Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
غزوۂ خندق یا غزوۂ احزاب p. 124
شوال5ھ p. 124
اس غزوہ کا سبب یہ ہوا کہ بنو نضیر کی جلاوطنی کے بعد یہودی سردارحی بن اخطب مکہ گیا اور وہاں کے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا اور کنانہ بن ربیع نے جا کر بنی غطفان کو آپ کے مقابلہ کے لیے تیار کیا اور ان کو لالچ دلایا کہ خیبر کے نخلستان میں جس قدر کھجوریں آئیں گی ہر سال اس کا نصاف حصہ ہم تم کو دیا کریں گے۔ یہ سن کر یہ لوگ تیار ہوگئے۔ قریش پہلے ہی سے تیار تھے۔ p. 124unverified
اس طرح ابوسفیان کی قیادت میں دس ہزار سے زیادہ افراد کا لشکر مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی روانگی کی خبر ملی تو صحابہ سے مشورہ کیا۔ سلمان فارسی نے خندق کھودنے کا مشورہ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تجویزکو پسند فرمایا۔ اور دس دس آدمیوں پر دس دس گز زمین تقسیم کی۔ صحابۂ کرام کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی خندق کھودنے میں مصروف تھے۔ p. 124
خندق کا یہ طریقہ عربوں کے لیے نیا تھا۔ تاہم جنگ سے بچنے کی یہ ایک بہترین تدبیر تھی۔ اس وجہ سے آپ نے اس کو پسند کیا۔ مسلمان خندق کھود کر فارغ ہوئے ہی تھے کہ قریش دس ہزار سے زیادہ آدمیوں کا لشکر لے کر مدینہ آ پہنچے۔ جب ان لوگوں نے مدینہ کے باہر خندق دیکھی تو حیرت زدہ ہوگئے۔ اور خندق کے باہر پڑائو ڈال لیا۔ تین ہفتے اسی طرح گزر گئے مگر دست بدست لڑائی اور مقابلہ کی نوبت نہیں آئی۔ صرف طرفین کے مابین اکا دُکا تیر اندازی کے واقعات پیش آئے۔ p. 124
غزوۂ خندق اسلام کی تاریخ میں سب سے زیادہ سخت غزوہ ہے۔ قرآن میں اس کی بابت یہ الفاظ آئے ہیں کہ— جب تمہارے دشمن تمہارے اوپر چڑھ آئے، اوپر کی طرف سے اور نیچے کی طرف سے اور آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آگئے۔ اور تم اللہ پرطرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ اس موقع پر ایمان والے آزمائے گئے اور وہ بری طرح ہلا مارے گئے(33:10-11)۔ p. 124original + quote
ہجرت کے بعد یہود کا قبیلہ بنی نضیر اپنی سازشوں کی وجہ سے مدینہ سے نکالا گیا۔ اس کے بعد وہ مختلف بڑے بڑے قبائل میں گئے اور ان کو مسلمانوں کے خلاف خوب اکسایا۔ چنانچہ وہ قریش، بنوفزارہ، غطفان اور ہزیل وغیرہ قبائل کی متحدہ طاقت کو مدینہ پر چڑھا لانے میں کامیاب ہوگئے۔ تقریباً12 ہزار کے لشکر نے مدینہ کوگھیر لیا۔مدینہ کے اندر آباد یہودی قبیلہ بنو قریظہ بھی ان کے ساتھ ہوگیا۔ مدینہ میں مسلمانوں کی جمعیت کل3 ہزار تھی جن میں قابل لحاظ تعداد ان منافقین کی تھی جن پر کوئی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ p. 125
اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نئی جنگی تدبیر کی جس سے عرب اب تک واقف نہ تھے۔یہ مدینہ کے کھلے علاقہ کی طرف ایک خندق تھی جو تین ہفتہ کے محاصرہ کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان روک بنی رہی۔اسلام دشمنوں کی فوج ابھی مدینہ میں داخل نہیں ہو سکی تھی کہ ایک زبردست آندھی آئی جس میں دشمن فوج کے خیمے اکھڑ گئے۔ ریت اور سنگریزے اڑ کر ان کے منہ پر لگتے تھے۔ ان کے چولہے بجھ گئے اور دیگچے زمین پر جا پڑے۔ گھوڑے رسی تڑا کر بھاگنے لگے۔ ان چیزوں نے دشمن کے لشکر کو اتنا پریشان کر دیا کہ وہ اپنا ارادہ ترک کرکے واپس چلے گئے۔اس وقت حالات اتنے شدید تھے کہ ایک بدری صحابی معتب ابن قشیر کی زبان سے یہ جملہ نکل گیا p. 125original + quote
كَانَ مُحَمَّدٌ يَعِدُنا أَنْ نأكلَ كنوزَ كِسْرَى وَقَيْصَرَ، وأحدُنا لَا يَأْمَنُ أَنْ يذهَب إلَى الْغَائِطِ (سیرۃ ابن ہشام، جلد2، صفحہ 121)۔ یعنی،محمد ہم سے وعدہ کرتے تھے کہ ہم کسریٰ اور قیصر کے خزانے کھائیں گے اور آج ہمارا ایک شخص اپنے آپ کو اس کے لیے بھی محفوظ نہیں پاتا کہ وہ بیت الخلاء جائے۔ p. 125original + quote
ایک طرف یہ شدید حالات تھے، دوسری طرف عین انہی دنوں یہ واقعہ پیش آیا کہ مسلمان جب خندق کھود رہے تھے تو ایک بھاری چٹان ان کے سامنے آگئی جس پر ان کی کدال کام نہیں کررہی تھی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔آپ چٹان کے پاس آئے۔کدال اپنے ہاتھ میں لی اور بسم اللہ کرکے اس پر مارا۔ پہلے ہی ضرب میں چٹان کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا۔ آپ نے کہا اللہ اکبر، مجھے شام کی کنجیاں دے دی گئیں۔ پھر دوبارہ کدال ماری تو دوسراتہائی حصہ ٹوٹ گیا۔ آپ نے کہااللہ اکبر، مجھے فارس کی کنجیاں دے دی گئیں۔ خدا کی قسم، میں مدائن کے قصرابیض کو دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپنے تیسری بار کدال ماری توچٹان کا بقیہ حصہ بھی ٹوٹ گیا۔ آپ نے فرمایا، اللہ اکبر، مجھ کو یمن کی کنجیاں دے دی گئیں۔ خدا کی قسم، میں اپنے اس مقام صنعاء کے دروازے پر دیکھ رہاہوں(سیرۃ ابن کثیر، جلد3، صفحہ194)۔ p. 125unverified
محاصرہ کے دوران غطفان کے ایک رئیس نعیم بن مسعود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اوراسلام قبول کر لیا۔ اور کہا کہ ابھی میرے اسلام لانے کی خبر نہیں پھیلی ہے۔ اگر اجازت ہو تو کوئی تدبیر کروں۔ آپ نے اجازت دی اور فرمایاالْحَرْبُ خَدْعَةٌ(لڑائی نام ہے حیلہ اور تدبیر کا)۔مسند احمد، حدیث نمبر1804 p. 125original + quote
چنانچہ نعیم نے ایسی تدبیر کی کہ قریش اور بنو قریظہ میں پھوٹ پڑ گئی۔اور بنو نضیر قریش کی امداد سے دست کش ہوگئے۔ اور اسی کے ساتھ تیز ہوا چلی اور اس طرح اللہ نے مشرکین کے دلوں میں رعب ڈال دیا جس سے ان کے پائوں اکھڑ گئے۔ آخر کار مشرکین مایوس ہوکر واپس چلے گئے۔ p. 125original + quote