Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ہجرت مقام عمل کی تبدیلی p. 362
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات مکہ میں سخت سے سخت تر ہوتے چلے گئے، یہاں تک کہ وہاں کے مخالفین آپ کے قتل پر آمادہ ہوگئے۔ اس وقت آپ نے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہیں کیا بلکہ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے جس کو ہجرت کہا جاتا ہے۔ p. 363
یہ ہجرت سادہ طور پر ترکِ وطن نہ تھی۔ یہ دراصل ایک اسٹریٹجی کا معاملہ تھا۔ اس کو ایک لفظ میں مقام عمل کی تبدیلی کہا جا سکتا ہے۔ آپ نے جب مکہ کو ایک ناموافق مقام پایا تو آپ نے مدینہ کو اپنا مرکز بنا لیا تاکہ وہاں سے اپنا مشن جاری رکھ سکیں۔ p. 363
اس سے یہ اصول ملتا ہے کہ ایک جگہ کے لوگ اگر ضد اور مخالفت کی آخری حد پر آ جائیں تو یہ صحیح نہ ہوگا کہ اہل اسلام وہیں ان سے لڑ کر ہلاک ہو جائیں۔ بلکہ انہیں دوسری مناسب جگہ تلاش کرکے وہاں اپنا اسلامی عمل جاری کر دینا چاہیے۔ یہ طریقہ ایک طرف اصل مشن کے زندہ رہنے کی ضمانت ہے، دوسری طرف اس میں یہ امکان بھی چھپا ہوا ہے کہ’مدینہ‘ میں استحکام حاصل کرنے کے بعد’مکہ‘ بھی آخر کار قبضہ میں آ جائے۔ p. 363