Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
حقیقتِ اسلام p. 136
جہاد کے لفظی معنی جدوجہد کے ہیں۔ اسلام میں بامقصد کوشش ہے، اسلام میں لڑ کر مر جانا نہیں۔ اسلام آدمی کو ایک تعمیری مشن دیتا ہے۔ اور مشن کا تقاضا ہے کہ آدمی اس کو برروئے کار لانے کے لیے اپنی خداداد صلاحیتوں کا نتیجہ خیز استعمال کرے نہ کہ بے فائدہ طور پر لڑ کر اپنا خاتمہ کر لے۔ مکہ میں پیغمبر اسلامؐ اپنے دشمنوں سے لڑ کر شہید نہیں ہو گئے بلکہ آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے تاکہ اپنے ربانی مشن کو جاری رکھنے کا موقع پا سکیں۔ p. 136
قرآن میں کہیں بھی مطلق طور پر یہ بات نہیں کہی گئی ہے کہ اللہ کے لیے لڑ کر مر جاؤ۔ اس کے برعکس یہ فرمایا کہ اللہ کے لیے صبر کرو (ولربک فاصبر) قرآن میں پیغمبر اسلامؐ کو رحمۃ للعالمین کہا گیا ہے، قرآن میں کہیں بھی آپ کو سیف اللّٰہ علی العالمین (دنیا والوں کے اوپر اللہ کی تلوار) نہیں فرمایا گیا۔ قرآن میں الصلح خیر کی آیت نازل ہوئی ہے مگر قرآن میں الحرب خیر کے مضمون کی کوئی آیت موجود نہیں۔ قرآن میں ہے کہ إِنَّما يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسابٍ (صبر کرنے والے بے حساب اجر پائیں گے)39:10۔ مگر قرآن میں کہیں یہ نہیں فرمایا کہ (إِنَّمَا يُوَفَّى الْمُقَاتِلُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ (جنگ کرنے والے بے حساب اجر پائیں گے)۔ p. 136original + quote
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ (دشمن سے جنگی مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو، تم اللہ سے عافیت مانگو) صحيح البخاري،حدیث نمبر 2966۔ حدیث کے ذخیرہ میں آپ کا کوئی قول اس مضمون کا نہیں کہ عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تُحِبُّوا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ (تم کو چاہیے کہ دشمن سے مڈبھیڑ چاہو اور اللہ سے جنگ کی دعا کرو)۔ مکہ کی مہم میں ایک مسلمان نے کہا کہ الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَلْحَمَةِ(آج گھمسان کا دن ہے)۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَرحَمَةِ (آج رحمت کا دن ہے) تاریخ دمشق لابن عساکر، جلد23، صفحہ454۔ p. 136quoted source
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی کلچر رحمت کلچر ہے ، وہ گن کلچر نہیں۔ اسلام انسانوں کے درمیان ہر حال میں معتدل اور پُرامن تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے، خواہ اس کے لیے فریق ثانی کی یک طرفہ شرطوں پر صلح کر لینا پڑے، جیسا کہ حدیبیہ کے موقع پر کیا گیا۔ اہل ایمان کا کام نہ سر کاٹنا ہے اور نہ سر کٹوانا۔ اہل ایمان کا کام یہ ہے کہ وہ دنیا میں خدا کے متواضع بندے بن کر رہیں۔ وہ برے سلوک کے جواب میں اچھا سلوک کریں۔ وہ اعلیٰ اخلاق کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں معرفتِ حق کے چشمے جاری کریں۔ وہ خود بھی ربانی انسان بنیں اور دوسروں کو بھی ربانی انسان بنانے میں اپنی ساری طاقت لگا دیں۔ p. 137
پیغمبرؐ کا طریقہ p. 137
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جو غزوات ہوئے ان میں سے ایک غزوۂ بنی المُصطلِق ہے۔ یہ غزوہ 5 ھ میں پیش آیا۔ اس سے واپسی میں آپ مُریسیع کے چشمہ پر ٹھہرے۔ یہاں پانی کے سوال پر دو آدمیوں میں جھگڑا ہو گیا۔ ایک کا تعلق مہاجرین سے تھا اور دوسرے کا تعلق انصار سے ۔ انصاری نے انصار کے گروہ کو پکارتے ہوئے کہا: ی يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ۔ مہاجر نے مہاجرین کے گروہ کو پکارتے ہوئے کہا: يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ ۔ p. 137original + quote
یہ دو آدمیوں کے ذاتی جھگڑے کو دو گروہ کا قومی جھگڑا بنانا تھا۔ اسی کو عصبیت جاہلیت کہا جاتا ہے۔ اور اسلام میں عصبیت جاہلیت کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ p. 137
مدینہ کا عبداللہ بن ابی جو پہلے سے مہاجرین کے خلاف بغض اپنے دل میں لیے ہوئے تھا، اس نے فوراً اس موقع کو استعمال کیا۔ اس نے کہا کہ اچھا، ان مہاجرین کے حوصلے اتنے بڑھ گئے ہیں۔ وہ مکہ سے ہمارے شہر میں آئے اور اب وہ ہمارے ہی اوپر غالب ہونا چاہتے ہیں۔ یہ تو وہی مثل ہے کہ اپنے کتّے کو موٹا کر کہ وہ تجھ کو ہی کھا جائے۔ خدا کی قسم، ہم جب سفر سے واپس لوٹ کر مدینہ پہنچیں گے تو ہم میں سے جو طاقتور ہے وہ کمزور کو وہاں سے نکال باہر کرے گا۔ p. 137
عبداللہ بن ابی اس طرح وطنی اور قبائلی عصبیت جگا کر مدینہ والوں کو مکہ والوں کے خلاف بھڑکانے لگا۔ حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ ہم میں سے کسی کو حکم دیجئے کہ وہ جا کر عبداللہ بن ابی کو قتل کر دے۔ اس کے بعد اُسید بن حُضیر آپ سے ملے اور کہا کہ اے خدا کے رسولؐ، آپ عبداللہ بن ابی کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیجئے۔ وہ مدینہ کا سردار تھا، آپ کے آنے کے بعد اس کی حیثیت ختم ہو گئی۔ وہ سمجھتا ہے کہ آپ نے اس کی حکومت اس سے چھین لی ہے۔ p. 138original + quote
اس معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو مشورہ آیا ۔ ایک تشدد کا اور ووسرا نرمی اور درگزر کا۔ آپ نے پہلے طریقہ کو چھوڑ دیا اور دوسرے طریقہ کو اختیار فرمایا۔ چنانچہ آپ نے عبداللہ بن ابی کے خلاف کارروائی کیے بغیر فوری طور پر مریسیع سے کوچ کا حکم دے دیا اور اس وقت تک نہیں رکے جب تک مدینہ پہنچ نہیں گئے (سیرت ابن ہشام، جلد 3، صفحہ 35-334 ) p. 138original + quote