Tazkirul Quran (Urdu)

48. Al-Fath

Tazkirul Quran (Urdu) — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (114 chapters)
  1. 1. Al-Faatiha
  2. 2. Al-Baqara
  3. 3. Aal-i-Imraan
  4. 4. An-Nisaa
  5. 5. Al-Maaida
  6. 6. Al-An'aam
  7. 7. Al-A'raaf
  8. 8. Al-Anfaal
  9. 9. At-Tawba
  10. 10. Yunus
  11. 11. Hud
  12. 12. Yusuf
  13. 13. Ar-Ra'd
  14. 14. Ibrahim
  15. 15. Al-Hijr
  16. 16. An-Nahl
  17. 17. Al-Israa
  18. 18. Al-Kahf
  19. 19. Maryam
  20. 20. Taa-Haa
  21. 21. Al-Anbiyaa
  22. 22. Al-Hajj
  23. 23. Al-Muminoon
  24. 24. An-Noor
  25. 25. Al-Furqaan
  26. 26. Ash-Shu'araa
  27. 27. An-Naml
  28. 28. Al-Qasas
  29. 29. Al-Ankaboot
  30. 30. Ar-Room
  31. 31. Luqman
  32. 32. As-Sajda
  33. 33. Al-Ahzaab
  34. 34. Saba
  35. 35. Faatir
  36. 36. Yaseen
  37. 37. As-Saaffaat
  38. 38. Saad
  39. 39. Az-Zumar
  40. 40. Ghafir
  41. 41. Fussilat
  42. 42. Ash-Shura
  43. 43. Az-Zukhruf
  44. 44. Ad-Dukhaan
  45. 45. Al-Jaathiya
  46. 46. Al-Ahqaf
  47. 47. Muhammad
  48. 48. Al-Fath
  49. 49. Al-Hujuraat
  50. 50. Qaaf
  51. 51. Adh-Dhaariyat
  52. 52. At-Tur
  53. 53. An-Najm
  54. 54. Al-Qamar
  55. 55. Ar-Rahmaan
  56. 56. Al-Waaqia
  57. 57. Al-Hadid
  58. 58. Al-Mujaadila
  59. 59. Al-Hashr
  60. 60. Al-Mumtahana
  61. 61. As-Saff
  62. 62. Al-Jumu'a
  63. 63. Al-Munaafiqoon
  64. 64. At-Taghaabun
  65. 65. At-Talaaq
  66. 66. At-Tahrim
  67. 67. Al-Mulk
  68. 68. Al-Qalam
  69. 69. Al-Haaqqa
  70. 70. Al-Ma'aarij
  71. 71. Nooh
  72. 72. Al-Jinn
  73. 73. Al-Muzzammil
  74. 74. Al-Muddaththir
  75. 75. Al-Qiyaama
  76. 76. Al-Insaan
  77. 77. Al-Mursalaat
  78. 78. An-Naba
  79. 79. An-Naazi'aat
  80. 80. Abasa
  81. 81. At-Takwir
  82. 82. Al-Infitaar
  83. 83. Al-Mutaffifin
  84. 84. Al-Inshiqaaq
  85. 85. Al-Burooj
  86. 86. At-Taariq
  87. 87. Al-A'laa
  88. 88. Al-Ghaashiya
  89. 89. Al-Fajr
  90. 90. Al-Balad
  91. 91. Ash-Shams
  92. 92. Al-Lail
  93. 93. Ad-Dhuhaa
  94. 94. Ash-Sharh
  95. 95. At-Tin
  96. 96. Al-Alaq
  97. 97. Al-Qadr
  98. 98. Al-Bayyina
  99. 99. Az-Zalzala
  100. 100. Al-Aadiyaat
  101. 101. Al-Qaari'a
  102. 102. At-Takaathur
  103. 103. Al-Asr
  104. 104. Al-Humaza
  105. 105. Al-Fil
  106. 106. Quraish
  107. 107. Al-Maa'un
  108. 108. Al-Kawthar
  109. 109. Al-Kaafiroon
  110. 110. An-Nasr
  111. 111. Al-Masad
  112. 112. Al-Ikhlaas
  113. 113. Al-Falaq
  114. 114. An-Naas

6 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں عمرہ ادا کرسکیں۔ آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے مشرکین نے آگے بڑھ کر آپ کو روک دیا اور کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے بعد بات چیت شروع ہوئی جس کے نتیجہ میں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ صلح قرار پایا۔ یہ معاہدہ بظاہر یک طرفہ طور پر مشرکین کی شرائط پر ہوا تھا۔ اصحاب رسول اس سے سخت کبیدہ خاطر تھے۔ وہ اس کو ذلت کی صلح سمجھتے تھے۔ مگر آپ حدیبیہ سے واپس ہو کر ابھی راستہ ہی میں تھے کہ یہ آیت اتری—’’ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی‘‘۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس معاہدہ کے تحت یہ قرار پایا تھا کہ دس سال تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان لڑائی نہیں ہوگی۔ لڑائی کا بند ہونا در اصل دعوت کا دروازہ کھلنے کے ہم معنی تھا۔ ہجرت کے بعد مسلسل جنگی حالات کے نتیجہ میں دعوت کا کام رک گیا تھا۔ اب جنگ بندی نے دونوں فریقوں کے درمیان کھلے تبادلۂ خیال کی فضا پیدا کردی۔ اس طرح اس معاہدہ نے میدانِ مقابلہ کو بدل دیا۔ پہلے دونوں فریقوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں ہوتا تھا جس میں فریق ثانی برتر حیثیت رکھتا تھا۔ اب مقابلہ نظریہ کے میدان میں آگیا۔ اور نظریہ کے میدان میں شرک کے مقابلہ میں توحید کو واضح طور پر برتري حیثیت حاصل تھی۔ یہی اس معاملہ میں ’’سیدھا راستہ‘‘ تھا۔ یعنی وہ راستہ جس نے توحید کے علم برداروں کے لیے فتح کو یقینی بنایا۔original + quote

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔ اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔ ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔ اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔ ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔ اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔ ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔unverified

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔ اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔ ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔unverified

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔ اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔ ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔original + quote

صلح حدیبیہ سے پہلے یہود مسلمانوں کی دشمنی میں بہت جری تھے۔ کیوں کہ اس سے پہلے انہیں اس معاملہ میں قریش کا پورا تعاون حاصل تھا۔ حدیبیہ میں قریش سے نا جنگ معاہدہ نے یہود کو قریش سے کاٹ دیا۔ اس کے بعد وہ اکیلے رہ گئے۔ اس سے خیبر، تیما، فدک وغیرہ کے یہودیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ چنانچہ صلح کے تین مہینے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر چڑھائی کی تو وہاں کے یہود نے لڑے بھڑے بغیر ہتھیار ڈال دیے اور ان کے کثیر اموال مسلمانوں کو غنیمت میں ملے۔ کمزور ایمان کے لوگ جو حدیبیہ کے سفر کو پر خطر سمجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں گئے تھے، اب انہوں نے چاہا کے وہ یہودیوں کے خلاف کارروائی میں شریک ہوں اور مال غنیمت میں اپنا حصہ حاصل کریں۔ مگر ان کو ساتھ جانے سے روک دیا گیا۔ خدا کا قانون یہ ہے کہ جو خطرہ مول لے وہ نفع حاصل کرے۔ آدمی جب خطرہ مول لیے بغیر حاصل کرنا چاہے تو گویا وہ قانون الٰہی کو بدل دینا چاہتا ہے۔ مگر اس دنیا میں خدا کے قانون کو بدلنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔

جن لوگوں نے حدیبیہ (6 ھ) کے موقع پر کمزوری دکھائی تھی وہ اس کے نتیجہ میں ملنے والے انعام سے تو محروم رہے۔ مگر ان کے لیے دروازہ اب بھی بند نہ تھا۔ کیوں کہ توحید کی مہم کو ابھی دوسرے بڑے بڑے معرکے پیش آنے باقی تھے۔ فرمایا گیا کہ اگر تم نے آئندہ پیش آنے والے ان مواقع پر قربانی کا ثبوت دیا تو دوبارہ تم خدا کی رحمتوں کے مستحق ہوجاؤگے۔ اس قسم کا امتحان آدمی کے مومن یا منافق ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس سے مستثنی صرف وہ لوگ ہیں جنہیں کوئی واقعی عذر لاحق ہو۔ مجبورانہ کوتاہی کو اللہ معاف فرما دیتا ہے۔ مگر جو کوتاہی مجبوری کے بغیر کی جائے وہ اللہ کے یہاں قابل معافی نہیں۔original + quote

جن لوگوں نے حدیبیہ (6 ھ) کے موقع پر کمزوری دکھائی تھی وہ اس کے نتیجہ میں ملنے والے انعام سے تو محروم رہے۔ مگر ان کے لیے دروازہ اب بھی بند نہ تھا۔ کیوں کہ توحید کی مہم کو ابھی دوسرے بڑے بڑے معرکے پیش آنے باقی تھے۔ فرمایا گیا کہ اگر تم نے آئندہ پیش آنے والے ان مواقع پر قربانی کا ثبوت دیا تو دوبارہ تم خدا کی رحمتوں کے مستحق ہوجاؤگے۔ اس قسم کا امتحان آدمی کے مومن یا منافق ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس سے مستثنی صرف وہ لوگ ہیں جنہیں کوئی واقعی عذر لاحق ہو۔ مجبورانہ کوتاہی کو اللہ معاف فرما دیتا ہے۔ مگر جو کوتاہی مجبوری کے بغیر کی جائے وہ اللہ کے یہاں قابل معافی نہیں۔original + quote

حدیبیہ کے سفر میں ایک موقع پر یہ خبر پھیلی کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کردیا جو ان کے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کے طور پر گئے تھے۔ یہ ایک جارحیت کا معاملہ تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیکر کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے چودہ سو اصحاب سے یہ بیعت لی کہ وہ مر جائیں گے مگر دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ اسلام کی تاریخ میں اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے۔ یہ بیعت جس مقام پر لی گئی وہ مدینہ سے ڈھائی سو میل اور مکہ سے صرف بارہ میل کے فاصلہ پر تھا۔ گویا مسلمان اپنے مرکز سے بہت دور تھے اور قریش اپنے مرکز سے بہت قریب۔ مسلمان عمرہ کی نیت سے نکلے تھے۔ اس لیے ان کے پاس محض سفری سامان تھا جب کہ قریش ہر قسم کے جنگی سامان سے مسلح تھے۔ ایسے نازک موقع پر یہ صرف لوگوں کا جذبہ اخلاص تھا جس نے انہیں آمادہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ دیں۔ کیوںکہ کوئی ظاہری دباؤ وہاں سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ ’’اللہ نے ان کے دلوں کا حال جانا اور سکینت نازل فرمائی‘‘— اس سے مراد وہ رنج و اضطراب ہے جو حدیبیہ کی بظاہر یک طرفہ صلح سے صحابہ کے دلوں میں پیدا ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے خدا کے اس حکم کو صبروسکون کے ساتھ قبول کرلیا۔ اس کے نتیجہ میں چند ماہ بعد ہی اس کے فائدے ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ اس معاہدہ نے قریش کو یہود کے محاذ سے الگ کردیا اور اس طرح یہود کو مسخر کرنا آسان ہوگیا۔ جنگی حالات ختم ہونے کی وجہ سے اسلام کی اشاعت بہت تیزی سے بڑھی، یہاں تک کہ خود قریش کو دعوت کی راہ سے مسخر کرلیا گیا جن کو جنگ کی راہ سے مسخرکرنا مشکل بنا ہوا تھا۔original + quote

حدیبیہ کے سفر میں ایک موقع پر یہ خبر پھیلی کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کردیا جو ان کے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کے طور پر گئے تھے۔ یہ ایک جارحیت کا معاملہ تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیکر کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے چودہ سو اصحاب سے یہ بیعت لی کہ وہ مر جائیں گے مگر دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ اسلام کی تاریخ میں اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے۔ یہ بیعت جس مقام پر لی گئی وہ مدینہ سے ڈھائی سو میل اور مکہ سے صرف بارہ میل کے فاصلہ پر تھا۔ گویا مسلمان اپنے مرکز سے بہت دور تھے اور قریش اپنے مرکز سے بہت قریب۔ مسلمان عمرہ کی نیت سے نکلے تھے۔ اس لیے ان کے پاس محض سفری سامان تھا جب کہ قریش ہر قسم کے جنگی سامان سے مسلح تھے۔ ایسے نازک موقع پر یہ صرف لوگوں کا جذبہ اخلاص تھا جس نے انہیں آمادہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ دیں۔ کیوںکہ کوئی ظاہری دباؤ وہاں سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ ’’اللہ نے ان کے دلوں کا حال جانا اور سکینت نازل فرمائی‘‘— اس سے مراد وہ رنج و اضطراب ہے جو حدیبیہ کی بظاہر یک طرفہ صلح سے صحابہ کے دلوں میں پیدا ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے خدا کے اس حکم کو صبروسکون کے ساتھ قبول کرلیا۔ اس کے نتیجہ میں چند ماہ بعد ہی اس کے فائدے ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ اس معاہدہ نے قریش کو یہود کے محاذ سے الگ کردیا اور اس طرح یہود کو مسخر کرنا آسان ہوگیا۔ جنگی حالات ختم ہونے کی وجہ سے اسلام کی اشاعت بہت تیزی سے بڑھی، یہاں تک کہ خود قریش کو دعوت کی راہ سے مسخر کرلیا گیا جن کو جنگ کی راہ سے مسخرکرنا مشکل بنا ہوا تھا۔original + quote

6 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں عمرہ ادا کرسکیں۔ آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے مشرکین نے آگے بڑھ کر آپ کو روک دیا اور کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے بعد بات چیت شروع ہوئی جس کے نتیجہ میں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ صلح قرار پایا۔ یہ معاہدہ بظاہر یک طرفہ طور پر مشرکین کی شرائط پر ہوا تھا۔ اصحاب رسول اس سے سخت کبیدہ خاطر تھے۔ وہ اس کو ذلت کی صلح سمجھتے تھے۔ مگر آپ حدیبیہ سے واپس ہو کر ابھی راستہ ہی میں تھے کہ یہ آیت اتری—’’ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی‘‘۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس معاہدہ کے تحت یہ قرار پایا تھا کہ دس سال تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان لڑائی نہیں ہوگی۔ لڑائی کا بند ہونا در اصل دعوت کا دروازہ کھلنے کے ہم معنی تھا۔ ہجرت کے بعد مسلسل جنگی حالات کے نتیجہ میں دعوت کا کام رک گیا تھا۔ اب جنگ بندی نے دونوں فریقوں کے درمیان کھلے تبادلۂ خیال کی فضا پیدا کردی۔ اس طرح اس معاہدہ نے میدانِ مقابلہ کو بدل دیا۔ پہلے دونوں فریقوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں ہوتا تھا جس میں فریق ثانی برتر حیثیت رکھتا تھا۔ اب مقابلہ نظریہ کے میدان میں آگیا۔ اور نظریہ کے میدان میں شرک کے مقابلہ میں توحید کو واضح طور پر برتري حیثیت حاصل تھی۔ یہی اس معاملہ میں ’’سیدھا راستہ‘‘ تھا۔ یعنی وہ راستہ جس نے توحید کے علم برداروں کے لیے فتح کو یقینی بنایا۔original + quote

حدیبیہ کے سفر میں ایک موقع پر یہ خبر پھیلی کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کردیا جو ان کے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کے طور پر گئے تھے۔ یہ ایک جارحیت کا معاملہ تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیکر کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے چودہ سو اصحاب سے یہ بیعت لی کہ وہ مر جائیں گے مگر دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ اسلام کی تاریخ میں اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے۔ یہ بیعت جس مقام پر لی گئی وہ مدینہ سے ڈھائی سو میل اور مکہ سے صرف بارہ میل کے فاصلہ پر تھا۔ گویا مسلمان اپنے مرکز سے بہت دور تھے اور قریش اپنے مرکز سے بہت قریب۔ مسلمان عمرہ کی نیت سے نکلے تھے۔ اس لیے ان کے پاس محض سفری سامان تھا جب کہ قریش ہر قسم کے جنگی سامان سے مسلح تھے۔ ایسے نازک موقع پر یہ صرف لوگوں کا جذبہ اخلاص تھا جس نے انہیں آمادہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ دیں۔ کیوںکہ کوئی ظاہری دباؤ وہاں سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ ’’اللہ نے ان کے دلوں کا حال جانا اور سکینت نازل فرمائی‘‘— اس سے مراد وہ رنج و اضطراب ہے جو حدیبیہ کی بظاہر یک طرفہ صلح سے صحابہ کے دلوں میں پیدا ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے خدا کے اس حکم کو صبروسکون کے ساتھ قبول کرلیا۔ اس کے نتیجہ میں چند ماہ بعد ہی اس کے فائدے ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ اس معاہدہ نے قریش کو یہود کے محاذ سے الگ کردیا اور اس طرح یہود کو مسخر کرنا آسان ہوگیا۔ جنگی حالات ختم ہونے کی وجہ سے اسلام کی اشاعت بہت تیزی سے بڑھی، یہاں تک کہ خود قریش کو دعوت کی راہ سے مسخر کرلیا گیا جن کو جنگ کی راہ سے مسخرکرنا مشکل بنا ہوا تھا۔original + quote

حدیبیہ کے سفر میں ایک موقع پر یہ خبر پھیلی کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کردیا جو ان کے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کے طور پر گئے تھے۔ یہ ایک جارحیت کا معاملہ تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیکر کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے چودہ سو اصحاب سے یہ بیعت لی کہ وہ مر جائیں گے مگر دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ اسلام کی تاریخ میں اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے۔ یہ بیعت جس مقام پر لی گئی وہ مدینہ سے ڈھائی سو میل اور مکہ سے صرف بارہ میل کے فاصلہ پر تھا۔ گویا مسلمان اپنے مرکز سے بہت دور تھے اور قریش اپنے مرکز سے بہت قریب۔ مسلمان عمرہ کی نیت سے نکلے تھے۔ اس لیے ان کے پاس محض سفری سامان تھا جب کہ قریش ہر قسم کے جنگی سامان سے مسلح تھے۔ ایسے نازک موقع پر یہ صرف لوگوں کا جذبہ اخلاص تھا جس نے انہیں آمادہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ دیں۔ کیوںکہ کوئی ظاہری دباؤ وہاں سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ ’’اللہ نے ان کے دلوں کا حال جانا اور سکینت نازل فرمائی‘‘— اس سے مراد وہ رنج و اضطراب ہے جو حدیبیہ کی بظاہر یک طرفہ صلح سے صحابہ کے دلوں میں پیدا ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے خدا کے اس حکم کو صبروسکون کے ساتھ قبول کرلیا۔ اس کے نتیجہ میں چند ماہ بعد ہی اس کے فائدے ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ اس معاہدہ نے قریش کو یہود کے محاذ سے الگ کردیا اور اس طرح یہود کو مسخر کرنا آسان ہوگیا۔ جنگی حالات ختم ہونے کی وجہ سے اسلام کی اشاعت بہت تیزی سے بڑھی، یہاں تک کہ خود قریش کو دعوت کی راہ سے مسخر کرلیا گیا جن کو جنگ کی راہ سے مسخرکرنا مشکل بنا ہوا تھا۔original + quote

پیغمبر کے مخاطبین ِاول کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ ان کے انکار کے بعد وہ انہیں ہلاک کردیتا ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر قریش کا انکار آخری طور پر سامنے آگیا تھا۔ ایسی حالت میں اگر جنگ کی نوبت آتی تو مسلمانوں کی تقویت کے لیے خدا کے فرشتے اترتے اور وہ مسلمانوں کا ساتھ دے کر ان کے دشمنوں کا خاتمہ کردیتے۔ مگر مشرکین کے سلسلہ میں اللہ کی مصلحت یہ تھی کہ انہیں ہلاک نہ کیا جائے۔ بلکہ ان کی غیر معمولی انسانی صلاحیتوں کو اسلام کے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو ناجنگ معاہدہ کی طرف رہنمائی فرمائی۔

پیغمبر کے مخاطبین ِاول کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ ان کے انکار کے بعد وہ انہیں ہلاک کردیتا ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر قریش کا انکار آخری طور پر سامنے آگیا تھا۔ ایسی حالت میں اگر جنگ کی نوبت آتی تو مسلمانوں کی تقویت کے لیے خدا کے فرشتے اترتے اور وہ مسلمانوں کا ساتھ دے کر ان کے دشمنوں کا خاتمہ کردیتے۔ مگر مشرکین کے سلسلہ میں اللہ کی مصلحت یہ تھی کہ انہیں ہلاک نہ کیا جائے۔ بلکہ ان کی غیر معمولی انسانی صلاحیتوں کو اسلام کے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو ناجنگ معاہدہ کی طرف رہنمائی فرمائی۔

پیغمبر کے مخاطبین ِاول کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ ان کے انکار کے بعد وہ انہیں ہلاک کردیتا ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر قریش کا انکار آخری طور پر سامنے آگیا تھا۔ ایسی حالت میں اگر جنگ کی نوبت آتی تو مسلمانوں کی تقویت کے لیے خدا کے فرشتے اترتے اور وہ مسلمانوں کا ساتھ دے کر ان کے دشمنوں کا خاتمہ کردیتے۔ مگر مشرکین کے سلسلہ میں اللہ کی مصلحت یہ تھی کہ انہیں ہلاک نہ کیا جائے۔ بلکہ ان کی غیر معمولی انسانی صلاحیتوں کو اسلام کے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو ناجنگ معاہدہ کی طرف رہنمائی فرمائی۔

قریش کے سرداروں نے پیغمبر کے خلاف اپنی دشمنانہ حرکتوں سے اپنے آپ کو عذاب کا مستحق بنا لیا تھا اور اس قابل بنا لیا تھا کہ ان سے جنگ کی جائے۔ مگر ایک عظیم تر مصلحت کی خاطر ان سے جنگ کے بجائے صلح کرلی گئی۔ وہ مصلحت یہ تھی کہ اس وقت قریش کی جماعت میں بہت سے دوسرے لوگ بھی تھے جو یا تو اپنے دل میں شرک سے تائب ہو کر توحید پر ایمان لاچکے تھے یا ایسے لوگ تھے جن کی صالحیت کی بنا پر یقینی تھا کہ حالات کے معتدل ہوتے ہی وہ اسلام قبول کرلیں گے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کے درمیان جنگ نہ ہونے دی۔ تاکہ وہ لوگ مومن بن کر دنیا میں اپنا اسلامی حصہ ادا کریں۔ اور آخرت میں خدا کا انعام حاصل کریں۔ اللہ کی نظر میں ہر دوسری مصلحت کے مقابلہ میں دعوت کی مصلحت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

جس آدمی کے اندر اللہ کا ڈر پیدا ہوجائے اس کے دل سے ایک اللہ کے سوا ہر دوسری چیز کی اہمیت نکل جاتی ہے۔ وہ صرف ایک اللہ کو ساری اہمیت دینے لگتا ہے۔ حدیبیہ کا موقع صحابہ کے لیے اسی قسم کا ایک شدید امتحان تھا جس میں وہ پورے اترے۔ اس موقع پر فریق ِثانی نے جاہلانہ ضد اور اور قومی عصبیت کا زبردست مظاہرہ کیا۔ مگر صحابہ ہر چیز کو خدا کے خانہ میں ڈالتے چلے گئے۔ ان کے متقیانہ مزاج نے ان کو اس سخت امتحان میں جوابی ضد اور جوابی عصبیت سے بچایا۔ وہ مسلسل اشتعال انگیزی کے باوجود آخر وقت تک مشتعل نہیں ہوئے۔original + quote

حدیبیہ کا سفر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خواب پر ہوا تھا۔ آپ نے مدینہ میں خواب دیکھا کہ آپ مکہ پہنچ کر عمرہ ادا فرما رہے ہیں۔ اس خواب کو لوگوں نے خدا کی بشارت سمجھا اور مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر حدیبیہ میں قریش نے روکا اور بالآخر عمرہ ادا کیے بغیر لوگوں کو واپس آنا پڑا۔ اس سے بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ کیا پیغمبر کا خواب سچا نہ تھا۔ مگر یہ محض شبہ تھا۔ کیونکہ خواب میں یہ صراحت نہ تھی کہ عمرہ اسی سال ہوگا۔ چنانچہ خود معاہدہ کی شرائط کے مطابق اگلے سال ذوالقعدہ 7 ھ میں یہ عمرہ پورے امن و امان کے ساتھ ادا کیا گیا۔ اس عمرہ کو اسلامی تاریخ میں عمرۃ القضاء کہا جاتا ہے۔ اس سال عمرہ کا التوا ایک عظیم مصلحت کی قیمت پر ہوا تھا۔ یہ مصلحت کہ اس کے ذریعہ قریش سے دس سال کا ناجنگ معاہدہ طے پایا اور نتیجۃً دعوت کے کام کے لیے موافق فضا پیدا ہوئی۔ یہ خود ایک فتح تھی۔ کیوں کہ اس کے ذریعہ سے علم بردارانِ شرک کے اوپر آخری اور کلی فتح کا دروازہ کھلا۔original + quote

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو حیثیتیں تھیں۔ ایک یہ کہ آپ پیغمبر تھے اور دوسرے یہ کہ آپ پیغمبر آخر الزماں تھے۔ آپ کے بعد کوئی اور پیغمبر آنے والا نہیں۔ پہلی حیثیت کے اعتبار سے آپ کو بھی وہی کام کرنا تھا جو تمام پیغمبروں نے کیا، یعنی توحید کا اعلان اور آخرت کا انذار وتبشیر۔ دوسری حیثیت کا معاملہ مختلف تھا۔ دوسری حیثیت کے اعتبار سے آپ کے ذریعہ وہ تاریخی حالات پیدا کرنا مطلوب تھا جو کتابِ الٰہی اور سنت نبوی کی حفاظت کی ضمانت بن جائیں۔ تاکہ دوبارہ وہ خلا پیدا نہ ہو جس کے نتیجہ میں پیغمبر بھیجنا ضروری ہوجاتا ہے۔ اس دوسرے پہلو کا تقاضا تھا کہ آپ کی دعوت صرف ’’اعلان‘‘ پر ختم نہ ہو بلکہ وہ ’’انقلاب‘‘ تک پہنچے۔ انقلاب سے مراد عالمی تاریخ میں وہ تبدیلی پیدا کرنا ہے، جس کے بعد وہ حالات ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں، جس کی وجہ سے بار بار خدا کی ہدایت معدوم یا محرف ہوگئی اور اس کی ضرورت پیش آئی کہ نیا پیغمبر آ کر دوبارہ ہدایت کو اصلی صورت میں زندہ کرے۔

پیغمبر اسلام کو ایک عظیم تاریخی کردار ادا کرنا تھا جس کو قرآن میں اظہارِ دین کہا گیا ہے۔ اس تاریخی کردار کے لیے آپ کو اعلیٰ انسانوں کی ایک جماعت درکار تھی۔ یہ جماعت حضرت اسماعیل کو عرب کے صحرا میں آباد کر کے ڈھائی ہزار سال کے اندر تیار کی گئی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بنو اسماعیل کا یہ گروہ تاریخ کا جاندار ترین گروہ تھا۔ ان کی یہ بالقوہ صلاحیت جب قرآن سے فیض یاب ہوئی تو پروفیسر مارگولیتھ کے الفاظ میں، عرب کی یہ قوم ہیرووں کی ایک قوم (a nation of heroes) میں تبدیل ہوگئی۔ اس گروہ کی اہمیت خدا کی نظر میں اتنی زیادہ تھی کہ ان کے بارے میں اس نے پیشگی طور پر اپنے پیغمبروں کو باخبر کردیا تھا۔ چنانچہ تورات میں ان کی انفرادی خصوصیت درج کردی گئی تھی اور انجیل میں ان کی اجتماعی خصوصیت۔ اس گروہ کے فرد فرد کی یہ خصوصیت بتائی کہ وہ منکروں کے لیے سخت اور مومنوں کے لیے نرم ہیں۔ یعنی ان کا رویہ اصول کے تحت متعین ہوتا ہے، نہ کہ محض خواہشات اور جذبات کے تحت۔ شاہ عبدالقادر صاحب اس کی تشریح میں لکھتے ہیں ’’جوتندی اور نرمی اپنی خو ہو وہ سب جگہ برابر چلے اور جو ایمان سے سنور کر آئے وہ تندہی اپنی جگہ اور نرمی اپنی جگہ‘‘۔ اسی طرح ان کے افراد کا مزاج یہ ہے کہ وہ خدا کے آگے جھکنے والے اور اس کی عبادت اور ذکر میں لگے رہنے والے ہیں۔ خدا کی طرف ان کی توجہ اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ اس کا نشان ان کے چہروں پر نمایاں ہورہا ہے۔ اصحاب رسول کی یہ صفات اس تفصیل کے ساتھ موجودہ محرف تورات میں نہیں ملتیں۔ تاہم کتاب استثناء ( 33:2 ) میں قدسیوں (Saints) کا لفظ ابھی تک موجود ہے۔ البتہ انجیل کی پیشین گوئی آج بھی مرقس ( 4:26-32 )اور متی ( 13:31-32 ) میں موجود ہے۔ یہ تمثیل کی زبان میں اس بات کا اعلان ہے کہ اسلام کی دعوت ایک پودے کی طرح مکہ سے شروع ہوگی۔ پھر وہ بڑھتے بڑھتے ایک طاقتور درخت بن جائے گی۔ یہاں تک کہ اس کا استحکام اس درجہ کو پہنچ جائے گا کہ اہل حق اس کو دیکھ کر خوش ہوں گے اور اہل باطل غصه و حسد میں مبتلا ہوں گے کہ وہ چاہنے کے باوجود اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔original + quote

6 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں عمرہ ادا کرسکیں۔ آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے مشرکین نے آگے بڑھ کر آپ کو روک دیا اور کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے بعد بات چیت شروع ہوئی جس کے نتیجہ میں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ صلح قرار پایا۔ یہ معاہدہ بظاہر یک طرفہ طور پر مشرکین کی شرائط پر ہوا تھا۔ اصحاب رسول اس سے سخت کبیدہ خاطر تھے۔ وہ اس کو ذلت کی صلح سمجھتے تھے۔ مگر آپ حدیبیہ سے واپس ہو کر ابھی راستہ ہی میں تھے کہ یہ آیت اتری—’’ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی‘‘۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس معاہدہ کے تحت یہ قرار پایا تھا کہ دس سال تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان لڑائی نہیں ہوگی۔ لڑائی کا بند ہونا در اصل دعوت کا دروازہ کھلنے کے ہم معنی تھا۔ ہجرت کے بعد مسلسل جنگی حالات کے نتیجہ میں دعوت کا کام رک گیا تھا۔ اب جنگ بندی نے دونوں فریقوں کے درمیان کھلے تبادلۂ خیال کی فضا پیدا کردی۔ اس طرح اس معاہدہ نے میدانِ مقابلہ کو بدل دیا۔ پہلے دونوں فریقوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں ہوتا تھا جس میں فریق ثانی برتر حیثیت رکھتا تھا۔ اب مقابلہ نظریہ کے میدان میں آگیا۔ اور نظریہ کے میدان میں شرک کے مقابلہ میں توحید کو واضح طور پر برتري حیثیت حاصل تھی۔ یہی اس معاملہ میں ’’سیدھا راستہ‘‘ تھا۔ یعنی وہ راستہ جس نے توحید کے علم برداروں کے لیے فتح کو یقینی بنایا۔original + quote

یہاں’’سکینت‘‘ سے مراد اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا ہے۔ حدیبیہ کے سفر میں مخالفین اسلام نے طرح طرح سے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تاکہ وہ مشتعل ہو کر کوئی ایسی کارروائی کریں جس کے بعد ان کے خلاف جارحیت کا جواز مل جائے۔ مگر مسلمان ہر اشتعال کو یک طرفہ طور پر برداشت کرتے رہے۔ وہ آخری حد تک اعراض کی پالیسی پر قائم رہے۔ خدا چاہے تو اپنی براہ راست قوت سے باطل کو زیر کردے، اور حق کو غلبہ عطا فرمائے۔ پھر خدا کیوں ایسا کرتا ہے کہ وہ ’’صلح حدیبیہ‘‘ جیسے حالات میں ڈال کر اہل ایمان کو ان کا سفر کراتا ہے۔ اس کا مقصد ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہے۔ آدمی جب اپنے اندر انتقام کی نفسیات کو دبائے اور ایک سرکش قوم سے اس لیے صلح کرلے کہ دعوت حق کا تقاضا یہی ہے تو وہ اپنے شعوری فیصلہ کے تحت وہ کام کرتا ہے جس کو کرنے کے لیے اس کا دل راضی نہ تھا۔ اس طرح وہ اپنے شعورِ ایمان کو بڑھاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایسی ربانی کیفیات کا مہبط بناتا ہے جس کو کسی اور تدبیر سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس عمل کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے جنت والے لوگ الگ ہوجاتے ہیں اور جہنم والے لوگ الگ۔

یہاں’’سکینت‘‘ سے مراد اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا ہے۔ حدیبیہ کے سفر میں مخالفین اسلام نے طرح طرح سے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تاکہ وہ مشتعل ہو کر کوئی ایسی کارروائی کریں جس کے بعد ان کے خلاف جارحیت کا جواز مل جائے۔ مگر مسلمان ہر اشتعال کو یک طرفہ طور پر برداشت کرتے رہے۔ وہ آخری حد تک اعراض کی پالیسی پر قائم رہے۔ خدا چاہے تو اپنی براہ راست قوت سے باطل کو زیر کردے، اور حق کو غلبہ عطا فرمائے۔ پھر خدا کیوں ایسا کرتا ہے کہ وہ ’’صلح حدیبیہ‘‘ جیسے حالات میں ڈال کر اہل ایمان کو ان کا سفر کراتا ہے۔ اس کا مقصد ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہے۔ آدمی جب اپنے اندر انتقام کی نفسیات کو دبائے اور ایک سرکش قوم سے اس لیے صلح کرلے کہ دعوت حق کا تقاضا یہی ہے تو وہ اپنے شعوری فیصلہ کے تحت وہ کام کرتا ہے جس کو کرنے کے لیے اس کا دل راضی نہ تھا۔ اس طرح وہ اپنے شعورِ ایمان کو بڑھاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایسی ربانی کیفیات کا مہبط بناتا ہے جس کو کسی اور تدبیر سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس عمل کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے جنت والے لوگ الگ ہوجاتے ہیں اور جہنم والے لوگ الگ۔

یہاں’’سکینت‘‘ سے مراد اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا ہے۔ حدیبیہ کے سفر میں مخالفین اسلام نے طرح طرح سے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تاکہ وہ مشتعل ہو کر کوئی ایسی کارروائی کریں جس کے بعد ان کے خلاف جارحیت کا جواز مل جائے۔ مگر مسلمان ہر اشتعال کو یک طرفہ طور پر برداشت کرتے رہے۔ وہ آخری حد تک اعراض کی پالیسی پر قائم رہے۔ خدا چاہے تو اپنی براہ راست قوت سے باطل کو زیر کردے، اور حق کو غلبہ عطا فرمائے۔ پھر خدا کیوں ایسا کرتا ہے کہ وہ ’’صلح حدیبیہ‘‘ جیسے حالات میں ڈال کر اہل ایمان کو ان کا سفر کراتا ہے۔ اس کا مقصد ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہے۔ آدمی جب اپنے اندر انتقام کی نفسیات کو دبائے اور ایک سرکش قوم سے اس لیے صلح کرلے کہ دعوت حق کا تقاضا یہی ہے تو وہ اپنے شعوری فیصلہ کے تحت وہ کام کرتا ہے جس کو کرنے کے لیے اس کا دل راضی نہ تھا۔ اس طرح وہ اپنے شعورِ ایمان کو بڑھاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایسی ربانی کیفیات کا مہبط بناتا ہے جس کو کسی اور تدبیر سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس عمل کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے جنت والے لوگ الگ ہوجاتے ہیں اور جہنم والے لوگ الگ۔

یہاں’’سکینت‘‘ سے مراد اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا ہے۔ حدیبیہ کے سفر میں مخالفین اسلام نے طرح طرح سے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تاکہ وہ مشتعل ہو کر کوئی ایسی کارروائی کریں جس کے بعد ان کے خلاف جارحیت کا جواز مل جائے۔ مگر مسلمان ہر اشتعال کو یک طرفہ طور پر برداشت کرتے رہے۔ وہ آخری حد تک اعراض کی پالیسی پر قائم رہے۔ خدا چاہے تو اپنی براہ راست قوت سے باطل کو زیر کردے، اور حق کو غلبہ عطا فرمائے۔ پھر خدا کیوں ایسا کرتا ہے کہ وہ ’’صلح حدیبیہ‘‘ جیسے حالات میں ڈال کر اہل ایمان کو ان کا سفر کراتا ہے۔ اس کا مقصد ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہے۔ آدمی جب اپنے اندر انتقام کی نفسیات کو دبائے اور ایک سرکش قوم سے اس لیے صلح کرلے کہ دعوت حق کا تقاضا یہی ہے تو وہ اپنے شعوری فیصلہ کے تحت وہ کام کرتا ہے جس کو کرنے کے لیے اس کا دل راضی نہ تھا۔ اس طرح وہ اپنے شعورِ ایمان کو بڑھاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایسی ربانی کیفیات کا مہبط بناتا ہے جس کو کسی اور تدبیر سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس عمل کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے جنت والے لوگ الگ ہوجاتے ہیں اور جہنم والے لوگ الگ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔ اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔ ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔unverified

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔ اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔ ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔original + quote