Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
پیغمبر کی مثال p. 237
عبداللہ ابن عباس مکی دور کاایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک روز قریش کے اکابر کعبہ کے پاس جمع ہوئے۔ انھوں نے باہم مشورہ کرکے یہ طے کیا کہ اپنا ایک شخص بھیج کر محمد کو بلاؤ تاکہ ان سے بات کرکے معاملات طے کیے جا سکیں۔ پیغام پا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں آئے۔ p. 237original + quote
گفتگو شروع ہوئی تو قریش کے نمائندہ نے کہا کہ آپ ہماری قوم کے لیے مصیبت بن گئے ہیں۔ آپ نے ہمارے آباء کو گالی دی۔ ہمارے دین پر عیب لگایا۔ ہماری عقلوں کو بیوقوف بتایا اور ہمارے اصنام کو گالیاں دیں p. 237opposing view
لَقَدْ شَتَمْتَ الْآبَاءَ، وَعِبْتَ الدِّينَ، وَسَفَّهْتَ الْأَحْلَامَ، وَشَتَمْتَ الْآلِهَة َ p. 238opposing view
اس قسم کی کچھ اور باتیں بیان کرنے کے بعد قریش کے نمائندہ نے آپ سے کہا کہ آپ شتم اور تعییب اور تسفیہ کا یہ کام چھوڑ دیں۔ اس کے عوض آپ جو کچھ چاہیں وہ سب ہم آپ کو دینے کے لیے تیار ہیں۔ حتیٰ کہ اگر آپ بادشاہت چاہتے ہوں تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنانے کے لیے تیار ہیں (وَإِنَّ كُنْتَ تُرِيدُ مُلْكًا مَلَّكْنَاكَ عَلَيْنَا)السيرة النبوية لابن کثیر،صفحہ 479۔ p. 238original + quote
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش مکہ کی اس پیش کش کو قبول نہیں فرمایا۔ اور بدستور اپنے تبلیغی کام میں لگے رہے۔ جب کہ معلوم ہے کہ بعد کو مدینہ جا کر آپ نے وہاں اسلام کی حکومت قائم کی۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ آپ نے مکہ میں حکومت کی پیش کش کو کیوں قبول نہیں کر لیا۔ جو اسلامی حکومت آپ نے پندرہ برس بعد مدینہ میں قائم کی، اس اسلامی حکومت کو آپ نے پندرہ برس پہلے ہی مکہ میں کیوں نہ قائم کر لیا۔ p. 238original + quote
اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی حکومت اس طرح قائم نہیں ہوتی کہ ایک اسلامی شخصیت کسی نہ کسی طرح حکومت کی کرسی پر بیٹھ جائے۔ حکومت کے قیام کا نہایت گہرا تعلق خارجی حالات سے ہے۔ اسلامی حکومت کے قیام کے لیے وہ معاشرہ درکار ہے جہاں لوگوں کے اندر اسلام کے حق میں آمادگی پیدا ہو چکی ہو۔ جہاں وہ سیاسی اسباب جمع ہو چکے ہوں جو کسی اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ p. 238
مکی دور میں مکہ کے اندر اس قسم کے موافق اسباب جمع نہیں ہوئے تھے۔ اس لیے آپ نے مکہ میں حکومت قائم کرنے کی کوشش نہیں کی۔ بعد کو مدینہ میں یہ اسباب جمع ہوگئے، اس لیے وہاں آپ نے باقاعدہ طور پر اسلام کی حکومت قائم کر دی۔ p. 238
دونوں جگہوں کا فرق اس سے واضح ہے کہ مکہ میں ابو لہب کی بیوی کے لیے ممکن تھا کہ وہ آپ کی مذمت میں اس قسم کے اشعار کہے اور ان کو مکہ کی آبادی میں چل پھر کر گائے کہ محمد قابل مذمت ہیں۔ ہم نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا p. 239
مُذَمَّمًا عَصَيْنَا، وَأَمْرُهُ أَبَيْنَا p. 239
دوسری طرف نبوت کے تیرھویں سال جب آپ اپنے رفیق ابوبکر بن ابی قحافہ کے ساتھ مدینہ پہنچے تو وہاں دونوں کا استقبال انْطَلِقَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ(مسند احمد، حدیث نمبر13318) کے الفاظ سے کیا گیا، یعنی آپ دونوں امن کے ساتھ ہمارے سردار کی حیثیت سے مدینہ میں داخل ہوں۔ مدینہ کے بچوں نے آپ کی آمد پر یہ اشعار پڑھے کہ اے ہماری طرف بھیجے جانے والے، آپ ایک قابل اطاعت بات لے کر آئے ہیں p. 239original + quote
أَ يُّهَا المَبْعُوثُ فِينَا … جِئْتَ بِالأَمْرِ المُطَاعْ p. 239
اسی نوعیت کی مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں بھی ملتی ہے۔ حضرت موسیٰ کی قوم (بنی اسرائیل) کے لیے مقدر تھا کہ اس کو دوبارہ اقتدار دیا جائے جس طرح اس سے پہلے اس کو اقتدار دیا گیا تھا(المائدہ، 5:20-23)۔ چنانچہ حضرت موسی کی وفات کے بعد یوشع بن نون کی قیادت میں بنی اسرائیل نے عمالقہ کے خلاف جہاد کیا اور ان کو زیر کرکے شام و فلسطین کے علاقہ میں اپنی حکومت قائم کی جو ایک عرصہ تک باقی رہی۔ p. 240original + quote
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس حکومت کا موقع تو انھیں نصف صدی پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ ہی میں حاصل ہو چکا تھا۔ پھر اس کو نصف صدی تک موخر کیوں کیا گیا۔ حضرت موسیٰ کے زمانہ میں مصر میں یہ واقعہ ہوا کہ وہاں کا حکمراں فرعون اور اس کی پوری فوجی طاقت سمندر میں غرق کر دی گئی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ کے لیے مصر میں میدان خالی تھا۔ وہ بنی اسرائیل کے ساتھ مصر کی راجدھانی ممفس واپس آ کر وہاں کے خالی تخت پر قبضہ کرکے بیٹھ سکتے تھے۔ اور فرعون اور اس کے لشکر کی معجزاتی ہلاکت کے بعد ان کے حق میں ملک میں مرعوبیت کی جو فضا بنی تھی اس کے تحت یقینی تھا کہ لوگ ان کی حکومت کو تسلیم کر لیں گے۔ p. 240original + quote
مگر حضرت موسیٰ نے ایسا نہیں کیا۔ وہ مصر کے خالی سیاسی میدان کو چھوڑ کر اپنی قوم کے ساتھ صحرائے سینا میں چلے گئے۔ وہاں چالیس سال(1400-1440ق م) تک فاران اور شرق اردن کے درمیان بنی اسرائیل کے لوگ صحرا کی مشقتوں کو جھیلتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے زیادہ عمر کے تمام افراد مر گئے۔ اور صرف وہ نئی نسل باقی رہی جو صحرائی ماحول میں پرورش پا کر تیار ہوئی تھی۔ p. 240
اس تاخیر کا واحد راز یہ ہے کہ مصر میں بنی اسرائیل کی جو نسل تھی وہ مخصوص اسباب سے اخلاقی زوال کا شکار ہو چکی تھی۔ یہاں تک کہ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ اپنے اور ہارون کے سوا کسی اور کے اوپر مجھے کوئی بھروسہ نہیں(المائدہ،5:25)۔ چنانچہ بنی اسرائیل کی پوری قوم کو’’وادی تیہ‘‘ میں ڈال دیا گیا تاکہ ان کے تمام ادھیڑ اور بوڑھی عمر کے لوگ ختم ہو جائیں اور نئی نسل صحرائی حالات میں تربیت پا کر اپنے اندر قابل اعتماد سیرت پیدا کرے اور پھر اقتدار پر قبضہ کرکے اسلامی حکومت قائم کر سکے۔ p. 240original + quote
مذکورہ دونوں واقعات واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ حکومت صرف اس وقت قائم ہوتی ہے جب کہ اس کے حق میں ضروری اجتماعی حالات فراہم ہو چکے ہوں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال یہ بتاتی ہے کہ اگر آبادی میں حقیقی سطح پر موافق فضا نہ بنی ہو تو پیغمبر بھی وہاں اپنی حکومت قائم نہیں کر سکتا۔ اگر وہ اس قسم کی ضروری فضا کے بغیر حکومت قائم کرے تو قائم ہونے کے جلد ہی بعد اس کا تختہ الٹ دیا جائے گا، اور آخر کار کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ p. 240
حضرت موسیٰ کی مثال بتاتی ہے کہ حکومت کے قیام کے لیے باکردار افراد کی ایک مضبوط ٹیم کا ہونا لازمی طور پر ضروری ہے۔ اگر ایسی ٹیم نہ ہو تو خواہ ملک میں سیاسی خلا پایا جائے اور خواہ اس سیاسی خلا کو پر کرنے کے لیے بیک وقت دو پیغمبر موجود ہوں تب بھی وہاں اسلامی حکومت کا قیام ممکن نہیں۔ p. 241
اس پیغمبرانہ نظیر کو سامنے رکھ کر دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانہ میں ساری مسلم دنیا میں’’اسلامی حکومت قائم کرو‘‘ کے نام پر جو ہنگامے جاری کیے گئے، وہ صرف نادانی کی چھلانگ تھے۔ جس کا آخری نتیجہ صرف یہ ہو سکتا تھا اور یہی ہوا کہ آدمی حادثہ کا شکار ہو کر اسپتال میں پہنچ جائے اور منزل بدستور دور کی دور پڑی رہے۔ p. 241