Fikr-e-Islami

الفصل بین القضیتین

Fikr-e-Islami — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (92 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. اجتہاد کی اہمیت
  3. دعوہ ایمپائر
  4. خلاصہ کلام
  5. فکر اسلامی کی تشکیل جدید
  6. تشکیل جدید کیا ہے
  7. اجتہاد کی اہمیت
  8. اجتہاد مطلق ، اجتہاد مقید
  9. اجتہاد کی شرطیں
  10. شخصیت پرستی اصل سبب
  11. دارالحرب یا دارا لاعداد
  12. شناخت کا مسئلہ
  13. محقق علما کا اختلاف
  14. قدیم و جدید کا فرق
  15. صلاحیتوں کا فقدان نہیں
  16. دور جدید کا اغاز
  17. موجودہ صورت حال
  18. اسلامی لٹریچر کی ترتیب جدید
  19. مسائل قدیم ، دلائل جدید
  20. خلاف زمانہ تفکیر
  21. اجتہادی کوتاہی کے نتائج
  22. تقلید کے نقصانات
  23. پیغمبر اسلامؐ کی سنتیں
  24. اسپین کی تاریخ برعکس صورت میں
  25. میدان عمل میں تبدیلی
  26. تدریجی نہ کہ انقلابی
  27. چند متفرق مسائل
  28. رواج عام کا حکم
  29. جدید مواقع استعمال نہ ہو سکے
  30. ایک جامعہ اسلامیہ کی ضرورت
  31. مجتہدانہ عمل تاریخ میں
  32. حدیث میں
  33. مسئلہ اجتہاد پر کتابیں
  34. زمانہ رسالت میں اجتہاد
  35. خلافت راشدہ کے دور میں
  36. بعد کے زمانہ میں
  37. عصر حاضر میں اجتہاد
  38. جدید مسائل
  39. سیکولرزم کا مسئلہ
  40. جہاد کا مسئلہ
  41. بینک کا مسئلہ
  42. اجتہاد جاری ہے
  43. اسلام اور عقلیت
  44. عقیدہ اور استدلال
  45. ایک سوال کا جواب
  46. اسلام دور جدید میں
  47. ایک شبہ
  48. تصوف مثبت اور منفی پہلو
  49. تصوف کا دوسرا پہلو
  50. اسلامک ایکٹوزم
  51. دعوتی عمل
  52. برمنگھم سے موصولہ نوٹ
  53. اسلامک ایکٹوزم
  54. مسلمان اور جدید تحدیات
  55. اخری بات
  56. ایک شرعی مسئلہ
  57. مسلم حکمراں کا معاملہ
  58. غیر مسلم حکمراں کا معاملہ
  59. ایک شرعی اصول
  60. ایک اعتراض
  61. ایک شبہ کا ازالہ
  62. تعبیر کا مسئلہ
  63. علما کا قائدانہ کردار
  64. علما کا رول اسلام میں
  65. دائرہ عمل کی تقسیم
  66. ایک حدیث
  67. اورنگ زیب عالم گیر
  68. انسانیت نئے عہد میں
  69. شاہ ولی اللہ دہلوی
  70. نوابادیاتی دور کے علما
  71. ایک صحیح اواز
  72. دوسری عالمی جنگ کے بعد
  73. پیغمبر کی مثال
  74. زمانی تبدیلی
  75. کونیت بشری، امارت بشری
  76. شاکلہ انسانی کا مسئلہ
  77. معیار قوت میں تبدیلی
  78. عسر میں یسر
  79. نئے دعوتی امکانات
  80. دور جدید سے بے خبری
  81. چند مثالیں
  82. سطحی رائے
  83. ایک مغربی حوالہ
  84. حجۃ اللہ البالغہ
  85. غیر علمی انداز
  86. استدلال کا معیار
  87. چند مثالیں
  88. خلاصہ بحث
  89. الفصل بین القضیتین
  90. تاریخی فرق
  91. عمومی انطباق
  92. عصر جدید کا مذہب

الفصل بین القضیتین p. 277

سعودی کنگ فیصل بن عبدالعزیز(1906-1975) نہایت مدبر حکمراں تھے۔ پورے عالم اسلام میں انھیں زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ میری تمنا ہے کہ میں یروشلم جاؤں اور مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر نماز ادا کروں۔ مگر وہ اپنی یہ تمنا پوری نہ کر سکے۔ یہاں تک کہ ان کا آخر وقت آگیا اور وہ ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے چلے گئے۔ p. 277original + quote

اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فیصل مرحوم یہ سمجھتے تھے کہ جب تک ایسا نہ ہو کہ یروشلم (فلسطین) سے یہودیوں کی حکومت ختم ہو کر وہاں مسلمانوں کی حکومت قائم ہو جائے، اس وقت تک ایسا کرنا ممکن نہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ موجودہ حالات میں وہاں جانا یروشلم پر یہودیوں کے سیاسی قبضہ یا سیاسی غصب کو تسلیم کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ اس ذہنی رکاوٹ کی وجہ سے وہ یروشلم نہیں گئے اور اپنے دل کی تمنا دل ہی میں لیے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ p. 278

یہ شاہ فیصل کی کوئی انفرادی رائے نہ تھی۔ بلکہ یہی عام طور پر علماءِ اسلام کا موقف ہے جس کو انھوں نے اس وقت سے اختیار کررکھا ہے جبکہ یروشلم پر یہودیوں کا سیاسی قبضہ ہوا۔1917 میں یروشلم ترکوں کے ہاتھوں سے نکل کر برطانیہ کے قبضہ میں چلا گیا۔ اس کے بعد1948 میں جزئی طور پر اور1967 میں کلی طور پر اس کے اوپر یہودیوں کا اقتدار قائم ہوگیا۔ اس سلسلہ میں مصر کے شیخ الازہر کا ایک فتویٰ اخبارات میں شائع ہوا ہے۔ اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ دوسرے علماءِ اسلام کی رائے بھی قولاً یا عملاً یہی ہے p. 278original + quote

’’مصر کی قدیم دینی درس گاہ جامعۃ الازہر کے مفتی شیخ جاد الحق علی جاد الحق نے مصر اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں پر بیت المقدس اور مسجد الاقصیٰ میں جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ انھوں نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ مسجد الاقصیٰ اور بیت المقدس کی (سیاسی) آزادی تک عام مسلمانوں کا وہاں جانا غیر اسلامی اور غیر شرعی ہے۔ اس لیے فلسطین اور بیت المقدس کے باسیوں کے سوا دیگر تمام مسلمانوں کو اسرائیل سے(سیاسی) آزادی سے پہلے مسجد الاقصیٰ میں نہیں جانا چاہیے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے مقامات مقدسہ پر اسرائیلی تسلط کو قبول کر لیا ہے۔ جامعۃ الازہر کے مفتی اعظم کے فتویٰ کے بعد حکومت مصر نے اپنے باشندوں کے بیت المقدس جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔‘‘ (نوائے وقت، لاہور،19 ذی الحجہ1415 ھ - 19مئی1995ء) p. 278other source

یہ ایک نہایت اہم شرعی مسئلہ ہے، جس کے بارے میں قرآن و سنت کی بنیاد پر کوئی عملی موقف اختیار کرنا چاہیے، نہ کہ محض ذاتی احساس یا قومی غیرت و حمیت کی بنیاد پر۔ فلسطین اور بیت المقدس پر یقیناً اہل اسلام کا حق ہے۔ اس کی آزادی کے لیے ان کو پُرامن ذرائع سے ہر ممکن کوشش کرنا چاہیے۔ تاہم قرآن و سنت کے گہرے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے خالص عبادتی مقصد کے تحت ایسے وقت میں بھی اس مقدس مقام کی زیارت ممنوع نہیں جب کہ وہاں غیر مسلموں کا تسلط قائم ہو۔ دوسری طرف موجودہ زمانہ میں مذہبی آزادی کے بین الاقوامی اعتراف نے بھی علی الاطلاق طور پر اس کے دروازے کھول رکھے ہیں۔ مگر مذکورہ قسم کے فتاویٰ کی بنا پر دنیا کے مسلمان نسل درنسل اس عظیم سعادت سے محروم ہو رہے ہیں کہ وہ مسجدِ اقصیٰ میں داخل ہوں اور تیسرے سب سے افضل مقام پر اللہ کی عبادت کر سکیں۔ p. 278

اگست 1995 میں یروشلم میں ایک انٹرنیشل کانفرنس ہوئی۔ اس کا اہتمام اٹلی کے عیسائیوں کی ایک جماعت نے کیا تھا۔ اور اس کا موضوع یہی خاص مسئلہ تھا۔ اس کی دعوت پر راقم الحروف نے اس کانفرنس میں شرکت کی اور اس موقع پر ایک مقالہ(انگریزی میں) پیش کیا۔ اس کا عنوان اسلام میں امن تھا p. 278

Policy of Peace in Islam p. 279

اس مقالہ کو(اردو میں) ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ p. 279

قرآن اپنے بتائے ہوئے طریقہ کو سبل السلام(5:16) کہتا ہے۔ یعنی امن کے راستے۔ قرآن میں صلح کی پالیسی کو سب سے بہتر پالیسی بتایا گیا ہے(4:128) ۔نیز فرمایا کہ خدا بدامنی کو پسند نہیں کرتا(2:205)۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ الْمُؤْمِنُ ‌مَنْ ‌أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ (سنن الترمذی،حدیث نمبر 2627)۔ یعنی،مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنے خون اوراپنے مال کے معاملہ میں محفوظ ہوں۔ p. 279original + quote

اس سے معلوم ہوا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ تاہم اس سلسلہ میں ایک عملی سوال یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں ہمیشہ کسی نہ کسی سبب سے لوگوں کے درمیان سیاسی یا غیر سیاسی اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ افراد میں بھی اور قوموں میں بھی۔ مسلمانوں کے اپنے اندر بھی اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان بھی۔ اب اگر لوگ اختلافات کو برداشت نہ کریں، بلکہ اختلافات کے پیدا ہوتے ہی اس کے خاتمہ پر اصرار کریں تو لڑائی ہوگی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کبھی بھی دنیا میں امن قائم نہ ہو سکے گا۔ ایسی حالت میں سوال ہے کہ امن کا مقصد کس طرح حاصل کیا جائے۔ p. 280

اس اختلاف کی ایک تازہ مثال یروشلم کا مسئلہ ہے۔ یروشلم ایک قدیم تاریخی شہر ہے۔ اسی کے ساتھ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ بلینوں انسان اس کو اپنا مقدس مقام مانتے ہیں۔ اس کی امتیازی صفت یہ ہے کہ تین سامی مذاہب کی تاریخ اس کے ساتھ وابستہ ہے۔ p. 280

یروشلم تین بڑے مذاہب، یہودیت، عیسائیت اور اسلام کو ماننے والوں کے لیے ان کی تاریخی یادوں کی علامت ہے۔ وہ ان کے لیے ایک جذباتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہودیوں کے لیے اس کی اہمیت یہ ہے کہ ان کے نزدیک وہ ان کی قدیم عظمت کا ایک زندہ ثبوت ہے اور ان کی قومی تاریخ کا مرکز ہے۔ عیسائیوں کے لیے وہ ان کے نجات دہندہ حضرت مسیح کی جغرافی یاد گار ہے۔ مسلمانوں کے لیے اس کی اہمیت یہ ہے کہ اسراء اور معراج کے سفر میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم یہاں ٹھہرے اور یہاں باجماعت نماز میں تمام نبیوں کی امامت فرمائی۔ p. 280

اس طرح ان تینوں مذاہب کے لیے یروشلم ایک زیارت گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تینوں مذاہب کے لوگ چاہتے ہیں کہ یہاں آ کر وہ روحانی تسکین حاصل کریں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب تینوں مذہبوں کے لیے وہ مقدس زیارت گاہ ہے تو کس طرح وہ تینوں کے لیے کھلا رہے اور کس طرح تینوں مذہب کے ماننے والوں کو یہ موقع حاصل رہے کہ وہ بہ آسانی وہاں پہنچ کر اپنے جذبات عقیدت کی تسکین حاصل کریں۔ p. 280

آج کل ہرطرف’’ الْقُدْسُ لَنَا ‘‘ کا نعرہ سنائی دیتا ہے۔ یہ نعرہ سیاسی مفہوم میں ہے اور ہر فریق یہ نعرہ لگا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر فریق یہ چاہتا ہے کہ قدس یا یروشلم پر صرف اس کا قبضہ رہے۔ کیوں کہ اس کے نزدیک جب تک اس مقدس شہر پر اس کا سیاسی غلبہ نہ ہو وہ صحیح طور پر اپنا عبادتی عمل وہاں انجام نہیں دے سکتا۔ p. 280

اگر اس مقدس مقام کی زیارت کی شرط یہ ہو کہ جو شخص یا گروہ یروشلم میں جائے اس کی قوم کا سیاسی قبضہ بھی وہاں قائم ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ شہر عملی طور پر عبادت کا مقام نہ رہے گا بلکہ جنگ کا میدان بن جائے گا۔ کیونکہ کسی مقام پر سیاسی اقتدار بیک وقت کسی ایک مذہبی گروہ کا ہی ہو سکتا ہے۔ پھر بقیہ دو مذہبی گروہ جن کا سیاسی قبضہ وہاں نہ ہوگا وہ قابض گروہ کے خلاف جنگ چھیڑ دیں گے۔ اس طرح یہ مقام ابدی طور پر جنگ وجدال کا مرکز بنا رہے گا۔ اس بنا پر کسی کے لیے، حتیٰ کہ قابض گروہ کے لیے بھی یہ موقع نہ ہوگا کہ وہ پرسکون طور پر وہاں اپنا عبادتی عمل انجام دے سکے۔ یروشلم کے معنی ہی امن کا شہر(city of peace) کے ہیں۔ پھر کیوںکر ایسا ہو کہ یروشلم کا امن ہر حال میں برقرار رہے تاکہ ہر فریق ہمیشہ اور یکساں طور پر اس کی زیارت کر سکے۔ p. 281

جہاں تک اسلام کا سوال ہے، قرآن و حدیث میں یروشلم کے دو بالواسطہ حوالے ملتے ہیں۔ قرآن کی سورہ الاسراء میں معراج رسول کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے، تاکہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں(17:1)۔ p. 281original + quote

روایات بتاتی ہیں کہ ہجرت سے پہلے غالباً622ء کے آغاز میں پیغمبر اسلام کو ایک غیرمعمولی سفر کا تجربہ ہوا جس کو اسلام کی تاریخ میں اسراء اور معراج کہا جاتا ہے۔ اس سفر میں خدا کے غیبی اہتمام کے تحت آپ مکہ سے یروشلم پہنچے۔ یہاں آپ نے مسجد اقصیٰ میں باجماعت نماز ادا کی۔ واضح ہو کہ مکہ اور یروشلم کے درمیان800 میل کا فاصلہ ہے۔ p. 281original + quote

یروشلم کا دوسرا بالواسطہ حوالہ وہ ہے جو حدیث میں آیا ہے۔ البخاری، مسلم، ابوداؤد، النسائی، الترمذی، الموطا وغیرہ میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ یہ روایت آئی ہے کہ صرف تین مسجدیں ہیں جن کے لیے سفر کرکے جانا جائز ہے۔ مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ۔ آخری مسجد کے لیے بعض روایات میں مسجد ایلیاء کا لفظ ہے۔ یعنی فلسطین کی مسجد۔ دوسری روایات میں بتایا گیا ہے کہ ان تین مسجدوں میں عبادت کرنے کا ثواب دنیا کی دوسری تمام مسجدوں سے بہت زیادہ ہے۔ p. 282hadith

ایک طرف یروشلم کی مسجد اقصیٰ کی یہ فضیلت ہے کہ اس میں عبادت کرنا مکہ اور مدینہ کی مسجد کے بعد سب سے زیادہ افضل ہے۔ دوسری طرف قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے کسی خطہ پر سیاسی اقتدار کسی ایک ہی قوم کا قائم نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر زمانہ میں بدلتا رہے گا۔ کبھی ایک قوم کے پاس اور کبھی دوسری قوم کے پاس۔ اس بات کو قرآن میں ان الفاظ میں کہاگیا ہے کہ — اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں p. 282original + quote

وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ(3:140)۔ p. 282

اب سوال یہ ہے کہ جب عام قانون فطرت کے تحت یروشلم کا سیاسی اقتدار ابدی طور پر کسی ایک قوم کے پاس نہیں رہ سکتا تو اہل اسلام کے لیے مسجد اقصیٰ میں ہر دور میں عبادت کرنے کی صورت کیا ہو۔ ہر مسلمان فطری طور پر یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ اس مسجد میں داخل ہو کر سجدہ کرے جہاں پیغمبر اسلام نے اور دوسرے تمام نبیوں نے سجدہ کیا۔ اب اگر اس عبادت کو سیاسی اقتدار سے جوڑا جائے اور یہ کہا جائے کوئی مسلمان صرف اس وقت مسجد اقصیٰ میں عبادت کرنے کی سعادت حاصل کر سکتا ہے جب کہ اس علاقہ پر مسلمانوں کی حکومت بھی قائم ہو تو ملینوں مسلمان، سابق سعودی حکمراں فیصل بن عبدالعزیز کی طرح اپنے سینہ میں یہ تمنا لیے ہوئے مر جائیں گے اور اس قیمتی احساس کا تجربہ نہ کر سکیں گے کہ آج میں اس مقام پر خدائے برتر کے لیے سجدہ کر رہا ہوں جہاں پیغمبر اسلام نے تمام نبیوں کے ساتھ سجدہ توحید ادا کیا۔ p. 282unverified

اس مسئلہ کا حل کیا ہو۔ اس کا حل خود پیغمبر اسلام کی سنت میں موجود ہے۔ اس سنت کا خلاصہ یہ ہے کہ— معاملہ کے سیاسی پہلو کو الگ رکھتے ہوئے اس کے عبادتی پہلو کو لے لینا۔ مسئلہ کو نظر انداز کرکے امکان کو استعمال کرنا۔ اس سنت کو ہم نے الْفَصْلُ بَیْنَ الْقَضِیَّتَیْنِ کا نام دیا ہے۔ رسول اللہ کی یہ سنت حسب ذیل واقعات سے معلوم ہوتی ہے۔ p. 282

1۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جولائی622ء میں مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچے۔ یہاں آپ تقریباً ڈیڑھ سال(623 کے آخر تک) بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے۔ اور آپ کے صحابہ بھی اسی طرح عمل کرتے رہے۔624ء کے آغاز میں قرآنمیں یہ حکم اترا کہ اب تم لوگ کعبہ کو اپنا قبلہ عبادت بنا لو اور اسی طرف رخ کرکے تمام لوگ پنج وقتہ نمازیں ادا کرو(2:144) ۔ p. 283original + quote

جب قبلہ کی تبدیلی کا یہ حکم اترا تو اسی کے ساتھ قرآن میں یہ حکم بھی اتارا گیا کہ اے مسلمانو، تم لوگ نماز اور صبر سے مدد لو(2:153)۔ صبر کا ایک عام مفہوم ہے۔ مگر اس موقع پر صبر کا ایک خاص مفہوم بھی تھا۔ وہ یہ کہ جس وقت کعبہ کو قبلہ عبادت بنانے کا حکم اترا اس وقت کعبہ میں360 بت رکھے ہوئے تھے۔ عملاً کعبہ اس وقت شرک کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس طرح اہل ایمان کو ایک تکدر ہو سکتا تھا کہ ہم کیوں کر ایک موحدانہ عبادت کا قبلہ ایک ایسی عمارت کو بنائیں جو عملاً شرک اور بت پرستی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ حکم دیا گیا کہ اس پہلو کو صبر کے خانہ میں ڈال دو اور حکم کی تعمیل کرو۔ p. 283original + quote

تاریخ کے مطابق، یہ حالت پورے چھ سال یعنی فتح مکہ تک قائم رہی۔ تحویل قبلہ کے بعد سے چھ سال تک مسلمان اس حال میں کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے رہے کہ وہاں سیکڑوں بت موجود تھے اور وہ پوری طرح شرک کا گڑھ بنا ہوا تھا۔ یہ صورتحال مکہ کی فتح کے بعد ختم ہوئی جب کہ بتوں کو کعبہ سے نکال دیا گیا۔ p. 283

اس سے اسلام کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ اس اصول کو الْفَصْلُ بَیْنَ الْقَضِیَّتَیْنِ یا عَدْمُ الْخَلَطِ بَیْنَ الشَّیئینِ کہا جا سکتا ہے۔ اس اصول کے تحت کعبہ اور اصنام کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا۔ اصنام کی موجودگی پر صبر کرتے ہوئے کعبہ کو قبلہ عبادت بنا لیا گیا۔ p. 284

2۔ اس سلسلہ میں دوسرا نمونہ اسراء اور معراج کے واقعہ میں ملتا ہے۔ پیغمبر اسلام کا سفر معراج ہجرت سے پہلے غالباً622ء میں ہوا۔ اس وقت یروشلم پر مسلمانوں کی حکومت نہیں تھی۔ بلکہ وہاں مشرک ایرانیوں کا قبضہ تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ614ء میں ایرانی حکمراں خسرو پرویز نے یروشلم پر حملہ کیا اور اس کو رومیوں سے چھین لیا جو63 ق م سے اس پر قابض چلے آ رہے تھے۔ ایرانی سلطنت کا سیاسی قبضہ629ء میں ختم ہوا جب کہ رومی حکمراں(Heraclius) نے ایرانیوں کو شکست دے کر دوبارہ یروشلم پر اپنا قبضہ بحال کیا۔ p. 284

اس کا مطلبہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت سے قبل جس وقت اپنے سفر معراج میں یروشلم میں داخل ہوئے اور مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کی اس وقت یروشلم پر ایک غیر مسلم بادشاہ خسرو پرویز کی حکومت تھی۔ اس سے یہ اہم سنت رسول معلوم ہوتی ہے کہ عبادت اور سیاست کو ایک دوسرے سے مختلط نہ کرنا چاہیے۔ p. 284

3۔ اس سنت نبوی کو تیسری مثال ہجرت کے بعد629ء میں ملتی ہے۔ اس وقت مکہ مشرکین قریش کے قبضہ میں تھا۔ اس کے باوجود آپ اپنے اصحاب کے ساتھ تین دن کے لیے مکہ میں داخل ہوئے اور وہاں عمرہ کیا اور کعبہ کا طواف کیا۔ ایسا صرف اس لیے ممکن ہوا کہ آپ نے عبادتی معاملہ کو سیاسی معاملہ کے ساتھ مختلط نہیں کیا۔ اگر آپ اس شرط کو ضروری سمجھتے کہ عمرہ کی عبادت اسی وقت کی جا سکتی ہے جب کہ مکہ پر مسلمانوں کا سیاسی اقتدار قائم ہو چکا ہو تو آپ کبھی اپنے اصحاب کے ساتھ وہاں عمرہ کے لیے داخل نہ ہوتے۔ p. 284

اس سنت رسول (الْفَصْلُ بَیْنَ الْقَضِیَّتَیْنِ) کی روشنی میں یروشلم کے موجودہ مسئلہ کا حل یہ ہے کہ یروشلم پر سیاسی قبضہ کے مسئلہ کو مسجد اقصیٰ میں عبادت کرنے کے سوال سے الگ کر دیا جائے۔ مسلمان خواہ فلسطین کے ہوں یا بیرونی ملکوں کے، وہ آزادانہ طور پر یہاں آکر مسجد اقصیٰ میں اللہ کے لیے عبادت کریں۔ عبادت کو سیاسی اقتدار کے ساتھ مشروط اور مخلوط نہ کیا جائے۔ p. 284

خلاصہ یہ ہے کہ یروشلم کے مسئلہ کا واحد عملی حل یہ ہے کہ اس معاملہ میں الْفَصْلُ بَیْنَ الْقَضِیَّتَیْنِ کے مذکورہ بالا اصول کو اختیار کر لیا جائے۔ یعنی کسی نزاعی معاملہ کے دو پہلوؤں کو ایک دوسرے سے الگ رکھنا۔ یہی یروشلم کے مسئلہ کا(بالخصوص موجودہ حالات میں) واحد قابل عمل حل ہے۔ ہمیں چاہیے کہ یروشلم کے سیاسی پہلو کو اس کے مذہبی پہلو سے الگ رکھیں۔ تاکہ لوگوں کے لیے ان کی عبادت کی راہ میں کوئی نظریاتی رکاوٹ حائل نہ رہے۔ اور وہ ہر حال میں یروشلم جا کر آزادانہ طور پر اپنے عبادتی جذبہ کی تسکین حاصل کر سکیں۔ p. 285