Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
شکایت کے باوجود p. 167
فتح مکہ کا واقعہ رمضان 8 ھ میں پیش آیا۔ اس کے جلد ہی بعد شوال 8 ھ میں غزوۂ حنین ہوا۔ مکہ کی طرف اقدام سے کچھ ہی پہلے خالد بن الولید نے مدینہ آ کر اسلام قبول کیا تھا۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں مہموں میں حضرت خالد کو مسلم لشکر کا سردار بنا دیا۔ p. 167
یہ بات انصار کے اوپر شاق تھی۔ کیوں کہ انصار کے لوگ بہت پہلے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ایمان لا کر جاں نثاری کر رہے تھے۔ جب کہ حضرت خالد ابھی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ آج کل کی زبان میں یہ گویا سینئر اور جونیئر کو ترجیح دینے کا معاملہ تھا۔ تاہم اس شکایت کے باوجود تمام انصار رسول اللہؐ کے ساتھ رہے، انھوں نے آپ کے ہر حکم کی اطاعت کی۔ p. 167
خاتمۂ جنگ کے بعد عرب رواج کے مطابق شعراء نے اس کے بارے میں اشعار کہے۔ انصار کے ایک شاعر عباس بن مرداس نے بھی اس موقع پر کچھ اشعار کہے۔ اس میں ایک طرف اس شکایت کا بھی تذکرہ تھا کہ آپ نے ہمارے اوپر خالد کو ترجیح دی اور ان کو قوم کے اوپر امیر بنا دیا (فاِن تکُ قد امَّرتَ فی القومِ خالداً)مگر اسی کے ساتھ شاعر نے کہا: p. 168original + quote
وقالَ نبیُّ المؤمنین تقدّمُوا فحُبَّ اِلینا اَن نکونَ اۡلمُقَدَّمَا p. 168hadith
اور مسلمانوں کے نبی نے کہا کہ تم لوگ آگے بڑھو، تو ہمارے لیے یہ محبوب بن گیا کہ ہم آگے بڑھ کر مقابلہ کرنے والے ہوں (سیرت ابن ہشام، جلد 4، صفحہ 111۔ p. 168hadith
انصار کو اگرچہ ظاہر حالات کے مطابق شکایت تھی۔ مگر اس شکایت کو انھوں نے اپنے عمل پر اثرانداز ہونے نہیں دیا۔ شکایت کے باوجود وہ تمام مسلمانوں کے ساتھ پوری طرح جڑے رہے۔ شکایت کے باوجود وہ اسلام کے محاذ پر متحدہ طاقت بن کر کھڑے ہو گئے۔ p. 168
موجودہ دنیا میں یہ ناممکن ہے کہ باہم شکایتیں پیدا نہ ہوں۔ صحیح یا غلط اسباب کے تحت بہرحال ایک کو دوسرے سے شکایت پیدا ہوتی ہے، حتیٰ کہ رسول اور اصحاب رسول سے بھی۔ مگر مومن شکایتوں سے بلند ہوتا ہے، وہ شکایتوں سے اوپر اٹھ کر معاملہ کرتا ہے۔ اسی لیے مومنین کی جماعت میں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ شکایت اور اختلاف ان کے اتحاد کو درہم و برہم کر دے۔ p. 168