Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
بعث عمر بن امیہ ضمری p. 134
ابو سفیان نے ایک مرتبہ قریش کے مجمع میں یہ کہا کہ کیا کوئی شخص ایسا نہیں کہ جو جا کر محمد کو قتل کر آئے۔ ایک اعرابی نے کہا میں اس کام میں بڑا ماہر ہوں اگر تم میری مدد کرو تو میں اس کام کو کر سکتا ہوں۔ ابو سفیان نے اس کو سواری کے لیے ایک اونٹنی دی اور خرچ دیا اور امداد کا وعدہ کیا۔ وہ اعرابی مدینہ کے لیے روانہ ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بنی عبدالاشہل میں تھے۔ اس اعرابی کو سامنے سے آتے ہوئے دیکھ کر کہا یہ کسی بری نیت سے آ رہا ہے۔ اُسید بن حضیر اٹھے اور اس اعرابی کو پکڑ لیا۔ وہ ایک خنجر کپڑوں میں چھپائے ہوئے تھاجو چھوٹ کر گر گیا۔ آپ نے کہا سچ بتائو کس نیت سے آئے ہو۔ اس نے کہا اگر امن ہو تو بتا دوں۔ آپ نے کہا تجھ کو امن ہے۔ اعرابی نے تمام واقعہ بیان کر دیا۔ آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔ اس کے بعد اعرابی نے اسلام قبول کر لیا۔ p. 134other source
اس واقعہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن امیہ ضمری اور سلمہ بن اسلم انصاری کو مکہ روانہ کیا کہ وہ وہاں پہنچ کر ابو سفیان کو تنبیہ کریں۔ جب یہ دونوں مکہ میں داخل ہوئے تو یہ ارادہ کیا کہ مسجد حرام میں داخل ہو کر پہلے طواف کر لیں۔ ابو سفیان نے ان کو دیکھ لیا اور چلایا، دیکھو یہ کسی شر کے لیے آئے ہیں۔ عمر بن امیہ نے اپنے ساتھی سے کہا کہ ابو سفیان کے خلاف کارروائی اب ممکن نہیں، بہتر ہے کہ ہم یہاں سے واپس ہولیں۔ چنانچہ وہ لوگ مدینہ چلے آئے۔ p. 134original + quote