Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اسوۂ حسنہ p. 400
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ نے قدیم مکہ میں دعوت کا کام شروع کیا تو مکہ کے لوگ، خاص طور پر وہاں کے سردار آپ کے سخت مخالف ہوگئے۔ انہوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو سخت ترین تکلیفیں دیں۔ مگر آپ کو حکم دیا گیا کہ تم کوئی جوابی کارروائی نہ کرو بلکہ یکطرفہ طور پر ان کی سختیوں کو نظر انداز کرو(داع اذاھم) الاحزاب، 33:48۔ p. 401original + quote
اس طرح آپ13 سال تک صبر کرتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ لوگ آپ کی جان کے دشمن ہوگئے۔ انہوں نے تلوار لے کر آپ کے مکان کو گھر لیا۔ اس وقت بھی آپ نے مقابلہ نہیں کیا۔ بلکہ اللہ کے حکم سے آپ خاموشی سے مکہ سے نکل کر مدینہ چلے گئے۔ p. 401
مکہ کے لوگ اب بھی چپ نہیں بیٹھے۔ انہوں نے دھمکیاں دیں کہ وہ مدینہ پر حملہ کریں گے اور اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کو ختم کر دیں گے۔ چنانچہ ہجرت مدینہ کے ابتدائی دور میں آپ مہاجرین کے چھوٹے چھوٹے دستے مکہ کے راستوں پر بھیجتے تھے تاکہ مکہ والوں کی سرگرمیوں سے واقفیت حاصل کریں اور ان کے جارحانہ اقدام سے پیشگی طور پر باخبر ہو جائیں۔ p. 401original + quote
رمضان 2ھ میں ابوسفیان کے تجارتی قافلہ کا واقعہ پیش آیا۔ اس کی حفاظت کے نام پر قریش کے تقریباً تمام سردار ایک طاقت ور فوج لے کر نکلے۔ ان کا ارادہ تھا کہ وہ تجارتی قافلہ کو بچانے کے بعد مدینہ پر حملہ کریں۔ اس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے براہ راست حکم کے تحت مدینہ سے نکلے۔ اللہ نے خصوصی طور پر فرشتوں کے ذریعہ اہل اسلام کی مدد کی۔ دونوں کے مقابلہ میں اہل مکہ کو زبردست شکست ہوئی۔ p. 401
اس کے بعد بھی اہل مکہ خاموش نہیں رہے۔ انہوں نے بار بار جارحیت کرنا چاہا۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ٹکراؤ سے بچتے رہے۔ تاہم احد اور حنین کے موقع پر وہ یک طرفہ طور پر اہل اسلام پر ٹوٹ پڑے۔ اس کے نتیجہ میں جنگ واقع ہوئی۔ p. 402
پیغمبر اسلام کا مقصد مخالفین کو قتل کرنا نہیں تھا بلکہ ان کو اسلام کے دائرہ میں داخل کرکے انہیں اسلام کی طاقت بنانا تھا۔ چنانچہ آپ نے حدیبیہ کے موقع پر یکطرفہ شرائط پر اہل مکہ سے دس سال کا ناجنگ معاہدہ کر لیا تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان معتدل فضا قائم ہو اور دعوت کا عمل موثر انداز میں جاری ہو سکے۔ p. 402
صلح حدیبیہ نے اہل اسلام کے لئے دعوت کے مواقع کھول دیے۔ چنانچہ تاریخ نے دیکھا کہ صرف دو سال کے اندر لوگ اتنی بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہوئے کہ کسی جنگ کے بغیر صرف عددی طاقت کے ذریعہ اسلام پورے عرب پر غالب آگیا۔ p. 402