Nashri-Taqreeren

باب سوم قران کا رول

Nashri-Taqreeren — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (83 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. باب اول رسول اللہ کا کردار
  3. ابراہیم کا ایثار
  4. رحمۃ للعالمین
  5. نبی رحمت
  6. رسول اللہ کا حسن سلوک
  7. باب دوم روزہ کے بارے میں
  8. روزہ کیا ہے
  9. رمضان کا روزہ
  10. روزہ  اخلاقی ڈسپلن
  11. جمعہ اور رمضان
  12. جمعۃ الوداع
  13. عید کا تیوہار
  14. عید الفطر
  15. عید الفطر
  16. اسلامی تیوہار
  17. عید  میل ملاپ کا تیوہار
  18. قربانی کیوں
  19. قربانی کی حقیقت
  20. قربانی اسلام میں
  21. ایثار اور قربانی کی تجدید
  22. قربانی کا تصور اور ہمارا معاشرہ
  23. عید اضحی
  24. فلسفہ قربانی
  25. حج میں کیا نہ کریں
  26. حج کا پیغام
  27. حج کی اجتماعی اہمیت
  28. میدان عرفات
  29. اداب مدینہ
  30. جنت المعلى
  31. پندرہ شعبان
  32. باب سوم قران کا رول
  33. سائنسی ترقیاں اور روحانی عقائد
  34. اسلام کی افاقیت
  35. اخلاقی سلوک
  36. اسلامی تعلیمات کا انسانی پہلو
  37. باب چہارم انسانیت کی تعمیر میں اسلام کا حصہ
  38. معاشرت کی تعمیر تشکیل میں مذاہب کا رو
  39. مذہب اور سیاست
  40. ایجاب و قبول کی روایت
  41. تیوہار اور قومی یک جہتی
  42. تصوف اور تہذیب نفس
  43. رومی  ایک تعارف
  44. فرقہ واریت کا مسئلہ
  45. علم دار کشمیر
  46. باب پنجم
  47. برداشت کا اصول
  48. زبان پر قابو
  49. وقت کی اہمیت
  50. نظر انداز کرو
  51. کھونا بھی پانا ہے
  52. ذمہ داری اپنی
  53. ذرہ سے پہاڑ تک
  54. معتدل زندگی
  55. اپ کا عمل اپ کی قسمت ہے
  56. غصہ سےبچئے
  57. شکایت نہیں
  58. دونوں طرف ساحل
  59. وقت کی اہمیت
  60. چھت کے لیے فرش
  61. حواس نہ کھوئیے
  62. تعمیر کی طاقت
  63. زندگی کا معرکہ
  64. استقلال کی اہمیت
  65. برداشت کیجیے
  66. کامیابی اپنے ہاتھ میں
  67. پاوں ٹوٹنے کے بعد بھی
  68. حالات سے مطابقت
  69. موقع نہ کھوئیے
  70. غصہ نہیں
  71. مسئلہ کا حل
  72. ہار میں جیت
  73. نہ ہوتا بھی ہونا ہے
  74. جلدی میں دیر
  75. انتقام نہیں
  76. حقیقت پسندی
  77. ترقی کا راز
  78. تعمیر حیات
  79. اچھا کردار
  80. کامیابی کا راز
  81. ترقی کے اداب
  82. وقت کا استعمال
  83. استقلال میں کامیابی

قرآن کا رول p. 154

قرآن کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول کا زمانہ ہے۔ اس زمانہ کی دنیا آج کی دنیا سے بہت مختلف تھی۔ دونوں زمانوں کے اس فرق پر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس فرق کو پیدا کرنے کا بہت زیادہ تعلق اس فکری انقلاب سے ہے جو قرآن اور قرآنی تحریک کے ذریعہ انسانی تاریخ میں ظہور میں آیا۔ p. 154

اس وقت عرب میں ہر قسم کے سیاسی اور سماجی اور اقتصادی مسائل موجو دتھے۔ مگر قرآن میں لوگوں کو جو پہلی تعلیم دی گئی وہ نہ سیاسی تھی اور نہ اقتصادی۔ بلکہ وہ یہ تھی کہ — پڑھو۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ قرآن میں یہ بتایا گیا کہ اصلاحی تحمل کا حقیقی آغاز کیا ہے۔ وہ علم ہے۔ علم یا شعور کی تعمیر وہ بنیادی عمل ہے جہاں سے اصلاحی کوششوں کا آغاز ہوتا ہے۔ یہی واحد نتیجہ خیز طریقہ ہے۔ اس کے سوا کہیں اور سے آغاز کیا جائے تو وہ کبھی کوئی گہرا نتیجہ پیدا نہیں کرسکتا۔ p. 154original + quote

قرآن کے بعد کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہی صحیح ترین نقطۂ آغاز تھا۔ چنانچہ اولا ًعرب میں اس کے نتیجہ میں ایک مکمل انقلاب آیا اور اس کے بعد ساری آبا د دنیا تک اس کے اثرات پھیل گئے۔ علم سے آغاز کرنے کے نتیجے میں بقیہ تمام چیزیں اپنے آپ ملتی چلی گئیں۔ p. 155

دوسری چیز جس پر قرآن میں زور دیا گیا وہ تھی فکری آزادی۔ اُس دور میں ہزاروں برس سے ساری دنیا میں شاہی جبر کا نظام چلا آرہا تھا۔ لوگ مجبور تھے کہ بادشاہ کی سوچ کے مطابق سوچیں اور بادشاہ کے طرز فکر کو آخری برحق چیز سمجھیں۔ جبر کے اس نظام نے ہزاروں سال سے انسان کی فکر ہی ترقی کا راستہ بند کر رکھا تھا۔ ہر قسم کی علمی و فکری ترقی اسی وقت ہوتی ہے جب کہ لوگوں کو آزادانہ طور پر سوچنے اور آزادانہ طور پر رائے بنانے کا موقع ہو۔ اور یہی چیز قدیم زمانہ میں لوگوں کو حاصل نہ تھی ۔ p. 155

قرآن میں اس فکری جبر کو فتنہ کہا گیا ہے (2:193)۔ قرآن سے متاثر ہونے پر قرآن نے یہ ذمہ داری عائد کی کہ وہ فکری جبر کے نظام کے خلاف جد وجہد کر کے اس کو ہٹائیں۔ اور اس کی جگہ فکری آزادی کا نظام جاری کریں۔ یہ انقلاب بھی قرآن کے زیر اثر پوری طرح آیا ۔ قرآن نے ایسا ماحول پیدا کیا کہ آدمی آزادانہ طور پر اپنے ذہن کو استعمال کر سکتا تھا۔ ایک عام آدمی بھی خلیفہ یا حکمراں کے خلاف بلا جھجک بول سکتا تھا۔ اس طرح تا ریخ میں ایک نیا فکری عمل شروع ہوا جو ترقی کرتے کرتے موجودہ فکری آزادی کے دور تک پہنچا۔ p. 155original + quote

قرآن سے پہلے نیچر کو مقدس سمجھا جاتا تھا اور اس کو ایک قابل احترام چیز سمجھا جاتا تھا۔ اس ذہن نے نیچر کی تحقیق کرنے اور اس کو کنٹرول کرنے کا دروازہ بند کر دیا۔ قرآن نے لوگوں کو یہ ذہن دیا کہ نیچر (فطرت) خود انسان ہی کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس کی جانچ کرنے اور اس کو بھر پور طور پر اپنے فائدہ کے لیے استعمال کرے (الجاثیہ،45:13)۔ p. 155original + quote

قرآن کی اس تعلیم نے بھی لوگوں کو گہرائی کے ساتھ متاثر کیا۔ چنانچہ تاریخ میں پہلی بار نیچر (فطرت) کو مسخر کرنے کا ذہن پیدا ہوا۔ لوگ نیچر کی تحقیق کرنے لگے۔ یہاں تک کہ صدیوں کے عمل کے بعد وہ انقلاب ظہور میں آیا جس کو آج سائنسی انقلاب کہا جاتا ہے۔ p. 156

قرآن سے پہلے انسان اونچے نیچے طبقوں میں بٹا ہوا تھا۔ قرآن نے نہایت طاقت کے ساتھ اعلان کیا کہ تمام انسان یکساں طور پر خدا کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ تمام انسان خدا کی نظر میں ایک ہیں۔ انسانی برابری کے لیے قرآن کی اس آواز نے نہایت گہرائی کے ساتھ لوگوں کو متاثر کیا۔ لوگوں کی سوچ بدلنے لگی۔ یہ عمل صدیوں تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ ایک نیا سماجی دور دنیا میں آگیا جب کہ تمام انسان برابر کی نظر سے دیکھے جائیں ۔ تمام انسانوں کے لیے یکساں حقوق تسلیم کر لیے جائیں۔ p. 156original + quote

قرآن سے پہلے ساری دنیا میں کسی مقصد کو حاصل کرنے کا واحد ذریعہ جنگ تھا۔ چنانچہ مستقل طور پر ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان جنگ جاری رہتی تھی ۔ قرآن نے خدا کو خدائے رحمت بتایا۔ رسول کو رسول رحمت کی حیثیت سے پیش کیا۔ اس طرح رحمت اور صلح اور صبر اور اعراض کو فروغ دے کر ثابت کیا کہ جنگ کی طاقت کے مقابلہ میں امن کی طاقت زیادہ ہے۔ اس طرح قرآن نے تاریخ میں پہلی بار پر امن جدوجہد کا دروازہ کھولا ۔ p. 156

پیغمبر اسلام نے اس طریقہ کو استعمال کر کے ایک ایسا عظیم انقلاب بر پا کیا جس میں خون اتناکم بہایا گیا کہ عملاً اس کو غیر خونی انقلاب کہا جا سکتا ہے۔ p. 156

اس طرح تاریخ میں ایک نئی فکری تحریک چل پڑی جو تشدد کے بجائے عدم تشدد کی بنیاد پر بنی تھی۔ یہ تحریک تاریخ میں چلتی رہی ۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی میں پرامن جدوجہدکے اصول کو عالمی سطح پر تسلیم کر لیا گیا ۔ p. 157

قرآن میں کثرت سے ایسی آیتیں ہیں جن میں تفکر اور تدبر پر زور دیا گیا ہے۔ یعنی انسانوں سے کہا گیا ہے کہ تم سوچو اور اپنی ذہنی صلاحیت کو کام میں لاکر زمین و آسمان کےرازوں کو دریافت کرو۔ p. 157

قرآن نے لوگوں کے بند ذہن کو کھولا۔ ان کے اندر تقلیدی فکر کی جگہ اجتھادی فکر پیدا کی۔ اس طرح لوگوں کا ذہنی افق وسیع ہوا۔ ایک طرف ان کا ذہن جاگ اٹھا۔ دوسری طرف وہ کائنات کے چھپے ہوئے بھیدوں کو کھولنے اور ان کو استعمال کرنے لگے۔ p. 157

یہ فکری انقلاب پہلے مکہ میں پیدا ہوا ۔ پھر وہ مدینہ اور دمشق میں پہنچا۔ اس کے بعد اس کا مرکز بغداد بنا۔ پھر وہ آگے بڑھا اور اسپین میں اس نے زبر دست ترقی کی۔ اس کے بعد وہ یورپ کے دوسرے ملکوں میں داخل ہوا یہاں تک کہ ساری دنیا میں اس کے اثرات پھیل گئے۔ p. 157

عالمی فکری تاریخ پر قرآن کی گہری چھاپ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کو شامل کیے بغیر انسانیت کے فکری سفر اور اس کے ارتقاء کی تاریخ کو سمجھا نہیں جاسکتا۔ p. 158

نوٹ  یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے 24ستمبر1996 کونشر کی گئی۔ p. 158