Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
سچی ہوشیاری p. 264
حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی مسجد نبوی میں تھے۔ صحابہ کی ایک تعداد آپ کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ اتنے میں انصار کا ایک نوجوان آیا۔ نوجوان نے آپ سے کچھ سوالات کیے جن کا آپ نے جواب دیا۔ وہ سوال و جواب یہ تھا: p. 264original + quote
قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا ، قَالَ: فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْيَسُ؟ قَالَ: أَكْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِكْرًا، وَأَحْسَنُهُمْ لِمَا بَعْدَهُ اسْتِعْدَادًا، أُولَئِكَ الْأَكْيَاسُ (سنن ابن ماجه،حدیث نمبر 4259)۔اس نے کہا کہ اسے خدا کے رسول، مسلمانوں میں سب سے بہتر کون ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ شخص جس کے اخلاق سب سے بہتر ہوں۔ پھر اس نے پوچھا کہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ سمجھ دار کون ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ شخص جو سب سے زیادہ موت کو یاد کرے اور جو موت آنے سے پہلے سب سے زیادہ اس کی تیاری کرے۔ ایسے ہی لوگ سب سے زیادہ سمجھ دار ہیں۔ p. 264unverified
جس شخص کا ایمان جتنا زیادہ گہرا ہوگا اتنا ہی زیادہ اس کا اخلاق اچھا ہوگا۔ جس آدمی کے دل میں اللہ کا ڈر پیدا ہو جائے۔ وہ بندوں کے ساتھ سلوک کرنے میں انصاف کرنے والا اور مہربانی کرنے والا بن جاتا ہے۔ اور اسی کا دوسرا نام حسن اخلاق ہے۔ p. 264
موت کو یاد رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی دنیا کو عارضی اور آخرت کو ابدی سمجھتا ہے۔ وہ موجودہ دنیا کی چیزوں میں الجھ کر نہیں رہ گیا ہے بلکہ آنے والی زندگی کو اپنی توجہ کا مرکز بنائے ہوئے ہے۔ پھر اس سے زیادہ عقل مند کون ہو سکتا ہے جو ابدی زندگی کی کامیابی اور ناکامی کے بارے میں سوچے اور اس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لے۔ p. 265
موت کی یاد کا یہ نتیجہ بھی ہوتا ہے کہ آدمی موجودہ دنیا میں اپنے عمل کے بارے میں ہوشیار ہو جاتا ہے۔ یہ مزاج اس کے اندر سے بے اعترافی، ناانصافی، فریب، استغلال اور نمودونمائش کے جذبات ختم کر دیتا ہے۔ اور جس آدمی کے اندر اس قسم کے غلط اور مصنوعی جذبات ختم ہو جائں، اس کا ہر قدم صحیح سمت میں اٹھے گا، وہ ایک بے پناہ انسان بن جائے گا۔ p. 265