Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
غزوۂ مُریسیع یا بنی المصطلق p. 122
شعبان5ھ p. 122
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں یہ خبر پہنچی کہ حارث بن ابی ضرار سردار بنی المصطلق نے ایک بڑی فوج جمع کی ہے اور مسلمانوں پر حملہ کرنے کی تیاری میں ہے۔ آپ نے بریدہ بن حصیب اسلمی کو تحقیق حال کے لیے روانہ کیا۔ بریدہ نے آ کر بیان کیا کہ خبر صحیح ہے۔ آپ نے صحابہ کو تیاری کا حکم دیا۔ p. 122
صحابہ فوراً تیار ہوگئے۔ تیس گھوڑے ساتھ لیے جس میں سے دس مہاجرین کے اور بیس انصار کے تھے۔ مدینہ میں زید بن حارثہ کو اپنا قائم مقام مقرر کیا اور ام المؤمنین عائشہ صدیقہ نیز ام سلمہ کو ساتھ لیا۔ اور جا کر ان سے مقابلہ آرا ہوئے۔ مسلمانوں کو اس میں فتح حاصل ہوئی۔ p. 122
اس موقع پر یہ واقعہ پیش آیا کہ دوران سفر پانی کے ایک چشمے پر مہاجر وانصار کے درمیان جھگڑا چھڑ گیا۔ چنانچہ مہاجر نے یاللمہاجرین اور انصار نے یاللانصار کہہ کر اپنے اپنے لوگوں کو پکارا۔ رسول اللہ نے جب یہ آوازیں سنیں تو فرمایا، یہ جاہلیت کی نسبی آوازیں کیسی۔ لوگوں نے صورتحال سے آپ کو باخبر کیا۔ آپ نے ارشاد فرمایادَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ (مصنف عبد الرزاق، حدیث نمبر 18041)۔ یعنی، ان باتوں سے باز آ جائو کیوں کہ یہ گندی اور بدبودار ہیں۔ p. 123original + quote