Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
تعمیر و استحکام p. 115
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی ’’سپریم سکسیس‘‘ کا ایک اہم راز یہ تھا کہ آپ’اقدام‘ سے زیادہ ’استحکام‘ کو اہمیت دیتے تھے۔ داخلی تعمیر اور اندرونی استحکام کی آپ کے نزدیک اتنی زیادہ اہمیت تھی کہ اس کے لیے آپ ہر دوسری چیز کو نظر انداز کر سکتے تھے۔ تعمیر و استحکام کے مقصد کو آپ ہر حال میں حاصل کرنا چاہتے تھے، خواہ اس کی جو بھی قیمت آپ کو دینی پڑے۔ p. 115
اس کی ایک مثال بدر کے قیدیوں کا معاملہ ہے۔ قدیم عرب میں صرف مکہ ایک ایسا شہر تھا جہاں ایسے لوگ تھے جو پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ مدینہ اور دوسری بستیوں میں عام طور پر لوگ لکھنے پڑھنے سے ناواقف تھے۔ بدر کی جنگ کے بعد اہل مکہ کے ستر آدمی گرفتار ہو کر مدینہ آئے۔ ان میں اکثر لوگ ایسے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ عام رواج کے خلاف آپ نے ان کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ ان کی رہائی کا یہ آسان فدیہ مقرر فرمایا کہ ان کا ایک شخص مدینہ کے مسلم نوجوانوں میں سے کم ازکم دس آدمیوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِدَاءَهُمْ أَنْ يُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 2216) p. 116original + quote
یہ اسلام کی تاریخ میں پہلاا سکول تھا جو مدینہ میں قائم کیا گیا۔ اس اسکول کے تمام استاد مشرک بلکہ اسلام دشمن تھے۔ پیغمبر اسلام کی بلند نظری کی یہ کیسی عجیب مثال ہے۔ یہ تعلیم کی اہمیت کا ایک انتہائی انقلابی نمونہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں قائم فرمایا۔ اس نوعیت کی کوئی دوسری مثال غالباً پوری انسانی تاریخ میں موجود نہیں۔ p. 116
تعلیمی انتظام کا یہ معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہ تھا۔ اس میں بہت بڑا خطرہ(risk) شامل تھا۔ کیوں کہ یہ ’’اساتذہ‘‘ سب کے سب وہ لوگ تھے جن کی اسلام دشمنی مسلّم ہو چکی تھی۔ اس بات کا یقینی خطرہ تھا کہ یہ لوگ رِہا ہونے کے بعد جنگی تیاری کریں گے۔ اور دوبارہ مدینہ پر حملہ آور ہوں گے۔ چنانچہ عملاً بھی ایسا ہی ہوا۔ یہ لوگ مدینہ سے رِہا ہو کر مکہ پہنچے تو انہوں نے اپنے بدر کے مقتولین کے نام پر جذباتی تقریریں کیں۔ انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں کو بدلہ لینے پر ابھارا۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ بدر کی لڑائی کے صرف ایک سال بعد احد کی لڑائی پیش آئی۔ اس یقینی خطرےکے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے قیدیوں کو مسلمان بچوں کی تعلیم کے لیے استعمال فرمایا۔ p. 116
اس طرح آپ نے یہ مثال قائم فرمائی کہ علم کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کو ہر حال میں حاصل کرنا چاہیے، خواہ اس کے حصول کے لیے کتنا ہی بڑا خطرہ مول لینا پڑے۔ علم وہ طاقت ہے جو بالآخر آدمی کو ہر چیز دے دیتا ہے، حتیٰ کہ وہ چیز بھی اس کو مزید اضافے کے ساتھ مل جاتی ہے جس کو ابتداءً علم کو حاصل کرنے کی راہ میں اسے کھونا پڑا تھا۔ p. 116
اس سلسلے کی دوسری مثال وہ ہے جو صلح حدیبیہ کی صورت میں پائی جاتی ہے۔ اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ کے لیے عمرہ کے ارادہ سے روانہ ہوئے۔ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو قریش نے آپ کو روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو اس کی اجازت نہیں دے سکتے کہ آپ عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزید اصرار کے بغیر وہیں رک گئے۔ p. 116
اس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان معاہدے کی بات شروع ہوئی۔ اس گفتگو میں اہل مکہ نے بے حد سرکشی دکھائی۔ انہوں نے معاہدہ کے لیے ایسی شرطیں پیش کیں جو یک طرفہ طور پر ان کے حق میں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ان نازیبا شرطوں کو مان لیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اہل مکہ کی یک طرفہ شرطوں کو مان لینے کے بعد آپ کو ایک وقفہ تعمیر حاصل ہو رہا تھا۔ اہل مکہ معاہدہ کے تحت اس کے پابند ہوگئے تھے کہ وہ آئندہ دس سال تک مسلمانوں کے خلاف جنگ نہ چھیڑیں گے۔ اس طرح یہ معاہدہ آپ کو موقع دے رہا تھا کہ آپ جنگ اور ٹکراؤ کے مسائل سے فارغ ہو کر یکسوئی کے ساتھ داخلی استحکام کا کام کر سکیں۔ p. 117
اس وقفہ امن سے فائدہ اٹھا کر آپ نے اپنی دعوتی سرگرمیاں بڑھا دیں۔ اسلام تیزی سے قبائل کے درمیان پھیلنے لگا۔ اسلام کی عددی طاقت میں نمایاں طور پر اضافہ ہوگیا۔ یہاں تک کہ یہ حال ہوا کہ حدیبیہ کے سفر میں آپ کے ساتھ صرف چودہ سو اصحاب شریک تھے۔ اس کے بعد دو سال کے اندر جب آپ نے دوبارہ مکہ کی طرف مارچ کیا تو آپ کے ساتھیوں کی تعداد دس ہزار ہو چکی تھی۔ یہ تعداد اتنی زیادہ تھی کہ مکہ کے لوگ محض اس کی خبر سے دہشت زدہ ہوگئے اور کسی مقابلے کے بغیر مکہ کو آپ کے حوالے کر دیا جو اس وقت گویا عرب کی راجدھانی تھا۔ p. 117
تعمیر و استحکام کے معاملے کو اتنی زیادہ اہمیت دینے کی حکمت یہ ہے کہ قوموں اور ملتوں کی زندگی میں یہی وہ چیز ہے جو سب سے زیادہ فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ کسی فرد یا قوم کو خارجی مقام عین اسی تناسب کے بقدر ملتا ہے جو اس نے داخلی تعمیر کے اعتبار سے اپنے لیے بنایا ہے، نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ۔ p. 117
اس دنیا میں کسی قوم کو جو مقام ملتا ہے وہ اس اعتبار سے ملتا ہے کہ وہ داخلی تعمیر اور اندرونی استحکام کے اعتبار سے کس درجہ پر ہے، نہ یہ کہ لفظی ہنگامہ آرائیوں کے اعتبار سے اس نے کتنا طوفان برپا کیا ہے۔ تعمیر و استحکام کے حصول کا معیار قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اتنا زیادہ ہو کہ استعمال کے بغیر صرف اس کی موجودگی فریق ثانی کو مرعوب اور خوفزدہ کر دینے کے لیے کافی ہو جائے تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُم۔ (8:60) p. 118original + quote
حدیث میں بھی یہ بات مختلف لفظوں میں آئی ہے۔ مثلاً ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مہینہ کی مسافت تک پہنچنے والے رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ۔ (صحيح البخاري،حدیث نمبر427) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھ کو ایسی تدبیر کار کی تعلیم دی گئی ہے کہ جب میں اس کے مطابق اپنے آپ کو تیار کروں تو میری ہیبت دور دور کے مقام تک پہنچ جائے۔ p. 118original + quote