Al-Risala December 2014

ترتیبِ قرآن

Al-Risala December 2014 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (35 chapters)
  1. الرسالہ - December 2014
  2. استثنائی دنیا
  3. دورِمعرفت
  4. پیغمبر کا رول
  5. انسان کی تخلیق کس لیے
  6. ایک حدیث ِ رسول
  7. اصحابِ رسول کا نمونہ
  8. فطرت کا عطیہ
  9. آلاء اللہ کا مطلب
  10. ایک آزمائش
  11. دعوت کی توسیع
  12. ہدایت اور ضلالت
  13. ایک انسانی کمزوری
  14. خدا کی سنت
  15. دو ذمّے داری
  16. فریکونسی کا مسئلہ
  17. پیغمبر کا اُسوہ
  18. الرسالہ مشن کا دوسرا دور
  19. امت ِ مسلمہ کا کیس
  20. غلو کیا ہے
  21. حیاتِ انسانی کی توجیہہ
  22. ترتیبِ قرآن
  23. پیغمبر متّبعِ قرآن
  24. غلبہ، اہلِ حق کے لیے
  25. تنقید یا الزام تراشی
  26. آخر میں قبر
  27. دینی نہیں بلکہ قومی
  28. زندگی المیہ کیوں
  29. ٹماٹر یا لال بیگن
  30. دعوتی اسپرٹ
  31. شکایت کا نقصان
  32. وقت کا سرمایہ
  33. اسپرٹ آف اسلام
  34. سوال وجواب
  35. خبر نامہ اسلامی مرکز— 230

ترتیبِ قرآن

قرآن 23 سال کی مدت میں نجماً نجماً (قسط وار) اترا- قرآن میں پہلے وہ سورتیں نازل ہوئیں جن کو مکی سورتیں کہاجاتا ہے- اس کے بعد قرآن کی وہ سورتیں نازل ہوئیں جن کو مدنی سورتیں کہاجاتا ہے- لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانے میں قرآن کو جس انداز میں مرتب کرکے امت کے حوالے کیا، وہ نزولی ترتیب سے مختلف تھا- یہاں یہ سوال ہے کہ کیوں ایسا ہے کہ قرآن میں تلاوت کی ترتیب اُس سے مختلف ہے جو نزول کے اعتبار سے اُس کی ترتیب تھی-unverified

اِس کا سبب یہ ہے کہ قرآن کوئی تاریخ کی کتاب نہیں ہے- قرآن اصلاحِ انسانیت کی کتاب ہے- اِسی اصلاح کی حکمت کی بنا پر، ابتدائی دور میں قرآن اپنے معاصر حالات (contemporary situation)کے اعتبار سے اترا- لیکن بعد کو اُس کی ترتیب،ابدی حالات کے اعتبار سے کی گئی- یعنی وہ حالات جو بعد کے زمانے میں انسانیت کو پیش آنے والے تھے-

ترتیب کا یہ فرق بالکل فطری ہے- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مکہ اور مدینہ کے جو حالات تھے، اُن حالات کی نسبت سے قرآن کی آیتیں اور سو رتیں وقت وقت پر اترتی رہیں- لیکن قرآن ساری انسانیت کے لیے ہے- نزول کے اعتبار سے اُس میں معاصر حالات کی رعایت تھی- مگر موجودہ ترتیب میں وہ اِس طرح مرتب کیا گیا ہےکہ وہ بعد کے حالات پر منطبق ہوتا رہے-

مثال کے طور پر، بعد کے زمانے میں عملی طورپر ایسا ہونے والا تھا کہ امت ِ مسلمہ قرآن کی مخاطب بن جائے، اِس لئے موجودہ مصحف میں اُن سورتوں کو مقدم کردیاگیا ہے، جن میں زوال یا فتہ یہود کا ذکر تھا، تاکہ مسلمان اپنے دور زوال میں یہود کے حالات سے سبق لیں اور اپنی اصلاح کرسکیں، حالانکہ یہ سورتیں مدنی سورتیں تھیں، جو کہ بعد کے زمانے میں نازل ہوئیں-unverified