Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
موعود نہ کہ مقصود p. 154
قرآن کی سورۃ نمبر24 میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک سنت کا ذکر اس طرح کیا ہے— تم میں سے جو لوگ ایمان لائیں اور اچھے عمل کریں، ان سے اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلیفہ(بااقتدار) بنائے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو اس نے اقتدار دیا تھا۔ اور اللہ ان کے لیے ان کے دین کو جما دے گا جس کو ان کے لیے اس نے پسند کیا ہے۔ اور اللہ ان کی خوف کی حالت کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا۔ وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد انکار کرے تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں۔ ( 24:55) p. 154original + quote
اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اقتدار یا غلبہ ایک امرِ موعود ہے ، نہ کہ امرِ مقصود۔ یعنی وہ اہلِ اسلام کے عمل کا نشانہ نہیں ہے۔ اہلِ اسلام کے لیے ان کے عمل کا نشانہ تو ایمان اور عمل صالح ہے۔ ان کی اپنی توجہ شروع سے آخر تک اسی پر مرتکز رہنا چاہیے۔ البتہ جب اہل اسلام یہ شرط پوری کر دیں۔ وہ ایمان والی نفسیات اور عمل صالح والی زندگی کے ساتھ دنیا میں رہنے لگیں تو اللہ اگر چاہتا ہے تو ان کو ایک ملک یا زیادہ ملک میں حکومت و سلطنت بھی دیدیتا ہے۔ اہل اسلام کی ذمہ داری ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرنا ہے۔ اس کے حقیقی اور ابدی انعام کے طور پر اللہ تعالیٰ انہیں جنتوں کے اندر داخل فرمائے گا، تاہم اس کے ابتدائی انعام کے طور پر وہ انہیں دنیا میں بھی غلبہ عطا کر دیتا ہے، اگر وہ چاہے۔ p. 155original + quote
اس آیت میں جس اسلامی عمل اور جس خدائی انعام کا ذکر کیا گیا ہے، ان کا نمونہ دور اول میں انتہائی کامل اور تاریخی صورت میں قائم کر دیا گیا ہے۔ اب جو شخص اس آیت کو یا اس آیت میں بیان کردہ قانونِ الٰہی کو سمجھنا چاہیے، اس کو اسلام کے دور اول کی تاریخ پڑھنا چاہیے۔ رسول اور اصحاب رسول کی زندگیوں کا مطالعہ کرکے وہ بخوبی طور پر جان سکتا ہے کہ ایمان اور عمل صالح کیا ہے، اور مومنین صالحین کو خلیفہ(بااقتدار) بنانا کیا۔ p. 155
ایمان اور عمل صالح کا وہ کون سا کردار تھا جس کا ثبوت دور اول کے اہل اسلام نے دیا اور جس کے بعد ان کے لیے خلافت(اقتدار) کے دروازے کھلے۔ اس کو سمجھنے کے لیے اسلام کے اس دور کا مطالعہ کرنا چاہیے جس کو مکی دور کہا جاتا ہے۔ مدنی دور کو اگر’’خلافت‘‘ کا دور کہا جائے تو مکی دور گویا’’ایمان اور عمل صالح‘‘ کا دور تھا۔ یہی دور اول تھا جس نے ان کے لیے دور ثانی کا استحقاق پیدا کیا۔ p. 155
مکی دور کیا تھا۔ مکی دور شعوری انقلاب کا دور تھا۔ اس وقت جو لوگ ایمان لائے، ان کے لیے ایمان ایک عظیم الشان قربانی تھی۔ انہوں نے اپنے میں سے اور اپنے جیسے ایک شخص کو اس کے اندرونی جوہر کی بنا پر پہچان کر یہ اقرار کیا کہ وہ خدا کا پیغمبر ہے۔ کسی غرض اور مفاد کے بغیر، خالص اصول کی خاطر، وہ اپنی قوم سے کٹ گئے۔ انہوں نے مکمل طور پر اپنے آپ کو بامقصد انسان ثابت کیا۔ p. 156
انہوں نے ایک خدا کی پرستش کی۔ انہوں نے ایک اَن دیکھے خدا کو اپنا سب بنا لیا۔ انہوں نے اپنے آپ کو قومی اکابر کی عظمت کے خول سے نکالا اور خدائے واحد کی عظمت میں اپنے آپ کو گم کر دیا۔ انہوں نے اپنی ساری توجہ اور سارے جھکاؤ کو صرف خدا کے لیے خاص کر دیا۔ وہ خدا کے لیے جئے اور خدا ہی کی راہ میں اپنی جان دی۔ p. 156
انہوں نے اپنے ماحول میں اعلیٰ اخلاق کا ثبوت دیا۔ وہ لوگوں کے خیر خواہ بنے، چاہے وہ ان کے ساتھ بدخواہی کریں۔ انہوں نے لوگوں کی امانتیں پوری پوری ادا کیں، خواہ لوگ ان کے ساتھ خیانت کا معاملہ کر رہے ہوں۔ p. 156
انہوں نے لوگوں کے ساتھ بہترین اخلاقی سلوک کیا، خواہ وہ ان کے ساتھ کتنی ہی زیادتیاں کیوں نہ کریں۔ انھوں نے اس اعلیٰ عمل کا ثبوت دیا جس کو یک طرفہ اخلاق اور یک طرفہ صبر کہا جاتا ہے۔ p. 157
انہوں نے اپنے دشمنوں سے بھی نفرت نہیں کی، بلکہ ان کے حق میں دعائیں دیں۔ لوگوں نے ان کے ساتھ ظلم کیا۔ اس کے باوجود انہوں نے ان سے انصاف اور حق پرستی کے مطابق معاملہ کیا۔ وہ صرف اچھوں کے لیے اچھے نہیں بنے بلکہ بروں کے ساتھ بھی انہوں نے نیکی اور بھلائی کی روش اختیار کی۔ انہوں نے جوابی اخلاق کے بجائے یک طرفہ حسنِ اخلاق کو اپنا طریقہ بنایا۔ p. 157
انہوں نے اپنے مسلسل عمل سے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ اپنے مخالفین کے معاملے میں بھی انصاف پر قائم رہنے والے ہیں۔ دوسروں کو تولنے کے لیے بھی ان کے پاس وہی ترازو ہے جو اپنے آپ کو تولنے کے لیے ہے۔ وہ غصہ کو برداشت کرتے ہیں۔ وہ برائی کو بھلائی کے ذریعہ دفع کرتے ہیں۔ وہ ہر اعتبار سے صالح ٹھہرے۔ وہ ہر جانچ میں ربّانی کردار والے ثابت ہوئے۔ p. 157
ایمان اور عملِ صالح کے اس معیار پر جب وہ پورے اترے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دنیا کی عزت بھی لکھ دی اور آخرت کی ابدی عزت اور کامیابی بھی۔ p. 158