Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
رُجز کو چھوڑو p. 410
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔اس وقت آپ کو ایک بنیادی ہدایت یہ دی گئی کہ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ (74:5)۔ یعنی، رجز کو چھوڑ دے۔ رجز کا مطلب گندگی ہے۔ p. 410original + quote
وہ رجز کیا تھا جس کو آپ نے چھوڑ کر اپنا مشن چلایا۔اس کی تفصیل آپ کی سیرت کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے۔اس کا تعلق آپ کے مشن کے طریقہ کار (method) سے تھا۔ اگر رسول اللہ کی عملی روش کو لے کر اس کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ نزاعی طریقہ کار (confrontational method) کو چھوڑو، اور غیر نزاعی طریقہ کار (non-confrontational method) کو اختیار کرو۔ p. 410
رسول اللہ کی سیرت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنا مشن پوری طرح غیر نزاعی اصول پر چلایا۔کعبہ میں اس وقت کے لوگوں نے 360 بت رکھ دیے تھے۔ مگر آپ نے اس سے ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ اس سے اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ مکہ میں دارالندوہ (tribal parliament) تھا۔ مگر آپ نے اس میں قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اس سے مکمل طور پر اعراض کرتے ہوئے اپنا مشن غیر سیاسی انداز میں چلایا۔ مکہ کے سرداروں نے کہا کہ آپ مکہ چھوڑ دیجیے، تو آپ نے ان کے اس فیصلہ پر کوئی ٹکراؤنہیں کیا، بلکہ خاموشی کے ساتھ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ p. 410
اس واقعے کی روشنی میں رجز کو چھوڑنے کا مطلب یہ ہوگا کہ ہر قسم کے ٹکراؤ کو چھوڑتے ہوئے، اپنا مشن جاری رکھا جائے۔ یعنی مذہبی ٹکراؤ، سیاسی ٹکراؤ، قومی ٹکراؤ، حقوق کا ٹکراؤ، وغیرہ سے مکمل طور پر اجتناب کرتے ہوئے توحید کا مشن جاری رکھا جائے۔ یہی طریقہ ابدی طور پر اہل اسلام کا طریقہ ہے۔ وہ جس ملک یا جس زمانے میں ہوں، ہر جگہ اسی غیر نزاعی طریقہ کو اختیار کرنا ہے۔ یہی کامیابی کا واحد طریقہ ہے۔ قانون ِخداوندی کے مطابق کوئی اور طریقہ کامیابی کا طریقہ نہیں ہوسکتا۔ p. 411