Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
فقهي مسئله، شرعي مسئله p. 110
تمام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شتم کرے، خواه وه اشارتاً ہی کیوں نہ هو، اس کی لازمی سزا قتل ہے۔ شاتم رسول کو بطور حد قتل کیا جائے گا اس معاملہ میں بہت کم کسی قابل ذکر فقیہ کا استثنا پایا جا سکتا ہے ۔ اس حکم کی تفصیل کے لیے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ کیجیے p. 110
1 ۔ الصارم المسلول علی شاتم الرسول ، ابن تیمیه p. 110
2 ۔ السیف المسلول علی من سب الرسول ، تقی الدین ابو الحسن علی السبکی p. 111other source
3 ۔ تنبیه الولاة و الحکام علی أحکام شاتم خیر الانام أو أحد أصحابه الکرام ، ابن عابدین الشامی p. 111
اس مسئلہ پر جب بھی کوئی شخص کوئی مضمون یا کتاب لکھتا ہے تو وه ہمیشہ یہی کرتا ہے کہ ان فقہاء کا حوالہ دے کر یہ ثابت کرتا ہے کہ شتم رسول کی سزا اسلام میں قتل ہے، اور یہ کہ یہ ایک ایسا متفق علیہ مسئلہ ہے جس پر شاید کسی فقیہ کا کوئی اختلاف نہیں۔ p. 111unverified
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر شریعت کا مسئلہ یہی ہے کہ شاتم رسول کو لازماً بطور حد قتل کیا جائے تو یہ مسئلہ دورِ اول کے اسلام میں کیوں موجود نہ تھا۔ اسلام کے ابتدائی دور کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس زمانہ میں بہت سے ایسے افراد موجود تھے جو شتم رسول کا فعل کر رہے تھے، مگر انہیں قتل نہیں کیا گیا۔ اس سلسلہ میں ایک انتہائی واضح مثال مدینہ کے عبداللہ بن ابی ابن سلول کی ہے۔ وه ایک کھلا هوا شاتم رسول تھا۔ پھر بھی لوگوں کے اصرار کے باوجود، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم نہیں دیا یہاں تک کہ وه اپنی طبعی موت مرا۔ p. 111
اس عدم قتل کا سبب کیا تھا۔ علامہ ابن تیمیہ نے اس واقعہ کا ذکر کرتے هوئے لکھا ہے کہ — یعنی رسول اللہ صرف اس لیے اس کے قتل سے باز رہے کیوں کہ یہ اندیشہ تھا کہ اس کے قتل سے لوگ اسلام سے برگشتہ هو جائیں گے، کیونکہ اس وقت اسلام ضعیف تھا۔ دور اول کے زمانہ میں اور عباسی خلافت کے زمانہ میں بننے والی فقہ کے درمیان یہ فرق کیوں۔ p. 112original + quote
جیسا کہ معلوم ہے فروری 1979 ء میں ایران کے آیت اللہ خمینی نے یہ فتوی دیا کہ سلمان رشدی نے اپنی کتاب سیٹینک ورسز (Satanic Verses) کے ذریعہ پیغمبر اسلام کی توہین کی ہے۔ اس لیے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وه اس کو قتل کر دیں۔ یہ فتوی جب چھپا تو غالباً راقم الحروف کے واحد استثنا کو چھوڑ کر دنیا بھر کے مسلمانوں نے اس فتوی کی تائید کی۔ اس کی حمایت میں زبردست مظاہرے هوئے۔ مگر مسلمانوں کی عالمی تائید کے باوجود سلمان رشدی کو قتل کرنا ممکن نہ هو سکا۔ مزید یہ کہ قتل کے اس فتوی اور مسلمانوں کی طرف سے اس کی حمایت کے نتیجہ میں اسلام ساری دنیا میں بدنام هو گیا۔ اور اس کی تصویر یہ بن گئی کہ اسلام خدانخواستہ ایک وحشیانہ مذہب ہے۔ p. 112
موجوده زمانہ میں آزادی رائے کو انسان کا سب سے بڑا حق سمجھا جاتا ہے۔ یہ گویا ان کا مذہب ہے۔ اس بنا پر پوری جدید دنیا نے اس فتوی کو اپنے مذہب (آزادی) پر براه راست حملہ سمجھا۔ یہ لوگ پوری طاقت کے ساتھ رشدی کے دفاع پر آ گئے۔ اسی کے ساتھ جدید میڈیا نے اس معاملہ کو اتنا پھیلایا کہ اس کی خبر ساری دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچ گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس اندیشہ کی بنا پر مدینہ کے عبداللہ بن ابی کے قتل سے پرہیز کیا، وه اندیشہ سلمان رشدی کے خلاف قتل کے فتوی کی نتیجہ میں ہزار گنا زیاده بڑے پیمانہ پر اہل اسلام کے لیے پیش آ گیا۔ p. 112
اب ان دو متقابل نظیروں پر غور کیجیے۔ پیغمبر اسلام کی نظیر بتاتی ہے کہ شتم رسول کے معاملہ میں خواه وه کتنے ہی زیاده بڑے پیمانہ پر هو، یہ دیکھا جائے گا کہ شاتم کو اگر قتل کیا جائے تو اس کا عملی نتیجہ کیا نکلے گا۔ اگر حالات پر اہل اسلام کا اتنا کنٹرول نہ هو کہ وه قتل کے منفی نتائج کو روک سکیں تو اہل اسلام قتل کا اقدام نہیں کریں گے۔ وه اس معاملہ کو اللہ کے حوالہ کر دیں گے۔ اس کے برعکس، فقہاء کی مثال بتاتی ہے کہ جب کوئی شخص شتم کا فعل کرے تو اس کو فوراً قتل کر دیا جائے۔ p. 112
اب سوال یہ ہے کہ کیوں ایسا هوا کہ موجوده زمانہ کے مسلمانوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نظیر سے اپنے لیے ہدایت نہیں لی۔ ان کی نظر فقہاء کی مسلک پر اٹک کر ره گئی۔ فقہاء کی پیروی میں متحد هو کر وه قتلِ شاتم کے علم بردار بن گئے۔ p. 113
اس سوال کا جواب تقلید ہے۔ موجوده زمانہ کے مسلمان متفقہ طور پر یہ رائے بنا چکے تھے کہ اب امت کے لیے براه راست قرآن و سنت سے اجتہاد کا دروازه بند ہے۔ اب صرف اجتہاد مقید ہی کا دروازه ان کے لیے کھلا هوا ہے۔ دوسری لفظوں میں یہ کہ اب مسلمان براه راست قرآن اور سنت سے مسائل اخذ نہیں کر سکتے۔ اب ان کے لیے صرف ایک ہی صورت ممکن ہے، اور وه یہ کہ فقہاء کے فتووں کو جانیں اور پوری تقلیدی جذبہ کے ساتھ اس پر قائم هو جائیں۔ چنانچہ انہوں نے رشدی کے معاملہ میں یہی کیا۔ p. 113
جیسا کہ عرض کیا گیا، موجوده فقہ کی تدوین اس وقت هوئی جب کہ اہل اسلام کو مکمل اقتدار حاصل تھا۔ ان کو حالات پر اتنا زیاده کنٹرول تھا کہ کسی قوم کی طرف سے باغیانہ روش کا اندیشہ هوتا تو خلیفہ صرف دھمکی کا ایک خط لکھتا اور باغی گروه پست ہمت هو کر خاموش هو جاتا۔ p. 113
مگر موجوده زمانہ میں حالات بدل چکے تھے۔ اب اہل اسلام کو پہلے کی طرح حالات پر کنٹرول حاصل نہ تھا۔ مزید یہ کہ ان کے لیے بہت سے ناموافق حالات پیدا هو چکے تھے۔ مثلاً آزادی کا موجوده زمانہ میں خیر اعلی (summum bonum) کی حیثیت اختیار کر لینا اور اظہار رائے کی آزادی کو مقدس حق کے طور پر مان لیا جانا۔ اسی طرح جدید میڈیا کا ظہور میں آنا جو گویا گرم خبر (hot-news) کی عالمی ایجنسی ہے، وغیره۔ p. 113
انہی نئے حالات کا یہ نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کی عالمی حمایت کے باوجود سلمان رشدی کو قتل کرنا ممکن نہ هو سکا۔ مزید یہ ناقابل تلافی نقصان هوا کہ اسلام ساری دنیا میں بدنام هو گیا۔ جدید انسان کی نظر میں اسلام کی یہ تصویر بن گئی کہ اسلام خدانخواستہ دہشت گردی کا مذہب ہے، وه اپنے پیروؤں کو مذہبی جنون (fanaticism) کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ نتیجہ تھا بدلے هوئے زمانہ میں حاکمانہ دور کی فقہ کو نافذ کرنے کا۔ p. 114
سلمان رشدی کے معاملہ میں موجوده زمانہ کے مسلمان اگر اجتہاد مطلق کا طریقہ اختیار کرتے تو وه اس معاملہ میں براه راست قرآن و سنت سے روشنی حاصل کرتے اور پھر انہیں معلوم هو جاتا کہ اس مسئلہ کا حل قتل کا فتوی نہیں ہے بلکہ رد عمل سے بچتے هوئے پرامن دائره میں اپنی دعوتی کوشش کرنا ہے۔ مگر چونکہ وه اپنے مقلدانہ ذہن کے بنا پر دورِ اقتدار میں بننے والی فقہ کے اندر اٹکے هوئے تھے اس لیے ان کو وہی حاکمانہ مسئلہ نظر آیا جو فقہ کی ان کتابوں میں لکھا هوا تھا الشّاتِمُ يُقْتَلُ حَدًّا۔ یعنی شاتم کو بطور حد قتل کیا جائے گا۔ p. 114original + quote