Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
فکری انقلاب p. 238
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ، فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الْآيَةَ: أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ۔ أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لا يُوقِنُونَ۔ أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ المُسَيْطِرُونَ كَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ (صحيح البخاري،حدیث نمبر 4854) ۔محمد بن جبیربن مطعم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ وہ تمام مغرب میں سورۃ طور پڑھ رہے تھے۔ جب آپ اس آیت تک پہنچے(کیا وہ خالق کے بغیر پیدا ہوگئے ہیں یا وہ خود ہی خالق ہیں۔ کیا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے۔ بلکہ وہ یقین نہیں رکھتے۔ کیا ان کے پاس خدا کی رحمت کے خزانے ہیں یا وہی اس پر داروغہ ہیں) جب میں نے اس کو سنا تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے۔ p. 238unverified
حضرت جبیربن مطعمؓ بدر کی جنگ تک اسلام نہیں لائے تھے۔ وہ بدر کے واقعہ کے بعد اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لیے مکہ سے مدینہ آئے۔ اس وقت وہ مشرک تھے۔ مدینہ کے زمانہ قیام میں ان پر یہ تجربہ گزرا کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مغرب کی نماز کی امامت کر رہے تھے۔ آپ نے نماز میں سورہ طور پڑھی۔ جُبیرؓ بن مطعم کے کان میں آواز آئی تو وہ اس کو سننے لگے۔ جب آپ اس کو پڑھتے ہوئے مذکورہ آیتوں تک پہنچے تو اس نے ان کے شعور کو اس طرح جھنجوڑا کہ ان کے اندر ایک ہلچل پیدا ہوگئی۔ ان کا دل ان کے سینہ میں اڑنے لگا۔ p. 239
جبیربن مطعم اس وقت مشرک تھے۔ مگر اب ان کا ذہن توحید کی طرف مڑ گیا۔ وہ اپنا محاسبہ کرنے لگے اور شرک و توحید کے فرق پر غور کرتے رہے۔ یہاں تک کہ حق ان پر واضح ہوگیا۔ انہوں نے شرک کو چھوڑ کر توحید کو اپنا دین بنا لیا۔ اصحاب رسول سب اسی قسم کے لوگ تھے۔ وہ شعوری انقلاب کے ذریعہ اسلام میں آئے تھے۔ بعد کو ایسے لوگ اسلام کے حامل بنے جن کو پیدائشی اتفاق نے مسلمان بنا دیا تھا۔ اور ظاہر ہے کہ پیدائشی اتفاق وہ کردار پیدا نہیں کر سکتا جو فکری انقلاب کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے۔ p. 239