Deen-e-Insaniayat

اسلام مذہبِ امن

Deen-e-Insaniayat — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (233 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. دینِ انسانیت
  3. بسم اللہ الرحمن الرحیم
  4. ایمان و اسلام کے واقعات
  5. حُریتِ فِکر
  6. اظہار خیال کی آزادی
  7. خدا کا تخلیقی نقشہ
  8. تواصی بالحق
  9. اختلاف میں رحمت
  10. نصیحت ، تعییب
  11. افکار کا ٹکراؤ
  12. فطرت کا نظام
  13. دربار الٰہی میں
  14. پیغمبر کی مثال
  15. ابوبکر صدیقؓ کی مثال
  16. عمر فاروقؓ کی مثال
  17. عثمان غنی ؓ کی مثال
  18. علی مرتضیٰ ؓ کی مثال
  19. ایک واقعہ
  20. ظاہر داری نہیں
  21. سوال و جواب
  22. حد بندی
  23. اختلاف کے باوجود
  24. صحت مند نتائج
  25. حق کا اعتراف
  26. حق کی برتری
  27. اضافۂ ایمان
  28. بے جا غلو
  29. جارحیت نہیں
  30. مشترک ذمہ داری
  31. آزادی کی حد
  32. اختلافات کی توجیہ
  33. روشنی کی طرف
  34. حکیمانہ قول
  35. فرقہ بندی
  36. اختلاف رائے
  37. تمہید
  38. خدا اور انسان
  39. عبادت اور خدمت
  40. والدین کے ساتھ
  41. عمل صالح
  42. صبر کی تعلیم
  43. روحانی ترقی
  44. اعلیٰ اخلاق
  45. اچھا گمان
  46. تواضع
  47. نرمی کا انداز
  48. قناعت
  49. ایثار
  50. مہربانی کا سلوک
  51. عدل و انصاف
  52. قصد و اعتدال
  53. نفع بخشی
  54. سچائی
  55. حق رسانی
  56. غصہ نہیں
  57. امانت اور عہد
  58. پاکی اور صفائی
  59. حق کی ادائیگی
  60. تیسیر پسندی
  61. مشرک کا حکم
  62. مجرم کے ساتھ بھی
  63. دو طریقے
  64. دعوہ کلچر
  65. ایک دُعا
  66. محنت کی کمائی
  67. مالی تعاون
  68. انسانیت عامہ
  69. عالمی اخوت
  70. وسیع تر آدمیت
  71. عمومی عزت
  72. آفاقی انسان
  73. احترام انسانیت
  74. سب پر سلامتی
  75. خدمت عام
  76. رحمت ، سیف
  77. جنگ کا حکم
  78. بین اقوامی رواج
  79. فرشتہ کی مدد
  80. اِذن اللہ
  81. دعا بھی عمل
  82. رحمت کلچر
  83. آفاقیت نہ کہ محدودیت
  84. حقیقتِ اسلام
  85. صبر و توکل
  86. حُسن اخلاق
  87. اسلامی طریقہ
  88. رسول خدا کا اسوہ
  89. عافیت کی زندگی
  90. غیر اثر پذیر
  91. صبر کی اہمیت
  92. ایک آیت
  93. غلط فہمی
  94. مطلوب عمل
  95. کلام کی شرط
  96. بلند کرداری
  97. قرآنی اصول
  98. بے حساب اجر
  99. قلبی عمل
  100. اعتماد و توکل
  101. برتر روش
  102. اعتدال کا طریقہ
  103. بہتر انسان
  104. ایک اسلامی حکم
  105. شکایت کے باوجود
  106. عبادت اور اخلاق
  107. معیار کو بلند کرنا
  108. ترک تعلق
  109. چپ رہنا
  110. صبر ضروری
  111. اجتماعی آداب
  112. درس حدیث
  113. پیغمبر کا طریقہ
  114. اخلاق کا کرشمہ
  115. آگ کا ٹکڑا
  116. والدین کی ذمہ داری
  117. قرآنی طریقہ
  118. چپ رہیے
  119. قیامت میں ادائیگی
  120. دعا اور اعتراف
  121. خیر کثیر
  122. صبرکی عبادت
  123. برا گمان
  124. دفع احسن
  125. تکبیر، تواضع
  126. جنت میں مکان
  127. سکون کا راز
  128. ان شاء اللہ
  129. تنگی میں آسانی
  130. حیاتِ مومن
  131. صفت مومن
  132. مثبت طریقہ
  133. قول سدید
  134. قابل پیشین گوئی کردار
  135. خیر پسند
  136. اچھا مسلمان
  137. جامع اصول
  138. بے مسئلہ
  139. پڑوسی کے ساتھ
  140. حدیث کا مطالعہ
  141. اعتراف
  142. ناشکری نہیں
  143. جنت کے کنارے
  144. ذکر و فکر
  145. ایک انسانی کردار
  146. زاویہ نظر کا فرق
  147. نصرت کا قانون
  148. اثر قبول نہ کرنا
  149. مخلص، منافق
  150. پاکیزہ روش
  151. مومن کا طریقہ
  152. پہچان کا فرق
  153. فکری انقلاب
  154. کھجور کی چپل پہننے والے
  155. عزت کیسے ملتی ہے
  156. خاموش تدبیر
  157. زبان کی طاقت
  158. حاضر جوابی
  159. اعلیٰ کردار کی ایک مثال
  160. حوصلہ مندی
  161. کامیاب مقابلہ
  162. مثبت اثر
  163. صرف الفاظ سے
  164. اِس پل پریا اُس پل پر
  165. کتے سے بھی زیادہ برا
  166. غریبی کا مطلب بے وقوفی نہیں
  167. غم آدمی کو گہرا بنا دیتا ہے
  168. تنقید کو سن کر
  169. نقطۂ انقلاب
  170. برائی کی قسمیں
  171. صبر و ہمدردی
  172. سچی ہوشیاری
  173. اعلیٰ ظرفی
  174. مومنانہ طریقہ
  175. چھوٹا واقعہ بڑا سبق
  176. دو انسان
  177. دو گواہ
  178. کرنے کا کام
  179. مسافر کی زندگی
  180. حدیث دعا
  181. بعضکم من بعض
  182. خاتون جنت
  183. عورت، مرد
  184. تقسیم کار
  185. بہترین خزانہ
  186. اخلاق نسواں
  187. روزمرہ کی زندگی
  188. حسن معاشرت
  189. مومن کا گھر
  190. تربیت اولاد
  191. صلح بہتر ہے
  192. انتظار کیجئے
  193. پیغمبرانہ نصیحت
  194. جنت کا استحقاق
  195. سب سے زیادہ
  196. غیبت نہیں
  197. حضرت خدیجہؓ
  198. حضرت عائشہؓ
  199. ایمان کی طاقت
  200. ایک گواہی
  201. تین مرحلے
  202. نکاح و طلاق
  203. نکاح سے پہلے
  204. نکاح کے بعد
  205. رحمۃ للعالمینؐ
  206. مطالعہ سیرت
  207. دلیل نبوت
  208. سیرت کی رہنمائی
  209. ممکن سے آغاز
  210. عسر میں یسر
  211. ہجرت مقام عمل کی تبدیلی
  212. فطرت پر اعتماد
  213. دشمن کو استعمال کرنا
  214. امن کی طاقت
  215. تھرڈ آپشن
  216. میدان عمل کی تبدیلی
  217. تدریج کا اصول
  218. آئیڈیلزم کے بجائے پریگمیٹزم
  219. بصیرت کی ضرورت
  220. حدیبیہ منہاج
  221. جنگ پر بیعت نہیں
  222. تکمیل دین
  223. آخری بات
  224. پیغمبر اسلام کا اسوہ
  225. پیغمبرانہ طریقہ
  226. پیغمبرانہ اسلوب
  227. اسوۂ حسنہ
  228. ہجرت رسولؐ
  229. قائد اتحاد
  230. سنجیدگی شرط ہے
  231. ایک شہادت
  232. مذہب امن
  233. اسلام مذہبِ امن

اسلام مذہبِ امن p. 410

یور پ کے ایک سفر میں میری ملاقات ایک مسلم نوجوان سے ہوئی۔ وہ ایک عرب ملک سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ روزگار کی تلاش میں تھے۔ اس سلسلہ میں وہ ایک غیر مسلم ادارہ میں انٹرویو کے لئے گئے۔ گفتگو کے دوران انٹرویو نے ان سے پوچھا کہ کیا تم مسلمان ہو۔ نوجوان نے کہا کہ ہاں۔ یہ سن کر انٹرویور نے فوراً کہا کہ پھر تو تم دہشت گرد ہو p. 410

Then you are a terrorist. p. 410

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ایک طبقہ کے کٹر پن اور اس کی جنگ جویانہ سرگرمیوں کی وجہ سے عام طور پر یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ اسلام دہشت گردی (terrorism) کا مذہب ہے۔ اسلام اپنا مقصد جنگ اور تشدد کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مگر یہ بات مکمل طور پر خلاف واقعہ ہے۔ p. 410

اسلام مسلمانوں کے کسی رویہ کا نام نہیں ہے۔ اسلام ایک اصولی مسلک کا نام ہے، وہ کسی قوم کے قومی طرز عمل کا نام نہیں۔ مسلمانوں کے عمل کو اسلام سے جانا جائے گا نہ کہ اسلام کو مسلمانوں کے عمل سے جانچا جانے لگے۔ اگر کچھ مسلمان دہشت گردی کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں تو اس کے ذمہ داری وہ خود ہیں نہ کہ اسلام۔ ان کے اسلامی نعرہ کی وجہ سے ان کا عمل اسلام کا عمل نہیں بن جائے گا۔ p. 410

اسلام پیغمبر اسلام کی تعلیمات اور آپ کے نمونہ حیات کا نام ہے۔ اور پیغمبر اسلام امن کے پیغمبر تھے، وہ جنگ کے پیغمبر نہیں تھے۔ اسی لئے قرآن میں آپ کو رحمۃ للعالمین کہا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے کہ: ہم نے تم کو ساری دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے (وَما أَرْسَلْناكَ إِلَاّ رَحْمَةً لِلْعالَمِينَ)21:107۔ p. 411original + quote

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے۔ ان کے یہاں پہلا بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام حرب رکھا۔ عرب ایک جنگجو قوم تھے۔ چنانچہ وہ جنگی ناموں کو پسند کرتے تھے۔ لیکن پیغمبر اسلام کو معلوم ہوا تو آپ نے حرب نام کو پسند نہیں کیا۔ آپ نے کہا کہ اس کے بجائے تم بچہ کا نام حسن رکھو (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 2777)۔ p. 411original + quote

اس سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ آپ پورے معنوں میں ایک امن پسند انسان تھے۔ آپ کی امن پسندی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ آپ حرب جیسا لفظ سننا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ آپ تشدد میں نہیں بلکہ حسن اخلاق میں یقین رکھتے تھے۔ p. 411

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک عظیم انقلاب لے آئے۔ مگر یہ انقلاب امن کی قوت سے برپا کیا گیا نہ کہ جنگ کی قوت سے۔ اگر کبھی آپ نے جنگ کی تو وہ مجبورانہ دفاع کے طور پر تھی نہ کہ آپ کی اپنی پسند اور آپ کے اپنے انتخاب کے تحت۔ p. 411

امن آپ کی زندگی کا ایک عمومی اصول تھا اور جنگ صرف ایک اتفاقی استثناء۔ چنانچہ اپنی 23 سالہ پیغمبرانہ زندگی میں آپ نے صرف تین لڑائی لڑی(بدر، احد، حنین) یہ تینوں لڑائیاں دفاعی تھیں اور ان میں مجموعی طور پر صرف ڈیڑھ دن صرف ہوئے۔ p. 412

زید بن مُہَلہِل نجد میں بعشت نبوی سے پہلے پیدا ہوئے۔ وہ شاعر تھے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے شمشیر زنی اور گھوڑے کی سواری میں شہرت حاصل کی۔ چنانچہ وہ زید الخیل کہے جانے لگے۔ خیل عربی زبان میں گھوڑے نیز گھوڑے سوار کو کہتے ہیں۔ p. 412

انہوں نے اسلام سے پہلے فارِس(شہ سوار) اور شمشیر زن کی تعریف پر ایک پرجوش نظم کہی تھی۔ اس میں وہ اپنے قبیلہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ میری قوم لوگوں کی سردار ہے۔ اور سردار ہی اس وقت قائد بنتا ہے جب کہ شعلہ بار ہتھیلیوں نے جنگ کی آگ کو بھڑکا دیا ہو: p. 412

وَقَوْمِي رُؤُوسُ النّاسِ وَالرَّأْسُ قَائِدٌ p. 412

إِذَا الحَرْبُ شَنَّتْها ‌الأكُفُّ ‌المَسَاعِرُ p. 413

لباب الآداب لأسامة بن منقذ ،جلد1،صفحہ220۔ p. 413

زید الخیل ہجرت کے بعد مدینہ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور اسلام قبول کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید الخیل کا نام پسند نہیں کیا۔ آپ نے ان کا نام بدل کر زید الخیر رکھ دیا۔9ھ میں مدینہ میں ان کا انتقال ہوا۔ p. 413

یہ واقعہ اسلام کی اسپرٹ کو بتاتا ہے۔ اسلام دین رحمت ہے۔ اسلام کا مقصد آدمی کو زیدشہ سوار بنانا نہیں ہے۔ بلکہ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ آدمی زید صاحب خیر بنے۔ قدیم عرب میں گھوڑا دوڑانا اور تلوار کا کمال دکھانا ہیروانہ کام سمجھا جاتا تھا۔ پیغمبر اسلام نے ان کے جذبات کو موڑا۔ اور ان کو یہ ذہن دیا کہ وہ خیر کے حامل بنیں، وہ خیر کے میدان میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیں۔ وہ لوگوں کو موت کا تحفہ نہ دیں بلکہ وہ لوگوں کو زندگی کا تحفہ دینے کی کوشش کریں۔ p. 413

آج کل کی زبان میں اگر کہا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کا مقصد تخلیقی(creative) انسان پیدا کرنا ہے۔ اللہ پر ایمان آدمی کے اندر تخلیقی اوصاف کو جگا دیتا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ عام سوچ سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ اس کا کردار دوسرے لوگوں کے کردار سے بلند ہو جاتا ہے۔ وہ زمین میں رہتے ہوئے ایک آسمانی انسان بن جاتا ہے۔ وہ ظواہر میں جینے کے بجائے حقائق میں جینے لگتا ہے۔ p. 413

دوسرے لوگ اگر اپنی ذات کو چاہنے والے ہوتے ہیں تو وہ خیر کو چاہنے والا ہوتا ہے۔ دوسرے لوگ اگر استحصال کرنے والے ہوتے ہیں تو وہ نفع پہنچانے والا ہوتا ہے۔ دوسرے لوگوں کے مزاج میں اگر سرکشی ہوتی ہے تو اس کے مزاج میں تواضع ہوتی ہے۔ دوسرے لوگوں کی خصوصیت اگر جنگ پسند ہوتی ہے تو اس کی خصوصیت امن پسند۔ دوسرے افراد اگر لوگوں کو مار کر خوش ہوتے ہیں تو وہ لوگوں کو زندگی دے کر خوشی حاصل کرتا ہے۔ دوسروں کے پاس اگر لوگوں کے لئے نفرت کا تحفہ ہوتا ہے تو اس کے پاس صرف محبت کا تحفہ خواہ دوسرے لوگ اس سے نفرت کا معاملہ کیوں نہ کر رہے ہوں۔ p. 414

صحیح البخاری میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے اجتماعی امور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کیا تھا۔ امام البخاری نے یہ حدیث چار ابواب کے تحت نقل کی ہے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں:(مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم ‌بَيْنَ ‌أَمْرَيْنِ ‌إِلَّا ‌أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا)( صحيح البخاري،حدیث نمبر 3560)۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو معاملوں میں سے ایک کو لینا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کو لیتے تھے۔ p. 414original + quote

یہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کے درمیان آپ کو جو معاملات پیش آتے تھے، ان میں آپ ہمیشہ آسان پہلو کا انتخاب فرماتے تھے۔ جب ایک طریقہ امن کا ہو اور دوسرا طریقہ ٹکراؤ کا، ایک طرف نزاع ہو اور دوسری طرف موافقت ہو، ایک جنگ کا راستہ ہو اور دوسرا صلح کا راستہ ہو، تو ان تمام صورتوں میں آپ اسی صورت کو اختیار کرتے تھے جو نسبتاً سہل اور آسان ہو۔ غور کیا جائے تو یہ اصول آپ کی پوری زندگی پر چھایا ہوا نظر آئے گا۔ p. 414

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت ایک معلوم اور مشہور سنت ہے۔ مگر عام طور پر اس کا انطباق صرف چھوٹے چھوٹے امور میں کیا جاتا ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم جب جماعت کے ساتھ نماز پڑھا رہے ہوتے اور پیچھے سے کسی بچہ کے رونے کی آواز آ جاتی جس کو اس کی ماں مسجد میں لائی تھی تو آپ نماز کو مختصر کر دیتے۔ ایسی حالت میں آپ لمبی سورہ پڑھنے کے بجائے چھوٹی سورہ پڑھ کر نماز کو جلد ختم کر دیتے تاکہ بچہ کی ماں کو پریشانی نہ ہو۔ مگر زیادہ بڑے بڑے امور میں اس سنت کا ذکر نہیں کیا جاتا اور نہ بڑے امور میں اس کو منطبق کیا جاتا ہے۔ p. 414

مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعشت ہوئی تو اس وقت کعبہ میں360 بت رکھے ہوئے تھے۔ اگر آپ کعبہ کی تطہیر سے اپنی مہم کا آغاز کرتے تو یہ آپ کے لئے مشکل انتخاب ہوتا۔ اس لئے آپ نے دلوں کی تطہیر سے اپنے کام کا آغاز فرمایا۔ چنانچہ قرآن میں پہلی آیت یہ اتاری گئی کہ (اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ)96:1۔ گویا کہ طَھّر الکعبۃ من الاصنام کے بجائے آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ طھر القلوب من الاصنام۔ p. 415original + quote

مکی زندگی کے آخر میں آپ کے مخالفین آپ کو قتل کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ اس وقت ایک صورت یہ تھی کہ آپ دفاعی ذہن کے تحت تمام مسلمانوں کو متحد کرکے جنگ کا طریقہ اختیار کرتے۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ خاموشی کے ساتھ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے اور دوسرے مسلمانوں کو بھی ایسا ہی کرنے کا مشورہ دیا۔ یہ مقابلہ کے بجائے ترک مقام کو اختیار کرنا تھا۔ p. 415

حدیبیہ کے واقعہ میں آپ کے لئے جنگ اور واپسی میں انتخاب کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ آپ نے یہاں بھی جنگ کے طریقہ کو چھوڑا اور میدان سے واپسی کے طریقہ کو لے لیا۔ p. 415

جن لوگوں نے حج یا عمرہ کیا ہے۔ انہوں نے دیکھا ہے کہ کعبہ سے متصل ایک جگہ ہے جس کو حطیم کہا جاتا ہے۔ یہ جگہ حضرت ابراہیم کی تعمیر کے مطابق، کعبہ میں شامل تھی۔ بعد کو مشرکین نے نئی تعمیر کے وقت اس کو الگ کر دیاا۔ فتح مکہ کے بعد آپ کو موقع تھا کہ کعبہ کو ازسرنو بنا کر حطیم کو اس میں شامل کر دیں۔ مگر اس وقت کے حالات میں یہ ایک نزاعی کام تھا۔ چنانچہ نزاع سے بچنے کی خاطر آپ نے کعبہ کو اسی حالت میں چھوڑ دیا جیسا کہ مشرکین نے اسے بنایا تھا۔ p. 415

غور کیا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسی اصول(اختیار ایسر) کا مصداق نظر آئے گی۔ آپ نے ہمیشہ ہر معاملہ میں مشکل طریقہ کو چھوڑ کر آسان طریقہ کا انتخاب فرمایا ہے۔ اسی اصول کو موجودہ زمانہ میں پرامن طریقہ عمل(peaceful method) کہا جاتا ہے۔ p. 415

جنگ اور تشدد کا طریقہ اسلام کے لئے مفید نہیں ہے۔ جنگ باز آدمی تشدد کے ذریعہ اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس قسم کا طریقہ اسلام کے لئے بالکل اجنبی ہے۔ کیونکہ اسلام کا مقصد دل و دماغ کو بدلنا ہے اور دل و دماغ کو بدلنے کا کام تشدد کے ذریعہ کیا جانا ممکن نہیں۔ دل و دماغ کو بدلنے کا کام نصیحت(persuasion) کے ذریعہ ہوتا ہے نہ کہ طاقت(force) کے ذریعہ۔ p. 416

اسلام کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی معرفت حاصل ہو۔ لوگ آخرت کی جو ابد ہی کے احساس میں جینے والے بنیں۔ لوگوں کے اندر وہ اعلاروحانی اوصاف پیدا ہوں جن کو تقویٰ، خشیت، انابت، تضرع، اخبات، وغیرہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ لوگ حق کو پہچاننے والے اور حق کا اعتراف کرنے والے بنیں۔ لوگوں کے اندر وہ ربانی شخصیت پرورش پائے جو جنت میں بسائے جانے کے قابل ہو۔ p. 416

یہی اسلام کا اصل مطلوب ہے اور جنگ یا تشدد کے ذریعہ اس مطلوب کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کو حاصل کرنے کا ذریعہ صرف ایک ہے، اور وہ پرامن دعوت و تبلیغ ہے۔ اسلام کے طریق کار کو ایک لفظ میں دعوتی طریقہ کہا جا سکتا ہے نہ کہ جنگ جویانہ طریقہ۔ p. 416

دوسری بات یہ ہے کہ اسلام ایک دعوت ہے۔ اور دعوتی عمل صرف پرامن حالات میں انجام دیا جا سکتا ہے۔ جہاں تناؤ اور ٹکراؤ کا ماحول ہو وہاں دعوت و تبلیغ کا کام کرنا ممکن نہیں۔ اس لئے اسلام چاہتا ہے کہ ہر قیمت پر انسانوں کے درمیان امن قائم رہے۔ حتیٰ کہ امن کے قیام کے لئے اگر اہل اسلام کو یک طرفہ قربانی دینا پڑے تو یک طرفہ قربانی دے کر انہیں امن و امان کو قائم کرنا چاہیے۔ p. 416

طریق کار ہمیشہ آدمی کے اپنے مشن کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے۔ اسی لئے دادا کا طریق کار ایک تاجر کے طریق کار سے مختلف ہوتا ہے۔ دادا کا مقصد لوگوں کو خوف زدہ کرنا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ لوگ جتنا زیادہ اس سے خوف میں رہیں گے اتنا ہی زیادہ اس کو اپنا مقصد حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ اس لئے دادایہ کرتا ہے کہ وہ تشدد اور ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو اپنی طاقت کا تجربہ کراتا ہے۔ کیونکہ ڈر کی نفسیات اسی طریقہ کے ذریعہ پیدا کی جا سکتی ہے۔ p. 417

مگر تاجر کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ تاجر کا مقصد لوگوں کو اپنا گرویدہ بنانا ہے۔ گرویدہ ہونے کے بعد ہی کوئی شخص ایک تاجر کے سامنے اپنی جیب خالی کرنے پر راضی ہو سکتا ہے۔ اس لئے تاجر محبت اور صلح کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ کیونکہ محبت اور صلح کے ذریعہ ہی وہ کسی کو اپنا گاہک بنا سکتا ہے۔ p. 417

اسلام ایک دعوتی مذہب ہے۔ اس لئے اسلام اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ دادا والا طریقہ اختیار کرے۔ اسلام کے لئے صرف تاجر والا طریقہ ہی مفید اور کارگر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں یک طرفہ حسن سلوک پر زور دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں جنگ کے بجائے صلح اور تشدد کے بجائے امن کی تاکید کی گئی ہے۔ p. 417

اسلام کا مقصد لوگوں کا ذہن بدلنا اور ان کا دل جیتنا ہے۔ اور اس قسم کا سنجیدہ کام صرف پرامن طور پر ہی انجام دیا جا سکتا ہے۔ تشدد کا طریقہ اسلام کی راہ میں رکاوٹ ہے نہ کہ معاون۔ p. 417

………… p. 418

دین انسانیت p. 418

اسلام دینِ انسانیت ہے۔ خدا نے بار بار اپنے پیغمبروں کے ذریعے ہدایت نامہ بھیجا۔ اسی خدائی ہدایت نامے کے محفوظ ایڈیشن کا نام اسلام ہے___ زیر نظر کتاب میں اسی پہلو سے اسلام کا فکری مطالعہ کیا گیا ہے۔ p. 418