Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
میدان عمل کی تبدیلی p. 367
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ چلے آئے۔ مگر مکہ کے سردار اب بھی خاموش نہیں ہوئے۔ انہوں نے آپ کے خلاف باقاعدہ جنگ چھیڑ دی۔ کئی بار دونوں طرف کی فوجوں میں ٹکراؤ ہوا۔ مگر جنگ کے ذریعہ آخری فیصلہ نہ ہو سکا۔ p. 367
اس کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ سے وہ معاہدہ کر لیا جو صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ دراصل دونوں فریقوں کے درمیان دس سال کا ناجنگ معاہدہ تھا۔ اس معاہدہ کے ذریعہ آپ نے فریق ثانی کے ساتھ میدان مقابلہ کو بدل دیا۔ اب تک دونوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں پیش آ رہا تھا۔ اب دونوں کا مقابلہ نظریاتی میدان میں منتقل ہوگیا۔ اس معاہدہ کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان بڑے پیمانہ پر ملنا جلنا شروع ہوگیا۔ اس اختلاط کے دوران اسلام کی نظریاتی برتری اپنے آپ ثابت ہونے لگی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہونے لگے۔ اہل اسلام کی تعداد مسلسل بڑھ رہی تھی اور فریق ثانی کی تعداد مسلسل گھٹ رہی تھی۔ یہاں تک کہ مزید جنگ کے بغیر محض عوامی طاقت سے اہل اسلام غالب آگئے۔ p. 367
اس سنتِ رسولؐ کا مطلب یہ ہے کہ حریف سے ایک میدان میں مقابلہ اگر موثر نہ ہو رہا ہو تو مقابلہ کے میدان کو بدل کر اس کو اپنے موافق میدان میں لایا جائے جہاں اہل اسلام اپنی کوششوں کو زیادہ موثر بنا سکیں۔ p. 368