Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
29 جون 1985 p. 129
مستشرقین نے حدیث کو مشتبہ ثابت کرنے کے لیے جن چیزوں کو بنیاد بنایا ہے، ان میں سے ایک حضرت ابو ہریرہ کی کثیر روایات ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ نے ہجرت کے بعد اسلام قبول کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی صحبت غزوہ خیبر کے بعد شروع ہوئی۔ اس اعتبار سے حضرت ابو ہریرہ کی صحبت رسول ان کثیر روایات کے لیے ناکافی ہیں جو ان سے مروی ہیں۔ p. 129
حضرت ابو ہریرہ کی روایات کی تعداد 5374 ہے، جیسا کہ ابن حزم نے لکھا ہے۔ مگر یہ کثیر تعداد تکرار اسناد کی بنا پر ہے۔ محدثین کا طریقہ ہے کہ وہ احادیث کو طرق روایت کے اعتبار سے شمار کرتے ہیں۔ مثلاً حضرت ابو ہریرہ سے ایک حدیث کو چار آدمیوں نے سنا ہو اور وہ چاروں الگ الگ اس کو بیان کریں تو محدثین کے یہاں یہ ایک حدیث چار حدیث بن جائے گی۔ p. 129original + quote
کچھ لوگوں نے اس کا جائزہ لیا ہے اور تکرار کو حذف کرکے روایات کی تعداد متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب انھوںنے مکررات کو حذف کیا تو روایات ابوہریرہ کی اصل تعداد صرف 1336 رہ گئی۔ p. 129
اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے تو منکرین حدیث کا اعتراض بالکل بے حقیقت ثابت ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ حضرت ابوہریرہ کی مدت صحبت کے اعتبار سے 1336کی تعداد زیادہ نہیں۔ جب کہ یہ ثابت ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ اپنے قبیلے سے آکر مدینہ میں رہ گئے تھے اور مسجد نبوی میں قیام کی وجہ سے ان کو رسول اللہ کے ارشادات سننے کا موقع دوسروں سے زیادہ ملا تھا۔ p. 130
تاریخ کی کتابوں میں ان کے بارے میں اس قسم کے الفاظ آئے ہیںكَانَ مِن أحفظ أَصْحَاب رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وألزمه لَهُ على شبع بَطْنه وَكَانَت يَده مَعَ يَده يَدُور مَعَه حَيْثُ مَا دَار إِلَى أَن مَاتَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم(رجال صحيح مسلم لابن مَنْجُوَيه، جلد2، صفحہ403، اثر نمبر 2161)۔ یعنی وہ اصحاب رسول میں سب سے زیادہ (حدیث کے) حافظ تھے، وہ بھوکے رہ کر بھی سب سے زیادہ آپ کے ساتھ رہے ، انھوں نے آپ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ ڈالا، اور جہاں آپ گئے وہاں وہ گئے، یہاں تک کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا۔ p. 130original + quote