Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
حکمت اور صبر p. 147
موجودہ دنیا میں کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لیے حکمت اور صبر لازمی طور پر ضروری ہیں۔ حکمت اور صبر کے بغیر نہ دین کا کوئی مقصد حاصل کیا جا سکتا اور نہ دنیا کا ۔ p. 147
حکمت کی جڑ یہ ہے کہ آدمی ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو جانے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ہر قسم کے ظلم کے باوجود ظالموں سے نہیں لڑے ۔ مگر مدینہ میں حسب ضرورت آپ نے ظالموں کا مقابلہ کیا ۔ غزوۂ حمراء الاسد کا سفر بآواز بلند کیا گیا۔ مگر فتح ِمکہ کے سفر میں آپ نے بلند آوازی سے منع فرما دیا ۔ معاہدۂ حدیبیہ کے وقت آپ نے مکہ والوں کی یک طرفہ شرائط پر صلح کر لی۔ مگر بنو بکر اور بنو خزاعہ کا واقعہ پیش آنے کے بعد آپ نے مکہ کے سردار(ابوسفیان) کی تجدید صلح کی پیش کش کو قبول نہیں فرمایا، وغیرہ۔ p. 148original + quote
حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کبھی بولنا ضروری ہوتا ہے اور کبھی یہ ضروری ہوتا ہے کہ آدمی اپنے منہ میں زبان رکھتے ہوئے چپ ہو جائے ۔ کبھی حالات اقدام کرنے کا تقاضا کرتے ہیں اور کبھی اقدام نہ کرنے کا۔ کبھی آگے بڑھنا افضل ہوتا ہے اور کبھی یہ افضل ہوتا ہے کہ آدمی پیچھے کی سیٹ پر بیٹھنے کے لیے اپنے آپ کو راضی کرلے ۔ اسی فرق کو جاننے کا نام حکمت ہے۔ p. 148
صبر کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی رد عمل سے رکے اور غیر متاثر ذہن کے تحت سوچ سمجھ کر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ آپ سڑک پر اپنی گاڑی دوڑار ہے ہیں اور سامنے اچانک دوسری گاڑی آگئی۔ اب گاڑی کو روک کر اپنے لیے راستہ نکالنے کا نام صبر ہے، اور رو کے بغیر گاڑی دوڑانے کا نام بے صبری ۔ p. 148
صبر کا طریقہ موجودہ دنیا میں کوئی حقیقی کامیابی حاصل کرنے کے لیے انتہائی حد تک ضروری ہے ۔ جو ڈرائیور بے صبری کے ساتھ سڑک پر گاڑی چلائے، وہ خود بھی تباہ ہوگا اور اپنی گاڑی کو بھی تباہ کرے گا۔ اسی طرح جو لوگ صبر کی شرط کو پورا کیے بغیر زندگی میں کامیاب ہونا چاہیں، وہ صرف بر بادی کی تاریخ بنائیں گے، ترقی اور کامیابی کی تاریخ بنانا ان کے لیے مقدر نہیں ۔ p. 148