Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مصلحت دعوت p. 194
عبداللہ بن ابی مدینہ کا ایک منافق مسلمان تھا۔ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سخت عناد تھا۔ چنانچہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہایت بے ہودہ قسم کی گستاخیاں کیں۔ آپ کی ازواج مطہرات کے خلاف گھناؤ نے الزامات لگائے۔ حتٰی کہ اس کا مجرم اکبر ہونا خود قرآن (النور،24:11) میں ثبت کر دیا گیا۔ p. 194original + quote
عبداللہ بن ابی کے اس مجرمانہ فعل کو دیکھ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کو قتل کردوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، اگر ایسا کروں تو لوگ چرچا کریں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ p. 195original + quote
اس میں شک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور آپ کی ازواج مطہرات کی کردار کشی نہایت سنگین بات ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ سنّت بتاتی ہے کہ ایک اور بات ہے جو اسلامی نقطۂ نظر سے اس سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اور وہ ہے— لوگوں کو اسلام کی تصویر بگاڑنے کا موقع نه دینا۔ p. 195
ایک گستاخ رسول کو سزا دینے میں اگر یہ اندیشہ ہو کہ لوگ اس کو بہانہ بنا کر اسلام کی دعوتی تصویر کو بگاڑنے کی کوشش کریں گے، تو ایسی حالت میں اسلام کی دعوتی تصویر کی حفاظت کو ترجیح دی جائے گی اور گستاخ رسول کی سزا کے معاملہ کو اللہ کے حوالہ کر دیا جائے گا۔ اسلام میں سب سے زیادہ قابل ِ لحاظ چیز دعوت اور دعوت كا مفاد ہے۔ بقیہ چیزوں کا درجہ اس کے بعد آتا ہے۔ p. 195
اسلام کے اس تقاضے کی روشنی میں موجودہ مسلمانوں کے اس شدید ردِّعمل پر غور کیجیے جو انہوں نے سلمان رشدی کی کتاب کے خلاف ساری دنیا میں ظاہر کیا ہے۔ اس معاملہ میں یقینی تھا اور ہے کہ سلمان رشدی کو اگر قتل کردیا جائے، یا اس کے خلاف قتل کا ’’فتویٰ‘‘ جاری کیا جائے تو عالمی پریس اور غیر مسلم صحافت اس کو بہت بڑے پیمانے پر اسلام کی تصویر بگاڑنے کے لیے استعمال کرے گا۔ p. 195
عبداللہ بن ابی کے قتل پر قدیم زمانہ میں اسلام کو بد نام کرنے کا جو عمل کیا جاتا اس کا اثر مدینہ یا زیادہ سے زیادہ عرب تک محدود رہتا، مگر سلمان رشدی کے معاملہ میں اس کا زبردست اندیشہ تھا کہ اس کے خلاف قتل کے فتویٰ کو لے کر سارے کرۂ ارض پر اسلام کو بدنام کرنے کی مہم جاری کردی جائے گی، جیسا کہ فی الواقع ہوئی۔ p. 196
سلمان رشدی کے معاملہ میں غور کرنے کا سب سے زیادہ قابل ِ لحاظ پہلو یہی ہے مگر یہی وہ پہلو ہے جس کو موجودہ مسلم رہنماؤں نے اور ان کی پیروی میں عام مسلمانوں نے سب سے زیادہ نظر انداز کیا ہے۔ اس معاملہ میں مسلمانوں نے بلاشبہ اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے ، نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی ۔ رسول کے نام پر رسول کے طریقہ کی خلاف ورزی کی اس سے زیادہ سنگین مثال شاید پوری اسلامی تاریخ میں نہیں ملے گی۔ p. 196
نیویارک کے ٹائم میگزین(20مارچ1989ء) میں اُٹا وہ کے عبدالحسین ماجد کفائی کا خط چھپا ہے۔ وہ سلمان رشدی کی کتاب کو قابلِ مذمت کتاب قرار دیتے ہو ئے لکھتے ہیں کہ زیادہ بہتر تھا کہ رشدی کو زندہ رہنے دیا جائے اور تمام لوگ اس پر لعنت کریں، بمقابلہ اس کے کہ رشدی کو قتل کردیا جائے اور تمام لوگ مسلمانوں پر لعنت کریں p. 196unverified
''It is better to let Rushdie live and be condemned by fanatical Muslims rather than have him killed and, as a result, the entire Muslim world be cursed.'' p. 196
راقم الحروف عبدالحسین ماجد کفائی کے اس تبصرے سے متفق ہے ۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم دنیا و آخرت میں مقامِ محمود پر فائز کیے جاچکے ہیں۔ آپ کی شخصیت اس سے اعلیٰ و ارفع ہے کہ کسی ’’رشدی‘‘ کی تحریریں اس کو ادنی درجہ میں بھی داغدار کر سکیں۔ p. 197
مگر رشدی کے خلاف مسلمانوں نے قتل کا فتویٰ دے کر جو ہنگامہ برپا کیا۔ اس نے اسلام معاندین کو اس بات کا سنہری موقع دے دیا کہ وہ اس کو لے کر اسلام کو بد نام کریں۔ وہ تمام دنیاکو یہ تاثر دیں کہ اسلام ایک خونخوار مذہب ہے، وہ قتل و خون کا دین ہے۔ اس اعتبارسے دیکھا جائے تو سلمان رشدی کے خلاف ہنگامہ کر کے مسلمانوں نے پایا کچھ نہیں، البتہ انھوں نے ایک بڑی چیز کھو دی اور جو چیز انھوں نے کھو ئی و ہ وہی چیز ہے جو اسلام میں سب سے زیادہ قابلِ لحاظ حیثیت رکھتی ہے اور وہ ہے دعوت اسلامی کے مواقع۔ p. 197
قدیم عرب میںجو’’ میڈیا‘‘ اہل کفر کے پاس تھا ’وہی میڈیا اہل ِ اسلام کے پاس بھی تھا۔ اس معاملہ میں دونوں برابر تھے۔ موجودہ زمانہ میں صورت حال بالکل مختلف ہوگئی ہے۔ آج عالمی صحافت کا زمانہ ہے ۔ مگر صورتِ حال یہ ہے کہ مسلمانوں کے پاس ایک بھی ایسا اخبار یا ایسا میگزین نہیں جو عالمی سطح پر پھیلے اور تمام قوموں کے درمیان پڑھا جائے۔ دوسری طرف غیر مسلم اقوام کا حال یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر عالمی صحافت پر قابض ہیں۔ ان کے پاس ایسے اخبار ورسائل ہیں جو کروروں کی تعداد میں چھپتے ہیں اور ساری دنیا میں پڑھے جاتے ہیں۔ p. 197
اس فرق نے بے حد نازک صورت حال پیدا کردی ہے۔ وہ یہ مسلمانوں کی بات صرف ان کے مقامی یا گروہی پرچوں میں چھپتی ہے، وہ اس کو خود ہی چھاپتے ہیں اور خود ہی پڑھتے ہیں۔ جبکہ فریق ثانی کا یہ حال ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف باتوں کو اپنے عالمی پرچوں میں چھاپتا ہے اور دن رات کے اندر ساری دنیا میں پھیلادیتا ہے۔ p. 197
ایسی صورت حال میں مسلمانوں کو نازک معاملات میں ہنگامہ آرائی کرنے سے انتہائی حد تک پرہیز کرنا چاہیے۔ کیونکہ موجودہ حالت میں ان کی ہنگامہ آرائی کا کو ئی مثبت فائدہ تو ان کو نہیں پہنچے گا، البتہ یہ منفی نقصان ہوگا کہ غیر مسلم عالمی صحافت اس کو شوشہ بنا کر ساری دنیا میں انہیں بدنام کرے گی۔ وہ بے بسی کے ساتھ اپنی اور اسلام کی بدنامی کو دیکھیں گے اور اس کے دفعیہ کے لیے کچھ نہ کر سکیں گے۔ p. 198