Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اپنا تاج دوسرے کے سر پر رکھنا p. 282
مدینہ میں عبد اللہ بن ابی بہت عاقل اور صاحب شخصیت آدمی تھا، وہ مدینہ کا سب سے زیادہ ممتاز سردار سمجھا جاتاتھا۔ چنانچہ مدینہ کے باشندوں کو اپنا اختلاف و انتشار ختم کرنے کا احساس ہو ا تو انہوں نے عبد اللہ بن ابی کو منتخب کیا کہ اس کو اپنا بادشاہ بنائیں اور اس کی علامت کے طورپر اس کو ایک تاج پہنا ئیں (فَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ فَكَانَ قَوْمُهُ قَدْ نَظَمُوا لَهُ الْخَرَزَ لِيُتَوِّجُوهُ ثُمَّ يُمَلِّكُوهُ عَلَيْهِمْ ) سیرۃ ابن ہشام، جلد 2،صفحہ 166۔ p. 282original + quote
عبد اللہ بن ابی کی تاج پوشی کا انتظام مکمل ہو چکا تھا کہ عین اس وقت اسلام مدینہ میںپہنچ گیا۔ مدینہ کے باشندوں کی فطرت نے اس کی صداقت کی گواہی دی اور اسلام گھر گھر میں پھیلنے لگا۔ اس کے بعد مدینہ کے باشندوں کا ایک نمائندہ وفد مکہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی او ر آپ کی زبان سے آپ کا پیغام سنا۔ انہیں نظر آیا کہ مدینہ کی اجتماعی تنظیم کے لیے انہیں جو شخصیت درکار ہے وہ زیادہ بہتر طور پر محمد بن عبد اللہ کی صورت میں موجود ہے۔ انہوں نے مدینہ کے لوگوں کی طرف سے آپ کو پیش کش کی کہ آپ مدینہ آئیں اور وہاں ہمارے سردار بن کر رہیں۔ اسلامی تاریخ کا یہی وہ واقعہ ہے جو بیعت عقبہ ثانیہ کے نام سے مشہور ہے۔ p. 282
یہ واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہ تھا۔ یہ اپنا تاج دوسرے آدمی کے سر پر رکھ دینے کے ہم معنی تھا۔ قدیم قبائلی دور میں ایسا کوئی واقعہ بے حد نا در واقعہ تھا۔ اپنی قوم یا قبیلہ سے باہر کسی آدمی کو اپنا غیر مشروط سردار بنا لینا ہمیشہ انسان کے لیے مشکل ترین کام رہا ہے اور قدیم زمانہ میں تو یہ اور بھی زیادہ مشکل تھا۔ مزید یہ کہ جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت ’’محمد‘‘ اس پر عظمت ہستی کا نا م نہ تھا جس سے ہم آج واقف ہیں۔ اس وقت محمد ایک ایسے انسان تھے جن کو ان کے اہل وطن نے نکال دیا تھا۔ جن کے ساتھ قومی عصبیت او ر تاریخی عظمت شامل نہ ہوئی تھی۔ جو نہ صرف متنا زعہ شخصیت تھے بلکہ ایک لٹے ہوئے بے گھر انسان تھے۔ جن کو اپنا سب کچھ دے دینا تھا اور ان سے پانا کچھ بھی نہ تھا — بیسویں صدی میںکسی بر نا رڈشا کے لیے بہت آسان ہے کہ وہ پیغمبر اسلام کے لیے یورپ کی سرداری کی پیش کش کرے۔ مگر چھٹی صدی عیسوی میں کسی کے لیے اس کا تصور بھی ناممکن تھا کہ وہ آپ کو پیغمبر مان کر آپ کو اپنا اجتماعی امام بنالے۔ p. 283