Al-Risala April 2018

کامیاب منصوبہ بندی

Al-Risala April 2018 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (39 chapters)
  1. الرسالہ - April 2018
  2. مقالید السماوات والارض
  3. احسن العمل کا انتخاب
  4. ابدی جنت
  5. اللہ کا ذکر
  6. قرآن فہمی کا معیار
  7. پر امید آیات و احادیث
  8. اللہ سے امید
  9. آخرت کا مضمون
  10. ہر ایک کے لیے خیر
  11. انسان اور کائنات
  12. غیر حقیقت پسندانہ منصوبہ
  13. اہل مغرب کا کنٹری بیوشن
  14. اجماع کی حقیقت
  15. اجتہاد کیا ہے
  16. منسوخ، موقوف
  17. انٹلکچول ٹریپ
  18. ملت ابراہیم
  19. خدا کا وجود
  20. کامیاب منصوبہ بندی
  21. قیام لیل
  22. جہاد کا حکم
  23. دعوت کا اسلوب
  24. خلاق علیم
  25. مسجد کا مسئلہ
  26. سیاسی کنڈیشننگ میں جینا
  27. مشکل حالات
  28. ختم نبوت کا عقیدہ
  29. بڑھاپا رمائنڈر کا زمانہ
  30. غیر متحقق بات کا چرچا
  31. اپنے خلاف
  32. منفی تجربہ
  33. لرننگ اسپرٹ
  34. اسٹیج کا فتنہ
  35. کام کی قیمت
  36. کامیاب شادی
  37. مس ایڈونچرزم
  38. سوال و جواب
  39. خبرنامہ اسلامی مرکز — 258

کامیاب منصوبہ بندی

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے سن 6 ہجری کے آخر میں مکہ کے لیڈروں سے ایک معاہدہ کیا تھا۔ جو حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ عام طور پر حدیبیہ کو غزوۃ الحدیبیہ کہاجاتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں۔ کیوں کہ حدیبیہ کے موقع پر فریقین کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس، جو ہوا وہ یہ تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان باہمی امن کا معاہدہ ہوا۔

الحدیبیہ عرب کے ایک علاقہ کا نام ہے، جو مدینہ اور مکہ کے تقریباً درمیانی مقام پر واقع ہے۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نےایک پروگرام کے تحت یہاں دوہفتہ قیام کیا۔ یہاں آپ نے مکہ کے لیڈروں سے گفت و شنید (negotiation) کی۔ اس کے بعد فریقَین کے درمیان دس سال کے لیےایک ناجنگ معاہدہ (no-war pact) ہوا۔ اس معاہدہ کی تکمیل کے بعد مدینہ پہنچنے سے پہلے وہ سورہ نازل ہوئی جو الفتح کے نام سے قرآن میں شامل ہے۔ اس سورہ میں حدیبیہ کے واقعہ کو فتح مبین (clear victory) بتایا گیا ہے۔original + quote

جب حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا، اس وقت اہل اسلام کو کوئی فتح حاصل نہیں ہوئی تھی۔ صرف یہ ہوا تھا کہ فریقَین کے درمیان امن کا معاہدہ ( peace treaty)عمل میں آیا تھا۔ ایسی حالت میں اس واقعہ کو فتح مبین کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ لفظ حال کی نسبت سے نہیں، بلکہ مستقبل کی نسبت سے تھا۔ اس اعتبار سے فتح مبین کا مطلب گویا فاتحانہ منصوبہ (victorious planning) کے ہم معنی ہے۔ رسول اللہ کی سنتوں میں سےایک اہم سنت وہ ہے جس کو فاتحانہ منصوبہ بندی کہا جاسکتا ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب مدینہ سے نکلے تھے، مکہ جانے کے لیے ۔ لیکن وہ معاہدہ کے مطابق حدیبیہ سے واپس مدینہ آگیے۔ اس لحاظ سےحدیبیہ کا واقعہ بظاہر ایک پسپائی کا واقعہ تھا۔ پھر اس کو فتح مبین کیوں کہا گیا۔ وہ اس لیے تھا کہ حدیبیہ کی بظاہر پسپائی اپنے نتیجے کے اعتبار سے فتح مبین تھی۔