Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
حدیث کا مطالعہ p. 220
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْةِ أَبِي بَكْرٍ رضي الله عنهما قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ صِلِيهَا(صحیح البخاری،حدیث نمبر 3183؛ صحيح مسلم،حدیث نمبر 1003)۔ p. 220original + quote
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری(رضاعی) ماں میرے پاس مدینہ آئیں۔ اس وقت وہ شرک پر تھیں اور وہ قریش کی حلیف تھیں۔ میں نے پوچھا کہ اے خدا کے رسولؐ میری مشرک ماں میرے پاس آئی ہے اور وہ مجھ سے کچھ چاہتی ہے۔ کیا میں انہیں صلہ رحمی کے طور پر کچھ دوں۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں، ان کودو۔ p. 220quoted source
یہ حدیث بظاہر والدین کے ساتھ حسن سلوک کے بارے میں ہے، خواہ وہ مشرک اور کافر ہی کیوں نہ ہو۔ حدیث کی کتابوں میں وہ اسی طرح کے باب کے تحت لکھی ہوئی ملے گی۔ مگر کسی حدیث کو سمجھنے کے لیے صرف اس کے ’’ترجمہ باب‘‘ کو دیکھنا کافی نہیں۔ اسی کے ساتھ حدیث کے متن پر گہرائی کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔ اس کے بعد ہی آدمی کے اوپر اس کے پورے معانی کھل سکتے ہیں۔ p. 220
اس حدیث سے حقوق والدین کے مسئلہ کے علاوہ مزید یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ اس زمانہ کا واقعہ ہے جب کہ قریش اور مسلمانوں کے درمیان خاتمہ جنگ کا معاہدہ ہوگیا تھا۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ مکہ کے مشرکین مدینہ آنے لگے اور مدینہ کے مسلمان مکہ جانے لگے۔ p. 220original + quote
عقل عام یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ اس آمدورفت میں صرف ’’صلہ رحمی‘‘ کا مسئلہ سامنے نہیں آیا۔ بلکہ اسی کے ساتھ یہ ہوا کہ شرک اور توحید پر گفتگو ہونے لگی۔ آبائی مذہب اور پیغمبرانہ مذہب کا تقابل کیا جانے لگا۔ تو ہم پرستانہ مذہب اور الہامی مذہب کا فرق لوگوں پر واضح ہونے لگا۔ p. 221
اس طرح یہ ہوا کہ صلح حدیبیہ کی تدبیر نے جنگی ماحول کو دعوتی ماحول میں تبدیل کر دیا۔ مکہ اور مدینہ میں جہاں اس سے پہلے تلواروں کی جھنکار سنائی دیتی تھی، وہ دعوت حق کی آوازوں سے گونجنے لگے، اور جب ایسا ہو جائے تو اسلام کی فتح اتنی ہی یقینی ہو جاتی ہے جتنا کہ تاریکیوں کی دنیا میں سورج کے طلوع ہونے سے سورج کا فتح یاب ہونا۔ p. 221