Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
شتم اور ارتداد p. 297
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام میں شتمِ رسول کی سزا قتل ہے۔ اِسی طرح یہ سمجھا جاتاہے کہ اسلام میں ارتداد(apostasy)کی سزا قتل ہے۔ شتم اور ارتداد کی اِس سزا کو حد (legal punishment) کادرجہ دیا جاتاہے اور سمجھا جاتا ہے کہ شاتم یا مرتَد کو بطور حد قتل کیا جائے گا (یُقتل حدًّا)۔ p. 297opposing view
یہ قانون اسلام کے بعد کی تاریخ میں عباسی دور(750-1258ء)کے فقہاء نے بنایا، مگر اصل اسلامی ماخذ میں اِس قسم کا کوئی حکم موجود نہیں ۔ اِس لیے عین جائز ہے کہ اس حکم کو کالعدم سمجھا جائے اور اس کو غیر اسلامی قرار دے کر رد کردیا جائے۔ p. 298
اسلامی تاریخ کے مکی دور میں جو اہلِ ایمان ہجرت کرکے حبش(Abyssinia)گئے تھے، اُن میں سے ایک شخص کا نام عبید اللہ بن جحش تھا۔ حبش ایک عیسائی ملک تھا۔ وہاں جاکر عبید اللہ بن جحش عیسائی مذہب سے متاثر ہوئے اور اعلان کے ساتھ اسلام کو چھوڑ دیا۔ یہ واضح طورپر ارتداد کا ایک واقعہ تھا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ عبید اللہ بن جحش مرتد ہوگئے ہیں، اُن کو بطورحد قتل کردو۔ اِس واقعے سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ شریعتِ محمدی میں ارتداد کی سزا قتل نہیں ہے۔ اِسی طرح مدینہ میں ایک شخص تھا۔ اس کا نام عبد اللہ بن اُبی تھا۔ یہ شخص کھلے طورپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شتم کرتا تھا، لیکن رسول اللہ نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ عبد اللہ بن ابی نے شتم رسول کے جرم کا ارتکاب کیا ہے، اِس لیے اس کو بطور حد قتل کردو۔ p. 298
حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں سماجی جرم (social crime) پر سزا ہے، اسلام میں اعتقادی جرم (ideological crime)پر کوئی سزا نہیں۔شاتم اور مرتد کے لیے تبلیغ ونصیحت ہے، نہ کہ قتل کا حکم۔ p. 299