Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
غزوۂ بنی قریظہ p. 126
ذی قعدہ5ھ p. 126
غزوہ خندق کے خاتمہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن بنی قریظہ پر حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔ بنی قریظہ پر چڑھائی کا اصل سبب ان کی غداری تھی۔ بنی قریظہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان معاہدہ تھا۔ جب قریش دس ہزار کا لشکر لے کر مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے آئے تو بنی قریظہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد کو توڑ کر قریش کے ساتھ مل گئے۔ جب غزوہ احزاب میں ان کو شکست ہوئی تو بنی قریظہ قلعوں میں گھس گئے۔ آپ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ جتنی جلد ممکن ہو بنو قریظہ کے مقام پر پہنچنے کی کوشش کریں۔ اسی موقع پر آپ نے فرمایا تھا کہ کوئی شخص بنی قریظہ کی بستیوں تک پہنچنے سے پہلے عصر کی نماز نہ پڑھے۔پھر حضرت علی کو جھنڈا دے کر روانہ کیا۔ p. 126original + quote
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر بنی قریظہ کا محاصرہ کیا۔ پچیس روز تک ان کو محاصرہ میں رکھا۔ طویل محاصرہ کے بعد آخر کار بنو قریظہ اس بات پر آمادہ ہوئے کہ رسول اللہ جو حکم دیں وہ ہمیں منظور ہے۔ آپ نے ان کو یہ پیغام دیا کہ تم اس پر راضی نہیں کہ تمہارا فیصلہ تم ہی میں کا ایک شخص کر دے۔ انہوں نے کہا یارسول اللہ سعد بن معاذ جو فیصلہ کر دیں وہ ہمیں منظور ہے۔ چنانچہ سعد بن معاذ کو بلایا گیا اور آپ نے کہاکہ اے سعد ان لوگوں نے اپنا فیصلہ تمہارے سپرد کیا ہے۔ حضرت سعد نے تورات کے مطابق، یہ فیصلہ کیا کہ ان کے لڑنے والے قتل کئے جائیں اور عورتیں اور بچے غلام بنا لیے جائیں، اور ان کا تمام مال و اسباب مسلمانوں میں تقسیم کیا جائے۔ p. 126