Shatm-e-Rasool Ka Masla

پیغمبر اور مستہزئین

Shatm-e-Rasool Ka Masla — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (111 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. اسلام مغربی لٹریچر میں
  3. عرض مترجم
  4. شتم رسول کا مسئلہ
  5. امت کا فکری زوال
  6. قرانی پیٹرن کے بجائے فقہی پیٹرن
  7. مقصد تخلیق
  8. یہ اسلام نہیں
  9. جہاد یا سر کشی
  10. جذبات کا اعتبار نہیں
  11. دوسرا باب رشدی کی کہانی
  12. جوابی انعام
  13. اسلام کی تصویر بگاڑنا
  14. ریاض کانفرنس کا فیصلہ
  15. ایک مغالطہ
  16. مضحکہ خیز ردعمل
  17. سورج پر خاک
  18. سطحی کتاب
  19. کتاب کا مضمون
  20. مسلمہ عظمت
  21. فرضی افسانہ
  22. غلط بیانی
  23. ایک مثال
  24. اطاعت یا سر کشی
  25. چند مثالیں
  26. تعمیل حکم یا سر کشی
  27. حکمت اعراض
  28. حضرت عمر کا قول
  29. پرنٹ میڈیا، الکٹرانک میڈیا
  30. دور ازادی
  31. زیادہ بڑی سزا
  32. تیسرا باب شتم و ارتداد
  33. فقہی مسئلہ، شرعی مسئلہ
  34. قول بلا فعل
  35. سامان تضحیک
  36. متفرقات
  37. اخباری بیان
  38. ایک ملاقات
  39. غلط ترجمانی
  40. اشتعال انگیزی نہیں
  41. ملاحظات
  42. جلوس کی سیاست
  43. چند تبصرے
  44. دونوں یکساں
  45. ناقابل فہم
  46. قلم کا جواب قلم
  47. شاتم رسول کی سزا
  48. ابن تیمیہ کی کتاب
  49. ذاتی حق کامعاملہ نہیں
  50. دفاع نہ کہ حد
  51. قیاسی مسئلہ
  52. قران سے استدلال
  53. حدیث سے استدلال
  54. فقہ سے استدلال
  55. پیغمبر اور مستہزئین
  56. زیادہ بڑا مجرم
  57. چوتھا باب مصلحت دعوت
  58. حالات سے بلند ہو کر
  59. پیغمبر کا نمونہ
  60. دعوتی تصویر
  61. بدنامی سے بچت
  62. مزید مثالیں
  63. زیادہ قابل لحاظ
  64. اغیار کو موقع نہ دینا
  65. دو اقتباس
  66. دور اول کی مثال
  67. مستقبل پر نظر
  68. اگلی نسلوں کا انتظار
  69. اج کا دشمن کل کا دوست
  70. اسلام قبول کرنے کے بعد
  71. خدائی ضمانت
  72. خدائی حفاظت
  73. اصل ذمہ داری سے غفلت
  74. پہلا کام اتمام حجت
  75. شتم رسول کا مسئلہ
  76. ڈائری سے انتخاب
  77. پانچواں باب جدید ذہن اور اسلام
  78. ہجر جمیل
  79. غیر فطری رد عمل
  80. دعوت کے حدود
  81. کارٹون
  82. پیغمبر کے نام پر غیر پیغمبرانہ روش
  83. اعراض کی ضرورت
  84. کارٹون کا مسئلہ
  85. بے فائدہ عمل
  86. جذباتی ہنگامہ ارائی
  87. دو اپشن
  88. قصاص کا اصول
  89. پرامن احتجاج
  90. حبل اللہ، حبل الناس
  91. سماجی جرم، اعتقادی جرم
  92. سزا کا تعلق خدا سے
  93. عفوودرگزر کا حکم
  94. شتم اور ارتداد
  95. تاریخ کا سبق
  96. قومی توہین
  97. توہین رسول
  98. دلیل یا سزا
  99. اختلاف رائے کا کیس
  100. تحفظ نبوت، تحفظ کار نبوت
  101. مثبت جواب
  102. نبی رحمت کا طریقہ
  103. خاتمہ سوچنے کی بات
  104. اصل مسئلہ
  105. جدید اسلامی لٹریچر
  106. مثبت طریق کار
  107. قابل تقلید نمونہ
  108. خاموشی کی طاقت
  109. اصل کام
  110. سوال و جواب
  111. خاتمہ کلام

پیغمبر اور مستہزئین p. 184

واقعات بتاتے ہیں کہ جس طرح دوسرے نبیوں کا استہزاء کیا گیااسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی استہزاء کیا گیا۔ اس سلسلہ میں بے شمار واقعات حدیث اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب آپ کے ساتھ استہزاء اور اہانت کا معاملہ کیا گیا تو اس کےجواب میں آپ نے کیا کیا۔ تا کہ آپ کے بعد جب اس قسم کے واقعات پیش آئیں تو ہم اس معاملہ میںاسی اسوۂ نبوی کو اختیار کریں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اعتبار سے ہمارے لیے نمونہ ہیں۔ اور یقیناً اس معاملہ میں بھی ہمیں اسی نمونہ کو اختیار کرنا چاہیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ذاتی عمل سے ہمارے لیے چھوڑا ہے۔ p. 184

حدیث اور سیرت کی کتابو ںمیں اس نوعیت کے جو واقعات ہیں ، ان کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد یہ حقیقت سا منے آتی ہے کہ آپ نے ان واقعات کو مسئلہ کی نظر سے دیکھا، نہ کہ سادہ طور پر محض گستاخی کی نظر سے۔ کسی واقعہ کو مسئلہ کی نظر سے دیکھا جائے تو اس سے حل تلاش کرنے کا ذہن پیدا ہو تا ہے۔اس کے بر عکس اگر اس کو گستاخی کی نظر سے دیکھیے تو صرف انتقام کا جذبہ ابھرے گا۔ p. 184

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ بتا تا ہے کہ آپ نے اس طرح کے واقعات کو کبھی گستاخی اور تو ہین کی نظر سے نہیں دیکھا اور نہ کبھی ان کا انتقام لینے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں آپ کی کئی سنتیںہمیں ملتی ہیں۔ اور یہ بالکل فطری ہے۔ کیونکہ جب مسئلہ کو حل کرنے کی نظر سے دیکھا جائے تو حالات کے اعتبار سے لازماً اس کے طریقے مختلف ہو جائیںگے۔ p. 185original + quote

1۔اس سلسلہ میں سب سے پہلی قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ’’ گستاخی‘‘ کے واقعات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی وہ طریقہ اختیار نہیں کیا جو موجودہ زمانہ کے مسلمان مستقل اور مسلسل طور پر اختیار کیے ہو ئے ہیں۔ یعنی گستاخ آدمی کے خلاف شور وغل اور ایجی ٹیشن کرنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بار بار گستاخی اور اذیت رسانی کے واقعات پیش آئے، مگر ایک بار بھی آپ نے ان کے خلاف عمومی احتجاج کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ p. 185

اس کی وجہ بالکل واضح ہے۔ گستاخی کی بات کو عوامی ایجی ٹیشن کا موضوع بنانا خودگستاخ شخص کے ساتھ تعاون کرنے کے ہم معنی ہے۔ کیونکہ اس طرح اس کی بات مزید پھیلتی ہے، وہ مزید شہرت حاصل کرتی ہے۔ اس طرح کے معاملہ میں عوامی ایجی ٹیشن کا الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا (counter productive) ہے ۔ p. 185

اس کی ایک مثال سلمان رشدی کی کتاب شیطانی آیات(Satanic Verses) کا معاملہ ہے۔ یہ کتاب بلاشبہ ایک بے ہودہ کتاب ہے۔ عام حالات میں اس کوبمشکل چند ہزار آدمی پڑھتے ۔ مگر مسلمانوں کے ناقابل فہم حد تک بے معنی ایجی ٹیشن کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ انگریزی کتابوں کی مارکیٹ میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب(Best Seller)بن گئی۔ نیویارک کی ڈیٹ لائن کے ساتھ ٹائمس آف انڈیا(17مارچ1989) میں یہ خبر شائع ہو ئی ہے کہ نیویارک ٹائمز کے جائزے کے مطابق موجودہ ناولوں میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب شیطانی آیت ہے p. 185original + quote

'''Satanic Verses' has become the no. 1 book on The New York Times best-seller list of hard cover fiction.'' p. 186

ٹائم میگزین نے اپنے شمارہ 27فروری1989میں رشدی کی کتاب کے بارے میں اپنی رپورٹ شائع کی تھی۔ اس کو پڑھ کر ٹائم کے دفتر میں 240خطوط آئے۔ ان میں سے ایک خط مارگریٹ ڈورٹیز (Margareta du Rietz)کا تھا ۔انھوں نے اپنے خط میں لکھا کہ بہت ہی کم لوگوں نے اس کتاب کی طرف تو جہ کی تھی۔ مگر خمینی کا بھلا ہو ، اب وہ ایک عالمی شہرت یافتہ کتاب ہے۔ p. 186

''Very few took note of this novel. Now, thanks to Khomeini, it is world famous.'' p. 186

سلمان رشدی نے اپنےبے ہودہ خیالات صرف اپنی کتاب میں لکھے تھے۔ مگر مسلمانوں کے شورو غل کا نتیجہ یہ ہوا اس کی باتیں تمام دنیا کے اخبارات ورسائل میں چھپیں۔ بے شمار لوگ غیر ضروری طور پر اس کی کتاب کو پڑھنے کے شائق ہو گئے۔ اب امریکا میں 20زبانوں میں اس کتاب کا ترجمہ شائع کیا جارہا ہے تا کہ جولوگ انگریزی نہیں جانتے وہ بھی اس ’’ شہرت یافتہ‘‘ کتاب کو پڑھ سکیں۔ مسلمانوں کے اس احمقانہ اقدام کا آخری احمقانہ نتیجہ یہ ہے کہ ’’سلمان رشدی کو قتل کرو‘‘ کے نام پر جو ہنگامہ کھڑا کیا گیا، اس میں خود مسلمان درجنوں کی تعداد میں قتل اور سیکڑوں کی تعداد میں زخمی ہو گئے۔ اور خود سلمان رشدی ادبی ہیرو بن کر برطانیہ کی شاہی حفاظت میں بیٹھا ہوا ہے۔ p. 186

2۔اہانتِ رسول کے اس طرح کے واقعات پر مسلم رہنماؤںکی طرف سے جو بیانات دیے جاتے ہیں، ان میں عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ اس سے کروروں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہو ئے ہیں۔ یہ سراسر ایک غیر اسلامی جملہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مواقع پر کبھی یہ الفاظ استعمال نہیں کیے۔ مزید یہ کہ اسلام کے ’’کریمنل کوڈ‘‘ میں ایسی کو ئی دفعہ نہیں ہے جس میں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہو نے کو فوجداری جرم قرار دیا گیا ہو اور اس پر موت کی سزا مقرر کی جائے۔ یہ بلاشبہ شریعتِ اسلامی میں ایک اضافہ ہے کہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہو نے کو ایک قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دیا جائے۔ اس قسم کے بیانات دینا سب سے پہلے دینے والے کو مجرم ثابت کرتا ہے ، نہ کہ گستاخی کرنے والے کو۔ p. 186

3۔ سلمان رشدی کے سلسلہ میں مسلم رہنماؤں کی طرف سے جو بیانات شائع ہو ئے ہیں ان میں عام طور پر ’’ جہنم رسید‘‘کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ ہر بیان باز لیڈر جوش وخروش کے ساتھ یہ اعلان کر رہا ہے کہ سلمان رشدی کے جرم کے نتیجہ میں اس کو جلد از جلد جہنم رسید کیا جائے۔ p. 187opposing view

مسلم رہنماؤ ں کے یہ الفاظ سرکشی اور بغاوت کے ہم معنی ہیں۔ کیونکہ جہنم رسید کرنے کا اختیار صرف خدا کو ہے ، نہ کہ کسی انسان کو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بہت سے کافروں اور مشرکوں اور منافقوں نے آپ کے خلاف بد ترین قسم کے جرائم کیے۔ مگر ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ الفاظ بولیں کہ فلاں شخص کو قتل کر کے اس کو جہنم رسید کرو۔ ایسے الفاظ بولنا گو یا اپنے آپ کو خدا کی سیٹ پر بیٹھانا ہے۔ رشدی نے اگر پیغمبر کی ذات پر حملہ کیا ہے تو ایسے جملے خود خدا کی ذات پر حملہ کرنے کے ہم معنی ہے۔ اب ایسے لوگ خود سوچیں کہ دونوں میں سے کون سا جرم زیادہ بڑا ہے۔ p. 187

4۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اس طرح کے معاملات میں پیغمبر کا طریقہ ’’ گستاخی‘‘ کے خلاف ایجی ٹیشن کرنے کا نہ تھا بلکہ مسئلہ کو حل کرنے کا تھا۔ چنانچہ حالات کے اعتبار سے آپ نے اس کے حل کے مختلف انداز اختیار کیے۔ p. 187

ایک عام حل یہ تھا کہ ان کو سادہ طور پر نظر انداز کر دیا جائے۔ چنانچہ قرآن میں حکم دیا گیا کہ اے پیغمبر! تم منکروں اور منافقوں کی بات نہ مانو۔ اور ان کے ستانے کو نظر انداز کرو، اور اللہ پر بھروسہ رکھو، اللہ بھروسہ کے لیے کافی ہے(33:48)۔ p. 187original + quote

التفسیر المظہری میں اس آیت کی تشریح یہ کی گئی ہے کہ عبداللہ بن عباس نے اورقتادہ نے کہا کہ لوگ تم کو جو تکلیف دے رہے ہیں اس پر صبر کرو۔ مطلب یہ کہ ان کی ایذا رسانی سے صرف نظر کرو ۔ اس کی پروا نہ کرو، اور نہ اس سے ڈرو ( ’’ اجْعَلْ إِيذَاءَهُمْ إِيَّاكَ فِي جَانِبٍ وَلَا تُبَالِ بِهِ وَلَا تَخَفْ مِنْهُ‘‘)۔ زجاج نے کہا کہ ان سے بحث نہ کرو۔ ان کی باتوں کے پیچھے نہ پڑو۔ اور نہ تم خود انہیں تکلیف پہنچانے کی کوشش کرو۔ اور اللہ پر بھروسہ کرو، وہ یقینا تمہارے لیے کافی ہے (التفسیر المظہری، جلد7، صفحہ 355)۔ p. 188original + quote

یہی پیغمبرانہ سنت ہے جس کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان لفظوں میں بیان فرمایا کہ باطل کو ہلاک کرو اس کے بارے میں چپ رہ کر  ’’ أَمِيتُوا البَاطِلَ بِالصَّمْتِ عَنْهُ‘‘ (دیکھیے،حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، جلد1، صفحہ 55)۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر حالات میں باطل کی موت کے لیے یہ کافی ہو تا ہے کہ اس کی طرف سے خاموشی اختیار کر لی جائے۔ ایسا طریقہ اختیار کرنے کے بعد باطل اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔ پھر جو سانپ لاٹھی کے بغیر مر سکتا ہو، اس کے لیے لاٹھی استعمال کرنے کی کیا ضرورت۔ p. 188original + quote

5۔ایک طریقہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ملتا ہے وہ یہ ہے کہ مخالفین کی باتوں کا جواب دلیل کی زبان میں دیا جائے۔ قدیم زمانہ میں شعر کو وہ مقام حاصل تھا جو موجودہ زمانہ میں صحافت کو حاصل ہے۔ صحافت موجودہ زمانہ میں کسی بات کو وسیع حلقہ میں پھیلانے کا ذریعہ ہے۔ یہی کام قدیم زمانہ میں اشعار سے لیا جاتا تھا۔ p. 188

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے مخالفین اشعار کی صورت میں آپ کی مذمت کرتے تھے۔ مثال کے طور پر ام جمیل نے آپ کے خلاف یہ اشعار کہے p. 188hadith

مُذَمَّمًا عَصَيْنَا ... وَأَمْرَه أَبَيْنَا ... وَدِينَهُ قَلَيْنَا p. 188other source

(سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ356)۔ p. 189

یعنی محمد مذمّت کیے ہو ئے ہیں ہم ان کا انکار کرتے ہیں۔ ہم ان کے حکم کو نہیں مانتے۔ اور ہم کو ان کے دین سے بغض ہے۔ p. 189

مكه ميں آپ نے اس قسم كي باتوں كا كوئي جواب نهيں ديا، مدينه آنے كے بعد اس طرح کے مواقع پر مسلمانوں کے شاعر حضرت حسّان بن ثابت شعر کا جواب شعر میں دیتے تھے۔ مثلاً ابن ہشام نے اپنی سیرت کی کتاب میں ایک مشرک عورت کا ذکر کیا ہے۔ جس نے اسلام اور اہلِ اسلام پر عیب لگاتے ہو ئے کچھ اشعار کہے(فَقَالَتْ، ‌تَعِيبُ ‌الْإِسْلَامَ ‌وَأَهْلَهُ)۔ مذکورہ مشرکہ کے ہجو کے جواب مین حسّان بن ثابت نے اسی بحر میں کچھ اشعار کہے۔ یہ دونوں قسم کے اشعار ابن ہشام نے اپنی سیرت کی کتاب میں نقل کیا ہے(سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ637)۔ p. 189original + quote

اسی طرح ایک موقع پرایک جاہلی شاعر نے اسلام کے خلاف کچھ باتیں کہیں ۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسّان بن ثابت سے کہا کہ اے حسّان، اٹھو اور اس آدمی نے جو کچھ کہا ہے اس کا جواب دو(قُمْ يَا ‌حَسَّانُ، ‌فَأَجِبْ الرَّجُلَ فِيمَا قَالَ. فَقَامَ حَسَّانٌ)۔ چنانچہ حسان اٹھے اور انھوں نے بر جستہ کچھ اشعار وضع کر کے مذکورہ شخص کا جواب دیا (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 564)۔ p. 189original + quote

6۔ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حنین میں )عباس بن مرداس کو چند اونٹ دیے۔ یہ اونٹ اس کو کم معلوم ہو ئے۔ چنانچہ وہ غصہ ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرنے لگا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ میری طرف سے اس کی زبان کاٹ دو۔ اس کے بعد لوگوں نے اس کو مزید اونٹ دیے یہاں تک کہ وہ راضی ہو گیا۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ تھا زبان کا کاٹنا جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھافَكَانَ ذَلِكَ ‌قَطْعَ ‌لِسَانِهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم (سیرت ابن ہشام، جلد4، صفحہ 141)۔ p. 189quoted source

اس مثال سے معلوم ہو تا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں اصل مسئلہ ہجو گو کو سزا دینے کا نہیں ہو تا تھا بلکہ اس کی زبان بند کرنا ہو تا تھا۔ حالات کے اعتبار سے آپ اس کے لیے کوئی ایک یا دوسری تدبیر اختیار فرماتے تھے۔ حتیٰ کہ اگر کسی شخص کے متعلق یہ نظر آتا تھا کہ وہ مال پاکر چپ ہو جائے گا تو آپ اس کو مال دے کر اس کی زبان بندی فرماتے تھے۔ p. 190

7۔ جب مکہ فتح ہوا تو مکہ کے مشرکین آپ کے سامنے لائے گئے۔ یہ وہی لوگ تھے جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہر قسم کا ایذارسانی کا فعل کیا تھا۔ لفظی استہزاء سے لے کر عملی جارحیت تک کو ئی بھی ایسی برائی نہ تھی جو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہ کی ہو۔ عام رواج کے مطابق ان سب کو قتل کر دینا چاہیے تھا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا بلکہ سب کو ایک طرف سے معاف کر دیا۔ اور فرمایا کہ جاؤ تم سب آزاد ہو اذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ (السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر18276)۔ p. 190original + quote

راوی کہتے ہیں کہ مشرکین آپ کے پاس سے نکلے ، گویا کہ وہ قبروں سے نکلے ہوں۔ اس کے بعد وہ اسلام میں داخل ہو گئے فَخَرَجُوا كَأَنَّمَا نُشِرُوا مِنَ الْقُبُورِ فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ (السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر18275)۔ p. 190original + quote

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت بتاتی ہے کہ اذیت پہنچانے والوں کے بارے میں کرنے کا ایک کام یہ ہے کہ انہیں معاف کر دیا جائے۔ حتیٰ کہ اس وقت بھی جب وہ پوری طرح اپنے قابومیں آچکے ہوں، اور ان کا جرم اتنا واضح ہو کہ خود عالمی رواج کے مطابق اس بات کا پورا حق حاصل ہو کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔ p. 190original + quote

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معافی کے بعد ان دشمنوں کا اسلام قبول کرلینا بتاتا ہے کہ وہ کون سی خاص حکمت تھی جس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ایسا فیّاضانہ سلوک کیا۔ وہ حکمت یہ تھی کہ بہترین موقع تھا جب کہ انہیں چھوڑ کر ان کو دوبارہ مسخر کر لیا جائے۔ جو لوگ ماضی میں اسلام کے دشمن تھے، ان کو مستقبل میں اسلام کا دوست اور حامی بنالیا جائے۔ p. 191

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان مجرموں کو معاف کر دیاتو گویا کہ آپ نے ان پر سب سے زیادہ سخت حملہ کیا۔ آپ نے ان کی سابقہ سرکشی اور عناد کو نفسیاتی طور پر قتل کر ڈالا۔ اس غیر معمولی سلوک نے ان کے مصنوعی انسان کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد ان کی ہستی میں جو چیز بچی وہ صرف فطری انسان تھا۔ اس فطری انسان نے عین اپنے اندرونی تقاضے کے تحت اسلام قبول کر لیا۔ p. 191original + quote