Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
حدیبیہ منہاج p. 371
ڈاکٹر مائیکل ہارٹ کی مشہور کتاب(The 100) کا تعارف غالباً مسلم دنیا میں سب سے پہلے الرسالہ(اکتوبر1978) میں چھپا۔ اس میں امریکی مصنف نے تاریخ کے ایک سو انتہائی ممتاز آدمیوں کا انتخاب کیا ہے۔ اور ان پر مضامین لکھے ہیں۔ اس سلسلہ میں مصنف نے اپنی فہرست میں نمبر ایک پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رکھا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ محمدؐ تاریخ کے سب سے زیادہ کامیاب انسان(supremely successful man) تھے۔ p. 371other source
الرسالہ میں اس مضمون کی اشاعت کے بعد ہمارے پاس کثرت سے مسلمانوں کے خطو ط آئے۔ ہر خط میں یہ پوچھا گیا تھا کہ مذکورہ کتاب کو حاصل کرنے کا پتہ کیا ہے۔ بہت سے لوگوں نے اس کے اردو ترجمہ کی بابت دریافت کیا۔ تاہم لوگوں کی تحریروں سے اندازہ ہوا کہ ہر مکتوب نگار کو صرف سپریملی سکس فل انسان سے دلچسپی تھی، ان میں سے کسی کو بھی اس سے دلچسپی نہ تھی کہ وہ اس سپریملی سکس فل انسان کی سپریم سکس کار از معلوم کرنے کی کوشش کرے۔ p. 371
یہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا عام مزاج ہے۔ اور اس مزاج کا سبب ہیرو ورشپ کی نفسیات ہے۔ موجودہ مسلمانوں نے رسول اور اصحاب رسول کو اپنا ہیرو بنا لیا ہے نہ کہ اپنا عملی نمونہ۔ یہ دراصل ان قوموں کی نفسیات ہے جو خود کوئی کارنامہ انجام نہ دے سکیں۔ ایسے لوگ اپنی تاریخی شخصیتوں کے پرعظمت تذکرہ کو اپنے لئے تسکین کا سامان بنا لیتے ہیں۔ کسی نے نہایت صحیح کہا ہے کہ تاریخ ان لوگوں کی پناہ گاہ ہے جنہوں نے خود کچھ زیادہ نہ کیا ہو جس کی وہ تقریب منائیں p. 372original + quote
History is often the refuge of those who have not done much themselves to celebrate. p. 372
امت مسلمہ جب زندہ حالت میں ہو تو اس کا پیغمبر اس کے لئے نمونہ عمل ہوتا ہے۔ اور امت مسلمہ کے لوگ جب زندہ حالت پر باقی نہ رہیں تووہ اپنے پیغمبر کو اپنے لئے فخر کا نشان بنا لیتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اسی دوسری حالت میں مبتلا ہیں۔ p. 372
موجودہ مسلمانوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لئے فخر کا نشان بنا لیا ہے۔ اور فخر کے جذبہ کی تسکین اسی طرح ہوتی ہے کہ آپ کو سپریملی سکس فل کہا جائے۔ قرآن میں پیغمبر اسلام کو اسوہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے نہ کہ فخر کے طور پر۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: لَقَدْ كانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (33:21) ۔مگر موجودہ مسلمانوں نے اپنی تشریح میں اس کو بدل کر (لقدکان لکم فی رسول اللّٰہ مفخرۃ حسنۃ) بنا دیا ہے۔ p. 372original + quote
قرآن کی تعلیم کے مطابق، ہمارے لئے سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم یہ معلوم کریں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سپریم سکسس کا راز کیا تھا۔ کیونکہ اس راز کو جان کر ہی ہم دوبارہ اسلام کو اعلیٰ کامیابی کے مقام پر پہنچا سکتے ہیں۔ p. 373
اس سوال کو لے کر جب ہم قرآن میں غور کرتے ہیں تو سب سے پہلے ہمارے سامنے قرآن کی وہ سورہ آتی ہے جس کا نام الفتح ہے۔ اس سورۃ میں اس واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ: ہم نے تم کو کھلی فتح دیدی(إِنَّا فَتَحْنا لَكَ فَتْحاً مُبِيناً) 48:1۔ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے جس چیز کو سپریم سکسس بتایا ہے، اس کو قرآن میں فتح مبین کہا گیا ہے۔ p. 373original + quote
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فتح مبین یا سپریم سکسس کس طرح حاصل ہوئی۔ قرآن کی مذکورہ آیت بتاتی ہے کہ آپ کو یہ غیر معمولی فتح صلح حدیبیہ کے ذریعہ اور اس کے بعد حاصل ہوئی۔ قرآن کی مذکورہ آیت صلح حدیبیہ کے بارے میں اتری تھی۔ اس لئے یہاں بطریق نص یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس فتح کاراز وہ مخصوص طریقہ تھا جس کا استعمال حدیبیہ کے واقعہ میں کیا گیا۔ اس کو ہم حدیبیہ منہاج کہہ سکتے ہیں۔ p. 373original + quote
حدیبیہ سے بظاہر آپ اپنے مقصد کو حاصل کئے بغیر واپس آئے تھے۔ چنانچہ حدیبیہ سے مدینہ واپس جاتے ہوئے راستہ میں جب سورہ فتح نازل ہوئی تو ایک شخص نے کہا کہ یہ تو کوئی فتح نہیں۔ انہوں نے ہم کو بیت اللہ میں داخلہ سے روک دیا۔ آپ نے فرمایا۔ بلکہ وہ تمام فتحوں میں سب سے بڑی فتح ہے(قَالَ رَجُلٌ عِنْدَ مُنْصَرَفِهِمْ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ: مَا هَذَا بِفَتْحٍ، لَقَدْ صَدُّونَا عَنِ الْبَيْتِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم:بَلْ هُوَ أَعْظَمُ الْفُتُوحِ) تفسير القرطبي ،جلد16،صفحہ260۔ p. 373original + quote
البراء بن عازب صحابی نے بعد کے لوگوں سے کہا کہ تم لوگ فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو۔ مگر ہم لوگ (اصحاب رسول) حدیبیہ کو فتح سمجھتے تھے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4150)۔ ابن شہاب زہری تابعی نے کہا کہ اسلام میں صلح حدیبیہ کو فتح اعظم کا درجہ حاصل ہے۔(السیرۃ النبویۃ لابن کثیر324/3) p. 374quoted source
یہ جو کچھ کہاگیا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کو جو عظیم کامیابی ملی، اس کاراز صلح حدیبیہ تھا۔ اسلام کا قافلہ حدیبیہ سے گزر کر فتح اعظم کے درجہ کو پہنچا۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اہل اسلام کے لئے فتح اعظم یا سپریم سکسس کے مقام تک پہنچنے کا ذریعہ یہ ہے کہ وہ حدیبیہ منہاج کو اختیار کریں۔ p. 374
اب غور کیجئے کہ حدیبیہ منہاج کیا ہے۔ یہ تمام قربانیوں میں سب سے بڑی قربانی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اصحاب رسول جیسے فدا کاروں کا گرو بھی اس معاملہ میں وقتی طور پر متزلزل ہوگیا اور نہایت دشواریوں کے ساتھ اس امتحان میں پورا اتر سکا۔ p. 374
اصحاب رسول کے سامنے بدر اور احد کے محاذ آئے جس میں انہیں اپنی جانوں کی قربانی پیش کرنی تھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اصحاب رسول کسی سستی اور تذبذب کے بغیر اس میدان میں کود پڑے۔ انہوں نے خون بہا کر اپنی جان بازی اور قربانی کا ثبوت دیا۔ p. 374
دوسری طرف تاریخ بتاتی ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کا معاہدہ کر لیا اور عمرہ کئے بغیر مدینہ کی طرف واپس جانے پر راضی ہوگئے تو ایک ابوبکر صدیق کو چھوڑ کر تمام اصحاب رسول نے اس پر اپنی عدم رضا مندی کا اظہار کیا۔ کوئی بھی اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید اصرار اور دباؤ کے تحت آخر کار وہ اس پر راضی ہوئے۔ p. 374
یہاں سوچنے کی بات ہے کہ بدر واحد میں اور حدیبیہ میں کیا فرق ہے کہ اصحاب رسول جیسا سرفروش گروہ بدر واحد کی قربانی کے لئے بخوشی راضی ہوگیا مگر حدیبیہ کی قربانی پر راضی ہونا اس کے لئے سخت مشکل بن گیا۔ p. 375
اس کی وجہ یہ ہے کہ بدر واحد کے محاذ پر جان کی قربانی دینا تھا، اور حدیبیہ کے محاذ پر وقار کی قربانی دینے کا مسئلہ تھا۔ اور سارسی تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ انسان کے لئے جان کی قربانی اتنی آسان ہے کہ ساری معلوم تاریخ میں بے شمار لوگ مسلسل جان کی قربانی دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن وقار کی قربانی اتنی زیادہ مشکل ہے کہ معلوم تاریخ میں چند اللہ کے بندوں کے سوا کوئی بھی دکھائی نہیں دیتا جو واقعی رضا مندی کے ساتھ وقار کی قربانی دینے پر آمادہ ہو جائے۔ p. 375
اس کی وجہ یہ ہے کہ جان کی قربانی میں آدمی ہیرو بن رہا ہوتا ہے جب کہ وقار کی قربانی میں وہ اچانک زیر و بن جاتا ہے۔ جان کی قربانی میں وہ اپنے آپ کو فتح کی طرف جاتا ہوا دیکھتا ہے اور وقار کی قربانی میں وہ محسوس کرتا ہے کہ میں نے خود اپنے فیصلہ سے شکست کو قبول کر لیا۔ جان کی قربانی بظاہر ایک عزت کا عمل ہے اور وقار کی قربانی اس کے برعکس بے عزتی کا عمل۔ جان کی قربانی میں آگے بڑھنا ہوتا ہے اور وقار کی قربانی میں پیچھے ہٹ جانا۔ جان کی قربانی میں اقدام کا سہرا بندھتا ہے اور وقار کی قربانی میں پسپائی کا الزام سہنا پڑتا ہے___ یہی وجہ ہے کہ جان کی قربانی چھوٹی قربانی ہے اور وقار کی قربانی زیادہ بڑی قربانی۔ p. 375
یہ ایک معلوم بات ہے کہ جتنی بڑی قربانی اتنی ہی بڑی کامیابی۔ سب سے بڑی کامیابی کسی کو صرف اس وقت ملتی ہے جب کہ وہ سب سے بڑی قربانی دینے کے لئے تیار ہو۔ رسول اور اصحاب رسول نے چونکہ حدیبیہ کے موقع پر سب سے بڑی قربانی دی اسی لئے وہ اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی کے مستحق قرار پائے۔ p. 375
حدیبیہ منہاج میں وہ کون سی خصوصی طاقت ہے جس کی بنا پر وہ فتح مبین کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ اس کا سراغ اس واقعہ میں ملتا ہے کہ ذوالقعدہ6ھ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے مکہ کا سفر فرمایا، اس وقت آپ کے ساتھ جو مردان کار تھے، ان کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے بھی کم تھی۔ مگر اس کے دو سال سے بھی کم عرصہ بعد رمضان8ھ میں جب آپ نے دوبارہ مکہ کی طرف مارچ کیا تو آپ کے ساتھ مردان کار کی تعداد دس ہزار ہو چکی تھی۔ پہلے سفر میں اہل مکہ نے آپ کو حدیبیہ کے مقام سے لوٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ دوسرے سفر میں آپ کے عظیم قافلہ کو دیکھ کر وہ اتنا مرعوب ہوئے کہ مقابلہ کے بغیر انہوں نے شکست قبول کرلی۔ p. 376
اس سے معلوم ہوا کہ حدیبیہ منہاج انسانی تسخیر کا منہاج ہے۔ حربی منہاج میں انسانوں کے جسم کو قتل کیا جاتا ہے۔ اور حدیبیہ منہاج میں انسانوں کی روح کو مسخر کیا جاتا ہے۔ جنگ کا منہاج یہ ہے کہ دشمن کا خاتمہ کرکے اس کے اوپر قبضہ کیا جائے۔ حدیبیہ منہاج یہ ہے کہ دشمن کو دوست بنا کر اس کو اپنی صف میں شامل کر لیا جائے۔ جنگ کے منھاج میں صاحب منہاج کا ہاتھ لوگوں کی گردن پر ہوتا ہے اور حدیبیہ کے منہاج میں صاحب منہاج کا ہاتھ لوگوں کے قلوب پر۔ جنگ کا منہاج دوسروں کو مٹا کر اپنا غلبہ قائم کرنا ہے اور حدیبیہ کا منہاج لوگوں کو شریک کرکے حق کو سربلند کرنا ہے۔ جنگ کا منہاج اگر صرف میں کا نام ہے تو حدیبیہ منہاج میں اور آپ دونوں کا نام۔ جنگ کے منہاج میں نفرت کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے اور حدیبیہ کے منہاج میں محبت کامیابی کی منزل تک پہنچاتی ہے۔ p. 376
حدیبیہ کا واقعہ نبوت کے تقریباً20 سال بعد پیش آیا۔ غور کیجئے کہ ایسا کیوں ہوا۔ اس طریقہ کو اختیار کرنے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی۔ حدیبیہ منہاج کے اس پہلو پر غور کیا جائے تو اس سے ایک اور عظیم حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے۔ p. 376original + quote
اس معاملہ کا سراغ سورہ الفتح کے مطالعہ سے ملتا ہے۔ اس میں اصحاب رسول کو مخاطب کرکے بتایا گیا ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر جب قریش کے سرداروں نے سرکشی کا مظاہرہ کیا تو یہ ممکن تھا کہ تم کو جنگ کی اجازت دیدی جائے اور اللہ کی مدد سے تمہیں فتح بھی حاصل ہو۔ مگر ایک خاص مصلحت کی وجہ سے تم کو جنگ کی اجازت نہیں دی گئی۔ p. 376original + quote
وہ مصلحت یہ تھی کہ مکہ میں اس وقت بہت سے مرد اور عورت تھے جن کے دل میں اسلام داخل ہو چکا تھا۔ مگر انہوں نے چونکہ ابھی اپنے اسلام کا اعلان نہیں کیا تھا، اس لئے تم ان کو نہیں جانتے تھے۔ گویا کہ امکانی طور پر وہ مسلمان تھے۔ اگر دونوں فریقوں میں جنگ چھڑتی تو یہ لوگ بھی اس میں مارے جاتے۔ تم لاعلمی میں اہل انکار کے ساتھ اہل اقرار کو بھی پیس ڈالتے۔ اور بلاشبہ یہ بہت بڑا نقصان ہوتا۔(الفتح25-22) p. 376original + quote
پھر فرمایا کہ اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہ جانی(فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا) 48:27۔اس علم کی بنا پر حدیبیہ کے موقع پر یہ ہدایت دی گئی کہ یک طرفہ شرط ماننا ہو تب بھی اس کو مان کر سرداران مکہ سے صلح کر لو۔ تاکہ ان امکانی مسلمانوں کو یہ موقع مل جائے کہ وہ اپنے پوشیدہ ایمان کا اعلان کرکے اسلام کی صفوں میں داخل ہو جائیں۔ p. 377original + quote
اس صورت حال کا پس منظر یہ ہے کہ عرب کے لوگ(بنو اسماعیل) عموماً سادہ مزاج تھے اور اپنی فطرت پر قائم تھے۔ ان کا شرک اوپری قسم کا تھا، وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ ان کے اندر سرایت نہیں کر سکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں کثرت سے ایسے واقعات ملتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا ہے۔ وہ سادہ قسم کے سوالات کرتا ہے اور اس کے بعد یا تو آپ کی صداقت کا اعتراف کر لیتا ہے یا اسی وقت کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیتا ہے۔ p. 377
مثلاً عمرو بن عبسہ ایک صحابی ہیں۔ وہ اولاً مکہ میں آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ اور آپ سے کہا کہ جو کچھ اللہ نے آپ کو بتایا ہے اس میں سے مجھے بتایئے(علّمِنیِ ممّا عَلّمک اللہ) آپ انہیں توحید، صلہ رحمی اور حسن اخلاق کی باتیں بتاتے ہیں۔ وہ فوراً کہہ اٹھتے ہیں کہ کتنی اچھی یہ باتیں ہیں جن کے ساتھ اللہ نے آپ کو بھیجا ہے(نِعْمَ ما أُرْسِلْتَ به) الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد4، صفحہ204۔ p. 377original + quote
اس طرح کے واقعات کثرت سے سیرت اور حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم عربوں کا بگاڑ اوپری نوعیت کا تھا۔ ان کی اصل شخصیت فطری حالت پر قائم تھی اور معمولی تحریک سے حق کو پہچان لیتی تھی۔ p. 377
قدیم عربوں کی اسی سادگی کا نتیجہ تھا کہ ان کے چند سرداروں کو چھوڑ کر عام عربوں کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار زیادہ تر غلط فہمی کی بنا پر تھا، نہ کہ حقیقۃً سرکشی کی بنا پر ۔اپنے اسی مزاج کی بنا پر انہیں یہ جرأت ہوئی کہ بدر کی جنگ سے پہلے وہ دعا کریں جس کا ذکر سورہ انفال (9:19)میں کیا گیا ہے۔ p. 378original + quote
تاریخ بتاتی ہے کہ مکہ کے لوگ جب ایک ہزار کی تعداد میں مکہ سے نکل کر بدر کی طرف روانہ ہوئے تاکہ رسول اور اصحاب رسول سے جنگ کریں تو وہ بیت اللہ میں گئے۔ اور کعبہ کے پردے کو پکڑ کر دعائیں کیں۔ اس دعا میں انہو ں نے کہا کہ اے اللہ دونوں گروہوں میں سے جو گروہ زیادہ ہدایت پر ہو اور دونوں دینوں میں سے جو دین زیادہ افضل ہو، تو اس کی مدد فرما اور اس کو فتح دے(فَإِنَّهُمْ لَمَّا نَفَرُوا إِلَى نُصْرَةِ الْعِيرِ تَعَلَّقُوا بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ وَقَالُوا: اللَّهُمَّ اُنْصُرْ أَهْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، وَأَفْضَلَ الدِّينَيْنِ (دلائل النبوة للبيهقي،جلد3،صفحہ75)۔اس کے بعد جب دونوں فریقوں میں ٹکراؤ ہوا تو اہل ایمان کو فتح اور اہل شرک کو شکست ہوئی۔ چنانچہ قرآن میں اہل مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ: اگر تم فیصلہ چاہتے تھے۔ تو فیصلہ تمہارے سامنے آگیا اور اگر تم باز آ جاؤ تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے(8:19)۔ p. 378original + quote
جنگ بدر کی اسی خصوصیت کی بنا پر اس کو یوم الفرقان(8:41) کہا گیا ہے۔ جنگ بدر میں واضح فیصلہ آنے کے بعد عرب کے لوگ، تھوڑے سے سرداروں کو چھوڑ کر، سخت متزلزل ہوگئے۔ ان کا یہ خیال ہوگیا کہ صداقت ہماری طرف نہیں ہے بلکہ محمدؐ کی طرف ہے۔ اس طرح بدر کے بعد عربوں کی اکثریت دین توحید کی طرف مائل ہوگئی۔ تاہم کچھ جابر اور سرکش سرداروں کے خوف سے ہر ایک اپنے ایمان کو چھپائے رہا۔ p. 378original + quote
حقیقت یہ ہے کہ قدیم عرب (بنو اسماعیل) اپنی سادگی اور اپنے فطری مزاج کی بنا پر اول روز ہی سے امکانی طور پر مومن تھے۔ اس کے بعد بدر کے موقع پر خدا سے استفتاح جب الٹی شکل میں برآمد ہوا تو ان کا ابتدائی میلان زیادہ طاقتوررجحان میں تبدیل ہوگیا۔ وہ امکانی طور پر اسلام کے دروازہ پر پہنچ گئے۔ p. 378
اب مسئلہ صرف ایک تھا، اور وہ سردار ان قریش کا تھا۔ وہ اپنی قیادت اور برتری کو قائم رکھنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ چھیڑے ہوئے تھے اور بظاہر اس پر راضی نہ تھے کہ آپ کا اور آپ کے موحدانہ مشن کا خاتمہ کئے بغیر وہ اپنی جنگ جوئی کو ختم کر دیں۔ انہیں سرکش سرداروں کے خوف سے مکہ اور اطراف مکہ کے لوگ اسلا م قبول کرنے سے گھبراتے تھے۔ p. 379
کسی ندی میں پانی بہہ کر آئے اور بیراج کے آہنی گیٹ پر رک جائے۔ اب ایک طرف پانی کے ذخائر ہیں اور دوسری طرف کھیت اور باغات۔ ایسی حالت میں اگر روک دروازہ کو ہٹا دیا جائے تو پانی کا سیلاب اپنے آپ بہہ کر کھیتوں اور باغوں میں پہنچ جائے گا۔ اس کے بعد اس کی ضرورت نہ ہوگی کہ پانی کے ذخیرہ کو ھکا دے کر آگے بڑھایا جائے۔ p. 379
اس وقت قریش کی جنگ جوئی اسی قسم کے ایک روک دروازہ (trap door) جیسی ہوگئی تھی۔ مسئلہ صرف دریائی روک کو ہٹانے کا تھا۔ روک کے ہٹنے کے بعد یقینی تھا کہ ہدایت کا سیلاب اپنے آپ یلغار کرکے لوگوں کے دلو ں میں داخل ہو جائے گا۔ p. 379
قریش سے جنگ جاری رکھنے کے لئے خون کی قربانی درکار تھی۔ اور جنگ کی صورتحال کو ختم کرنے کے لئے وقار کی قربانی کا مسئلہ تھا۔ کیونکہ جنگ دو طرفہ بنیاد پر ہرگز ختم نہیں ہو سکتی جنگ کو ختم کرنے کی واحد صورت یہ تھی کہ اس کو وقار کا مسئلہ بنایا جائے اور یک طرفہ طور پر اپنے وقار کی قربانی دے کر قریش مکہ سے صلح کر لی جائے۔ صلح حدیبیہ اسی قسم کا ایک دور رس معاملہ ہے۔ p. 379
حدیبیہ منہاج یہ ہے کہ مدعو کی طرف سے جب رکاوٹ ختم نہ کی جا رہی ہو تو داعی یک طرفہ جھکاؤ کے ذریعہ اپنی طرف سے رکاوٹ کا خاتمہ کر دے۔ p. 379hadith
اس وقت صورتحال یہ تھی کہ مسلمان اپنے سینہ میں یہ غم لئے ہوئے تھے کہ مکہ کے سرداروں نے ان کو ان کے وطن سے نکالا۔ ان کے گھروں اور جائیدادوں پر قبضہ کیا۔ لڑائیاں چھیڑ کر ان کی عورتوں کو بیوہ اور ان کے بچوں کو یتیم کیا۔ مکہ جا کر عمرہ کرنے میں رکاوٹیں ڈالیں۔ اس قسم کے واقعات انہیں اس پر اکسا رہے تھے کہ قریش سے لڑ کر انتقام لیں اور انہیں ان کے کئے کا سبق دیں۔ p. 380
دوسری طرف یہ صورتحال تھی کہ اگر مسلمان اپنے غموں اور شکایتوں کو بھلا دیں اور اپنے شکایتی جذبات کو دبا کر یکطرفہ طور پر خاتمہ جنگ کے لئے راضی ہو جائیں تو اس کے بعد معتدل فضا پیدا ہو جائے گی۔ معتدل فضا پیدا ہونے کے بعد اسلام کے تعارف کا کام تیزی سے بڑھ جائے گا۔ لوگ جو پہلے ہی سے اسلام کے قریب آ چکے ہیں، حالات کی موافقت انہیں تیزی سے اسلام کی طرف لانا شروع کر دے گی۔ p. 380
قتال نام ہے خون کی قربانی دے کر اسلام کا دفاع کرنے کا۔ حدیبیہ نام ہے وقار کی قربانی دے کر خدا کے بندوں کے لئے خدا کے دین کا دروازہ کھولنے کا۔ یہی فرق یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ ثانی الذکر قربانی اول الذکر قربانی سے زیادہ عظیم ہے۔ p. 380
مسلم نے ابو ہریرہؓ کے واسطہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پسند ہے کہ ہم اپنے اخوان(بھائیوں) کو دیکھیں۔ صحابہ نے کہا کہ کیاہم آپؐ کے اخوان نہیں ہیں اے خدا کے رسول۔ آ پؐ نے فرمایا کہ تم لوگ میرے اصحاب ہو۔ ہمارے اخوان وہ لوگ ہیں جو ابھی نہیں آئے(وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا" قَالُوا: أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ "أَنْتُمْ أَصْحَابِي. وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ) صحيح مسلم،حدیث نمبر249۔ p. 380unverified
ابو عبیدہ بن الجراح نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا امت میں کوئی ہم سے بہتر ہے۔ ہم آپ پر ایمان لائے۔ اور آپ کے ساتھ جہاد کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ وہ لوگ جو میرے اوراوپر ایمان رکھیں اور انہوں نے مجھ کو دیکھا نہ ہوگا(يَا رَسُولَ اللهِ أَحَدٌ خَيْرٌ مِنَّا آمَنَّا بِكَ وَجَاهَدْنَا مَعَكَ؟ قَالَ: قَوْمٌ يَجِيئُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي) المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 3538۔ p. 381quoted source
اس حدیث میں لَم یرَوۡنیِ محض لفظی معنوں میں نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ایک ایسا پیغمبر جو بعد کے زمانہ میں تاریخ کی سب سے بڑی شخصیت بننے والا ہو، جس کی عظمت مسلمہ عظمت کا درجہ حاصل کرنے والی ہو، اس کو ماننا کوئی امتیازی خصوصیت کی بات نہیں ہو سکتی۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس کو کسی معنوی مفہوم میں لیا جائے۔ p. 381
اس کا مطلب یہ ہے کہ جس پیغمبر کی منشاء کو دور اول کے اصحاب رسول نے براہ راست طور پر پیغمبر کو دیکھ کر اور اس سے سن کر مانا تھا، اس پیغمبر کی منشاء کو بعد کے اخوان رسول دیکھے اور سنے بغیر ذاتی دریافت کے ذریعہ معلوم کریں۔ اس معاملہ کی وضاحت ایک مثال سے بخوبی ہوتی ہے۔ p. 381
اصحاب رسول کے سامنے بدر اور احد کا محاذ آیا۔ یہ محاذ جان کی قربانی کا طالب تھا۔ اصحاب رسول نے بلاتامل یہ قربانی پیش کر دی۔ پیغمبر کا اشارہ پاتے ہی وہ بدر واحد کے میدان جہاد میں کود پڑے۔ پھر کسی کو اللہ نے شہادت دی، اور کوئی اس سے غازی بن کر واپس آیا۔ p. 381
انہیں اصحاب رسول کے سامنے دوسرا محاذ وہ آیا جس کو ارباب سیر’’غزوۃ الحدیبیۃ‘‘ کہتے ہیں۔ یہ دوسرا محاذ بھی قربانی کا محاذ تھا۔ البتہ ظاہری طور پر دونوں میں فرق تھا۔ اس دوسرے محاذ پر صرف ایک ابوبکر صدیق کو چھوڑ کر تمام کے تمام صحابہ تشویش میں مبتلا ہوگئے۔ وہی لوگ جنہوں نے پہلے محاذ پر یقین کا مظاہرہ کیا تھا، اس دوسرے محاذ پر شدید تردد میں پڑ گئے۔ یہاں تک کہ پیغمبر کے ذاتی اور شخصی زور پر انہوں نے اس کو قبول کیا۔ p. 382
آج یہی تاریخ دوبارہ مسلمانوں کی طرف لوٹ آئی ہے۔ آج ایک طرف ساری دنیا میں ایسی روحیں موجود ہیں جو بظاہر غیر مسلم ماحول میں ہیں۔ مگر ان کی فطرت دین حق کو قبول کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ لیکن موجودہ زمانہ میں مسلمانوں اور غیر مسلم قوموں کے درمیان ساری دنیا میں نزاع اور ٹکراؤ جاری ہے۔ اس نزاع اور ٹکراؤ نے اس معتدل فضا کا خاتمہ کر دیا ہے جس میں مذکورہ قسم کے غیر مسلم کھلے ذہن کے ساتھ اسلام کو دیکھیں اور اس کو قبول کر لیں۔ p. 382
اب آج مسلمانوں کو دوبارہ وہی قربانی دینا ہے جو صلح حدیبیہ کے وقت اصحاب رسول نے دی تھی۔ ان کو ذاتی شکایتوں کو بھلا دینا پڑا تھا۔ آج بھی حالات کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنی ذاتی اور قومی شکایتوں کو بھلا دیں تاکہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل تعلقات قائم ہو سکیں۔ p. 382
صحابہ کرام نے رسول اللہؐ کو دیکھ کر اور آپ کی براہ راست ذاتی ہدایت پر صبر کی قربانی دی تھی۔ آج مسلمانوں کو رسول اللہ کو دیکھے بغیر صرف آپ کی سیرت کو سامنے رکھتے ہوئے یہی صبر والی قربانی دینا ہے۔ آج کے مسلمان اگر یہ قربانی دے سکیں تو وہ مذکورہ حدیث کے مطابق اخوان رسول قرار پائیں گے، اور بلاشبہ کسی مسلمان کے لئے اس سے بڑی سعادت نہیں ہو سکتی کہ قیامت کے دن اس کا استقبال اخوان رسول کی حیثیت سے کیا جائے۔ p. 382