Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
آخرت رخی سوچ p. 100
غزوۂ ذات السلاسل کا واقعہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر وبن العاص کولشکر کا سردار مقرر کیا۔ مگر پورالشکر بیک وقت تیار نہ تھا۔ آپ نے عمروبن العاص کو ایک دستہ کے ساتھ پہلے روانہ کر دیا۔ اس کے بعد دوسو مہاجرین و انصار کے ساتھ دوسرا دستہ تیار ہوا اور ابوعبیدہ بن الجراح کی سرداری میں روانہ ہوا ۔ جھنڈا دیتے ہوئے آپ نے ان کو جو نصیحتیں کیں ، ان میں سے ایک یہ تھی جب تم اپنے ساتھی (عمرو بن العاص) سے ملو تو تم دونوں مل کر کام کرنا، اختلاف مت کرنا —إذَا قَدِمْت عَلَى صَاحِبِك فَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا۔ p. 100original + quote
ابوعبیدہ کا دستہ جب مدینہ سے چل کر عمرو بن العاص کے پاس پہنچا تو نماز کا وقت آگیا تھا۔ صفیں کھڑی ہوئیں ، ابوعبیدہ نے چاہا کہ امامت کریں ۔ عمرو بن العاص نے اس سے اختلاف کیا۔ انھوں نے کہا آپ میری مدد کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ یہ صحیح نہیں کہ آپ امامت کریں جب کہ اصل امیر میں ہوں۔ ابو عبید ہ کے دستہ کے لوگ جن میں ابو بکر و عمر بھی تھے ، نے کہا کہ عمرو بن العاص اپنے دستہ کے امیر ہیں اور ابوعبیدہ اپنے دستہ کے عمرو بن العاص نے اس تقسیم سے اتفاق نہیں کیا، اور کہا تم لوگ میری مدد کے لیے بھیجے گئے ہو (إِنَّمَا أَنْتُم مَدَدٌ أُمْدِدْتُ بِكُم)، پس میں ہی قائد ہوں۔ p. 100original + quote
ابوعبیدہ بن الجراح نے جب اختلاف بڑھتے دیکھا تو انھوں نے اپنا حق واپس لے لیا، اور کہا کہ رسول اللہ نے مجھے نصیحت کی تھی کہ تم عمرو بن العاص سے ملو تو جھگڑا مت کرنا، اتفاق کے ساتھ کام کرنا p. 101quoted source
وَإِنّك وَاَللهِ إنْ عَصَيْتنِي لَأُطِيعَنّكَ۔ یعنی،خدا کی قسم اگر تم میری بات نہ مانو تب بھی میں تمھاری اطاعت کر دوں گا(مغازی الواقدی، جلد2، صفحہ771)۔ p. 101original + quote