معاشرہ بد گمانیوں کا شکار ہوجاتا۔ مسلمان دو گروہوں میں بٹ کر آپس میں لڑنے لگتے۔ جس گروہ کے ليے خدا کا منصوبہ یہ تھا کہ اس کے ذریعے سے شرک کا عالمی غلبہ ختم کیا جائے وہ آپس کی جنگ میں خود اپنے آپ کو ختم کرلیتا۔
اس آیت میں ’’فاحشہ‘‘ کی اشاعت سے مراد اسی چیز کی اشاعت ہے جس کو اوپر آیت نمبر
11
میں اِفک کہا گیا ہے۔ یعنی کسی کے خلاف بے بنیاد الزام وضع کرنا اور اس کو لوگوں کے اندر پھیلانا۔
بات کہنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی صرف وہ بات اپنے منه…
…اگر آپ کسی سے ملنے کے ليے اس کے گھر جائیں، اور صاحب خانہ کسی وجہ سے اس وقت ملاقات سے معذرت کرے تو آپ کو خوش دلی کے ساتھ واپس آجانا چاہیے۔ تاہم وہ اجتماعی مقامات اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جہاں اصولاً لوگوں کے ليے داخلہ کی عام اجازت ہوتی ہے۔
سورہ نور غزوۂ بنی المصطلق کے بعد 6ہجری میں نازل ہوئی۔ اس غزوہ میں ایک معمولی واقعہ پیش آیا۔ اس کو شوشہ بنا کر مدینہ کے منافقین نے حضرت عائشہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنا شروع کیا۔ اس سورہ میں ایک طرف حضرت عائشہ کی کامل برأت کردی گئی اور دوسری وہ خاص احکام دئے گئے جو معاشرہ میں اس قسم کی صورت حال پیش آنے کے بعد نافذکيے جانے چاہئیں۔
اسلامی قانون میں زنا بے حد سنگین جرم ہے۔ تاہم اسلامی قانون دو قسم کے انسانوں میں فرق کرتاہے۔ ایک وہ جس کے ليے جائز صنفی تعلق کے مواقع موجود ہوں اس کے باوجود وہ ناجائز صنفی تعلق قائم کرے۔ دوسرا وہ جس کو ابھی جائز صنفی تعلق کے مواقع حاصل نہ ہوئے ہوں۔
’’زانی اور زانیہ کو سو کوڑے مارو‘‘— قرآن میں کچھ ایسے قانونی احکام ہیں جو حکومتی معاملات سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً چوری، زنا، شراب خوری، قذَف، قتل، وغیرہ۔ مگر اس قسم کے احکام بہت کم ہیں۔ ان احکام کو وضع کرنے کا مقصد ’’معیار ی سماج‘‘بنانا نہیں ہے بلکہ ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ سماج میں ضروری نظم برقرار رہے
It is just to maintain a necessary level of order in society
عوام کے سامنے سزا دینا دراصل سزا میں عبرت کا پہلو شامل کرناہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ حال کے مجرم کا انجام دیکھ کر مستقبل کے مجرم ڈر جائیں اور اس قسم کا جرم کرنے سے باز رہیں۔زانی اور زانیہ اگر سزا کے بعد توبہ اور اصلاح کرلیں تو وہ دوبارہ عام مسلمانوں کی طرح ہوجائیں گے۔ لیکن اگر وہ توبہ اور اصلاح نہ کریں تو اس کے بعد وہ اس قابل نہیں رہتے کہ اسلام معاشرہ میں وہ رشتہ اور تعلق کے ليے قبول کيے جاسکیں۔
عورت اور مرد گھر میں اور معاشرہ میں کس طرح رہیں، اس سلسلہ میں یہاں دو اصولی ہدایتیں دی گئی ہیں۔ ایک ہے ستر کو ڈھانکنا۔ اور دوسرے نگاہ کو نیچی رکھنا۔
مرد کے جسم کا وہ حصہ جو اس کو ہر حال میں چھپائے رکھنا ہے وہ ناف سے لے کر گھٹنے تک ہے۔ یہ…
…اگر اتفاقاً مرد کی نگاہ کسی اجنبی عورت پر پڑ جائے تو وہ فوراً اپنی نظر اس سے ہٹا لے۔ وہ بالقصد دوسری بار اس کی طرف نہ دیکھے۔
غض بصر اور حفاظت فروج کا جو حکم مردوں کے ليے ہے وہی حکم عورتوں کے ليے بھی ہے، جیسا کہ اگلی آیت
31
سے واضح ہے۔
خواتین کے سلسلہ میں اسلام کے احکام دو پہلوؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک وہ جس کا عنوان ستر ہے اور دوسرے وہ جس کا عنوان حجاب ہے۔ ستر کا تعلق جسم کے پردہ سے ہے۔ یعنی عورت خواہ گھر کے اندر ہو یا گھر کے باہر، اس کو اپنے بدن کا کون سا حصہ، کس کے سامنے اور کن حالات میں کھلا رکھنا جائز ہے اور کب کھلا رکھنا جائز نہیں۔
حجاب کا تعلق باہر کے پردہ سے ہے، یعنی اس مسئلہ سے کہ شریعت نے عورت کوکن حالات میں گھر سے باہر نکلنے اور سفر کرنے کی اجازت دی ہے۔ ان آیات میں بنیادی طورپر ستر کا مسئلہ بیان ہوا ہے۔ حجاب کا مسئلہ آگے سورہ احزاب میں ہے۔
’’اے مومنو تم سب اللہ کی طرف رجوع کرو‘‘— یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ احکام شریعت کی تعمیل کے سلسلہ میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ دلوں کے اندر اس کی آمادگی ہو۔ صحابہ اور صحابیات اس معاملہ میں آخری معیاری درجہ پر تھے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ خدا کی قسم میں نے خداکی کتاب کی تصدیق اور اس کے احکام پر ایمان کے معاملہ میں انصار کی عورتوں سے بہتر کسی کو نہیں پایا۔ جب سورہ نور کی آیت (وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ) اتری تو ان کے مرد اپنے گھروں کی طرف لوٹے۔ انھوں نے اپنی عورتوں اور لڑکیوں اور بہنوں کو وہ حکم سنایا جو خدانے ان کے ليے اتارا تھا۔ پس انصار کی عورتوں میں سے ہر عورت فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔ کسی نے اپنی کمر پٹی کھول کر اور کسی نے اپنی چادر لے کر اس کا دوپٹہ بنایا اور اس کو اوڑھ لیا۔ اگلے دن صبح کی نماز انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پڑھی تو دوپٹہ کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا تھا گویا ان کے سروں پر کوّے ہوں (تفسیر ابن ابی حاتم، حدیث نمبر 14406)۔
اسلام مرد اور عورت کے ليے شادی شدہ زندگی پسند کرتا ہے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر نکاح سے رکنا اسلام میں درست نہیں۔ کچھ لوگ کسی ذاتی سبب سے غیر شادی شدہ رہ جائیں تو اس وقت اسلام پورے معاشرہ میں یہ روح دیکھنا چاہتا ہے کہ تمام لوگ اس کو ایک مشترک…
…کراکر وہ رقم حاصل کرتا تھا۔ ان میں سے ایک لونڈی نے اسلام قبول کرلیا اور کسب سے باز آنا چاہا تو عبد اللہ بن ابی نے اس پر جبر کرنا شروع کیا۔ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے یہ لونڈی عبد اللہ بن ابی کے قبضہ سے رہا کرائی گئی۔
اسلام مرد اور عورت کے ليے شادی شدہ زندگی پسند کرتا ہے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر نکاح سے رکنا اسلام میں درست نہیں۔ کچھ لوگ کسی ذاتی سبب سے غیر شادی شدہ رہ جائیں تو اس وقت اسلام پورے معاشرہ میں یہ روح دیکھنا چاہتا ہے کہ تمام لوگ اس کو ایک مشترک مسئلہ سمجھیں اور اس وقت تک مطمئن نہ ہوں جب تک وہ اس مسئلہ کو شرعی طریقوں سے حل نہ کرلیں۔
کتاب یا مکاتبت کے لفظی معنی ہیں لکھنا۔ اس سے مراد وہ تحریر ہے جس میں کوئی لونڈی یا غلام اپنے آقا سے یہ عہد کرے کہ میں اتنی مدت میں اتنا مال کما کر تجھے دے دوں گا اور اس کے بعد سے میں آزاد ہوں گا۔
اسلام جس زمانہ میں آیا اس وقت عرب میں اور ساری دنیا میں غلام بنانے کا رواج تھا۔ اسلام نے نہایت منظم طورپر اس کو ختم کرناشروع کیا۔ اسی میں سے ایک طریقہ وہ تھا جس کو مکاتبت کہاجاتا ہے۔ تاہم اسلام نے فک رقبہ (گردنیں چھڑانے) کی یہ مہم اپنے عام اصول کے مطابق تدریج کے تحت چلائی۔ مختلف طریقوں سے غلاموں اور لونڈیوں کو رہا کیا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ خلافت راشدہ کے آخری دور تک اس ادارہ کا تقریباً خاتمہ ہوگیا۔
قدیم زمانہ میں بعض لوگ اپنی لونڈیوں سے کسب کراتے تھے۔ مدینہ کے منافق عبد اللہ بن ابی کے پاس کئی لونڈیاں تھیں جن سے بدکاری کراکر وہ رقم حاصل کرتا تھا۔ ان میں سے ایک لونڈی نے اسلام قبول کرلیا اور کسب سے باز آنا چاہا تو عبد اللہ بن ابی نے اس پر جبر کرنا شروع کیا۔ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے یہ لونڈی عبد اللہ بن ابی کے قبضہ سے رہا کرائی گئی۔
اسلام مرد اور عورت کے ليے شادی شدہ زندگی پسند کرتا ہے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر نکاح سے رکنا اسلام میں درست نہیں۔ کچھ لوگ کسی ذاتی سبب سے غیر شادی شدہ رہ جائیں تو اس وقت اسلام پورے معاشرہ میں یہ روح دیکھنا چاہتا ہے کہ تمام لوگ اس کو ایک مشترک…
…ِخداوندی ہے اور وہی اس سے مطلوب ہے۔ اسی طرح انسان کی ایک تسبیح ِخداوندی ہے اور وہ اس سے مطلوب ہے۔ انسان اگر اس معاملہ میں غفلت یا سرکشی کا رویہ اختیار کرے تو اس وقت اس کو اس کی سخت قیمت ادا کرنی ہوگی جب خدا کے ساتھ اس کا سامنا پیش آئے گا۔
مکہ کے لوگ اس زمانہ میں عرب کے قائد سمجھے جاتے تھے۔ یہ قیادت ان کے ليے خدا کی ایک نعمت تھی۔ مگر اس سے انھوں نے کبر کی غذا لی۔ چنانچہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے حق کا اعلان ہوا تو انھوںنے اپنی متکبرانہ نفسیات کی بنا پر اس کا انکار کردیا۔
یہ مکہ میں اسلام کا حال تھا۔ مگر باہر کي عوام جو اس قسم کی نفسیاتی پیچیدگیوں میں مبتلا نہ تھي ان کے اندر اسلام کی صداقت پھیلتی جارہی تھی۔ مکہ میں اسلام کو رد کردیا گیا تھا مگر باہر کے قبائل میں اسلام کو اختیار کیا جارہا تھا۔ مدینہ کے باشندوں کے بڑے پیمانے پر قبولِ اسلام نے یہ بات آخری طورپر واضح کردی کہ مکہ كے لوگوں کی قیادت کا دائرہ سمٹتا جارہا ہے۔ یہ ایک کھلی ہوئی تنبیہ تھی۔ مگر جو لوگ بڑائی کی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ کسی بھی تنبیہ سے سبق لینے والے نہیں بنتے۔
مکہ کے لوگ اس زمانہ میں عرب کے قائد سمجھے جاتے تھے۔ یہ قیادت ان کے ليے خدا کی ایک نعمت تھی۔ مگر اس سے انھوں نے کبر کی غذا لی۔ چنانچہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے حق کا اعلان ہوا تو انھوںنے اپنی متکبرانہ نفسیات کی بنا پر اس کا انکار…
…کرسکے۔ اسی خاص کام کے ليے اللہ تعالیٰ نے آدمی کو عقل کی صلاحیت دی ہے۔ جو شخص اس خدائی ٹارچ کو صحیح طورپر استعمال کرے گا وہ راستہ پالے گا۔ اور جو شخص اس کو استعمال نہیں کرے گا اس کے ليے اس دنیا میں بھٹکنے کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔
دنیا کی چیزوں میں بظاہر تعدد ہے۔ اس سے مشرک انسان نے یہ قیاس کیا کہ چیزوں کے خالق بھی متعدد ہیں۔ مگر جب چیزوں کو اس پہلو سے دیکھا جائے کہ ظاہری تعداد اور تنوع کے اندر ایک یکسانیت چھپی ہوئی ہے تو معاملہ بالکل بدل جاتا ہے۔
حیوانات کی لاکھوں قسمیں ہیں۔ مگر گہرا مطالعہ بتاتاہے کہ ان سب کی اصل ایک ہے۔ تمام حیوانات کا حیاتیاتی نظام بالکل یکساں ہے۔ اس مطالعہ کے بعد چیزوں کا تعدد اور تنوع خالق کی قدرت کا کرشمہ بن جاتا ہے۔ ایک اعتبار سے جو چیز تعددِ تخلیق کا اظہار معلوم ہورہی تھی وہ دوسرے اعتبار سے توحید تخلیق کا ثبوت بن جاتی ہے۔
موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں فریب کے درمیان حقیقت کو پانا پڑتا ہے۔ یہاں اپنے آپ کو دھوکا دینے والی باتوں سے اوپر اٹھانا پڑتا ہے۔ تاکہ آدمی حق کا مشاہدہ کرسکے۔ اسی خاص کام کے ليے اللہ تعالیٰ نے آدمی کو عقل کی صلاحیت دی ہے۔ جو شخص اس خدائی ٹارچ کو صحیح طورپر استعمال کرے گا وہ راستہ پالے گا۔ اور جو شخص اس کو استعمال نہیں کرے گا اس کے ليے اس دنیا میں بھٹکنے کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔
قدیم مدینہ میںایک طبقہ وہ تھا جس نے بظاہر اسلام قبول کرلیا تھا مگر وہ اسلام کے معاملہ میں مخلص نہ تھا۔ اس گروہ کو منافق کہاجاتا ہے۔ یہ لوگ زبان سے تو خدا ورسول کی اطاعت کے الفاظ بولتے تھے مگر جب تجربہ پیش آتا تو وہ خود اپنے عمل سے اپنے اس…
…گا۔ اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا تو وہ کہتا کہ فلاں یہودی سردار کے یہاں چلو اور اس سے فیصلہ کرالو۔
یہ بظاہر ہوشیاری ہے مگر یہ خود اپنے اوپر ظلم کرنا ہے۔ اس طرح جیتنے والے آخرت میں اس حال میں پہنچیں گے کہ وہ اپنا مقدمہ بالکل ہارچکے ہوں گے۔
قدیم مدینہ میںایک طبقہ وہ تھا جس نے بظاہر اسلام قبول کرلیا تھا مگر وہ اسلام کے معاملہ میں مخلص نہ تھا۔ اس گروہ کو منافق کہاجاتا ہے۔ یہ لوگ زبان سے تو خدا ورسول کی اطاعت کے الفاظ بولتے تھے مگر جب تجربہ پیش آتا تو وہ خود اپنے عمل سے اپنے اس دعوے کی تردید کردیتے۔
اس وقت صورت حال یہ تھی کہ مدینہ میں باقاعدہ نوعیت کی اسلامی عدالت ابھی قائم نہیں ہوئی تھی۔ وہاں ایک طرف یہودی سردار تھے جو سیکڑوں سال سے رواجی طورپر لوگوں کے فیصلے کرتے چلے آرہے تھے۔ دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے وہاں پہنچ چکے تھے۔ منافقین کا حال یہ تھا کہ اگر کسی مسلمان سے ان کی نزاع ہو جائے اور وہ کہے کہ چلو رسول اللہ کے یہاں اس کا فیصلہ کرالو تو مذکورہ منافق اس کے ليے صرف اس صورت میں راضی ہوتا تھا، جب کہ اس کو یقین ہوتا کہ مقدمے کی نوعیت ایسی ہے کہ فیصلہ اس کے اپنے حق میں ہوجائے گا۔ اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا تو وہ کہتا کہ فلاں یہودی سردار کے یہاں چلو اور اس سے فیصلہ کرالو۔
یہ بظاہر ہوشیاری ہے مگر یہ خود اپنے اوپر ظلم کرنا ہے۔ اس طرح جیتنے والے آخرت میں اس حال میں پہنچیں گے کہ وہ اپنا مقدمہ بالکل ہارچکے ہوں گے۔
زنا کو شدید جرم قرار دینے کا فطری تقاضا یہ ہے کہ کسی غیر زانی پر زنا کا الزام لگانا بھی شدید جرم ہو۔ چنانچہ یہ حکم دیاگیا کہ جو شخص کسی پر زنا کا الزام لگائے اور پھر اس کو شرعی قاعدہ کے مطابق ثابت نہ کرسکے، اس کو اَسّی کوڑے مارے جائیں۔…
…بن کر گھیرے ہوئے ہیں۔ اور صرف اتنی سی دیر ہے کہ موت آئے اور اس کو اس کی بنائی ہوئی دنیا میں ڈال دے۔
انسان کی بہت سی سرکشی صرف اپنی حقیقت سے بے خبری کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اگر اس کی یہ بے خبری ختم ہوجائے تو اچانک وہ بالکل دوسرا انسان بن جائے۔
ہجرت ایک اعتبار سے طریقِ کار کی تبدیلی ہے۔ یہ تبدیلی کبھی مقام عمل بدلنے کی صورت میں ہوتی ہے، جیسے مکہ کو چھوڑ کر مدینہ جانا۔ کبھی میدان عمل بدلنے کی صورت میں ہوتی ہے، جیسے صلح حدیبیہ کے ذریعے جنگ کے میدان سے ہٹ کر دعوت کے میدان میں آنا۔
ان آیات میں مکہ کے اہل ایمان سے کہاگیا کہ مکہ کے لوگ اگر تم کو ستاتے ہیں تو تم مکہ کوچھوڑ کر دوسرے علاقہ میں چلے جاؤ اور وہاں اللہ کی عبادت کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ صبر اور توکل کا مطلب عبادت پر جمنا ہے، نہ کہ دشمن سے ٹکراؤ پر جمنا۔ اگر ہر حال میں دشمن سے ٹکراتے رہنا مقصود ہوتا تو ان سے کہا جاتا کہ مخالفین سے لڑتے رہو اور وہاں سے کسی حال میں قدم باہر نہ نکالو۔
ہجرت ایک اعتبار سے طریقِ کار کی تبدیلی ہے۔ یہ تبدیلی کبھی مقام عمل بدلنے کی صورت میں ہوتی ہے، جیسے مکہ کو چھوڑ کر مدینہ جانا۔ کبھی میدان عمل بدلنے کی صورت میں ہوتی ہے، جیسے صلح حدیبیہ کے ذریعے جنگ کے میدان سے ہٹ کر دعوت کے میدان میں…
…اللہ کی عبادت کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ صبر اور توکل کا مطلب عبادت پر جمنا ہے، نہ کہ دشمن سے ٹکراؤ پر جمنا۔ اگر ہر حال میں دشمن سے ٹکراتے رہنا مقصود ہوتا تو ان سے کہا جاتا کہ مخالفین سے لڑتے رہو اور وہاں سے کسی حال میں قدم باہر نہ نکالو۔
مومن بننا اکثر حالا ت میں زمانہ کے خلاف چلنے کے ہم معنی ہوتاہے۔ یہ اکابر پرستی کے ماحول میں خدا پرست بننا ہے۔ خواہش کو اونچا مقام دینے کے ماحول میں اصول کو اونچا مقام دینا ہے۔ دنیوی مفاد کےلیے جینے کے ماحول میں آخرت کے مفاد کےلیے جینے کا حوصلہ کرنا ہے۔
اس طرح کی زندگی کےلیے سخت مجاہدہ درکار ہے۔ اور اس سخت مجاہدہ پر وہی لوگ قائم رہ سکتے ہیں جو خدا پر کامل یقین رکھتے ہوں۔ جو خدا کی طرف سے ملنے والے انعام ہی کو اپنی امیدوں کا اصل مرکز بنائے ہوئے ہوں۔
ہجرت ایک اعتبار سے طریقِ کار کی تبدیلی ہے۔ یہ تبدیلی کبھی مقام عمل بدلنے کی صورت میں ہوتی ہے، جیسے مکہ کو چھوڑ کر مدینہ جانا۔ کبھی میدان عمل بدلنے کی صورت میں ہوتی ہے، جیسے صلح حدیبیہ کے ذریعے جنگ کے میدان سے ہٹ کر دعوت کے میدان میں…
…یہاں کسی کا فیصلہ امتحان کے بغیر نہیں کیا جاتا۔ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ وہ شدیدحالات پیدا کرتا ہے تاکہ سچے اہل ایمان اور جھوٹے دعوے دار ایک دوسرےسے الگ ہوجائیں۔ اس خدائی قانون میں نہ پہلے کسی کا استثناء تھا اور نہ آئندہ کسی کا استثناء ہوگا۔
رسول اور اصحاب رسول کی زندگیاں قیامت تک کے اہلِ ایمان کےلیے خدا پرستانہ زندگی کا نمونہ ہیں، اس بات کا نمونہ کہ اللہ اور آخرت کی امیدواری کے معنی کیا ہیں۔ اللہ کویاد کرنے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ مشکل حالات میں ثابت قدمی کسے کہتے ہیں۔ خدا کے وعدوں پر بھروسہ کس طرح کیا جاتا ہے۔ اضافہ پذیر ایمان کیا ہے اور وہ کیوں کر حاصل ہوتا ہے۔ خدا سے کيے ہوئے عہد کو پورا کرنے کا طریقہ کیا ہے۔
رسول اور اصحابِ رسول نے ان چیزوں کا آخری نمونہ قائم کردیا۔ شدید ترین حالات میں بھی انھوں نے کوئی کمزوری نہیں دکھائی۔ انھوں نے ہر معاملہ میں اسلامی فکر اور اسلامی کردار کا کامل ثبوت دیا۔ امتحان کا لمحہ آنے سے پہلے بھی وہ حق پر قائم تھے اور امتحان کا لمحہ آنے کے بعد بھی وہ حق پر قائم رہے۔
پھر رسول اور اصحاب رسول کی زندگیاں ہی اس بات کا نمونہ بھی ہیں کہ خدا کے یہاں کسی کا فیصلہ امتحان کے بغیر نہیں کیا جاتا۔ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ وہ شدیدحالات پیدا کرتا ہے تاکہ سچے اہل ایمان اور جھوٹے دعوے دار ایک دوسرےسے الگ ہوجائیں۔ اس خدائی قانون میں نہ پہلے کسی کا استثناء تھا اور نہ آئندہ کسی کا استثناء ہوگا۔
رسول اور اصحاب رسول کی زندگیاں قیامت تک کے اہلِ ایمان کےلیے خدا پرستانہ زندگی کا نمونہ ہیں، اس بات کا نمونہ کہ اللہ اور آخرت کی امیدواری کے معنی کیا ہیں۔ اللہ کویاد کرنے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ مشکل حالات میں ثابت قدمی کسے کہتے ہیں۔ خدا کے…
…حضرت سعد بن معاذ نے وہی فیصلہ کیا جو خود ان کی کتاب تورات میں ایسے مجرمین کےلیے مقرر ہے۔ یعنی بنو قریظہ کے سب جوان قتل کردئے جائیں۔ عورتیں اور لڑکے قیدِ غلامی میں لے ليے جائیں اور ان کے مال اور جائداد کو ضبط کرلیا جائے (استثناء
14: 10-20
)
غزوۂ خندق (احزاب) میں حالات بے حد سخت تھے۔ مگر اس میں باقاعدہ جنگ کی نوبت نہیں آ ئی۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کا طوفان اور فرشتوں کا لشکر بھیج کر دشمنوں کو اس طرح سراسیمہ کیا کہ وہ خود ہی میدان چھوڑ کر چلے گئے۔
مدینہ کے یہود (بنو قریظہ) کا مسلمانوں سے صلح اور امن کا معاہدہ تھا۔ مگر جنگ احزاب کے موقع پر انھوں نے غداری کی۔ وہ معاہدہ کو توڑ کر مشرکین کے ساتھی بن گئے۔ جب حملہ آوروں کا لشکر مدینہ سے واپس چلا گیا تو اللہ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کی بستیوں پر چڑھائی کی۔ اسلامی فوج نے ان کے قلعوں کو گھیر لیا۔
25
دن تک محاصرہ جاری رہا۔ آخر میں خود ان کی درخواست پر سعد بن معاذ حَکَم مقرر ہوئے۔ حضرت سعد بن معاذ نے وہی فیصلہ کیا جو خود ان کی کتاب تورات میں ایسے مجرمین کےلیے مقرر ہے۔ یعنی بنو قریظہ کے سب جوان قتل کردئے جائیں۔ عورتیں اور لڑکے قیدِ غلامی میں لے ليے جائیں اور ان کے مال اور جائداد کو ضبط کرلیا جائے (استثناء
14: 10-20
)
غزوۂ خندق (احزاب) میں حالات بے حد سخت تھے۔ مگر اس میں باقاعدہ جنگ کی نوبت نہیں آ ئی۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کا طوفان اور فرشتوں کا لشکر بھیج کر دشمنوں کو اس طرح سراسیمہ کیا کہ وہ خود ہی میدان چھوڑ کر چلے گئے۔
مدینہ کے یہود (بنو قریظہ) کا…
…صلی اللہ علیہ وسلم کو ستایا وہ اپنے خیال کے مطابق صرف ایک انسان کو ستارہے تھے۔ مگر وہ بھول گئے کہ وہ خدا کے نمائندہ کو ستارہے ہیں۔ اور جو لوگ خدا کے نمائندہ کو ستائیں، انھوں نے مالک کائنات کی نظر میں ہمیشہ کےلیے اپنے آپ کو ملعون بنا لیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں خداکے دین کا اظہار کرنے کےلیے بھیجے گئے۔ اللہ کا جو بندہ اس طرح کے مقدس کام کےلیے اٹھے اس کو خدااور اس کے فرشتوں کی کامل تائید حاصل ہوتی ہے۔ اس کی ہم نوائی کرنا خدا اور اس کے فرشتوں کی ہم نوائی کرنا ہوتاہے۔ اور اس سے اعراض کرنا خدا اور اس کے فرشتوں سے اعراض کرنا ہوتا ہے۔
جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ستایا وہ اپنے خیال کے مطابق صرف ایک انسان کو ستارہے تھے۔ مگر وہ بھول گئے کہ وہ خدا کے نمائندہ کو ستارہے ہیں۔ اور جو لوگ خدا کے نمائندہ کو ستائیں، انھوں نے مالک کائنات کی نظر میں ہمیشہ کےلیے اپنے آپ کو ملعون بنا لیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں خداکے دین کا اظہار کرنے کےلیے بھیجے گئے۔ اللہ کا جو بندہ اس طرح کے مقدس کام کےلیے اٹھے اس کو خدااور اس کے فرشتوں کی کامل تائید حاصل ہوتی ہے۔ اس کی ہم نوائی کرنا خدا اور اس کے فرشتوں کی ہم نوائی کرنا…
…مطلق پروا نہ کرتے ہوئے ان کے دشمنوں کے مددگار بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں ملعون ہیں۔ ملعون ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اس سے چھن جائے۔ وہ آنکھ رکھتے ہوئے بھی نہ دیکھے اور کان رکھتے ہوئے بھی کچھ نہ سنے۔
منافق کی پہچان یہ ہے کہ وہ الفاظ میں سب سے آگے اور عمل میں سب سے پیچھے ہو۔ جہاد سے پہلے وہ جہاد کی باتیں کرے اور جب جہاد واقعۃً پیش آجائے تو وہ اس سے بھاگ کھڑا ہو۔
سچے اہل ایمان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہروقت سننے اور ماننے کے لیے تیار رہے اور جب کسی سخت اقدام کا فیصلہ ہوجائے تو اپنے عمل سے ثابت کردے کہ اس نے خدا کو گواہ بنا کر جو عہد کیا تھا اس عہد میں وہ پورا اترا۔
منافق لوگ جہاد سے بچنے کے لیے بظاہر امن پسندی کی باتیں کرتے ہیں۔ مگر عملاً صورت حال یہ ہے کہ جہاں انہیں موقع ملتا ہے وہ فوراً شر پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ حتی کہ جن مسلمانوں سے ان کی قرابتیں ہیں ان کی مطلق پروا نہ کرتے ہوئے ان کے دشمنوں کے مددگار بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں ملعون ہیں۔ ملعون ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اس سے چھن جائے۔ وہ آنکھ رکھتے ہوئے بھی نہ دیکھے اور کان رکھتے ہوئے بھی کچھ نہ سنے۔
قرآن نصیحت کی کتاب ہے مگر کسی چیز سے نصیحت لینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی نصیحت کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ اگر کوئی غلط جذبہ آدمی کے اندر داخل ہو کر اس کو نصیحت کے بارے میں غیر سنجیدہ بنا دے تو وہ کبھی نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا، خواہ…
6 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں عمرہ ادا کرسکیں۔ آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے مشرکین نے آگے بڑھ کر آپ کو روک دیا اور کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے بعد بات چیت شروع ہوئی جس کے نتیجہ میں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ صلح قرار پایا۔
یہ معاہدہ بظاہر یک طرفہ طور پر مشرکین کی شرائط پر ہوا تھا۔ اصحاب رسول اس سے سخت کبیدہ خاطر تھے۔ وہ اس کو ذلت کی صلح سمجھتے تھے۔ مگر آپ حدیبیہ سے واپس ہو کر ابھی راستہ ہی میں تھے کہ یہ آیت اتری—’’ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی‘‘۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس معاہدہ کے تحت یہ قرار پایا تھا کہ دس سال تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان لڑائی نہیں ہوگی۔ لڑائی کا بند ہونا در اصل دعوت کا دروازہ کھلنے کے ہم معنی تھا۔ ہجرت کے بعد مسلسل جنگی حالات کے نتیجہ میں دعوت کا کام رک گیا تھا۔ اب جنگ بندی نے دونوں فریقوں کے درمیان کھلے تبادلۂ خیال کی فضا پیدا کردی۔
اس طرح اس معاہدہ نے میدانِ مقابلہ کو بدل دیا۔ پہلے دونوں فریقوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں ہوتا تھا جس میں فریق ثانی برتر حیثیت رکھتا تھا۔ اب مقابلہ نظریہ کے میدان میں آگیا۔ اور نظریہ کے میدان میں شرک کے مقابلہ میں توحید کو واضح طور پر برتري حیثیت حاصل تھی۔ یہی اس معاملہ میں ’’سیدھا راستہ‘‘ تھا۔ یعنی وہ راستہ جس نے توحید کے علم برداروں کے لیے فتح کو یقینی بنایا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے…
…دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔
اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔
ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے…
…دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔
اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔
ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے…
…دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔
صلح حدیبیہ سے پہلے یہود مسلمانوں کی دشمنی میں بہت جری تھے۔ کیوں کہ اس سے پہلے انہیں اس معاملہ میں قریش کا پورا تعاون حاصل تھا۔ حدیبیہ میں قریش سے نا جنگ معاہدہ نے یہود کو قریش سے کاٹ دیا۔ اس کے بعد وہ اکیلے رہ گئے۔ اس سے خیبر، تیما، فدک وغیرہ کے یہودیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ چنانچہ صلح کے تین مہینے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر چڑھائی کی تو وہاں کے یہود نے لڑے بھڑے بغیر ہتھیار ڈال دیے اور ان کے کثیر اموال مسلمانوں کو غنیمت میں ملے۔
کمزور ایمان کے لوگ جو حدیبیہ کے سفر کو پر خطر سمجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں گئے تھے، اب انہوں نے چاہا کے وہ یہودیوں کے خلاف کارروائی میں شریک ہوں اور مال غنیمت میں اپنا حصہ حاصل کریں۔ مگر ان کو ساتھ جانے سے روک دیا گیا۔ خدا کا قانون یہ ہے کہ جو خطرہ مول لے وہ نفع حاصل کرے۔ آدمی جب خطرہ مول لیے بغیر حاصل کرنا چاہے تو گویا وہ قانون الٰہی کو بدل دینا چاہتا ہے۔ مگر اس دنیا میں خدا کے قانون کو بدلنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔
جن لوگوں نے حدیبیہ (6 ھ) کے موقع پر کمزوری دکھائی تھی وہ اس کے نتیجہ میں ملنے والے انعام سے تو محروم رہے۔ مگر ان کے لیے دروازہ اب بھی بند نہ تھا۔ کیوں کہ توحید کی مہم کو ابھی دوسرے بڑے بڑے معرکے پیش آنے باقی تھے۔ فرمایا گیا کہ اگر تم نے…
…قریش کو یہود کے محاذ سے الگ کردیا اور اس طرح یہود کو مسخر کرنا آسان ہوگیا۔ جنگی حالات ختم ہونے کی وجہ سے اسلام کی اشاعت بہت تیزی سے بڑھی، یہاں تک کہ خود قریش کو دعوت کی راہ سے مسخر کرلیا گیا جن کو جنگ کی راہ سے مسخرکرنا مشکل بنا ہوا تھا۔
حدیبیہ کے سفر میں ایک موقع پر یہ خبر پھیلی کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کردیا جو ان کے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کے طور پر گئے تھے۔ یہ ایک جارحیت کا معاملہ تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیکر کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے چودہ سو اصحاب سے یہ بیعت لی کہ وہ مر جائیں گے مگر دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ اسلام کی تاریخ میں اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے۔
یہ بیعت جس مقام پر لی گئی وہ مدینہ سے ڈھائی سو میل اور مکہ سے صرف بارہ میل کے فاصلہ پر تھا۔ گویا مسلمان اپنے مرکز سے بہت دور تھے اور قریش اپنے مرکز سے بہت قریب۔ مسلمان عمرہ کی نیت سے نکلے تھے۔ اس لیے ان کے پاس محض سفری سامان تھا جب کہ قریش ہر قسم کے جنگی سامان سے مسلح تھے۔ ایسے نازک موقع پر یہ صرف لوگوں کا جذبہ اخلاص تھا جس نے انہیں آمادہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ دیں۔ کیوںکہ کوئی ظاہری دباؤ وہاں سرے سے موجود ہی نہ تھا۔
’’اللہ نے ان کے دلوں کا حال جانا اور سکینت نازل فرمائی‘‘— اس سے مراد وہ رنج و اضطراب ہے جو حدیبیہ کی بظاہر یک طرفہ صلح سے صحابہ کے دلوں میں پیدا ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے خدا کے اس حکم کو صبروسکون کے ساتھ قبول کرلیا۔ اس کے نتیجہ میں چند ماہ بعد ہی اس کے فائدے ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ اس معاہدہ نے قریش کو یہود کے محاذ سے الگ کردیا اور اس طرح یہود کو مسخر کرنا آسان ہوگیا۔ جنگی حالات ختم ہونے کی وجہ سے اسلام کی اشاعت بہت تیزی سے بڑھی، یہاں تک کہ خود قریش کو دعوت کی راہ سے مسخر کرلیا گیا جن کو جنگ کی راہ سے مسخرکرنا مشکل بنا ہوا تھا۔
6 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں عمرہ ادا کرسکیں۔ آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے مشرکین نے آگے بڑھ کر آپ کو روک دیا اور کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے…
…رکھتا تھا۔ اب مقابلہ نظریہ کے میدان میں آگیا۔ اور نظریہ کے میدان میں شرک کے مقابلہ میں توحید کو واضح طور پر برتري حیثیت حاصل تھی۔ یہی اس معاملہ میں ’’سیدھا راستہ‘‘ تھا۔ یعنی وہ راستہ جس نے توحید کے علم برداروں کے لیے فتح کو یقینی بنایا۔
حدیبیہ کے سفر میں ایک موقع پر یہ خبر پھیلی کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کردیا جو ان کے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کے طور پر گئے تھے۔ یہ ایک جارحیت کا معاملہ تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیکر کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے چودہ سو اصحاب سے یہ بیعت لی کہ وہ مر جائیں گے مگر دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ اسلام کی تاریخ میں اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے۔
یہ بیعت جس مقام پر لی گئی وہ مدینہ سے ڈھائی سو میل اور مکہ سے صرف بارہ میل کے فاصلہ پر تھا۔ گویا مسلمان اپنے مرکز سے بہت دور تھے اور قریش اپنے مرکز سے بہت قریب۔ مسلمان عمرہ کی نیت سے نکلے تھے۔ اس لیے ان کے پاس محض سفری سامان تھا جب کہ قریش ہر قسم کے جنگی سامان سے مسلح تھے۔ ایسے نازک موقع پر یہ صرف لوگوں کا جذبہ اخلاص تھا جس نے انہیں آمادہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ دیں۔ کیوںکہ کوئی ظاہری دباؤ وہاں سرے سے موجود ہی نہ تھا۔
’’اللہ نے ان کے دلوں کا حال جانا اور سکینت نازل فرمائی‘‘— اس سے مراد وہ رنج و اضطراب ہے جو حدیبیہ کی بظاہر یک طرفہ صلح سے صحابہ کے دلوں میں پیدا ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے خدا کے اس حکم کو صبروسکون کے ساتھ قبول کرلیا۔ اس کے نتیجہ میں چند ماہ بعد ہی اس کے فائدے ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ اس معاہدہ نے قریش کو یہود کے محاذ سے الگ کردیا اور اس طرح یہود کو مسخر کرنا آسان ہوگیا۔ جنگی حالات ختم ہونے کی وجہ سے اسلام کی اشاعت بہت تیزی سے بڑھی، یہاں تک کہ خود قریش کو دعوت کی راہ سے مسخر کرلیا گیا جن کو جنگ کی راہ سے مسخرکرنا مشکل بنا ہوا تھا۔
حدیبیہ کے سفر میں ایک موقع پر یہ خبر پھیلی کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کردیا جو ان کے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کے طور پر گئے تھے۔ یہ ایک جارحیت کا معاملہ تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیکر کے ایک درخت کے…
…ضد اور اور قومی عصبیت کا زبردست مظاہرہ کیا۔ مگر صحابہ ہر چیز کو خدا کے خانہ میں ڈالتے چلے گئے۔ ان کے متقیانہ مزاج نے ان کو اس سخت امتحان میں جوابی ضد اور جوابی عصبیت سے بچایا۔ وہ مسلسل اشتعال انگیزی کے باوجود آخر وقت تک مشتعل نہیں ہوئے۔
حدیبیہ کا سفر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خواب پر ہوا تھا۔ آپ نے مدینہ میں خواب دیکھا کہ آپ مکہ پہنچ کر عمرہ ادا فرما رہے ہیں۔ اس خواب کو لوگوں نے خدا کی بشارت سمجھا اور مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر حدیبیہ میں قریش نے روکا اور بالآخر عمرہ ادا کیے بغیر لوگوں کو واپس آنا پڑا۔ اس سے بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ کیا پیغمبر کا خواب سچا نہ تھا۔ مگر یہ محض شبہ تھا۔ کیونکہ خواب میں یہ صراحت نہ تھی کہ عمرہ اسی سال ہوگا۔ چنانچہ خود معاہدہ کی شرائط کے مطابق اگلے سال ذوالقعدہ 7 ھ میں یہ عمرہ پورے امن و امان کے ساتھ ادا کیا گیا۔ اس عمرہ کو اسلامی تاریخ میں عمرۃ القضاء کہا جاتا ہے۔
اس سال عمرہ کا التوا ایک عظیم مصلحت کی قیمت پر ہوا تھا۔ یہ مصلحت کہ اس کے ذریعہ قریش سے دس سال کا ناجنگ معاہدہ طے پایا اور نتیجۃً دعوت کے کام کے لیے موافق فضا پیدا ہوئی۔ یہ خود ایک فتح تھی۔ کیوں کہ اس کے ذریعہ سے علم بردارانِ شرک کے اوپر آخری اور کلی فتح کا دروازہ کھلا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو حیثیتیں تھیں۔ ایک یہ کہ آپ پیغمبر تھے اور دوسرے یہ کہ آپ پیغمبر آخر الزماں تھے۔ آپ کے بعد کوئی اور پیغمبر آنے والا نہیں۔ پہلی حیثیت کے اعتبار سے آپ کو بھی وہی کام کرنا تھا جو تمام پیغمبروں نے کیا،…
…مکہ سے شروع ہوگی۔ پھر وہ بڑھتے بڑھتے ایک طاقتور درخت بن جائے گی۔ یہاں تک کہ اس کا استحکام اس درجہ کو پہنچ جائے گا کہ اہل حق اس کو دیکھ کر خوش ہوں گے اور اہل باطل غصه و حسد میں مبتلا ہوں گے کہ وہ چاہنے کے باوجود اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔
6 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں عمرہ ادا کرسکیں۔ آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے مشرکین نے آگے بڑھ کر آپ کو روک دیا اور کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے بعد بات چیت شروع ہوئی جس کے نتیجہ میں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ صلح قرار پایا۔
یہ معاہدہ بظاہر یک طرفہ طور پر مشرکین کی شرائط پر ہوا تھا۔ اصحاب رسول اس سے سخت کبیدہ خاطر تھے۔ وہ اس کو ذلت کی صلح سمجھتے تھے۔ مگر آپ حدیبیہ سے واپس ہو کر ابھی راستہ ہی میں تھے کہ یہ آیت اتری—’’ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی‘‘۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس معاہدہ کے تحت یہ قرار پایا تھا کہ دس سال تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان لڑائی نہیں ہوگی۔ لڑائی کا بند ہونا در اصل دعوت کا دروازہ کھلنے کے ہم معنی تھا۔ ہجرت کے بعد مسلسل جنگی حالات کے نتیجہ میں دعوت کا کام رک گیا تھا۔ اب جنگ بندی نے دونوں فریقوں کے درمیان کھلے تبادلۂ خیال کی فضا پیدا کردی۔
اس طرح اس معاہدہ نے میدانِ مقابلہ کو بدل دیا۔ پہلے دونوں فریقوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں ہوتا تھا جس میں فریق ثانی برتر حیثیت رکھتا تھا۔ اب مقابلہ نظریہ کے میدان میں آگیا۔ اور نظریہ کے میدان میں شرک کے مقابلہ میں توحید کو واضح طور پر برتري حیثیت حاصل تھی۔ یہی اس معاملہ میں ’’سیدھا راستہ‘‘ تھا۔ یعنی وہ راستہ جس نے توحید کے علم برداروں کے لیے فتح کو یقینی بنایا۔
یہاں’’سکینت‘‘ سے مراد اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا ہے۔ حدیبیہ کے سفر میں مخالفین اسلام نے طرح طرح سے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تاکہ وہ مشتعل ہو کر کوئی ایسی کارروائی کریں جس کے بعد ان کے خلاف جارحیت کا جواز مل جائے۔ مگر مسلمان…
…دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔
اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔
ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔
…تابعداری رسول کی زندگی میں رسول کی ذات کے ساتھ مطلوب ہوتی تھی۔
اللہ کا ڈر آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے۔ کسی کے دل میں اگر واقعۃً اللہ کا ڈر پیدا ہوجائے تو وہ خود اپنے مزاج کے تحت وہ باتیں جان لے گا جس کو دوسرے لوگ بتانے کے بعد بھی نہیں جانتے۔
اطراف مدینہ کے بدوی قبائل شعوری اعتبار سے زیادہ پختہ نہ تھے۔ ان کے سرداروں کا حال یہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آتے تو آپ کو مخاطب کرتے ہوئے یا رسول اللہ کہنے کے بجائے یا محمد کہتے۔ ان کی گفتگو متواضعانہ نہ ہوتی بلکہ متکبرانہ ہوتی۔ اس سے انہیں منع کیا گیا۔ رسول دنیا میں خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کے سامنے اس طرح کی ناشائستگی خدا کے سامنے ناشائستگی ہے، جو کہ آدمی کو بالکل بے قیمت بنا دینے والی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی لائی ہوئی ہدایت دنیا میں آپ کی قائم مقام ہے۔ اب اس مقدس ہدایت کے ساتھ وہی تابعداری مطلوب ہے جو تابعداری رسول کی زندگی میں رسول کی ذات کے ساتھ مطلوب ہوتی تھی۔
اللہ کا ڈر آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے۔ کسی کے دل میں اگر واقعۃً اللہ کا ڈر پیدا ہوجائے تو وہ خود اپنے مزاج کے تحت وہ باتیں جان لے گا جس کو دوسرے لوگ بتانے کے بعد بھی نہیں جانتے۔
اطراف مدینہ کے بدوی قبائل شعوری اعتبار سے زیادہ پختہ نہ تھے۔ ان کے سرداروں کا حال یہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آتے تو آپ کو مخاطب کرتے ہوئے یا رسول اللہ کہنے کے بجائے یا محمد کہتے۔ ان کی گفتگو متواضعانہ نہ ہوتی…
…کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ…
…کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔
دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔
دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا…
اسلام سے پہلے عرب میں رواج تھا کہ کوئی مرد اگر اپنی بیوی سے کہہ دیتا کہ أنتِ عليَّ كظَهْر أمِّي (تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ) تو وہ عورت ہمیشہ کے لیے اس مرد پر حرام ہوجاتی۔ اس کو ظہار کہا جاتا تھا۔ مدینہ کے ایک مسلمان اوس بن صامت انصاری نے اپنی بیوی خولہ بنت ثعلبہ کو ایک بار یہی لفظ کہہ دیا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور واقعہ بتایا۔ آپ نے قدیم رواج کے اعتبار سے فرما دیا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ تم اس پر حرام ہوگئی ہو۔ خولہ کو پریشانی ہوئی کہ میرا گھر اور میرے بچے برباد ہوجائیں گے۔ وہ فریاد و زاری کرنے لگیں۔ اس پر یہ آیتیں اتریں اور بتایا گیا کہ ظہار کے بارے میں اسلامی حکم کیا ہے۔
مجلس کے آداب کے تحت کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو پیچھے کرکے دوسرے شخص کو آگے بٹھایا جاتا ہے۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کی امید کے خلاف کہہ دیا جاتا ہے کہ اب آپ لوگ تشریف لے جائیں۔ ایسی باتوں کو عزت کا سوال بنانا شعوری پستی…
…سے ملنے کا ارادہ کرو تو پہلے اللہ کے نام پر کچھ صدقہ کرو۔ اور اگر اس کی قدرت نہ ہوتو کوئی دوسری نیکی کرو۔
یہ حکم اگر چہ اصلاً رسول کے ليے مطلوب تھا۔ مگر رسول کے بعد بھی امت کے رہنماؤں کے حق میں وہ حالات کے اعتبار سے درجہ بدرجہ مطلوب ہوگا۔
مدینہ کے منافقین اسلام کی جماعت میں شامل تھے۔ اسی کے ساتھ وہ یہود سے بھی ملے ہوئے تھے۔ یہی ہمیشہ ان لوگوں کا حال ہوتا ہے، جو حق کو پوری یکسوئی کے ساتھ اختیار نہ کرسکیں۔ ایسے لوگ بظاہر سب سے ملے ہوئے ہوتے ہیں مگر حقیقۃً وہ صرف اپنے مفاد کے وفادار ہوتے ہیں۔ خواہ وہ قسمیں کھا کر اپنے حق پرست ہونے کا یقین دلا رہے ہوں۔
مدینہ کے منافقین اسلام کی جماعت میں شامل تھے۔ اسی کے ساتھ وہ یہود سے بھی ملے ہوئے تھے۔ یہی ہمیشہ ان لوگوں کا حال ہوتا ہے، جو حق کو پوری یکسوئی کے ساتھ اختیار نہ کرسکیں۔ ایسے لوگ بظاہر سب سے ملے ہوئے ہوتے ہیں مگر حقیقۃً وہ صرف اپنے مفاد کے…
مدینہ کے مشرق میں یہودی قبیلہ بنو نضیر کی آبادی تھی۔ ان کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صلح کا معاہدہ تھا۔ مگر انہوں نے بار بار عہد شکنی کی۔ آخر کار 4 ھ میں اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کیے کہ مسلمانوں نے ان کو مدینہ سے نکلنے پر مجبور کردیا۔ اس کے بعد وہ خیبر اور شام كے علاقے میں جا کر آباد ہوگئے۔ مگر ان کی سازشی سرگرمیاں جاري رہیں۔ یہاں تک کہ حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانہ میں وہ اور دوسرے یہودی قبائل جزیرهٔ عرب سے نکلنے پر مجبور کردیے گئے۔ اس کے بعد وہ لوگ شام میں جا کر آباد ہوئے۔
’’اللہ ان پر وہاں سے پہنچا جہاں ان کو گمان بھی نہ تھا‘‘ کی تشریح اگلے فقرہ میں موجود ہے۔ یعنی اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ انہوں نے بیرونی طور پر ہر قسم کی تیاریاں کیں۔ مگر جب مسلمانوں کی فوج نے ان کی آبادی کو گھیر لیا تو ساری طاقت کے باوجود ان پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ انہوں نے لڑنے کا حوصلہ کھودیا۔ اور بلا مقابلہ ہتھیار ڈال دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کی جلا وطنی کا اعلان کیا تو منافقین ان کی حمایت پر آگئے۔ انہوں نے بنونضیر سے کہا کہ تم اپنی جگہ جمے رہو، ہم ہر طرح تمہاری مدد کریں گے۔ مگر منافقین کی یہ باتیں محض ان کو مسلمانوں کے خلاف اکسانے کے…
…ان کی بے شعوری انہیں ان کی دنیا کے بارے میں بھی بے شعور بنا دیتی ہے۔
ایسے لوگ جن کو صرف منفی مقصد نے متحد کیا ہو وہ زیادہ دیر تک اپنا اتحاد باقی نہیں رکھ پاتے کیونکہ دیرپا اتحاد کے لیے مثبت بنیاد درکار ہے اور وہ ان کے پاس موجود ہی نہیں۔
خدا کی طاقت بظاہر دکھائی نہیں دیتی۔ مگر انسانوں کی طاقت کھلی آنکھ سے نظر آتی ہے۔ اس بنا پر ظاہر پرست لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ سے تو بے خوف رہتے ہیں مگر انسانوں میں اگر کوئی زور آور دکھائی دے تو وہ فوراً اس سے ڈرنے کی ضرورت محسوس کرنے لگتے ہیں۔ خدا کے بارے میں ان کی بے شعوری انہیں ان کی دنیا کے بارے میں بھی بے شعور بنا دیتی ہے۔
ایسے لوگ جن کو صرف منفی مقصد نے متحد کیا ہو وہ زیادہ دیر تک اپنا اتحاد باقی نہیں رکھ پاتے کیونکہ دیرپا اتحاد کے لیے مثبت بنیاد درکار ہے اور وہ ان کے پاس موجود ہی نہیں۔
مدینہ کے منافقین بنو نضیر کو مسلمانوں کے خلاف ابھار رہے تھے۔ انہوں نے اس واقعہ سے سبق نہیں لیا کہ جلد ہی پہلے قریش اور قبیلہ بنو قینقاع ان کے خلاف اٹھے۔ مگر ان کو زبردست شکست ہوئی۔ جو لوگ شیطان کو اپنا مشیر بنائیں ان کا حال ہمیشہ یہی ہوتا…
…رہ جائے گی۔ اس معاملہ میں مسلمان اور غیر مسلمان کا کوئی فرق نہیں۔ مسلمانوں کو اس کا فائدہ اسی وقت ملے گا جب کہ واقعۃً وہ اس پر قائم ہوں۔ مسلمان اگر غفلت میں پڑجائیں تو ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو اس سے پہلے غفلت میں پڑنے والے یہود کا ہوا۔
انسانی زندگی کو ’’آج‘‘ اور ’’کل‘‘ کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے۔ موجودہ دنیا انسان کا آج ہے اور آخرت کی دنیا اس کا کل ہے۔ انسان موجودہ دنیا میں جو کچھ کرے گا اس کا لازمی انجام اس کو آنے والی طویل تر زندگی میں بھگتنا پڑے گا۔
یہی اصل حقیقت ہے اور اسی حقیقت کا دوسرا نام اسلام ہے۔ انسان کی کامیابی اس میں ہے کہ وہ اس حقیقتِ واقعی کو ہمیشہ ذہن میں رکھے۔ جو شخص اس حقیقت واقعی سے غافل ہوجائے اس کی پوری زندگی غلط ہو کر رہ جائے گی۔ اس معاملہ میں مسلمان اور غیر مسلمان کا کوئی فرق نہیں۔ مسلمانوں کو اس کا فائدہ اسی وقت ملے گا جب کہ واقعۃً وہ اس پر قائم ہوں۔ مسلمان اگر غفلت میں پڑجائیں تو ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو اس سے پہلے غفلت میں پڑنے والے یہود کا ہوا۔
مدینہ کے مشرق میں یہودی قبیلہ بنو نضیر کی آبادی تھی۔ ان کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صلح کا معاہدہ تھا۔ مگر انہوں نے بار بار عہد شکنی کی۔ آخر کار 4 ھ میں اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کیے کہ مسلمانوں نے ان کو مدینہ سے…
…طبقہ میں محدود ہو کر نہ رہ جائے۔ بلکہ وہ ہر طبقہ کے درمیان پہنچے۔ اسلام میں معاشی جبر نہیں ہے۔ تاہم اس کے معاشی قوانین اس طرح بنائے گئے ہیں کہ دولت سمٹ کر چند لوگوں میں محدود نہ ہوجائے، بلکہ وہ ہر سوسائٹي کے تمام لوگوں میں گردش کرتی رہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کی جلا وطنی کا اعلان کیا تو منافقین ان کی حمایت پر آگئے۔ انہوں نے بنونضیر سے کہا کہ تم اپنی جگہ جمے رہو، ہم ہر طرح تمہاری مدد کریں گے۔ مگر منافقین کی یہ باتیں محض ان کو مسلمانوں کے خلاف اکسانے کے لیے تھیں۔ وہ اس پیشکش میں ہرگز مخلص نہ تھے۔ چنانچہ جب مسلمانوں نے بنو نضیر کو گھیر لیا تو منافقین میں سے کوئی بھی ان کی مدد پر نہ آیا — مفاد پرست گروہ کا ہر زمانہ میں یہی کردار رہا ہے۔
…بھرے درخت حقیقۃً صرف سوکھی لکڑیاں ہوتے ہیں جن میں کوئی زندگی نہ ہو۔ وہ اندر سے بزدل ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک ان کا دنیوی مفاد ہر دینی مفاد سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ ایسے لوگ ایمان کے بلند بانگ مدعی ہونے کے باوجود خدا کی ہدایت سے یکسر محروم ہیں۔
قدیم مدینہ میں دو قسم کے مسلمان تھے۔ ایک مہاجر اور دوسرے انصار۔ مہاجرین مکہ سے بے وطن ہو کر آئے تھے۔ ان کا سب سے بڑا ظاہری سہارا مقامی مسلمان (انصار) تھے۔ اس بنا پر دنیا پرست لوگوں کو مہاجر بے عزت دکھائی دیتے تھے اور انصار ان کی نظر میں باعزت لوگ تھے۔ حتی کہ ایک موقع پر عبداللہ بن ابی نے صاف طور پر کہہ دیا کہ ان مہاجرین کی حقیقت کیا ہے۔ اگر ہم ان کو اپنی بستی سے نکال دیں تو دنیا میں کہیں ان کو ٹھکانا نہ ملے۔
اس قسم کے الفاظ اسی شخص کی زبان سے نکل سکتے ہیں جو اس حقیقت سے بے خبر ہو کہ اس دنیا میں جو کچھ ہے سب اللہ کا ہے۔ وہی جس کو چاہے دے اور وہی جس سے چاہے چھین لے۔
قدیم مدینہ میں دو قسم کے مسلمان تھے۔ ایک مہاجر اور دوسرے انصار۔ مہاجرین مکہ سے بے وطن ہو کر آئے تھے۔ ان کا سب سے بڑا ظاہری سہارا مقامی مسلمان (انصار) تھے۔ اس بنا پر دنیا پرست لوگوں کو مہاجر بے عزت دکھائی دیتے تھے اور انصار ان کی نظر میں…
تمہید
وطن سے محبت ایک گہرا انسانی جذبہ ہے — ایسا جذبہ جو عقیدے، ثقافت اور جغرافیے کی سرحدوں سے بالاتر ہے۔ یہ اس قدرتی رشتے کی عکاسی کرتا ہے جو انسان اور اس سرزمین کے درمیان قائم ہوتا ہے جہاں وہ پیدا ہوتا ہے، پرورش پاتا ہے، اور جس سے اس کی شخصیت تشکیل پاتی ہے۔ یہ تعلق صرف زمین سے نہیں بلکہ یادوں، زبان، روایات اور اجتماعی تجربے سے جُڑا ہوتا ہے۔ وطن سے محبت محض ایک جذباتی وابستگی نہیں، بلکہ شہری شعور اور اخلاقی بیداری کا مظہر بھی ہے۔
تاریخ میں انسان نے اپنی شناخت، طاقت اور تعلق کا سرچشمہ اپنی جائے پیدائش سے حاصل کیا ہے۔ وطن سے محبت کا مطلب ہے اس کی فلاح و بہبود کا خیال رکھنا، اس کے امن و ترقی کی خواہش رکھنا، اور اس کے مستقبل کی تعمیر میں سرگرم کردار ادا کرنا۔ اس محبت…
اسی طرح حدیث کی کتابوں میں آتا ہے کہ جب آپ ﷺ سفر سے واپس آتے، اورمدینہ کی دیواروں کو دیکھتے تو مدینہ کی محبت کے تحت (مِنْ حُبِّهَا)اپنی سواری تیز فرما دیتے (صحیح بخاری، حدیث نمبر 1886)۔
صرف وطن سے نہیں، بلکہ وطن سے تعلق رکھنے والی چیزوں سے بھی محبت ہونی چاہیے۔ جیسا کہ احد کا پہاڑ مدینہ کے لیے قدرتی ڈھال کا کام کرتا تھا، آپ ﷺ نےاُحد پہاڑ کے لیے فرمایا: هٰذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 2889)۔ یعنی، یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔
ایسی روایات وطن سے جُڑے گہرے جذبات اور اخلاقی اقدار کو نمایاں کرتی ہیں۔ شارحینِ حدیث نے بھی ان کی اہمیت پر زور دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ احادیث وطن سے محبت اور تعلق کو جائز قرار دینے کی دلیل ہیں(عمدۃ القاری للعینی، جلد 10، صفحہ 135؛…
مگر يه تشريح درست نهيں۔ اس سلسله ميں يهاں ميں چند باتيں عرض كروں گا۔ فقه كا ايك مستقل اصول يه هے كه چيزوں كا اصل ان كا مباح هونا هے (الأَصْل فِي الْأَشْيَاء الْإِبَاحَة)
Everything is lawful unless it is declared unlawful.
يه ايك واضح بات هے كه اس مسئله كے بارے ميں قرآن وحديث ميں كوئي براهِ راست هدايت موجود نهيں۔ قرآن وحديث ميں نه يه كها گياهے كه قوميت كي بنياد مذهب پر هے، اور نه يه كه اس كي بنياد وطن پر هے۔ اس ليے اس معامله كو ان امور سے متعلق سمجھا جائے…
قومیت کی بنیاد وطن
ڈاکٹر مبارک علی پاکستان کے ایک اعلی تعلیم یافتہ آدمی ہیں۔ انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ آج کل مسلم امہ کا لفظ جس عالمی معنی میں بولاجاتا ہے وہ اس سے پہلے کبھی اسلامی دور میں موجود نہ تھا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مسلم امہ ایک مفروضہ ہے جس کا حقیقی تصور نہ پہلے تھا ، نہ اب ہے۔ مسلمانوں کی جو بڑی بڑی سلطنتیں بنی ہیں وہ بھی ذو معنی رہی ہیں مثلاً عثمانی ایمپائر کے دوران ارمنین ایک الگ ملت تھی اور اسے ملت ہی بولا جاتاتھا اور ملت کا لفظ بالعموم چھوٹی اقوام کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مسلمانوں میں قومی ریاستوں کا وجود بہت شروع سے رہا ہے۔ تمام مسلمہ اقوام کی شناخت الگ الگ علاقائی لسانی بنیادوں پر یا نسلی بنیادوں پر قائم رہی ہے۔ کیوں کہ اسلام مذہب ہے قوم نہیں۔ میثاق مدینہ میں بھی یہ چیز صاف طور پر دیکھی جاسکتی ہے، جب یہود بھی مسلم امہ میں شامل تھے۔ یہ تصور وقت اور حالات کی مطابقت میں ڈھلتا رہا ہے۔ لہذا میری نظر میں ہمارے بین الاقوامی معاملات اور تعلقات انسانی بنیادوں پر ہونے چاہیئں۔ (سنڈے میگزین18مئی2003)
رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئےاور پہلی اسلامی اسٹیٹ بنائی تو اس وقت وہاں کچھ یہودی قبیلے بھی آباد تھے، اس وقت آپ نے ایک ڈکلیریشن جاری کیا جس کو عام طور پر میثاق مدینہ کہا جاتا ہے۔ اس میثاق میں آپ نے لکھا…
رسول اللہ کی وطن سے محبت
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجبورانہ طور پر مکّہ سے ہجرت کرکے مدینہ جانے لگے تو اُس وقت آپ نے مکّہ کی طرف دیکھ کرفرمایا: اے مکہ، تو مجھے دنیا بھر میں سب سے زیادہ عزیز ہے۔ مگر تیرے باشندے مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے(وَاللَّهِ إِنَّكِ، لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَيَّ، وَاللَّهِ لَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ، مَا خَرَجْتُ) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3108۔ بعد کو جب مکہ فتح ہوا تو آپ کے لیے پورا موقع تھا کہ آپ مکہ کو دوبارہ اپنی قیام گاہ بنالیں۔ مگر آپ مدینہ واپس چلے گئے اور آخر عمر تک وہیں رہے۔ حتیٰ کہ آپ کی وفات کے بعد مدینہ ہی میں آپ کی قبر بنائی گئی۔
اس سے معلوم ہوا کہ مکہ کے بارے میں آپ کا مذکورہ جملہ شرعی نوعیت کا جملہ نہ تھا۔ اگر اس کی حیثیت شرعی ہوتی تو یقیناً آپ فتح کے بعد مکہ میں رہ جاتے۔ مگر مکہ پر قبضہ کے باوجود آپ کا مدینہ چلے جانا ثابت کرتا ہے کہ یہ جملہ شرعی نہ تھا، بلکہ…
21 جنوری 1985
پروفیسر اقبال عظیم بینائی سے محروم ادیب ، شاعرتھے۔ان كي پيدائش 1913ميں هوئي(اور وفات 2000ميں هوئي)۔ ان کی نعتیہ نظم كا ایک شعر یہ ہے
بصارت کھو گئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ
6فروری 1985
ٹھیک سات سال پہلے 6 فروری1979 کو میں نے حسب ذیل سطریں لکھی تھیںمکہ میں جب خدا کے دشمنوں نے خدا کے رسول کو گھر سے بے گھر کرنے کا منصوبہ بنایا تو خدا نے اپنے رسول کے لیے دوسرا زیادہ بڑا دروازہ کھول دیا۔ اس نے مدینہ کو اسلامی دعوت کا مرکز بنادیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص سنت ہے۔ وہ ایک کو حق کا راستہ روکنے کا مجرم ثابت کرکے دوسرے کو حق کا استقبال کرنے کا اعزاز دیتا ہے۔ وہ ایک کو ڈسکریڈٹ (discredit) کرکے دوسرے کو کریڈٹ (credit) عطا فرماتا ہے (6 فروری، 1979)۔
یہ سطریں میں نے ایک مسلم ادارے میں رہتے ہوئے لکھی تھیں، جب کہ ادارے والے مجھ کو بے گھر کرنے اور میرے مشن کو برباد کرنے کے لیے اپنی آخری کوشش کررہے تھے ،اور میں بظاہر بے بس بنا ہوا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے راستہ کھولا۔ آج میں دوبارہ یہ…
17فروری 1985
بشیر احمد راشد الامینی (پیدائش 1942) 1970میں حج کرنے گئے۔انھوںنے بتایا کہ مدینہ میںانھوںنے ایک نقشہ نما خریدا،جس میں مسجد وغیرہ کی تصویریں تھیں۔ انھوں نے اس کو پھیری والے سے لیا تھا۔ پھیری والے نے بتایا تھا کہ اس میں دس تصویریں ہیں۔ مگر انھوںنے گھر پر جاکر دیکھا تو صرف آٹھ تصویریں تھی۔ وہ دوبارہ پھیری والے کے پاس شکایت کرنے کے لیے گئے۔ پھیری والے نے کہا ہم کیا کریں ہم تو ہول سیلر سے خریدتے ہیں۔ انھوںنے کہا کہ مجھ کو ہول سیلر کے پاس لے چلو۔ کافی جھگڑا کے بعد وہ راضی ہوا۔ ہول سیلر کے پاس پہنچے تو وہ بھی جھگڑا کرنے لگا۔ بشیر صاحب نے اس کے سامنے ایک آیت پڑھیفَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ (4:59)۔ یعنی پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہوجائے تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ۔آیت سن کر عرب دکان دار فوراً چپ ہوگیا۔
اسلام ایک ایسے برتر خدا کا تصور دیتا ہے جو سب سے بلند ہے۔ کسی سماج میں خدا کاتصور زندہ ہو تو یہ اس سماج کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کے بعد ایک شخص کے لیے ممکن ہوجاتا ہے کہ وہ خدا کا نام لے کر کسی کو چپ کرسکے۔ وہ خدا کا واسطہ دے کر کسی ظالم…
26 اپریل 1985
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں اپنی دعوت کا آغاز کیا۔ وہاں آپ تقریباً 13سال رہے۔ مکہ والوں نے آپ کی سخت مخالفت کی۔ یہاں تک کہ وہ آپ کو ہلاک کرنے کے درپے ہوگئے۔ عین اسی وقت مکی دور کے آخری زمانے میں قرآن میں سورہ یوسف اتری۔ اس میں بتایا گیا کہ یوسف کے بھائی یوسف کے دشمن ہوگئے۔ انھوںنے ان کو ختم کرنے کے لیے ایک سنسان مقام پر لے جاکر ان کو اندھے کنویں میںڈال دیا۔ یہاں تاجروں نے ان کو کنویں سے نکالا، اور ان کو لے جاکر مصر پہنچادیا۔ وہاں ان کے لیے اعلیٰ ترقی کی نئی راہیں کھلیں۔ ایک اُسوءُ القصص احسن القصص میں تبدیل ہوگیا۔
مکی دور کے آخر میں اس سورہ کا اترنا اس بات کا اشارہ تھا کہ پیغمبر اسلام کے ساتھ خداکی مدد سے یہی معاملہ پیش آئے گا۔ چنانچہ یہی ہوا کہ مکہ والوں نے آپ کو ہلاکت کے غار میں ڈالنا چاہا مگر عین اسی وقت مدینہ میں آپ کے قدرداں پیدا ہوگئے۔ آپ…
24 جون 1985
مسلمانوں کے ایک قائد نے ہندستانی مسلمانوں کی پس ماندگی کا ذمہ دار ہندوؤں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد مسلسل مسلمانوں کے ساتھ امتیاز کیا جارہا ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔ ان چیزوں کی وجہ سے مسلمانوں کے اندر دفاعی ذہن پیداہوگیا ہے۔ ان کے اندر وہ مثبت ذہن پیدا نہیں ہوتا جو تعمیر و ترقی کے لیے ضروری ہے۔ انھوں نے ہندو جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف اپنی کارروائیوں کا سلسلہ بند کریں تاکہ مسلمان تعمیر و ترقی کی راہ میں آگے بڑھ سکیں۔
میں کہوں گا کہ مسلمانوں کی تعمیر کی راہ میں اصل رکاوٹ ہندو صاحبان نہیں ہیں بلکہ مذکورہ بالا قسم کے مسلم قائدین ہیں، جو مسلمانوں میں صحیح ذہن پیدا نہیں ہونے دیتے۔ یہ قائدین مستقل طورپر ایک ہی کام کررہے ہیں، اور وہ ہے ذہن کو بگاڑنا۔ ا س دنیا…
29 جون 1985
مستشرقین نے حدیث کو مشتبہ ثابت کرنے کے لیے جن چیزوں کو بنیاد بنایا ہے، ان میں سے ایک حضرت ابو ہریرہ کی کثیر روایات ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ نے ہجرت کے بعد اسلام قبول کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی صحبت غزوہ خیبر کے بعد شروع ہوئی۔ اس اعتبار سے حضرت ابو ہریرہ کی صحبت رسول ان کثیر روایات کے لیے ناکافی ہیں جو ان سے مروی ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ کی روایات کی تعداد 5374 ہے، جیسا کہ ابن حزم نے لکھا ہے۔ مگر یہ کثیر تعداد تکرار اسناد کی بنا پر ہے۔ محدثین کا طریقہ ہے کہ وہ احادیث کو طرق روایت کے اعتبار سے شمار کرتے ہیں۔ مثلاً حضرت ابو ہریرہ سے ایک حدیث کو چار آدمیوں نے…
…نے اپنا ایک تجربہ لکھا ہے کہ ایک ماہی گیر نے ایک بار مجھے بتایا کہ کیکڑے کی ٹوکری پر کسی کو ڈھکن لگانے کی ضرورت نہیں۔ اگر ان میں سے کوئی کیکڑا ٹوکری کے کنارےسے نکلنا چاہتا ہے تو دوسرے وہاں پہنچتے ہیں اور اس کو پیچھے کی طرف کھینچ لیتے ہیں
A fisherman once told me that one doesn't need to cover for a crab basket. If one of the crabs starts climbing up the side of the basket, the others will reach up and pull it back down.
Charles Allen, in The Miracle of Love.
…کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ جن خاندانوں میں آسودگی کے حالات آجاتے ہیں اس كے افراد بےحس اور کم عقل ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، جن خاندانوں کو مشکل حالات گھیرےہوئے ہوں ان کے افراد میں ہر قسم کی ذہنی اور عملی صلاحیتیں زیادہ اجا گر ہوتی ہیں۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو یہ شکایت ہے کہ وہ اپنے ماحول میں عدم تحفظ کی صورت حال میں مبتلا ہیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام کے ابتدائی دور میں مکہ اور مدینہ کے مسلمان اس سے کہیں زیادہ عدم تحفظ کی صورت حال میں مبتلا تھے۔ اگر عدم تحفظ کوئی ’’ برائی ‘‘ ہوتی تو یقیناً اللہ کا رسول اوراس کے اصحاب کہیں زیادہ اس کے مستحق تھے کہ اللہ انھیں اس برائی سے دور رکھے۔ مگر اللہ نے ایسانہیں کیا۔ بلکہ ان کو مسلسل عدم تحفظ کی صورت حال میں رکھا۔ ان کو اپنی زندگی میں کبھی چین اور آسودگی نہ مل سکی۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا نظام اللہ تعالیٰ نے جس ڈھنگ پر بنایا ہے وہ یہی ہے کہ یہاں دبنے سے ابھار پیدا ہو۔ مشکلوں کے مدرسہ میں انسان کی اعلیٰ تربیت ہو۔ غیرمحفوظ حالات کے اندر مستعدی کا ظہور ہو
امام حسینؓ کا نمونہ
امیر معاویہ نے اپنے لڑکے یزید بن معاویہ (64-65ھ) کو اپنی زندگی ہی میں اپنا جانشیں بنا دیا تھا۔ تاہم امام حسینؓ نے یزید کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی۔ امام حسینؓ مدینہ سے مکہ چلے گئے۔ وہاں ان کے پاس کوفہ والوں کے خط آنے لگے جن میں درج ہوتاتھا کہ آپ کوفہ آ جائیں ہم سب آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لیں گے۔ ہم آپ ہی کو خلافت کا حق دار سمجھتے ہیں۔ امام حسنؓ کو کوفہ والوں کے مزاج کا اندازہ تھا۔ انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی امام حسینؓ کو پیشگی یہ وصیت کر دی تھی کہ کوفہ والے تم کو خروج پر ابھاریں گے۔ مگر تم کوفہ والوں کے فریب میں نہ آنا۔
مگر امام حسینؓ کوفہ والوں کی باتوں سے متاثر ہو گئے۔ انہوں نے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو اپنا سیاسی نمائندہ بنا کر کوفہ بھیجا اور کہاکہ وہاں جاکر لوگوں سے ملو۔ اور پوشیدہ طور پر میری طرف سے بیعت لو۔کوفہ میں تقریباً 18ہزار آدمیوں نے…
…فطرت کے اسباب بھی اس کے حق میں جمع ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اب اگر اس نے اسباب فطرت کی تکمیل سے پہلے کوئی اقدام کر دیا تو وہ ناکام رہے گا، اور اگر اس نے اس وقت تک انتظار کیا جب کہ فطرت کے اسباب اس کے حق میں جمع ہو جائیں تو وہ کامیاب رہے گا۔
یہی وہ بات ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے قرآن میں اس طرح کہی گئی ہے کہ(اپنے دعوتی عمل کو جاری رکھتے ہوئے تم نتیجے کے بارے میں) صبر کرو جس طرح ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا اور ان کے لیے جلدی نہ کرو۔فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ۔ ( 46:35)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کی ایک مثال مکی دور اور مدنی دور کا معاملہ ہے۔ مکی دور میں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا تھا۔ اور ان کو ستایا جارہا تھا۔ مگر مسلمانوں کے مطالبے کے باوجود انہیں ظالموں کے مقابلے میں دفاع کی اجازت نہیں…
…سے طائف کا سفر فرمایا۔ درمیان میں ایک راستہ ملا جو بظاہر تنگ اور دشوار تھا۔ آپ نے پوچھا کہ اس راستے کا نام کیا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ الضَّيْقَةُ (تنگ) آپ نے فرمایا کہ نہیں، وہ آسان ہے(بَلْ هِيَ الْيُسْرَى) سیرت ابن ہشام، جلد 4، صفحہ127۔
مذکورہ راستہ بطور واقعہ تنگ تھا۔ مگر اس کے باوجود آپ نے اس کو آسان راستہ قرار دیا۔ اس طرح آپ نے بتایا کہ زندگی ایک امتحان ہے۔ یہاں بہرحال تنگی اور دشواری پیش آئے گی۔ تمہارا کام یہ نہیں ہے کہ دشواری کو دشواری کہہ کر اپنے آپ کو بے حوصلہ کر لو، یا اس کے خلاف فریاد و احتجاج کرنے لگو۔ تمہارا کام یہ ہے کہ تم تنگی کو کشادگی میں مُبدَّل (convert) کرو۔ تم مشکل کو آسان بنا کر اس کے اوپر فتح حاصل کرو۔ تمہارا سوچنے کا طریقہ انقلابی ہونا چاہیے ، نہ کہ احتجاجی۔
یہ وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے کے بعض مفکرین نے مسئلہ کا برترحل (superior solution) کا نام دیا ہے۔ پیغمبر اسلام کی پوری زندگی اسی برتر تدبیر کی اعلیٰ مثال ہے۔ آپ کو عرب میں سخت ترین مشکلوں سے سابقہ پیش آیا۔ مگر آپ نے ان مشکلوں کو…
برائی کے بدلے بھلائی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن میں انسانوں کو مسخر کرنے کی جو تدبیر بتائی گئی، وہ خلق عظیم (68:4) ہے۔ یعنی برابر کا اخلاق نہیں، بلکہ برتر اخلاق۔ یہ اخلاق کی وہ قسم ہے جب کہ آدمی ردّعمل سے اوپر اٹھ کر لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق کا معاملہ کرتا ہے۔ چنانچہ حکم دیا گیا کہ لوگ تمہارے ساتھ برا کریں تب بھی تم ان کے ساتھ اچھا کرو۔ تم برے سلوک کے جواب میں بھی اچھے سلوک پر قائم رہو۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیبہ والا ہے۔ ( 41:34-35)
اس آیت کی تشریح حضرت عبداللہ ابن عباس نے اس طرح کی ہے کہ اللہ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ غصہ کے وقت صبر کریں۔ وہ جہالت کے وقت بردباری اختیار کریں۔ وہ برائی کرنے والے کو معاف کر دیں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ ان کو شیطان سے بچا لے…
…کرنا چاہیے، خواہ اس کے حصول کے لیے کتنا ہی بڑا خطرہ مول لینا پڑے۔ علم وہ طاقت ہے جو بالآخر آدمی کو ہر چیز دے دیتا ہے، حتیٰ کہ وہ چیز بھی اس کو مزید اضافے کے ساتھ مل جاتی ہے جس کو ابتداءً علم کو حاصل کرنے کی راہ میں اسے کھونا پڑا تھا۔
اس سلسلے کی دوسری مثال وہ ہے جو صلح حدیبیہ کی صورت میں پائی جاتی ہے۔ اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ کے لیے عمرہ کے ارادہ سے روانہ ہوئے۔ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو قریش نے آپ کو روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو اس کی اجازت نہیں دے سکتے کہ آپ عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزید اصرار کے بغیر وہیں رک گئے۔
اس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان معاہدے کی بات شروع ہوئی۔ اس گفتگو میں اہل مکہ نے بے حد سرکشی دکھائی۔ انہوں نے معاہدہ کے لیے ایسی شرطیں پیش کیں جو یک طرفہ طور پر ان کے حق میں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ان نازیبا شرطوں کو…
دعوت کا دور
محمد بن اسحٰق بیان کرتے ہیں کہ بیعت عقبہ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور خون بہانا آپ کے لیے حلال نہیں کیا گیا تھا۔ آپ کو حکم تھا کہ آپ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائیں۔ اور تکلیفوں پر صبر کریں۔ اور جاہلوں سے روگردانی کریں۔ قریش کا یہ حال تھا کہ آپ کی قوم میں سے جو لوگ آپ کی پیروی کرتے وہ ان پر ظلم کرتے۔ ان کے دین کے بارے میں انہیں سخت آزمائش میں مبتلا کرتے۔ قریش نے ان کو ان کی بستیوں سے نکال دیا۔ چنانچہ آپ کے پیروؤں میں سے کچھ لوگ سخت آزمائش میں مبتلا ہوگئے۔ اور کچھ لوگ قریش کے ہاتھ سے تکلیفوں کا شکار ہوئے۔ اور کچھ لوگ ان سے بچنے کے لیے دوسرے علاقوں میں چلے گئے۔ ایک جماعت حبش چلی گئی۔ کچھ لوگوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی یا اور کسی طرف چلے گئے۔ جب قریش نے اس طرح اللہ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اللہ نے ان کے لیے جس عزت کا ارادہ کیا تھا اس کو رد کر دیا، اور اپنے نبی کو جھٹلایا۔ اور ان لوگوں کو تکلیف دی اور جلاوطن کیا جنہوں نے اللہ کی عبادت کی اور اس کو ایک مانا اور اس کے دین کو مضبوطی سے پکڑ لیا، اس وقت اللہ نے اپنے رسول کو جنگ کی اجازت دی اور ان لوگوں کے لیے حفاظت اور مدد کا وعدہ کیا جن پر ظلم اور زیادتی ہو رہی تھی۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اس اجازت کے بارے میں سب سے پہلے سورۃ الحج (آیت39-41 اُتاری گئی۔( سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ75)
مکہ کا دور، دعوت کا دور تھا۔ اس زمانے میں رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو حکم تھا کہ اپنی ساری توجہ صرف دعوت پر مرتکز رکھیں۔ غیر مسلموں کی طرف سے خواہ کتنی ہی دل آزاریاں کی جائیں اور کتنی ہی تکلیفیں پہنچائی جائیں ان پر…
خلافت کا دور
خلافت کا دور اقتدار کا دور ہے۔ اقتدار، عین اپنی طبیعت کے اعتبار سے بہت سی خرابیاں پیدا کرتا ہے۔ اس لیے دور خلافت (دور اقتدار) میں صبر کی اہمیت ہمیشہ سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
1۔ دور خلافت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کے اندر عہدوں کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ ہر آدمی یہ چاہنے لگتا ہے کہ اس کو ایک اچھا سیاسی عہدہ مل جائے۔ اگر یہ مزاج باقی رہے تو خلافت کا پورا نظام برباد ہو کر رہ جائے گا۔
موعود نہ کہ مقصود
قرآن کی سورۃ نمبر24 میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک سنت کا ذکر اس طرح کیا ہے— تم میں سے جو لوگ ایمان لائیں اور اچھے عمل کریں، ان سے اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلیفہ(بااقتدار) بنائے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو اس نے اقتدار دیا تھا۔ اور اللہ ان کے لیے ان کے دین کو جما دے گا جس کو ان کے لیے اس نے پسند کیا ہے۔ اور اللہ ان کی خوف کی حالت کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا۔ وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد انکار کرے تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں۔ ( 24:55)
اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اقتدار یا غلبہ ایک امرِ موعود ہے ، نہ کہ امرِ مقصود۔ یعنی وہ اہلِ اسلام کے عمل کا نشانہ نہیں ہے۔ اہلِ اسلام کے لیے ان کے عمل کا نشانہ تو ایمان اور عمل صالح ہے۔ ان کی اپنی توجہ شروع سے آخر تک اسی پر…
…کرے اس کے ساتھ تم صلہ رحمی کرو (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5991)۔ تاریخِ اسلام کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک بار اسلام کے کچھ دشمنوں نے حضرت عائشہ پر بدکاری کی تهمت لگائی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ اور حضرت ابوبکر کی صاحبزادی تھیں۔
یہ تہمت سراسر جھوٹ اور بے بنیاد تھی۔ اس فرضی داستان کو گھڑنے اور اس کو پھیلانے میں ایک شخص مسطح نام کا بھی شریک تھا۔ یہ شخص حضرت ابو بکر کا رشتہ دار تھا۔ اس کو ضرورت مند سمجھ کر حضرت ابو بکر اس کو ماہانہ کچھ رقم دیا کرتے تھے۔ جب حضرت ابو بکر کو معلوم ہوا کہ ان کی معصوم صاحبزادی پر جھوٹی تہمت لگانے میں مسطح بھی شریک رہا ہے تو انہوں نے مسطح کی امدادی رقم بند کردی۔ اس پر اللہ کے رسول کے پاس یہ وحی آئی کہ اگر کوئی شخص معاشی اعتبار سے ضرورت مند ہے تو اس کے اخلاقی جرم کی وجہ سے اس کی مالی امداد بند نہ کرو، بلکہ اس کے جرم سے درگزرکرتے ہوئے اس کی معاشی امداد کو جاری رکھو۔
قرآن میں کہا گیا کہ تم میں سے جو لوگ صاحب فضل اور کشائش والے ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ وہ اپنےرشتہ داروں، محتاجوں اور اللہ کی راہ میں وطن چھوڑ نے والوں کی مدد نہ کریں گے۔ ان کو معاف کر دینا چاہیے اور درگزر کرنا چاہیے۔ کیا تم نہیں…
…إِلَيَّ)۔ بالآخر اللہ کے رسول نے فیصلہ کیا کہ جو معاہدہ طے ہو چکا ہے اب اس سے ہم پھر نہیں سکتے۔ آپ کے ساتھیوں کے لیے یہ بات بے حد تکلیف کی تھی۔ مگر آپ نے ابو جندل کو دو بارہ مکہ والوں کے حوالے کردیا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731)۔
بظاہر اس واقعہ کے معنی یہ تھے کہ مظلوم کو دوبارہ ظالم کے چنگل میں دے دیا جائے۔ مگر اس واقعہ میں اصول پسندی کا جو شان دار عملی مظاہرہ ہوا اس کا نتیجہ یہ ہو ا کہ ظالم اندر سے بالکل ڈھ گئے۔ اب ان کا ابو جندل کو لے جانا اور اپنے یہاں ان کو قید میں رکھنا محض ایک عام واقعہ نہ رہا بلکہ ان کی طرف سے اخلاقی گراوٹ اور اسلام کے لیے اخلاقی بلندی کی ایک مثال بن گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مکہ کے لوگ اسلام کی اخلاقی بر تری سے مر عوب ہوگئے۔ وہاں کثرت سے لوگ مسلمان ہونے لگے۔ ابو جندل کا وجود مکہ میں اسلام کی زندہ تبلیغ بن گیا۔ حتٰی کہ قید و بند کی حالت میں بھی ابوجندل ان کو اپنی قومی زندگی کے لیے خطرہ معلوم ہونے لگے۔ چنانچہ انہوں نے اس میں عافیت سمجھی کہ ان کو رہا کر کے مکہ کے باہر بھیج دیا جائے۔
حضرت ابو ہریرہ مدنی زندگی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کے لوگوں کی طرف چند سوار بھیجے جو آپ کے دشمن بنے ہوئے تھے۔ وہ شہر یمامہ کے حاکم ثمامہ بن اثال کو راستہ میں پا گئے اور اس کو گرفتار کر لائے۔ مدینہ…
…کر دوں تو تم مجھ کو جانے دوگے۔ انہوں نے کہا، ہاں۔ حضرت صہیب نے کہا پھر میں نے اپنا مال تمہارے حوالے کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا صہیب کی تجارت کامیاب رہی، صہیب کی تجارت کا میاب رہی۔
مذکورہ حدیث میں مال کےمقابلہ میں لڑکر جان دینا اگر مطلق معنوں میں ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چاہیے تھا کہ حضرت صہیب کو نا کامی کا الزام دیں، نہ کہ انہیں کامیابی کا کریڈٹ عطا فرمائیں۔
2۔ہجرت کے چھٹے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے ارادہ سے مدینہ سے روانہ ہوئے۔ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو قریش نے آگے بڑھ کر روکا۔ اس موقع پر فریقین کے درمیان صلح کی گفت و شنید ہو رہی تھی کہ وہاں ابو جندل بن سہیل آگئے۔…
یہ معاہدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی عمر میں ہو اتھا۔ وہ اگر چہ عربو ں کا ایک معاہدہ تھا مگر آپ نے اس کی تصدیق فرمائی۔ اس کی بابت آپ کے یہ الفاظ سیرت کی کتابوں میں نقل کیے گئے ہیں
لَقَدْ شَهِدْتُ فِي دَارِ عَبْدِ الله بْنِ جُدْعَانَ حِلْفًا لَوْ دُعِيتُ بِهِ فِي الْإِسْلَامِ لَأَجَبْتُ، تَحَالَفُوا أَنْ يَرُدُّوا الْفُضُولَ عَلَى أَهْلِهَا وَأَلَّا يَعُزَّ ظَالِمٌ مَظْلُومًا (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، جلد1، صفحہ258)۔ یعنی، میں عبد اللہ بن جد عان کے گھر میں ہونے والے معاہدہ میں شریک تھا۔ اگر اسلام کے بعد بھی مجھے اس میں بلایا جاتا تو میں ضرور اس میں شریک ہوتا۔ انہوں نے اس بات کا عہد کیاتھا کہ وہ حقدار تک اس کا حق پہنچائیں گے اور یہ کہ کوئی ظالم کسی مظلوم پر غالب نہ آسکے گا۔
ابن ہشام نے اس ذیل میں بعض واقعات نقل کیے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حلف الفضول کا ذہنی اثر بعد کے عربوں میںبھی باقی تھا۔ ولید بن عتبہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے بھتیجے تھے۔ حضرت معاویہ نے ان کو مدینہ کا امیر بنایاتھا۔ اسی زمانہ میں ولید…
…دونوں نے کہا اے عداس، تمہارا برا ہو۔ وہ تم کو تمہارے دین سے پھیر نہ دے۔ کیونکہ تیرا دین اس کے دین سے بہتر ہے وَيْحَكَ يَا عَدَّاسُ، لَا يَصْرِفَنَّكَ عَنْ دِينِكَ، فَإِنَّ دِينَكَ خَيْرٌ مِنْ دِينِهِ(سیرۃ ابن ہشام جلد 1 صفحہ 421)۔
خدا کے رسول کو ایک ہی سفر میں مختلف لوگوں سے تین الگ الگ قسم کے سلوک کا تجربہ ہوا
ایک نے آپ کے اوپر پتھر پھینکے۔
…نے پورا قصہ بتایا۔ اعرابی سہما ہوا تھا کہ اب شاید تلوار میری گردن پر چلے گی۔ مگر آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔ اس کو کوئی سزانہ دی (سیرت ابن ہشام جلد 2،صفحہ 205، دلائل النبوۃ للبیہقی، جلد3، صفحہ374، السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، جلد3، صفحہ162-64)۔
جو لوگ اللہ پر پورا بھروسہ کر لیں ان کو کسی دوسری چیز کا خوف نہیں رہتا۔ یہ عقیدہ کہ اللہ ایک زندہ اور طاقت ور ہستی کی حیثیت سے ہر وقت موجود ہے، ان کو ہر دو سری طاقت کے مقابلہ میں نڈر بنا دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دشمن کے مقابلہ میں کسی شخص کی سب سے بڑی طاقت بے خوفی ہے۔ دشمن کو اگر یقین ہو جائے کہ اس کا حریف اس سے نہیں ڈرتا تو وہ خود اس سے ڈرنے لگتا ہے۔
_6_
_7_
بدر کی لڑائی (2ھ ) سے کچھ پہلے60 آدمیوں پر مشتمل قریش کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ ابوسفیان کی سرکردگی میں شام بھیجا گیاتھا۔ اس تجارتی قافلہ میں مکہ کے مردوں اور عورتوں نے اپنا تمام سرمایہ لگا دیا تھا۔ بدر کی لڑائی میں قریش کو مکمل شکست ہوئی۔ تاہم ابو سفیان کو اس میں کامیابی ہوئی کہ وہ تجارتی قافلہ کو ساحلی راستہ سے چلاکر مکہ پہنچ جائیں۔ جنگ کے بعد سارامکہ جوش انتقام سے بھرا ہواتھا۔ قریش کے ذمہ دار افراد کا ایک اجتماع دار الندوہ میںہوا۔ اس اجتماع میں متفقہ طور پر یہ طے پایا کہ تجارتی قافلہ کے شرکا صرف اپنا اصل سرمایہ لے لیں او رمنافع کی رقم پوری کی پوری محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلاف جنگ کی تیاری میں لگا دی جائے۔ منافع کی یہ رقم پچاس ہزار دینار تھی جو اس وقت کے لحاظ سے بہت بڑی رقم تھی۔ اب قریش نے زبردست تیاری کی اور شوال 3 ھ میں مکہ سے نکل کر مدینہ پر حملہ کے لیے روانہ ہوئے۔
اسی جنگ کا نام جنگ احد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی تو آپ نے صحابہ کو جمع کرکے مشورہ کیا۔ بڑ ے صحابہ میںسے اکثر کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میںرہ کر مقابلہ کیا جائے۔ مگر نوجوان طبقہ اس کا پر جوش مخالف تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اگر…
…بھی تھی تو اس کو بہت دکھ ہوا۔ وہ مدینہ سے ساتھ نکل پڑاتھا مگر دل کے اندر غصہ باقی تھا۔ چنانچہ اسلامی لشکر بھی مدینہ اور احد کے درمیان تھا کہ عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر مدینہ کی طرف واپس ہو گیا۔ عبد اللہ بن ابی نے کہا
أَطَاعَهُمْ وَعَصَانِي، مَا نَدْرِي عَلَامَ نَقْتُلُ أَنْفُسَنَا هَاهُنَا أَيُّهَا النَّاسُ (سیرۃ ابن ہشام جلد2 صفحہ 64)۔ یعنی، رسول اللہ نے ان کی بات مان لی اور میری بات نہیں مانی۔ اے لوگو! ہم کو نہیں معلوم کہ ہم اپنی جانوں کو یہاں کیوں ہلاک کریں۔
احد کی جنگ میں شکست نے یہ ثابت کیا کہ انہیں لوگوں کی رائے درست تھی، جو مدینہ میں رہ کر مقابلہ کرنے کے لیے کہتے تھے، اور باہر نکلنے سے روکتے تھے۔ چنانچہ اس کے بعد غزوۂ خندق (5ھ) میں اسی رائے کو اختیار کیا گیا اور مدینہ میں رہ کر مقابلہ کی…
…زیادہ پابند ہونا چاہیے کہ اس راہ پر چلتے ہوئے جو کمزوری یا جھنجھلاہٹ پیدا ہو اس کو بھی آدمی گناہ سمجھے اور اس کے لیے خدا سے معافی مانگے۔ اس کو خدا کے طریقہ پر راضی رہنا چاہیے نہ کہ وہ اپنے جذبات سے مغلوب ہو کر خود ساختہ طریقے نکالنے لگے۔
حدیبیہ کا مقام مکہ سے 9میل کے فاصلہ پر ہے۔ یہاں آپ ٹھہر گئے تاکہ حالات کا جائزہ لے سکیں ۔ حدیبیہ سے آپ نے خراش بن امیہ خزاعی کو ایک اونٹ پر سوار کر کے اہل مکہ کے پاس بھیجا کہ ان کو خبر کردیں کہ ہم صرف بیت اللہ کی زیارت کے لیے آئے ہیں، جنگ کے لیے نہیں آئے ہیں۔ جب وہ مکہ پہنچے تو اہل مکہ نے ان کے اونٹ کو ذبح کر ڈالا اور خود حضرت خراش کو بھی قتل کرنے کے لیے دوڑے۔ مگر وہ کسی طرح بچ کر واپس آگئے۔ پھر آپ نے حضرت عثمان کو یہ پیغام لے کر مکہ بھیجا کہ تم لوگ مزاحمت نہ کرو، ہم عمرہ کے مراسم ادا کر کے خاموشی سے واپس چلے جائیں گے۔ اہل مکہ نے حضرت عثمان کو بھی روک لیا۔ پھر مکر زبن حفص پچاس آدمیوں کو لے کر رات کے وقت حدیبیہ پہنچا اور مسلمانوں کے پڑاؤ پر تیر ا ور پتھر بر سانے لگا۔ مکر زکو گرفتار کر لیا گیا۔ مگر اس کے خلاف کوئی کا رروائی نہیں کی گئی۔ اس کو بلاشر ط چھوڑ دیاگیا۔ اسی طرح مقام تنعیم کی طرف سے80آدمی صبح سویرے آئے اورعین نماز کے وقت مسلمانوں پرچھا پہ مارا۔ یہ لوگ بھی پکڑلیے گئے۔ مگر آپ نے ان کو بھی غیر مشروط طور پر رہا کر دیا۔
اس کے بعد قریش سے طویل مذاکرات کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان صلح ہوئی۔ مگر یہ صلح ظاہر بینوں کے لیے سراسر قریش کی فتح اور مسلمانوں کی شکست کے ہم معنی تھی۔ مسلمان یہ سمجھے ہوئےتھے کہ وہ بشارت اِلٰہی کے تحت عمرہ کرنے کے لیے مکہ جار ہے ہیں…
…نہ لڑیں۔ لوگ آپ کو اشتعال دلائیں مگر آپ مشتعل نہ ہوں۔ لوگ آپ کے خلاف سازشیں کریں مگر اپنی خاموش تد بیروں سے آپ ان کی سازش کو ناکام بنا دیں۔ لوگ آپ کے خلاف اپنے دلوں میں دشمنی لیے ہوئے ہوںتب بھی آپ ان کی دشمنی کو عمل میں آنے نہ دیں۔
زندگی کا اصل راز حریف سے لڑنا نہیں ہے۔ زندگی کا راز یہ ہے کہ لڑائی سے بچ کر اپنے آپ کو اتنا طاقت ور بنا یا جائے کہ لڑائی کے بغیر محض دبدبہ سے حریف ہتھیار ڈال دے۔ جو لوگ مشتعل ہو کر لڑنا جانیں اور خاموش ہو کر تیاری کرنا نہ جانیں ان کے لیے یہاں صرف بربادی کا انجام ہے۔ نا ممکن ہے کہ خدا کی دنیا میں وہ کامیاب ہو سکیں۔ کیسی عجیب بات ہے، جو کامیابی پیغمبر نے نہ ٹکرانے کی پالیسی اختیار کر کے حاصل کی اس کو ہم ٹکرانے کا طریقہ اختیار کرکے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پھر بھی ہمارا یقین ہے کہ ہم رسول خدا کے امتی ہیں اور آپ ضرور خدا کے یہاں ہماری شفاعت فرمائیں گے۔
_9_
…ہو رہا ہے اور کسی بھی وقت مدینہ پر حملہ ہو سکتا ہے۔ ایسی حالت میں لشکر کو مدینہ کے دفاع کے لیے یہاں رکھنا چاہیے نہ کہ ایسے نازک موقع پر اس کو دور بھیج دیا جائے۔ مگر حضرت ابو بکر صدیق نے ایسی کسی رائے کو ماننے سے شدت کے ساتھ انکار کر دیا۔
تمام بڑے بڑے صحابہ اسامہ بن زید کی سر داری میں مدینہ کے باہر جمع تھے۔ اس وقت لوگوں کے اندر دو باتیں بحث کا موضوع بنی ہوئی تھیں۔ ایک یہ کہ اتنے نازک موقع پر اسلامی لشکر کا مدینہ سے دور جانا حکمت کے خلاف ہے۔ دوسرے یہ کہ اسامہ بن زید ایک غلام کے لڑکے تھے اس لیے بہت سے لوگوں کو ان کی سرداری پر انقباض تھا۔ نیز وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اسامہ ابھی صرف سترہ سال کے نوجوان ہیں اور ان کی ماتحتی میں بڑے بڑے صحابہ ہیں۔ لوگوں کا خیال تھا کہ کسی معمر قریشی کو سردار مقرر کر دیا جائے تو زیادہ بہتر ہو۔
عمر فاروق بھی ابتداء ً اس لشکر میں شامل تھے، وہ لوگوں کا پیغام لے کر حضرت ابو بکر کے پاس روانہ ہوئے۔ حضرت ابو بکر نے پہلی بات سن کر فرمایا لشکر کی روانگی کے بعد اگر میں مدینہ میں تنہا رہ جاؤں اور درندے مجھ کو پھاڑ کھائیں تب بھی میں ایک…
…لیے کبھی کبھی ہوا کو طوفان بنا دیا جاتا ہے تاکہ آدمی یہ جانے کہ ہوا کی صورت میں اللہ نے اس کی زندگی کے لیے کیسا حیران کن انتظام کر رکھا ہے۔ اسی طرح ہر چیز کا ایک ’’گرہن ‘‘ ہے اور وہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی کے اندر نعمت کے احساس کو جگا ئے۔
قرآن میں ارشاد ہواہے’’اس چیز کو دیکھو جس کو تم بوتےہو تم اس سے کھیتی اگاتے ہو یا ہم ہیں اس کو کھیتی بنانے والے۔ اگرہم چاہیں تو اس کو بُھس بنا کر رکھ دیں پھر تم باتیں بناتے رہ جاؤ کہ ہم قرضدار ہوگئے۔ بلکہ ہم تو بالکل محروم ہوگئے۔ پانی کو دیکھو جس کو تم پیتے ہو۔ کیا تم نے اس کو بادل سے اتارا ہے یا ہم ہیں اتارنے والے۔ اگرہم چاہیں تو اس کو کھاری کر دیں پھر کیوں تم شکر نہیں کرتے۔ آگ کو دیکھو جس کو تم جلاتے ہو۔ کیا تم نے اس کا درخت پید ا کیا ہے یا ہم ہیں اس کے پیدا کرنے والے۔ ہم نے ہی اس کو بنایا ہے یاد دلانے کے لیے اور تمہارے برتنے کے لیے۔ پس اللہ کے نام کی پاکی بیان کرو جو سب سے بڑا ہے ‘‘ (56:63-74)۔
ہماری پوری زندگی ایسی خدائی نعمتوں کے اوپر نر بھر ہےجو کسی بھی لمحہ واپس لی جا سکتی ہیں۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے خالق و مالک کا شکر گزار بنے تاکہ وہ اپنی نعمتوں سے کبھی اس کو محروم نہ کرے۔ یہ شکر گزاری ہی آدمی کو خدا کی نعمتوں کا…
…اور مسجد میں رات کے وقت اندھیرا رہتا تھا تو اسلام اور مسلمانوں کو دنیا میں عزت و غلبہ حاصل تھا۔ آج مسلمانوں کے گھر روشن ہیں۔ ان کی مسجدیں جدید طرز کے قمقموں سے جگمگارہی ہیں، مگر دنیا میں اسلام کا غلبہ نہیں، مسلمانوں کو کہیں عزت حاصل نہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ عزت و غلبہ کا مقام حاصل کرنے کے لیے اصل اہمیت انسان کی ہوتی ہے۔ آج مسلمانوں کے یہاں سب کچھ ہے مگر وہی چیز نہیں جس کو’’انسان‘‘کہا جاتا ہے۔ اسلامی دنیا مردہ روحوں کا ایک عظیم قبر ستان معلوم ہوتی ہے جہاں روشنیوں کی رونقیں اور در و دیوار کی عظمتیں تو بہت ہیں مگر وہ انسان نہیں جو خدا کے لیے تڑپے، جو سچائی کے آگے جھک جائے، جو آخرت کی خاطر اپنی دنیا کو قربان کر سکے،جو اپنی خواہشوں کو بر تر اصولوں کے تابع کر دے۔ اسلام کو سر بلند کرنے کے لیے وہ انسان درکا رہیں جن کو عظمت خدا وندی کے احساس نے متواضع بنادیاہو، جن کا خوفِ آخرت ان سے ان کی اکڑ چھین لے۔ اور یہی وہ انسان ہیں جو اسلام کے بھرے ہوئے شاندار پنڈال میں آج کہیں موجود نہیں ۔
_13_
…میں تاریخ میں آتا ہےکہ جب ایک صحابی عمر فاروق سے ملے اور ان سے کہا ’’کچھ سنا آپ نے ‘‘تو عمر فاروق کی زبان سے فوراً نکلا ’’کیا غسا سنہ آگئے ‘‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں غسانیوں کی طرف سے مدینے کے لیے کتنا خطرہ لاحق تھا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسئلہ کا شدید احساس تھا۔ چنانچہ اپنی عمر کے آخری ایام میں جن امور کے لیے آپ نے شدت سے اہتمام کیا، ان میں غساسنہ یا با لفاظ دیگر رومیوں سے مقابلہ کے لیے فوج کی تیاری بھی تھی۔ آپ نے اس مقصد کے لیے ایک فوج ترتیب دی۔ اس فوج میں اگرچہ ابو بکر و عمر جیسے بڑے بڑے اصحاب تھے مگر آپ نے انتہائی دانش مندی سے کام لیتے ہوئے اس لشکر کا سردار اسامہ بن زید کو مقرر کیا۔ اسامہ ایک بہادر نوجوان تھے۔ وہ اس کام کو پورا کرسکتے تھے، جو ان کے والد کے وقت میں موتہ کی جنگ میں ادھورا رہ گیا تھا۔ موتہ کی جنگ میں مسلمانوں نےاسامہ کے والد زید بن حارثہ کی قیادت میں رومیوں کے خلاف مقابلہ کیا تھا، اورزید اس جنگ میں قتل ہوئے تھے۔ جب اہل اسلام کو انداز ہ ہوا کہ جنگ کا جاری رکھنا ان کے حق میں نہیں ہے تو حضرت خالد درمیان ہی میں واپس ہوکر مدینہ آگئے، وغیرہ۔
تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میںیہ اسامہ کالشکر روانہ نہ ہوسکا۔ کیونکہ عین وقت پر آپ کے اوپر مرض الموت کا غلبہ ہوگیا۔ آپ کی وفات کے بعد صدیق اکبر نے خلیفۂ اول کی حیثیت سے اس لشکر کو شام کی طرف روانہ کیا۔
…آئیں گے اور ننگے ہو کر حج کریں گے۔ مجھے پسند نہیں کہ میں حج کروں جب تک یہ چیزیں ختم نہ ہو جائیں (إِنَّمَا يَحْضُرُ الْمُشْرِكُونَ فَيَطُوفُونَ عُرَاة، فَلَا أُحِبُّ أَنْ أَحُجَّ حَتَّى لَا يَكُونَ ذَلِك) تفسیر ابن کثير،جلد4، صفحہ 103۔
فتح مکہ کے بعد پہلے سال (8ھ ) میں مسلمانوں نے حج کیا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لے گئے۔ دوسرے سال (9 ھ) میں آپ نے مسلمان حاجیوں کا قافلہ حضرت ابوبکر کی قیادت میں مدینہ سے مکہ روانہ کیا۔ اس کے بعد قرآن میں یہ حکم اترا کہ مشرکین نجس ہیں، اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ آئیں (التوبہ، 9:28)۔ چنانچہ آپ نے حضرت علی کو مکہ بھیجا اور حکم دیا کہ حج کے اجتماع میںگھوم گھوم کر یہ اعلان کر دیں کہ اِس سال کے بعد کوئی مشرک حج کے لیے نہ آئے اور اب سے کوئی شخص ننگی حالت میں کعبہ کا طواف نہ کرے (لاَ يَحُجَّ بَعْدَ العَامِ مُشْرِكٌ وَلاَ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ)صحیح البخاری، حدیث نمبر 369۔ اس طرح تیسرے سال جب دھیرے دھیرے شرک کا خاتمہ کر دیا گیا اس وقت آپ نے مکہ جاکر حج ادا فرمایا۔ یہی رسول اللہ علیہ وسلم کا آخری حج (حجۃ الوداع) تھا۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احکام کے نفاذ میں کس طرح تدریجی حکمت کا لحاظ فرمایا ہے۔ حتٰی کہ اقتدار پر قبضہ ملنے کے باوجود آپ نے تدریج کے اصول کو ترک نہیں کیا۔ خدا کے پیغمبر نے اپنے آپ کو روک لیا مگر مشرکین کو…
خیرامت
اس طرح ڈھائی ہزار سالہ عمل کے ذریعہ ایک ایسی قوم نکالی گئی جو اپنے انسانی اوصاف کے اعتبار سے تمام قوموں میں سب سے بہتر تھی۔ اس سلسلے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیںكُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ(3:110)۔ یعنی، تم بہترین گروہ ہو جس کو لوگوں کے واسطے نکالا گیا ہے۔ صحابیٔ رسول عبد اللہ بن عباس نے خیرامت سے مہاجر ین کا گر وہ مراد لیا ہے (هُمُ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَة) تفسیرالطبری، جلد5، صفحہ672۔مہاجرین دراصل اس گر وہ کی علامت تھے۔ با عتبارِ حقیقت اس سے وہ پورا عرب گروہ مراد ہے جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔
پیغمبروں کو ہر زمانہ میں ایک ہی سب سے بڑی رکاوٹ پیش آئی ہے۔ ان کی مخاطب قوموں کے پاس جو آبائی دین ہوتا تھا اس کےساتھ مادی رونقیں اور درودیوار کی عظمتیں شامل ہوتی تھیں۔ دوسری طرف وقت کا پیغمبر دلیلِ مجرد کی سطح پر کھڑا ہوتا تھا۔ عرب…
…یہ کہ انہوں نے ایک ایسی سچائی کو دیکھ لیا جو ابھی مجرد روپ میں تھی۔ جس کی پشت پر تاریخ کی تصدیقات ابھی جمع نہیں ہوئی تھیں۔ جو ابھی قومی فخر کا نشان نہیں بنا تھا۔ جس میں اپنا سب کچھ دے دینا تھا۔ مگر دنیا میں اس کے بدلے کچھ بھی پانا نہ تھا۔
اس معاملہ کی ایک نمائندہ مثال وہ ہے جو ہجرت سے پہلے بیعت عقبہ ثانیہ کے وقت پیش آئی۔ عین اس زمانہ میں جب کہ مکہ میں اسلام کےحالات بے حد تنگ ہو چکے تھے، مدینہ میں کچھ مسلمانوں کی تبلیغ سے اسلام پھیلنے لگا۔ حتٰی کہ ہر گھر میں داخل ہو گیا۔ اس وقت مدینہ کے کچھ لوگوں نے طے کیا کہ وہ مکہ جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر نصرت کی بیعت کریں اور آپ کومکہ چھوڑ کر مدینہ آنے کی دعوت دیں۔ حضرت جابر انصاری کہتے ہیں کہ جب مدینہ کے گھر گھر میں اسلام پہنچ گیا تو ہم نے مشورہ کیا کہ آخر کب تک ہم اللہ کےرسول کو اس حال میں چھوڑے رکھیں کہ آپ مکہ کے پہاڑوں میں پریشان اورڈرے سہمے پھرتے رہیں (ثُمَّ ائْتَمَرُوا جَمِيعًا، فَقُلْنَاحَتَّى مَتَى نَتْرُك رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ) مسند احمد، حدیث نمبر 14456۔ رسول اللہ کا بے یار و مدد گار ہونا ظاہر بینوں کے لیے اس بات کا ثبوت تھا کہ آپ اللہ کے رسول ہی نہیں۔ اگر اللہ کے رسول ہوتے تو آپ کی یہ حالت کیوں ہوتی۔ مگر اہل مدینہ نے آپ کے معاملہ کو حقیقت کی نظر سے دیکھا۔ انہوں نے یہ راز پالیا کہ آپ کا معاملہ ایک خدائی معاملہ ہے اور آپ کی مدد کر کے وہ خدا کی رحمتوں اور بر کتوں کے مستحق بن سکتے ہیں۔
بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر مدینہ کے ستر سے کچھ اوپر نمائندوں نے مکہ آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔ یہ بیعت کیسے نازک حالات میں ہوئی اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ اس وفد کے ایک رکن کعب بن مالک انصاری کہتے ہیں کہ ہم…
…ہوئے حقائق کو معلوم کر لیتی ہے جن کے ہاتھ آجانے کے بعد حریف کےتمام اطراف و جوانب اس طرح قابو میں آجاتے ہیں جیسے کوئی شکار کسی مضبوط جال میں پھنس جائے اور اس کے بعد اس کی ہر حرکت اس کے اوپر شکاری کی گرفت کو مضبوط کرنے والی ثابت ہو۔
ہجرت کا واقعہ اسی قسم کی ایک مثال ہے۔ جب قریش نے فیصلہ کر لیا کہ آپ کو قتل کردیں توایک صورت یہ تھی کہ آپ ان کی تلوار کے سامنے کھڑے ہو جاتے۔ اس کے برعکس آپ نے ٹھنڈے دماغ سے سوچ کر یہ فیصلہ کیا کہ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلےجائیں۔ دوسرے لفظوں میں اپنا مقام عمل تبدیل کردیں۔ حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ ہجرت سےپہلے آپ روزانہ میرے والد (ابو بکر ) کےمکان پر آتے اور آئندہ اقدام کے بارے میںمشورہ کرتے۔ چھ مہینے تک نہایت راز داری کے ساتھ ساری تیاریاں مکمل کی گئیں۔ اس کے بعد ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت آپ ایک معتمد گائڈ (هَادِيًا خِرِّيتًا)کولے کر مدینہ کے لیے روانہ ہو گئے (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، جلد2، صفحہ246)۔ ایک پر جوش قائد جو حریف سے لڑکر شہادت کی یاد گار قائم کرنے کو سب سے بڑا کمال سمجھتا ہے، اس کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ہجرت ایک قسم کا فرار معلوم ہوگی۔ مگر نتائج کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ واحد عظیم واقعہ ہے جس نے اسلامی تاریخ کا رخ موڑدیا۔
اسی طرح صبر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے اقدام سے رک کر فطرت کو کام کرنے کا موقع دے۔ انسانی فطرت ایک دائمی حقیقت ہے اور اگر خارجی پر دے ہٹادیے جائیں تو وہ انسانی زندگی میں انتہائی فیصلہ کن کر دار ادا کرتی ہے۔ فطرت کے اندر ہمیشہ ا س آدمی کے…
پیغمبر مکہ میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبر انہ زندگی کے دوبڑے دور ہیں۔ ایک کو مکی دور کہا جاتا ہے، دوسرے کو مدنی دور۔ مکہ اور مدینہ دوشہروں کے نام ہیں ۔ ان الفاظ کو آپ لغت میں دیکھیں تو ان کےیہی معنی آپ کو وہاں لکھے ہوئے ملیں گے۔ مگر کچھ معانی وہ ہیں جو تاریخ کسی لفظ میں شامل کرتی ہے۔ مکہ اور مدینہ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ابتدائی معنی کے اعتبار سے یہ دونوں الفاظ دوشہروں کے نام ہیں۔ مگر تاریخ کے اعتبار سے وہ اسلامی عمل کے دو پہلوؤں کی علامت بن گئے ہیں ۔ مکہ دعوت کی علامت ہے اور مدینہ انقلاب کی علامت۔ مکی دور اسلام کو دعوتی قوت کی حیثیت سے اٹھانے کا نام ہے اور مدنی دو ر اس کو ماحول میں غالب اور سر بلند کرنے کا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہواہے
مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي…
مذکورہ آیت میں تورات کے حوالہ سے پیغمبر اسلام کے ساتھیوں کے انفرادی اوصاف کا ذکر ہے اور اس کے بعد انجیل کے حوالہ سے ان کے اجتماعی ارتقا کا۔ پہلے جزء کی تر بیت مکہ میں ہوئی اور دوسرے جزء کی تکمیل مدینہ میں ۔
پیغمبر اسلام کی جو سیر تیں لکھی گئی ہیں، ان کا انداز عام طور پر یہ ہوتا ہے گو یا آمنہ کے پیٹ سے ایک پُر عجو بہ شخصیت نکلی اور اس نے پُر اسرار طریقوں سے پورے عرب کو مسخر کر ڈالا۔ سیرت کی کتابیں انسانی تاریخ سے زیادہ کرامات و معجزات کی ایک طلسماتی داستان نظر آتی ہیں۔ یہ ذوق اتنا بڑھا کہ جن واقعات میں کوئی معجزاتی پہلو نہ تھا وہاں بھی لوگوں نے اپنے قوت تخیل سے کوئی نہ کوئی چیز ڈھونڈ نکالی۔ مثال کے طور پر صہیب بن سنان کی ہجرت کے بارے میں آتا ہے کہ جب وہ مکہ سے روانہ ہوئے تو قریش کے کچھ نوجوانوں نے انہیں آگے بڑھ کر روکا۔ صہیب نے کہا، اگر میں تمہیں اپنا مال دے دوں تو کیا تم مجھے جانے دو گے۔ انہوں نے کہا ہاں۔ چنانچہ چند اوقیہ سونا جو صہیب کے پاس تھا، وہ سب انہوں نے ان کو دے دیا اور مدینہ پہنچ گئے۔ حضرت صہیب کہتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مدینہ میں دیکھا تو فرمایا
اے ابو یحییٰ تمہاری یہ تجارت بڑی نفع بخش رہی۔ میں نے کہا یا رسول اللہ، مجھ سے پہلے آپ تک مکہ سے کوئی نہیں آیا یہ خبر یقیناً آپ کو جبریل فرشتہ نے دی ہے (فَلَمَّا رَآنِي قَالَيَا أَبَا يَحْيَى، رَبِحَ الْبَيْعُ- ثَلَاثًا- فَقُلْتُيَا…
…پاس آیا۔ آپ نے اس کو قرآن سنایا۔ قرآن کے ادب نے اس کو شدید طور پر متاثر کیا۔ ابو جہل کومعلوم ہو اتو وہ ولید بن مغیرہ کےیہاں پہنچا اور اس سے کہا، لوگوں کا ارادہ ہے کہ تمہارے لیے مال جمع کریں۔ کیوں کہ تم کو محمد کے مال کی خواہش ہوگئی ہے۔
اِس قسم کی مالی حیثیت سے آپ نے نبوت کا آغاز کیا۔مگر تیرھويں سال جب آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ کےپاس کچھ باقی نہ رہاتھا حتیٰ کہ آپ نے حضرت ابو بکر سے قرض لے کر سامان سفر درست کیا۔
…ہے۔ ایک اور روایت میں ہے یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لوگ اہل ادب، سمجھدار، عقل والے، بردبار ہیں۔ ان کے اندر انبیاء کی شان ہے۔ کتنی اعلیٰ ہیں ان کی باتیں ، کتنی خوبصورت ہیںان کی باتیں، کتنی زیادہ ثواب والی ہیں ان کی باتیں۔
ضماد الاردی، قبیلہ از دشَنوہ کے ایک شخص تھے۔ وہ بھوت پریت اتار نے کامنتر کیا کرتے تھے۔ ایک بار مکہ آئے تو لوگوں نے آپ کے بارے میں بتایا اور کہا کہ ان پر جن کا اثر ہوگیا ہے۔ ضماد اس خیال سےآپ سے ملے کہ اپنے فن کے ذریعہ آپ كا علاج کریں ۔ مگر جب آپ کی باتیں سنیں تو کہا ’’خدا کی قسم میں نے کاہنوں اور ساحروں کی باتیں سنی ہیں اور شعراء کے کلام دیکھے ہیں ۔ مگر ایسے کلمات میں نے کبھی نہیں سنے۔ اپنا ہاتھ بڑھائیے کہ میں بیعت کرلوں‘‘۔ حسب عادت پیغمبر اسلام نے اس موقع پر کوئی لمبی تقریر نہیں کی تھی، بلکہ مسلم اور احمدکی روایت کے مطابق صرف اتنا کہا تھا
إِنّ الْحَمْدَ لِلهِ، نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللهُ، فَلا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِل، فَلا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ،…
…ہمارے لیے کوئی نکاسی کی جگہ پیدا کردے۔ ام عبد اللہ کہتی ہیں ۔ عمر نے کہا خدا تمہارا ساتھی ہو۔ یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں رقت پیدا ہو گئی جو میں نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اس کے بعد وہ چلے گئے اور ان کو ہمارے مکہ سےجانے کا بہت ملال تھا۔
ہر زمانہ میں کچھ ایسے خیالات ہوتے ہیں جو عوامی ذہنوں میں جڑ پکڑ جاتے ہیں ۔ جب تک خیالات کی یہ دیوار نہ ٹوٹے کوئی آواز محض اپنی فلسفیانہ صداقت کی بنیاد پر ان کے اندر قبولیت حاصل نہیں کرسکتی۔ ابتدائی زمانہ میں اہل عرب کی طرف سے جس اختلاف کا مظاہرہ ہوا، وه محض ہٹ دھرمی یا مصلحت پر ستی کی بنا پر نہ تھا۔ بلکہ اس لیے تھاکہ ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کعبہ کے متو لیوں کے سوا بھی کسی کا دین صحیح او ر برحق ہو سکتا ہے۔ جو عرب قبائل یہود کے پڑوس میں بسے ہوئے تھے وہ نسبتاً اس قسم کی اعتقادی پیچیدگی سے محفوظ تھے، کیوں کہ یہود سے وہ سنتے رہتے تھے کہ ہماری کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ عرب میں ایک نبی کا ظہور ہوگا
فَلَمَّا سَمِعُوا قَوْلَهُ أَنْصِتُوا، وَاطْمَأَنَّتْ أَنْفُسُهُمْ إِلَى دَعْوَتِهِ وَعَرَفُوا مَا كَانُوا يَسْمَعُونَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ ذِكْرِهِمْ إِيَّاهُ بِصِفَتِهِ، وَمَا يَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ، فَصَدِّقُوهُ وَآمَنُوا…
…کر تم سے لڑیں گے اور تم کو ہمیشہ کے لیے فنا کر دیں گے۔ یہو دیوں کے اسی قول کی طرف قرآن کے ان الفاظ میں اشارہ ہے وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا (2:89)۔ یعنی، اور وہ پہلے سے منکروں پر فتح مانگا کرتے تھے۔
اوس وخزرج کے لوگوں نے آپ کی دعوت سنی تو انہوں نے کہا ’’بخدايہی وہ نبی ہے جس کے بارے میں یہود ہم سے کہا کرتے تھے۔ قبل اس کےکہ یہود سبقت کریں ہمیں آپ پر ایمان لاکر آپ کے گروہ میں شامل ہو جانا چاہیے۔ ‘‘ اس مخصوص پس منظر کے علاوہ دوسرے تاریخی اور سماجی اسباب بھی تھے جس کی وجہ سے اوس و خزرج کے لیے آپ کی بات کو سمجھنا اور اس کو مان لینا دیگر عرب قبائل کے مقابلہ میں آسان ہو گیا اور انہوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔
اب وہ وقت آگیا تھا جس کے آپ برسوں سےمنتظر تھے۔ آپ کو ایک ایسی جگہ مل گئی تھی جہاں قبائلی حمایت کےتحت اپنی جدو جہد کومؤثر شکل میں جاری رکھ سکیں اور مکہ اور اطراف مکہ کے مسلمانوں کو ایک مقام پر جمع کر کے اس کو اسلامی مرکز بنا دیں۔ اہل…
مہاجرین کی نصرت
مدینہ کے قبائل (انصار) نے جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کا ساتھ دیا وہ تاریخ کا ایک حیرت انگیز واقعہ ہے۔ لوگ کسی کوکوئی چیز دیتے ہیں تو وہ یا بدلہ کے طور پر ہوتا ہے یا خوف کی وجہ سے۔لین دین کی تیسری قسم وہ ہے جو ’’برکت‘‘ کے تصور کے تحت وجود میں آتی ہے۔ کچھ زندہ یا مردہ لوگوں کے بارے میں یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ وہ ’’بزرگ‘‘ ہیں اور ان کے اوپر خرچ کرنا یا چڑھا واچڑھانا اولاد اور اموال میں ترقی کا باعث ہوگا۔ مگر معلوم انسانی تاریخ میں غالباً یہ پہلی نمایاں مثال ہے کہ ایک قوم نے خالص مقصدی بنیاد وں پر لٹے پٹے مہاجرین کےلیے اپنے دروازے کھول دیے۔ ان کو نہ صرف اپنے گھروں میں جگہ دی بلکہ مواخاۃ قائم کر کے ان کو سگے بھائی کی طرح اپنی جائدادوں میں حصہ دار بنا دیا۔ اور یہ سب کچھ یہ جانتے ہو ئے کیا کہ مہاجرین کی یہ امداد صرف اقتصادی قربانی ہی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ عرب و عجم کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ حضرت علی کےیہ دو الفاظ ان کی بہترین تصویر ہیں
كَانُوا صُدَقَاءَ صُبَرَاءَ (البدایہ والنہایہ، جلد 3، صفحہ 145)۔ یعنی، (اوس و خزرج کے لوگ) بڑے سچے اور بڑے صبر کرنے والے تھے۔
…لضياء المقدسي، حدیث نمبر 1145)۔ یعنی، جب آپ اور آپ کے اصحاب مدینہ آئے اور انصار نے انہیں پناہ دی تو تمام عرب نے مل کر آپ کو نشانہ پر لے لیا۔ مدینہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہوا کہ وہ ہتھیاروں کے ساتھ رات گزارتے اور ہتھیار کے ساتھ صبح کرتے۔
قریش نے تمام عرب میں اہل مدینہ کےمعاشی بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ شہر کی معاشیات اچانک بڑھ جانے والی دگنا آبادی کے لیے انتہائی نا کافی ہو گئیں۔ اس پر مزید آئے دن ہونے والی جنگوں کےاخراجات، ان چیزوں نے معاشی تنگی کو اپنے آخری درجہ پر پہنچا دیا۔ حضر ت عمر کہتے ہیں کہ میں نے پیغمبر اسلام کو مدینہ میں دیکھا ہے۔ آپ سارے دن بھوک سے بے قرار رہتے۔ ردی کھجوریں بھی اتنی میسر نہ آتیں جس سے اپنا پیٹ بھر سکیں۔ بعد کے دور میں حضرت عائشہ سے کسی نے چراغ کا ذکر کیا تو انہوں نے جواب دیا اگر ہمارے پاس چراغ جلانے کے لیے تیل ہوتا تو اس کو ہم پی جاتے۔ غزوات میں بے سر وسامانی کا عالم یہ تھا کہ حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں، ہم لوگ آپ کے ہمراہ غزوہ کے لیے نکلے۔ ہمارے پاس چھ آدمیوں کے درمیان صرف ایک اونٹ تھا جس پر ہم باری باری سوار ہوتے۔ مسلسل پیدل چلنے کی وجہ سے ہمارے قدم چھلنی ہو گئے اور ہم نے اپنے پیروں پر چیتھڑے لپیٹ لیے، اسی لیے اس غزوہ کا نام ذات الرقاع (چیتھڑوں والا) رکھا گیا۔
غزوات کے سفر میں کھانے کا ذخیرہ اتنا کم ہوتا تھا کہ بعض اوقات لوگ کھجور کو کھانے کے بجائے چوستےتھے۔ اور بقیہ کمی کو ببول کے پتوں اورٹڈیوں کے ذریعہ پوری کرتے تھے۔ اس پر مزید اضافہ وہ بیماری تھی جو غذائی عادت کی تبدیلی سے پیداہوئی۔ مکہ کے…
…کی دعوت کے حق میں نرم پڑگئے۔ پہلی شادی کے علاوہ، جو آپ نے تقریباً دگنی عمر کی بیوہ سے نبوت سے پہلے کی تھی۔ دوسری شادیاں حقیقتہً ازدواجی تقاضے کے تحت وقوع میں نہیں آئیں، بلکہ ان کے ذریعہ اہم دعوتی اور سیاسی فائدے حاصل کرنا مقصود تھا۔
معاہدہ حدیبیہ کی رو سے اگلے سال (628ء) آپ دوہزار مسلمانوں کے ساتھ کعبہ کی زیارت کے لیے مکہ گئے۔ اس موقع پر تین روزہ قیام کے دوران آپ نے میمونہ بنت الحارث سے نکاح کیا جو بیوہ ہو گئی تھیں۔ میمونہ کی آٹھ بہنیں تھیں جن کی شادی مکہ کے آٹھ ممتاز گھر انوں میں ہوئی تھی۔ آپ نے میمونہ سے نکاح کر کے آٹھ خاندانوں سے اپنی رشتہ داری قائم کرلی۔ نیز خالد بن ولید میمونہ کے بھانجے تھے اور انہوں نے ان کو اپنے بچے کی طرح پالا تھا۔ نکاح کے بعد قریش کا سب سے بڑا فوجی سردار آپ کا بیٹا ہوگیا۔ چنانچہ اس کے بعد پھر خالد بن ولید مسلمانوں کے خلاف کسی معرکہ میں نہیں نکلے اور جلدہی مسلمان ہو گئے۔ اس تقریب سے آپ نے مکہ والوں کی دعوت ولیمہ کا بھی انتظام کیا تھا۔مگر مکہ والوں نے کہا کہ معاہدہ کے مطابق آپ صرف تین روز مکہ میں ٹھہر سکتے ہیں اور یہ مدت پوری ہو چکی ہے، آپ کو فوراً واپس جانا چاہیے۔ اس لیے آپ مکہ والوں کوولیمہ نہ کھلا سکے جو درحقیقت ان کی تالیف قلب کے لیے انتہائی اہمیت رکھتاتھا۔ خالد بن الولید اور عمر و بن العاص دونوں ایک ساتھ مسلمان ہوئےتھے۔ جب وہ مدینہ پہنچے تو ان کو دیکھ کر ایک شخص چیخ پڑا ان دو کے بعد مکہ نے اپنی نکیل دے دی (قَدْ أَعْطَتْ مَكّةُ الْمَقَادَةَ بَعْدَ هَذَيْنِ)مغازی الواقدی، جلد2، صفحہ744۔
ام حبیبہ بنت ابو سفیان اور ان کے شوہر عبید اللہ بن جحش نے اسلام قبول کر لیا تھا اور دونوں ہجرت کر کے حبش چلے گئے۔ وہاں ان کے شوہر نے نصر انیت اختیار کر لی، اس کے بعد جلد ہی ان کا انتقال ہو گیا۔ آپ نے ام حبیبہ سے نکاح کا منصوبہ بنایا۔ اس…
…تو اس قسم کی فوج ان کے پاس سے روانہ نہ ہوتی۔ ہم ابھی انہیں چھوڑدیں اور روم سے لڑنے دیں ، چنانچہ وہ رومیوں سے لڑے اور انہیں شکست دی اور انہیں قتل کیا اور سلامتی کے ساتھ واپس آئے۔ یہ دیکھ کر ارتداد کا ارادہ کرنے والے بھی اسلام پر جم گئے۔
آپ مدینہ پہنچے تو وہاں مشرکین کی ایک مختصر اقلیت کو چھوڑ کر دوبڑے گروہ آباد تھے۔ یہود اور مسلمان۔ پھریہ بھی مختلف ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے تھے جن کے درمیان کوئی اتفاق نہ تھا۔ لوگ نفسیاتی طور پر ایک ایسے شخص کے منتظر تھے جو ان کے درمیان اتحاد اور نظم پیدا کردے۔ آپ نے اس صورت حال کا اندازہ کر کے اپنی طرف سے ایک صحیفہ (نہ کہ معاہدہ) جاری کردیا جس میں یہود اور مسلمانوں کو مستقل حیثیت سے تسلیم کیا گیا تھا (إنَّهُمْ أُمَّةٌ وَاحِدَةٌ مِنْ دُونِ النَّاسِ... وَإِنَّ يَهُودَ ...أُمَّةٌ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ، لِلْيَهُودِ دِينُهُمْ، وَلِلْمُسْلِمِيْنِ دِينُهُمْ)اس صحیفہ میںدونوں کے مروجہ حقوق اور ذمہ داریوں کو چھیڑے بغیر انہیں ایک قابل قبول شکل میں تسلیم کر لیا گیا۔ اور اس کے بعد ایک دفعہ ان لفظوں میں شامل کر دی گئی
وَإِنَّكُمْ مَهْمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ، فَإِنَّ مَرَدَّهُ إلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِلَى مُحَمَّد (سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ 501-3)يعني، اور جب بھی تم میں کسی معاملہ میں کوئی اختلاف ہو تووہ معاملہ خد ا اور رسول کی طرف لوٹے…
فتح اسلام
بدر کی شکست نے دوبارہ قریش کو بھڑکا یا اور مختصر سی مدت میں ان سے کئی معر کے پیش آئے، جن میں احد (3ھ) اور احزاب (5ھ)خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان غزوات میں مسلمانوں کو شدید ترین مصائب پیش آئے۔ غزوہ خندق میں 800آدمی تھے۔ مگر سردی اور بھوک اورتکان کا عالم یہ تھا کہ جب آپ نے دشمن کی جاسوسی کے لیے ایک شخص کو بھیجنا چاہاتو تین بار آواز دینے کے بعد بھی کوئی نہ اٹھا، یہاں تک کہ آپ حضرت حذیفہ کے پاس آئے اور نام لے کر ان کو بلایا اور ان کو اس کام پر متعین کیا۔
دوسری طرف مدینہ کے یہود ایک مستقل اندرونی مسئلہ بنے ہوئے تھے۔ قریش سے مل کر دونوں کے درمیان اسلام کے خلاف سازشیں جاری رہتی تھیں۔ خندق کے 20روزہ محاصرہ کے بعدجب ایک شدید آندھی سے مجبور ہو کر قریش کی فوج مکہ واپس ہوئی تو آپ نے اس موقع کو…
…اتنا بڑھ چکا تھا کہ صلح حدیبیہ کے وقت اگر آپ کے ساتھ ڈیڑھ ہزار مرد تھے تو اب ان کی تعداد دس ہزار ہو چکی تھی۔ آپ نے خاموشی کے ساتھ مکہ کی طرف مارچ کر دیا۔ یہ سب کچھ اتنی حکمت اور تدبر کے ساتھ ہواکہ تقریباً خون بہائے بغیر مکہ فتح ہوگیا
وَعَدَكُمُ اللهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَذِهِ وَكَفَّ أَيْدِيَ النَّاسِ عَنْكُمْ (48:20)۔ يعني، اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے جن کو تم لوگے، پس یہ اس نے تم کوفوری طور پر دے دیا۔ اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیے ۔
معاہدہ کے وقت صورت حال یہ تھی کہ تقریباً 20برس کی مسلسل تبلیغی جدو جہد کے ذریعہ اسلام کی آواز سارے عرب میں پھیل چکی تھی۔ ہر قبیلہ میں بے شمار ایسے لوگ وجود میں آچکے تھے جن کے دلوں میں اسلام کی صداقت نے اپنی جگہ بنائی تھی۔ مگر اس وقت کے…
…کیا کہ انہوں نے ازخود معاہدہ کی یہ دفعہ ختم کردی۔ انسان کی سب سے بڑی کمزوری عجلت اور ظاہر پرستی ہے۔ اگر آدمی ظواہر سےبلند ہو جائے تو اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ایسے امکانات رکھے ہیں جو آدمی کو کامیابی تک پہنچانے کی یقینی ضمانت ہیں
وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ الصّدّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُمَا كَانَ فَتْحٌ فِي الْإِسْلَامِ أَعْظَمَ مِنْ فَتْحِ الْحُدَيْبِيَةِ، وَلَكِنّ النّاسَ يَوْمئِذٍ قَصَرَ رَأْيُهُمْ عَمّا كَانَ بَيْنَ مُحَمّدٍ وَرَبّهِ، وَالْعِبَادُ يَعْجَلُونَ، وَاَللهُ تَبَارَك وَتَعَالَى لَا يَعْجَلُ كَعَجَلَةِ الْعِبَادِ حَتّى تَبْلُغَ الْأُمُورُ مَا أَرَادَ اللهُ(مغازی الواقدی، جلد2، صفحہ610)۔حضرت ابوبکر فرماتے تھے اسلام میں فتح حدیبیہ سے زیادہ بڑی فتح کوئی نہیں ہوئی، مگر اس دن لوگوں کی نظریں وہاں تک نہ پہنچ سکیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رب کے درمیان تھا۔ بندے جلدی چاہتے ہیں۔ مگر اللہ بندوں کی طرح جلدی نہیں کرتا یہاں تک کہ معاملات وہاں پہنچ جائیں جہاں وہ ان کو پہنچانا چاہتا ہے۔
حقیقت پسندی دنیا میں سب سے زیادہ کمیاب ہے، اگر چہ حقیقت پسندی ہی وہ چیز ہے جو کسی کامیابی تک پہنچنے کا واحد یقينی ذریعہ ہے۔
…نے آپ کے خلاف سخت ترین جرائم کیے تھے۔ البتہ آپ نے کچھ لوگوں کی بابت فرمایا کہ وہ قتل کردیے جائیں، خواہ وہ کعبہ کے پردے کے نیچے پائے جائیں۔ ابن ہشام وغیرہ نے اپنی سیرت کی کتابوں میں نام بنام ان کا ذکر کیاہے۔ ان کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
1۔ عبد اللہ بن سعد یہ مسلمان ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کاتب ِوحی مقررکیا۔ پھر وہ مرتَد ہوکر کافروں سے جاملے۔ فتح مکہ کے بعد جب ان کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قتل کا حکم دیا ہے تو وہ بھاگ کر حضرت عثمان کے پاس پہنچے جو ان کے دودھ شریک بھائی تھے۔ وہ ان کو چھپا کر رسول اللہ کے پاس لائے اور کہا کہ ان کو دوبارہ مسلمان کر لیجیے۔ آپ خاموش رہے۔ حضرت عثمان نے پھر درخواست کی تو آپ نے ان سے بیعت لے لی۔ حضرت عمر اور حضرت عثمان کے زمانہ خلافت میں وہ مصر کے حاکم رہے اور افریقہ کی فتح میں ان کا خاص حصہ تھا۔
2۔ عبد اللہ بن خطَل اس نے پہلے اسلام قبول کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ اس کے ساتھ ایک غلام اور ایک انصاری تھے۔ ایک منزل پر پہنچ کر عبد اللہ بن خطل نے اپنے غلام سے کہاکہ مرغ ذبح کر کے اس کو پکاؤ۔…
…فاطمہ اور ام کلثوم کو لے کر مکہ سے مدینہ روانہ ہوئے۔ حویرث بن نقیذ نے ان کا پیچھا کیا اور ان کے اونٹ کو نیزہ مار کر بھڑ کا دیا جس کی وجہ سے دونوں خواتین زمین پر گر پڑیں۔ آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا اور حضرت علی نے اس کو قتل کیا۔
6۔ مِقْیَس بن صُبابہ اس شخص کا ایک بھائی ہشام بن صُبابہ تھا۔ غزوہ ذی قَرَد کے موقع پر ایک انصاری نے ہشام کو غلطی سے قتل کردیا۔ اس کے بعد مِقْیَس بن صبابہ مکہ سے مدینہ آیا مسلمان ہوگیا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے بھائی کی دیت مجھے دلائی جائے جو غلطی سے دشمن سمجھ کر قتل کیاگیا ہے۔ آپ نے اس کی دیت ادا کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد وہ چند دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہا اور پھر اپنے بھائی کے قاتل کو قتل کر کے اچانک مکہ بھاگ گیا اور مرتد ہو گیا۔ آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا اور نمیلہ بن عبد اللہ لیثی نے اس کو قتل کیا۔
7۔ سارہ یہ عورت عکرمہ بن ابی جہل کی باندی تھی۔ آپ کی ہجو میں اشعار گا یا کرتی تھی اور آپ کا مذاق اڑاتی تھی۔ آپ نے اس کا خون مباح کیا تھا۔ پھر اس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر امن مانگا تو آپ نے امن دے دیا۔ اس نے اسلام قبول کر لیا۔ وہ…
…آخر عمر تک بیمار رہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہبار کے قتل کا حکم دیا تھا۔ ہبار نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر امان طلب کی اور کہاکہ اے خدا کے رسول میری جہالت کو معاف کر دیجئے اور میرا اسلام قبول کر لیجیے۔ آپ نے ان کو معاف کر دیا۔
12۔ وحشی بن حرب وحشی نے آپ کے چچا حضرت حمزہ کو قتل کیاتھا اور ان کا خون بھی مباح کر دیا گیا تھا۔ وہ اولاً مکہ سے طائف بھاگ گئے۔ پھر مدینہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی غلطی کی معافی چاہتے ہوئے اسلام کی پیش کش کی۔ آپ نے ان کو اسلام میں داخل کر لیا اور ان کو معاف کر دیا۔ وہ حضرت ابوبکر کے زمانہ میں مسيلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں شریک ہوئے اور جس حربہ سے حضرت حمزہ کو شہید کیا تھا اسی حربہ سے مسیلمہ کذاب کو قتل کیا۔
13۔ کعب بن زہیر عرب کے مشہور شاعر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں اشعار کہا کرتے تھے۔ فتح مکہ کے موقع پر ان کا خون بھی مباح کر دیا گیا۔ وہ مکہ سے بھاگ گئے۔ وہ بعد کو مدینہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی غلطیوں…
اپنا تاج دوسرے کے سر پر رکھنا
مدینہ میں عبد اللہ بن ابی بہت عاقل اور صاحب شخصیت آدمی تھا، وہ مدینہ کا سب سے زیادہ ممتاز سردار سمجھا جاتاتھا۔ چنانچہ مدینہ کے باشندوں کو اپنا اختلاف و انتشار ختم کرنے کا احساس ہو ا تو انہوں نے عبد اللہ بن ابی کو منتخب کیا کہ اس کو اپنا بادشاہ بنائیں اور اس کی علامت کے طورپر اس کو ایک تاج پہنا ئیں (فَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ فَكَانَ قَوْمُهُ قَدْ نَظَمُوا لَهُ الْخَرَزَ لِيُتَوِّجُوهُ ثُمَّ يُمَلِّكُوهُ عَلَيْهِمْ ) سیرۃ ابن ہشام، جلد 2،صفحہ 166۔
عبد اللہ بن ابی کی تاج پوشی کا انتظام مکمل ہو چکا تھا کہ عین اس وقت اسلام مدینہ میںپہنچ گیا۔ مدینہ کے باشندوں کی فطرت نے اس کی صداقت کی گواہی دی اور اسلام گھر گھر میں پھیلنے لگا۔ اس کے بعد مدینہ کے باشندوں کا ایک نمائندہ وفد مکہ آیا اور…
قانونی حد سے آگے بڑھ کر ساتھ دینا
شعبان 2ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ قریش کے تمام سرداروں کی رہنمائی میں ایک ہزار کا لشکر مدینہ کی طرف حملہ کرنے کے لیے بڑھ رہاہے۔ اس میں چھ سو زرہ پوش تھے اور اسی کے ساتھ ایک سو سواروں کا خصوصی دستہ بھی شامل تھا۔ یہ ایک بہت نازک وقت تھا۔ آپ نے مدینہ کے انصار اور مہا جرین کوجمع کیا اور ان کے سامنے تقریر کرتے ہوئے یہ سوال رکھا کہ ایسی حالت میں کیا کرنا چاہیے۔ حسب معمول اولاً مہاجرین کے ممتاز افراد اٹھے اور انہوں نے کہا کہ ا ےخدا کے رسول، آپ کا رب جس بات کا حکم دے رہا ہے اس کی طرف بڑھئے، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہم یہود کی طرح یہ کہنے والے نہیں ہیں کہ تم اور تمہارا خدا جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہمارا کہنا یہ ہے کہ آپ اور آپ کا خدا چل کر لڑیں، ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں۔ جب تک ہم میں سے ایک آنکھ بھی گردش کر رہی ہے ہم آپ کا ساتھ چھوڑنے والے نہیں ۔
مگر رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین کی اس قسم کی تقریروں کے باوجود با ر بار یہ فرما رہے تھے کہ لوگو مجھے مشورہ دو (أَشِيرُوا عَلَيَّ أَيُّهَا النَّاسُ)۔ چنانچہ سعد بن معاذ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، شاید آپ کا…
بدر کی جنگ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بار بار انصار کی طرف رخ کرنا بےسبب نہ تھا۔ اس کا ایک خاص پس منظر تھا۔ ابن ہشام اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں
وَأَنَّهُمْ حِينَ بَايَعُوهُ بِالْعَقَبَةِ، قَالُوايَا رَسُولَ اللهِإنَّا بُرَاءٌ مِنْ ذِمَامِك حَتَّى تَصِلَ إلَى دِيَارِنَا، فَإِذَا وَصَلْتَ إلَيْنَا، فَأَنْتَ فِي ذِمَّتِنَا نَمْنَعُك مِمَّا نَمْنَعُ مِنْهُ أَبْنَاءَنَا وَنِسَاءَنَا. فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّفُ أَلَّا تَكُونَ الْأَنْصَارُ تَرَى عَلَيْهَا نَصْرَهُ إلَّا مِمَّنْ دَهَمَهُ بِالْمَدِينَةِ مِنْ عَدُوِّهِ، وَأَنْ لَيْسَ عَلَيْهِمْ أَنْ يَسِيرَ بِهِمْ إلَى عَدُوٍّ مِنْ بِلَادِهِمْ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحه 615)۔یعنی،اور ایسا اس لیے ہوا کہ انصار نے جب عقبہ میں بیعت کی تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ اے خدا کے رسول، ہم آپ کی ذمہ داری سے بری ہیں یہاںتک کہ آپ ہمارے دیس میں پہنچ جائیں۔ جب آپ ہمارے پا س آجائیں گے تو آپ ہماری ذمہ داری میںہوںگے اور ہم آپ کا دفاع کریں گے جس طرح ہم اپنے لڑکوں اور عورتوں کا دفاع کرتے ہیں ۔
پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندیشہ تھا کہ انصار کہیں یہ سمجھتے ہوں کہ ان پر آپ کی مدد کرنا اس وقت ہے جب کہ آپ کا دشمن مدینہ پہنچ کر حملہ کرے۔ ان پر یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اپنی بستی سے دور جا کر مقابلہ کریں۔
…اژدہا ہے، وہ کبھی غصہ ہو کر چاند کو نگل لیتاہے، اس وقت چاندگرہن پڑتا ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ زمین پر جب کسی بادشاہ یا کسی بڑے آدمی کی موت ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے سورج پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ اسی کا نام سورج گرہن ہے، وغیرہ۔
اِس قسم کے توہماتی تصورات ہزاروں سال تک قوموں میں رائج تھے، یہاں تک کہ دور بین (telescope) ایجاد ہوئی۔ گلیلیو نے پہلی بار1609 میں دور بین کے ذریعہ سیاراتی نظام (planetary system) کا مشاہدہ کیا۔
اس کے بعد دور بین کو ترقی ہوئی اور مزید مشاہدات کیے گئے۔ یہاں تک کہ معلوم ہوا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کا تعلق مذکورہ قسم کے توہماتی تصورات سے نہیں ہے، یہ تمام تر ایک فلکیاتی مظہر ہے۔وہ صرف اس لیے واقع ہوتا ہے کہ گردش کے دوران دو خلائی…
2 ۔ میں نے تمھارے اوپر اپنی نعمت کو پورا کردیا، یعنی قرآن کے گرد، اصحابِ رسول کی ایک مضبوط ٹیم جمع ہوگئی، جو قرآن کی حفاظت کی ضامن ہے۔
3 ۔ اور میں نے اسلام کو بحیثیت دین تمھارے لیے پسند کرلیا، یعنی اب اسلام کو ہمیشہ کے لیے مستند دینِ خداوندی کی حیثیت حاصل ہوگئی۔
قرآن میں پچیس پیغمبروں کا ذکر ہے۔ حدیث کے مطابق، قدیم زمانے میں جو پیغمبر دنیا میں آئے، ان کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی۔مگر ان پیغمبروں پر بہت کم لوگ ایمان لائے۔ اِس بنا پر اِن پیغمبروں کے ساتھ کوئی مضبوط ٹیم نہ بن سکی، جو اُن کے…
…جو ہدایت آتی ہے، وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ابدی ہوتی ہے۔ قرآن میں پیغمبرانہ ہدایت کو روشن آفتاب سے تشبیہہ دی گئی ہے (33:46)۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کی ہدایت اُسی طرح ابدی ہوتی ہے جس طرح آفتاب کی روشنی انسان کے لیے ابدی ہوتی ہے۔
اِس سے معلوم ہوا کہ تبدیلی ٔ زمانہ کے حوالے سے نئے پیغمبر کی ضرورت کو بتانا، ایک غیر متعلق (irrelevant) بات ہے۔ زمانے کی تبدیلی، یا مادّی تہذیب کی نئی ترقی کا کوئی تعلق نئی نبوت سے نہیں ہے۔ زمانے کی تبدیلی سے اگر کوئی عملی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ صرف نئے اجتہاد کی ضرورت کو ثابت کرتاہے، نہ کہ نئے نبی کی ضرورت کو۔مثلاً مسح علی الخفّین کے مسئلے کو لیجیے۔ قدیم زمانے میں چمڑے کے موزے ہوا کرتے تھے۔ اُس وقت چمڑے کے موزے کے حوالے سے مسح علی الخفین کا مسئلہ بتایا گیا۔ اب صنعتی ریشوں سے تیار کیے ہوئے موزوں کا زمانہ ہے۔ یہ تبدیلی اجتہاد کی ضرورت کو بتاتی ہے، نہ کہ نئے نبی کی ضرورت کو۔ اِس طرح کے بدلے ہوئے حالات میں صرف یہ کافی ہے کہ قرآن اور سنت کی روشنی میں صورتِ موجودہ پر شرعی حکم کا از سرِ نو انطباق (re-application) کیا جائے۔ اِسی کا نام اجتہاد ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے، تو اس وقت وہاں آب پاشی (irrigation) کا مسئلہ تھا۔ لوگوں نے کہا کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ آپ خدا کی مدد سے ہمارے اِس مسئلے کو حل کیجیے۔ آپ نے فرمایا ما بِهٰذا بُعِثْتُ إِلَيْكُمْ (سیرت ابن…
…(Guidance the Unknown) ہونا چاہیے۔ انسان کی صحیح ہدایت کا تعلق امورِ غیب سے ہے۔ یہ صرف خدا ہے جو امورِ غیب کا علم رکھتا ہے۔ اِس لیے صرف خدا ہی انسان کو صحیح رہنمائی دے سکتا ہے۔ ماضی میں پیغمبروں کے ذریعے یہی رہنمائی انسان کو دی جاتی رہی۔
اب اِس خدائی رہنمائی کا مستند متن قرآن کی صورت میں محفوظ ہے۔ اب قیامت تک کے لیے قرآن، نبوت کا بدل ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ انسان اِس مستند کلامِ الٰہی (word of God) کو پڑھے، وہ اُس پر تدبر کرے اور قیامت تک اُس سے اپنے لیے رہنمائی لیتا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جِئْتُ فَخَتَمْتُ الأَنْبِياءَ(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2287)۔ یعنی، میں آیا اور میں نے نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم کردیا۔
دلیلِ نبوت
…کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ماضی کے برعکس، حکومت کا دائرہ سمٹ کر اب صرف انتظامیہ (administration) تک محدود ہوگیا ہے۔ یہ تاریخ کی ایک عظیم تبدیلی ہے، مگر اِس تبدیلی کا آغاز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے کیا تھا۔
اِس تبدیلی نے اِس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ حکومت سے ٹکراؤ کیے بغیر خالص پُرامن طریقِ کار کے ذریعے بہت بڑے بڑے کام کیے جاسکیں۔ باشعور قوموں نے اِس امکان سے فائدہ اٹھا کر عملاً ایسا کررکھا ہے۔ چنانچہ اِن لوگوں نے حکومت سے باہر رہتے ہوئے اور حکومت سے ٹکراؤ کیے بغیر انتہائی اعلیٰ پیمانے پر اپنا میڈیا ایمپائر اور ایجوکیشنل ایمپائر اور انڈسٹریل ایمپائر اور مشنری ایمپائر بنالیا ہے ۔ مگر جہاں تک اِس امکان کی دریافت کا تعلق ہے، وہ پہلی بار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کی رہنمائی کے تحت حاصل ہوئی۔ اِس استثنائی معرفت کی اِس کے سوا کوئی اور توجیہ نہیں کی جاسکتی کہ یہ مانا جائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے۔
ایک غلط فہمی
…یعنی، ہم نے آسمان سے مبارک پانی اتارا۔ قرآن کی اِس آیت میں خدا کی ایک عظیم نعمت کا ذکر ہے۔ قدیم زمانے میں یہ بات صرف ایک روایتی عقیدے کی حیثیت رکھتی تھی، مگر سائنسی دریافتوں کے بعد وہ ایک عظیم علمی دلیل کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔
قرآن کی اِس آیت میں بارش کا حوالہ دیاگیا ہے۔ بارش کیا ہے۔ بارش دراصل سمندر کا پانی ہے، جو بھاپ بن کر اوپر جاتا ہے اور پھر مخصوص قانون کے تحت دوبارہ وہ نیچے کی طرف لوٹتا ہے، جس کو بارش کہتے ہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، سمندر کا پانی کھاری ہوتاہے۔ ایسا اِس لیے ہے کیوںکہ سمندر کے پانی میں 1/10 حصہ نمک شامل رہتا ہے۔ یہ نمک سمندر کے پانی میں تحفظی مادّہ (preservative) کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ چوں کہ پانی کے مقابلے میں نمک کا وزن کسی قدر زیادہ ہوتا ہے، اِس لیے جب سمندر کا پانی سورج کی گرمی سے بھاپ بن کر اوپر کی طرف اٹھتا ہے تو اس کا نمک کا حصہ نیچے رہ جاتا ہے۔ یہ اِزالۂ نمک (desalination) کا ایک عمل ہے، جو خدا کے قانون کے تحت ہوتا ہے۔ اِسی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ سمندر کا کھاری پانی ہم کوشیریں پانی کی صورت میں دست یاب ہوتا ہے۔ اِس عمل کے بغیر سمندر کا پانی ہمارے لیے قابلِ استعمال ہی نہ ہوتا۔
کولریج (Coleridge) ایک برٹش شاعرہے۔ اس کی وفات 1834میں ہوئی۔ اس نے ایک نظم لکھی ہے۔ اِس نظم میںاس نے بتایا ہے کہ لکڑی کا بنا ہوا ایک جہاز سمندر میں سفر کے لیے روانہ ہوا۔ درمیان میں سخت طوفان آیا۔ اُس کے نتیجے میں جہاز ٹوٹ گیا۔ بہت سے لوگ…
رسول اور اصحابِ رسول كى مثال
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كى وفات 632 عيسوى ميں هوئى ۔ اُس وقت سارا عرب اسلام كے ماتحت آچكا تھا۔ پيغمبر اسلام اِس عرب رياست كے سربراه تھے۔ آپ نے ايك با اختيار صدر مملكت كى حيثيت سے يه اعلان كيا كه لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ، وَلَا لِأَعْجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، وَلَا لِأَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ، إِلَّا بِالتَّقْوَى(مسند احمد،حدیث نمبر 23489)۔ يعنى، كسى عربى كو كسى عجمى پر كوئى فضيلت نهيں اور نه كسى عجمى كو كسى عربى پر كوئى فضيلت هے۔ كسى سفيد فام كو كسى سياه فام پر كوئى فضيلت نهيں، اور نه كسى سياه فام كو كسى سفيد فام پر كوئى فضيلت هے، سوا تقوى كے۔يه تاريخ ميں حصولِ جمهوريت كا پهلا باضابطه اعلان تھا۔ اِس رياستى اعلان كا مطلب يه تھا كه نظرياتى اعتبار سے، اب غير جمهورى دور كا خاتمه هوگيا اور جمهورى دور كا اصولى طورپر آغاز هوگيا۔ اِس طرح تاريخ ميں ايك نيا عمل شروع هوا جو انسانى آزادى كو برقرار ركھتے هوئے بتدريج بعد كى تاريخ ميں جارى رها۔
اِسى اعلانِ جمهوريت كاايك عملى مظاهره وه تھا جو اِس اعلان كے تقريباً 10 سال بعد حضرت عمر فاروق كى خلافت كے زمانے ميں پيش آيا۔اُس وقت حضرت عمر كى خلافت كے زمانے ميں مصر كا ملك مدينه كى رياست ميں شامل هوچكا تھا۔اُس وقت مصر ميں ايك واقعه…
…نے اُن كے مشن كو آگے بڑھنے نهيں ديا۔ اب الله نے تاريخ ميں مداخلت كرتے هوئے اِس مشن كا چارج خود لے ليا هے۔ يهى مداخلت اِس بات كى ضمانت هے كه خدا كا يه مشن اپنى آخرى تكميل تك پهنچے، كوئى بھى طاقت اس كے سفر كو روكنے ميں كامياب نه هو۔
رسول اور اصحابِ رسول كے ذريعے ساتويں صدى عيسوى ميں جو انقلاب آيا، وه اِسى فيصلهٔ الٰہی كا نتيجه تھا۔ اِس انقلاب كا سب سے زياده انوكھا پهلو يه تھا كه وه تقريباً 35 سال (610-644) كے اندر مكمل هوگيا۔ انقلاب كا يه پهلو بے حد اهم هے۔ تاريخ ميں دوسرے جو انقلابات پيش آئے، وه سب اپنى نوعيت كے اعتبار سے، سياسى انقلابات (political revolutions) تھے، مگر اسلامى انقلاب اِس كے برعكس، ايك نظرياتى انقلاب (ideological revolution) تھا۔ اِس بنا پر ضرورى تھا كه وه پهلى نسل (first generation) كے اندر مكمل هوجائے۔ سياسى انقلاب كو كئى نسلوں ميں مكمل كيا جاسكتا هے،ليكن نظرياتى انقلاب كا معامله يه هے كه وه يا تو پهلى نسل ميں مكمل هوگا، يا وه سرے سے مكمل هى نه هوگا۔
بنيادى طورپر پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے مشن كے دو دور تھے — ايك تھا، فاؤنڈيشن پيريڈ (foundation period) اور دوسرا تھا، توسيعى پيريڈ (expansion period)۔ توسيعى پيريڈ كى تكميل بعد كے دور ميں بھى ممكن هے، ليكن فاؤنڈيشن پيريڈ كے ليے…
عرب كا اسلامائزيشن
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كو عرب ميں جوكاميابى حاصل هوئي، اس ميں ايك بڑا دخل اُس واقعے كا هے جس كو اسلامى تاريخ ميں صلح حديبيه كها جاتاهے۔ يه ايك انوكھى تدبير تھى جس كو پورى تاريخ ميں كسى نے استعمال نهيں كيا تھا۔ يه مكمل طورپر ايك اجتهادى تدبير تھي۔
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے اپنا مشن 610 عيسوى ميں شروع كيا۔ يه زمانه جارحانه شرك اور مذهبى عدم روادارى (religious ntolerance) كا زمانه تھا۔ اِس بنا پر وهاں فريقِ ثانى كى طرف سے مسلسل طورپر ٹكراؤ اور جنگ كا سلسله شروع هوگيا۔ اِس…
…خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ (67:2)۔یعنی، جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے۔ اور وہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے۔
اصل يه هے كه الله نے اپنے تخليقى نقشے كے مطابق، انسان كو پيدا كركے سياره ارض پر بسايا۔ انسان كو زمين پر بسانا بطور امتحان (test) تھا، تاكه امتحانى حالات سے گزار كر احسن العمل افراد كا انتخاب كيا جائے، يعنى ايسے عورت اور مرد كا انتخاب جنھوں نے كامل آزادى كے باوجود اپنے آپ كو پورى طرح حدودِ الٰہی كا پابند بنايا، جنھوں نے اپنى آزادى كا غلط استعمال (misuse) نهيں كيا۔ يهى منتخب افراد وه لوگ هيں جن كو پورى تاريخ سے لے كر ابدى جنتوں ميں بسايا جائے گا۔ زمين پر يه آزادانه ماحول الله كو لازمى طور پر مطلوب هے۔ آزادى كے اِس نظام كو كوئى بھى شخص يا گروه اگر منسوخ (abolish) كرے تو الله هر گز اس كو قبول نهيں كرے گا، وه ايسے افراد يا گروه كا لازما خاتمه كردے گا۔
بادشاهت كے نظام كا خاتمه
…وهى هے جس كو عام طورپر مغربى تهذيب (western civilization) كهاجاتا هے۔ اِس تاريخى عمل كے دو بڑے دھارے تھے— ايك، وه جس كو جديد اصطلاح ميں، جمهوريت (democracy) كها جاسكتا هے۔ اور دوسرا، وه جس كو جديد ٹكنالوجى پر مبنى صنعت كهنا درست هوگا۔
عام طورپر مسلم علما مغربى تهذيب كے بعض ناپسنديده پهلو كو ديكھ كر اس كے بارے ميں منفى هوگئے هيں، مگر يه ناپسنديده پهلو دراصل مغربى تهذيب كا كلچرل پهلو هے، وهى اصل مغربى تهذيب نهيں هے۔ اصل مغربى تهذيب اپنى حقيقت كے اعتبار سے، وهى چيز هے جس كو هم نے خدا كے دين كے حق ميں تائيدى عنصر كى حيثيت سے بيان كيا هے۔
جمهوريت كا دور
…سے مجبور هوكر اصحابِ رسول كا ايك قافله مكه سے هجرت كركے حبش جارها هے، كبھى آپ اپنے مشن كے تحت طائف اوردوسرے مقامات پر جاتے هيں، كبھى دار الندوه ميں پيغمبر اسلام كے خلاف مشوره هورها هے اور آپ كو قتل كرنے كا منصوبه بنايا جارها هے، وغيره۔
پھر جب مكه ميں 13 سال قيام كے بعد آپ مكه سے 300 ميل كى دورى پر واقع شهر مدينه چلے جاتے هيں تواِس تذكرے ميں بهت زياده اضافه هوجاتاهے۔ اب غزوات اور سرايا اور جھڑپوں (skirmishes) جيسے واقعات كے نتيجے ميں آپ كا اور آپ كے مشن كا چرچا تمام عرب ميں، حتى كه اطرافِ عرب ميں پھيل جاتاهے۔ آپ كے مخالفين كى مخالفانه كارروائيوں كے نتيجے ميں بظاهر بهت سے واقعات هورهے تھے جو مسلسل لوگوں كے علم ميں آرهے تھے۔ اسى كے ساتھ ايك بلا اعلان عمل جارى تھا۔ يه عمل اِن واقعات كے درميان ايك انڈر كرنٹ يا زير سطح عمل (under the surface process) كى حيثيت ركھتا تھا۔ وه لوگوں كے اندر نهايت تيزى سے تجسس كى نفسيات پيدا كررها تھا۔ لوگ فطرى طور پر جاننا چاهتے تھے كه يه مشن كيا هے اور اِس مشن سے وابسته افراد كا معامله كيا هے۔ تجسس كى يه زيريں رو (under the surface process) الله كے منصوبے كے مطابق، عين مطلوب تھي، كيوں كه اُس سے پيغمبر اسلام كے مشن كے دعوتى مواقع مسلسل طورپر بڑھ رهے تھے۔ يهى وه عمل هے جس كو هم نے نصرت باعتبار پراسس كا نام ديا هے۔
نصرت باعتبارِ فتح
…كه آپ اهلِ مكه سے يه كهيں كه همارے اور تمھارے درميان ٹكراؤ اور جنگ كى جو صورتِ حال پيدا هوگئى هے، وه ايك غير مطلوب چيز هے۔ اور ضرورى هے كه اس كو ختم كرديا جائے۔ آخر كار يه طے هوا كه فريقين كے درميان صلح كا معاهده (peace treaty)هوجائے۔
صلح كا يه معاهده جب كاغذ پر لكھا جانے لگا تو اهلِ مكه كے نمائنده سردار نے شديد انداز ميں حميتِ جاهليه(48:26) كا مظاهره كيا۔ انھوں نے ضد اور سركشى كا طريقه اختيار كرتے هوئے مطالبه كيا كه ان كى يك طرفه شرطوں كى بنياد پر معاهده كيا جائے، حتى كه انھوں نے اصرار كيا كه ’’رسول الله‘‘ كے لفظ كو معاهدے كى تحرير سے مٹا ديا جائے۔ پيغمبر اسلام نے اهلِ مكه كى تمام شرطوں كو يك طرفه طور پر مان ليا، صرف اِس ليے كه اِس معاهدے كے ذريعے دونوں فريق كے درميان امن كا ماحول قائم هورها تھا۔
حديبيه كا معاهدهٔ صلح اهلِ مكه كى يك طرفه شرطوں كى بنياد پر هوا تھا۔ چنانچہ صحابه كے اندر اس كے خلاف شديد رد عمل پيداهوا۔ عمر فاروق نے كها لِمَ نُعْطِ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ مِنْ دِينِنَا(صحيح البخاري،حدیث نمبر 2731)۔ يعنى، هم اپنے دين كے…
war-defeat-revenge, war-defeat-revenge
مسلم تاريخ بھى اِس معاملے ميں استثنا (exception) كى مثال نهيں۔ اسلام كى ابتدائى تاريخ بتاتى هے كه 2 هجرى ميں بدر كى لڑائى پيش آئي۔ اِس جنگ ميں اهلِ ايمان كو مكمل فتح حاصل هوئي۔ انھوں نے فريقِ ثانى كے 70 افراد كو قتل كرديا، ليكن مسئله ختم نهيں هوا۔ عملاً يه هوا كه شكست خورده فريق انتقامى نفسيات ميں مبتلا هوگيا۔ مكه لوٹ كر اس نے نئى جنگ كى تيارى شروع كردى اور پھر 3 هجرى ميں اس نے انتقامى جذبے كے تحت مدينه پر حمله كرديا۔
اس كے نتيجے ميں وه جنگ پيش آئى جس كو جنگ احد كهاجاتا هے۔ جنگ احدميں اهلِ ايمان كو شكست هوئى اور فريقِ مخالف نے اِس جنگ ميں اهلِ ايمان كے 70 افراد كو قتل كرديا۔ جنگ كے خاتمے پر فريقِ مخالف كے سردار ابو سفيان نے ايك پهاڑى كے اوپر كھڑے هو كر…
…سِنِينَ، يَأْمَنُ فيهنَّ النّاسُ ويَكُفَّ بَعْضُهُم عن بَعْضٍ(سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ 317)۔ يعنى، يه وه معاهده هےجو محمد بن عبد الله اور سهيل بن عمرو كے درميان طے هوا۔ دونوں اِس پر رضامند هوئے كه دونوں كے درميان دس سال تك جنگ نهيں هوگي۔
معاهده حديبيه دراصل دس سال كے ليے ايك ناجنگ معاهده (no-war packt) تھا۔ مگر دونوں فريقوں كے درميان اُس وقت دشمنى كا جو ماحول تھا، اُس كے اعتبار سے اِس قسم كا معاهده ايك ايسا معاهده تھا جو عملاً ناممكن نظر آتا تھا۔ چنانچہ بظاهر يه ناممكن چيز صرف اُس وقت ممكن هوئي، جب كه پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے فريقِ ثانى كى كڑى شرطوں كو يك طرفه طورپر منظور كرليا۔
مثلاً ايك شرط يه تھى كه مكه كا كوئى شخص اگر اسلام قبول كركے مدينه آئے تو اس كو دوباره مكه والوں كى طرف لوٹانا هوگا۔ اِس كے برعكس، مدينے كا كوئى شخص اگر مكه چلا جائے تو اهلِ مكه كو حق هوگا كه وه اس كو مكه ميں روك ليں اور دوباره اس كو مدينه…
War and Peace, by LeoTolstoy—1865
مگر جيساكه معلوم هے، ٹالسٹائے كى كتاب صرف ايك ناول هے، يعنى وه فكشن كے پيرايے ميں لكھى گئى هے، اور كوئى فكشن حقيقى زندگى (real life) كے ليے گائڈ بك نهيں بن سكتا۔
قرآن كا بيان
…ميں فريقِ ثانى نے زبردست كاميابى حاصل كي۔ انھوں نے لڑائى كے ميدان ميں اهلِ ايمان كے 70 آدميوں كو هلاك كرديا۔ ايسا انتقامى نفسيات كى بنا پر هوا۔ بدر كى لڑائى اهلِ ايمان كے ليے فتح تھي، ليكن فريقِ ثانى كے ليے وه انتقام كے هم معنى بن گئي
Battle of Badr was victory for Muslims and revenge for the other party.
اِس تجربے سے معلوم هوا كه جنگ مسئلے كا حل نهيں۔جنگ ميں كاميابى صرف اُس وقت مسئلے كا حل بن سكتى هے جب كه فريقِ ثانى اپنى شكست (defeat) كو تسليم كرے۔ مگر هميشه ايسا هوتا هے كه هارا هوا فريق اپنى هار كو نهيں مانتا، بلكه اس كے اندر انتقام كے…
…طورپر هوا، وه عالمى طورپر انجام نه پاسكا۔ موجوده زمانے ميں پهلى بار وه ذرائع اور وسائل وجود ميں آئے هيں جن كو استعمال كركے كره ارض كے هر چھوٹے اور بڑے گھر ميں الله كا پيغام پهنچ جائے، زمين پر بسنے والا كوئى بھى انسان اُس سے بے خبر نه رهے۔
يه ذرائع اور وسائل خالق نے فطرت (nature) كے اندر بڑے پيمانے پر ركھ دیے تھے، مگر قديم زمانے ميں اِن ذرائع اور وسائل كو دريافت كرنا ممكن نه هوسكا۔ اهلِ مغرب نے پهلى بار ان كو دريافت كيا اور ان كو صنعتى مصنوعات (industrial products) كى صورت دے كر داعيوں اور مبلغوں كے ليے قابلِ حصول بنا ديا۔
4۔ قديم زمانے ميں اقوام كى تنظيم (international organisation) كا تصور نه تھا۔ قديم زمانے ميں صرف سياسى تنظيم (political organisation) كا تصور تھا، جو كسى بڑى سلطنت كے تحت بذريعه طاقت قائم هوتا تھا۔اِس تصور كے تحت قديم زمانے ميں وه نظريه…
…لَقِيتُ مِنْ قَوْمِكِ مَا لَقِيتُ، وَكَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ العَقَبَةِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3231)۔ یعنی تمھاری قوم سے مجھ کو بہت سی تکلیفیں پہنچی ہیں، مگر میرے اوپر سب سے زیادہ تکلیف والا دن وہ تھا، جب میں طائف گیا۔
ان تمام ایذارسانیوں کے باوجودآپ اپناکام کرتے رہے، بالآخرقریش نے طے کیااب ا س کے سواکوئی صورت نہیں ہے کہ آپ کوقتل کردیاجائے،چنانچہ ایک رات کوقریش کے تمام سرداروں نے ننگی تلواروں کے ساتھ آپ کامکان پر گھیرا ڈال دیا، تاکہ صبح کوجب آپ باہرنکلیں توآپ کوقتل کر دیا جائے، مگراﷲکی مددسے آپ بحفاظت گھرسے نکل گئے اورمدینہ جاکرقیام فرمایا۔
اس کے بعدقریش نے آپ کے ساتھ باضابطہ جنگ چھیڑدی،اوردس سال تک مسلسل آپ کو اورآپ کے ساتھیوں کوجدال و قتال میں الجھائے رکھا،جس میں آپ کے دانت شہید ہوئے، بہترین ساتھی مارے گئے،وہ تمام مصائب جھیلنے پڑے جوجنگی حالت پیداہوجانے کے بعدجھیلنے…
…دستوں نے اسے پکڑلیا، اور مجبور کیا کہ وہ ایک برطانوی جہاز پرسوار ہو۔ اس کے بعداس کوجلاوطنی کی زندگی گزارنے کے لیے جنوبی اٹلانٹک کے جزیرہ سینٹ ہیلنیا پہنچا دیا گیا، جہاں وہ تنہائی اور مشکل حالات میں زندگی گزارتے ہوئے5مئی 1821ء کومرگیا۔
مشہورکمیونسٹ مینی فسٹوجو1848میں شائع ہوا،ا س میں سب سے پہلے جس ملک میں اشتراکی انقلاب کی امیدظاہرکی گئی تھی، وہ جرمنی ہے،مگرایک سوبیس سال گزرنے کے بعدبھی جرمنی اب تک اس’’انقلاب‘‘ سے ناآشناہے۔مئی 1859ء میں کارل مارکس نے لکھا تھا ’’سرخ جمہوریت پیرس کے اوپرسے جھانک رہی ہے‘‘۔اس پیشین گوئی کوایک صدی سے زیادہ مدّت گزرگئی،مگرابھی تک پیرس کے اوپرسرخ جمہوریت کاآفتاب نہیں نکلا، اڈولف ہٹلر نے 14اپریل 1936ء کومیونخ کی مشہورتقریرمیں کہاتھا
’’میں اپنے راستہ پراس اعتمادکے ساتھ چل رہاہوں کہ غلبہ میرے حق میں مقدر ہوچکا ہے۔‘‘
کتاب کا مضمون
سلمان رشدی کی کتاب کا نام (شیطانی آیات) ایک جھوٹی کہانی پر مبنی ہے۔ یہ جھوٹی کہانی5 نبوی میں اس وقت گھڑی گئی جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،پر سورہ النجم نازل ہوئی (تفصیل ملاحظہ ہو فرضی کہانی)۔ کہانی کی ابتدائی مصنفین عین اسی جرم کے مرتکب ہوئے تھے جس کا ارتکاب سلمان رشدی نے اپنی کتاب شیطانی آیات لکھ کر کیا ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے اصحاب نے ان کے اوپر وہ سزا نافذ نہیں کی جس کا اعلان آج ایران کے شیعہ عالم اور ہندوستان کے سنی عالم مبینہ طور پر کر رہے ہیں۔ اگر اس جرم کی سزا لازمی طور پر وہی ہے جس کی موجودہ علماء وکالت کر رہے ہیں تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب کرام کو مکہ میں اس کا نفاذ کرنا چاہیے تھا ۔ مگر ثابت شدہ طور پر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ علماء کے اعلان کا ماخذ ان کی اپنی خواہشات ہیں ، نہ کہ قرآن اور سنت ۔
سلمان رشدی نے اپنی کتاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک توہین آمیز نام محاونڈ(Mahound)کا استعمال کیا ہے۔ یہ نام بلاشبہ اشتعال انگیز حد تک لغو ہے۔ انگریزی میں ہاونڈ کا لفظ کتے کے لیے استعمال ہوتا ہے، ’’مَ‘‘ انگریزی لفظ مائی(My)…
(سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 356)۔
یعنی ہم نے ایک قابل ِ مذمّت شخص کی نافرمانی کی۔ اس کی بات کا انکار کیا اور اس کے دین سے نفرت کی۔
اس معاملہ میں بھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے یہ فرمایا ہوکہ دیکھو فلاں لوگ میرا نام بگاڑ کر مجھ کو مذّ مم کہتے ہیں، ان سب کو قتل کر دو۔ اس کے برعکس جو ہوا ، وہ تاریخ کے الفاظ میںیہ ہے
فقهي مسئله، شرعي مسئله
تمام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شتم کرے، خواه وه اشارتاً ہی کیوں نہ هو، اس کی لازمی سزا قتل ہے۔ شاتم رسول کو بطور حد قتل کیا جائے گا اس معاملہ میں بہت کم کسی قابل ذکر فقیہ کا استثنا پایا جا سکتا ہے ۔ اس حکم کی تفصیل کے لیے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ کیجیے
1 ۔ الصارم المسلول علی شاتم الرسول ، ابن تیمیه
…جاری کردیں، حضرت مسیح کوخصوصی معجزاتی طاقتیں حاصل تھیں ۔ وہ زندہ کو مردہ اور مردہ کو زندہ کر سکتے تھے۔ مگر انھوں نے کبھی ایسا نہیں کیا جن لوگوں نے آپ کی یا آپ کی والدہ محترمہ کی اہانت کی تھی، ان کو مارنے اور ہلاک کرنے کی مہم شروع کردیں۔
اسی طرح اسلام کے دور اول میں مدینہ کے منافقین نے حضرت عائشہ صدیقہ پر نعوذباللہ بدکاری کا الزام لگایا اور عوام کے درمیان خوب پھیلایا۔ حضرت عائشہ نہ صرف پیغمبر اسلام کی اہلیہ تھیںبلکہ ان کی حیثیت ام المومنین کی تھی، وہ تمام مسلمانوں کے لیے مقدس ماں کا درجہ رکھتی تھیں۔ مگر مدینہ میں، اقتدار و اختیار کے باوجود ایسا نہیں کیا گیا کہ اس جرم کا ارتکاب کرتے ہی تمام مجرمین کو پکڑا جائے اور ان کا سر کاٹ کر شہر کی دیواروں پر لٹکادیا جائے۔ پھر جب رسول اور اصحابِ رسول نے ایسا نہیں کیا تو بعد کے مسلمان کس دلیل سے اس قسم کا فعل کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
…تب بھی ہمیں مصلحت کی بناپر اس کے قتل سے باز رہنا ہے کہ اگر اس کو قتل کیا گیا تو لوگوں کو یہ موقع مل جائے گا کہ اس کو لے کر اسلام کو بدنام کریں اور اسلام کی وحشیانہ تصویر بنا کر خدا کے بندوں کو اسلام کے سایۂ رحمت میں آنے سے روکنے لگیں۔
2۔عبداللہ بن ابی نے بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تھی۔ مثلاً اس نے کہا کہ اگر ہم مدینہ واپس پہنچ گئے تو جو عزت والا ہے وہ ذلت والے کو وہاں سے نکال دے گا (المنافقون 63:8)۔ عزت والے سے اس نے اپنے آپ کو مراد لیا اور ذلت والے نعوذباللہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ اسی طرح اس نے کہا کہ جو لوگ رسول اللہ کے ساتھ ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں (المنافقون 63:7)۔
عبداللہ بن ابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اس طرح کی اور بھی بہت سی گستاخیاں کیں۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ سے اس کے قتل کی اجازت مانگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ہم ایسا کریں تو مدینہ…
…لحاظ ہے، اور وہ یہ کہ اسلام کو اس سے بچانا کہ لوگ اس سے متنفر ہو جائیں اور اس کی طرف راغب نہ ہو سکیں۔ اگر مصلحت ِ دعوت کے مجروح ہونے کا اندیشہ ہو تو شاتم کے زندہ رہنے کو گوارہ کرلیا جائے گا۔ بجائے اس کے کہ اسلام کی بدنام کو گوارہ کیا جائے۔
مذکورہ واقعہ کا نتیجہ ابن تیمیہ کی رائے کے بالکل برعکس ثابت ہورہا ہے۔ مگر انہوں نے عجیب و غریب تاویل سے اس کو اپنے موافق بنالیا۔
3۔ابن تیمیہ اپنی اس کتاب کے ایک حصہ میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرو اپنے مالوں سے اور اپنے جانوں سے۔ اور جہاد بالنفس زبان سے بھی کیا جاتا ہے جس طرح وہ ہاتھ سے کیا جاتا ہے۔ بلکہ زبان کا…
…تو معلوم ہوا کہ جس (معاہد) شخص نے دین خدا اور رسول ِ خدا پر شتم کیا اور اس کا اظہار کیا اور کتاب الٰہی کا ذکر کھلم کھلا برائی کے ساتھ کیا، تو اس نے مسلمانوں سے جہاد کیا اور ان پر زیادتی کی، اور یہ نقص عہد ہے(اس لیے وہ مباح الدم ہے)صفحہ200۔
ابن تیمیہ کا مطلب یہ ہے کہ لفظی ہجو تیرسے بھی زیادہ سخت ہے۔ اس لیے اگر کوئی معاہدرسول کے خلاف گستاخی کرے تو اس نے تیر اور تلوار سے بھی شدید حملہ کیا۔ اس لیے اس کا عہد ٹوٹ گیا، اور اسی نقض عہد کی بنا پر وہ واجب القتل ہو گیا۔
ابن تیمیہ کو یہاں یہ کہنا چاہیے تھا کہ’’ الفاظ‘‘ کا حملہ ’’تلوار ‘‘ کے حملہ سے بھی زیادہ سخت اور زیادہ کارگر ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ الفاظ کا جواب الفاظ سے دیں۔ جو لوگ اسلام یا پیغمبر اسلام پر طعن کریں، نظم ونثر میں طاقتور جواب کے…
…شان میں بدترین گستاخیاں کرتا تھا اور آپ کو اذیت پہنچاتا تھا۔ وہ اپنی آخری عمر تک ایذا رسائی کا کام کرتا رہا۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قتل نہیں کرایا۔ یہاں تک کہ ذوالقعدہ9ھ میں وہ مدینہ میں اپنی طبعی موت مرگیا۔
عبداللہ بن ابی کو قتل نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اس لیے اس کے قتل سے باز رہے کہ آپ کو اندیشہ تھا کہ اس کو قتل کرنے کے بعد لوگ اسلام سے دور ہوجائیں گے۔ کیونکہ اسلام اس وقت کمزور تھا ’’فَعُلِمَ أَنَّ مَنْ آذَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا الكَلَامِ جَازَ قَتْلُهُ كَذَلِكَ مَعَ القُدْرَةِ، وَإِنَّمَا تَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَهُ لِمَا خِيفَ فِي قَتْلِهِ مِنْ نُفُورِ النَّاسِ عَنِ الإِسْلَامِ لَمَّا كَانَ ضَعِيفًا‘‘ ( صفحہ 175)۔
ابن تیمیہ کے نزدیک عبداللہ بن ابی کے زمانہ میں اسلام کمزور تھا، اور قتل سے پیدا ہونے والے حالات پر قابو نہیں رکھ سکتا تھا۔ اس ضعف کی بنا پر اس کھلے ہوئے شاتم رسول کو قتل نہیں کیا گیا۔ مگر ابن تیمیہ کي یہ توجیہ مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہے۔
…سادہ طور پر گستاخی اور بد زبانی کے مسئلہ سے۔ پیغمبر کے بعد کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس طرح کے واقعات کا حوالہ دے کر اپنے زمانہ کے لوگوں کو قتل کرنے لگے۔ بعد کے لوگوں کو صرف دعوت دینا ہے اور بقیہ تمام باتوں کو اللہ کے اوپر چھوڑ دینا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خدا اور ملائکہ اور انبیاء کے خلاف گستاخی کرنا یا دین پر عیب لگانا، ایک اعتراض ہے ، نہ کہ سادہ معنوں میںمحض ایک جرم۔ عام قسم کے سماجی یا اخلاقی جرم کا توڑ جسمانی سزا کے ذریعہ کیاجاسکتا ہے، مگر ایک فعل جو اعتراض اور تنقید کی نوعیت کا ہو، اس کا دفعیہ صرف جسمانی سزا کے ذریعہ ممکن نہیں۔ اس کا واحد توڑ یادفعیہ یہ ہے کہ اس کو دلائل سے رد کیا جائے۔ معترض کے الفاظ کے مقابلہ میں زیادہ طاقتور الفاظ سے اس کو بے حقیقت ثابت کردیا جائے۔
ان واضح اسباب کی بنا پر راقم الحروف کی قطعی رائے ہے کہ قتلِ شاتم کے بارے میں ’’جمہور فقہاء‘‘ کا جو مسلک نقل کیا جاتا ہے، وہ یا تو اس معنی میں نہیں ہے جس معنی میں ابن تیمیہ اور ان کے ہم خیال لوگ اس کو لے رہے ہیں۔اور بالفرض اگر وہ اس معنی…
یعنی محمد مذمّت کیے ہو ئے ہیں ہم ان کا انکار کرتے ہیں۔ ہم ان کے حکم کو نہیں مانتے۔ اور ہم کو ان کے دین سے بغض ہے۔
مكه ميں آپ نے اس قسم كي باتوں كا كوئي جواب نهيں ديا، مدينه آنے كے بعد اس طرح کے مواقع پر مسلمانوں کے شاعر حضرت حسّان بن ثابت شعر کا جواب شعر میں دیتے تھے۔ مثلاً ابن ہشام نے اپنی سیرت کی کتاب میں ایک مشرک عورت کا ذکر کیا ہے۔ جس نے اسلام اور اہلِ اسلام پر عیب لگاتے ہو ئے کچھ اشعار کہے(فَقَالَتْ، تَعِيبُ الْإِسْلَامَ وَأَهْلَهُ)۔ مذکورہ مشرکہ کے ہجو کے جواب مین حسّان بن ثابت نے اسی بحر میں کچھ اشعار کہے۔ یہ دونوں قسم کے اشعار ابن ہشام نے اپنی سیرت کی کتاب میں نقل کیا ہے(سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ637)۔
اسی طرح ایک موقع پرایک جاہلی شاعر نے اسلام کے خلاف کچھ باتیں کہیں ۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسّان بن ثابت سے کہا کہ اے حسّان، اٹھو اور اس آدمی نے جو کچھ کہا ہے اس کا جواب دو(قُمْ يَا حَسَّانُ، فَأَجِبْ الرَّجُلَ فِيمَا…
مصلحت دعوت
عبداللہ بن ابی مدینہ کا ایک منافق مسلمان تھا۔ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سخت عناد تھا۔ چنانچہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہایت بے ہودہ قسم کی گستاخیاں کیں۔ آپ کی ازواج مطہرات کے خلاف گھناؤ نے الزامات لگائے۔ حتٰی کہ اس کا مجرم اکبر ہونا خود قرآن (النور،24:11) میں ثبت کر دیا گیا۔
عبداللہ بن ابی کے اس مجرمانہ فعل کو دیکھ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کو قتل کردوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، اگر ایسا کروں…
بدنامی سے بچت
کسی کارخانہ کی خوش نامی اس کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ اسی طرح اسلام کی اشاعت کے لیے اس کی دعوتی تصویر بے حد اہمیت رکھتی ہے۔ اسلام میں یہ بات آخری حد تک مطلوب ہے کہ اسلام کی دعوتی تصویر کو بگڑنے سے بچایا جائے۔ اسلام کی دعوتی تصویر کی حفاظت ہر دوسری چیز پر مقدم ہے، حتیٰ کہ تو ہین رسالت اوراہانت اسلام جیسے جذباتی مواقع پر بھی۔
اس معاملہ کی وضاحت کے لیے یہاں عبداللہ بن ابی بن سلول کی مثال درج کی جاتی ہے۔ یہ شخص مدینہ کے قبیلۂ خزرج کا سردار تھا۔اس کی غیر معمولی صلاحیت کی بنا پر مدینہ کے لوگوں نے اس کو اپنا بادشاہ بنانا چاہا۔ اس کے لیے تاج کی تیاری بھی شروع ہو گئی…
…کا مقابلہ کریں۔ دوسرے لوگوں نے کہا کہ شہر کے اندر ٹھہر کر مقابلہ کیا جائے۔ عبداللہ بن ابی نے یہی دوسری رائے پیش کی۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے گروہ کی رائے کا لحاظ فرمایا اور ایک ہزار آدمیوں کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہو ئے۔
جب آپ مدینہ اور احد کے درمیان پہنچے تو عبداللہ بن ابی اپنے تین سو آدمیوں کو لے کر اسلامی فوج سے الگ ہو گیا۔ اس طرح اس نے بے حد نازک موقع پر سخت بے وفائی کا ثبوت دیا۔ مزید یہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی بھی کی۔ اس نے حقارت آمیز لہجہ میں کہا کہ اس شخص نے دوسروں کی بات مانی اور میری بات نہیں مانی۔ لوگو، میں نہیں سمجھتا کہ ہم یہاں کس لیے اپنے آپ کو ہلاک کریں أَطَاعَهُمْ فَخَرَجَ وَعَصَانِي، وَاللهِ مَا نَدْرِي عَلَامَ نَقْتُلُ أَنْفُسَنَا هَاهُنَا أَيُّهَا النَّاس ُ ( تفسیر الطبری، جلد6، صفحہ222)۔
(3)
مستقبل پر نظر
قدیم مکّہ میں جو ممتاز افراد تھے، ان میں سے ایک شخص کا نام سہیل بن عمرو تھا۔ آج سہیل بن عمرو کا شمار صحابہ کی فہرست میں ہو تا ہے۔ مگر اس سے پہلے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت دشمن تھے۔ وہ بدر کی لڑائی میں مشرکین کی طرف سے شریک ہو ئے۔ اس لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں مشرکین کو شکست ہو ئی۔ ان کے 70 آدمی گرفتار کرکے مدینہ لائے گئے۔ ان میں سے ایک سہیل بن عمرو بھی تھے۔
سہیل بن عمرو کے اندر زبان آوری کی غیر معمولی صلاحیت تھی۔ وہ خطیبِ قریش کہے جاتے تھے۔ اپنی اس صلاحیت کو انھوں نے بھر پور طور پر اسلام کے خلاف استعمال کیا۔ وہ شعر اور خطابت کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کر تے تھے۔ اور آپ…
…سنگین ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت قرآن کے راوی کی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے بواسطہ جبریل خدا کا کلام پایا ہے۔ اور اس کو تمہارے سامنے پیش کررہا ہوں ۔ آپ کی اسی روایت پر یقین کر کے ہم قرآن کوخدا کی کتاب مانتے ہیں۔
یہ معلوم ہے کہ کسی روایت کو قبول کرنے کے لیے راوی کا عادل ہونا شرط لازم ہے۔ جس راوی کی عدالت مشتبہ ہو، اس کی روایت کبھی قبول نہیں کی جائے گی۔ ایسی حالت میں مذکورہ تمیمی مسلمان کا آپ کو غیر عادل بتانا گو یاآپ کے راويِ قرآن ہو نے کی حیثیت کو مشتبہ قرار دینا ہے۔ یہ بلاشبہ سب سے زیادہ سخت بات ہے جو آپ کے خلاف کہی جا سکتی ہے۔ مذکورہ شخص نے اتنی سنگین بات کہی ، اس کے باوجود اس کو نہ کوئی سزا دی گئی اور نہ اس کو قتل کیا گیا۔
کیا اس کے بعد بھی اس میں شبہ کی کوئی گنجائش باقی رہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے بجائے خود کو ئی واجب القتل جرم نہیں ہے۔ کسی کے واجب القتل ہو نے کے لیے اسی کے ساتھ کچھ مزید اسباب درکار ہیں۔ مثلاً ریاستِ اسلامی…
…زبان سے نکلا اناللّٰہ واناالیہ راجعون۔ اس کے سوا انھوں نے کوئی کلام نہ کیا۔ صرف اپنا اونٹ لاکر حضرت عائشہ کے پاس بٹھا دیا۔ حضرت عائشہ اشارہ سمجھ کر اونٹ پر سوار ہوگئیں ۔ اس کے بعد وہ اونٹ کی نکیل پکڑ کر تیزی سے آگے کی طرف روانہ ہو گئے۔
دوپہر کے قریب یہ اونٹ مسلمانوں کے قافلہ سے جا ملا جبکہ وہ اگلے مقام پر ٹھہرا ہوا تھا۔ ابن ابی مُلَیکہ نے عروہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عائشہ جب اس طرح قافلہ میںپہنچی تو منافقین کے ایک گروہ نے ان کو دیکھ لیا جو عبداللہ بن ابی کے ساتھ وہاں بیٹھا ہوا تھا۔ ان کے سردار عبداللہ بن ابی نے پو چھا یہ کون ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ عائشہ ہیں۔ اس نے کہا کہ خدا کی قسم ، نہ یہ بچی ہیں اور نہ وہ ان سے بچا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ تمہارے پیغمبر کی بیوی نے ایک غیر شخص کے ساتھ رات گزاری ، یہاں تک کہ صبح ہو گئی، اب وہ ان کو لے کر آرہا ہے قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ، رَئِيسُهُمْ مَنْ هَذِهِ؟ قَالُوا عَائِشَةُ قَالَ وَاللَّهِ مَا نَجَتْ مِنْهُ وَمَا نَجَا مِنْهَا، وَقَالَ امْرَأَةُ نَبِيِّكُمْ بَاتَتْ مَعَ رَجُلٍ حَتَّى أَصْبَحَتْ ثُمَّ جَاءَ يَقُودُ بِهَا(تفسیر البغوی،جلد6،صفحہ23)۔
اس کے بعد جب یہ قافلہ مدینہ پہنچاتو عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی سرگرم ہو گئے۔ انھوں نے اس معاملے کو پروپیگنڈا کا اشوبنا یااور اس کو بھر پور طور پر آپ کے خلاف استعمال کیا۔ یہاں تک کہ سارے شہر میں ہنگامی حالت پیدا ہوگئی۔ ہر طرف اس کا…
…میں قصاص (البقرۃ، 2:179) کا اصول ہے۔ اِس کے مطابق، یہ ہونا چاہیے کہ قول کا جواب قول سے دیا جائے، قلم کا جواب قلم سے دیا جائے، اور کتاب کا جواب کتاب سے دیا جائے۔ یہ بات پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ سے واضح طورپر معلوم ہوتی ہے۔
مثلاً روایت میں آیا ہے کہ ایک مشرک قبیلے کا شعر مدینہ میں پیغمبر اسلام کے پاس آیا۔ اُس نے اپنے موقف کو اشعار کی زبان میں بیان کیا۔ واضح ہو کہ پریس کے دور سے پہلے شعر کا اسلوب اِس طرح کے معاملات میں رائج تھا۔ گویا شاعری کی حیثیت اُس وقت کے واحد میڈیا کی تھی۔ روایت میں آتا ہے کہ اُس وقت، پیغمبر اسلام نے ایک قاصد کو بھیج کر حسان بن ثابت الانصاری (وفات674ء) کو بلایا۔ جب وہ آگئے تو آپ نے حسان بن ثابت سے کہا ’’ قُم يا حسّان، فَأَجِبِ الرَّجُلَ فِيما قال‘‘ (سیرت ابن ہشام، جلد 4، صفحہ 227)۔ یعنی اے حسان اٹھو، اور اِس آدمی کا جواب دو جو اُس نے کہا ہے۔ اِس کے بعد حسان بن ثابت کھڑے ہوئے اور آنے والے شاعر کا جواب شعر کی زبان میں دیا۔
اِس طرح کے متعدد واقعات پیغمبر اسلام کے زمانے میں ملتے ہیں۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام، یا پیغمبر اسلام کے خلاف کچھ کہے، تو اس کا جواب برابر کی سطح پر دیا جائے گا، یعنی قول کا جواب قول سے، اور قلم کا جواب قلم سے۔ اِس سے…
…امتحان کی دنیا میں مومن کو بااصول طریقِ زندگی پر قائم رہنا ہے۔ کسی بھی قسم کے ٹمپٹیشن (temptation) اور پرووکیشن (provocation)سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے، اسلام کے اصولوں پر قائم رہنا، یہ ایک مسلسل عمل ہے، اِس لیے اس کو جہادِ اکبر کہا گیا۔
جہاں تک جہادِ اصغر کا تعلق ہے، وہ دراصل دفاعی جہاد کا دوسرا نام ہے۔ دفاعی جہاد استثنائی طورپر کبھی اتفاقاً پیش آتا ہے، وہ اسلامی زندگی کا کوئی مستقل حصہ نہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل کا زمانہ ہے ۔ آپ کی نبوت کا آغاز 12 فروری 610 عیسوی کو مکہ میں ہوا، اور 8جون 632 عیسوی کو مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی۔ اِس اعتبار سے آپ کی پیغمبرانہ مدت مسیحی کیلنڈر…
…صلح کر لوں گا۔ اس بات کو کہنے کے باعزت طریقہ کے طورپر آپ نے فرمایا کہ میں قریش کی طرف سے صُلح کے ہر خاکہ کو منظور کرلوں گا بشرطیکہ اُس میں قطع رحم نہ پایا جاتا ہو ۔ حالانکہ پیشگی طورپر یہ معلوم تھا کہ وہ قطع رحم کی شرط کبھی نہیں رکھیں گے۔
3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے تو جلد ہی یہاں کے باشندوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔ اُس وقت مدینہ میںایک شخص تھا جس کا نام عبد اللہ بن اُبی تھا۔ وہ اپنے زمانہ کا ایک بڑا لیڈر تھا۔ وہ بھی اگر چہ اپنے قبیلہ والوں کے ساتھ اسلام میں داخل ہوگیا۔ مگر اُس کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف حسد کا جذبہ تھا جس کی وجہ سے وہ اکثر آپ کے خلاف شر انگیز باتیں کیا کرتا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ کا ذکر مدینہ کے ایک مسلمان اُسید بن حضیر سے کیا۔ اُنہوں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! اُرْفُقْ بِهِ. فَوَاَللهِ لَقَدْ جَاءَنَا اللهُ بِكَ، وَإِنَّا لنَنْظِمَ لَهُ الْخَرَزَ…
To every vein of falsehood, every Muslim was a knife.
اسی طرح ڈنمارک کا کارٹونسٹ یہ کہہ سکتا ہے کہ پیغمبر اسلام کو ماننے والے خود یہ کررہے ہیں کہ اپنے جسم پر بم باندھ کر وہ اجتماعی مقامات پر جاتے ہیں اور دھماکہ کرکے وہاں بہت سے لوگوں کو ہلاک کردیتے ہیں۔ میں نے اپنے کارٹون میں صر ف یہ کیا تھا کہ بم کو جسم پر باندھنے کے بجائے اس کو سر کے اوپر رکھ دیا— ظاہر ہے کہ اس بات کا مسلمانوں کے پاس کوئی ایسا جواب نہ ہوگاجو مذکورہ کارٹونسٹ کو مطمئن کرسکے۔
اسلام کا ایک اہم اصول یہ بھی ہے کہ مسلمان ایسا کوئی کام نہ کریں جو دوسروں کو یہ کہنے کا موقع دے کہ ہم تو وہی کررہے ہیں جس کا نمونہ ہم کو تمہاری اپنی زندگی میں ملا تھا(ایں گناہے ست کہ در شہر شما نیز کنند) ۔ مسلمان اگر یہ چاہتے ہیں کہ کوئی…
شتم اور ارتداد
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام میں شتمِ رسول کی سزا قتل ہے۔ اِسی طرح یہ سمجھا جاتاہے کہ اسلام میں ارتداد(apostasy)کی سزا قتل ہے۔ شتم اور ارتداد کی اِس سزا کو حد (legal punishment) کادرجہ دیا جاتاہے اور سمجھا جاتا ہے کہ شاتم یا مرتَد کو بطور حد قتل کیا جائے گا (یُقتل حدًّا)۔
یہ قانون اسلام کے بعد کی تاریخ میں عباسی دور(750-1258ء)کے فقہاء نے بنایا، مگر اصل اسلامی ماخذ میں اِس قسم کا کوئی حکم موجود نہیں ۔ اِس لیے عین جائز ہے کہ اس حکم کو کالعدم سمجھا جائے اور اس کو غیر اسلامی قرار دے کر رد کردیا جائے۔
سوچنے کی بات
قرآن خدا کی کتاب ہے جو کائناتی حقیقتوں کو بیان کرتی ہے۔ قرآن میں جن حقیقتوں کا اعلان کیا گیا ہے، ان میں سے ایک عالمگیرحقیقت وہ ہے جو ان لفظوں میں ظاہرکی گئی ہے فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (94:5-6)۔پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بےشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
موجودہ دنیا میں جس طرح کانٹے کے ساتھ پھول ہو تا ہے، اسی طرح یہاں دشواری کے ساتھ آسانی کا پہلو بھی ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں کو ئی ناخوشگوار واقعہ کبھی خوشگوار امکانات کو ختم نہ کر سکے۔ ہر نا پسند…
…کے درمیان زبر دست ٹکراؤ جاری کر دیا ہے۔ میں تو زیادہ سے زیادہ صرف علمی تنقید کرتا ہوں۔ جب کہ دوسرے لوگوں کا حال یہ ہے کہ انہوں نے اختلاف سے گزر کر مسلمانوں کو باہمی تصادم میں ڈال دیا ہے۔ پھر بھی اختلاف پیدا کرنے کا الزام میرے اوپر ہے۔
تاہم عربوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ اختلاف کے باوجود کسی آدمی سے محبت کر سکتے ہیں۔ عرب نوجوانوں کی بڑی تعداد اخوانی تحریک سے متاثر ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ میں اخوانی تحریک کا ناقد ہوں۔ اس کے با وجود الاسلام یتحدیٰ کی بنیاد پر وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ محمد ضیا ءالدین ملا جفجی (حلب، شام) اخوانی نوجوان ہیں اور اخوانیوں کے بارے میں میرے خیالات کو جانتے ہیں۔ مگر وہ نہایت احترام اور محبت کے ساتھ مجھ سے ملتے رہے۔ وہ دوسری بار آئے تو بتایا کہ میں نے شام میں اپنے والد سے ٹیلیفون پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت میں خود نہیں آسکتا۔ تم شیخ وحید الدین کو میرا سلام کہو اور میری طرف سے ان کے ہاتھ کا بوسہ دو (قَبِّلْ يَدَهُ بِالنِّيَابَةِ عَنِّي)۔
12مارچ 1984 کو مسجد نبوی میں فجر کی نماز پڑھی۔ یہ مسجد نبوی میں ہماری آخری نماز تھی۔ نماز سے فارغ ہوکر جب میں باہر نکل رہا تھا تو بے اختیار میری زبان سے نکلا خدایا یہ وہ مقام ہے جہاں تیرے پیغمبر نے نمازیں پڑھی ہیں۔ جہاں پیغمبر کے اصحاب…
حکمت اور صبر
موجودہ دنیا میں کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لیے حکمت اور صبر لازمی طور پر ضروری ہیں۔ حکمت اور صبر کے بغیر نہ دین کا کوئی مقصد حاصل کیا جا سکتا اور نہ دنیا کا ۔
حکمت کی جڑ یہ ہے کہ آدمی ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو جانے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ہر قسم کے ظلم کے باوجود ظالموں سے نہیں لڑے ۔ مگر مدینہ میں حسب ضرورت آپ نے ظالموں کا مقابلہ کیا ۔ غزوۂ حمراء الاسد کا سفر بآواز بلند…
صبر منسوخ نہیں
ایک فلسطینی نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران میں نے دین میں صبر کی اہمیت کاذکر کیا اور صبرسےمتعلق قرآن کی آیتیں ان کے سامنے پیش کیں ۔ انھوں نے فوراً کہا صبر کی آیتیں تومکی دور میں اتری تھیں۔ ہجرت کے بعد صبر کا حکم منسوخ کر دیا گیا اور جہاد و قتال کی آیتیں اتاری گئیں۔ اب ہم دور صبر میں نہیں ہیں، اب ہم دور جہاد میں ہیں۔ اب ہمارے تمام معاملات جہاد کے ذریعہ درست ہوں گے اور یہی کام ہمیں کرنا ہے۔
یہ ایک بہت بڑا مغالطہ ہے، جس میں بے شمار لوگ مبتلا ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر ایک ابدی حکم ہے۔ اس کا تعلق ہر دور اور ہر زمانہ سے ہے ۔ صبر تمام دینی اعمال کا خلاصہ ہے۔ آدمی کوئی دینی عمل صحیح طور پر اسی وقت کر سکتا ہے جب کہ اس کے اندرصبر کا…
دعوت کا دور
محمد بن اسحٰق بیان کرتے ہیں کہ بیعت عقبہ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔آپ کو صرف یہ حکم تھا کہ آپ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائیں، اور تکلیفوں پر صبر کریں، اور جاہلوں سے روگردانی کریں ۔ قریش کا یہ حال تھا کہ آپ کی قوم میں سے جو لوگ آپ کی پیروی کرتے، وہ ان پر ظلم کرتے۔ ان کے دین کے بارےمیں انھیں سخت آزمائش میں مبتلا کرتے۔ قریش نے ان کو ان کی بستیوں سے نکال دیا۔ چنانچہ آپ کے پیروؤں میں سے کچھ لوگ سخت آزمائش میں مبتلا ہو گئے۔ اور کچھ لوگ قریش کے ہاتھ سے تکلیفوں کا شکار ہوئے۔ اور کچھ لوگ ان سے بچنے کے لیے دوسرے علاقوں میں چلے گئے۔ ایک جماعت حبش چلی گئی۔ کچھ لوگوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی یا اور کسی طرف چلے گئے ۔ جب قریش نے اس طرح اللہ کے مقابلہ میں سرکشی اختیار کی اور اللہ نے ان کے لیے جس عزت کا ارادہ کیا تھا اس کو رد کر دیا، اور اپنے نبی کو جھٹلایا۔ اور ان لوگوں کو تکلیف دی اور جلاوطن کیا، جنھوں نے اللہ کی عبادت کی اور اس کو ایک مانا اور اس کے دین کو مضبوطی سے پکڑ لیا، اس وقت اللہ نے اپنے رسول کو جنگ کی اجازت دی اور ان لوگوں کے لیے حفاظت اور مدد کا وعدہ کیا جن پر ظلم اور زیادتی ہورہی تھی۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اس اجازت کے بارے میں سب سے پہلے سورۃ الحج(آیت39-41) اتاری گئی۔ سیرت ابن ہشام، جلد2 ، صفحہ75۔
مکہ کا دور دعوت کا دور تھا۔ اس زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو حکم تھا کہ اپنی ساری توجہ صرف دعوت پرمرتکز رکھیں۔ غیرمسلموں کی طرف سے خواہ کتنی ہی دل آزاریاں کی جائیں اور کتنی ہی تکلیفیں پہنچائی جائیں ان پر کوئی…
خلافت کا دور
خلافت کا دور اقتدار کا دور ہے۔ اقتدار ، عین اپنی طبیعت کے اعتبار سے بہت سی خرابیاں پیدا کرتا ہے۔ اس لیے دور خلافت (دور اقتدار) میں صبر کی اہمیت ہمیشہ سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
1۔ دور خلافت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کے اندر عہدوں کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ ہر آدمی یہ چاہنے لگتا ہے کہ اس کو ایک اچھا سیاسی عہدہ مل جائے۔ اگر یہ مزاج باقی رہے تو خلافت کا پورا نظام بر باد ہو کر رہ جائے گا۔
…جو اس اختلاط اور میل جول کی دَین ہے۔ یہ میل جول بجائے خود تعلیم ہی کی ایک شکل اور ذریعہ ہے۔ اگر مدارس کے لوگوں کا دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ میل جول ہو تو میرے خیال میں ہندستان میں اس سے ہندو-مسلم تعلقات کے باب میں کافی فائدہ حاصل ہوگا۔
س کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کے ساتھ میل جول کو فروغ دینا علما کی ذمہ داری ہے؟لیکن اگر علما میل جول میں دلچسپی نہ لیتے ہوں تو؟
ج میں مدرسوں کو اس کا الزام نہیں دے رہا ہوں۔ میں تو صرف یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ دوسروں کے درمیان اسلام کا تعارف پیش کرنا یہ باہمی میل جول پر منحصر ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر ہزاروں لوگوں کے اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا…
…گا۔ ایک ہے، اللہ یتجلی فی عصر العلم ۔ یہ جان کلوور مونسما کی کتاب The Evidence of God in an Expanding Universeکا عربی ترجمہ ہے۔ اس سے انھیں معلوم ہوگا کہ سائنس اسلام کے خلاف نہیں ہے، اور دوسری کتاب جس کومیں پڑھنے کا مشورہ دوں گا، وہ یہ ہے
The Great Intellectual Revolution, by John Frederick West
اس کتاب سے انھیں معلوم ہوگا کہ دورِ جدید کی فکر کیا ہے۔
دوسرا موقع
ریڈرز ڈائجسٹ فروری1987ء میں ایک مضمون شائع ہوا ہے، اس کا عنوان ہے:
Dare to Change Your Life
…ہے۔ وہ روزانہ پیش آنے والے عام مقابلوں کے لیے بھی ہے۔ اگر کسی کے ساتھ آپ کی اَن بَن ہو جائے اور آپ فوراً ہی اس سے آخری لڑائی لڑنے کے لیے کھڑے ہو جائیں تو آپ ایک ’’برے سپاہی‘‘ ہیں۔ آپ اپنی زندگی میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر حالات میں آدمی’’پہلے دن‘‘ زیادہ موثر لڑائی لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ اس لیے عقل مند وہ ہے جو پہلے دن لڑائی کو اوائڈ کرے۔ وہ لڑائی کے میدان سے ہٹ کر اپنے آپ کو مضبوط اور مستحکم بنانے کی کوشش کرے۔ تاکہ یا تو اس کے مقابلے میں اس کا حریف اتنا کمزور ہو جائے کہ وہ لڑائی کے بغیر ہتھیار ڈال دے۔ یا وہ خود اتنا طاقت ور ہو جائے کہ وہ ہر معرکہ کو کامیابی کے ساتھ جیت سکے۔
اس اصول کی بہترین مثال اسلام کی تاریخ ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیغمبرانہ مدت کا نصف سے زیادہ حصہ مکہ میں گزارا۔ یہاں آپ کے مخالفین نے ہر قسم کا ظلم کیا۔ مگر آپ نے ان سے ٹکرائو نہیں کیا۔ آپ یک طرفہ طور پر صبر کرتے رہے۔…
…صلح کر لوں گا۔ اس بات کو کہنے کے باعزت طریقہ کے طورپر آپ نے فرمایا کہ میں قریش کی طرف سے صُلح کے ہر خاکہ کو منظور کرلوں گا بشرطیکہ اُس میں قطع رحم نہ پایا جاتا ہو ۔ حالانکہ پیشگی طورپر یہ معلوم تھا کہ وہ قطع رحم کی شرط کبھی نہیں رکھیں گے۔
3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے تو جلد ہی یہاں کے باشندوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔ اُس وقت مدینہ میںایک شخص تھا جس کا نام عبد اللہ بن اُبی تھا۔ وہ اپنے زمانہ کا ایک بڑا لیڈر تھا۔ وہ بھی اگر چہ اپنے قبیلہ والوں کے ساتھ اسلام میں داخل ہوگیا مگر اُس کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف حسد کا جذبہ تھا جس کی وجہ سے وہ اکثر آپ کے خلاف شر انگیز باتیں کیا کرتا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ کا ذکر مدینہ کے ایک مسلمان اُسید بن حضیر سے کیا۔ اُنہوں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہايَا رَسُولَ اللهِ!اُرْفُقْ بِهِ فَوَاَللهِ لَقَدْ جَاءَنَا اللهُ بِكَ، وَإِنَّا لنَنْظِمَ لَهُ الْخَرَزَ…
رُجز کو چھوڑو
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔اس وقت آپ کو ایک بنیادی ہدایت یہ دی گئی کہ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ (74:5)۔ یعنی، رجز کو چھوڑ دے۔ رجز کا مطلب گندگی ہے۔
وہ رجز کیا تھا جس کو آپ نے چھوڑ کر اپنا مشن چلایا۔اس کی تفصیل آپ کی سیرت کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے۔اس کا تعلق آپ کے مشن کے طریقہ کار (method) سے تھا۔ اگر رسول اللہ کی عملی روش کو لے کر اس کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔تو اس کا جواب یہ ہوگا…
منفی سوچ اسلام میں نہیں
ایک قوم کے اندر دوسری قوم کے خلاف منفی جذبات اُس وقت پیدا ہوتے ہیں، جب کہ پہلی قوم اپنی کسی مصیبت کا ذمّے دار دوسری قوم کو سمجھ لے۔ مگر اسلام میں اس قسم کی منفی سوچ کی قطعاً گنجایش نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خدا نے قرآن میں حتمی طور پر اعلان کیا ہے کہ جو بھی مصیبت تمہارے اوپر آتی ہے وہ صرف تمہارے اپنے ہی کیے کا نتیجہ ہوتی ہے (42:30)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی تعلیم کے مطابق ، کوئی مصیبت پیش آنے پر صرف یہ کرنا ہے کہ ذاتی احتساب (self-introspection) کر کے اپنی جانب کی کوتاہی کو معلوم کیا جائے جو کہ اصل وجہ ہے۔ اور پھر اس کو درست کیا جائے۔ اِس کے برعکس، اپنی مصیبت کا ذمے دار کسی دوسرے کو قرار دے کر اس کے خلاف نفرت اور انتقام میں مبتلا ہونا، اسلام میں سرے سے جائز ہی نہیں۔
پیغمبرِاسلام کی حدیثوں میں بھی یہ حقیقت مختلف انداز سے بیان ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں ایک حدیث یہ ہے۔ یعنی، تم اپنے دشمنوں پر اس وقت تک غالب رہوگے جب تک میری سنت کو پکڑے رہوگے۔ اور جب تم میری سنت سے نکل جائوگے تو اﷲ تمہارے اوپر ایسے لوگوںکو…
علی مرتضیٰ ؓ کی مثال
شورش پسند مسلمانوں کی ایک بھیڑ 35ھ میں مدینہ میں داخل ہوئی اور اس نے خلیفہ سوم حضرت عثمان کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد اتنا خلفشار برپا ہوا کہ مدینہ پانچ روز تک خلیفہ سے خالی رہا۔ پھر حضرت علی بن ابی طالب کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت ہوئی۔ تاہم مسلمانوں کا ایک بہت بڑا گروہ اس بیعت پر متفق نہ تھا۔ اس کا مطالبہ تھا کہ پہلے عثمان کا خون کرنے والوں کو سزا دی جائے، اس کے بعد وہ خلیفہ چہارم کی اطاعت کریں گے۔ اس کے مقابلہ میں حضرت علی یہ کہتے تھے کہ پہلے خلافت کے معاملہ کو مستحکم ہونے دو، اس کے بعد قاتلین کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی۔
اس طرح مسلمانوں کے دو گروہ بن گئے۔ ایک حضرت علی ؓ کے ساتھیوں کا، اور دوسرا آپ کے مخالفوں کا۔ دونوں میں سخت اختلاف تھا، یہ اختلاف بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ دونوں فریقوں کے درمیان جنگ کی نوبت آ گئی۔
اختلاف کے باوجود
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تیسرے خلیفہ راشد تھے۔ آخر عمر میں بعض جھوٹی خبروں کی بنا پر مصر کے ایک ہزار سے زیادہ آدمی مدینہ آئے۔ انھوں نے مدینہ پہونچ کر کافی شور و غل کیا اور آخر کار حضرت عثمان کے مکان کو گھیر لیا۔ اگرچہ حضرت عثمان کے خلاف ان کا الزام سراسر بے بنیاد تھا، مگر یہ مسلمان آپ سے اتنا برہم ہوئے کہ آپ کا گھر سے نکلنا اور گھر میں پانی جانا بند کر دیا۔ یہاں تک کہ18 ذی الحجہ 35 ھ کو حملہ کر کے آپ کو شہید کر دیا۔ بوقت وفات آپ کی عمر 82 سال تھی۔
حضرت عثمان کا محاصرہ تقریباً 40 دن تک جاری رہا تھا۔ بلوائیوں نے جب حضرت عثمان کو گھیر لیا اور مکان سے نکلنے پر پابندی لگا دی تو آپ کے لیے مسجد جانا ممکن نہ رہا۔ خلیفہ کی حیثیت سے نمازوں کی امامت آپ ہی فرماتے تھے۔ جب آپ کا مسجد جانا بند ہو…
ایثار
قرآن میں اہل ایمان کی جو صفات بتائی گئی ہیں ان میں سے ایک صفت دوسرے کے مفاد کے لیے اپنے مفاد کو قربان کرنا ہے۔ یعنی اپنی ضرورت پر دوسرے کی ضرورت کو مقدم سمجھنا۔ خود زحمت اٹھا کر دوسرے کی مدد کرنا۔ اپنی ذات پر دوسرے کی ذات کو ترجیح (Preference) دینا۔ اس انسانی صفت کے لیے قرآنی لفظ ایثار ہے۔
ہجرت کے بعد اچانک بہت سے لوگ مکہ سے مدینہ آ گئے۔ یہ لوگ بظاہر مدینہ والوں کے اوپر بوجھ تھے۔ کیوں کہ مہاجرین اس وقت بالکل خالی ہاتھ تھے۔ اور مقامی باشندوں (انصار) کے پاس مکان، زمین، باغ وغیرہ تھے۔ مگر اہل مدینہ نے انتہائی خوش دلی کے ساتھ ان…
حقیقتِ اسلام
جہاد کے لفظی معنی جدوجہد کے ہیں۔ اسلام میں بامقصد کوشش ہے، اسلام میں لڑ کر مر جانا نہیں۔ اسلام آدمی کو ایک تعمیری مشن دیتا ہے۔ اور مشن کا تقاضا ہے کہ آدمی اس کو برروئے کار لانے کے لیے اپنی خداداد صلاحیتوں کا نتیجہ خیز استعمال کرے نہ کہ بے فائدہ طور پر لڑ کر اپنا خاتمہ کر لے۔ مکہ میں پیغمبر اسلامؐ اپنے دشمنوں سے لڑ کر شہید نہیں ہو گئے بلکہ آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے تاکہ اپنے ربانی مشن کو جاری رکھنے کا موقع پا سکیں۔
قرآن میں کہیں بھی مطلق طور پر یہ بات نہیں کہی گئی ہے کہ اللہ کے لیے لڑ کر مر جاؤ۔ اس کے برعکس یہ فرمایا کہ اللہ کے لیے صبر کرو (ولربک فاصبر) قرآن میں پیغمبر اسلامؐ کو رحمۃ للعالمین کہا گیا ہے، قرآن میں کہیں بھی آپ کو سیف اللّٰہ علی…
پیغمبرؐ کا طریقہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جو غزوات ہوئے ان میں سے ایک غزوۂ بنی المُصطلِق ہے۔ یہ غزوہ 5 ھ میں پیش آیا۔ اس سے واپسی میں آپ مُریسیع کے چشمہ پر ٹھہرے۔ یہاں پانی کے سوال پر دو آدمیوں میں جھگڑا ہو گیا۔ ایک کا تعلق مہاجرین سے تھا اور دوسرے کا تعلق انصار سے ۔ انصاری نے انصار کے گروہ کو پکارتے ہوئے کہا: ی يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ۔ مہاجر نے مہاجرین کے گروہ کو پکارتے ہوئے کہا: يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ ۔
یہ دو آدمیوں کے ذاتی جھگڑے کو دو گروہ کا قومی جھگڑا بنانا تھا۔ اسی کو عصبیت جاہلیت کہا جاتا ہے۔ اور اسلام میں عصبیت جاہلیت کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔
رسول خدا کا اسوہ
قدیم عرب میں کعب بن زُہیر ایک شاعر تھے۔ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا تو کعب آپ کے مخالف ہو گئے۔ وہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے خلاف اشعار لکھتے اور لوگوں کے درمیان ان کو پھیلاتے۔ ان اشعار میں نہایت برے انداز میں آپ کی ہجو اور تنقید ہوتی۔
جب مکہ فتح ہو گیا تو کعب بن زہیر کو اپنے لئے زمین تنگ دکھائی دینے لگی۔ ان کے بھائی بُجیر اسلام قبول کر چکے تھے۔ انھوں نے کعب سے کہا کہ مدینہ جاؤ اور اسلام قبول کر لو۔ اب اسی میں تمہارے لئے بھلائی ہے۔ کعب بن مالک کے خط کا ایک فقریہ تھا کہ…
شکایت کے باوجود
فتح مکہ کا واقعہ رمضان 8 ھ میں پیش آیا۔ اس کے جلد ہی بعد شوال 8 ھ میں غزوۂ حنین ہوا۔ مکہ کی طرف اقدام سے کچھ ہی پہلے خالد بن الولید نے مدینہ آ کر اسلام قبول کیا تھا۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں مہموں میں حضرت خالد کو مسلم لشکر کا سردار بنا دیا۔
یہ بات انصار کے اوپر شاق تھی۔ کیوں کہ انصار کے لوگ بہت پہلے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ایمان لا کر جاں نثاری کر رہے تھے۔ جب کہ حضرت خالد ابھی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ آج کل کی زبان میں یہ گویا سینئر اور جونیئر کو ترجیح…
دعا اور اعتراف
تاریخ اسلام کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو مواخاۃ کہا جاتا ہے۔ مکہ کے مسلمان جب مہاجر کی حیثیت سے مدینہ آئے تو رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ دو دو شخص اللہ کی راہ میں بھائی بھائی بن جاؤ (تآخَوْا فِي اللَّهِ أخَوَيْن أخَوَيْن) سیرت ابن ہشام،جلد2،صفحہ109۔ اس ہدایت کے مطابق ہر انصاری نے ایک مہاجر کو اپنا بھائی بنا لیا۔ انصار نے اپنے تمام اثاثہ کو تقسیم کر کے آدھا خود لیا اور آدھا اپنے مہاجر بھائی کو دیدیا۔ اس مواخاۃ کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ اس معاملہ میں انصار نے یک طرفہ طور پر جس کمالِ ایثار کا ثبوت دیا اس کی کوئی دوسری مثال پوری معلوم تاریخ میں نہیں ملتی۔ انصار کے اعلیٰ سلوک سے خود مہاجرین بے حد متاثر تھے
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ الْمُهَاجِرُونَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا رَأَيْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَيْهِمْ أَحْسَنَ مُوَاسَاةً فِي قَلِيلٍ، وَلَا أَحْسَنَ بَذْلًا فِي كَثِيرٍ، لَقَدْ كَفَوْنَا الْمَؤُنَةَ، وَأَشْرَكُونَا فِي…
اچھا مسلمان
حضرت ابوذر الغفاریؓ ایک مشہور صحابی ہیں۔ انھوں نے مدینہ کے پاس ربذہ میں 32 ھ میں وفات پائی۔ ان سے ایک طویل حدیث مروی ہے۔ اس حدیث کا ایک حصہ یہ ہے:
دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ وَحْدَهُ، ...فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ...أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْمَلُ إِيمَانًا؟ قَالَ: "أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ،…
حدیث کا مطالعہ
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْةِ أَبِي بَكْرٍ رضي الله عنهما قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ صِلِيهَا(صحیح البخاری،حدیث نمبر 3183؛ صحيح مسلم،حدیث نمبر 1003)۔
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری(رضاعی) ماں میرے پاس مدینہ آئیں۔ اس وقت وہ شرک پر تھیں اور وہ قریش کی حلیف تھیں۔ میں نے پوچھا کہ اے خدا کے رسولؐ میری مشرک ماں میرے پاس آئی ہے اور وہ مجھ سے کچھ چاہتی ہے۔ کیا میں انہیں صلہ…
سچی ہوشیاری
حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی مسجد نبوی میں تھے۔ صحابہ کی ایک تعداد آپ کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ اتنے میں انصار کا ایک نوجوان آیا۔ نوجوان نے آپ سے کچھ سوالات کیے جن کا آپ نے جواب دیا۔ وہ سوال و جواب یہ تھا:
قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا ، قَالَ: فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْيَسُ؟ قَالَ: أَكْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِكْرًا، وَأَحْسَنُهُمْ لِمَا بَعْدَهُ اسْتِعْدَادًا، أُولَئِكَ الْأَكْيَاسُ…
…وابستہ تھے۔ اس لیے مکہ میں عمومی سطح پر توحید کو مقبولیت حاصل نہیں ہوئی۔ یہی بات تھی جس کو قرآن کے بیان کے مطابق اہل مکہ نے اس طرح کہا تھا: اگر ہم تمہارے ساتھ ہو کرتوحید کی اس ہدایت پر چلنے لگیں تو ہم اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے(28:57)۔
3۔ مکہ میں جب حصول افراد کا وہ کام مکمل ہوگیا جس کو قرآن میں قطع طرف(آل عمران،3:127) کہاگیا ہے، یعنی ان کے بہتر حصہ کو کاٹ کر نکال لینا، تو اس کے بعد آپ نے وہاں سے ہجرت کا فیصلہ فرمایا۔ ہجرت کوئی فرار نہیں تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مدینہ جا کر وہاں کے امکانات کو استعمال کیا جائے۔ یہ تاریخی امکانات اللہ تعالیٰ نے پیشگی طور پر مدینہ میں پوری طرح جمع کر دیئے تھے۔
مثلاً مدینہ کے علاقہ میں یہود کے تین قبائل(نضیر، قُریظہ، قینقاع) کی موجودگی۔70ء میں رومی شہنشاہ تیتس(Titus) نے فلسطین کو فتح کیا۔ اس نے یروشلم کو تباہ کر دیا۔ اس کے بعد یہودی جلاوطن ہو کر مختلف ملکوں میں چلے گئے۔ ان میں سے کچھ مدینہ بھی…
…چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو ان کے سردار متفرق ہو چکے تھے۔ ان کے سربرآوردہ لوگ مقتول اور زخمی ہوگئے تھے۔ چنانچہ اس واقعہ کو اللہ نے اپنے رسول کے لیے بطور تمہید برپا کیا جو اہل مدینہ کے لیے دخولِ اسلام میں معاون بنا۔
یہی بات انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار نے اس طرح کہی ہے کہ مدینہ کی ایک قبائلی جنگ میں بہت زیادہ خون بہا تھا جو 618 میں ہوئی۔ اس کے بعد امن پوری طرح قائم نہیں ہو سکا تھا۔ محمدؐ کو مدینہ بلا کر وہاں کے بہت سے عرب غالباً یہ امید کر رہے تھے کہ وہ مخالف گروہوں کے درمیان ثالث کا کام کریں گے۔ اور یہود سے اہل مدینہ کے ربط نے غالباً انہیں ایک مسیحائی مذہبی قائد کو قبول کرنے کے لیے تیار کیا ہوگا جو کہ انہیں ظلم سے نجات دلائے اور ایک ایسی سلطنت بنائے جس میں انہیں انصاف مل سکے
Much blood had been shed in a battle at battle at about 618, and peace was not fully restored. In inviting Muhammad to Medina, many of the Arabs there probably hoped that he would act as an arbiter among the opposing parties, and their…
ہجرت مقام عمل کی تبدیلی
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات مکہ میں سخت سے سخت تر ہوتے چلے گئے، یہاں تک کہ وہاں کے مخالفین آپ کے قتل پر آمادہ ہوگئے۔ اس وقت آپ نے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہیں کیا بلکہ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے جس کو ہجرت کہا جاتا ہے۔
یہ ہجرت سادہ طور پر ترکِ وطن نہ تھی۔ یہ دراصل ایک اسٹریٹجی کا معاملہ تھا۔ اس کو ایک لفظ میں مقام عمل کی تبدیلی کہا جا سکتا ہے۔ آپ نے جب مکہ کو ایک ناموافق مقام پایا تو آپ نے مدینہ کو اپنا مرکز بنا لیا تاکہ وہاں سے اپنا مشن جاری رکھ سکیں۔
دشمن کو استعمال کرنا
بدر کی جنگ کے بعد مخالف فوج کے ستر آدمی گرفتار ہو کر مدینہ آئے۔ یہ سب مکہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اور وہ پڑھے لکھے لوگ تھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ ان جنگی مجرموں میں سے جو شخص مدینہ کے دس بچوں کو پڑھا دے گاوہ اس کا فدیہ ہوگا۔ اور اس کے بعد ہم کو رہا کر دیں گے (مسند احمد، حدیث نمبر 2216)۔ یہ اسلام کی تاریخ میں پہلا اسکول تھا جو اس طرح قائم کیا گیا کہ اس کے طلبہ تو سب مسلمان تھے مگر اس کے ٹیچر سب کے سب دشمن قوم سے تعلق رکھتے تھے۔
میدان عمل کی تبدیلی
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ چلے آئے۔ مگر مکہ کے سردار اب بھی خاموش نہیں ہوئے۔ انہوں نے آپ کے خلاف باقاعدہ جنگ چھیڑ دی۔ کئی بار دونوں طرف کی فوجوں میں ٹکراؤ ہوا۔ مگر جنگ کے ذریعہ آخری فیصلہ نہ ہو سکا۔
اس کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ سے وہ معاہدہ کر لیا جو صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ دراصل دونوں فریقوں کے درمیان دس سال کا ناجنگ معاہدہ تھا۔ اس معاہدہ کے ذریعہ آپ نے فریق ثانی کے ساتھ میدان مقابلہ کو بدل دیا۔ اب…
بصیرت کی ضرورت
قران میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے رسول میں تمہارے لیے نمونہ ہے(الاحزاب، 33:21)۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی بات ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے نمونہ لینے کے لیے گہری سمجھ کی ضرورت ہے۔ اگر آدمی کے اندر گہری سمجھ نہ ہو تو وہ بظاہر قرآن کا یا سنت رسول کا نام لے گا مگر حقیقۃً اس کے عمل کا قرآن و سنت سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کسی ایک چیز کا نام نہیں بلکہ وہ بہت سی چیزوں کا مجموعہ ہے ۔ مثلاً ہم سیرت کی کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال تک مکہ میں رہے مگر آپ نے کبھی کعبہ میں رکھے…
…ہے جس کا نام الفتح ہے۔ اس سورۃ میں اس واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ: ہم نے تم کو کھلی فتح دیدی(إِنَّا فَتَحْنا لَكَ فَتْحاً مُبِيناً) 48:1۔ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے جس چیز کو سپریم سکسس بتایا ہے، اس کو قرآن میں فتح مبین کہا گیا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فتح مبین یا سپریم سکسس کس طرح حاصل ہوئی۔ قرآن کی مذکورہ آیت بتاتی ہے کہ آپ کو یہ غیر معمولی فتح صلح حدیبیہ کے ذریعہ اور اس کے بعد حاصل ہوئی۔ قرآن کی مذکورہ آیت صلح حدیبیہ کے بارے میں اتری تھی۔ اس لئے یہاں بطریق نص یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس فتح کاراز وہ مخصوص طریقہ تھا جس کا استعمال حدیبیہ کے واقعہ میں کیا گیا۔ اس کو ہم حدیبیہ منہاج کہہ سکتے ہیں۔
حدیبیہ سے بظاہر آپ اپنے مقصد کو حاصل کئے بغیر واپس آئے تھے۔ چنانچہ حدیبیہ سے مدینہ واپس جاتے ہوئے راستہ میں جب سورہ فتح نازل ہوئی تو ایک شخص نے کہا کہ یہ تو کوئی فتح نہیں۔ انہوں نے ہم کو بیت اللہ میں داخلہ سے روک دیا۔ آپ نے فرمایا۔ بلکہ…
…ہوگئے تو ایک ابوبکر صدیق کو چھوڑ کر تمام اصحاب رسول نے اس پر اپنی عدم رضا مندی کا اظہار کیا۔ کوئی بھی اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید اصرار اور دباؤ کے تحت آخر کار وہ اس پر راضی ہوئے۔
یہاں سوچنے کی بات ہے کہ بدر واحد میں اور حدیبیہ میں کیا فرق ہے کہ اصحاب رسول جیسا سرفروش گروہ بدر واحد کی قربانی کے لئے بخوشی راضی ہوگیا مگر حدیبیہ کی قربانی پر راضی ہونا اس کے لئے سخت مشکل بن گیا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ بدر واحد کے محاذ پر جان کی قربانی دینا تھا، اور حدیبیہ کے محاذ پر وقار کی قربانی دینے کا مسئلہ تھا۔ اور سارسی تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ انسان کے لئے جان کی قربانی اتنی آسان ہے کہ ساری معلوم تاریخ میں بے شمار لوگ مسلسل…
اسوۂ حسنہ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ نے قدیم مکہ میں دعوت کا کام شروع کیا تو مکہ کے لوگ، خاص طور پر وہاں کے سردار آپ کے سخت مخالف ہوگئے۔ انہوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو سخت ترین تکلیفیں دیں۔ مگر آپ کو حکم دیا گیا کہ تم کوئی جوابی کارروائی نہ کرو بلکہ یکطرفہ طور پر ان کی سختیوں کو نظر انداز کرو(داع اذاھم) الاحزاب، 33:48۔
اس طرح آپ13 سال تک صبر کرتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ لوگ آپ کی جان کے دشمن ہوگئے۔ انہوں نے تلوار لے کر آپ کے مکان کو گھر لیا۔ اس وقت بھی آپ نے مقابلہ نہیں کیا۔ بلکہ اللہ کے حکم سے آپ خاموشی سے مکہ سے نکل کر مدینہ چلے گئے۔
ہجرت رسولؐ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوت کے تیرھویں سال مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ کچھ غیر مسلم مورخین اس کو فرار(Flight) کہتے ہیں۔ مگر اسلامی تاریخ میں اس کو ہجرت کہا جاتا ہے۔ یہ محض خوش عقیدگی کی بات نہیں بلکہ ایک واقعہ کا اظہار ہے۔ اس قسم کا واقعہ عام طور پر فرار ہی ہوتا ہے۔ مگر یہ پیغمبر اسلام کا خصوصی کارنامہ ہے کہ آپ نے فرار کے معاملہ کو ہجرت کے معاملہ میں تبدیل کر دیا۔
عام لوگ جن کو اپنے ملک میں سخت حالات پیش آئے اور آخر کار ان کو وہاں سے ’’فرار‘‘ اختیار کرنا پڑا، وہ کون لوگ تھے ۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے حکومت وقت کے خلاف سیاسی تحریک چلائی۔ انہوں نے موجودہ حکمران کو بے دخل کرکے حکومت پر قبضہ کرنا چاہا۔…
…امن پسند۔ دوسرے افراد اگر لوگوں کو مار کر خوش ہوتے ہیں تو وہ لوگوں کو زندگی دے کر خوشی حاصل کرتا ہے۔ دوسروں کے پاس اگر لوگوں کے لئے نفرت کا تحفہ ہوتا ہے تو اس کے پاس صرف محبت کا تحفہ خواہ دوسرے لوگ اس سے نفرت کا معاملہ کیوں نہ کر رہے ہوں۔
صحیح البخاری میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے اجتماعی امور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کیا تھا۔ امام البخاری نے یہ حدیث چار ابواب کے تحت نقل کی ہے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں:(مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا)( صحيح البخاري،حدیث نمبر 3560)۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو معاملوں میں سے ایک کو لینا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کو لیتے تھے۔
یہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کے درمیان آپ کو جو معاملات پیش آتے تھے، ان میں آپ ہمیشہ آسان پہلو کا انتخاب فرماتے تھے۔ جب ایک طریقہ امن کا ہو اور دوسرا طریقہ ٹکراؤ کا، ایک طرف نزاع ہو…
…آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّباتِ مَا رَزَقْناكُمْ وَاشْكُرُوا لِلهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ (2:172)۔یعنی، اے ایمان لانے والو جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا کی ہیں ان کو کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو۔
احکام کے جس مجموعہ کے لیے میں نے’’ اطاعت ‘‘ کا عنوان اختیار کیا ہے ۔ اس کی دوسری قسم وہ ہے جس کو ہم اجتماعی احکام کہہ سکتے ہیں ۔ یہ وہ احکام ہیں جن کی تعمیل کسی ایک شخص کی مرضی پر منحصر نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ اسی وقت روبعمل آتے ہیں جب پورا معاشرہ ان کو عمل میں لانے کے لیے تیار ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ احکام ہمیشہ اس وقت نازل ہوئے ہیں جب اہل ایمان نے اپنے درمیان سیاسی تنظیم قائم کر لی تھی ۔ اور وہ اس حیثیت میں ہو گئے تھے کہ اس قسم کے سماجی قوانین کو بزور نافذ کر سکیں۔ شریعت کے اجتماعی احکام کا مخاطب بااختیار مسلم معاشرہ ہے، نہ کہ متفرق اور منفرد اہل ایمان۔
بنی اسرائیل کی تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب تک وہ مصر میں تھے۔ انھیں تورات کے قانونی احکام نہیں دیے گئے۔ البتہ مصر سے نکلنے کے بعد جب انھیں آزاد اور بااختیار گروہ کی حیثیت حاصل ہو گئی تو فورا ً اللہ تعالیٰ کی طرف سے قوانین بھیج دیے گئے۔…
…ان گناہوں سے ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش ہے، جن کی طرف انسان کا نفس بشری تقاضوں کے تحت مائل ہوتا ہے اور ایسے احکام کی تعمیل پر آمادہ کرنا جن کی ادائیگی شاق ہوتی ہے۔ یا ان چیزوں پر صبر کی تلقین جن سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتاہے۔
اس کے بعد تواصی کے لیے حق و صبر کی حکمت بتاتے ہوئے لکھتے ہیں
لِأَنَّ الأَوَّلَ عِبَارَةٌ عَنْ رُتْبَةِ الْعِبَادَةِ الَّتِي هِيَ فِعْلُ مَا يَرْضَى بِهِ اللهُ تَعَالَى، وَالثَّانِي عَنْ رُتْبَةِ الْعُبُودِيَّةِ الَّتِي هِيَ الرِّضَا بِمَا فَعَلَ اللهُ تَعَالَى (تفسير أبي السعود، جلد9،…
…ہجرت اسی لیے ہوتی ہے کہ مخاطب قوم نے نبی کو مطاع تسلیم نہیں کیا۔ ایسی حالت میں ان کے درمیان نہ اسلامی اسٹیٹ قائم ہونے کا سوال ہے اور نہ لوگوں کے سامنے قوانین شریعت کا عملی مظاہرہ کرنے کا ، مگر یہی ہجرت قوم کو عذاب کا مستحق بنا دیتی ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو انسانوں کے اوپر جو حجت قائم کرنا مطلوب ہے وہ صرف تبلیغی جدوجہد سے پوری ہوجاتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہجرت کے بعد نبی کی مخاطب قوموں کو مستحق عذاب ٹھہرا کر انھیں ہلا ک نہ کیا جاتا۔ کیوں کہ ہجرت کسی عملی شہادت کے بعد نہیں ہوتی۔ بلکہ قولی شہادت کے بعد ہوا کرتی ہے ۔ بے شک آخری نبی کی ہجرت کا واقعہ دوسرے انبیاء سے کسی حد تک مختلف ہے۔ کیوں کہ آپ کی ہجرت کے بعد فوراً آپ کی قوم پر کوئی آسمانی عذاب نہیں آیا، بلکہ بعد کو مومنین کی تلوار سے منکرین نبوت کا خاتمہ کیا گیا۔ اس دوران میں آپ نے مدینہ پہنچ کر ایک اجتماعی نظام قائم کرنے کی کوشش فرمائی۔مگر مدینہ میں مسلمانوں کا اجتماعی نظام بنانے کی کوشش کارِ شہادت کی تکمیل کے لیے نہیں تھی ۔ شہادت کا کام تو نبی آخری حدتک مکہ میں کر چکے تھے۔ اوراس کام کی تکمیل ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ ہجرت سے پہلے انھیں ’’أَيُّهَا الْكَافِرُونَ‘‘(109:1) کے لفظ سے خطاب کیا گیا۔( کافرون) اس خطاب میں کسی پیدائشی ’’ کفر‘‘ کا ذکر نہیں ہے، بلکہ اس کفر کا ذکر ہے جو شہادت کی مطلوبہ ادائیگی کے بعدمتحقق ہوتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مشرکین مکہ کا جرم ہجرت ہی کے وقت متحقق ہوچکا تھا۔ نہ کہ وہ مدینہ کی اسلامی اسٹیٹ کے بعد متحقق ہوا۔ اس کے علاوہ یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ مدینہ میں جو نظام بنا، وہ نہ صرف یہ کہ اہل مکہ کی نظروں سے بہت دور تھا۔ بلکہ اس قت تک اس نظام نے کوئی ایسی شکل بھی اختیار نہیں کی تھی جس کو مذکورہ بالا معنوں میں عملی شہادت کہا جا سکے۔ غزوۂ بدر جس میں مشرکین کے اکثر سردار مارے گئے اور جو قرآن کی تصریح کے مطابق ’’ مومنین کے ہاتھوں‘‘ اہل مکہ کے اوپر خدا کا عذاب تھا (9:14)۔ وہ ہجرت کے صرف ڈیڑھ سال بعد واقع ہوا۔ { FR 8669 }جب کہ زندگی کے بہت سے پہلوؤں کے متعلق شریعت کے احکام ابھی سرے سے نازل ہی نہیں ہوئے تھے۔ اور مدینہ کی ابتدائی ریاست ، یقینی طور پر ان تمام باتوں کا عملی مظاہرہ نہیں کر سکی تھی ، جس کو اوپر کی تشریح میں ضروری قرار دیا گیا ہے ۔ پھر کیا شہادت کی تکمیل سے پہلے انھیں ’’ راہ راست پر نہ آنے ‘‘ کا مجرم ٹھہرا کر سزا دے دی گئی۔کیا رسولوں نے وہ کام آخری حدتک انجام نہیں دیاجس کے لیے وہ بھیجے گئے تھے، اور اتمام حجت کے بغیر ہی اللہ تعالیٰ نے ان کی مخاطب قوموں کو ہلاک کر دیا۔
پھر یہی نہیں ، بلکہ آپ کے عملی شہادت کے فلسفہ نے خود شہادتِ حق کے تصور کو بدل دیا۔ اس نے شہادت کے کام کے رخ کو آخرت کے عذاب و ثواب سے ہٹا کر دنیا کے عذاب و ثواب کی طرف کر دیا ہے ۔ شہادت کا اصل مقصد آخرت کی حقیقتیں دکھانا ہے۔ مگر اس…
…جس چیز کو وہ اپنے کلچر کا حصہ سمجھتی ہے اس کو وہ محفوظ رکھے خواہ وہ مسلم حکومت کے اندر ہو یا مسلم حکومت کے باہر ۔کسی حکومت کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی گروہ کے کلچر کے معاملے میں دخل دے۔ کلچر کے تحفظ کا معاملہ حکومتی مداخلت سے آزاد معاملہ ہے۔
اس سلسلے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ بین الاقوامی اہمیت کی چیزوں میں اسلام کا نارم (norm) بھی وہی ہوگا، جو دوسری قوموں کا متفقہ نارم ہو ۔ انٹرنیشنل نارم کے معاملے میں اسلام کا یہ اصول پیغمبر اسلام ﷺ کے بعض واقعات سے مستنبط ہوتا ہے۔
مثلاً رسول اللہ ﷺ کے آخری زمانے میں یمن کے ایک شخص مسیلمہ نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس نے دو آدمیوں پر مشتمل اپنا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کے پاس مدینہ بھیجا اور یہ کہلوایا کہ آپ میری نبوت کو قبول کریں۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے ان دو آدمیوں سے پوچھا…
کفر کی اصطلاح
مکّی دور میں قرآن میں بعض ایسی آیتیں اُتریں جن کا تعلق بیرون عرب کے غیر مسلموں سے تھا۔ مثلاً قرآن کی سورہ نمبر 30 کے آغاز میں رومیوں (عیسائیوں) کا ذکر ہے، جو وقتی طورپر ایرانیوں سے مغلوب ہو گئے تھے۔ مگر آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ غُلِبَتِ الْكُفَّارُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ (روم کے کفار جو مغلوب ہو گئے ہیں)۔ بلکہ یہ فرمایا کہ غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ (30:2-3)۔ یعنی، رومی جو مغلوب ہو گئے ہیں۔ اسی طرح سورہ نمبر 105 میں یمن کے غیر مسلم حاکم ابرہہ کا ذکر ہے۔ مگر قرآن میں اس کا ذکر یمن کے ایک کا فر حکمراں کے طور پر نہیں کیا گیا بلکہ اصحابِ فیل کے لفظ سے اس کا ذکر کیا گیا۔
قدیم مکہ کے منکرین کے لیے قرآن میں کفر اور کافر کے الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔ مگر ایسا نہیں ہوا کہ اس کے بعد اس زمانے کے اہل اسلام تمام غیر مسلموں کو کافر کے لفظ سے پکارنے لگیں۔ مثلاً ہجرت کے بعد رسول ﷺ اور آپ کے اصحاب ؇ مدینہ آئے تو…
چند تاریخی مثالیں
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، قرآن میں ایها الکافرون کے انداز میں خطاب کی مثال صرف منکرین مکہ کے لیے آئی ہے، اور وہ بھی تیرہ سال کے پیغمبرانہ اتمام حجت کے بعد ۔ منکرین مکہ کے سوا کسی اور کو اس طرح مشخص (specific)انداز میں خطاب نہیں کیا گیا۔
پیغمبر اسلام ﷺ نے جب مکہ میں دعوت کا آغاز کیا تو ابتدائی دور میں آپ نے اس طرح خطاب نہیں کیا کہ يَا أَ يُّهَا الْكُفَّارُ (اے منکرو)۔ بلکہ قرآن میں یہ آیت اتری يَا أَيُّهَا الْإِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ (82:6)۔ یعنی،…
اختلاف کو مینج کرنا
قدیم زمانہ ٹرائبل ایج کا زمانہ تھا۔اس زمانے میں ایسا تھا کہ اختلاف بہت جلد ٹکراؤ بن جاتا تھا، اور ٹکراؤ بہت جلد لڑائی کی صورت اختیار کرلیتا تھا۔ ٹرائبل ایج (قبائلی دور) میں لوگ مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک ہی طریقہ جانتے تھے۔ وہ تھا ٹکراؤکا طریقہ۔ لیکن ٹکراؤ کا طریقہ مسائل کو حل نہیں کرتا تھا، بلکہ ہر ٹکراؤ کے بعد ایک اور ٹکراؤ وجود میں آتا تھا۔ یعنی ایکشن کے بعد ری ایکشن۔اس کو ایک لفظ میں چین ری ایکشن کہا جاسکتا ہے۔
اس کے مقابلے میں موجودہ زمانے میں ایک اور طریقہ وجود میں آیا ہے۔ اس کو ایک لفظ میں ’’مسائل کو مینج کرنا ‘‘کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانہ آزادیِ رائے کا زمانہ ہے۔ آپ کسی بھی شخص سے کسی بھی مسئلے پر تبادلۂ خیال کرسکتے ہیں۔اس طرح یہ ممکن…
نزاع کا مسئلہ
دو فریقوں کے درمیان اگر نزاع پیدا ہوجائے تو اس وقت یہ موقع نہیں ہوتا ہے کہ کون صحیح ہے، اور کون غلط۔ بلکہ صحیح یہ ہے کہ آپ یہ تلاش کریں کہ نزاع کو فوری طور پر ختم کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ کیوں کہ نزاع کو ختم کرنے سے آپ کو نیا اسٹارٹنگ پوائنٹ (starting point)مل جاتا ہے، اور اگر آپ نزاع کو ختم نہ کریں تو آپ کو کوئی اسٹارٹنگ پوائنٹ نہیں ملے گا۔ آپ ہمیشہ منفی ذہن میں جیتے رہیں گے،اور نئے آغاز کے لیے کوئی سرا کبھی نہ پاسکیں گے۔
پیغمبر اسلام ﷺ نے 610 عیسوی میں اپنے مشن کا آغاز کیا۔ اس وجہ سے قدیم مکہ کے قریش آپ کی مخالف ہوگئے۔ یہاں تک کہ تیرہ سال بعد آپ کو مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ جانا پڑا۔ اس کے باوجود اہل قریش آپ کے خلاف نزاع کے طریقے پر باقی ر ہے۔ چنانچہ 628…
اختلاف کے باوجود
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تیسرے خلیفہ راشد تھے۔ آخر عمر میں بعض جھوٹی خبروں کی بنا پر ایک ہزار سے زیادہ آدمی مدینہ آئے۔ انھوں نے مدینہ پہونچ کر کافی شوروغل کیا اور آخر کار حضرت عثمان کے مکان کو گھیر لیا۔ اگر چہ حضرت عثمان کے خلاف ان کا الزام سراسر بے بنیاد تھا، مگریہ مسلمان آپ سے اتنابر ہم ہوئے کہ آپ کا گھر سے نکلنا اور گھر میں پانی جانا بند کر دیا۔ یہاں تک کہ 18 ذی الحجہ35 ھ کو حملہ کر کے آپ کو شہید کر دیا۔ بوقت ِوفات آپ کی عمر82 سال تھی۔
حضرت عثمان کا محاصرہ تقریبا 40دن تک جاری رہا۔ بلوائیوں نے جب حضرت عثمان کو گھیرلیا اور مکان سے نکلنے پر پابندی لگا دی تو آپ کے لیے مسجد جانا ممکن نہ رہا۔ خلیفہ کی حیثیت سے نمازوں کی امامت آپ ہی فرماتے تھے۔ جب آپ کا مسجد جانا بند ہو گیا…
آخرت رخی سوچ
غزوۂ ذات السلاسل کا واقعہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر وبن العاص کولشکر کا سردار مقرر کیا۔ مگر پورالشکر بیک وقت تیار نہ تھا۔ آپ نے عمروبن العاص کو ایک دستہ کے ساتھ پہلے روانہ کر دیا۔ اس کے بعد دوسو مہاجرین و انصار کے ساتھ دوسرا دستہ تیار ہوا اور ابوعبیدہ بن الجراح کی سرداری میں روانہ ہوا ۔ جھنڈا دیتے ہوئے آپ نے ان کو جو نصیحتیں کیں ، ان میں سے ایک یہ تھی جب تم اپنے ساتھی (عمرو بن العاص) سے ملو تو تم دونوں مل کر کام کرنا، اختلاف مت کرنا —إذَا قَدِمْت عَلَى صَاحِبِك فَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا۔
ابوعبیدہ کا دستہ جب مدینہ سے چل کر عمرو بن العاص کے پاس پہنچا تو نماز کا وقت آگیا تھا۔ صفیں کھڑی ہوئیں ، ابوعبیدہ نے چاہا کہ امامت کریں ۔ عمرو بن العاص نے اس سے اختلاف کیا۔ انھوں نے کہا آپ میری مدد کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ یہ صحیح نہیں کہ…
عربوں کا مزاج
1984کے مدینہ کے سفر میںایک عرب عالم نے کہا کہ میں نے آپ کی کتاب الاسلام یتحدی پڑھی، الدین فی مواجہۃ العلم پڑھی، اور الاسلام و العصر الحدیث پڑھی یہ سب کتابیں مجھے پسند آئیں۔ ان کتابوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر رحمت کا دروازہ کھولا ہے۔ مگر اس کے بعد میں نے آپ کی کتاب ’’حکمۃ الدین ‘‘ پڑھی تو وہ پسند نہیں آئی۔ اس میں آپ نے الاخوان المسلمین کی سیاست پر تنقید کی ہے۔ یہ زمانہ ایسا ہے کہ دشمنان اسلام ہمارے اختلاف سے فائدہ اٹھانے کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ ہم کو صرف وہی باتیں کرنی چاہئیں جس سے اتفاق پیدا ہو۔
اس قسم کی باتیں اور بھی کئی بار سننے کو ملی ہیں۔ مگر میں سوچتا ہوں کہ یہ کیسا عجیب مطالبہ ہے۔ جن جماعتوں پر میں نے تنقید کی ہے، وہ موجودہ زمانہ میں باہمی اختلاف کا سب سے بڑا سبب ہیں۔ انہوں نے مسلم ملکوں میں مسلمانوں کو حکمراں اور غیر…
…کی جنگوں کے حالات وہ ان یہودیوں کی اولاد سے لے کر کتاب میں درج کرتے تھے، جن کے آباء و اجداد مسلمان ہو گئے تھے۔ اور چونکہ یہ باتیں انہوں نے یہود سے سنی ہوں گی ، اس لیے ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا( الثقات لابن حبان جلد 7، صفحہ 382-383)۔
امام مالک نے ابن اسحاق کی تردید میں جو الفاظ کہے، وہ تنقید سے بھی آگے کے ہیں۔ مگر اتنی سخت تنقید کے باوجود کسی نے اس کو برا نہیں سمجھا۔ دور اول میں جب مسلمان زندہ تھے تو اس قسم کا اختلاف رائے یا تنقیدیں عام تھیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان تنقید کو برداشت نہیں کر پاتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہ بالکل مردہ ہو چکے ہیں، ان کے اندر زندگی کی قسم کی کوئی چیز باقی نہیں۔
21 ستمبر 1983
16 مارچ 1989
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس دنیا کا نظام’’ باوجود‘‘ کے اصول پر قائم ہے۔ یہاں برے اخلاق کا جواب اچھے اخلاق سے دینے کا نام اخلاق ہے۔یہاں اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونے کا نام صبر ہے۔
اس دنیا میں آدمی کو رکاوٹوں کے باوجود کامیابی کا راستہ نکالنا پڑتا ہے۔ یہاں اتحاد اس وقت قائم ہوتا ہے جب کہ لوگ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا رازجان گئے ہوں۔
5جنوری 2008
آج مسٹر میگھانی (Mihir Meghani, M.D)ملاقات کے لیے آئے ۔ وہ امریکا میں پیدا ہوئے اور اب وہیں رہتے ہیں ۔ وہ ہندو امریکن فاؤنڈیشن کے صدر ہیں۔میں نے پوچھاکہ آپ کی تنظیم کا مقصد کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ مذہب کے دائرے میں پلورلزم (pluralism) کو فروغ دینا ہے ، یعنی یہ نظریہ کہ تمام مختلف مذاہب سب کے سب یکساں طور پر حق ہیں ، ان میں کوئی فرق نہیں۔
میں نے کہا کہ اِس قسم کا نظریہ مذہب کے دائرےمیں ڈائلاگ کو ختم کرنے کے ہم معنی ہے ۔ دوسرے تمام علمی شعبوں میں اختلاف رائے کوبرداشت کرتے ہوئے ڈائلاگ کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے ۔ کیوںکہ اِس سےعلمی اور ذہنی ارتقا کا عظیم مقصد حاصل ہوتا ہے۔…
…تم سے جھگڑا نہ کریں۔ اور تم اپنے رب کی طرف بلاؤ۔ یقیناً تم سیدھے راستہ پر ہو۔ایسی حالت میں اس مسئلہ کو بیان کرتے ہوئے مجھے یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ— رَأْيِي صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الخَطَأَ، وَرَأْيُ غَيْرِي خَطَأٌ يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ۔
یہی ہمیشہ خود علما ئے امت کا موقف رہا ہے۔ وہ مذکورہ قسم کے جملے صرف مستنبطات کے بیان میں لکھتے ہیں نہ کہ منصوصات کے بیان میں۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام میں نماز پانچ وقت کی نہیں ہے بلکہ صرف دو وقت یا تین وقت کی ہے۔ اس کے مقابلہ میں جب علما صالحین اپنانقطۂ نظر بیان کرتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام میں رات اور دن کے درمیان پانچ وقت کی نمازیں فرض ہیں تو وہ ایسا نہیں کرتے کہ اپنے مضمون کے آخر میں لکھیں کہ نَحْنُ عَلَى الصَّوَابِ مَعَ ٱحْتِمَالِ ٱلْخَطَإِ، أَنْتُمْ عَلَى ٱلْخَطَإِ مَعَ ٱحْتِمَالِ ٱلصَّوَابِ(ہم درست راستے ہیں اگر چہ غلطی کا امکان ہے، اور دوسرے لوگ غلطی ہیں، اگر یہ امکان ہے کہ وہی حق پر ہوں)۔
البتہ کچھ دوسرے قسم کے مسائل جن کی بنیاد نص پر نہیں ہے بلکہ استنباط پر ہے ، ان کے بیان میں علما مذکورہ قسم کا اعتراف درج کرتے ہیں۔ مثلاً علما کا ایک طبقہ اگریہ اصرار کرے کہ جراب پر مسح کی اجازت صرف اس جراب کے لیےہے جو قدیم طریقہ کے مطابق…
…مصیبت نہ زمین میں آتی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں، بیشک یہ اللہ کے لیے آسان ہے۔ تاکہ تم غم نہ کرو اس پر جو تم سے کھویا گیا۔ اور نہ اس چیز پر فخر کرو جو اس نے تم کو دیا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جو تاریخی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں، وہ فطرت کے قوانین کے بنا پر ہوتی ہیں۔ اس کا سبب کسی کی دشمنی یا کسی کی سازش نہیں ہوتا۔ اس لیے جب کسی قوم پر کوئی مصیبت آئے تو اس کا صحیح رسپانس یہ نہیں ہے کہ کھوئی ہوئی چیز پر غم کیا جائے۔ بلکہ اس کا صحیح رسپانس ہے ہونے والے واقعے کو فطرت کے خانے میں ڈالنا۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ انسان کے اندر صحیح سوچ جاگے گی۔ وہ حقیقت واقعہ کا بے لاگ جائزہ لے گا۔ اس طرح وہ اس قابل بن جائے گا کہ وہ اپنے معاملے کی ری پلاننگ کرے، اور کھوئی ہوئی چیز کو نئے عنوان سے از سر نو حاصل کرلے۔
پیغمبر اسلام کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ احد کی جنگ میں آپ کے ساتھیوں کو شکست ہوئی تھی۔ اس کے بعد آپ اور آپ کے ساتھی غم میں نہیں پڑے، بلکہ انھوں نےسارے معاملے پر از سر نو سوچنا شروع کیا ۔ اس طرح ان کے اندر یہ سوچ ابھری کہ وہ جنگ کے میدان…
ہجرتِ مدینہ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن توحید کا مشن تھا۔ یعنی شرک کی آئڈیالوجی کے بجائے دنیا میں توحید کی آئڈیالوجی کو ظہور میں لانا۔ آپ نے اپنا مشن 610 عیسوی میں قدیم مکہ میں شروع کیا۔ اس وقت مکہ میں شرک کا کلچر تھا۔ مشرک سرداروں کو ہر اعتبار سے غلبہ کا مقام ملا ہوا تھا۔ تیرہ سال کی مخالفت کے بعد آخر کار انھوں نے رسول اللہ کوعملاً الٹی میٹم دے دیا کہ آپ اپنے ساتھیوں کو لے کر مکہ سے چلے جائیں، ورنہ ہم آپ کو قتل کردیں گے۔
پیغمبر اسلام کےلیے یہ ایک بحران (crisis)کا لمحہ تھا۔ مگر آپ نے رد عمل (reaction) کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ بلکہ حالات کا بے لاگ جائزہ کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ آپ خاموشی سے مکہ چھوڑ دیں، اور یثرب چلے جائیں۔ جو کہ قدیم عرب کے تین بڑے…
…سے نکلے گویا کہ وہ قبروں سے نکلے ہوں، پس وہ اسلام میں داخل ہوگئے (أقول كما قال يوسفلا تثريب عليكم اليوم يغفر الله لكم وهو أرحم الراحمين [12:92]. قالفخرجوا كأنما نشروا من القبور فدخلوا في الإسلام )۔سنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر 18275
قدیم مکہ کے سردار یہ جانتے تھے کہ ان کا کیس ظلم کا کیس ہے۔ اس کے باوجود پیغمبر اسلام نے ان سب کو یک طرفہ طور پر معاف کردیا ۔ اس سلوک کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان سرداروں میں ندامت کا جذبہ فطری طور پر پیدا ہوگیا، اور وہ پیغمبر اسلام کے ساتھی بن گئے۔ اس کے برعکس، اگر آپ ان سے انتقام کا معاملہ کرتے تو یقیناً ان کے اندر جوابی انتقام کا ذہن پیدا ہوتا۔ اس طرح دونوں فریقوں کے درمیان انتقام در انتقام (chain reaction) کا ماحول قائم ہوجاتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ قانون اسباب کے مطابق پیغمبر اسلام کا پرامن مشن اپنے پہلے ہی تجربے میںغیر ضروری مشکلات کا شکار ہوجاتا۔ مگر اس اعلیٰ سلوک کی بنا پر پیغمبر کا مشن بلاتوقف (non-stop) جاری رہا۔
حدیبیہ کا منصوبہ
دانش مندی کی ضرورت
ایک حدیث مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیںالكلمة الحكمة ضالة المؤمن، فحيث وجدها فهو أحق بها (سنن الترمذی، حدیث نمبر2687)۔ یعنی حکمت کی بات مومن کی گم شدہ چیز ہے، وہ جہاں اس کو پائے اس کو لے لے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حکمت کی بات کوئی مذہبی عقیدے کی بات نہیں ۔ ہر انسان اس کو کہیں سے بھی لے سکتا ہے، اور اس کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ یہ تعلیم بہت زیادہ اہم ہے۔ اس سے ری پلاننگ کا دائرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی گروہ کے لیے ری پلاننگ کا وقت آئے تو وہ اپنے اور غیر میں کوئی فرق نہ کرے۔ وہ ہر حکمت کو خود اپنی چیز سمجھے۔ وہ ہر حکمت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے عمل کی ری پلاننگ کرے۔
ری پلاننگ کے اصول کو پیشگی طور پر متعین نہیں کیا جاسکتا۔ ری پلاننگ ہمیشہ بدلے ہوئے حالات میں کی جاتی ہے، اور بدلے ہوئے حالات کو سمجھنے کا تعلق عقیدہ سے نہیں ہے، بلکہ فہم و بصیرت سے ہے۔ ہر آدمی کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی بصیرت کو استعمال کرتے…
پیغمبر اسلام کا نمونہ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر 610ء میں مکہ میں پہلی وحی اتری۔ اللہ نے آپ کو جس مشن پر مامور کیا وہ توحید کا مشن تھا۔ اس مشن کی نسبت سے مکہ میں ایک بہت بڑا عملی مسئلہ موجود تھا۔ وہ یہ کہ کعبہ جس کو اللہ کے پیغمبر ابراہیم اور اسماعیل نے توحید کے گھر کی حیثیت سے بنایا تھا اس کو بعد کے زمانہ میں عملاً شرک کا مرکز بنا دیا گیا ۔وہاں 360 بت رکھ دئے گئے۔
اس صورت حال کا بظاہر یہ تقاضا تھا کہ قرآن میں پہلا حکم اس مفہوم کا اترے کہطَھِّر الکعبۃ من الأصنام (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو)۔ مگر اس مسئلہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اس وقت قرآن میں پہلا حکم یہ اترا کہ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ( 74:4)…
جنگ کے بغیر فتح
پیغمبر اسلام کی زندگی میں ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ (628ء ) کہاجاتاہے۔ پیغمبراسلام اس وقت مدینہ میںتھے اور مکہ اہل شرک کے قبضہ میںتھا جو اس وقت آپ سے برسرِ جنگ تھے۔ پیغمبر اسلام نے عمرہ کی عبادت کے لیے مکہ جانا چاہا کیوں کہ کعبہ مکہ میں ہے، اس بنا پر عمرہ کی عبادت مکہ ہی میںادا کی جاتی ہے۔ آپ کا یہ سفر خالص عبادتی سفر تھا۔ مگر مکہ والوں نے اس کو اپنے لیے عزت (prestige) کا سوال بنا لیا۔ انہوں نے آپ کو مکہ سے باہر حدیبیہ کے مقام پر روک دیا اور کہا کہ آپ یہاں سے واپس جائیں۔ یہ بحث یہاں تک بڑھی کہ جنگ کی صورت حال پیدا ہوگئی۔ اس وقت پیغمبر اسلام کے ساـتھ چودہ سو مسلمان تھے۔ اگر یہ لوگ اس پر اصرار کرتے کہ وہ مکہ میںداخل ہو کر عمرہ کریں گے تو یقینی طورپر دونوں فریقوں کے درمیان جنگ چھڑ جاتی۔ مگر پیغمبر اسلام نے مشرکین کے مطالبہ کو مان لیا اور دس سال کا امن معاہدہ کرکے حدیبیہ سے مدینہ واپس آگئے۔
معاہدۂ حدیبیہ بظاہر مقابلہ کے میدان سے واپسی کا معاہدہ تھا۔ مگر جب یہ معاہدہ ہوگیا تو قرآن میںاس کو اہل اسلام کے حق میں فتح مبین (الفتح، 48:1) قرار دیا گیا۔ اُس وقت کے حالات میں اس کا مطلب یہ تھا کہ تم لوگوں نے اپنے حریف سے جنگ نہ کر کے…
ایک مغالطہ کی وضاحت
قرآن میں بعض آیتیں ایسی ہیں جن کا مفہوم یہ ہے اور ان کو قتل کرو جہاں ان کو پاؤ (2:191)۔ اس طرح کی آیتوں کو لے کر کچھ لوگ یہ تأثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام جنگ اور قتال کا مذہب ہے۔ یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ اس طرح کی آیتیں محدود طورپر صرف ان لوگوں سے متعلق ہیں جنہوں نے اہل اسلام پر یک طرفہ حملہ کر دیا ہو، وہ اسلام کا کوئی عمومی حکم نہیں۔
اصل یہ ہے کہ قرآن بیک وقت ایک مکمل کتاب کی صورت میں نہیں آیا، بلکہ وہ 23 سال کی مدت میں وقفہ وقفہ کے ساتھ حالات کے مطابق، نازل ہوا۔ 23 سال کی اس مدت کو اگر امن اور جنگ کے اعتبار سے تقسیم کیا جائے تو تقریباً بیس سال کی مدت امن سے متعلق…
…جنگ میں شریک ہوئے جب کہ دوسرا کوئی راستہ سرے سے باقی ہی نہ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق، اسلام میں جارحانہ جنگ نہیں ہے، اسلام میں صرف مدافعانہ جنگ ہے اور وہ بھی صرف اس وقت جب کہ اس سے بچنا سرے سے ممکن ہی نہ رہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں ہمیشہ دو میں سے ایک کے انتخاب کا مسئلہ رہتا ہے— پُرامن جدو جہد، اور پُر تشدد جدو جہد۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے ہمیشہ اور ہر معاملہ میں یہی کیا کہ پُر تشدد طریق کار کو چھوڑ کر پُر امن طریق کار کو اختیار فرمایا۔ آپ کی پوری زندگی اسی اصول کا ایک کامیاب عملی نمونہ ہے۔ یہاں اس نوعیت کی چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔
1۔ پیغمبری ملنے کے بعد فوراً ہی آپ کے سامنے یہ سوال تھا کہ آپ مذکورہ دونوں طریقوں میں سے کس طریقہ کو اختیار کریں۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر کی حیثیت سے آپ کا مشن یہ تھا کہ شرک کو ختم کریں اور توحید کو قائم فرمائیں۔ مکہ میں کعبۃ اللہ اسی…
…وقت کے حالات میںیہ خندق گویا ایک حاجز یا ٹکر روک طریقہ (buffer) تھا۔ چنانچہ قریش کا لشکر خندق کے دوسری طرف کچھ دن ٹھہرا رہا اور اس کے بعد واپس چلا گیا۔ یہ خندق بھی گویا پرُتشدد عمل کے مقابلہ میں پُر امن عمل کا انتخاب لینے کی ایک مثال ہے۔
4۔ اسی طرح صلح حدیبیہ بھی اسی قسم کی ایک سنت کی حیثیت رکھتی ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر یہ صورت تھی کہ رسول اور اصحاب رسول مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کرنا چاہتے تھے۔ مگر مکہ کے سرداروں نے حدیبیہ کے مقام پر آپ کو روک دیا اور کہا کہ آپ لوگ مدینہ واپس جائیں۔ ہم کسی قیمت پر آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ یہ گویا قریش کی طرف سے آپ کے لیے ایک جنگی چیلنج تھا۔ اگر آپ اپنے ارادہ کے مطابق عمرہ کرنے کے لیے مکہ کی طرف بڑھیں تو یقینی تھا کہ قریش سے جنگی ٹکراؤ پیش آئے گا۔ مگر آپ نے حدیبیہ پر اپنا سفر ختم کردیا اورقریش کی یک طرفہ شرطوں پر امن کا معاہدہ کرکے مدینہ واپس آگئے۔ یہ بھی واضح طورپر تشدد کے مقابلہ میں امن کا طریقہ اختیار کرنے کی ایک پیغمبرانہ مثال ہے۔
5 ۔ فتح مکہ کے واقعہ سے بھی آپ کی یہی سنت ثابت ہوتی ہے۔ اس وقت آپ کے پاس جاں نثار صحابہ دس ہزار کی تعداد میں موجود تھے۔ وہ یقینی طورپر قریش سے کامیاب لڑائی لڑ سکتے تھے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال طاقت کے بجائے مظاہرۂ…
جنگ اور امن اسلام میں
اسلام میں جنگ اور امن کی حیثیت کیا ہے، اس سوال کا جواب پانے کے لیے یہ دیکھنا چاہیے کہ اسلامی مشن کا نشانہ کیا ہے۔ جنگ اور امن دونوں دو مختلف طریقِ کار ہیں، وہ بذات خود مقصد نہیں ہیں۔ ایسی حالت میں اگر اس کا تعین ہو جائے کہ اسلامی مشن کا نشانہ کیا ہے تو اس کے بعد اپنے آپ اس کا تعین ہوجائے گا کہ اسلام کا طریقہ جنگ کاطریقہ ہے یا امن کاطریقہ۔
قرآن میں اس سوال کا واضح جواب دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ کی ایک متعلق آیت یہ ہے۔ قرآن میں پیغمبر اسلام کو خطاب کرتے ہوئے ایک عمومی حکم ان الفاظ میں دیا گیا ہے وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (25:52) یعنی اے محمد، لوگوں کے ساتھ تم…
…بنا پر توحید کے مخالفوں نے پیغمبراسلام کے خلاف جارحانہ کارروائی کرکے آپ کو لڑنے پر مجبور کردیا۔ موجودہ زمانہ میں مذہبی آزادی ہر فرد اور ہر گروہ کا ایک مسلّم حق بن چکی ہے ۔ اس لیے موجودہ زمانہ میں مذہبی حقوق کے لیے جنگ کا کوئی سوال نہیں۔
اسلام میں امن کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ہر ناخوش گوار صورت حال کو برداشت کرتے ہوئے حالت امن کو برقرار رکھنے کا حکم دیا گیاہے۔ فریقِ مخالف کی ایذا رسانی پر صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کرنا اور اس کو ہر قیمت پر یک طرفہ تدبیر کے ذریعہ باقی رکھنا اسلام کا اہم اصول ہے۔ یہ حکم اس لیے دیا گیا کیوں کہ اسلام کی تعمیری سرگرمیاں صرف پر امن اور معتدل ماحول ہی میں انجام دی جاسکتی ہیں۔ اس معاملہ میں صرف ایک استثنا ہے، اور وہ فریق ثانی کی طرف سے عملی جارحیت ہے۔
پیغمبر اسلام نے قدیم مکہ میں اپنے پیغمبرانہ مشن کا آغاز کیا۔ اس سلسلہ میں آپ تیرہ سال تک مکہ میں رہے۔ اس مدت میں مکہ کے مخالفین کی طرف سے بار بار زیادتیاں کی گئیں۔ مگر پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھیوں نے ان زیادتیوں کو یک طرفہ طورپر…
…اہل اسلام کا طریقہ جنگ نہیں ہے بلکہ اعراض جنگ ہے۔ انہیں ایک طرف یہ کرنا ہے کہ جنگ کی حد تک جائے بغیر اپنے مفادات کا تحفظ کریں۔ دوسری طرف ان کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ امن کے پیغامبر بنیں۔ وہ دنیا میںامن کے تاجر ہوں، نہ کہ جنگ کے تاجر۔
اسلام کی یہی اسپرٹ ہے جس کی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کو جب مدینہ میں اقتدار ملا تو آپ نے ایسا نہیں کیا کہ لوگوں کو اپنا ماتحت بنانے کے لیے ان سے جنگ چھیڑ دیں۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ عرب میں پھیلے ہوئے قبائل سے گفت و شنید کرکے ان سے معاہدے کیے۔ اس طرح آپ نے پورے عرب میں پھیلے ہوئے قبائل کو معاہدات کے ایک شیرازۂ امن میں باندھ دیا۔
اسلام کی تعلیم کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اسلام ان اسباب کی جڑ کاٹ دینا چاہتا ہے جوجنگ کی طرف لے جانے والے ہیں۔جنگ کرنے والا جنگ کیو ں کرتا ہے۔ اس کے دو بنیادی سبب ہیں۔ ایک ہے دشمن کو ختم کرنے کی کوشش کرنا۔ اور دوسرا سبب ہے…
…تو اہل اسلام کو بھی لازماً امن کی روش اختیار کرنی ہوگی۔ اہل اسلام ایسا نہیں کرسکتے کہ فریقِ ثانی کی پر امن روش کے باوجود کوئی عذر لے کر اس کے خلاف جنگی کارروائی کرنے لگیں۔ اس معاملہ میں عملی جارحیت کے سوا کوئی بھی دوسرا عذر قابل قبول نہیں۔
جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش 570ء میں مکہ میںہوئی۔ 610ء میں آپ کو نبوت ملی۔ اس کے بعد آپ 23 سا ل تک پیغمبر کی حیثیت سے دنیا میں رہے۔ اس 23 سالہ مدت کے ابتدائی 13 سال آپ نے مکہ میں گزارے اور بعد کے 10 سال مدینہ میں۔ قرآن کی کچھ سورتیں مکی دو رمیں نازل ہوئیں اور کچھ سورتیں مدنی دور میں ۔ اس پیغمبرانہ مدت میں آپ نے کیا کیا۔
آپ نے لوگوں کواقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ(96:1) اور اس قسم کی دوسری غیر حربی آیتیں سنائیں۔ آپ لوگوںسے یہ کہتے رہے کہ أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، تُفْلِحُوا(مسند احمد، حديث نمبر 16023)۔ یعنی اے لوگو،…
جہاد قرآن میں
قرآن میں بھی جہاد یا اس کے مشتقات اسی معنی میں آئے ہیں جس معنی میں وہ لغتِ عرب میں استعمال ہوتے ہیں۔ یعنی کسی مقصد کے لیے مبالغہ آمیز کو شش کرنا۔ لفظ’’جہاد‘‘ قرآن میں چار بار استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ یہ لفظ کوشش اور جدوجہد کے معنی میں ہے، نہ کہ براہِ راست طور پر جنگ و قتال کے معنی میں۔
اس سلسلہ میں پہلی قرآنی آیت کا ترجمہ یہ ہے کہو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا خاندان اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے…
…طورپر اپنی ریاست میں امن قائم کیا تھا جس کو وہ رومی امن (Pax Romana) کہتے تھے۔ اسی طرح بیسویں صدی میں سوویت یونین میںبظاہر امن پایا جاتا تھا جس کو کمیونسٹ امن کا نام دیا گیا۔ مگر یہ دونوں جبری امن تھے، اور جبری امن کوئی مطلوب امن نہیں۔
کچھ مفکرین امن کے لیے عالمی ریاست (world state) کا خواب دیکھتے رہے ہیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ عالمی ریاست کا قیام کبھی ممکن نہ ہوسکا۔ حقیقت یہ ہے کہ پُر امن معاشرہ ذہنی تربیت اور فکری انقلاب کے ذریعہ وجود میںلایا جاسکتا ہے، نہ کہ کسی عالمی حکومت کے مرکزی کنٹرول کے ذریعہ۔ مغرب کی نشأۃ ثانیہ کے بعد بہت سے مغربی مفکرین نے جنگ کے بغیر دنیا کا خواب دیکھا مگر یہ خواب پورا نہ ہوسکا۔
ڈَچ فلسفی اور ہیومنسٹ اریسمس (Erasmus) 1466 میں روٹرڈم میں پیدا ہوا اور 1536 میں اُس کی وفات ہوئی۔ اُس کی تعلیم یہ تھی کہ انسانیت کا سب سے اونچا آئیڈیل امن اور انسانی اتحاد ہے
اسلام اکیسویں صدی میں
پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ دور اوّل میں جو انقلاب آیا اُس کاایک پہلو وہ ہے جس کی تکمیل دور اول ہی میں ہوگئی۔ یعنی نزول قرآن کی تکمیل اوراسلامی طرز زندگی کا نظری اور عملی نمونہ دنیا میں قائم ہو جانا۔ یہ نمونہ قرآن اور حدیث اور سیرت اور احوالِ صحابہ کی صورت میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگیا ہے۔ وہ ابدی طورپر انسان کے لیے ربّانی طرز زندگی کا مستند نمونہ ہے۔
دور اول کے اسلامی انقلاب کا دوسرا پہلو وہ ہے جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے تدریج کا طالب تھا۔ چنانچہ وہ لمبی مدت کے بعد اپنی تکمیل کو پہنچا۔ یہ دوسرا پہلو ایک مسلسل عمل (process) کے طورپر انسانی تاریخ میںداخل ہوا۔ یہ تاریخ میں ایک بے حد دور…
ایک مطالعہ
صلح حد یبیہ (7ھ ) کے بعد جب حالات معتد ل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے باہر مختلف علاقوں میں تبلیغی دستے روانہ فرمائے۔ انھیں میں سے ایک تبلیغی دستہ وہ تھا جو مدینہ کے شمال میں شام کی سرحد سے ملے ہوئے علاقہ کی طرف بھیجا گیا۔ یہاں عیسائی قبائل آباد تھے اور وه رومی ( بازنطینی) حکومت کے ماتحت تھے ۔
اس تبلیغی وفد میں پندرہ آدمی تھے اور ان کے سردار کعب بن عمیر الغفاری تھے ۔ وہ شام کے قریب ذات اطلاح میں پہنچے۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ ایک مقام پر کافی لوگ جمع ہیں۔ انھوں نے ان کو اسلام کی دعوت دی ۔ مگر انھوں نے ان کی پکار پر لبیک نہیں کہا…
…نہیں۔ نہ کبھی وہ ماضی میں ممکن ہوئی ہے اور نہ وہ مستقبل میں ممکن ہو سکتی ہے۔ کلچر ہمیشہ خود اپنے قوانین کے تحت بنتا ہے۔ ایسا ممکن نہیں کہ کسی دفتر میں کلچر کا ایک خود پسند نقشہ بنایا جائے اور اس کو ملک کے تمام گروہوں میں رائج کردیا جائے۔
ایسی حالت میں ہم کو وہی کرنا چاہیے جو ہم دوسرے اختلافی معاملات میں کرتے ہیں، یعنی رواداری (tolerance) کے اصول پر اپنے مسئلہ کو حل کرنا۔ حقیقتِ واقعہ سے ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کرکے اس سے نپٹنا، نہ کہ اس سے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرنا۔اس معاملہ میں ٹکراؤ کا طریقہ صرف مسئلہ کو بڑھانے والا ہے، نہ کہ اس کو حل کرنے والا۔
یہاں ایک اور بات کی وضاحت ضروری ہے۔کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہندو تو انڈیا میں پیدا ہوئے ۔ ان کی وفاداری کے مراکز اسی ملک میں ہیں۔ لیکن مسلمانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ مسلمانوں کے اعتقادی مراکز (مثلاً مکہ اور مدینہ) انڈیا سے باہر ہیں۔ اس…
…کو اپنا معبود بناتا ہے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی محبت اورعقیدت کے جذبات اس کے لیے خاص ہوجاتے ہیں۔آدمی عین اپنی فطرت کے لحاظ سے مجبور ہے کہ وہ کسی سے حبّ شدید کرے اورجس سے کوئی شخص حبّ شدید کرے وہی اس کا معبود ہے۔
موجودہ دنیا میں چو ںکہ خد انظر نہیں آتا اس لیے ظاہر پرست انسان عام طورپر نظر آنے والی ہستیوں میں سے کسی ہستی کو وہ مقام دے دیتا ہے جو دراصل خداکو دینا چاہیے۔یہ ہستیاں اکثر وہ سردار یاپیشواہوتے ہیں جن کو آدمی ’’بڑا‘‘سمجھ لیتا ہے۔اورپھر وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی توجہات کا مرکز بن جاتے ہیں۔لوگ ان کے اس طرح گرویدہ ہوجاتے ہیں جیسا گرویدہ انہیںصرف خدا کا ہونا چاہیے۔آدمی کی فطرت کا خلا جو حقیقۃ ً اس لیے تھا کہ اس کو خدا سے پرکیا جائے وہاں وہ کسی غیر خداکو بٹھا لیتاہے(البقرہ،2:165)۔
مذہبی احساس جب اپنے اعلیٰ ترین اسٹیج کو پہنچتا ہے تو وہ محبت میں ڈھل جاتا ہے۔خدا ہرقسم کی خوبیوںکا اعلیٰ ترین مجموعہ ہے۔انسان جتنی بھی چیزوں کا مالک ہے وہ سب کی سب خداکاعطیہ ہیں۔کائنات کا گہرامشاہدہ ایک ایسے خالق کا تعارف کراتا ہے ، جو…
نفس کے خلاف جہاد
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے واپس ہو کر مدینہ پہنچے تو آپ نے فرمایا قَدِمْتُمْ مِنَ الْجِهَادِ الأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الأَكْبَرِقَالُوا وَمَا الْجِهَادُ الأَكْبَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مُجَاهَدَةُ الْعَبْدِ هَوَاهُ (تاریخ بغداد للخطیب بغدادی، حدیث نمبر 7297)۔ یعنی، تم لوگ چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آئے ہو۔ لوگوں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول، جہاد اکبر کیا ہے؟ آپ نے کہا کہ بندہ کا اپنے نفس سے جہاد کرنا۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ ہم وقتی جہاد سے مستقل جہادکی طرف واپس آئے ہیں
We have come back from temporary jihad to permanent jihad.
رد عمل نہیں
صبر ابتدائی طور پر اس بات کا نام ہے کہ کوئی ناخوشگوار صورت حال پیش آئے تو آدمی برداشت کرلے۔ آہ واویلا کرنے کے بجائے وہ تحمل کا طریقہ اختیار کرے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ری ایکشن (reaction) سے بچائے۔ اور ناخوشگوار صورتِ حال کو اندر ہی اندر سہہ لے۔ صبر اپنے وسیع تر مفہوم کے اعتبار سے پیس فل پلاننگ کا نام ہے۔ بے صبری یہ ہے کہ آدمی ری ایکشن کا طریقہ اختیار کرے، اور صبر یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو آخری حد تک ری ایکشن سے بچائے۔ بلکہ خاموش انداز سے پرامن تدبیر کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرے۔
صبر کا معاملہ اجتماعی زندگی میں جب بھی پیش آئے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ٹکراؤ کو اوائڈ کیا جائے، اور وقتی طور پرکوئی تکلیف پیش آئے توبرداشت کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے آدمی اس معاملے پر غور و فکر کرے۔پھر غیر جذباتی انداز میں خاموش…
عمر فاروقؓ کی مثال
حضرت عمر فاروقؓ جب خلیفہ تھے، وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ میں تمہاری ہی طرح ہوں اور تم لوگوں میں سے صرف ایک ہوں۔ اس لیے تم میرے خلاف جو بات بھی محسوس کروں اسے آزادانہ طور پر کہہ سکتے ہو۔ اس معاملہ میں تمہارے اوپر کوئی پابندی نہیں۔
ایک بار مدینہ کی مسجد کے منبر پر کھڑے ہو کر حضرت عمر لوگوں کے سامنے خطبہ دے رہے تھے، اس دوران انھوں نے کہا کہ میرے اندر اگر تم کوئی ٹیڑھ دیکھو تو اس وقت تم کیا کرو گے۔ ایک لمحہ خاموشی طاری رہی۔ اس کے بعد ایک شخص کھڑا ہوا۔ اس نے کہا کہ خدا…
عثمان غنی ؓ کی مثال
حضرت ابوعبیدۃ بن الجراح نے ایک روز حضرت عثمانؓ سے بحث کی۔ انھوں نے کہا کہ میں تین چیزوں میں آپ سے افضل ہوں۔ حضرت عثمانؓ نے پوچھا کہ وہ کیا چیزیں ہیں۔ حضرت ابوعبیدہ بن الجراح نے جواب دیا۔
اول یہ کہ بیعت رضوان (حدیبیہ) کے وقت میں حاضر تھا، اور آپ اس وقت غائب تھے۔ دوسرے یہ کہ میں بدر کے غزوہ میں شریک ہوا اور آپ نے اس میں شرکت نہیں کی۔ تیسرے یہ کہ غزوۂ احد کے موقع پر میں ان لوگوں میں تھا جو ثابت قدم رہے اور آپ اس میں ثابت قدم…
ایک واقعہ
صحیح البخاری (کتاب العلم) میں انس بن مالکؓ کی ایک روایت ہے۔ وہ مدینہ کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جس میں وہ خود موجود تھے۔ اس کا ابتدائی حصہ یہ ہے: بَيْنَما نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي المَسْجِدِ، دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ، فأَناخَهُ فِي المَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قالَ لَهُمْ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ؟ والنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَقُلْنا: هذا الرَّجُلُ الأَبْيَضُ المُتَّكِئ. فقالَ لَهُ الرَّجُلُ: ابْنَ عَبْدِ المُطَّلِبِ! فقالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: قَدْ أَجَبْتُكَ. فقالَ الرَّجُلُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم: إِنِّي سائِلُكَ فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي المَسْأَلَةِ، فَلا تَجِدْ عَلَيَّ فِي نَفْسِكَ. فقالَ: سَلْ عَمَّا بَدا لَكَ. فقالَ: أَسْأَلُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ؟ فقالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ ۔ الخ۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 63) یعنی، ہم لوگ مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر داخل ہوا۔ اس نے اپنا اونٹ مسجد میں بٹھایا، پھر اس نے اسے باندھا۔ پھر اس نے لوگوں سے پوچھا کہ تم میں محمدؐ کون ہیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ تکیہ لگائے ہوئے ہمارے سامنے بیٹھے تھے۔ ہم نے کہا کہ یہ سفید آدمی جو تکیہ لگائے ہوئے ہے۔ آنے والے نے کہا، اے عبدالمطلب کے بیٹے، آپ نے فرمایا کہ میں نے تمہاری بات سن لی۔ اس نے کہا کہ میں آپ سے سوال کروں گا اور سوال میں آپ سے سختی کروں گا۔ آپ اپنے دل میں میرے اوپر غصہ نہ ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ پوچھو جو تم پوچھنا چاہتے ہو۔ اس نے کہا کہ میں آپ کو آپ کے رب کی اور جو آپ سے پہلے تھے ان کے رب کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپ کو سارے انسانوں کی طرف بھیجا ہے۔ آپ نے فرمایا، خدایا ہاں ۔ الخ
پیغمبر اسلامؐ کا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اسلامی معاشرہ میں ہر ایک کو آزادی حاصل ہے کہ وہ بڑے سے بڑے آدمی سے بھی جو سوال چاہے کرے۔ حتی کہ وہ اپنے کلام میں سخت انداز اختیار کرنے کے لیے بھی آزاد ہے۔ مخاطب کو چاہیے کہ وہ سائل پر غصہ نہ ہو بلکہ…
خدا اور انسان
ابو مسعود انصاری مدینہ کے ایک مسلمان تھے۔ ایک روز وہ کسی بات پر اپنے غلام سے بگڑ گئے اور اس کو ڈنڈے سے مارنے لگے۔ عین اس وقت رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گزر ہوا۔ آپ نے دیکھ کر فرمایا کہ اے ابو مسعود، جان لو کہ خدا تمہارے اوپر اس سے زیادہ قابو رکھتا ہے جتنا تم اس غلام پر قابو رکھتے ہو (اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ، لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ) یہ سنتے ہی ابو مسعود کے ہاتھ سے ڈنڈا چھوٹ کر گر گیا۔ اور انھوں نے کہا کہ آج سے یہ غلام آزاد ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1659)۔
ابو مسعود پہلے معاملہ کو ایک انسان اور دوسرے انسان کا معاملہ سمجھتے تھے۔ اس وقت انھیں نظر آتا تھا کہ وہ مالک ہیں اور دوسرا آدمی غلام۔ اپنی ذات انھیں اونچی سطح پر نظر آئی اور غلام کی ذات نیچی سطح پر۔ مگر رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی…
اچھا گمان
مدینہ میں ایک بار ایک معاملہ میں باہمی بدگمانی کا واقعہ پیش آیا، اس موقع پر قرآن میں یہ حکم اترا کہ جب تم لوگوں نے اس بات کو سنا تو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے ایک دوسرے کی بابت نیک گمان کیوں نہیں کیا، اور کیوں نہ کہا کہ یہ کھلا ہوا بہتان ہے (24:12)۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام چاہتا ہے کہ معاشرہ کے اندر خوش گمانی کی فضا ہو۔ لوگ کسی کے خلاف کوئی بات سنیں تو نہ صرف یہ کہ اس کو بیان نہ کریں بلکہ دل میں بھی اس پر یقین نہ کریں۔ وہ اپنے ذہن کو ہمیشہ اچھے خیالات سے آباد کریں۔
دو طریقے
ایک دیہاتی آدمی مدینہ آیا۔ وہ مسجد نبوی میں داخل ہوا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ موجود تھے۔ وہ مسجد کے اندر کھڑا ہو کر پیشاب کرنے لگا۔ لوگوں نے اس کو تنبیہہ کرنا چاہا مگر آپ نے منع فرما دیا۔ آپ نے کہا کہ دیہاتی کو چھوڑ دو ا ور ایک ڈول پانی لا کر وہاں بہا دو۔ چنانچہ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ (بخاری، مسلم، نسائی، ترمذی، ابو داؤد، مؤطا)
(Sahih al-Bukhari: 220, Sunan al-Nasai: 56, Sunan al-Tirmidhi: 147, Sunan Abi Dawud: 380, Musnad Ahmad: 10533)
فکری انقلاب
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ، فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الْآيَةَ: أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ۔ أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لا يُوقِنُونَ۔ أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ المُسَيْطِرُونَ كَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ (صحيح البخاري،حدیث نمبر 4854) ۔محمد بن جبیربن مطعم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ وہ تمام مغرب میں سورۃ طور پڑھ رہے تھے۔ جب آپ اس آیت تک پہنچے(کیا وہ خالق کے بغیر پیدا ہوگئے ہیں یا وہ خود ہی خالق ہیں۔ کیا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے۔ بلکہ وہ یقین نہیں رکھتے۔ کیا ان کے پاس خدا کی رحمت کے خزانے ہیں یا وہی اس پر داروغہ ہیں) جب میں نے اس کو سنا تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے۔
حضرت جبیربن مطعمؓ بدر کی جنگ تک اسلام نہیں لائے تھے۔ وہ بدر کے واقعہ کے بعد اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لیے مکہ سے مدینہ آئے۔ اس وقت وہ مشرک تھے۔ مدینہ کے زمانہ قیام میں ان پر یہ تجربہ گزرا کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مغرب کی نماز کی…
عزت کیسے ملتی ہے
16ھ میں مسلمان فوجیں حضرت ابو عبیدہؓ کی قیادت میں شام کو فتح کرتے ہوئے فلسطین تک پہنچ گئیں۔ عیسائی بیت المقدس میں قلعہ بند ہوگئے اور مسلم فوجوں نے اس کو اپنے محاصرہ میں لے لیا۔ اس وقت عیسائیوں کی طرف سے صلح کی پیش کش ہوئی جس میں ایک خاص شرط یہ تھی کہ خلیفہ(عمر فاروقؓ) خود آ کر عہد نامہ کی تکمیل کریں۔ حضرت ابوعبیدہ نے عیسائیوں کی اس پیش کش سے خلیفہ دوم کو مطلع کیا۔ آپ نے اصحاب سے مشورہ کیا اوربالآخر مدینہ سے نکل کر فلسطین کے لئے روانہ ہوئے۔
حضرت عمر فاروقؓ کے ساتھ ایک اونٹ تھا اور ایک خادم۔ جب آپ مدینہ کے باہر پہنچے تو آپ نے خادم سے کہا۔ ہم دو ہیں اور سواری ایک ہے۔ اگر میں سواری پر بیٹھوں اور تم پیدل چلو تو میں تمہارے اوپر ظلم کروں گا۔ اور اگر تم سواری پر بیٹھو اور میں پیدل…
تھرڈ آپشن
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ میں مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان موجودہ اردن میں ایک جنگ پیش آئی جس کو غزوۂ موتہ کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں چند دن کے اندر بارہ اصحاب شہید ہوگئے۔ اس کے بعد خالد بن الولید کو اسلامی لشکر کا سردار بنایا گیا۔ انہوں نے اندازہ کیا تو معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی تعداد تین ہزار ہے اور رومیوں کی تعداد دو لاکھ ہے۔ یہ فرق ناقابل عبور حد تک غیر متناسب(out of proportion) تھا۔ چنانچہ خالد بن الولید نے مقابلہ کے میدان سے ہٹ کر واپسی کا فیصلہ کیا۔
یہ لوگ جب واپس ہو کر مدینہ پہنچے تو مدینہ کے کچھ لوگوں نے ان کا استقبال يَا فُرَّارُ(اے بھاگنے والو) کہہ کر کیا۔ اس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایالَيْسُوا بِالْفُرَّارِ، وَلَكِنَّهُمْ الْكُرَّارُ إنْ شَاءَ اللَّهُ…
امن آپ کی زندگی کا ایک عمومی اصول تھا اور جنگ صرف ایک اتفاقی استثناء۔ چنانچہ اپنی 23 سالہ پیغمبرانہ زندگی میں آپ نے صرف تین لڑائی لڑی(بدر، احد، حنین) یہ تینوں لڑائیاں دفاعی تھیں اور ان میں مجموعی طور پر صرف ڈیڑھ دن صرف ہوئے۔
زید بن مُہَلہِل نجد میں بعشت نبوی سے پہلے پیدا ہوئے۔ وہ شاعر تھے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے شمشیر زنی اور گھوڑے کی سواری میں شہرت حاصل کی۔ چنانچہ وہ زید الخیل کہے جانے لگے۔ خیل عربی زبان میں گھوڑے نیز گھوڑے سوار کو کہتے ہیں۔
انہوں نے اسلام سے پہلے فارِس(شہ سوار) اور شمشیر زن کی تعریف پر ایک پرجوش نظم کہی تھی۔ اس میں وہ اپنے قبیلہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ میری قوم لوگوں کی سردار ہے۔ اور سردار ہی اس وقت قائد بنتا ہے جب کہ شعلہ بار ہتھیلیوں نے جنگ کی آگ کو بھڑکا…
…مکہ کے آدمیوں نے خشت باری کی مگر آپ نے اس کا انتقام نہیں لیا۔ اس طرح کے متعدد اشتعال انگیز واقعات پیش آئے۔ مگر آپ نے ان سب سے اوپر اٹھ کر سوچا(دیکھیے، سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ309-319)۔ آپ نے کلی مصلحت کو جزئی مصالح کے اوپر غالب رکھا۔
حدیبیہ کے وقت جو حالات تھے وہ سب کے سب ٹکراؤ کی طرف لے جانے والے تھے۔ اور ظاہری احکام شریعت کے مطابق ، اس وقت یہ ٹکراؤ عین جائز بھی تھا۔ مگر آپ نے اس قسم کے تمام حالات سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ آپ نے قریبی مصلحتوں کو نظرانداز کر کے دور کی پائیدار مصلحتوں کو اہمیت دیتے ہوئے صلح کے معاہدہ پر دستخط کر دئیے۔ اس کا نتیجہ، قرآن اور تاریخ کی شہادت کے مطابق ، فتح مبین کی صورت میں برآمد ہوا۔
حقیقت یہ ہے کہ صلح حدیبیہ نے اسلام کی ابتدائی تاریخ میں کلی اجتہاد کی ایک نہایت ممتاز مثال قائم کی ہے۔ اسی لیے قرآن میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ اس لیے ہوا کہ وہ اہل ایمان کے لیے ایک نمونہ ہو جائے اور ان کو ایک سیدھا راستہ دکھا دے (48:20)۔…
…گا۔ اسی بات کو اصول فقہ کی زبان میں کہا گیا ہے تَرْكُ الْمَصْلَحَةِ لِخَوْفِ مَفْسَدَةٍ أَعْظَمَ مِنْهَا (شرح النووی علی صحیح مسلم، جلد14، صفحہ178)۔ ایک درست کام بھی اس وقت نہ کرنا جب کہ اس کا نتیجہ برعکس صورت میں نکلنے والا ہو۔
اجتہاد مقید کی وضاحت کے لیے استعانت بالکفار یا غیر مسلموں کے ساتھ موالات (تعاون) کا مسئلہ بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ تحریکِ آزادی کو موثر بنانے کے لیے اس صدی کے اوائل میں جب ہمارے علما نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ تاکہ ہندواورمسلمان دونوں فرقے متحدہ ہوکر انگریزوں کے خلاف لڑ سکیں ، اس وقت ایک طبقہ نے علما کے اس موقف پر سخت تنقید کی۔ حتیٰ کہ اس بنیاد پر کفر کے فتوے بھی صادر کیے گئے۔ ان صاحبان کی نظر اس آیت پر تھی جس میں اہل اسلام کو غیر مسلموں کے ساتھ دوستی اور تعاون سے منع کیا گیا ہے۔ علما بلاشبہ اس قرآنی حکم سے بے خبر نہیں تھے۔ لیکن ان کے سامنے رسول اللہؐ کے زمانے کی ایک ایسی عملی نظیر موجود تھی جس کی روشنی میں اجتہاد کرتے ہوئے انھوں نے پیش قدمی کرکے غیر مسلموں کے ساتھ تعاون کیا۔
جس وقت مکہ والوں نے رسول اللہؐ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا تو آپ حکم خدا وندی سے ہجرت کی تیاری میں لگ گئے۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ سیرت کی تمام مستند کتابوں میں یہ ملتاہے کہ آپ نے صحرائی راستوں کے ایک ماہر سے ربط قائم کیا تاکہ اس کی رہنمائی…
یہ کمی صرف مدون فقہ کے اندر ہے۔ اگر آپ اس فقہ سے گزر کر قرآن و سنت تک پہنچ جائیں تو آپ پائیں گے کہ قرآن و سنت میں ہر صورت حال کے لیے کامل رہنمائی موجود ہے۔
اب آپ دیکھیں گے کہ قرآن اتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ (64:16) کا اصول بتا رہا ہے۔ یعنی جتنا وُسع اتنی ہی تکلیف (ذمہ داری )۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی چار بڑے دوروں میں تقسیم تھی۔ مکّی زندگی کے دو دور، اور مدنی زندگی کے دو دور۔ مکی زندگی کے ابتدائی چند سال خفیہ تبلیغ اور تنہا نماز پڑھنے کے سال ہیں۔ اس کے بعد مکی زندگی کا نصف آخر ہے جس میں علی الاعلان تبلیغ اور کھلم کھلا عبادت کا حکم دے دیا گیا۔
یہی معاملہ ہجرت کے بعد مدنی دور کا ہے۔ مدنی دور کے ابتدائی چند سال وہ ہیں جب کہ ایک صحیفہ یا چارٹر کے ذریعہ مسلمان اور یہود یا مسلم اور غیر مسلم کو ملا کر ایک مشترک نظام بنایا گیا (لِلْيَهُودِ دِينُهُمْ، وَلِلْمُسْلِمِيْنِ دِينُهُمۡ)سیرت…
اس طرح شاتم کو قتل کرنے کے موجودہ فتوے شاتم کو تو قتل نہ کر سکے۔ البتہ وہ شدید طور پر اسلام کی بدنامی کا سبب بن گئے۔ وہ صرف الٹا نتیجہ پیدا کرنے والے (counter-productive) ثابت ہوئے۔
حالاں کہ واقعات بتاتے ہیں کہ اس معاملہ میں خود اسلام میں حالات کے اعتبار سے فرق کیا گیا ہے۔ چنانچہ ابن تیمیہ اور دوسرے حضرات شاتم کی سزا کے جتنے بھی واقعات کا حوالہ دیتے ہیں وہ سب مدنی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ یعنی اس دور سے جب کہ اسلام کو بااقتدار حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ اس کے برعکس مکّی دور میں جب کہ اقتدار اعلیٰ اسلام کے ہاتھ میں نہیں تھا، ابولہب کی بیوی ام جمیل نے علی الاعلان بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومذمّم کہا (مُذَمَّمًا أَبَيْنَا) اخبار مکہ للارزقی، جلد1، صفحہ316۔مگر نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاتم کی حد بیان فرمائی اور نہ آپ کے اصحاب دوڑے کہ اس شاتمہ کو قتل کر ڈالیں ۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مذکورہ قسم کی کتابوںمیں بعد کے زمانہ میں پیش آنے والے حالات کااحاطہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ کتابیں اپنی تمام خوبیوں کے باوجود موجودہ زمانہ کے اعتبار سے غیر متعلق ہوکر رہ گئی ہیں۔ یہی کم و بیش اس پورے…
…ہیں۔ مثال کے طور پر آپ صحاح ستہ یا حدیث کی اور کوئی مستند کتاب اٹھا کر دیکھیں ، اس میں آپ کو دعوت و تبلیغ کا باب نہیں ملے گا۔ موجودہ کتب حدیث میں ، باعتبار ترتیب ، ہر قسم کے ابواب ہیں ، مگر دعوت و تبلیغ کا باب ان میں سرے سے موجود نہیں۔
جو لوگ ان کتب حدیث کو پڑھتے ہیں ، وہ قدرتی طور پر تراجم ابواب کے تحت انھیں پڑھتے ہیں۔ اس طرح ان کو پڑھ کر شعوری یا غیر شعوری طور پر قاری کے اندر غیر دعوتی ذہن بنتا ہے۔ جہاد و قتال کے ابواب سے تو وہ خوب آشنا ہو جاتا ہے۔ مگر دعوت و تبلیغ کی اہمیت سے وہ یکسر غافل رہتاہے۔
اسی طرح سیرتِ رسول پر لکھی جانے والی کتابوں کو دیکھئے۔ سیرت کی تقریباً تمام مستند کتابیں غزواتی پیٹرن پر لکھی گئی ہیں۔ ابن ہشام کی مشہور چار جلدوں کی سیرت کا ایک جلد سے کچھ زیادہ حصہ 13 سالہ مکّی دور پر ہے، اور بقیہ تقریباً تین جلدیں 10…
…عظیم حکمت اور عظیم رہنمائی موجود ہے۔ اس پیغمبرانہ واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی معاملات میں آدمی کو آئیڈیل کے بجائے پریکٹیکل کو دیکھنا چاہئے ، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ وہ سچے اہل ایمان کے ساتھ معاملہ کر رہا ہو جیسا کہ اصحاب رسول تھے۔
اجتماعی زندگی میں معاملہ کرتے ہوئے بار بار ایسا پیش آتا ہے کہ ایک صورت وہ ہوتی ہے جو اس معاملہ میں آئیڈیل صورت ہوتی ہے۔ مگر حالات بتاتے ہیں کہ اگر آئیڈیل یا معیاری حل پر اصرار کیا گیا تو بات مزید بگڑ جائے گی۔ ایسی حالت میں پیغمبرانہ سنت یہ ہے کہ معیاری حل پر اصرار نہ کیا جائے ، بلکہ عملی حل کو قبول کر لیا جائے۔
آزادانہ غور و فکر کا ماحول ہو تو آدمی اس سنت رسول کو دریافت کرے گا جس میں بیشمار فوائد چھپے ہوئے ہیں۔ اور اگر قدیم ذخیرہ پر آزادانہ غور و فکر کا ماحول نہ ہو تو وہ اس عظیم سنت سے آگاہ نہ ہو سکے گا۔ اور نتیجتاً اس کے دوررس فائدوں سے بھی…
سیکولرزم کا مسئلہ
اسی طرح ایک اور معاملہ سیکولرزم کا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مشترک سماج کے لیے سیکولرزم کو حکومت کا سب سے بہتر فارم تسلیم کیا جاتا ہے۔ دنیا کے بیشتر ملکوں کا نظام اسی کے مطابق چلایا جا رہا ہے۔ موجودہ زمانہ میں کچھ ایسے مسلمان اٹھے جنھوں نے سیکولرزم کی سخت مخالفت کی اور اس کو ایک اینٹی اسلام نظریہ بتایا۔ مثلاً سید ابوالاعلیٰ مودودی، وغیرہ۔ مگر یہ صرف ایک انتہا پسندانہ ردعمل تھا۔ اس کو کوئی سوچا سمجھا مثبت ردعمل نہیں کہا جا سکتا۔
اس معاملہ میں زیادہ صحیح رائے کچھ دوسرے لوگوں نے پیش کی۔ مثلاً مولانا سعید احمد اکبر آبادی (1908-1985ء) وغیرہ۔ اس سلسلہ میں مولانا اکبر آبادی کا ایک مضمون تین قسطوں میں ماہنامہ برہان، دہلی کے شمارہ مئی ، جون ، جولائی 1962ء میں چھپا تھا۔…
دائرہ عمل کی تقسیم
اب مذکورہ آیت کولیجئے۔ تفسیروں کے مطالعہ سے اس آیت کا جو پس منظر معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ غزوہ تبوک(9ھ) میں مدینہ کے کچھ مسلمان نہیں جا سکتے تھے۔ ان متخلفین کے بارے میں قرآن میں سخت آیتیں اتریں۔ اس کے بعد لوگوں کا حال یہ ہوا کہ بعض سرایا پیش آئے تو اس میں مدینہ کے تمام اہل ایمان چلے گئے۔ حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علم دین سیکھنے کے لیے کوئی آدمی شہر میں باقی نہ رہا۔ اس وقت لوگوں کو عمومی خروج سے روکنے کے لیے یہ آیت اتری۔
اس آیت میں امت کو مستقل نوعیت کا ایک رہنما اصول دے دیا گیا۔ وہ یہ کہ جہاد بالسیف اور علم کے میدان کو عملی طور پر ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا۔ امت کے ایک طبقہ کی ذمہ داری یہ قرار پائی کہ وہ سیاسی جہاد کے شعبوں میں مشغول ہو۔ امت کے دوسرے…
پیغمبر کی مثال
عبداللہ ابن عباس مکی دور کاایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک روز قریش کے اکابر کعبہ کے پاس جمع ہوئے۔ انھوں نے باہم مشورہ کرکے یہ طے کیا کہ اپنا ایک شخص بھیج کر محمد کو بلاؤ تاکہ ان سے بات کرکے معاملات طے کیے جا سکیں۔ پیغام پا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں آئے۔
گفتگو شروع ہوئی تو قریش کے نمائندہ نے کہا کہ آپ ہماری قوم کے لیے مصیبت بن گئے ہیں۔ آپ نے ہمارے آباء کو گالی دی۔ ہمارے دین پر عیب لگایا۔ ہماری عقلوں کو بیوقوف بتایا اور ہمارے اصنام کو گالیاں دیں
دونوں جگہوں کا فرق اس سے واضح ہے کہ مکہ میں ابو لہب کی بیوی کے لیے ممکن تھا کہ وہ آپ کی مذمت میں اس قسم کے اشعار کہے اور ان کو مکہ کی آبادی میں چل پھر کر گائے کہ محمد قابل مذمت ہیں۔ ہم نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا
مُذَمَّمًا عَصَيْنَا، وَأَمْرُهُ أَبَيْنَا
دوسری طرف نبوت کے تیرھویں سال جب آپ اپنے رفیق ابوبکر بن ابی قحافہ کے ساتھ مدینہ پہنچے تو وہاں دونوں کا استقبال انْطَلِقَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ(مسند احمد، حدیث نمبر13318) کے الفاظ سے کیا گیا، یعنی آپ دونوں امن کے ساتھ ہمارے سردار کی…
…کے کسی خطہ پر سیاسی اقتدار کسی ایک ہی قوم کا قائم نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر زمانہ میں بدلتا رہے گا۔ کبھی ایک قوم کے پاس اور کبھی دوسری قوم کے پاس۔ اس بات کو قرآن میں ان الفاظ میں کہاگیا ہے کہ — اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں
وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ(3:140)۔
اب سوال یہ ہے کہ جب عام قانون فطرت کے تحت یروشلم کا سیاسی اقتدار ابدی طور پر کسی ایک قوم کے پاس نہیں رہ سکتا تو اہل اسلام کے لیے مسجد اقصیٰ میں ہر دور میں عبادت کرنے کی صورت کیا ہو۔ ہر مسلمان فطری طور پر یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ اس مسجد میں…
…وقفہ ہوگا اور وہ دوسری زندگی کو اسی طرح اپنی زندگی سمجھے گا جس طرح سو کر اٹھنے والا کوئی شخص سمجھتا ہے۔ ہر آدمی دوسرے کو اسی طرح پہچانے گا جس طرح وہ آج پہچانتا ہے۔ غرض آج ہمارا جو وجود ہے، اسی وجودکے ساتھ ہم اپنی جزا یا سزا پائیں گے۔
اس طرح اسلام کا آخرت کا تصور ایک ایسا تصور ہے جو آدمی کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ اس نظریے میں اس بات کی مکمل صلاحیت ہے کہ وہ سماج کی ضرورت کے مطابق نہایت فرض شناس اور دیانت دار شہری پیدا کرے اگر اس نظریے کو کسی آبادی میں وسیع پیمانے پر پھیلا یا جائے اور لوگوں کے ذہنوں میں اس کو اچھی طرح بٹھا دیا جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ حساس اور ذمے دار بن جائینگے۔ جب ایک شخص کو منتخب کرکے کسی کام پر لگا دیا جائے گا تو وہ اس احساس کے تحت اپنی ڈیوٹی کو ٹھیک ٹھیک انجام دے گا کہ اس کا جواب اسے مالک کائنات کو دینا ہے جو اس کی تمام سرگرمیوں سے باخبر ہے، جس کی نگاہ سے اس کا کوئی چھوٹا یا بڑا کارنامہ چھپ نہیں سکتا۔
مدینے کے ایک باشندے ابو مسعود انصاری کا واقعہ ہے، وہ اپنے غلام کو مار رہے تھے، اتنے میں انہوں نے پیچھے سے ایک آواز سنی— اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ، لَلهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ (ابو مسعود! یاد رکھو اس غلام کے اوپر تم کو جتنا…
رسول اللہ کا حسن سلوک
مذہب کی اصل محبت ہے، خدا کے ساتھ بھی اور بندوں کے ساتھ بھی۔ انسان کے اندر سب سے اعلیٰ جذبہ محبت کا جذبہ ہے۔ اس جذ بہ کو ایک آدمی ایک طرف خداکے ساتھ اور دوسری طرف بندوں کے ساتھ خاص کر دے تو اسی کا نام مذ ہب ہوتا ہے۔ خدا کے ساتھ انسان کی محبت عبادت کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے ۔ اور بندوں کے ساتھ اس کی محبت اخلاق اور حسن سلوک کی صورت میں ۔
اسلام میں اخلاقیات کو اتنی زیادہ اہمیت دی گئی ہے کہ حکم ہوا ہے کہ تم بر تر اخلاق کو اختیار کرو قرآن میں اس کو خلق عظیم (68:4) کہا گیا ہے۔ یعنی تم ایسے نہ بنو کہ دوسرا آدمی جب تمہارے ساتھ اچھا سلوک کرے اس وقت تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو…
…تو میں جاؤں اور کام کر آؤں۔ آپ نے نماز روک دی ۔ اس آدمی سے کہا کہ جاؤ۔ اپنا کام پورا کر کے آؤ ۔ وہ آدمی جب کام پورا کر کے دوبارہ واپس آیا اس کے بعد آپ نےنماز شروع فرمائی، آپ کے اس مزاج کو مسدس حالی میں اس طرح نظم کیا گیا ہے
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
کمزور طبقات کے لیے آپ اتنا زیادہ نرم تھے کہ ان کی گستاخی کو نظر اندازکر کے ان کے ساتھ بہتر سلوک کرتے تھے ۔ آپ کے رفیق انس بن مالک بتاتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم راستہ پر چل رہے تھے۔ میں بھی ساتھ تھا۔ آپ اس وقت ایک…
عید کا تیوہار
اسلام میں عید الفطر کا طریقہ ہجرت کے بعد مقرر کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو آپ نے دیکھا کہ وہاں سال میں دو تیوہاروں کا رواج ہے۔ اس دن وہ لوگ تفریح کرتے ہیں اور کھیل کود کے اکھاڑے قائم کرتے ہیں۔ آپ نے لوگوں سے کہا کہ اللہ نے تمہارے لیے اس سے بہتر دو دن مقرر کیے ہیں۔ اور وہ عید الفطر اور عید الاضحی ہیں (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر1134)۔ اس طرح اہل اسلام کے درمیان ان دونوں تیوہاروں کا رواج پڑا۔
عید الفطر رمضان کے خاتمہ کے فوراًبعد آتی ہے۔ اسی لیے اس کو انعام کا دن کہا گیا ہے۔ رمضان میں اللہ کے بندوں نے ایک مہینہ تک کھانے اور پینے پر پابندی لگالی تھی۔ اب عید کے دن ان کو کھانے اور پینے کی مکمل آزادی دے دی گئی۔ گویا کہ رمضان کا…
اسلامی تیوہار
تیوہار اجتماعی خوشی کا دن ہے۔ یہ انسان کی اور انسانی سماج کی ایک فطری ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اور ہر سماج میں تیوہار کا رواج کسی نہ کسی صورت میں پایا جاتا ہے۔
عام حالات میں لوگ اپنی اپنی ذمہ داریوں میں اور اپنے اپنے کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔ اب ضرورت ہوتی ہے کہ ان کے لیے بے تکلف انداز میں اجتماعی ملاقات کا ایک موقع ہو۔ تیوہار اسی قسم کا ایک موقع فراہم کر تے ہیں جب کہ کسی بستی یا کسی انسانی گروہ…
…یہاں مشرقی لباس اور مغربی لباس کے امتیازات فضا میں گم ہو جاتے ہیں۔ احرام کے مشترک لباس میں تمام لوگ اس طرح نظر آتے ہیں جیسے کہ تمام لوگوں کی صرف ایک حیثیت ہے ۔ تمام لوگ صرف ایک خدا کے بندے ہیں۔ اس کے سوا کسی کو کوئی اور حیثیت حاصل نہیں ۔
حج کے مقررہ مراسم اگر چہ مکہ میں ختم ہو جاتے ہیں مگر بیشتر حاجی حج سے فارغ ہو کر مدینہ بھی جاتے ہیں۔ مدینہ کا قدیم نام یثرب تھا۔ مگر پیغمبر اسلام نے اپنی زندگی کے آخری زمانہ میں اس کو اپنا مرکز بنایا۔ اس وقت سے اس کا نام مدینۃ النبی (نبی کا شہر) پڑ گیا ۔ مدینہ اسی کا اختصار ہے ۔ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی مسجد ہے۔ یہاں آپ کی قبر ہے ۔ یہاں آپ کی پیغمبرانہ زندگی کے نشانات بکھرے ہوئے ہیں ۔
ان حالات میں حاجی جب مدینہ پہونچتے ہیں تو یہ ان کے لیے مزید اتحاد اور اجتماعیت کا عظیم سبق بن جاتا ہے۔ یہاں کی مسجد نبوی میں وہ اس یاد کو تازہ کرتے ہیں کہ ان کا رہنما صرف ایک ہے ۔ وہ یہاں سے یہ احساس لے کر لوٹتے ہیں کہ ان کے اندر خواہ کتنے…
…و عبادت اور توبہ و استغفار میں گزارتا ہے ۔ شام کو یہاں سے مشعر الحرام (مزدلفہ) کے لیے کوچ کر تا ہے ۔ عرفات میں ظہر اور عصر کی نماز تقدیم کے ساتھ ملاکرپڑھی گئی تھی ، اسی طرح مزدلفہ میں مغرب اور عشا کی نماز تاخیر کے ساتھ ملاکر پڑھی جائے گی۔
عرفات کی یہ خصوصیت ہے کہ خود قرآن میں صراحتہ یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ چنانچہ حج کا حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ جب تم عرفات سے چلو تو مشعر حرام (مزدلفہ) میں ٹہر کر خدا کو یادکرو (2:198)۔
عرفات کے میدان سے بہت سی تاریخیں وابستہ ہیں۔ سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہاں وہ عبادتی عمل کیا جس کو حاجی ہر سال اس مقام پر پہنچ کر دہراتا ہے۔ حضرت ابراہیم کے بعد زمانۂ جاہلیت میں لوگوں نے حج کے طریقہ کو بدل دیا تھا۔ پیغمبر…
آداب مدینہ
قدیم عرب میں تین بڑے شہر تھے ۔ مکہ ، طائف اور یثرب۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ سے ہجرت کی اور مدینہ کو اپنی قیام گاہ بنایا، اس وقت سے یثرب شہر کا نام مدینۃ النبی (پیغمبر کا شہر)پڑ گیا۔ بعد کو وہ مختصر ہو کر مدینہ کہا جانے لگا۔
مدینہ جاناحج کا ضروری رکن نہیں ہے ۔ مدینہ جائے بغیر حاجی کا حج مکمل ہو جاتا ہے۔ لیکن جو لوگ حج کرنے کے لیے مکہ جاتے ہیں وہ عام طور پر مدینہ بھی ضرور جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام سے اور اسلامی تاریخ سے مدینہ کا اتنا گہرا تعلق ہے کہ…
…کرنے اور اس کو کنٹرول کرنے کا دروازہ بند کر دیا۔ قرآن نے لوگوں کو یہ ذہن دیا کہ نیچر (فطرت) خود انسان ہی کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس کی جانچ کرنے اور اس کو بھر پور طور پر اپنے فائدہ کے لیے استعمال کرے (الجاثیہ،45:13)۔
قرآن کی اس تعلیم نے بھی لوگوں کو گہرائی کے ساتھ متاثر کیا۔ چنانچہ تاریخ میں پہلی بار نیچر (فطرت) کو مسخر کرنے کا ذہن پیدا ہوا۔ لوگ نیچر کی تحقیق کرنے لگے۔ یہاں تک کہ صدیوں کے عمل کے بعد وہ انقلاب ظہور میں آیا جس کو آج سائنسی انقلاب کہا جاتا ہے۔
قرآن سے پہلے انسان اونچے نیچے طبقوں میں بٹا ہوا تھا۔ قرآن نے نہایت طاقت کے ساتھ اعلان کیا کہ تمام انسان یکساں طور پر خدا کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ تمام انسان خدا کی نظر میں ایک ہیں۔ انسانی برابری کے لیے قرآن کی اس آواز نے نہایت گہرائی کے…
اسلام کی آفاقیت
اسلام جب شروع ہوا اس وقت عرب کے شہر یثرب (مدینہ) میں دو قبیلے آباد تھے ۔ ایک اوس اور دوسرے خزرج ۔ یہ دونوں قبیلے ہمیشہ آپس میں لڑتے رہتے تھے ۔ مگر جب ان پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین توحید کی حقیقت کھلی اور وہ اسلام کے دائرہ میں داخل ہوئے تو ان کی آپس کی لڑائیاں ختم ہو گئیں۔ دو دشمن گروہ ایک دوسرے کے دوست گروہ بن گئے۔ اپنے اپنے ذاتی مفاد کے لیے آپس میں لڑنے والے لوگ متحد ہو کر بلند تر انسانی مفاد کے مجاہد بن گئے۔
ایسا کیوں ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پہلے دونوں قبیلے صرف اپنی اپنی بڑائی کو جانتے تھے۔ اوس کا قبیلہ خزرج پر بڑا بننے کی کوشش کرتا اور خزرج کا قبیلہ اوس کے اوپر بڑا بنا چاہتا ۔ اس طرح دو بڑائیاں آپس میں ایک دوسرے سے ٹکراتی رہتی تھیں اور ان…
…آئے۔ حتی کہ روتے روتے اس کی داڑھی تر ہو گئی۔ نجاشی نے کہا کہ یہ کلام اور وہ کلام جو مسیح لے کر آئے دونوں ایک ہی سرچشمہ سے نکلے ہیں۔ اس کے بعد نجاشی نے قریشی کے وفد سے کہاکہ تم لوگ واپس جائو۔ میں ان لوگوں کو ہرگز تمہارے سپرد نہیں کروں گا۔
مکہ کے وفد نے اب بھی ہار نہیں مانی۔ اگلے دن وہ دوبارہ نجاشی کے دربار میں گئے اور اس نے کہا کہ یہ لوگ حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں بہت سخت بات کہتے ہیں۔ آپ ان کو بلا کر اس کی بابت دریافت کریں۔ نجاشی نے دوبارہ مسلمانوں کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ تم لوگ حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں کیا کہتے ہو۔ حضرت جعفر نے جواب دیا کہ ہم وہی کہتے ہیں جو ہمارے نبی نے ہم کو بتایا ہے۔ وہ یہ کہ حضرت عیسیٰؑ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے۔ وہ خدا کی روح اور اس کا کلمہ تھے۔ نجاشی نے زمین پر سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا کہ خدا کی قسم، تم نے جوکچھ کہا ، حضرت عیسیٰؑ اس ایک تنکے کے برابر بھی زیادہ نہ تھے۔ اس پر بادشاہ کے درباری کافی برہم ہوئے مگر اس نے کسی کی پروا نہ کی۔ اس کے بعد اس نے مسلمانوں سے کہا کہ تم امن کے ساتھ رہو۔ سونے کا پہاڑ لے کر بھی میں تم کو ستانا پسند نہیں کروں گا۔ اس نے حکم دیا کہ قریش کے تمام تحفے اور ہدیے واپس کر دئیے جائیں۔ دربار ختم ہوا تو مسلمان مسرت کے ساتھ باہر نکلے اور قریش کا وفد اس حال میں نکلا کہ ان کے چہروں پر ذلت اور شرمندگی چھائی ہوئی تھی۔
اس کے بعد مسلمان اطمینان کے ساتھ حبش میں مقیم رہے۔ جب رسول اللہ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو ان کی بیشتر تعداد اس خبر کو سن کر حبشہ سے مدینہ چلی آئی۔ بقیہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ 7ھ میں فتح خیبر کے وقت مدینہ پہنچے۔
مدینہ میں اسلام کا آغاز
اسلام سے پہلے مکہ میں اور اس کے آس پاس میلے لگتے تھے۔ ذی قعدہ کے آغاز میں عکاظ کا مشہور میلہ لگتا تھا۔لوگ یہاں سے فارغ ہوکر مجنّہ کے میلے میں جاتے تھے جو تین ہفتے تک چلتا تھا۔ اس کے بعد ذوالمجاز کامیلہ تھا جو حج کے دنوں میں ہوتا تھا۔ ان میلوں کا اصل مقصد تجارت تھا۔اس کے ساتھ ان مواقع پر شعر و شاعری اور پہلوانی کے مقابلے ہوتے اور شراب و کباب کے دور چلتے۔ ان میلوں میں دور دور کے لوگ آ کر شریک ہوتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میلوں کا گشت شروع کیا۔ آپ ہر ہرقبیلہ کے پڑاؤ پر جا کر اس کو اسلام کا پیغام سناتے۔ اس زمانہ کا واقعہ آپ کے ایک ساتھی بتاتے ہیں جب کہ وہ اسلام نہیں لائے تھے۔ انہوں نے کہا، میں ذوالمجاز کے بازار میں تھا…
مدینہ کی طرف ہجرت
اب قریش کے لیے ضروری تھا کہ کوئی آخری تدبیر سوچیں کیوں کہ جس اسلام کو اب تک وہ کمزور سمجھ رہے تھے، وہ مدینہ میں پہنچ کر نئی اجتماعی طاقت حاصل کر رہا تھا۔ قریش اس وقت 10 قبیلوں میں بٹے ہوئے تھے۔ ہرقبیلہ کی اپنی ایک مجلس شوریٰ ہوتی تھی جس کو النادی کہتے تھے۔ پھر پورے قریش کی ایک اجتماعی شوریٰ تھی جس کو دارالندوہ کہا جا تا تھا۔ اس میں ہرقبیلہ کی نادی کے سردار شریک ہوتے تھے۔ جب قریش کے سرداروں کو معلوم ہوا کہ مکہ سے یثرب کی طرف مسلمانوں کی ہجرت نے خطرناک صورت اختیار کر لی ہے تو انہوں نے دارالندوہ کا خصوصی اجلاس کیا جس میں تمام سر دار شریک ہوئے۔
مسئلہ یہ تھا کہ موجود صورت حال سے نمٹنے کے لیے کیا کیا جائے۔ پہلی تجویزیہ تھی کہ حضرت محمد کو ہاشم بن عاص کی طرح قید میں ڈال دیا جائے۔ یعنی زنجیروں میں باندھ کر انہیں جنگل میں چھوڑ دیا جائے۔مگر اس میں یہ اند یشہ محسوس ہوا کہ مدینہ کے…
…بھی گزرے مگر وہ اس میں داخل نہ ہو سکے۔ کہا جا تا ہے کہ غارثور میں آپ کے داخل ہونے کے بعد ہبوط ( landslide )کا ایک واقعہ ہوا جس کی وجہ سے غار کا منھ بند ہوگیا۔ باہر سے دیکھنے والا یہ شبہ نہیں کرسکتا تھا کہ اس کے اندر کوئی انسان موجود ہے۔
حضرت محمد اور ابو بکر تین دن تک اس غار میں رہے۔ اس کے بعد منصو بہ کے مطابق ، عبداللہ بن اُریقط دوسفید اونٹیاں لے کر غارِثور پرآ گیا۔عبداللہ بن اُریقط ایک غیر مسلم تھا جو خز یط (ریگستانی راستوں کا ماہر تھا اور عرب کے جغرافیہ کو بخوبی جانتا تھا۔ اس سے آپ نے اجرت پر معاملہ طے کیا کہ وہ آپ کو غیر معروف راستوں پر چلا کر مکہ سے مدینہ پہنچائے۔ حضرت محمد اور ابو بکر اونٹیوں پر سوار ہوکرآگے کے لیے روانہ ہوئے۔ چونکہ اس بات کا خوف تھا کہ تعاقب کرنے والے راستہ میں پکڑ لیں گے، آپ نے عام راستہ کو چھوڑ کر سمندر کے کنارے کنارے سفر شروع کیا۔ دو انسانوں کا یہ قافلہ اس حال میں روانہ ہوا کہ دونوں کے پاؤں میں نہ جوتے تھے اور نہ جسم پر پورے کپڑے۔ راستہ میں ایک شخص ملا۔ اس نے ابو بکر کو خطاب کرتے ہوئے پوچھاتم کون ہو۔ آپ نے ایک نام بتایا۔ اس کے بعد حضرت محمد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پو چھا یہ دوسرا کون ہے، ابو بکر نے جواب دیا
رَجُلٌ يَهْدِينِي السَّبِيلَ(فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل،حدیث نمبر 605)۔ یعنی ،ایک آدمی جو ہمیں راستہ دکھا تا ہے۔
مدینہ میں داخلہ
قباء مدینہ سے 3 میل کے فاصلہ پر ہے۔ یہاں آپ ابتداء ایک کھجور کے باغ میں اترے۔ قباء کے مسلمان اور یہودی باشندے آ کر آپ کے پاس جمع ہونے لگے۔ مگر انہیں معلوم نہ تھا کہ حضرت محمد کون ہیں۔ ابوبکر چونکہ حضرت محمد سے تین سال بڑے تھے، انہیں گمان ہوا کہ لوگ کہیں یہ سمجھنے میں غلطی نہ کر جائیں پیغمبر کون ہے۔ انہوں نے اپنی چادر، جس کو انہوں نے زبیر بن العوام سے لیا تھا، سائبان کی طرح حضرت محمد کے اوپر پھیلا دیا جو اس وقت ایک کھجور کے درخت کے ناکافی سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اب لوگوں نے پیغمبر کو پہچان لیا اور عرب رواج کے مطابق آپ کو خوش آمدید کہنے کے لیے شور مچانے لگے۔
اس کے بعد بنی عمرو بن عوف کے سردار کلثوم بن الہدام نے اپنے گھر چلنے کی درخواست کی۔ حضرت محمد نے کہا ہم کسی کو زحمت نہیں دینا چاہتے۔ کلثوم نے کہا ہمارے گھر میں ایک کمرہ خالی ہے، اس میں کوئی نہیں رہتا، آپ اور ابو بکر اس میں چل کر قیام کریں۔…
…مسجد کی دیواریں پتھر کی تھیں اور چھت کو کھجور کے تنوں اور پتوں(جرید) سے ڈھانک دیا۔ اس مسجد کو بنانے میں سات مہینے لگے۔ اس مسجد کا قبلہ بھی بیت المقدس کی طرف بنایا گیا۔ کیونکہ اس وقت تک کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے کا حکم نہیں آیا تھا۔
مدینہ میں حضرت محمد جہاں اپنے اونٹ سے اترے، اس سے سب سے قریب کا مکان ابوایوب خالد بن زید کا تھا جو اپنی ماں کی طرف سے حضرت محمد کے رشتہ دار بھی ہوتے تھے۔ ابو ایوب نے اصرار کیا کہ آپ میرے مکان پر چل کر قیام کریں۔ آپ نے کہا کہ میں ایک شرط پر چل سکتا ہوں کہ رات تمہارے یہاں بسر کروں مگر کھانے کا بوجھ تمہارے اوپر نہ ہو۔ ابو ایوب نے کہا، اے محمد! آپ کتنا کھائیں گے کہ مجھ پر بوجھ پڑے گا۔ حضرت محمد نے کہا، میں جتنا بھی کھائوں، مگر تمہارے اوپر اس کی ذمہ داری نہیں ڈالوں گا۔ جب ابو ایوب نے دیکھا کہ حضرت محمد کھانا نہ کھانے پر اصرار کر رہے ہیں تو انہوں نے اس کو منظور کر لیا۔
حضرت محمد تقریباً سات مہینے ابو ایوب انصاری کے مکان میں رہے۔ ابو ایوب کا مکان دو منزلہ تھا۔ دیواریں کچی تھیں اور چھت کھجور کے پتوں کی تھی، اوپر ذرا سا بھی دھماکہ ہوتا تو نیچے مٹی جھڑتی تھی۔ اس لیے ابو ایوب نے اوپر کا حصہ حضرت محمد کے رہنے…
…کھجور کی شاخوں اور پتوں کا ایک سائبان(صفہ) ڈال دیا۔ اس سائبان میں رہنے والے اسلامی تاریخ میں اصحاب صفہ کے نام سے مشہور ہیں۔ یہ صفہ نہ صرف بے گھروں کے لیے گھر تھا بلکہ وہ اسلام کا پہلا مدرسہ بھی تھا جہاں مسلمانوں کی تعلیم و تربیت ہوتی تھی۔
ابو ہریرہ بھی انہیں اصحاب صفہ میں سے ایک تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ستر اصحاب صفہ کو اس حال میں دیکھا ہے کہ ان میں سے کسی کے پاس لمبی چادر نہ تھی۔ یا صرف تہمد ہوتی تھی یا صرف چھوٹی چادر جس کا ایک سرا وہ اپنی گردن سے باندھ لیتے تھے اور دوسرا ہاتھ سے تھامے رہتے تھے کہ کہیں ستر نہ کھل جائے۔ یہ چادر کسی کی آدھی پنڈلیوں تک پہنچتی تھی اور کسی کے ٹخنوں تک۔ وہ اپنی بے سروسامانی کی وجہ سے زراعت یا تجارت بھی نہ کر سکتے تھے، ان میں سے کچھ لوگ جنگل کی طرف چلے جاتے اور وہاں سے لکڑیاں لاتے۔ جس کو بیچ کر وہ اپنے اور اپنے ساتھیوں کے لیے پیٹ بھرنے کا سامان مہیا کرتے۔ کبھی کسی مال دار مسلمان کے یہاں سے کھانے کا انتظام ہو جاتا۔ ایک بار حضرت محمد نے صفہ والوں سے کہا
’’اے اہل صفہ، تم کو بشارت ہو، میری امت میں جو کوئی محتاجی میں صبر و شکر کی زندگی اس طرح گزارے گا جس طرح تم کرتے ہو، وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔‘‘ کہا جاتا ہے کہ صفہ میں جو لوگ مختلف وقتوں میں مقیم رہے، ان کی مجموعی تعداد تقریباً چار سو ہے۔
…دی گئیں۔ سب سے پہلے کچی اینٹیں تیار کی گئیں۔ اس کام میں دوسرے مسلمانوں کے ساتھ آپ خود بھی شریک ہوگئے۔ جب مسجد کی دیوار بننے لگی تو آپ خود بھی اینٹیں اٹھا کر لاتے اور معماروں کی مدد کرتے۔ آپ کو کام کرتے دیکھ کر مسلمانوں نے یہ شعر کہا
لَئِنْ قَعَدْنَا وَالنَّبِيُّ يَعْمَلُ لَذَاكَ مِنَّا الْعَمَلُ الْمُضَلِّلُ
اگر ہم بیٹھ جائیں جب کہ نبی کام کر رہے ہیں تو ہمارا ایسا کرنا بہت برا کام ہوگا (سیرۃ ابن ہشام، جلد1، صفحہ 148)۔
مواخاۃ
مکہ سے ہجرت کرکے جو مسلمان مدینہ پہنچے ان کی حیثیت نئے شہر میں پناہ گزیں کی تھی۔ ان کی آباد کاری کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ طریقہ اختیار کیا جس کو مواخاۃ (ایک دوسرے کو بھائی بنانا) کہا جاتا ہے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے کہا کہ تم لوگ دو دو شخص اللہ کی راہ میں بھائی بھائی بن جائو تَآخَوْا فِي اللهِ أَخَوَيْنِ أَخَوَيْنِ۔ اس کے بعد آپ نے حضرت علی بن ابی طالب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہاهَذَا أَخِي(سیرۃ ابن ہشام، جلد1، صفحہ 505)۔یعنی،یہ میرا بھائی ہے۔
اس طرح مہاجر مسلمان مدینہ میں اجنبی نہیں رہے، مہاجر اور انصار دونوں بھائی بھائی بن کر ایک دوسرے کے مدد گار بن گئے۔ یہ بھائی چارہ اتنا مکمل تھا کہ دونوں کو ایک دوسرے کی وراثت ملنے لگی جس طرح بھائی کو بھائی سے ملتی ہے۔ مدینہ میں مہاجرین اور…
…انصار نے کہا کہ پھر آپ جیسا فرمائیں۔ آپ نے کہاکہ مہاجرین کو زراعت اور باغبانی کا تجربہ نہیں۔ پھر کیا تم ایسا کرو گے کہ باغ میں تم ہماری طرف سے محنت کرو اور پیداوار میں ہم تمہارے شریک رہیں۔ انصار نے کہا کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔
حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ انصار کا یہ طریقہ تھاکہ جب وہ کھجور کی پیداوار کو تقسیم کرتے توہر انصاری ان کے دو حصے اس طرح کرتا کہ اس کا ایک حصہ کم ہوتا اور دوسرا حصہ زیادہ ۔ پھر وہ کم والے حصہ کے ساتھ کھجور کی شاخیں ملا دیتے۔ اس کے بعد وہ مسلمانوں سے کہتے کہ دونوں میں سے جس حصہ کو چاہیں لے لیں۔ تو مہاجر زیادہ پیداوار والے حصہ کو لے لیتے اور انصاری اس حصہ کو لے لیتے جس میں پھل کی مقدار کم ہوتی۔
یہ سلسلہ خیبر کی فتح تک جاری رہا۔ پھر جب خیبر کا علاقہ فتح ہوا اور مسلمانوں کو خیبر کے باغات ملے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے کہا کہ ہمارا حق جو تمہارے اوپر تھا وہ تم نے پورا پورا ادا کر دیا۔ اب اگر تم چاہو تو ہم تمہارے…
معاہدۂ مدینہ
مدینہ میں دو عرب قبیلے اوس اور خزرج آباد تھے۔اس کے ساتھ وہاں یہودیوں کے بھی کچھ قبیلے تھے جو اقلیت کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہ لوگ عربوں کے مقابلہ میں علم میں آگے تھے۔ اسی کے ساتھ وہ لوگ تجارت کرتے تھے، اس بنا پر دولت کے اعتبار سے بھی وہ بڑھے ہوئے تھے۔
یہودیوں میں سے تھوڑے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو پہچان کر آپ پر ایمان لائے۔ مگر ان کی اکثریت آپ کی اور آپ کے دین کی دشمن بن گئی۔ یہود کا خیال تھاکہ پیغمبر صرب بنی اسرائیل کی نسل میں پیدا ہوتے ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم…
9۔ جو قبیلے اس عہد اور حلف میں شریک ہیں اگر ان میں سے کوئی قبیلہ اس حلف اور عہد سے علیحدگی اختیار کرنا چاہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر وہ علیحدگی اختیار کرنے کا مجاز نہ ہوگا۔
10۔ کسی فتنہ پرداز کی مدد یا اس کو ٹھکانا دینے کی اجازت نہ ہوگی اور جو شخص کسی نئی بات نکالنے والے شخص کی مدد کرے گا یااس کو اپنے پاس ٹھکانا دے گا تواس پر اللہ کی لعنت اور غضب ہے، قیامت تک اس کا کوئی عمل قبول نہ ہوگا۔
11۔مسلمان اگر کسی سے صلح کرنا چاہیں گے تو یہود کو بھی اس صلح میں شریک ہونا ضروری ہوگا۔
مہاجرین کے دستے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پہنچنے کے بعد جو کام کیے، ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ نے چھوٹے چھوٹے دستے مکہ کے راستوں کی طرف بھیجنے شروع کیے۔ ان دستوں میں صرف مہاجر مسلمان ہوا کرتے تھے۔ ان دستوں کا ایک مقصد یہ تھاکہ مکہ کے لوگوں کے بارے میں خبریں معلوم کریں۔ کیوں کہ یہ اندیشہ تھا کہ ہجرت کے بعد وہ مدینہ پر چڑھائی کر سکتے ہیں۔
دوسرا مقصد قریش کے قافلوں کو روکنا تھا اور ان کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔قَالَ الْوَاقِدِيُّ وَكَانَ مَقْصِدُهُ أَنْ يَعْتَرِضَ لِعِيرِ قُرَيْشٍ( سیرۃ ابن کثیر، جلد2، صفحہ361)۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس کا مقصد قریش پر رعب ڈالنا اور اسلامی…
…ساتھ تھے۔ انہوں نے اپنا سردار امیہ بن خلف کو بنایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے بواط کے مقام پر پہنچے۔ وہاں معلوم ہوا کہ قریش کا قافلہ آگے چلا گیا ہے۔ چنانچہ کوئی مڈبھیڑ نہیں ہوئی۔ آپ امن و حفاظت کے ساتھ مدینہ واپس ہوگئے۔
جمادی الاولی2ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 200 مہاجرین کی ایک جماعت بنائی۔ اور ان کو لے کر عشیرہ کی طرف روانہ ہوئے جہاں سے قریش کا ایک قافلہ گزرنے والا تھا۔ آپ نے ابو سلمہ بن عبدالاسد کو مدینہ کا حاکم مقرر کیا۔
اس سفر میں سواری کے لیے صرف تیس اونٹ تھے اور مسلمان باری باری ان پر سوار ہوتے تھے۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ قریش کا قافلہ آگے جا چکا ہے۔ یہاں آپ نے قبیلہ بنو مدلج سے معاہدہ کیا۔ اس معاہدہ کا خلاصہ یہ تھا کہ حملہ کے وقت مسلمان بنو مدلج…
ہجرت کے بعد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم13 سال مکہ میں رہے۔ آپ کی دعوت توحید سے قریش کے مشرکانہ خیالات پر زد پڑتی تھی۔ انہوں نے یک طرفہ طور پر آپ کو ستانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ مکہ میں آپ کے لیے رہنا ناممکن بنا دیا۔ اس وقت آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔
آپ مکہ سے اپنا سب کچھ چھوڑ کر نکلے تھے۔ تاہم اہل مکہ نے اب بھی دور تک آپ کا پیچھا کیا تاکہ آپ کو پکڑ کر مار ڈالیں۔ واقعات بتا رہے تھے کہ مکہ چھوڑنے کے باوجود مکہ والوں نے آپ کو بھلایا نہیں ہے۔ اب بھی وہ آپ کے خلاف سازشوں میں مصروف…
جمادی الاولیٰ2ھ
ہجرت کے آخری زمانہ میں مکہ کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے درپے ہوگئے تھے۔ انکے بڑے بڑے سردار اپنی قومی مجلس دارالندوہ میں جمع ہوئے تاکہ اس معاملہ میں مشورہ کر کے آخری فیصلہ کریں۔ مشورہ میں کسی نے کہا کہ محمد کو پکڑ کر کوٹھری میں بند کر دو یہاں تک کہ اسی کے اندر ان کی موت آ جائے۔ کسی نے کہا کہ ان کو مکہ سے جلا وطن کر دو۔ کسی نے کہا کہ تمام قبیلوں کے لوگ مل کر انہیں قتل کر دیں تاکہ ان کا خون تمام قبیلوں پر تقسیم ہو جائے اور بنو ہاشم اس کا انتقام نہ لے سکیں(سیرۃ ابن ہشام،جلد2، صفحہ93-95)۔
مکہ کے اس واقعہ کا ذکر قرآن میں اس طرح آیا ہے__ اور جب منکرین تمہاری نسبت تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تم کو قید کر دیں یا تم کو قتل کر دیں یا تم کو جلاوطن کر دیں۔ وہ اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیریں کر رہا تھا۔ اور اللہ بہترین…
غزوۃ بدرثانیہ
رمضان2ھ میں پہلی باقاعدہ جنگ پیش آئی۔ اس کو غزوۃ بدر کہا جاتا ہے۔ بدر ایک گائوں کا نام تھا جو مدینہ سے تقریباً80 میل کے فاصلہ پر واقع تھا۔ یہ جنگ اسی مقام پر ہوئی۔ اس لیے اس کو غزوۃ بدر کہا جاتا ہے۔ چونکہ یہ اس مقام پر قریش کی جارحیت کا دوسرا واقعہ تھا، اس لیے اس کو غزوۃ بدر ثانیہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس وقت اہل ایمان کی تعداد نسبتاً بہت کم تھی۔ سامان جنگ بھی کم تھا۔ مگر اللہ کی مدد سے دشمن کے مقابلہ میں ان کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔ اسی لیے قرآن میں اس کو یوم الفرقان کہا گیا ہے، یعنی حق و باطل میں فرق کرنے والا دن۔
مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو توحید اور آخرت کی دعوت دے رہے تھے۔ قریش، جو عرب کے سردار کی حیثیت رکھتے تھے، انہوں نے آپ پر اور آپ کے اصحاب پر ہر قسم کا ظلم کیا۔ حتیٰ کہ بعض مسلمانوں کو مارتے مارتے ہلاک کر ڈالا۔ مگر آپ ہر…
…مکہ میں چھوڑ دیا۔ اور تمام لوگ ہجرت کرکے مدینہ آگئے۔ مگر قریش نے اب بھی اپنی جارحیت نہ چھوڑی۔ وہ برابر مختلف انداز سے اپنے جارحانہ عزائم کا اظہار کرتے رہے۔ اسی سلسلہ کا ایک واقعہ وہ تھا جس کو اسلامی تاریخ میں غزوۃ بدر اولیٰ کہا جاتا ہے۔
اب قریش نے ایک نیا جارحانہ منصوبہ بنایا۔ انہوں نے طے کیا کہ باقاعدہ تیاری کرکے مدینہ پر بھرپور حملہ کیا جائے۔ اور مسلمانوں کی طاقت کو بالکل توڑ دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے مکہ کے تمام قبیلوں اور خاندانوںنے مشترکہ مالی تعاون سے ایک رقم فراہم کی۔ اور پھر مکہ کے ایک تجربہ کار تاجر ابو سفیان بن حرب کی رہنمائی میں ایک تجارتی قافلہ شام بھیجا گیا۔ منصوبہ یہ تھا کہ وہاں سے سامان تجارت لایا جائے اور اس کو بیچ کر اس کے نفع سے جنگی تیاری کی جائے۔
رمضان2ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر ملی کہ قریش کا مذکورہ تجارتی قافلہ شام سے واپس ہو کر مکہ جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ایک ہزار اونٹ ہیں جن پر تجارتی سامان لدا ہوا ہے۔
…آپ نے فرمایا کہ تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقت ور نہیں ہو۔ اور نہ میں تم دونوں کے مقابلے میں اَجر سے بے نیاز ہوں مَا أَنْتُمَا بِأَقْوَى مِنِّي، وَلَا أَنَا بِأَغْنَى عَنِ الْأَجْرِ مِنْكُمَا (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، جلد2، صفحہ 389)۔
حالات کی خبر گیری کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آدمی آگے روانہ کررکھے تھے۔ آپ صفراء کے مقام پر پہنچے تو بُسبُس اور عدی نے آ کر آپ کو اطلاع دی کہ قریش کی فوج آپ کی طرف چلی آ رہی ہے۔ مزید معلوم ہوا کہ مکہ کا تجارتی قافلہ راستہ بدل کر تیزی سے سفر کرتے ہوئے نکل گیا ہے اور مکہ کے حدود میں داخل ہوگیا ہے۔ ابو جہل کی قیادت میں اہل مکہ کا جو لشکر روانہ ہوا تھا وہ اپنے تجارتی قافلہ کی طرف سے مطمئن ہو کر مدینہ کی طرف بڑھ رہا تھاکہ مدینہ پر حملہ کرکے اس کا خاتمہ کردے۔
اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی الٰہی کی رہنمائی میں یہ طے کیا کہ وہ بھی ابو جہل کی فوج کی طرف بڑھیں اور اللہ کی مدد کے بھروسہ پر اس کا مقابلہ کریں۔
محرم3ھ
محرم3ھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں یہ خبر ملی کہ بنی ثعلبہ اور بنی محارب نجد میں جمع ہو رہے ہیں اور ان کا ارادہ ہے کہ اطراف مدینہ میں چھاپہ ماریں اور سامان لوٹیں۔ دعشور غطفانی ان کا سردار تھا۔ یہ خبر سن کر آپ نے صحابہ کی ایک جمعیت کے ساتھ غطفان کی طرف کوچ کیا اور مدینہ میں عثمان بن عفان کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔ اس وقت آپ کے ہمراہ چار سو پچاس صحابہ تھے۔ قبیلہ غطفان کے یہ لوگ آپ کے آنے کی خبر سن کر منتشر ہو کر پہاڑوں کی طرف چلے گئے۔ صرف ایک شخص ہاتھ آیا۔ صحابہ نے پکڑ کراس کو آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ نے اس کو نصیحت کی اور اس کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی۔ اس نے اسلام قبول کر لیا۔
صفر کا پورا مہینہ آپ نے اسی علاقہ میں گزارا۔ لیکن کوئی شخص مقابلہ پر نہ آیا۔ آپ پرامن طور پر مدینہ واپس آگئے۔
…عبداللہ بن ابی کی رائے بھی یہی تھی۔ عبداللہ بن ابی نے کہا کہ شہر مدینہ ایک قلعہ کی مانند ہے، تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی مدینہ والوں نے مدینہ میں رہ کر دشمن کا مقابلہ کیا تووہ کامیاب رہے، اور جب وہ مدینہ سے باہر نکلے تو کامیاب نہ ہو سکے۔
کچھ لوگو ں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ اگر ہم نے مدینہ میں رہ کر ان کی مدافعت کی تو ہمارے دشمن ہم کو بزدل قرار دیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ سے نکلے تو آپ کے ساتھ ایک ہزار افراد تھے مگر مذکورہ اختلاف کی بنا پرعبداللہ بن ابی کی سرداری میں تین سوآدمی درمیان سے جدا ہو کر واپس چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بات نہیں مانی گئی اس لیے ہم اس میں شریک نہیں ہو سکتے۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم کے ساتھ صرف سات سو افراد باقی رہ گئے۔
احد کی جنگ دوپہر بعد شروع ہوئی اور شام تک ختم ہوگئی۔ اس جنگ میں مسلمانوں کی طرف آخر میں سات سو آدمی رہ گئے تھے۔ دوسری طرف اہل مکہ کا لشکر تقریباً تین ہزار افراد پر مشتمل تھا۔ ان کے لشکر کے ساتھ مکہ کی عورتیں بھی آئی تھیں جو رجزیہ اشعار…
…اس پر راضی ہوا نہ میں نے اس کو ناپسند کیا، نہ میں اس سے روکا اور نہ میں نے اس کا حکم دیا۔(إنَّهُ قَدْ كَانَ فِي قَتْلَاكُمْ مُثُلٌ، وَاللهِ مَا رَضِيتُ، وَمَا سَخِطْتُ، وَمَا نَهَيْتُ، وَمَا أَمَرْتُ) سیرۃ ابن ہشام ، جلد2، صفحہ 94۔
غزوۃ احد میں کچھ مسلم خواتین نے بھی شرکت کی۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ احد کے دن میں نے حضرت عائشہ اور اپنی والدہ ام سلیم کو دیکھا کہ کپڑے سمیٹے ہوئے پانی کی مشک بھر بھر کر پشت پر رکھ کر لاتی ہیں اور میدان جنگ میں لوگوں کو پلاتی ہیں۔ جب مشک خالی ہو جاتی ہے تو پھر بھر کر لاتی ہیں۔ اسی طرح حضرت عمر کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری کی والدہ ام سلیط بھی احد کے دن ہمارے لیے مشک بھر بھر کر پانی لاتی تھیں۔
ربیع بن معوذ سے مروی ہے کہ ہم لوگ غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جاتے تھے کہ لوگوں کو پانی پلائیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کریں اور مقتولین کو اٹھا کر لائیں۔ مگر ہم لوگ جنگ نہیں کرتے تھے۔
صفر4ھ
قبیلہ عضل اور قارہ کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں آئے اور کہا کہ ہمارے قبیلہ نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ ایسے چند لوگ ہمارے ساتھ کر دیجئے جو ہم کو قرآن پڑھائیں اور اسلام کے احکام کی ہم کو تعلیم دیں۔ آپ نے مدینہ کے دس مسلمان ان کے ساتھ کر دیے۔ اور عاصم بن ثابت کو ان پر امیر مقرر فرمایا۔
یہ لوگ جب مقام رجیع پر پہنچے جو مکہ اور عسفان کے مابین واقع ہے تو انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ بدعہدی کی، اور بنولحیان کو اشارہ کر دیا۔ بنولحیان دو سو آدمی لے کر جن میں ایک سو تیر انداز تھے ،ان کے تعاقب میں روانہ ہوئے۔ جب قریب پہنچے تو حضرت…
ربیع الاول4ھ
عمر بن امیہ ضمری جب بئر معونہ سے واپس ہو رہے تھے تو راستہ میں بنی عامر کے دو مشرک ساتھ ہو لیے۔ وہ مقام قناۃ میں پہنچ کر ایک باغ میں ٹھہرے۔ جب وہ دونوں سو گئے تو عمر بن امیہ ضمری نے انتقاماً دونوں کو قتل کر دیا اور مدینہ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمام واقعہ بیان کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ان سے ہمارا عہد ہے ان کی دیت دینا ضروری ہے۔
بنی نضیر بھی چونکہ بنی عامر کے حلیف تھے۔ اس لیے ازروئے معاہدہ دیت کا کچھ حصہ جو بنی نضیر کے ذمہ بھی واجب الادا تھا۔ اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کے ساتھ بنو نضیر کے پاس گئے۔ بنونضیر نے بظاہر خندہ پیشانی سے جواب دیا…
شعبان5ھ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں یہ خبر پہنچی کہ حارث بن ابی ضرار سردار بنی المصطلق نے ایک بڑی فوج جمع کی ہے اور مسلمانوں پر حملہ کرنے کی تیاری میں ہے۔ آپ نے بریدہ بن حصیب اسلمی کو تحقیق حال کے لیے روانہ کیا۔ بریدہ نے آ کر بیان کیا کہ خبر صحیح ہے۔ آپ نے صحابہ کو تیاری کا حکم دیا۔
صحابہ فوراً تیار ہوگئے۔ تیس گھوڑے ساتھ لیے جس میں سے دس مہاجرین کے اور بیس انصار کے تھے۔ مدینہ میں زید بن حارثہ کو اپنا قائم مقام مقرر کیا اور ام المؤمنین عائشہ صدیقہ نیز ام سلمہ کو ساتھ لیا۔ اور جا کر ان سے مقابلہ آرا ہوئے۔ مسلمانوں کو…
شوال5ھ
اس غزوہ کا سبب یہ ہوا کہ بنو نضیر کی جلاوطنی کے بعد یہودی سردارحی بن اخطب مکہ گیا اور وہاں کے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا اور کنانہ بن ربیع نے جا کر بنی غطفان کو آپ کے مقابلہ کے لیے تیار کیا اور ان کو لالچ دلایا کہ خیبر کے نخلستان میں جس قدر کھجوریں آئیں گی ہر سال اس کا نصاف حصہ ہم تم کو دیا کریں گے۔ یہ سن کر یہ لوگ تیار ہوگئے۔ قریش پہلے ہی سے تیار تھے۔
اس طرح ابوسفیان کی قیادت میں دس ہزار سے زیادہ افراد کا لشکر مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی روانگی کی خبر ملی تو صحابہ سے مشورہ کیا۔ سلمان فارسی نے خندق کھودنے کا مشورہ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے…
ذی قعدہ5ھ
غزوہ خندق کے خاتمہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن بنی قریظہ پر حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔ بنی قریظہ پر چڑھائی کا اصل سبب ان کی غداری تھی۔ بنی قریظہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان معاہدہ تھا۔ جب قریش دس ہزار کا لشکر لے کر مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے آئے تو بنی قریظہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد کو توڑ کر قریش کے ساتھ مل گئے۔ جب غزوہ احزاب میں ان کو شکست ہوئی تو بنی قریظہ قلعوں میں گھس گئے۔ آپ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ جتنی جلد ممکن ہو بنو قریظہ کے مقام پر پہنچنے کی کوشش کریں۔ اسی موقع پر آپ نے فرمایا تھا کہ کوئی شخص بنی قریظہ کی بستیوں تک پہنچنے سے پہلے عصر کی نماز نہ پڑھے۔پھر حضرت علی کو جھنڈا دے کر روانہ کیا۔
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر بنی قریظہ کا محاصرہ کیا۔ پچیس روز تک ان کو محاصرہ میں رکھا۔ طویل محاصرہ کے بعد آخر کار بنو قریظہ اس بات پر آمادہ ہوئے کہ رسول اللہ جو حکم دیں وہ ہمیں منظور ہے۔ آپ نے…
ربیع الآخر6ھ
ربیع الآخر6ھ میں بنی ثعلبہ اور بنی عوال کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ مدینہ پر چڑھائی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ خبر معلوم ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممد بن سلمہ کو دس آدمیوں کے ساتھ ذی القصہ کی طرف بنی ثعلبہ اور بنی عوال کے مقابلہ میں روانہ کیا۔ وہ لوگ رات کو پہنچے اور وہاں پہنچ کر سو گئے۔ دشمن پہاڑوں میں چھپا ہوا تھا۔ جب یہ لوگ سو گئے تو تقریباً سو آدمیوں نے آ کر شب خون مارا اور سب کو شہید کر ڈالا۔ صرف محمد بن سلمہ اتفاقاً بچ گئے۔
جمادی الاولیٰ 6ھ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ قریش کا ایک کا روان تجارت شام سے واپس آ رہا ہے۔ اس اطلاع کے ملنے پر آپ نے زید بن حارثہ کو ایک سو ستر سواروں کے ہمراہ عیص کی طرف روانہ فرمایا۔ یہ مقام مدینہ سے چار دن کے فاصلہ پر ساحل کے قریب واقع تھا۔ یہاں سے قریش کے تجارتی قافلے گزر رہے تھے۔
مسلمانوں نے پہنچ کر قافلہ والوں کو گرفتار کرلیا اور ان کے مال و متاع پر قبضہ کر لیا۔ پھر ان کو لے کر مدینہ آئے۔ قیدیوں میں رسول اللہ کے داماد ابو العاص بن ربیع بھی تھے۔ آپ کی صاحبزادی حضرت زینب نے ان کی پناہ دی اور آپ نے بھی ان کو پنا…
جمادی الاخریٰ6ھ
بنی ثعلبہ مسلمانوں کے خلاف تخریبی کارروائی کر رہے تھے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ کو پندرہ آدمیوں کے ساتھ طَرِف کی جانب روانہ کیا۔ یہ مقام مدینہ سے36 میل کے فاصلہ پر تھا۔ دشمن خبر پاتے ہی یہاں سے بھاگ گئے اور زید بن حارثہ کسی مقابلہ کے بغیر مدینہ واپس آگئے۔
جمادی الاخریٰ6ھ
جحیہ کلبی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب لے کر قیصر روم کے پاس گئے تھے۔ قیصر روم نے ان کو کئی تحفے دے کر واپس کیا۔ واپسی میں جمیٰ کے قریب پہنچے تو ہنیہ جذامی نے قبیلہ جذام کے لوگوں کو لے کر ان کے اوپر ڈاکہ مارا اور سامان چھین لیا۔ رفاعہ بن زید جذامی کو جب معلوم ہوتا تو انہوں نے ہُنیہ سے وہ تمام سامان چھین کر دحیہ کلبی کو واپس کیا۔ جب دحیہ کلبی مدینہ پہنچے اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ نے پانچ سو صحابہ کو زید بن حارثہ کی سرکردگی میں روانہ کیا۔ اس مہم میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ چونکہ قبیلہ جذام کے ساتھ ہی رفاعہ بن زید کے لوگ بھی رہتے تھے جو مسلمان تھے تاہم غلطی سے ان کے بچے اور عورتیں بھی گرفتار ہوگئیں۔ چنانچہ رفاعہ آپ کے پاس آئے اور صورت حال سے آپ کو واقف کرایا۔ آپ نے حکم دیا کہ تمام قیدی اور سارے مال و اسباب واپس کر دیےجائیں۔
رجب6ھ
رجب6ھ میں قبیلہ بنی فزارہ کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ سرکشی پر آمادہ ہے اور مدینہ کے خلاف تخریبی ارادہ رکھتا ہے۔ چنانچہ آپ نے زید بن حارثہ کو قبیلہ بنی فزارہ کی حوصلہ شکنی کے لیے وادی القریٰ کی جانب روانہ کیا۔ وہاں دونوں میں مقابلہ پیش آیا۔ اس کے بعد وہ لوگ بھاگ گئے۔ اس میں چند مسلمان شہید ہوئے اور زید بن حارثہ زخمی ہوگئے۔
رمضان6ھ
ام قرفہ ایک عورت کی کنیت ہے جس کا نام فاطمہ بنت ربیعہ تھا۔ یہ عورت قبیلہ بنی فزارہ کی سردار تھی۔ زید بن حارثہ ایک مرتبہ مال تجارت لے کر شام کی طرف جاتے ہوئے یہاں سے گزرے۔ بنی فزارہ کے لوگوں نے ان کو مار کر زخمی کر دیا اور تمام سامان چھین لیا۔ زید مدینہ واپس آئے۔ جب آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے ان کی حوصلہ شکنی کے لیے ایک لشکر زید کی سرکردگی میں روانہ کیا جو کامیابی کے ساتھ واپس آیا۔
بعث عمر بن امیہ ضمری
ابو سفیان نے ایک مرتبہ قریش کے مجمع میں یہ کہا کہ کیا کوئی شخص ایسا نہیں کہ جو جا کر محمد کو قتل کر آئے۔ ایک اعرابی نے کہا میں اس کام میں بڑا ماہر ہوں اگر تم میری مدد کرو تو میں اس کام کو کر سکتا ہوں۔ ابو سفیان نے اس کو سواری کے لیے ایک اونٹنی دی اور خرچ دیا اور امداد کا وعدہ کیا۔ وہ اعرابی مدینہ کے لیے روانہ ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بنی عبدالاشہل میں تھے۔ اس اعرابی کو سامنے سے آتے ہوئے دیکھ کر کہا یہ کسی بری نیت سے آ رہا ہے۔ اُسید بن حضیر اٹھے اور اس اعرابی کو پکڑ لیا۔ وہ ایک خنجر کپڑوں میں چھپائے ہوئے تھاجو چھوٹ کر گر گیا۔ آپ نے کہا سچ بتائو کس نیت سے آئے ہو۔ اس نے کہا اگر امن ہو تو بتا دوں۔ آپ نے کہا تجھ کو امن ہے۔ اعرابی نے تمام واقعہ بیان کر دیا۔ آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔ اس کے بعد اعرابی نے اسلام قبول کر لیا۔
اس واقعہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن امیہ ضمری اور سلمہ بن اسلم انصاری کو مکہ روانہ کیا کہ وہ وہاں پہنچ کر ابو سفیان کو تنبیہ کریں۔ جب یہ دونوں مکہ میں داخل ہوئے تو یہ ارادہ کیا کہ مسجد حرام میں داخل ہو کر پہلے طواف کر…
…کہ قربانی کے جانوروں کو کھڑا کر دو کیوں کہ یہ شخص ایک ایسے قبیلہ سے ہے جس میں قربانی کے جانوروں کی تعظیم کی جاتی ہے۔ حلیس قربانی کے جانوروں کو دیکھ کرراستہ ہی سے واپس ہوگیا اور قریش سے کہاکہ ان لوگوں کو عمرہ کرنے دو لیکن قریش تیار نہ ہوئے۔
آخر کار قریش نے سہیل کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہی کو آتے دیکھا تو کہا قد سھل لکم من امر کم۔ یعنی اب تمہارا معاملہ آسان ہوگیا۔ سہیل آپ کے پاس آیا اور دیر تک صلح اور شرائط صلح پر گفتگو ہوتی رہی۔ جب شرائط صلح طے ہوگئیں تو رسول اللہ نے حضرت علی کو لکھنے کاحکم دیا۔ صلح کی شرطیں یہ تھیں
1۔ دس سال تک آپس میں لڑائی موقوف رہے گی۔
سرداروں کا قبول اسلام
صلح حدیبیہ دلوں کی فاتح ثابت ہوئی۔ چنانچہ مکہ کے بڑے بڑے سردار صلح حدیبیہ کے بعد ہی اسلام میں داخل ہوئے۔ انہی میں سے خالد بن ولید، عثمان بن طلحہ اور عمرو بن العاص ہیں۔ یہ تینوں ایک ساتھ اسلام لائے۔ حضرت خالد کہتے ہیں کہ ہم تینوںایک ساتھ مکہ سے مدینہ کے لیے روانہ ہوئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے آنے کی خبر پہنچی تو آپ بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ مکہ نے اپنے جگر گوشوں کو ہمیں دے دیا۔ یہ سب کے سب اسلام کی تاریخ کے معمار ثابت ہوئے۔
جمادی الثانی8ھ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ قبیلہ بنی قضاعہ کی ایک جماعت مدینہ پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس لیے آپ نے ان کے خلاف عمر وبن العاص کو ذات السلاسل کی طرف روانہ کیا۔ ان کے ساتھ تین سو آدمی تھے جن میں تیس سوار تھے۔ جب قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس نے رافع بن مکیث کو مدینہ روانہ کیا تاکہ آپ مدد کے لیے کچھ اور آدمی بھیجیں۔
آپ نے ابو عبیدہ بن الجراح کو دو سوآدمیوں کے ساتھ روانہ کیا جس میں ابو بکر و عمر بھی تھے۔ اور یہ ہدایت کی کہ جب تم اپنے ساتھی کے پاس پہنچو تو تم دونوں مل کر کام کرنا، اختلاف نہ کرنا۔ ابو عبیدہ جب وہاں پہنچے اور نماز کا وقت آیا تو امامت…
…کے وقت ان کی تالیف قلب کے لیے ان کو اموال دیئے۔ انصار میں کچھ لوگوں کو یہ گراں گزرا۔ بعضوں نے زبان سے اس کا اظہار بھی کیا۔ اس پر اللہ کے رسول کھڑے ہوئے اور ایک تقریر فرمائی، جس میں دیگر باتوں کے علاوہ آپ نے انصار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
’’کیا تم اس پر راضی نہیں کہ اور لوگ تو اپنے گھراونٹ اور بکری لے کر واپس جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے ساتھ واپس لے کر جائو۔‘‘
اس تقریر کو سن کر انصار رونے لگے۔ اور کہا ہم اس تقسیم پر اضی ہیں کہ اللہ کا رسول ہمارے حصہ میں آئے۔
ذوالقعدہ9ھ
ذی قعدہ9ھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر صدیق کو امیر حج مقرر کرکے مکہ روانہ فرمایا۔ تین سو آدمی مدینہ سے ابو بکر صدیق کے ساتھ چلے۔ قربانی کے بیس اونٹ ان کے ساتھ تھے۔ ان کے ذمہ یہ کام تھا کہ قرآ ن کی چالیس آیتیں جو برأت کے طور پر نازل ہوئی تھیں وہاں ان کا اعلان کر دیں۔ لیکن پھر آپ نے اپنے فیصلہ میں تبدیلی کی اور اعلان کے لیے حضرت علی کو منتخب فرمایا۔
اس سال نجاشی شاہ حبشہ کا انتقال ہوا۔ بذریعہ وحی آپ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے صحابہ کو جمع کرکے اس کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔ نیز اسی سال سود کی حرمت کا حکم نازل ہوا اور ایک سال بعد حجۃ الوداع کے موقع پر اس کی حُرمت کا عام اعلان کیا…
10ھ
قبائل کے وفود کی آمد8ھ میں ہی شروع ہوگئی تھی تاہم فتح مکہ کے بعد9ھ اور10ھ میں کثرت سے اس قسم کے وفد مدینہ آئے۔ اسی وجہ سے ان دونوں سالوں کو عام الوفود یعنی وفود کا سال کہا جاتا ہے۔ یہاں ان وفود میں سے کچھ اہم وفود کا ذکر کیا جاتا ہے۔
وفد ہوازن فتح مکہ کے بعد یہ پہلا وفد ہے جو آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس میں کل چودہ آدمی شامل تھے جن میں آپ کے رضاعی چچا بھی شامل تھے۔ حضرت حلیمہ سعدیہ اسی قبیلہ کی تھیں۔ ان لوگوں نے اس نسبت سے کہ آپ اسی قبیلہ کے لوگوں کی گود میں پلے…
9ھ میں خانۂ کعبہ مراسم جاہلیت سے پاک ہو چکا تھا۔ اب وقت آگیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فریضۂ حج کو خود عملی طور پر ادا کریں تاکہ لوگ آپ کو دیکھ کر حج کے مناسک اور احکام جان لیں۔
ذی قعدہ9ھ میں آپ نے سفر حج کا ارادہ کیا۔ اطراف واکناف میں منادی کرا دی گئی کہ رسول اللہ اس سال حج کرنے والے ہیں۔ چنانچہ25ذی قعدہ کو مدینہ سے روانہ ہوئے۔ آپ کے ساتھ صحابہ کی کثیر جماعت تھی جوایک لاکھ سے زیادہ افراد پر مشتمل تھی۔4 ذوالحجہ کو آپ مکہ میں داخل ہوئے اور مناسکِ حج ادا فرمایا۔ بعدازاں میدان عران عرفات میں ایک طویل خطبہ دیا۔ حمد و ثنا کے بعد فرمایا
اے لوگو، جو میں کہتا ہوں اس کو سنو۔ شاید اگلے سال تم سے ملنا نہ ہو۔ اے لوگو، تمہاری جانیں اور آبرو اوراموال آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہیں۔ جیسا کہ یہ دن یہ مہینہ اور یہ شہر حرام ہے۔ جاہلیت کے تمام امور میرے قدموں کے نیچے ہیں۔ اور جاہلیت…
صحابہ میں اضطراب
اس خبر کو سن کر صحابہ میں اضطراب پھیل گیا۔ لوگ سناٹے میں آگئے۔ حضرت عمر نے تلوار اٹھالی اور کہاکہ جو شخص یہ کہے گا کہ آپ کا انتقال ہو چکا ہے میں اس کی گردن مار دوں گا۔ اسی عالم میں حضرت ابو بکر صدیق مسجد نبوی میں آئے اور منبر پر کھڑے ہو کر طویل خطبہ دیا جس میں آپ نے فرمایا جو شخص محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد پر موت آ چکی اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا، اللہ زندہ ہے،اس پر موت آنے والی نہیں۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی محمد صرف اللہ کے رسول ہیں، ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں۔اگر ان پرموت آجائے یا وہ قتل کر دیےجائیں تو کیا تم الٹے پائوں پھر جائو گے اور جو شخص الٹے پائوں پھرے تووہ اللہ کا کچھ بگاڑنے والا نہیں، اور اللہ شکر کرنے والوں کو اس کا بدلہ دے گا(3:144)۔ حضرت ابوبکر صدیق کی تقریر سن کر اچانک لوگوں کی سراسیمگی ختم ہوگئی۔ حضرت عمر فاروق کہتے ہیں کہ مجھے ایسا لگا کہ جیسے میںنے پہلی بار آج ان آیتوں کو سنا ہے۔ اس کو سن کر میں نے جان لیا کہ رسول اللہ کی وفات ہوگئی۔
اسی درمیان یہ خبر ملی کہ انصارسقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہیں اور آپ کی جانشینی سے متعلق بحث و مشورہ کر رہے ہیں اور سعد بن عبادہ کے ہاتھ پر بیعت کرناچاہتے ہیں۔
…تصور تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ماڈرن ایجوکیشن کا تعلق پوری زندگی سے ہوچکا تھا، نہ کہ محدود طور پر صرف سرکاری ملازمت سے۔ مگر مسلم رہنماؤں نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا اور مسلمانوں کو پچھڑے پن کی صورت میں اس کی بھاری قیمت دینی پڑی۔
الامین کالج میں ایک خاتون مسز نگار نے سوال کیا کہ نَوجوانوں کو مذہب کی طرف کس طرح لایا جائے۔ میں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے یہ جانیے کہ آج کل کے نوجوان مذہب سے کیوں دور ہورہے ہیں۔ میرے نزدیک اس کے اصل ذمّے دار مذہب کے نمائندے ہیں۔ ان لوگوں نے نئی نسل کے سامنے مذہب کو وقت کے اسلوب میں پیش نہیں کیا۔ نئی نسل، کالج اور یونیورسٹی میں سیکولر علوم کو جس اسلوب میں پڑھتی ہے، اُس اسلوب میں اس کو مذہب کی تعلیم نہیں ملتی۔ یہی فرق نئی نسل کی مذہب سے دوری کا اصل سبب ہے۔ضرورت یہ ہے کہ اس فرق کو ختم کیا جائے۔ مذہب کو بھی اُسی عقلی اسلوب میں پیش کیا جائے جس عقلی اسلوب میں یہ لوگ سیکولرعلوم کو پڑھتے ہیں۔ اس کے سوا کوئی اور تدبیر نئی نسل کو مذہب کے قریب لانے والی نہیں۔
بنگلور کے زمانۂ قیام میں میرا ایک پروگرام یہاں کے الامین کالج میں تھا۔ اس پروگرام کی تفصیلی رپورٹ بنگلور کے اردو روزنامہ سالار (۳۰ جولائی ۲۰۰۵) میں شائع ہوئی۔ رپورٹر نے لکھا تھا کہ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’اسلامی تاریخ ایسے بے شمار…
…ہے۔ اُس کے بعد ہجرت ہوتی ہے اور پھر اہل ایمان منظّم ہو کر جنگی اقدام شروع کردیتے ہیں۔ یہ تقسیم سر تا سر بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مکّی دور اور مدنی دَور اسلام کی عملی تاریخ کا حصہ ہیں، وہ دعوت الی اللہ کی کسی نظری ترتیب کا اظہار نہیں۔
اسلامی تحریک اصلاً دعوت الی اللہ کا نام ہے۔ دعوت سے مراد خدا کے پیغام کو خدا کے بندوںتک پُر امن طورپر پہنچانا ہے۔ اسلامی تحریک اپنے آغاز میں بھی دعوت ہے اور اپنے اختتام میں بھی دعوت۔ دعوت کے سوا اسلامی تحریک کا کوئی ابدی نشانہ نہیں۔ انسان چوں کہ پیدا ہوتے ہیں اور کچھ سالوں کے بعد مرجاتے ہیں، اس لیے دعوت کا عمل ایک ایسا عمل ہے جو ایک جنریشن کے بعد دوسری جنریشن میں جاری رہتا ہے۔ یہ دعوتی عمل جاری رہے گا یہاںتک کہ قیامت آجائے۔
دعوت کے بعد مزید جو واقعات پیش آتے ہیں ان کا تعلق داعی سے نہیں بلکہ ان کا تعلق مدعو سے ہے۔ دعوت کا عمل یکساں نوعیت کا ایک عمل ہے مگر جن انسانوں کے درمیان دعوت کا عمل کیا جاتا ہے وہ ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے۔ دوسرے انسانوں کا یہی فرق مختلف قسم…
…پالیسی اختیار کرے۔ مختلف مذاہب والے سماج میں یہ گویا ایک بہترین ورکنگ فارمولا ہے۔ یعنی ہر ایک کو اس کے مذہبی معاملے میں آزادی دیتے ہوئے مشترک ملکی معاملات کو اسٹیٹ کے حوالے کردینا۔ سیکولرازم حقیقتاً ناطرفداری کا نام ہے نہ کہ لامذہبیت کا۔
تقریباً یہی پالیسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے مدنی دَور کے ابتدا میں اختیار فرمائی تھی۔ چنانچہ ’’صحیفۂ مدنیہ‘‘ میں جو باتیں لکھی گئی تھیں، ان میں سے ایک یہ تھی للیہود دینہم وللمسلمین دینہم (یہود کے لیے یہود کا دین ، اور مسلمانوں کے لیے مسلمان کا دین)۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے لکھا ہے کہ ہندستان کی آزادی کے لیے مسلّح جہاد کرنے والے علماء کو مہاتما گاندھی کے طریقے کی پیروی کرنی چاہیے تھی۔ یعنی متشددانہ طریقِ کار کے بجائے پُرامن طریقِ کار پر عمل کرنا۔ انھوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی تو ایک…
…پہنچ کر یہ نہیں کہا کہ اہلِ مدینہ مسائل میں مبتلا ہیں ان کے درمیان سوشل ورک کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے برعکس آپ نے فرمایا ایّہا الناس! اتقوا النار ولو بشق تمرۃ (اے لوگو! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے کیوں نہ ہو)۔
ان دونوں حوالوں سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ معلوم ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خواہ مکی حالات ہوں یا مدنی حالات ، دونوں جگہ کرنے کا اصل کام کمیونٹی ورک یا سوشل ورک نہیں ہے، بلکہ دعوہ ورک ہے۔ یعنی خدا کے پیغام کو خدا کے بندوں تک پہنچانا۔ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan of God) سے لوگوں کو باخبر کرنا۔
دنیا کے تمام مصلحین سب سے اہم کام یہ بتاتے رہے ہیں کہ دنیوی مسائل کو ختم کرکے آئیڈیل سماج بنانا۔ مگر کبھی دنیا میں اس قسم کا آئیڈیل سماج نہ بن سکا۔ حتی کہ خود مکہ اور مدینہ میں بھی نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو ٹیسٹ کے…
…اس کے بعد میرا خطاب شروع ہوا۔ ۲۵ جنوری ۲۰۰۶ کا پورا دن مجھے دیا گیا تھا۔ ایک سشن لنچ سے پہلے ہوا، اور اور دوسرا سشن لنچ کے بعد۔ دونوں سشن میں پہلے میری تقریر ہوئی، اور اس کے بعد سوال اور جواب شروع ہوا۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔
میں نے اپنے خطاب میں پہلے اسلام کی اور پیغمبر اسلام کی مختصر تاریخ بیان کی۔ اِس سلسلے میں میں نے کہا کہ اسلام سُپیریر ریلیجن نہیں ہے بلکہ وہ محفوظ (preserved) ریلیجن ہے۔ تمام پیغمبروں کا مذہب ایک ہی تھا، لیکن اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اب بھی اپنی ابتدائی صورت میں محفوظ ہے۔ اور اسی طرح قرآن کی اصل زبان بھی ایک زندہ زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔
اسلام کا تعارف پیش کرتے ہوئے میں نے بتایا کہ اسلام کی تعلیمات امن، اور روحانیت اور انسانیت کے ابدی اصولوں پر مبنی ہیں۔ اسلام مثبت اندازِ فکر (positive thinking) پیدا کرتا ہے۔ اسلام میں جنگ اور تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اسلام میں جنگ کی…
…یہ مصلحین چوں کہ اپنے منفی کلام کے حق میں قرآن اور حدیث کے حوالے دیتے تھے، اِس لیے لوگوں نے سمجھا کہ لوگوں کا یہ رجوع اسلام کی طرف رجوع ہے۔ حالاں کہ یہ سارا معاملہ ’’بُغض معاویہ‘‘ کی نفسیات کے تحت تھا نہ کہ ’’حُبّ علی‘‘ کی نفسیات کے تحت۔
میں نے کہا کہ اس قسم کی منفی تحریکیں کبھی کوئی مثبت نتیجہ پیدا نہیں کرسکتیں۔ مثبت نفسیات سے منفی کردار کا اُبھرنا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا کہ ببول کے بیج سے انگور کا پھل پیدا ہونا۔
ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان، مسٹر اور مولوی، دونوںایک بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں بہت بڑے پیمانے پر اسلامی بیداری آئی ہے۔ حتی کہ یہ لوگ…
…صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ پڑھو۔ آپ نے فرمایا کہ ما أنا بقاریٔ ۔ میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔ اس کے بعد فرشتے نے دوبارہ کہا کہ پڑھو۔ اسی طرح تیسر بار بھی یہی مکالمہ دہرایا گیا۔ آخر چوتھی بار آپ نے فرشتے کے تلقین کیے ہوئے الفاظ کو پڑھا۔
اِس مکالمے میں سوال اور جواب دونوں کو ملا کر دیکھیے تو اس کا مطلب یہ سامنے آتا ہے کہ پڑھنا نہیں جانتے تب بھی پڑھو، لکھنا نہیں جانتے تب بھی لکھو۔ اِس گفتگو کے بارے میں کہاجاسکتا ہے کہ یہ ایک بامعنیٰ ڈائلاگ تھا۔ یہ علم اور تعلیم کی لامحدود اہمیت کا اظہار تھا۔ یہ تعلیمی جدوجہد کا سبق تھا۔
۱۰ مارچ ۲۰۰۶ کو فجر کی نماز کے بعد ہم لوگ گھر کے ایک بڑے کمرے میں بیٹھ گیے۔ یہاں دیر تک دینی مباحث پر باتیں ہوتی رہیں۔ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ عام طورپر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام کی تاریخ میں مکّی دور ابتدائی پیریڈ کا دَور…
…کے ایک مکان میں تنہائی کی زندگی گزاری۔ ان کے ساتھ صرف اُن کا گھریلو ملازم مینو (Meno) رہ گیا تھا۔ انگریزی روز نامہ ٹائمس آف انڈیا کے شماره 28 اگست 2006 میں ان کے بارے میں ایک رپورٹ چھپی ہے ۔ اس میں رپورٹر نے ان کے متعلق یہ الفاظ لکھے ہیں :
His last stage was painful. Dialysis, ventilators were his companions for the last three months or more. More than that there were the sorrows of his personal life. His wife, his brothers, even his younger son had passed away. He lived all alone in Mumbai, with only Meno (domestic help) p. 10
مکھر جی کے ایک قریبی دوست مسٹرسین (Mrinal Sen) آخری دنوں میں ملاقات کے لیے اُن کے گھر گئے ۔ انھوں نے دیکھا کہ مکھر جی نے اپنے کمرے اور اپنے باتھ روم کی تمام دیواروں پر آئینے لگا رکھے ہیں۔ یہ منظر ان کو عجیب معلوم ہوا۔ انھوں نے مکھر جی سے…
…کو اپنے خاندانی مذہب کے ساتھ متعصبانہ حد تک جذباتی تعلق ہوجاتا ہے، اور دوسرے مذہب کے بارے میں وہ منفی ذہنیت کا حامل بن جاتا ہے۔ یہ کنڈیشننگ کسی غیر مسلم کے لیے اس میں رکاوٹ بن جاتی ہے کہ وہ اسلام کے بارے میں غیر متاثر ذہن کے ساتھ سوچ سکے۔
اِس معاملے میں مسلمان ایک مستثنیٰ حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ مسلمان کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ مخالفانہ احساس سے خالی ہوکر اسلام کا مطالعہ کرسکے۔ اِس طرح ایک مسلمان کو اسلام کے مطالعے کے لیے ایک موافق نقطۂ آغاز مل جاتا ہے۔ وہ اِس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ معتدل ذہن کے ساتھ اسلام کا مطالعہ کرے اور کسی قسم کی نفسیاتی رُکاوٹ کے بغیر اسلام کی صداقت اس کے ذہن میں بیٹھتی چلی جائے۔
3۔ ايك تعليم يافته مسلمان نے كها كه — الرساله كا انداز غير معتدل انداز هے۔ آپ اُس ميں هميشه مسلمانوں كو صبر اور تقوي كي ’’نصيحت‘‘ كرتےهيں۔ مسلمانوں كے ساتھ هونے والي زيادتيوں اور سازشوں پر آپ كوئي تبصره نهيں كرتے۔ جب كه دوسرے مسلم اهلِ…
اس کے مطابق ، اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ ماضی کے تاریخی آثار کو اُس کی ابتدائی شکل میں محفوظ رکھا جائے تا کہ دیکھنے والے لوگ اُن سے سبق لے سکیں۔ تاریخی آثار کو محفوظ نہ رکھنے کی صورت میں اسلام کا یہ سیاحتی مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔
5 کلچر ہمیشہ ایک طبقہ یا ایک کمیونٹی کی وراثت ہوتا ہے۔ ہر کمیونٹی کو یہ مطلق رائٹ حاصل ہے کہ وہ اپنے کلچر کا تحفظ کرے۔ کلچر کے معاملے میں نہیں دیکھا جائے گا کہ وہ اسلام کے موافق ہے یا اس کے خلاف۔ جب بھی کوئی کمیونٹی کسی پھر کو اپنا کلچر سمجھے اور اس کو محفوظ رکھنا چاہے تو یہ حق اس کو دیا جائے گا۔ یہ حق جس طرح سیکولرزم میں تسلیم کیا گیا ہے اس طرح وہ اسلام میں بھی تسلیم شدہ ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اسلام کے خلیفہ ثانی عمر فاروق کی خلافت کے زمانے میں یروشلم (ایلیا) فتح ہوا تو خود عمر فاروق مدینہ سے سفر کر کے یروشلم گئے ۔ اس وقت اسلامی خلافت اور مسیحی فرقہ کے درمیان جو معاہدہ ہوا، اُس میں دوسری باتوں کے علاوہ یہ بھی لکھا گیا کہ مسیحی چرچوں میں جو چیزیں ہیں وہ محفوظ رہیں گی۔ مثلاً مریم اور مسیح کے بت، وہ مقدس لکڑی جس پر مسیحی عقیدہ کے مطابق ، حضرت مسیح کو سولی دی گئی، وغیرہ ( تاریخ الطبری ) اس قسم کی چیزیں مسیحی کلچر کا حصہ تھیں مگر معاہدہ میں یہ لکھا گیا کہ مسیحی فرقہ کو یہ حق ہوگا کہ ان کے چرچ ڈھائے نہ جائیں اور ان کے کلچرل ہریج کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچایا جائے ۔ وہ جس طرح چاہیں اپنے کلچر کی حفاظت کریں۔
خلیفہ ثانی کے اس عمل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر قوم کو یہ حق حاصل ہے کہ جس چیز کو وہ اپنے کلچر کا حصہ سمجھتی ہے اُس کو وہ محفوظ رکھے، خواہ وہ مسلم حکومت کے اندر ہو یا مسلم حکومت کے باہر کسی حکومت کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی گروہ کے کلچر کے…
…ہی اہم ہے جتنا کہ وہ دوسری قوموں کے نزدیک اہم ہے۔ جدید دنیا میں کلچرل ہیر سیج ا یا ہسٹاریکل مانیومنٹ کو نہایت اہمیت کے ساتھ محفوظ کیا جاتا ہے۔ اسلام میں بھی بلاشبہ ایسا ہی کیا جائے گا۔ اس معاملے میں دوسروں سے الگ اسلام کا کوئی طریقہ نہیں ۔
پیغمبر اسلام مکہ میں پیدا ہوئے ۔ وہاں کھجور کے درخت نہیں ہوتے تھے۔ اس کے بعد آپ ہجرت کر کے مدینہ آئے۔ یہاں کھجوروں کے باغ ہوا کرتے تھے۔ ایک دن آپ ٹاؤن سے باہر ایک باغ کے پاس سے گزرے۔ یہاں کچھ لوگ کھجور کے درخت پر چڑھ کر اپنے ہاتھوں سے ہینڈ پالی نیشن(hand-pollination) کا کام کر رہے تھے۔ آپ نے انھیں ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ اگلے سال کھجور کی فصل کم آئی ۔ آپ نے سبب پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ آپ نے پالی نیشن ( تا بیرنخل) سے منع کر دیا تھا جب کہ اُس سے کھجور میں اچھی فصل آتی ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ تم جو کرتے تھے اُس کو کرو، کیوں کہ تم اپنی دنیا کے معاملے میں زیادہ جانتے ہو ( أنتم اعلم بأمور دنياكم)
پیغمبر کے اس قول سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے اور وہ ہے عقیدہ اور امور دنیا کا فرق ۔ اسلام کے مطابق ، زندگی کے وہ معاملات جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے امور دنیا سے تعلق رکھتے ہیں، ان کو عقیدہ کے تابع نہیں رکھا جائے گا، بلکہ ایسے موضوعات…
…میں چیزیں لفظی طور پر مطلوب ہوتی ہیں۔ جب کہ دعوتی تحریر کا معاملہ ایسا نہیں۔ دعوتی تحریر میں اس کے معانی پر زور ہوتا ہے۔ دعوتی کتاب میں الفاظ کی حیثیت صرف ذریعے کی ہو جاتی ہے۔ جب کہ قانونی کتاب میں الفاظ خود مقصود بالذات بن جاتے ہیں۔
اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ دعوتی تحریر میں تاکید کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے شدت کے اسلوب کو اختیار کیا جاتا ہے۔ دعوتی تحریر میں ایسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جو بظاہر نہایت سخت معلوم ہوتے ہیں، مگر دعوتی کلام میں یہ سختی بر بناء حکمت ہوتی ہے۔ ایسے کسی کلام میں شدت کو دیکھ کر اُس کو قانونی شدت کے معنی میں لینا سر تا سر نادانی کی بات ہوگی ۔ اس حکمت کا یہ نتیجہ ہے کہ دعوتی کلام میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اُس میں ایک ایسی بات کہی جاتی ہے جو قانونی اسلوب کے اعتبار سے نہایت سخت معلوم ہوتی ہے، لیکن دعوتی اسلوب کے اعتبار سے وہ صرف جھنجھوڑنے کے لیے ہوتی ہے، وہ صرف اس لیے ہوتی ہے کہ آدمی کی فطرت کو جگایا جائے۔ اس کے اندر چھپے ہوئے احساسات کو متحرک کیا جائے۔ چند مثالوں سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔
1 - پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بدر (2) ہجری) کی لڑائی پیش آئی۔ یہ لڑائی آپ نے دفاع کے طور پر کی تھی۔ اس لڑائی میں آپ کو جیت ہوئی ۔ جنگ کے بعد آپ نے مخالفین کے ستّر آدمیوں کو گرفتار کر لیا۔ اس کے بعد یہ لوگ اسیرانِ جنگ کی…
…قانونی حکم نہ تھا بلکہ وہ صرف ہیمرنگ کی زبان (language of hammering) تھی۔ اس آیت کا مطلب مجرمین کی اصلاح تھا، نہ کہ مجرمین کا قتل ۔ چناں چہ ان قیدیوں میں سے بیش تر لوگ بعد کو اسلام میں داخل ہو گئے ۔ مثال کے طور پر سہیل بن عمرو، وغیرہ۔
2- اس طرح قرآن کی ایک آیت یہ ہے : يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ جَٰهِدِ ٱلۡكُفَّارَ وَٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱغۡلُظۡ عَلَيۡهِمۡۚ [التوبة: 73] یعنی اے نبی ، منکروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر کڑے بن جاؤ۔ اس آیت کو لے کر کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں پیغمبر کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ منکروں اور منافقوں سے جنگ کرے۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ پیغمبر نے کبھی بھی وہاں کے منکروں اور منافقوں سے مسلح اقدام کر کے جنگ نہیں کیا ۔ پیغمبر اسلام جب بھی کسی جنگ میں شامل ہوئے تو وہ صرف دفاع کے طور پر ، نہ کہ اپنی طرف سے حملے کے طور پر ۔ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس آیت میں جہاد اور غلظہ کے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، وہ صرف ہیمرنگ کی زبان (language of hammering) کے طور پر ہیں ، نہ کہ کسی قانونی حکم کے طور پر ۔ اگر وہ کوئی قانونی حکم ہوتا تو پیغمبر اسلام ضرور اس پر عمل کرتے ہوئے اُن کے خلاف مسلح جنگی اقدام کرتے۔
3- قرآن میں ہجرت کے وقت سورہ الکافرون اُتری۔ اُس میں اہل مکہ کو اے منکر کے لفظ سے خطاب کیا گیا اور کہا گیا کہ تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین ۔ مگر واقعات کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ ماننا ہو گا کہ یہ ہیمرنگ کی زبان تھی۔ اگر ان…
…شبہ تطفیف ہے۔ اس قسم کی تخفیف جس سماج میں رائج ہو جائے اُس کے معاملات کبھی درست نہ ہوں گے۔ اُس کے لوگوں کے درمیان ہمیشہ نفرت اور ٹکراؤ کا ماحول باقی رہے گا۔ اور نفرت اور ٹکراؤ کے ماحول میں نہ ایک گروہ ترقی کر سکتا ہے اور نہ دوسرا گروہ ۔
اس کے بجائے صحیح طریقہ یہ ہے کہ لوگ انصاف اور غیر جانب داری کا طریقہ اختیار کریں ۔ ہرایک یہ کرے کہ دوسرے کی کوتاہی بتانے کے ساتھ وہ خود اپنی کوتاہی کو بھی بتائے۔ دوسرے کے ظلم کی نشاندہی کے ساتھ وہ اپنے حصہ کے ظلم کا بھی گھلا اقرار کرے۔ یہی منصفانہ روش ہے اور اسی قسم کی منصفانہ روش سے یہ ہوتا ہے کہ کسی سماج میں اعلیٰ اخلاقی قدریں فروغ پائیں اور وقتی رکاوٹوں کے باوجود سماج کا ترقیاتی سفر مسلسل آگے کی طرف جاری رہے، یہاں تک کہ وہ اپنی آخری منزل پر پہنچ جائے ۔
يهود كي حيثيت 36
…ہوتا ہے کہ مشکلات سے ٹکرانا اسلام کا طریقہ نہیں، بلکہ مشکلات سے اعراض کرتے ہوئے ممکن دائرہ میں اپنے لیے عمل کے مواقع تلاش کرنا، یہ اسلام کا طریقہ ہے۔ ایک جملہ میں ، قرآن کا فارمولا یہ ہے۔ مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو:
Ignore the problems, avail the opportunities.
اس اسلامی حکمت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ ہوا کہ موجودہ زمانے کے مصلحین نے مسائل کو دیکھتے ہی مسائل کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا کیوں کہ خود ساختہ سوچ کے تحت انھوں نے یہ سمجھا کہ پہلے مسائل سے لڑ کر مسائل کا خاتمہ کرو، اس کے بعد ہی ہمارے لیے…
…مشرکین کو الزام دینے کے بجائے خود مسلمانوں کو نصیحت کی گئی۔ قرآن میں یہ آیت اتری : حَتَّىٰٓ إِذَا فَشِلۡتُمۡ وَتَنَٰزَعۡتُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِ [آل عمران: 152] یعنی جب تم کمزور پڑ گئے اور معاملے کے بارے میں تمھارے اندر نزاع پیدا ہو گئی ۔
تقابلی اعتبار سے دیکھیے تو اس معاملے میں دوسری صورت یہ تھی کہ حملہ آور مشرکین کے خلاف غصے کا اظہار کیا جاتا ، جیسا کہ اس طرح کے معاملات میں مسلم رہنماؤں کا عام طریقہ ہے۔ وہ ایسے مواقع پر رنج وغم کا اظہار کرتے ہیں۔ اور احتجاج کی زبان میں کلام کرتے ہیں ۔ مثلاً بیسویں صدی کے ربع اول میں جب اٹلی کی فوجیں لیبیا میں داخل ہو گئیں تو ایک مشہور عالم نے اپنے جذبات کا اظہاران الفاظ میں کیا :
كيف القرار وقد نكس أعلامنا بطرابلس
…کا سفر کریں گے۔ وہ تخت نشیں بادشاہوں کے مانند ہوں گے۔ ام حرام نے کہا کہ اے خدا کے رسول، دعا کیجیے کہ اللہ مجھ کو اُن لوگوں میں شامل کردے۔ آپ نے فرمایا کہ تم پہلے گروہ میںشامل ہو، دوسرے گروہ میں نہیں (أنتِ من الأوّلین، لستِ من الاٰخرین)۔
تاریخ سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت عثمان کی خلافت کے زمانے میں صحابہ کی ایک جماعت نے 28 ہجری (649ء) میں ایک دعوتی سفر کیا۔ صحابہ کی اِس جماعت کی قیادت امیر معاویہ کررہے تھے۔ وہ مدینہ سے روانہ ہو کر شام کے علاقے میں داخل ہوئے اور دمشق پہنچے، پھر یہاں سے مزید سفر کرکے وہ حمص پہنچے جو بحرِ اخضر (Mediterranean Sea) کے ساحل پر واقع ہے۔ حمص تک کا سفر انھوںنے اونٹوں اور خچروں کے ذریعے کیا۔ یہاں سے انھوں نے کشتیوں پر بحری سفر کیا اور اِس طرح وہ قبرص کے ساحل پر اترے۔ یہاں کے لوگوں کے درمیان انھوںنے دعوتی کام کیا۔ ان کے دعوتی کام کے مثبت اثر کا ایک ثبوت یہ ہے کہ جب ایک صحابیہ ام حرام جن کی عمر اُس وقت 70 سال سے زیادہ ہوچکی تھی، یہا ںاُن کا انتقال ہوا توقبرص کے ساحلی شہر لارناکا میں ان کی قبربنائی گئی۔ صحابیہ کے حسنِ سیرت کی بنا پر مقامی لوگ اِس قبر کو نیک خاتون کی قبر (قبرالمرأۃ الصّالحۃ) کہنے لگے۔
جب ہم لوگ ہالہ سلطان کی مسجد میں تھے تو ہم نے اِس روایت کو یاد کیا۔ ہم نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ حدیث کے مطابق، امتِ محمدی کی دو جماعتوں کے لیے یہ سعادت مقدر تھی کہ وہ سفر کرکے قبرص کے اِس مقام پر آئیں اور یہاں کے لوگوں کے درمیان سچائی کا…
…چھپی ہوئی کتابوں کے بنڈل تھے۔ اِس کے سوا کوئی دفاعی چیز لے جانے کی ضرورت ہم کو پیش نہیں آئی۔ ہم نے وہاں کئی دن تک مسلسل طورپر دعوتی کام کیا اور کسی نے ہمارے اوپر کوئی اعتراض نہیںکیا بلکہ ہر موقع پر وہاں کے لوگ ہم کو اپنا تعاون دیتے رہے۔
19 نومبر 2008 کو میں قبرص میں بحرِ متوسط کے ساحل پر واقع اُمِ حرام بنتِ ملحان کے مقبرے کو دیکھ رہا تھا۔ اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا۔ میںنے سوچا کہ لارناکا کا یہ مقبرہ بھی ایک مقبرہ ہے اور آگرہ کا تاج محل بھی ایک مقبرہ ہے۔ مگر دونوں میں یہ فرق ہے کہ تاج محل کو تاریخ کا ایک صفحہ سمجھا جاتا ہے، جب کہ ام حرام بنت ملحان صحابیہ کا یہ مقبرہ تاریخ کے ایک صفحے کی حیثیت سے نمایاں نہ ہوسکا۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ تاج محل کا مطالعہ تاریخ کی روشنی میں کیا جاتا ہے، جب کہ صحابیہ کا یہ مقبرہ ہماری کتابوں میں صرف ’’فضائل صحابہ‘‘ کے عنوان کے تحت لکھا ہوا ہے۔
اِس معاملہ پر غور کرتے ہوئے ایک بہت بڑی حقیقت میرے سامنے آئی، ایک ایسی حقیقت جس کو خود میںنے بھی پہلی بار یہاں دریافت کیا۔ یہ حقیقت اگر چہ بہت پہلے سے موجود تھی، لیکن شعوری دریافت کے طورپر وہ غالباً پہلی بار ایک انسان کی سمجھ میںآئی۔
…پیداہوا۔ نفسیاتی قربت کی حد تک یہ حقیقتِ اعلیٰ کے ادراک کی بات تھی، لیکن وحدتِ وجود کے نظریے کی صورت میںوہ سرتاپا ایک باطل چیز بن گئی۔ اِس مشکل کو حل کرنے کے لیے شیخ احمد سرہندی نے وحدت ِ شہود کا نظریہ ایجاد کیا۔ اِسی طرح ابنِ عربی نے کہا
العبدُ عبدٌ، وإن ترقّٰی والربُّ ربٌّ، وإن تنزّل
مگر میرے نزدیک، یہ دونوں باتیں صرف کنفیوژن (confusion) کا کیس ہیں، وہ اصل معاملے کی حقیقی توضیح نہیں۔ حقیقت صرف یہ ہے کہ خدا نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کی فطرت میں ربانی شعور پیوست کردیا ہے۔ وہ انسان کے لاشعور میں مسلسل موجود…
جھوٹی خیر خواہی
انسان کے درمیان جس اخلاقی برائی کا بہت زیادہ رواج ہے، اُن میں سے ایک جھوٹی خیرخواہی ہے۔ جھوٹی خیر خواہی سے مراد باتوں کی خیر خواہی ہے، یعنی خوب صورت الفاظ بول کر لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کرنا۔ سچی خیر خواہی یہ ہے کہ آپ عملی اعتبار سے دوسرے کے کام آنے کی کوشش کریں۔ اِس کے مقابلے میں جھوٹی خیر خواہی یہ ہے کہ آپ خوب صورت باتیں کریں، جب کہ عملی اعتبار سے آپ دوسرے کے لیے کچھ نہ کرنے والے ہوں۔
مجھے اپنی لمبی زندگی میں جھوٹی خیر خواہی کا بار بار تجربہ ہواہے۔ مثلاً 1983 سے پہلے میں پرانی دلّی میں رہتا تھا۔ وہاں ایک صاحب مجھ سے ملنے کے لیے آتے تھے۔ وہ مجھ سے اکثر یہ کہتے ـتھے کہ آپ کے لیے پرانی دلی میں رہنا ٹھیک نہیں ہے۔ آپ تو…
…46)۔ دعوتی مشن ہی آپ کی پوری زندگی کا مشن تھا۔ اِسی دعوتی مشن کا نمونہ آپ نے اپنی امت کو دیا۔ پیغمبراسلام کی پیروی میں آپ کی امت کو بھی اِسی دعوتی نمونے پر قائم رہنا ہے۔ اِس کے سوا جو چیزیں ہیں، وہ سب کی سب ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جب 610 ء میں نبوت ملی تو اُس وقت بھی آپ کا مشن دعوت تھا جس کو قرآن میںانذار اور تبشیر کہاگیا ہے۔ آپ مکہ کے اجتماعات میں جاتے اور لوگوں سے کہتے أیہا الناس، قولوا لا إلہ إلاّ اللہ، تفلحوا (اے لوگو، لا الٰہ الا اللہ کہو، تم فلاح پاؤگے)۔ 13 سال کے بعد جب مکہ کے حالات سخت ہوگئے تو آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ یہ ہجرت بھی اِسی لیے تھی کہ دعوت کے نئے مواقع کو استعمال کیا جاسکے۔ آپ نے ہجرت سے پہلے اپنے دو نمائندے مدینہ بھیجے، جن کو مُقری کہاجاتا تھا، یعنی قرآن کو سنا کر دعوت کا پیغام دینے والا۔ اِس کے بعد جب آپ خود مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو وہاں بھی آپ نے اپنے پہلے خطاب میں لوگوں سے کہا اتقوا النار ولو بشق تمرۃ (اے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ کیوں نہ ہو)۔
قریش مکہ اُس وقت آپ کے دشمن ہوچکے تھے۔ ہجرت کے بعد انھوں نے یک طرفہ طورپر جارحانہ اقدام کرکے آپ کو الجھانے کی کوشش کی، لیکن آپ مختلف تدبیروں کے ذریعے ہمیشہ جنگ کو اوائڈ کرتے رہے۔ صرف تین بار مجبورانہ طورپر اصحابِ رسول اور قریش مکہ کے…
نماز اور قرآن
اسلوبِ کلام کی دو قسمیں ہیں— دعوتی اسلوب اور قانونی اسلوب۔ دعوتی اسلوب میں صرف بنیادی باتیں اصولی زبان میں بیان کی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس، قانونی اسلوب میں محدَّد اور متعین زبان (specific language) استعمال ہوتی ہے۔ قرآن اور حدیث کے درمیان یہی فرق ہے۔ قرآن میں عام طورپر دعوتی اسلوب ہے۔ اور حدیث میں دعوتی اسلوب کے علاوہ، قانونی اسلوب بھی پایا جاتا ہے۔ مثلاً نماز کے بارے میں قرآن میں حافظوا علی الصلوات کا لفظ آیا ہے۔ اور حدیث میں تعین کے ساتھ الصلوات الخمس (صحیح البخاری، کتاب الإیمان) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
قرآن میں دین کے تمام اصول (principles) بیان کیے گئے ہیں، لیکن قرآن میں کسی بھی اصول کو محدّد اسلوب میں بیان نہیں کیا گیا ہے۔ مثلاً قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر بنانے کا ذکرہے، لیکن قرآن سے معلوم نہیں ہوتا کہ آپ…
…یہ ایک تبادلۂ خیال ہے جس میں آدمی کو سنانا بھی ہے اور سننا بھی ہے۔ اِس لیے دوطرفہ گفتگو کے موقع پر آدمی کو نہ تو دھوم سے بولنا چاہیے اور نہ اُس کو ایسا کرنا چاہیے کہ وہ اتنی لمبی گفتگو کرے کہ دوسرے کو اپنی بات کہنے کا موقع ہی نہ ملے۔
وارسا (Warsaw) سولھویں صدی عیسوی سے پولینڈ کی راجدھانی ہے۔ دوسری عالمی جنگ (1939-1945) میں یہ شہر تقریباً پورا تباہ ہوگیا تھا۔ بعد کو اُسے قدیم طرز پر دوبارہ تعمیر کیاگیا
Warsaw is the capital from 16th century, and largest city of Poland. It is located on the Vistula River, roughly 370 Kilometers from both the Baltic Sea coast and the Carpathian Mountains. Warsaw is the 8th largest city in the European…
…جو اپنے شوہروں سے محروم ہوگئی ہیں، معاشرے میں اُن کا بندوبست (settlement) کس طرح کیا جائے۔سورہ النساء کی آیت نمبر 2 میں، پہلے مسئلے کا حل بتایا گیا ہے۔اور اس کی آیت نمبر 3 میں دوسرے مسئلے کا حل بیان ہوا ہے۔ آیت نمبر 2 کا ترجمہ یہ ہے
’’اور یتیموں کا مال اُن کے حوالے کرو۔ اور برے مال کو اچھے مال سے نہ بدلو، اور اُن کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے‘‘۔ (النساء2 )۔ یعنی یتیم بچوں کے مال اور جائداد کے بارے میں انصاف اور خیر خواہی کا طریقہ اختیار کرو، تاکہ اُن کا حق درست طورپر ان کو پہنچ جائے۔
دوسرے مسئلے کے حل کے بارے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں وإن خفتم ألا تُقسطوا فی الیتامیٰ فانکحوا ما طاب لکم من النساء مَثنیٰ، وثُلٰث، ورُبٰع (النساء 3)۔ یعنی اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کرسکوگے، تو عورتوں میں…
…خود سیاسی تعبیر کرنے والوں کا اپنا ذہن ہے، نہ کہ اسلام کی اپنی تعلیمات۔ اسلام کی وہی تعبیر درست تعبیر ہے جو قرآن اور سنت سے نہ ٹکراتی ہو، اور مذکورہ قسم کا تصور بلا شبہہ قرآن اور سنت سے ٹکراتا ہے۔یہاں میںاِس سلسلے میں تین مثالیں دوں گا۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں قدیم مصر میں ایک مشرک بادشاہ حکومت کرتاتھا۔ یہ ایک شاہی خاندان (dynasty) تھا، جس کو ہکساس کنگڈم (Hyksos Kingdom) کہاجاتا تھا۔ پیغمبر یوسف نے اس کے اقتدار (sovereignty) کو تسلیم کیا اور اس کے تحت ایک سرکاری عہدہ قبول کرلیا۔ یہ مثال اہلِ اسلام کے لیے ایک رہنما مثال ہے، کیوں کہ اسلام میں تمام پیغمبروں کو رہنماکی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ہے (الأنعام 90)۔
دوسری مثال یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے تو وہاں دار الندوہ کو قبائلی حاکمیت کی حیثیت حاصل تھی۔ آپ نے دار الندوہ کی اِس حیثیت کو عملاً تسلیم کیا۔ اِسی بنا پر آپ کو مکہ میں رہنے کا موقع ملا۔ اگر آپ دار الندوہ کی…
…’’مسلم انڈیا‘‘ کے نام سے میگزین نکالتا ہے۔ کیا آپ پاکستان میں ہندو کو اجازت دیں گے وہ پاکستان میں ’’ہندو پاکستان‘‘ کے نام سے میگزین نکالے۔ پاکستانی سفیر نے کہا کہ نہیں۔ انیس لقمان صاحب نے کہا کہ پھر مجھے ایسے ملک کی شہریت بھی قبول نہیں‘‘۔
ایک عمری عالم نے سوال کیا کہ آپ کا ایک دینی اور دعوتی مشن ہے، پھر آپ سیاسی موضوعات پر کیوں بولتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میرا اصل موضوع تحدیاتِ عصریہ ہے، یعنی جدید ذہن کے مطابق، علمی سطح پر اسلام کی تبیین۔ میری تمام تحریریں براہِ راست یا بالواسطہ طورپر اِسی موضوع سے تعلق رکھتی ہیں۔ میںنے کہا کہ اِسی قسم کا اعتراض اِس سے پہلے سرسید پر کیا گیا تھا۔ اُس وقت اِس کا جواب دیتے ہوئے مولانا شبلی نعمانی نے لکھا تھا کہ جو لوگ سرسید کی بعض باتوں پر اعتراض کرتے ہیں، انھوں نے سرسید کے شاہ نامہ میں سے صرف ’’مُنیژہ مَنم‘‘ کو یاد کررکھا ہے۔
آج عرب ملکوں کے شہر مادی ترقی کے اعتبار سے یورپ کا نمونہ معلوم ہوتے ہیں، لیکن اب سے صرف چالیس سال پہلے ایسا نہ تھا۔ اُس وقت عرب کے لوگ معاشی اعتبار سے نہایت پس ماندہ سمجھے جاتے تھے۔ اُس وقت برصغیر ہند کے دولت مند لوگ عربوں کو مالی مدد…
…اور ماجوج کے پہلے دور کا ذکر ہے، اور قرآن کی سورہ نمبر 21 میں یاجوج اور ماجوج کے دوسرے دور کا ذکر۔ اِس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ بظاہر یا جوج اور ماجوج کے تین بڑے دور ہیں— محصوریت کا دور، اختلاط کا دور، سائنس اور صنعتی ترقی کا دور۔
یاجوج اور ماجوج کوئی پُر عجوبہ قوم نہ تھے۔ وہ عام انسانوں جیسے انسان تھے۔ قدیم زمانے میں ذرائع معاش کی قلت کی بناپر ہر جگہ کچھ ایسے لوگ ہوتے تھے جو لوٹ مار کے ذریعے اپنی معاش حاصل کرتے تھے۔ اِس قسم کے لوگ عرب میں بھی تھے جن کو صَعَالیکُ العرب کہاجاتا تھا، یعنی عربی قزاق۔ یاجوج اور ماجوج کا گروہ بھی ابتداء ً اِسی قسم کا ایک گروہ تھا۔
یاجوج اور ماجوج کی دیوار
…انقطاع جاری رہا۔ اِس مقصد کے لیے میں نے 1950 میں ادارہ اشاعتِ اسلام قائم کیا۔ اس کے بعد 1970میں اسلامک سنٹر کے نام سے نئی دہلی میں ایک دعوتی مرکز قائم کیا۔ 2001میں سنٹر فار پیس اینڈ اسپریچویلٹی (سی پی ایس انٹرنیشنل) کا قیام عمل میں آیا۔
بیسویں صدی کے آخر تک یہ حال تھا کہ لوگ اِس کام کو ون مین شو (one man show) کہتے تھے۔ تاہم اللہ کی توفیق سے یہ کام مسلسل جاری رہا۔ اردو، عربی، ہندی اور انگریزی میں سیکڑوں کتابیں تیار ہو کر ہر جگہ پھیلیں۔ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کے ذریعے مسلسل یہ پیغام لوگوں کے سامنے آتا رہا۔ اِسی کے ساتھ بار بار مجھے بین اقوامی کانفرنسوں میں نیز ملک کے اندر ہونے والی کانفرنسوں میں شرکت کا موقع ملا۔ ہر جگہ میں نے اِس مشن کو لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی۔
تاہم لوگ اپنی کنڈیشننگ کی بنا پر اِس پیغام کی اہمیت کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتے تھے۔میری آواز ابتداء ً لوگوں کی نظر میں عرصے تک تقریباً اجنبی بنی رہی۔ مثال کے طورپر 1965 کا واقعہ ہے۔ لکھنؤ کا ایک اردو جریدہ، جو اُس وقت ہندستانی مسلمانوں…
…کے زبردست مقلد بن گئے اور انگریزی کلچر اختیار کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے۔ یہ ثنائی طرز فکر تھا، حالاں کہ اُن کے لیے ایک تیسرا آپشن بھی موجود تھا۔ وہ یہ کہ وہ انگریز کو مدعو سمجھیں اور اُن کو پرامن انداز میں اسلام کا پیغام پہنچائیں۔
یہی معاملہ خواتین کا ہے۔ خواتین کے معاملے میں مسلمانوں کا مذہبی طبقہ صرف دو صورتوں کو جانتا ہے۔ یا تو اُنھیں روایتی خول میں بند رکھنا یا فیشن کی دنیا میں آزاد چھوڑدینا۔ مگر یہاں ایک تھرڈ آپشن بھی موجود ہے، وہ یہ کہ عورت اپنی نسوانیت کو باقی رکھتے ہوئے تعمیر ِ انسانیت کے مشن میں اپنا حصہ ادا کرے۔ اِس تعمیری رول کو ادا کرنے کے لیے چند چیز یںضروری ہیں—اچھی تعلیم، شعوری ارتقاء، حالاتِ زمانہ کے مطابق ان کی تربیت، اپنے حدود کو جانتے ہوئے اجتماعی کام میں حصہ لینا، وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ خالق نے جس طرح مرد کو کارِ خاص کے لیے پیدا کیا ہے، اُسی طرح اس نے عورت کو کارِ خاص کے لیے پیدا کیا ہے۔ ضرورت ہے کہ دونوں اپنے اپنے رول کو جانیں اور فطری حدود کے اندر رہتے ہوئے اُس کارِ خاص کو انجام دیں۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب’’عورت معمارِ انسانیت‘‘)
سوال وجواب
…کے سامنے لایا گیا۔ کیوں کہ بعد کے زمانے میں مکی ماڈل مسلمانوں کے ذہن سے اوجھل ہوگیا اور صرف مدنی ماڈل ان کے زندہ حافظے میں باقی رہا، جب کہ مسیحی ماڈل پر دوسرا مرحلہ پیش نہیںآیا۔ مسیح کے یہاں اول بھی مکی ماڈل تھااور آخر بھی مکی ماڈل۔
2 - پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا لافضل لعربی علی عجمی ولا لأحمر علیٰ أسود (کسی عربی کو کسی عجمی کے اوپر کوئی فضیلت نہیں، کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر کوئی فضیلت نہیں) اِن الفاظ میں بظاہر مطلق مساوات کا اعلان تھا، لیکن آپ کی وفا ت کے بعد جب خلافت کا مسئلہ پیدا ہوا تو اس کو الائمۃ من قریش (مسند احمد، رقم الحدیث 12657)کی بنیاد پر حل کیاگیا۔ یہ فعل واضح طورپر آئیڈیل مساوات کے خلاف تھا۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے أمرہم شوریٰ بینہم (اہلِ ایمان کے معاملات اجتماعی مشورے سے طے ہوتے ہیں) الفاظ کے اعتبار سے بظاہر یہ ایک مطلق اصول ہے، لیکن خلیفۂ اوّل حضرت ابو بکر نے خلیفۂ ثانی حضرت عمر کے تقرر میں اِس تعلیم کے خلاف عمل کیا۔…
…قرآن کی کھلی ہوئی تائید حاصل ہے۔ اِس سے یہ اصول ملتاہے کہ کسی وقت دست برداری سے اگر ایک بڑا فائدہ ملتاہو تو اس دست برداری کو قبول کرلینا چاہئے، کیوں کہ وہ حضرت عمر کے الفاظ میں، دوشر میں سے بہتر شر (خیر الشرَّین) کے انتخاب کے ہم معنی ہے۔
خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے اِس اصول کی تصدیق ہوتی ہے۔ مثلاً آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو وہاں کے سرداروں کی طرف سے آپ کے مشن کی سخت مخالفت کی گئی۔ جو لوگ آپ پر ایمان لاتے، اُن کو طرح طرح ستایا جاتا۔ اُس وقت آپ نے 5 نبوی میں اہلِ ایمان کو مشورہ دیا کہ وہ مکہ چھوڑ کر پڑوسی ملک حبش (Abyssinia) چلے جائیں۔ چناں چہ مجموعی طورپر 119 اہلِ ایمان مکہ سے حبش چلے گئے۔ اُس وقت آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ مکہ ہمارا وطن ہے، اِس لیے ہم یہاں رہیں گے اور ہر قیمت پر اپنے حق کی لڑائی لڑتے رہیں گے۔
ہجرتِ مدینہ بھی اِسی اصول کی ایک مثال ہے۔ مکہ کے سرداروں نے جب دار الندوہ میں یہ فیصلہ کیاکہ آپ کو قتل کردیا جائے، اُس وقت آپ خاموشی کے ساتھ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ مکہ میرا وطن ہے اور میں کسی بھی قیمت پر…
اسلام کا تصور ِ انسانیت
اسلام کا ظہور ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں ہوا۔ اُس وقت ساری دنیا میں بادشاہت کا رواج تھا۔اُس زمانے کی انسایت حاکم اور رعایا، راجا اور پرجا میں بٹی ہوئی تھی۔ اسلام نے اعلان کیا کہ نہ کوئی حاکم ہے اور نہ کوئی محکوم، سارے انسان برابر ہیں۔ انسانوں کے درمیان اِس قسم کی تقسیم غیرفطری تقسیم ہے۔ اِسی طرح سفید فام اور سیاہ فام دونوں یکساں طورپر انسان کی حیثیت رکھتے ہیں۔
انسانی زندگی میں اس قسم کا انقلاب اچانک نہیں آتا، وہ ایک تاریخی عمل (historical process) کے روپ میں آتا ہے۔ اسلام نے پہلی بار اِس عمل کو تاریخ میں جاری کیا، پھر دھیرے دھیرے وہ اپنی تکمیل کو پہنچا۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہاں دو…
…تعلیم پانے والے افراد کے سابق شاکلہ کو توڑ کر اُن کو اِس قابل بنایا کہ وہ کھلے ذہن کے تحت سوچیں اور تعصبات (prejudices) سے خالی ہو کر چیزوں کو ایز اِٹ اِز (as it is) دیکھ سکیں۔ ڈی کنڈیشننگ کا یہی کام جدید سیکولر تہذیب نے بھی انجام دیا۔
اِس طرح جدید سیکولر اداروں میں تعلیم پاکر جو افراد تیا رہوئے، وہ گویا کہ بیسویں صدی کے ’’بنو اسماعیل‘‘ تھے۔ یہ لوگ اپنی تربیت کے تحت، غیر متعصبانہ ذہن رکھتے تھے۔ وہ اِس قابل تھے کہ اُن کے سامنے بے آمیز حق پیش کیا جائے تو وہ اُس کے بارے میں آزادانہ طورپر سوچیں اور اس کو قبول کرلیں۔ اِس طرح یہ جدید نسل اُن لوگوں کے لیے ایک موافق نسل بن گئی جن کو موجودہ زمانے میں اخوانِ رسول کا رول ادا کرنا تھا۔ یہ ایک مشترک تائیدی عمل کا واقعہ ہے جو دونوں گروہوں کے لیے خصوصی خدائی منصوبے کے تحت پیش آیا۔
مسلم دورِ اقتدار
…علماء (35:28) کا درجہ دیاگیا۔ قرآن میں پہلی بار اس حیثیت کا انکشاف کیاگیا کہ زمین وآسمان کو اس کے خالق نے انسان کے لیے مسخر (subservient) بنا دیا ہے (45:13)۔ اس تصور کا نتیجہ یہ ہوا کہ نیچر انسان کو اپنا خادم نظر آنے لگی، نہ کہ معبود۔
اِس طرح کی آیتیں قرآن میں کثرت سے موجود ہیں۔ قرآن کی اِن آیتوں نے اہلِ ایمان کو علم کے ایک توسیعی مفہوم سے متعارف کیا۔ اِس کے مطابق، پوری کائنات گویا کہ ایک وسیع لائبریری قرار پائی۔ علم ایک محدود شعبہ نہ رہا، بلکہ وہ ایک آفاقی شعبہ بن گیا۔
یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ اسلام کے ظہور سے پہلے ساری دنیا میں شرک کا رواج تھا۔ شرک دراصل مظاہرِ فطرت کی پرستش (nature worship) کادوسرا نام ہے۔ شرک کے نظریے کے تحت، فطرت (nature) پرستش کی چیز بنی ہوئی تھی۔ جو چیز پرستش کا موضوع (object of…
تاریخ کائنات کا دوسرا دور
تاریخ کائنات کے پہلے 6 دور گویا کہ اس کے مادّی دور تھے۔ اِس کے بعد تاریخ کائنات کا دوسرا دور شروع ہوا۔یہ دوسرا دور بھی 6 دوروں پر مشتمل ہے۔ اِس دوسرے دور کو تاریخِ کائنات کا فکری دور کہاجاسکتاہے۔ یہ دوسرے 6 دور حسب ذیل ہیں
1 - پیغمبروں کا دور 2 - بنو اسماعیل کادور 3 - اصحابِ رسول کا دور
…چوبیس ہزار تھی۔مگر ان پیغمبروں پر بہت کم لوگ ایمان لائے۔ اِس بنا پر اِن پیغمبروں کے ساتھ کوئی مضبوط ٹیم نہ بن سکی، جو اُن کے بعداُن کی لائی ہوئی کتاب کی ضامن بنے۔ چناں چہ پچھلے پیغمبروں کی لائی ہوئی کتابیں اور ان کے صحیفے محفوظ نہ رہ سکے۔
پیغمبر آخر الزماں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب کا معاملہ ایک استثنائی معاملہ تھا۔ آپ 570 عیسوی میںعرب کے شہر مکہ میں پیدا ہوئے۔ اُس وقت یہاں جو لوگ (بنواسماعیل) آباد تھے، ان کی پرورش تمدن سے دور صحرائی ماحول میں ہوئی۔ اِس بنا پر وہ اپنی اصل فطرت پر قائم تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام کو استثنائی طورپر ساتھ دینے والوں کی بڑی تعداد حاصل ہوگئی۔ بائبل میںاِس استثنائی واقعے کو بطور پیشین گوئی اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے— وہ دس ہزار قُدسیوں کے ساتھ آیا
He came with ten thousand of saints (Deoteronomy 33:2)
…یہ تبدیلی اجتہاد کی ضرورت کو بتاتی ہے، نہ کہ نئے نبی کی ضرورت کو۔ اِس طرح کے بدلے ہوئے حالات میں صرف یہ کافی ہے کہ قرآن اور سنت کی روشنی میں صورتِ موجودہ پر شرعی حکم کا از سرِ نو انطباق (re-application) کیا جائے۔ اِسی کا نام اجتہاد ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے، تو اس وقت وہاں آب پاشی (irrigation) کا مسئلہ تھا۔ لوگوں نے کہا کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ آپ خدا کی مدد سے ہمارے اِس مسئلے کو حل کیجیے۔ آپ نے فرمایا مابہذا بُعثتُ إلیکم (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، جلد 1 ، صفحہ 316) یعنی میںتمھارے پاس اِس کام کے لیے نہیں بھیجا گیا ہوں
I have not been sent to you for this purpose.
رسول اور خاتم الانبیا
قرآن اور حدیث کی صراحت کے مطابق، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف نبی تھے، بلکہ وہ خاتم الانبیاء بھی تھے، یعنی آپ کے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔ آپ کے بارے میں خاتم الانبیا ہونے کا یہ اعلان صرف ایک اعلان نہیں، وہ آپ کے پیغمبر ِ خدا ہونے پر ایک تاریخی دلیل بھی ہے۔ آپ نے ساتویں صدی کے رُبعِ اول میں یہ اعلان کیا کہ میں خاتم الانبیا ہوں۔ اس کے بعد سے لے کر اب تک کوئی شخص نبی کا دعوے دار بن کر نہیں اٹھا۔ گویا کہ آپ کے الفاظ تاریخ کا ایک فیصلہ بن گیے۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے یا آپ کے بعد کوئی شخص ایسا پیدا نہیں ہوا جو اپنے بعد آنے والی تاریخ کے بارے میں ایک بیان دے اور اس کا یہ بیان اس کے بعد تاریخ کا ایک واقعہ بن جائے۔ مثلاً کارل مارکس (وفات 1883 ) نے اپنے تجزیے کی بنیاد پر…
…کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ماضی کے برعکس، حکومت کا دائرہ سمٹ کر اب صرف انتظامیہ (administration) تک محدود ہوگیا ہے۔ یہ تاریخ کی ایک عظیم تبدیلی ہے، مگر اِس تبدیلی کا آغاز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے کیا تھا۔
اِس تبدیلی نے اِس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ حکومت سے ٹکراؤ کیے بغیر خالص پُرامن طریقِ کار کے ذریعے بہت بڑے بڑے کام کیے جاسکیں۔ باشعور قوموں نے اِس امکان سے فائدہ اٹھا کر عملاً ایسا کررکھا ہے۔ چناں چہ اِن لوگوں نے حکومت سے باہر رہتے ہوئے اور حکومت سے ٹکراؤ کیے بغیر انتہائی اعلیٰ پیمانے پر اپنا میڈیا ایمپائر اور ایجوکیشنل ایمپائر اور انڈسٹریل ایمپائر اور مشنری ایمپائر بنالیا ہے ۔ مگر جہاں تک اِس امکان کی دریافت کا تعلق ہے، وہ پہلی بار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کی رہنمائی کے تحت حاصل ہوئی۔ اِس استثنائی معرفت کی اِس کے سوا کوئی اور توجیہہ نہیں کی جاسکتی کہ یہ مانا جائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے۔
ایک غلط فہمی
…ہے۔ یہ اِزالۂ نمک (desalination) کا ایک عمل ہے، جو خدا کے قانون کے تحت ہوتا ہے۔ اِسی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ سمندر کا کھاری پانی ہم کوشیریں پانی کی صورت میں دست یاب ہوتا ہے۔ اِس عمل کے بغیر سمندر کا پانی ہمارے لیے قابلِ استعمال ہی نہ ہوتا۔
کولریج (Coleridge) ایک برٹش شاعرہے۔ اس کی وفات 1834 میں ہوئی۔ اس نے ایک نظم لکھی ہے۔ اِس نظم میںاس نے بتایا ہے کہ لکڑی کا بنا ہوا ایک جہاز سمندر میں سفر کے لیے روانہ ہوا۔ درمیان میں سخت طوفان آیا۔ اُس کے نتیجے میں جہاز ٹوٹ گیا۔ بہت سے لوگ پانی میں ڈوب گئے۔ ایک مسافر کو جہاز کا ایک تختہ مل گیا۔ وہ اِس تختے کے اوپر لیٹ گیا اور پانی میں تیرنے لگا۔ وہ پیاسا تھا، لیکن وہ اپنی پیاس بجھا نہیں سکتا تھا، کیوں کہ اُس کے آس جو پانی تھا، وہ سب کا سب کھاری پانی تھا۔ شاعر اِس کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ— ہر طرف پانی ہے، لیکن ایک قطرہ بھی پینے کے لیے نہیں
Water everywhere, nor a drop to drink.
عقل سے محرومی
ایک طویل حدیث میں امت مسلمہ کے دورِ زوال کی پیشین گوئی کی گئی ہے، اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکہا: قیامت کے قریب ہرج ہوگا۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ہرج سے کیا مراد ہے ؟ آپ نےکہا: قتل۔ کسی نے پوچھا اے اللہ کے رسول ہم تو اب بھی ایک سال میں اتنے اتنے مشرکوں کو قتل کرتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے مراد مشرکوں کا قتل نہیں ہے، بلکہ تم میں سے بعض اپنے بعض کو قتل کرے گا، حتی کہ ایک آدمی اپنے پڑوسی کو، اپنے چچازاد بھائی کو،اور اپنے قرابت دار کو قتل کرے گا۔ لوگوں میں سے کسی نے کہا، اے اللہ کے رسول اس دور میں ہماری عقلیں ہمارے ساتھ ہوں گی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ نہیں۔ اس زمانہ میں اکثر لوگوں کی عقلیں چھن جائیں گی، اور گر د وغبار کی مانند لوگ باقی رہیں گے۔ ان کے پاس عقلیںنہیں ہوں گی۔ (سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر 3959)
یہاں عقل چھننےسے مراد عقل کے درست استعمال کے لیے نااہل ہوجانا ہے۔ اس بنا پر ایسا ہوگا کہ لوگ ناحق طور پر ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں گے۔ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں بعد کے زمانے میں پیدا ہونے والے اس واقعہ کا ذکر ہے جب کہ…
…بعد ہی انسان کی اصل تعمیر کا کام شروع ہوتا ہے۔ انڈسٹری کے کلچر میں آدمی کو معدنیات جیسا ایک مخلوق سمجھا جاتا ہے۔ انڈسٹری کا کلچر آدمی کو خود اپنی ضرورت کے مطابق تربیت دے کر اس قابل بناتاہے کہ وہ اس کی مشین کا ایک پرزہ بننے کے قابل ہوسکے۔
لیکن انسان اس انڈسٹریل تصور سے بہت زیادہ ہے۔ انسان کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنے آپ کو دریافت کرے۔ اور اس خود دریافت کردہ تخلیق کے مطابق اپنے آپ کو اعلی مقصد کے لیے ڈیولپ کرے۔ یہ ایک سیلف ڈیولپمنٹ کا عمل (process) ہے۔ یہی سیلف ڈیولپمنٹ کا عمل انسان کو مین (man)سے بڑھا کر سوپر مین بناتا ہے۔ اسی سیلف ڈیولپمنٹ کے بعد آدمی اس قابل بنتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اعلی کامیابی (super-achievement) تک لے جائے۔ اس لحاظ سے فروغ وسائل انسانی کا سب سے بڑا عمل یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ازسر نو دریافت (rediscover) کرے۔ وہ پھر سے اپنی معرفت حاصل کرے۔ اسی خود دریافت کردہ معرفت میں اعلی انسانی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔
کنڈیشننگ کا مسئلہ
…یہاں تک کہ بعد کے زمانے میں مکہ کےسرداروں نے کعبہ میں بتوں کو رکھنا شروع کردیا، جن کی تعداد بڑھتے بڑھتے تقریباً تین سو ساٹھ ہوگئی۔ پیغمبر اسلام کے لیے یہ منظر بے حد تکلیف دہ تھا۔ لیکن آپ نے اس معاملے میں مثبت (positive)طریقہ اختیار کیا۔
آپ نے دیکھا کہ ان بتوں کی وجہ سے وہاں روزانہ ایک مجمع ہوتا ہے۔ سارے عرب سے ان بتوں کے پرستار کعبہ کے پاس اکٹھا ہوتے ہیں۔ آپ نے ان پرستاروں سے ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ آپ نے اس موقعہ پر اس طریقے کو اختیار کیا ، جس کوآج کل کی زبان میں آؤ ٹ سورسنگ کہا جاتا ہے۔ یہ مجمع تمام تر غیر خدا پرستوں کا مجمع ہوتا تھا۔ آپ نے ان لوگوں کو مدعو کا درجہ دیا۔ اور ان کو اپنا آڈینس (audience) بنا لیا۔ آپ روزانہ وہاں جاتے اور ان کو قرآن پڑھ کر سناتے۔ چناں چہ سیرت کی کتابوں میں آتا ہے :وعرض علیہم الإسلام، وتلا علیہم القرآن(سیرۃ ابن ہشام، 1/428)۔
ری پلاننگ (re-planning)
حضرت عائشہ کا نکاح
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا نکاح حضرت خدیجہ سے ہوا۔ خدیجہ مکہ کی ایک بااثر خاتون تھیں۔ اس بنا پر اس نکا ح سے پیغمبر اسلام کو مکہ میں ایک مضبوط سماجی بنیاد (social base) حاصل ہوگئی۔ مکہ میں یہ سماجی بنیاد آپ کو تقریبا 25 سال حاصل رہی۔ آپ ایک صاحب مشن تھے، اوراپنے مشن کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے ضروری ہے کہ صاحب مشن کو مضبوط سماجی بنیاد حاصل ہو۔
حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد پیغمبر اسلام کا دوسرا نکاح حضرت عائشہ سے ہوا۔ یہ نکاح مکی دور کے آخری زمانے میں ہوا، اور ہجرت کے بعد مدینہ میں ان کی رخصتی ہوئی۔ اس وقت عائشہ کی عمر نو سال تھی، اور پیغمبر اسلام کی عمر 53سال۔ عمر کے اس فرق کو لے…
…پوجنے والے بن گئے۔ اب بھی وہ سماجی روایت کے طورپر ایک خدا کو مانتے تھے مگر اسی کے ساتھ عملی طور پر وہ بہت سے بتوں کو پوجتے تھے۔ چھٹی صدی عیسوی میں پورا عرب ایک بت پرست ملک بن چکا تھا۔ عرب کے یہی حالات تھے جب کہ پیغمبر اسلام وہاں پیدا ہوئے۔
پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب عرب کے شہر مکّہ میں 570 عیسوی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 610 عیسوی میں مکّے میں اپنی پیغمبری کا اعلان کیا ۔ 622 عیسوی میں وہ عرب کے دوسرے شہر مدینہ چلے گئے۔ 632 عیسوی میں مدینہ میں ان کی وفات ہوئی۔ اس طرح آپ کی کُل عمر 63 سال تھی، اور آپ کی پیغمبرانہ عمر 23 سال ۔
آپ پیدا ہوئے تو آپ کے والد عبد اللہ بن عبد المطلب کا انتقال ہوچکا تھا۔ آپ کی عمر چھ سال تھی تو آپ کی والدہ آمنہ بنت وہب بھی انتقال کر گئیں۔ اس کے بعد آپ اپنے دادا عبد المطلب اور اپنے چچا ابو طالب کی سر پرستی میں رہے۔ قرآن میں خدا نے…
…ہے لیکن مجھے امید ہے کہ طائف کی اگلی نسلیں میری بات کو مانیں گی اور خدا کے راستے پر چلیں گی (بَلْ أَرْجُو أَنْ یُخْرِجَ اللَّہُ مِنْ أَصْلاَبِہِمْ مَنْ یَعْبُدُ اللَّہَ وَحْدَہُ، لاَ یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا) صحیح البخاری، حدیث نمبر 3231۔
پیغمبر اسلام طائف سے واپس ہوکر دوبارہ مکّہ پہنچے تو قریش کا ظلم اور زیادہ بڑھ گیا۔ انہوں نے دار الندوہ میں مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ آپ کو قتل کردیں۔ اس فیصلے میں مکہ کے تمام قبائل شریک ہوگئے۔اُس وقت مکّہ اور اطرافِ مکہ میں تقریباً دو سو آدمی پیغمبر اسلام کے پیغام کو مان کر اُن کے ساتھی بن چکے تھے، مگر یہ تعداد قریش کے مقابلے میں آپ کی حمایت کے لیے ناکافی تھی۔ چنانچہ آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ آپ مکہ چھوڑ کر عرب کے دوسرے شہر مدینہ چلے جائیں، جو مکہ سے تقریباً تین سو میل کے فاصلے پر واقع تھا۔
مدینہ میں اسلام کا داخلہ
…ابتدائی زمانے میں قابلِ قبول نہ ہوسکا۔ مگر اہلِ مدینہ اس قسم کی نفسیات سے خالی تھے۔ بت پرستی کا خاتمہ ان کے نزدیک صرف ایک مذہبی کلچر کا خاتمہ تھا، نہ کہ ان کےمعاشی ذریعے کا خاتمہ۔ چنانچہ مدینے میں پیغمبر اسلام کا پیغام تیزی سے پھیل گیا۔
پیغمبر اسلام کی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کوئی سادہ واقعہ نہ تھا۔یہ دراصل ٹکراؤ کے طریقے کو چھوڑ کر امن کے طریقے کو اختیار کرنا تھا۔ پیغمبر اسلام کےاس اصول کو آپ کی اہلیہ حضرت عائشہ نے اِن الفاظ میں بیان کیا:مَا خُیِّرَ النَّبِیُّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ أَمْرَیْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَیْسَرَہُمَا(صحیح البخاری، حدیث نمبر 6786)۔یعنی پیغمبر اسلام کو جب بھی دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ یہ کرتے کہ مشکل کے مقابلے میں آسان طریقے کا انتخاب فرماتے۔
اس معاملے کی ایک واضح مثال مکّہ کے تیرہ سالہ قیام کے آخری دنوں میں آپ کے لیے دو میں سے ایک کا انتخاب تھا۔ یا تو قریش سے جنگی ٹکراؤ کریں، یاخاموشی کے ساتھ پُر امن طورپر مکّہ سے نکل کر مدینہ چلے جائیں۔ اُس وقت کے حالات میں پہلا انتخاب…
مدنی زندگی
622 عیسوی سے پیغمبر اسلام کی مدنی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ آپ کا ہجرت کرکے مدینہ پہنچنا کوئی سادہ بات نہ تھی۔ اس سے پہلے مکّہ کی تیرہ سالہ پیغمبرانہ زندگی میں آپ کو نہایت تلخ تجربے پیش آئے تھے۔ آپ کو مسلسل ستایا گیا، آپ کے ساتھیوں کو مارا پیٹا گیا، آپ کا اور آپ کے خاندان کا بائیکاٹ کیا گیا، آپ کو اتنی شدید مصیبتوں میں مبتلا کیاگیا کہ آپ اور آپ کے ایک سو سے زیادہ ساتھی اپنے وطن اور اپنی جائداد کو چھوڑ کر مکّہ سے مدینہ آگئے۔ یہاں انہیں اپنے گھر اور اپنے عزیزوں سے محروم ہوکر از سرِ نو اپنی زندگی کی تعمیر کا مشکل کام کرنا تھا۔
ایسی حالت میں یہ ہونا چاہیے تھا کہ پیغمبر اسلام کا دل شکایت اور احتجاج سے بھرا ہوا ہو اور وہ مدینہ پہنچتے ہی مکّہ والوں کے خلاف منفی باتیں کہنا شروع کردیں۔ مگر معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ پیغمبر اسلام نے مدینہ پہنچ کر مدینہ والوں کے سامنے جو…
…ہو اُس کو سب سے پہلے خود اپنے ذہن کومیانہ روی پر قائم رکھنا ہوگا۔ اُس کو یک طرفہ طورپر یہ کرنا ہوگا کہ فریقِ ثانی اس کوغصہ دلائے، مگر وہ ہر گز غصہ نہ ہو۔ اس قیمت کو ادا کیے بغیر کوئی شخص پُر امن طریقِ کار کے اصول کواختیار نہیں کرسکتا۔
پیغمبر اسلام نے معلوم تاریخ میں پہلی بار پُر امن ایکٹوزم کا مکمل نمونہ پیش کیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ آپ نے یک طرفہ اعتدال پسندی کی مذکورہ قیمت ادا کی۔ آپ کے ساتھ فریقِ ثانی کی طرف سے ہر قسم کی زیادتی کی گئی مگر آپ ان زیادتیوں سے اوپر اُٹھ کر سوچتے رہے۔ ان کی زیادتیوں کو نظر انداز کرکے آپ نے مثبت انداز میںاپنے عمل کا نقشہ بنایا۔
پیغمبر اسلام کی یہ تقریر بتاتی ہے کہ آپ مکمل معنوں میں ایک امن پسند انسان تھے۔ کوئی بڑے سے بڑا ناخوش گوار واقعہ آپ کے ذہنی سکون (peace of mind) کو درہم برہم نہیں کرسکتا تھا۔ آپ نے اپنے ذہن کی سطح پر ایک ایسی بلند چیز پالی تھی کہ اس کے…
…اُن کو اللہ اور اس کے رسول کے طریقے کے مطابق طَے کیا جائے گا(وَإِنَّکُمْ مَہْمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیہِ مِنْ شَیْءٍ، فَإِنَّ مَرَدَّہُ إلَى اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) سیرت بن ہشام، جلد1، صفحہ503۔
یہ کثیر مذہبی یا کثیر کلچر والے سماج میںامن قائم کرنے کا واحد عملی اصول ہے۔ اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ اپنے اپنے دائرے میں ہر ایک اپنے طریقے کی پیر وی کرنے میں آزاد ہو۔ جہاں تک اجتماعی معاملات کا تعلق ہے، یعنی وہ معاملات جن میں رائیں ایک دوسرے سے مختلف ہو جاتی ہیں، وہاں مرکزی انتظامیہ کی اتّباع کرنا۔ اس طریقے کو دوسرے الفاظ میں پُر امن ڈفرینس مینجمنٹ (peaceful difference management) کہا جاسکتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر سماج میں ہمیشہ فرق اور اختلاف پایا جاتا ہے۔ خواہ یہ سماج واحد مذہبی سماج ہو یا کثیر مذہبی سماج۔ اس فرق کو تسلیم کیا جاسکتا ہے، مگر اس کو مٹایا نہیں جاسکتا۔ ایسے حالات میں کسی سماج میں امن قائم کرنا صرف بقائے باہم (co-existence) کے اصول پر مبنی ہے۔ اس معاملے میں دوسرا کوئی انتخاب ممکن نہیں۔
مدینہ پہنچ کر آپ نے جو سب سے پہلا کام کیا وہ یہ تھا کہ آپ نے وہاں ایک مسجد بنائی۔ اور اس مسجد میںپانچ وقت کی نماز کا نظام قائم کیا۔ اس نماز کا ایک پہلو یہ تھا کہ وہ خدا کی عبادت کا منظّم طریقہ تھا۔ اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ انسان کے…
…کہ پیغمبر اسلام مدینہ میں اپنے افراد کو اکٹھاکرکے ایک بڑی قوت بنائیں گے اور مکّہ کو واپس لینے کے لیے مکّہ پر حملہ کردیں گے۔ اس لیے مکّہ والوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ مدینہ میں پیغمبر اسلام کی طاقت کو توڑ کر اس کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے۔
اس مقصد کے لیے مکّہ والوں نے عوامی عطیات سے پچاس ہزار دینار اکھٹا کیے ، اور تیاری شروع کردی۔ یہاں تک کہ انہوں نے مدینہ پر باقاعدہ حملے کا منصوبہ بنالیا۔ حتی کہ ایک ہزار کی تعداد میں مسلّح فوج لے کر روانہ ہوئے تاکہ مدینہ کی جدید مسلم ریاست کا خاتمہ کردیں۔
اس طرح مدنی دَور میںغزوات (لڑائیوں) کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ سیرت کی کتابوں میں تقریباً 85 غزوات شمار کیے گئے ہیں۔ مگر یہ غزوات فریقِ ثانی کی طرف سے غزوات تھے اور پیغمبر اسلام کی طرف سے اعراض۔ پیغمبر اسلام کی پالیسی یہ تھی کہ فریقِ ثانی کے…
)مولانا وحید الدین خاں کی مثبت فکر ، ایک جائزہ(
یہ مادی دنیا، جس میںانسان اپنی زندگی گزاررہا ہے ،یہاں جب تک انسان کی سانسیں باقی ہیں اسے ہر لمحہ و لحظہ امتحان و اختبار سے گزارا جا رہا ہے۔ یہ ایسا قدرتی عمل ہے جس کو ہرسنجیدہ انسان اپنی زندگی میں دیکھتا اور محسوس کرتا ہے ۔ پریشانیوں اور غم و اندوہ کے لمحات ہر انسان پر آتے ہیں۔ اب زندگی گزارنے کی ایک صورت یہ ہے کہ پریشانی یا دکھ و غم کو زندگی کاوقتی حصہ سمجھ کراسے اگنور کیا جائے، اور آگے کا سفر طے کیا جائے تاکہ نئے راستے اور نئی منزلیں مل سکیں ۔ اس کے برعکس، دوسری صورت یہ ہے کہ ان حزن وغم کے لمحات کو وقتی سمجھ کر اگنور کرنےکے بجائے انہی کے دائرہ میں اپنی زندگی کاٹی جائے اورامیداور روشنی کے سارے راستوں کوبند سمجھا جائے۔اس دوسرے قسم کےانسان کی زندگی فقط افسوس اورحسرتوں کی زندگی ہو گی، ایسا انسان حقیقت پسندانہ زندگی نہیں گزار سکے گا۔ اس حوالہ سے سب سے جامع اور مکمل رہنمائی رسول اللہ کی زندگی میں ملتی ہے ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم 570 عیسوی میں پیدا ہوئے ۔چالیس سال بعد 610 عیسوی میں آپ کو نبوت ملی ، 622 عیسوی کو آپ نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمایا، اور 632 عیسوی میں مدینہ میں آپ کا انتقال ہوا۔ آپ کا یہ سارا دعوتی سفر عزم و یقین سے بھر…
…یہ ہے کہ آدمی برائی کرنے کے بعد بھلائی کرے۔ وہ اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کرے۔ وہ اس بات کا فیصلہ کرے کہ وہ آئندہ ایسی غلطی نہیں کرے گا۔ جو آدمی ایسا کرے وہ اپنے د ل کو دوبارہ پاک کرلے گا۔ اس کے دل کی حساسیت دوبارہ اس کی طرف لوٹ آئے گی۔
برائی کا دوسرااثر وہ ہے جس کا تعلق سماج سے ہے۔ سماج کے ایک فرد کا برائی کرنا ایسا ہی ہے جیسے پر سکون پانی میں پتھر پھینکنا ۔ چنانچہ ایک فرد کا برائی کرنا پورے سماج کومتاثر کرنے کا سبب بن جاتا ہے ۔ا یسی حالت میں اپنی برائی کی تلافی کرنا گویا پورے سماج کو بگاڑ سے بچانا ہے۔ یہ فرد کے اوپر ایک سماجی فرض ہے کہ وہ اپنی برائی کے انجام سے سماج کو بچائے۔
یقین واعتماد
…کے مسلمانوں سے بے حد شاکی ہیں۔میں نے پوچھا کہ مسلم ملکوں کا سفر کرنے کے بعد آپ کا آخری تاثر کیا تھا۔انہوں نے جواب دیاکہ (مسلمانوں کو دیکھ کر) میں بہت زیادہ دل شکستہ ہوگیا تھا، یہاں تک کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ میں اسلام سے نکل جاؤں گا
کنت محزوناً جداً حتی ظننت ان اخرج من الاسلام
ان کا خیال ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا اصل مرض پیرانوئیا (paranoia)ہے۔یعنی جھوٹی بڑائی کا جنون۔مسلمان فرضی طور پر اپنے کو بڑا سمجھتے ہیں اور جب دنیا ان کی فرضی بڑائی کو تسلیم نہیںکرتی تو وہ ساری دنیا کے خلاف جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہو…
…فرمايا ٹھليا (الحنتم) سے اور توبني (الدباء) سے اور نقير سے اور تاركول والے پيالے (المزفت) سے۔ پھر آپ نے فرمايا كه ان باتوں كو ياد ركھو اورتمهارے پيچھے جو لوگ هيں ان كو بتادو (متفق عليه صحیح البخاری، حدیث نمبر53،صحیح مسلم، حدیث نمبر17)
مدينه ميں جب رسول الله صلى الله عليه وسلم كو بااقتدار حيثيت حاصل هوگئي تو آپ نے مختلف عرب قبائل كے پاس تبليغي وفود بھيجنا شروع كیا۔ اس كے بعديه ہوا کہ عرب قبائل مدينه آكر آپ كي اطاعت قبول كرنے لگے۔ يهاں تك كه عرب كے تمام قبائل مدينه كي رياست كي ماتحتي ميں آگئے۔ اس حديث ميں ايك اصول يه ملتا هے كه ايسے حالات ميں جب كه آدمي كے سامنے دو ميں سے ايك كا انتخاب هو — وه يا تو اپني مرضي سے ماتحتي قبول كرلے ورنه اُس كو رسوائي اور شرمندگي كے ساتھ ماتحتي كو قبول كرنا هوگا۔ ايسي حالت ميں صحيح طريقه يه هے كه باعزت صلح كو اختيار كرليا جائے اور بےنتیجہ جنگ كا طريقه چھوڑ دياجائے۔
نوٹ حديث ميںقديم عرب كے چار برتنوں كا ذكر هے جو شراب بنانے اور پينے كے لیے استعمال كیے جاتے تھے۔ "حنتم "شراب كي ٹھليا۔ "دُباء" اندر سے كھوكھلا كيا هوا كدو جو جگ كي طرح استعمال كيا جاتا تھا۔" نقير" درخت كي جڑ كواندر سے كھوكھلا كر كے اس ميں…
…leads to high thinking. And high thinking is the sole key to all kinds of human progress. So we have to welcome differences wholeheartedly, without any reservation. It is hatred, which has to be eliminated, and not difference of opinion.
We have to welcome differences wholeheartedly, without any reservation.
Here is an event in the life of the Prophet of Islam, which illustrates the true spirit of religious tolerance. One day a funeral procession wound its way along a street in Medina. The Prophet, who was seated there at the time of its…
…morality, justice, etc. The Quran thus contains instruction pertaining to various situations. This variety of commands is found in all religious books, and is, in fact, necessary in order to address all the important aspects of our lives.
Believers do not have the right to wage wars against enemies. In Islam, war is not waged against the enemy, but against the aggressor.
For instance, the Bhagavad Gita, one of the holiest books in Hinduism is a 700-verse conversation between Arjuna and his charioteer Krishna during a battle in the Mahabharata. It is essentially a call to duty and to arms, by Krishna to…
…of the Prophet of Islam made manifest God’s mercy for all mankind. Through him, God communicated those principles of life by opting for which man may inhabit the abode of eternal peace and security (Dar us Salaam). (THE QURAN 10: 25)
Through him, such teachings were revealed as could turn human society into a peaceful society. The Prophet of Islam presented a complete ideology based on the concept of peace. He gave us the formula for a peaceful life — to shun hatred and violence.
The Prophet of Islam initiated a revolution which, although very great in its scope and later repercussions, was ideologically non-violent.
Migration or hijrath of the Prophet Muhammad is a clear example of abandoning violent solutions in favour of peaceful solutions.
In all such situations, it becomes essential for us to sacrifice our feelings and desires. We may have to kill our egos completely. In spite of having to surmount all such hurdles, we should be determined to stick to the truth in the real and primary sense of jihad. Those who engage in this jihad will be held deserving of paradise in the Hereafter.
The truth is that in life we have to choose between two courses—the confrontational and the non-confrontational, the peaceful and the violent. A study of the Prophet’s life tells us that in all matters the Prophet abandoned the violent…
…than being the main feature of his life. However, most of the Prophet's biographers have painted an altogether different picture of him. Instead of presenting him as a Prophet of peace they have portrayed him as a prophet of violence.
The battles which were fought during the Prophet's time were related to the culture then prevailing amongst the Arab tribes.
The Prophet Muhammad was born in the Banu Hashim clan of the Quraysh tribe of Arabia. At that time, Arabia was divided by many different tribes, each with several clans, all vying for domination. Fights between tribes and clans over…
…Prophet’s opponents were constantly provoking him and his followers to engage with them in battle over small issues, but the Prophet and his companions always chose the divine teachings of patience and forbearance to circumvent conflict.
...whenever they kindle the fire of war, God puts it out... THE QURAN 5: 64
In his 6th year in Medina, the Prophet entered into a ten-year peace treaty called the Treaty of Hudaybiya with his opponents by accepting all of their conditions.
…should be established so that there would be no misunderstanding or hostility of any sort, in the future between them and the Muslims. To solve this problem the Prophet of Islam issued a charter, commonly known as the Covenant of Medina.
Since the Muslims were in the majority, the Prophet's position became that of a leader, or a head of state. In this capacity, he declared in this charter that all the inhabitants of Medina would enjoy equal rights. Everyone would be free to follow the religion and culture of his or her choice: the affairs of the adherents of each religion would be decided according to their belief.
Here I would like to quote an event in the life of the Prophet of Islam, which illustrates the true spirit of religious tolerance. One day a funeral procession was passing along a street in Medina. The Prophet, who was seated there at the…
…دیتے ہیں اور اس میں قرآن کی آیت ، پڑھتے ہیں۔ اس آیت کو سنتے ہی عمر فاروق بالکل ڈھ پڑتے ہیں ۔ انھوں نے خود اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا : وقعت على الارض وما تحملني رجلای ــــ ـ يہ حق کےاعتراف کا کلمہ ہےخواہ وہ اپنی مرضی کے خلاف کیوں نہ ہو۔
چوتھا لمحہ وہ ہے جس کا تعلق پانچویں خلیفہ راشد عمر بن عبد العزیز سے ہے۔ ان کے ایک عامل جراح بن عبد اللہ نے کہا کہ اسلام قبول کرنے والوں کی حوصلہ افزائی نہ کرنا چاہئے۔ کیوں کہ بہت بڑی تعداد میں لوگ مسلمان ہو گئے تو جزیہ کی رقم کم ہو جائے گی اور سرکاری مالیات پر زبر دست اثر پڑے گا۔ عمر بن عبدالعزیز نے جواب دیا:
ويحك ان محمد ا بعث هاديا ولم يبعث جاہیا ۔۔۔۔ یہ دعوتی شعور اور پیغمبرانہ مشن کی معرفت کا کلمہ ہے۔
…ہو جاتا ہے ۔ ابن السماک نے کہا کہ میری مجلس میں خواص بھی ہوتے ہیں اور عوام بھی۔ میں بات کی تفصیل اس لئے زیادہ کرتا ہوں کہ جوعوام ہیں وہ بھی میری بات کو سمجھ جائیں ۔ خادمہ نے جواب دیا : جب تک عوام سمجھیں گے اس وقت تک خواص اکتا چکے ہوں گے ۔
اس معاملہ میں زیادہ بہتر یہ ہے کہ آدمی اپنے لئے کسی ایک گروہ کا انتخاب کرلے ۔ وہ یا تو خواص کو اپنا مخاطب بنائے یا عوام کو۔ اگر اس نے دونوں کو اپنا مخاطب بنانے کی کوشش کی، تو ایک گروہ کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش میں وہ دوسرے گروہ کے مزاج کی رعایت نہ کرسکے گا۔
16 اپریل 1983
…اوپر حملہ آور ہو اور اس کو ایسے حالات میں مبتلا کر دے کہ وہ اپنے بچاؤ کی خاطر لڑنے پر مجبور ہو جائے۔ ایسی یکطرفہ جارحیت کے مقابلے میں (خواہ وہ مسلح ہو یا غیر مسلح) اس سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے تدبیری طور پر" خدعہ " کا فعل کرنا جائز ہے ۔
مثال کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کے وقت مکہ سے مدینہ جانا تھا۔ مگر آپ نے مکہ سے نکل کر چند دن غار ثور میں قیام فرمایا جو کہ مدینہ کے الٹے رخ پر ہے۔ اسی طرح آپ کا طریقہ تھا کہ جب کسی مہم میں مشرق کی طرف روانہ ہونے والے ہوتے تو لوگوں سے مغرب کے راستہ کی تفصیلات پوچھتے تاکہ لوگ اس مغالطہ میں رہیں کہ آپ مغرب کی طرف سفر کرنے والے ہیں۔ اسی تد بیرکو شریعت میں توریہ کہا جا تا ہے۔
24 مئی 1983
…ان کی حقیقت کیا ہے۔ ابن خلدون( 808 - 732 ) اور شاہ ولی اللہ دہلوی کا کہنا ہے کہ طبی روایات کی شرعی حیثیت نہیں۔ یہ اس زمانہ کے حکماء ، مثلا حارث بن کلدہ وغیرہ کے تجربے ہیں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب عادت کے تحت بیان فرمایا ۔
بکر بن عبد اللہ ابوزید (مصری) کی کتاب ابن قیم الجوزی : حیاتہ و آثاره( مطبوعہ 1980 ) میری نظر سے گزری ۔ اس میں ابن قیم کی کتاب الطب النبوی کے تذکر ہ کے تحت مصنف نے اس بات کی سخت تردید کی ہے کہ طب نبوی کی تشریعی حیثیت نہیں ۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے پیٹ کے علاج کے لئے شہد تجویز کیا۔ استعمال کے بعد بتایا گیا کہ اس کو اس سے فائدہ نہیں ہوا۔ آپ نے فرمایا : صدق الله وكذب بطن اخيك (صفحہ170) یعنی اللہ کا کلام سچا ہے ، البتہ تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے ۔ مگر اس روایت سے زیادہ سے زیادہ شہد کا استثناء ثابت ہوتا ہے کیوں کہ قرآن میں اس کو شفاء للناس کہا گیا ہے محض اس روایت کی بنیاد پر بقیہ تمام نسخوں پر استدلال نہیں کیا جا سکتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ طب نبوی عربی ہے ، نہ کہ الہامی معنوں میں طب نبوی۔
27 مئی 1983
16 اگست 1983
ہجرت سے پہلے مدینہ کے لوگوں سے آپ کی ملاقات حج کے موسم میں ہوتی تھی۔ نبوت کے گیارھویں سال آپ قبائل عرب میں تبلیغ کے لئے منیٰ گئے۔ وہاں عقبہ کے قریب آپ کی ملاقات قبیلہ خزرج کے کچھ لوگوں سے ہوئی، یہ تقریبا آٹھ افراد تھے ۔ انھوں نے اسلام قبول کرایا۔ اس کے بعد آپ نے ان سے کہا کہ اگر میں مدینہ آ جاؤں تو کیا تم لوگ میری حمایت کروگے ۔ ابن سعد کی روایت کے مطابق انھوں نے جواب دیا : نحن مجتهدون الله ولرسوله ۔ ـنهفـاعـلـمأعـدامـاغـفـونوانماكانتوقعةبعـاتعـامالاول،يوممنايامنااقتلنافيهناستقدموغنكذالايكون لن اجتماعـنـدمـــاحـتىترجعإلىعشـاشـرينا. لعلاللهيمـلحذات بيننا. وموعدك الموسم العام المقبل.
ہم اللہ اور اس کے رسول کے لئے پوری کوشش کریں گے۔ مگرہم، آپ جانئے کہ اس وقت آپس کی بغض وعداوت میں مبتلا ہیں۔ اور ابھی پچھلے سال ہمارے یہاں بعاث کی جنگ ہوئی ہے ۔ اگر آپ ایسی حالت میں مدینہ آتے ہیں تو ہم آپ پر جمع نہ ہوسکیں گے ۔ پس آپ ہمیں…
8 اکتوبر 1983
ایک شخص نے کامیابی کا راز سادہ طور پر ان چند لفظوں میں بیان کیا اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو تم زیادہ کام کرو :
If you want to succeed, work harder.
From where come ideas.
ایک شخص جو معمولی انگریزی جانتا ہو وہ اس جملہ کو سنے گا تو وہ یہی سمجھے گا کہ یہ انگریزی ہے ۔ مگر جو شخص اسلوب کی نزاکتوں سے واقف ہے وہ پہلی ہی نظر میں اس کو رد کر دے گا کیونکہ یہ وہ انگریزی نہیں جو اہل زبان بولتے ہیں۔ اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے صحیح انگریزی جملہ یہ ہے:
Where do ideas come from.
…قریش پابند ہو گئے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کسی کی حمایت نہ کریں گے ۔ صلح حدیبیہ کے فورا بعد آپ نے خیبر کی طرف اقدام کیا اور قریش اپنے معاہدہ کی بنا پر غیر جانب دار اور ناطرف دار رہے۔ اس طرح یہ مہم بآسانی کامیاب ہوگئی۔
دوسرا اس سے زیادہ بڑا فائدہ دعوتی تھا۔ جنگ کے حالات ختم ہونے کے بعد دعوت کا کام بہت بڑھ گیا۔ اس میں یہ تھا کہ آپ نے صلح حدیبیہ کے بعد ہمسایہ بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط روانہ کئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد حکمرانوں کو اپنی دعوت کا مخاطب بنایا۔ آپ نے جن حکمرانوں کو دعوتی خطوط روانہ کئے ان میں رومی حکمراں ہرقل ، ایرانی حکمران کسریٰ، پرویز اور حبشی حکمراں نجاشی تھا۔ اس طرح آپ کی دعوت بیک وقت تینوں آباد…
22 مارچ 1984
عبد اللہ بن عباس کی ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار مدینہ کی مسجد میں تھے اور جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے ۔ آپ نے منبر پر کھڑے ہو کر 36 آدمیوں کو نام لے کر پکارا اور فرمایا : اخرج فانك منافق (تم مسجد سےنکل جاؤ،کیوں کہ تم منافق ہو۔)
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ منافقین کے بارہ میں جانے کی آخری حد کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کو ان کی منافقت کی بنا پر کوئی جسمانی سزا نہیں دی اور نہ ان کو قتل کرایا۔ آخری مرحلہ میں آپ نے صرف یہ کیا کہ ان کو نا مزد کر کے مخلص…
" جناح کا دو قومی نظریہ بالکل صحیح تھا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہم پائجامہ پہنتے ہیں اور اس کو آگے سے باندھتے ہیں۔ ہندو لوگ دھوتی پہنتے ہیں اور اس کو پیچھے سے باندھتے ہیں ۔"
کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جن کو یہ بھی نہیں معلوم کہ دلیل دوسری چیز ہے اورلطیفہ دوسری چیز۔
21 مئی 1984
…10 کروڑ روپئے کی لاگت اور کناڈا کے تعاون سے ہندستان کا پہلا ایٹمی ری ایکٹر قائم ہوا۔ سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اس کا افتتاح 16 جنوری 1961 کو کیا تھا۔ واپس آکر دہلی میں انھوں نے 17 جنوری کو ایک تقریر کے دوران اس کا ذکر کیا اور کہا :
” ہمارا یہ ایٹمی ری ایکٹر اجنتا کے غاروں کے سامنے ہے ۔ ان میں سے ایک ایٹمی طاقت کا مظہر ہے ، اور دوسرا روحانی طاقت کا مظہر، اور دنیا کا دارومدار انہیں دو چیزوں کی ترقی پر ہے۔ ہم سائنس اور روحانیت دونوں کو ساتھ لئے بغیر ترقی کی دوڑ میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔"
اس طرح کی باتیں ہمارے لیڈر اکثر کسی نہ کسی شکل میں دہراتے رہتے ہیں۔ مگر وہ محض تقریر براۓ تقریر ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ لمبی مدت گزرے کے باوجود اب تک اس کی طرف کوئی حقیقی پیش رفت نہ ہوسکی ۔
جب آدمی لا یعنی بحثیں نکالے تو وہ بھول جاتا ہے کہ کیا چیز دلیل ہے اور کیا چیز دلیل نہیں ۔ مثلاً بریلوی حضرات کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہو جگہ موجود ہیں اور ہر چیز دیکھتے ہیں۔
اس عقیدہ کے دلائل میں سے ایک دلیل ان کے نزدیک یہ ہے کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں یہ روایت ہے کہ آدمی جب مرکر قبر میں جاتا ہے تو فرشتے آتے ہیں اور اس سے کچھ سوالات کرتے ہیں ۔ ان میں سے ایک سوال سے ہے :
ماكنت تقول في هذ االرجل
…بعد جو سیاسی اختلافات پیدا ہوۓ اس سے وضع حدیث کا دروازہ کھلا ۔ ہر فرقہ اپنے کو برسر حق ثابت کرنے کے لئے حدیثیں گھڑنے لگا۔ اس کے نتیجہ میں علم حدیث وجود میں آیا اور جرح و تنقید کے ذریعہ معلوم کیا جانے لگا کہ کون حدیث صحیح ہے اور کون غلط ۔
تاہم لاکھوں کی تعداد میں موضوع حدیثیں امت کے اندر پھیل گئیں ۔ چنانچہ بہت سے لوگوں نے موضوع احادیث پر مستقل کتابیں لکھیں۔ انھیں میں سے ایک حافظ ابوالفرج بن جوزی (م 597ھ) ہیں۔ ابن جوزی نے اپنی کتاب میں صحاح تک میں موضوع احادیث کی نشاندہی کی ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں بخاری کی ایک مسلم کی 2 ، مسند احمد کی 38 سنن ابی داؤد کی9 ، ترمذی کی30 ، نسائی کی10، ابن ماجہ کی30 مستدرک حاکم کی20 حدیثیں درج ہیں۔ ان کے علاوہ اور بہت سی احادیث کو موضوع بتایا ہے ۔
اگرچہ علماء نے بعض روایتوں کے سلسلہ میں ابن جوزی کی رائے سے اختلاف کیا ہے۔ تاہم اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ احادیث کو جانچنے کے سلسلہ میں ہمارے علماء کس قدر شدید تھے۔ اور کس طرح بلا رو رعایت ہر روایت کو جانچتے تھے تاکہ ایسا نہ ہو کہ جو چیز…
…نے ہندؤوں کو بلایا اور پوچھا کہ کیا تم لوگ رام چندرجی کی پوجا کرتے ہو۔ سب نے کہا کہ ہاں کلکٹرنے پوچھا کہ پھرتم نے پوجا میں کیا گستاخی کی ہے کہ رام چندر جی تمہارے مندرسے خفا ہوکر مسجد میں چلے گئے ۔ ہندو حضرات کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا ۔
کلکٹر نے اس کے بعد محلہ کے مسلمانوں کو بلایا۔ اس نے مسلمانوں سے پوچھا کہ تم میں سے جو لوگ پانچوں وقت کی نماز پڑھتے ہیں وہ ہاتھ اٹھائیں۔ چند آدمیوں نے ہاتھ اٹھائے اور بقیہ تمام لوگ سر جھکائے خاموش بیٹھے رہے۔
کلکٹر نے مسلمانوں سے کہا کہ جب تمہاری اکثریت نماز نہیں پڑھتی تو تم کو مسجد کی کیا ضرورت ہے۔ اگر ایک خالی جگہ کو کچھ دوسرے لوگ بھگوان کی پوجا کے لئے پسند کرلیں تو تم کو اس پر کیوں اعتراض ہے۔ دوبارہ مسلمانوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔
…انھوں نے دیکھا کہ ان کتابوں میں پیغمبر اسلام کی تصویر کو بگاڑکر پیش کیا گیا ہے۔ اس قسم کی چیزوں کو پڑھ کران کے اندر سخت ردعمل پیدا ہوا۔ اور انھوں نے مذکورہ کتاب لکھ ڈالی۔ چنانچہ اس کتاب کا تقریباً نصف حصہ مستشرقین کے جوابات پرمشتمل ہے۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے سیرت کے موضوع پر کتابیں لکھی ہیں ان سب کا حال کم وبیش یہی ہے۔ میرے علم کے مطابق کوئی ایک بھی مسلمان نہیں جس کا یہ حال ہو کہ اس کو یہ احساس بے تاب کرے کہ لوگ گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ وہ انھیں سچائی کا راستہ دکھانے کے لئے تڑپ اٹھے اور اس تڑپ کے تحت ہادی برحق کی زندگی کے بارے میں ایک کتاب تیارکرے۔
یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی لکھی ہوئی تمام کتابیں دفاع سیرت ہیں نہ کہ حقیقی معنوں میں دعوت سیرت۔ ہزاروں کتابوں کے ہجوم میں کوئی ایک بھی ایسی کتاب نہیں جس میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو سادہ اور فطری انداز میں…
22 مارچ 1989
رحمٰن نیر صاحب (50 سال) نے بتایا کہ وہ نظام الدین اولیاء کی درگاہ پر گئے۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ لوگ قبر پر سر رکھ کر اس کو سجدہ کر رہے ہیں۔ رحمٰن نیر صاحب نے کہا کہ یہ آپ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ اسلام میں غیراللہ کوسجدہ کرنا حرام ہے۔ ایک صاحب نے جواب دیا : ہم سجدہ نہیں کرتے، ہم تو ہونٹوں سے اور آنکھوں سے چومتے ہیں ۔
میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ قبر کو سجدہ کرنے کی اتنی خوبصورت تاویل لوگوں کے پاس موجود ہوگی۔
…تھا کہ گنبد خضرا پر نگاہ ڈالنے سے پہلے ان گناہ گار آنکھوں کوکسی قدرصاف کرلوں۔ اس مقصد کے لئے شاہراہ مدینہ کی خاک سے بہتراور کیا چیز ہوسکتی تھی؟ میں نے اضطراراً چلتی ہوئی سٹرک سے خاک کی ایک چٹکی اٹھائی اور اسے اپنی آنکھوں کا سرمہ بنا لیا۔
مسجد نبوی تک پہنچتے پہنچتے میری آنکھیں سرخ ہوکر سوج گئیں ۔ اور راستہ نظر آنا مشکل ہوگیا۔ قدم قدم پر راہگیروں سے ٹکر لگتی تھی۔ مجھے اندھا سمجھ کر ایک بھلے آدمی نے میری رہنمائی کی اور مجھے باب جبریل تک پہنچادیا۔
باب جبریل پر عاشقان رسول کا ہجوم تھا۔ اندر جانے والوں اور باہر آنے والوں کا غیرمنقطع تانتا بندھا ہوا تھا۔ ایک نورانی صورت بزرگ چٹائی پر بیٹھے لوگوں کے جوتے سنبھالنے میں مصروف تھے۔ میری آنکھوں میں اب تک دندھ سی چھائی ہوئی تھی۔ اور بھیڑ کے…
14 جون 1989
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔انھوں نے کہا کہ اقبال کو رسول اللہ علیہ وسلم سے عشق تھا۔ وہ عاشق رسول تھے۔ میں نے کہا کہ رسول اللہ کے لئے عشق کا لفظ بولنا ایک بدعت ہے کیونکہ شریعت میں اس کے لئے محبت کا لفظ آیا ہے نہ کہ عشق کا۔
دوسری بات یہ ہے کہ رسول سے محبت کا یا عشق کا مطلب وہ نہیں ہے جو ایک عورت اور ایک مرد کو آپس میں ہوتا ہے۔ اس سے مراد والہانہ اتباع ہے نہ کہ عام معنوں میں ذاتی نوعیت کاعشق۔ اقبال اگر رسول اللہ کے عاشق تھے تو انھیں آپ کا اتباع کرنا چاہئے تھا۔…
…ہوئے یہ الفاظ درج ہیں : قالت كتب السيرة والتاريخ أن المدينة المنورة ٩٥ اسماً واشارت الى ان ذالك يدل على عظمة المسمى وفضله (سیرت اور تاریخ کی کتا بیں کہتی ہیں کہ مدینہ منورہ کے ۹۵ نام ہیں۔ اس سے شہر مدینہ کی عظمت اور فضیلت ثابت ہوتی ہے)
ناموں کی کثرت سے یہ استنباط درست نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام95 سے کم ہیں۔ پھر کیا آپ کی ذات مدینہ سے کم افضل ہے۔ اسی طرح مکہ کے نام بھی نسبتا بہت کم ہیں۔ مکہ کے نام تقریبا بتائے گئے ہیں۔ مکہ ، بکہ ، البلدالامین ، البيت العتيق ، البيت الحرام ام القری ۔ پھر کیا مدینہ کے مقابلہ میں مکہ کی فضیلت وعظمت کم ہے۔ موجودہ مسلمانوں میں سائنٹفک طرز فکر نہیں۔ اس لئے وہ اکثر معاملات میں اسی قسم کی غیر منطقی باتیں کرتے ہیں۔
صحابہ و تابعین کبھی اس طرح کی باتیں نہیں کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ خدائے ذوالجلال کی عظمتوں میں گم تھے۔ ان کو ساری بڑائی صرف ایک خدا کی ذات میں نظر آتی تھی۔ اس لئے وہ اشخاص اور ایمان کی عظمتوں کی پیمائش بھی نہیں کرتے تھے۔
…میرا گمان یہ ہے کہ دجال دراصل دور پریس کے لیڈر ہیں ۔ موجودہ زمانہ کے لیڈر متفقہ طور پر تمام برائیوں کی جڑ ہیں۔ اور یہ لیڈر یقینی طور پر ان چیزوں کی بدولت ظہور میں آئے ہیں جن کو موجودہ زمانہ میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کہا جاتا ہے۔
پہلے زمانہ میں شہرت پسند اور جاہ طلب انسانوں کے لئے اپنے شوق کی ایک حد ہوتی تھی۔ آج اشاعت کے جدید ذرائع نے اس کولا محدود حد تک وسیع کر دیا ہے۔ اس لئے اس قسم کے لوگوں کا شوق بھی اتنا ہی طور پر بڑھ گیا ہے۔ یہی حال مسلم لیڈروں کا بھی ہے ، خواہ وہ بے ریش لیڈر ہوں یا باریش لیڈر ۔
موجودہ زمانہ کے تمام لیڈرشہرت کے لیڈر ہیں۔ یعنی وہ مشہور ہوگئے اس لئے وہ لیڈر بن گئے۔ لیڈری کے اس سستے ذریعے نے موجودہ زمانہ کے لیڈر پیدا کئے ہیں، اور یہی وہ لیڈر ہیں جنھوں نے موجودہ زمانہ میں ہمارے تمام مسائل پیدا کئے ہیں۔
ایک صاحب نے کہاکہ موجودہ زمانہ میں بہت سے بڑے بڑے مصلح پیدا ہوئے۔ بہت بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں۔ مگر سب بے فائدہ ثابت ہوئیں۔ میں نے کہاکہ ان تحریکوں اور ان شخصیتوں نے نتیجہ سے آغازکرناچاہا، اور اس دنیا میں نیتجہ سے آغاز ممکن نہیں۔
صحابہ کرام نے مکہ اور مدینہ میں ایک عمل کیا۔ اس کے بعد عالمی انقلاب کی صورت میں اس کا نتیجہ برآمد ہوا موجودہ زمانہ کے مسلم مسلمین کو صرف نتیجہ کی خبر تھی ، انھیں عمل کی خبر نہیں تھی۔ چنانچہ وہ نتیجہ کو جذباتی انداز میں مسلمانوں کے سامنے بیان کرتے رہے۔
مثلا اقبال کا یہ شعر :
…کے پاس پارک میں کچھ ہندؤوں نے ایک مندر بنالیا ہے اور وہاں گھنٹہ بجاناشروع کر دیا ہے ۔ موتی رام صراف نے اس کو پارک سے ہٹانے کے لئے مقدمہ کر دیا ہے ۔ وہ لوگ چوں کہ مارنے کی دھمکی دے رہے ہیں، اس لئے موتی را م ہر وقت پستول اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔
میں نے موتی رام سے کہا کہ آپ اس مقابلہ میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ محلہ والے آپ کا ساتھ نہیں دیں گے، اور جہاں تک اجازت کا سوال ہے ، وہ لوگ کسی نہ کسی طرح ڈی ڈی اے سے اجازت حاصل کرلیں گے۔ موتی رام نے بگڑ کر کہا : آپ نے نہ مانو پر پیوارکو سمجھا اورنہ قرآن کو سمجھا۔
آخر کار وہی ہوا ۔ مندر بنانے والے کامیاب رہے اور موتی رام شکست کھا کر چپ ہو گئے۔ ہندو سماج اور مسلم سماج دونوں کا آج ہی حال ہے۔ دونوں میں بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو خرافات کو پسند نہیں کرتی ، مگرخرافاتی لوگوں کے شر سے ڈر کہ ہر ایک نے خاموشی…
…کے لئے ایک دوسرے پر مکوں اور گھونسوں اور چھاتوں کی نوک سے حملے کرنے شروع کر دئے شیطان کو کنکری مارنے والے انسانیت سوز حرکت پر اتر آئے ۔اس کے نتیجہ میں بہت سے لوگ نیچے گر پڑے اور بھیڑ نے انھیں روند ڈالا ۔ بھگدڑ میں لوگ کچل کر مرگئے (صفحہ9)
اس واقعہ نے دراصل مسلمانوں کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہی انانیت مسلمان ہر جگہ دکھارہے ہیں۔ اس کی آخری حد یہ ہے کہ حج کا اجتماع بھی اب اس سے محفوظ نہیں رہا۔
30 جولائی 1990
…مارکیسے شروع ہوا ۔ اور اس کا ابتدائی سبب کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ہندوؤں کا جلوس مسلمان محلہ سے گزرا وہ نعرہ لگارہا تھا" بابر کی سنتان ، تم سب جاؤ قبرستان " اس پرمسلمان مشتعل ہو گئے اور ہندوؤں پر پتھر پھینکے۔ اس کے بعد فساد شروع ہوگیا۔
میں نے کہا کہ اصل مسئلہ ہندوؤں کا اشتعال انگیز نعرہ نہیں ہے ، اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر احتساب خویش کا مادہ ختم ہو گیا ہے۔ اگر مسلمانوں کے اندر احتساب خویش کی صفت ہوتی تو وہ سوچتے کہ ہندو ان کے خلاف جو بات کہہ رہے ہیں ، وہ بطور واقعہ بالکل درست ہے۔ 1947 کے انقلاب کے بعد اس ملک میں ہزاروںمسجدوں کے ساتھ اس قسم کا قصہ پیش آیا ہے جو جو دھیاکی بابری مسجد کے ساتھ پیش آیا ہے ۔ ہریانہ، راجستھان ، پنجاب میں آج بھی کوئی شخص جاکر اس کو دیکھ سکتا ہے ۔ مگر ان ہزاروں مسجدوں کی بے حرمتی اور انہدام پرمسلمانوں میں کبھی کوئی پرشور دہ تحریک نہیں اٹھی۔ اور اجودھیا کی مسجد کی بے حرمتی پر سارے ہندستان کے مسلمانوں میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا کیوں کہ اس کے ساتھ شہنشاہ بابر کا نام جڑا ہوا تھا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ خدائی مسجد سے مسلمانوں کو وہ لگاؤ نہیں ہے جو ان کو بابری مسجد سے ہے ۔ پھر بابر تو ایک فانی انسان تھا وہ قبر میں چلا گیا۔ اس لئے غیرمسلم اگرمسلمانوں کے بارہ میں مذکورہ تجربہ کے بعد ایسا کہتے ہی کہ با برقبر میں گیا تم بھی…
27 نومبر 1990
امریکہ میں 6 ملین مسلمان رہتے ہیں۔ ان میں ایک قابل لحاظ تعداد ہندستانی اور پاکستانی مسلمانوں کی ہے۔ مسلمان تقریبایہ رائے رکھتے ہیں کہ ہندستان کے فسادات وغیرہ میں میں یکطرفہ طور پر صرف ہند وقصور وار ہیں مسلمان مکمل طور پر مظلوم ہیں ۔ ہندستان سے جو لوگ امریکہ جاتے ہیں وہ اس کی تصدیق کرتے ہوئے مسلمانوں کی مظلومیت پر تقریریں کرتے ہیں اور وہاں سے بڑی بڑی رقمیں لاتے ہیں۔
ایک خصوصی اجتماع میں یہاں ہندستانی مسلمانوں کا ذکر ہوا۔ میں نے کہا میری رائے بالکل بر عکس ہے ۔ میری رائے یہ ہے کہ ہندستان میں مسلمان ظالم ہیں اور ہندو مظلوم۔ یہ سن کر لوگ حیرت کے ساتھ میری طرف دیکھنے لگے۔ میں نے کہا کہ ہند و اگرمسلمانوں کی…
…سے کہا کہ آپ جو کچھ کر رہے ہیں ،اس کے مسلمانوں پر اچھے اثرات نہیں پڑیں گے۔ اس کے جواب میں مولانا حسین احمد مدنی نے فرمایاکہ تم مجھے پہلے انگریزوں کو ٹھکانے لگانے دو، اس کے بعد سارے مسائل طے کر دوں گا (حیات نو ، اکتوبر نومبر ۱۹۹۰ ، صفحه ۶۷)
یہی اس زمانہ میں تمام مسلم لیڈروں کاحال تھا۔ ان کا ایک طبقہ کہتا تھا کہ پہلے انگریزوں کو ملک سے نکال لینے دو ، اس کے بعد تمام دوسرے مسائل حل ہو جائیں گے۔ دوسرا طبقہ یہ کہتا تھا کہ پہلے پاکستان بن جانے دو اس کے بعد تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ ۱۹۴۷ میں انگریز اس ملک سے چلے گئے اور پاکستان بھی مسلم لیڈروں کے مطالبے کے مطابق بن گیا ۔مگر ان "کامیابیوں " پر نصف صدی گزرنے کے باوجود بر صغیر ہند میں مسلمانوں کا کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہیں ہوا بلکہ مسائل میں کئی گنا اضافہ ہوگیا۔
2 دسمبر 1990
…تھا۔ اس زمانہ میں اس قسم کے خادمان دین کے لئے اسلامی حکومت سے باقاعدہ وظیفے جاری کئے جاتے تھے۔ اس کے بعد ز میندار ، جاگیردار اور نواب پیدا ہوئے جو گویا زراعتی دور کے سرمایہ دار تھے۔ یہ لوگ مستقل طور پر دینی خادموں کا مالی تعاون کرتے رہے۔
جدید صنعتی دور میں مسلمان اقتصادی اعتبار سے بالکل پسماندہ ہو چکے تھے۔ اللہ تعالی نے یہ کیاکہ عرب سرزمین کے نیچے تیل کا زبردست ذخیرہ پیدا کر دیا جو ان کے لئے صنعتی پس ماندگی کی تلافی بن گیا۔ یہی تیل کی دولت ہے جو دنیا بھر کے تمام دینی اداروں اور دینی شخصیتوںکو مالی امداد فراہم کر رہی ہے۔ لاکھوں لوگ اس سے غیر معمولی فائدے حاصل کر رہے ہیں۔ مگر میرے علم کے مطابق کوئی بھی ایسا شخص نہیں جس کے سینہ میں اس نعمت خداوندی کی بنا پرشکر کا سمندر موجزن ہو گیا ہو۔
25 دسمبر 1990
In the lectures
Lecture mentions are drawn from transcripts and open the video at that moment — topical links, not verified citations. Showing the first 60 of 114 distinct lectures.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
الجامعۃ الاسلامیۃ
(مدینہ منورہ)
29 فروری 1984 کی صبح کو میں دہلی کی مسجد کی اذان پر فجر کی نماز کے لیے اٹھا تھا۔ اگلے دن یکم مارچ کی صبح کو میں مدینہ منورہ کے مؤذن کی اذان پر فجر کی نماز کے لیے اٹھا اور مسجد نبوی کے امام کے پیچھے ’’بین اقوامی جماعت‘‘ میں شریک ہو کر فجر…
میڈٹیشن(Meditation)
میڈٹیشن ایک مستقل ڈسپلن ہے۔ میڈٹیشن کا مقصد اسپریچول ڈیولپمنٹ ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ انٹلکچول ڈیولپمنٹ کا تعلق، فارمل ایجوکیشن سے ہے، اور اس کے مقابلے میں میڈٹیشن کا تعلق، انفارمل ایجوکیشن سے۔ میڈٹیشن یا اسپریچول ڈسپلن کے کئی طریقے ہیں…
8 اکتوبر 1990
تاریخ کی کتا بیں بتاتی ہیں کہ مدینہ کے95 نام ہیں۔ مثلا ۔ یثرب ، طیبہ ، دا رالابرار ،سيدة البلاد، دارالسلام، المحرمه ، المحروسہ ، وغیرہ ۔ ایک عربی مجلہ میں اس کا ذکر کرتے ہوئے یہ الفاظ درج ہیں : قالت كتب السيرة والتاريخ أن المدينة المنورة ٩٥ اسماً واشارت الى ان ذالك يدل على عظمة المسمى وفضله (سیرت اور تاریخ کی کتا بیں کہتی ہیں کہ مدینہ منورہ کے ۹۵ نام ہیں۔ اس سے شہر مدینہ کی عظمت اور فضیلت ثابت ہوتی ہے)
ناموں کی کثرت سے یہ استنباط درست نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام95 سے کم ہیں۔ پھر کیا آپ کی ذات مدینہ سے کم افضل ہے۔ اسی طرح مکہ کے نام بھی نسبتا بہت کم ہیں۔ مکہ کے نام تقریبا بتائے گئے ہیں۔ مکہ ، بکہ ، البلدالامین ، البيت العتيق…
آداب مدینہ
قدیم عرب میں تین بڑے شہر تھے ۔ مکہ ، طائف اور یثرب۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ سے ہجرت کی اور مدینہ کو اپنی قیام گاہ بنایا، اس وقت سے یثرب شہر کا نام مدینۃ النبی (پیغمبر کا شہر)پڑ گیا۔ بعد کو وہ مختصر ہو کر مدینہ کہا جانے…
…کو بڑا جہاد بتایا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام نے ایک بار اپنے دشمنوں کے خلاف اقدام کیا۔ آپ اس سے واپس ہو کر مدینہ پہنچے تو آپ نے فرمایا: رجعنا من الجہاد الأصغر إلی الجہاد الأکبر۔ یعنی ہم چھوٹی جدوجہد سے واپس ہو کر بڑی جدوجہد کی طرف آئے ہیں۔
اس حدیث کے مطابق، بڑا جہاد اس عمل کا نام ہے جواس وقت مدینہ میں انجام دیا جاتا تھا۔ یہ عمل کیا تھا۔ وہ تھا پیغمبر اسلام سے نصیحت لینا، قرآن کا مطالعہ کرنا، ذکر و عبادت میں مشغول رہنا، اجتماعی زندگی کی غلطیوں کو یک طرفہ برداشت کرنا۔
جہاد فی سبیل اللہ (اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا) کیا ہے۔ یہ قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ ارشاد ہوا ہے: وجاہدہم بہ جہاداً کبیراً۔ یعنی ان کے اوپر قرآن کے ذریعہ بڑا جہاد کرو۔ یعنی قرآن کو لوگوں تک پہنچانے میں ان کی مدد کرو۔ ظاہر ہے…
…کے پیغام کو مان کر اُن کے ساتھی بن چکے تھے، مگر یہ تعداد قریش کے مقابلے میں آپ کی حمایت کے لیے ناکافی تھی۔ چنانچہ آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ آپ مکہ چھوڑ کر عرب کے دوسرے شہر مدینہ چلے جائیں، جو مکہ سے تقریباً تین سو میل کے فاصلے پر واقع تھا۔
مدینہ میں اسلام کا داخلہ
پیغمبر اسلام ابھی مکّہ میں تھے کہ آپ نے اپنے دو ساتھیوں کو مکّہ سے مدینہ کے لیے روانہ کیا۔ یہ لوگ وہاں اس لیے گئے تھے تاکہ آپ کا پیغام مدینہ والوں کو پہنچائیں۔ مدینہ والوں کی زبان عربی تھی، جس طرح مکہ والوں کی زبان عربی ۔ چنانچہ اِن…
…کے پیغام کو مان کر اُن کے ساتھی بن چکے تھے، مگر یہ تعداد قریش کے مقابلے میں آپ کی حمایت کے لیے ناکافی تھی۔ چنانچہ آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ آپ مکہ چھوڑ کر عرب کے دوسرے شہر مدینہ چلے جائیں، جو مکہ سے تقریباً تین سو میل کے فاصلے پر واقع تھا۔
مدینہ میں اسلام کا داخلہ
پیغمبر اسلام ابھی مکّہ میں تھے کہ آپ نے اپنے دو ساتھیوں کو مکّہ سے مدینہ کے لیے روانہ کیا۔ یہ لوگ وہاں اس لیے گئے تھے تاکہ آپ کا پیغام مدینہ والوں کو پہنچائیں۔ مدینہ والوں کی زبان عربی تھی، جس طرح مکہ والوں کی زبان عربی ۔ چنانچہ اِن…
…ترسیل قرآن (نیویارک، امریکا) کی طرف سے بڑے پیمانے پر غیرمسلموں کو صدر اسلامی مرکز کا انگریزی ترجمہ قرآن دیاگیا۔ اِس موقع پر برطانیہ کے حسب ذیل تین اداروں میں پرافٹ آف پیس، تذکیر القرآن (انگریزی) اور قرآن کا انگریزی ترجمہ رکھوایاگیا:
آکسفورڈ سنٹر آف اسلامک اسٹڈیز (Oxford Centre of Islamic Studies) ۔
مارک فیلڈ سنٹر، لیسٹر (Markfield Centre, Leicester) ۔
مدینہ میں داخلہ
قباء مدینہ سے 3 میل کے فاصلہ پر ہے۔ یہاں آپ ابتداء ایک کھجور کے باغ میں اترے۔ قباء کے مسلمان اور یہودی باشندے آ کر آپ کے پاس جمع ہونے لگے۔ مگر انہیں معلوم نہ تھا کہ حضرت محمد کون ہیں۔ ابوبکر چونکہ حضرت محمد سے تین سال بڑے تھے، انہیں…
مدینہ میں اسلام کا آغاز
اسلام سے پہلے مکہ میں اور اس کے آس پاس میلے لگتے تھے۔ ذی قعدہ کے آغاز میں عکاظ کا مشہور میلہ لگتا تھا۔لوگ یہاں سے فارغ ہوکر مجنّہ کے میلے میں جاتے تھے جو تین ہفتے تک چلتا تھا۔ اس کے بعد ذوالمجاز کامیلہ تھا جو حج کے دنوں میں ہوتا تھا۔ ان…