Al-Risala January 2016

سازش کیا ہے

Al-Risala January 2016 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (39 chapters)
  1. الرسالہ - January 2016
  2. رول دریافت کیجیے
  3. قرآن فہمی
  4. دینِ مبین
  5. امت کا مشن
  6. انسان کا المیہ
  7. امانت کیا ہے
  8. تالیفِ قلب
  9. شباب کا زمانہ
  10. بڑا اجر
  11. شیطان اور فرشتہ کے درمیان
  12. زندہ قوم، زوال یافتہ قوم
  13. والدین کی ذمہ داری
  14. رب العالمین کا عطیہ
  15. اتھاریٹی صرف ایک
  16. ذہنی سانچہ
  17. دنیا اور آخرت
  18. تاریخ کا سفر
  19. توسط اور اعتدال
  20. امت مسلمہ کی اصلاح
  21. تعلق باللہ
  22. تحریک اور دعاء
  23. خواص کی ذمہ داری
  24. با اصول زندگی کی قیمت
  25. گفتگو کا علمی انداز
  26. سپورٹنگ رول
  27. چمنستانِ معرفت
  28. اچانک زلزلہ
  29. پست ہمتی نہیں
  30. فکر کی تشکیل
  31. کوئی دشمن نہیں
  32. دردِ جنت
  33. اچانک پیشی
  34. سازش کیا ہے
  35. ذہین انسان کا مسئلہ
  36. اعترافِ حقیقت
  37. اعراض کی حکمت
  38. سوال و جواب
  39. خبرنامہ اسلامی مرکز — 240

سازش کیا ہے

سازش (conspiracy)منفی کارروائی کی ایک قسم ہے۔ اس کا مطلب ہے کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے اس کے خلاف خاموش تدبیر کرنا:

Secret planning for some harmful purpose.

یہ طریقہ پوری تاریخ میں جاری رہاہے۔ کسی مشن کے مخالفین ہمیشہ دو طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ ایک ہےکھلے طور پر اس کے خلاف عداوتی کارروائی کرنا۔ اور دوسرا ہے خاموش تدبیر کے ذریعے اس کو زیر کرنے کی کوشش کرنا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دونوں قسم کی مخالفت کی مثالیں ملتی ہیں۔ قدیم مکہ کے قریش نے آپ کے خلاف کھلی دشمنی کی۔قدیم مدینہ کے یہود بھی آپ کے مخالف تھے لیکن انھوں نے اپنی مخالفانہ کارروائیاں خاموش تدبیر کے انداز میں کیں۔

سازش دراصل بزدلانہ مخالفت کا دوسرا نام ہے۔ سازش ہمیشہ وہ لوگ کرتے ہیں جو منافقانہ کردار کے حامل ہوں۔ یعنی اوپر سے بظاہر اچھے بنے رہنا، مگر اندر سے عناد (malice)رکھنا، اور عناد کے جذبے کے تحت خاموش انداز میں منفی تدبیریں کرنا۔ منفی تدبیر کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی بظاہر اچھا بنا رہے، لیکن اندر سے وہ منصوبہ بند انداز میں معاندانہ کارروائی کرے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ سازش کا طریقہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا(35:10)۔ یہ بات دنیا کے اعتبار سے ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ سازش کرنے والاخود تو اپنے عناد کی بنا پر، اپنی سازشی تدبیر کی کمزوری سے بے خبر رہتا ہے، لیکن دوسرے لوگ جو کہ عناد کی نفسیات سے خالی ہوں، وہ اس کی بات کو عقل (reason) کی سطح پر جانچتے ہیں۔ جب وہ پاتے ہیں کہ اس کی باتوں میں کوئی معقولیت نہیں ہے تو وہ اس کو قبول کرنے سے انکار کردیتے ہیں۔ معاند کو اپنے عناد کی بنا پر جو خامی نظر نہیں آتی، وہ غیرمعاند کو اپنی بے آمیز نفسیات کی بنا پر بآسانی دکھائی دیتی ہے۔ اس بنا پر سازشی انسان کی سازش دوسروں کی نسبت سے عملاً غیر موثر ہوکررہ جاتی ہے۔original + quote