Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
غزوۃ بنی نضیر p. 119
ربیع الاول4ھ p. 119
عمر بن امیہ ضمری جب بئر معونہ سے واپس ہو رہے تھے تو راستہ میں بنی عامر کے دو مشرک ساتھ ہو لیے۔ وہ مقام قناۃ میں پہنچ کر ایک باغ میں ٹھہرے۔ جب وہ دونوں سو گئے تو عمر بن امیہ ضمری نے انتقاماً دونوں کو قتل کر دیا اور مدینہ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمام واقعہ بیان کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ان سے ہمارا عہد ہے ان کی دیت دینا ضروری ہے۔ p. 120original + quote
بنی نضیر بھی چونکہ بنی عامر کے حلیف تھے۔ اس لیے ازروئے معاہدہ دیت کا کچھ حصہ جو بنی نضیر کے ذمہ بھی واجب الادا تھا۔ اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کے ساتھ بنو نضیر کے پاس گئے۔ بنونضیر نے بظاہر خندہ پیشانی سے جواب دیا اور دیت میں شرکت کا وعدہ کیا۔ لیکن آپس میں یہ مشورہ کیا کہ ایک شخص چھت پر چڑھ کر اوپر سے ایک بھاری پتھر گرا دے تاکہ آپ دب کر ہلاک ہو جائیں۔ p. 120
ابھی آپ بیٹھے ہی تھے کہ آپ کو وحی کے ذریعہ ان کی سازش سے باخبر کیا گیا۔ آپ فوراً وہاں سے اٹھ کر مدینہ تشریف لے گئے۔ اور بنو نضیر پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ آپ عبداللہ بن ام مکتوم کومدینہ کا عامل مقرر کرکے بنو نضیر کی طرف روانہ ہوئے اور جا کر ان کا محاصرہ کر لیا۔ بنونضیر نے اپنے قلعوں میں گھس کر دروازے بند کر لیے۔ اس طرح بنو نضیر کی غداری اور بدعہدی کی بناء پر آپ نے ان پر حملہ کا حکم دیا۔ اور پندرہ روز تک ان کو محاصرہ میں رکھا اور ان کے باغوں اور درختوں کے کاٹنے اور جلانے کا حکم دیا بالآخر وہ امن کے طلب گار ہوئے۔ p. 120
آپ نے فرمایا دس دن کی مہلت ہے مدینہ خالی کر دو۔ اپنے اہل وعیال بچوں اور عورتوں کو جہاں چاہو لے جائو۔ سوا سامان جنگ کے جس قدر سامان اونٹوں اور سواریوں پر لے جا سکتے ہو اس کی اجازت ہے۔ یہود کے ساتھ یہ معاملہ ان کی مقدس کتاب تورات کے مطابق کیا گیا کیوں کہ تورات میں غداری کی سزا جلاوطنی بتائی گئی ہے۔ p. 120